Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی پس اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے تفتیش کا آغاز کیا۔ پھر اس کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کر لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی۔ وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو پکڑنے کا مجاز نہ تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے سے بالاتر ایک علم والا ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    بھائی کو روکنے کے لیے حضرت یوسفؑ کی تدبیر: جب ان کا سارا سامان ٹھیک ٹھاک کرا دیا تو پانی پینے کا کٹورا، جو غلہ ناپنے کے لیے شاہی پیمانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا، وہ حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا۔ پھر ایک منادی نے پکارا کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ وہ جھپٹ کے ان کی طرف مڑے اور پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوئی گئی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ شاہی پیمانہ کھویا گیا ہے تو جو اس کو لائے گا اس کو ایک شتر غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں۔ انھوں نے قسم کھا کر جواب دیا کہ آپ لوگوں کو اچھی طرح علم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد برپا کرنے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ اگر تم لوگ جھوٹے ثابت ہوئے تو اس کی کیا سزا ہے؟ انھوں نے کہا کہ جس کے سامان میں کٹورا ملے وہی اس کے بدلہ میں روک لیا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت یوسفؑ نے ان کے سامان کی تلاشی لی اور تلاشی کا آغاز اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے کیا اور آخر میں اپنے بھائی کے تھیلے سے پیمانہ کو برآمد کر لیا۔ حضرت یوسفؑ کی اس تدبیر کی بابت اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ یہ تدبیر یوسفؑ کے لیے ہم نے کی۔ بادشاہ کے قانون کی رو سے وہ اپنے بھائی کو روکنے کے مجاز نہ تھے الاآنکہ اللہ چاہے۔ فرمایا کہ ہم ہی جس کے چاہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اور ہر صاحب علم سے بڑھ کر ایک علم والا ہے۔
    حضرت یوسفؑ کے طرزعمل پر شبہات کا ازالہ: مذکورہ بالا آیات کا یہ خلاصۂ مطلب ہے جو ہم نے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔ اب ہم ایک ترتیب کے ساتھ چند اصولی باتیں عرض کریں گے تاکہ حضرت یوسفؑ کے اس طرزعمل سے متعلق جو شبہات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں وہ صاف ہو جائیں۔

    ۱۔ پہلی بات یہ ہے کہ حضرت یوسفؑ ابھی اس مرحلے میں اپنے آپ کو اپنے بھائیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کو اچھی طرح ٹٹول کر یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اتنا بڑا ظلم کر گزرنے کے بعد، جو انھوں نے ان کے ساتھ کیا، ان کے باطن میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا ابھی ان کے سوچنے کا انداز وہی ہے جو پہلے تھا۔
    ۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت یوسفؑ اپنے بھائی بنیامین کو پا جانے کے بعد اب کسی قیمت پر یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس کو ان ظالم لوگوں کے حوالہ کریں۔ انھوں نے خیال فرمایا ہو گا کہ لانے کو تو وہ اس طمع میں اس کو لائے کہ ان کو معلوم تھا کہ اس کے بغیر ان کو غلہ ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن اب واپسی میں ایسے لوگوں سے کیا بعید ہے کہ اس طرح کا کوئی اقدام اس کے ساتھ بھی کر گزریں جس طرح کا اقدام وہ خود ان کے ساتھ کرچکے ہیں۔ آخر حسد کا وہ جذبہ جو ان کے پہلے اقدام کا محرک ہوا وہ تو اس بھائی کے معاملے میں بھی موجود ہے۔
    ۳۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان کو بہرحال ملک کے قانون کا رکھ رکھاؤ بھی مدنظر تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ بادشاہ کی غیرمعمولی عقیدت کی وجہ سے حضرت یوسفؑ کو، جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے، لیکن ان کے شایان شان بات یہی تھی کہ وہ جو قدم بھی اٹھائیں وہ قانون ملک کے مطابق ہو۔ بالخصوص جب کہ وہ قانون مبنی بر عدل بھی ہو۔
    ۴۔ چوتھی بات یہ کہ ان گوناگوں حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اگر کوئی طریقہ کارگر ہو سکتا تھا تو توریہ کا طریقہ ہی ہو سکتا تھا۔ توریہ اگر کسی باطل مقصد کے لیے ہو اور اس میں جھوٹ کی بھی ملاوٹ ہو تو وہ توریہ بلاشبہ حرام ہے لیکن اگر یہ کسی مقصد حق کے لیے ہو اور اس میں جھوٹ اور فریب کی آمیزش نہ ہو تو اس توریہ میں نہ صرف یہ کہ کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس کا اختیار کرنا، بالخصوص دشمن کے مقابل میں، مصلحت حق کی خاطر ضروری ہو جاتا ہے۔ اس کی بعض نہایت لطیف اور پاکیزہ مثالیں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ملتی ہیں۔ اس قسم کے توریہ میں جو بات کہی یا کی جاتی ہے وہ بجائے خود سچی اور صحیح ہوتی ہے لیکن اس کے کہنے یا کرنے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ مخاطب اس سے مغالطہ میں پڑ جاتا ہے۔
    ۵۔ حضرت یوسفؑ نے بھائی کے تھیلے میں پیمانہ رکھ کر یا رکھوا کر ایک منادی سے یہ اعلان جو کرایا کہ ’اے قافلہ والو تم چور ہو‘ تو منادی نے یہ اعلان حضرت یوسفؑ کے حکم کی تعمیل میں کیا اور حضرت یوسفؑ نے یہ اعلان کراتے ہوئے جو بات پیش نظر رکھی وہ یہ نہیں تھی کہ اہل قافلہ نے شاہی پیمانہ چرایا ہے بلکہ انھوں نے خود اپنے واقعہ کو مدنظر رکھا کہ ان کو سیر و تفریح کے بہانے گھر سے لائے اور ایک کنوئیں میں پھینک کر شام کو جب گھر واپس ہوئے تو بوڑھے باپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ چنانچہ دیکھ لیجیے کہ منادی کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ ’اے قافلہ والو تم نے شاہی پیمانہ چرایا ہے‘ بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ’اے قافلہ والو تم چور ہو‘۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بجائے خود بالکل صحیح تھی البتہ اس سے اس موقع پر یہ مغالطہ ضرور پیدا ہو سکتا تھا کہ کسی خاص چیز کی چوری کو اس اعلان کی وجہ قرار دے لیں۔
    ۶۔اس اعلان کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسفؑ کے سارے عملہ میں یہ بات پھیل گئی کہ شاہی پیمانہ گم ہے۔ یہ شاہی پیمانہ چونکہ پہلے پانی پینے کا شاہی کٹورا تھا اس وجہ سے لازماً قیمتی رہا ہو گا اس وجہ سے اس کا چرایا جانا بعید از قیاس نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے کسی پہلو سے خود حضرت یوسفؑ نے اس موقع پر شاہی پیمانے کا ذکر چھیڑا ہو اور ان کے عملہ نے از خود رائے قائم کر لی ہو کہ قافلہ والوں پر جس چوری کا الزام ہے وہ شاہی پیمانہ ہی کی چوری ہے۔
    ۷۔ جب اہل قافلہ نے مڑ کر حضرت یوسفؑ کے آدمیوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوئی گئی ہے تو انھوں نے اپنے علم کے مطابق یہ جواب دیا کہ ہمارا شاہی پیمانہ کھویا گیا ہے اور ساتھ ہی ان میں سے ایک نے یہ بھی کہا کہ جو شخص پیمانہ لائے گا اس کو ایک بارشتر غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن بنتا ہوں۔ یہ آخری بات ظاہر ہے کہ حضرت یوسفؑ کے ایما پر کہی گئی ہو گی اور اغلب ہے یہ بات اسی آدمی نے کہی جس نے یہ منادی کی تھی کہ اے قافلہ والو تم چور ہو۔
    ۸۔ قافلہ والوں نے پہلے تو قسم کھا کے اپنی صفائی پیش کی کہ ہم اس ملک میں فساد برپا کرنے نہیں آئے تھے اور نہ ہم چوری کرنے والے لوگ ہیں، پھر جب ان سے یہ سوال ہوا کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو چور کی کیا سزا؟ انھوں نے تھوڑے سے تردد کے ساتھ یہ جواب دیا کہ جس کے کجاوے سے چیز نکلے وہی اس کے بدلہ میں پکڑا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں۔
    ۹۔ اس کے بعد حضرت یوسفؑ نے خود تلاشی لی اور تلاشی کا آغاز بن یامین کے بجائے دوسروں سے کیا تاکہ ان کو کوئی شبہ نہ ہو اور آخر میں بنیامین کے تھیلے سے شاہی پیمانہ برآمد کر لیا۔ اس طرح گویا اپنے بھائی کو روک لینے کے وہ ملک کے قانون کی رو سے بھی مجاز ہو گئے اور اپنے بھائیوں کے اقرار کی رو سے بھی۔
    ۱۰۔ اس تدبیر کو اللہ تعالیٰ نے ’کید‘ سے تعبیر اور اس ’کید‘ کو خود اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ ’کید‘ مخفی تدبیر کو کہتے ہیں۔ یہ مخفی تدبیر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کو سجھائی جس کی بدولت وہ اس قابل ہوئے کہ اپنے بھائی کو بھی خطرے سے بچا سکیں اور ملک کے قانون کا احترام بھی باقی رہے۔
    اس پوری تفصیل پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس ساری کارروائی میں نہ حضرت یوسفؑ کسی جھوٹ میں ملوث ہوئے ہیں نہ ان کے آدمی۔ البتہ وقتی طور پر بن یامین پر ایک الزام کا دھبہ لگا لیکن اول تو وہ اس سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، پہلے سے آگاہ کر دیے گئے تھے ثانیاً یہ جو کچھ کیا گیا انہی کو سوتیلے بھائیوں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کیا گیا۔
    آخر میں ’نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ وَفَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ‘۔ میں حضرت یوسفؑ کے مراتب بلند کی طرف اشارہ بھی ہے اور ان لوگوں پر ایک تعریض بھی جو اپنے علم کو آخری چیز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان کو دنیا جتنی نظر آتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بس یہ کائنات کل اتنی ہی ہے اور اپنے اس نشہ میں ان بہت سی حقیقتوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو ان کے محدود علم سے باہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں بتایا کہ کسی کو بھی اپنے اندازوں اور قیاسوں پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ سب علم والوں سے بڑھ کر بھی ایک علم والا ہے اور اسی کا علم حقیقی ہے۔ اس میں قریش کو، جن کو یہ سرگزشت سنائی گئی ہے، ایک لطیف تنبیہ بھی ہے کہ آج وہ خدا کے رسول کو جن حالات میں دیکھ رہے ہیں ان سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ حالات کا حقیقی علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مستقبل کے پردوں میں کیا چھپا ہوا ہے۔ موجودہ تاریکیوں کے اندر سے کس طرح روشنی برآمد ہو گی اور اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے کس طرح راہیں ہموار ہوں گی۔

    جاوید احمد غامدی اِس پر اُس شخص نے یوسف کے بھائی کی خرجی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینا شروع کی، پھر (بادشاہ کا پیمانہ تو نہیں ملا، لیکن) اُس کے بھائی کی خرجی سے اُس نے وہ (پیالہ) برآمد کر لیا (جو یوسف نے رکھا تھا)۔ ہم نے اِس طرح یوسف کے لیے (اُس کے بھائی کے روکنے کی) تدبیر کی، (اِس لیے کہ) بادشاہ کے قانون کی رو سے وہ اپنے بھائی کو روکنے کا مجاز نہ تھا، الاّ یہ کہ خدا ہی چاہے۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں، بلند کر دیتے ہیں اور (حقیقت یہ ہے کہ) ایک علم والا ہر صاحب علم سے بالاتر ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    اِس کی دلیل یہ ہے کہ بن یمین کے سامان میں ’السِّقَایَۃ‘ (پیالہ) رکھا گیا تھا جس کے لیے مونث کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ اِس کے برخلاف شاہی کارندے ’صُوَاعَ الْمَلِکِ‘ (بادشاہ کا پیمانہ) تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ آیت میں دیکھ لیجیے، اِس کے لیے مذکر اور جو چیز برآمد کی گئی ہے، اُس کے لیے مونث کی ضمیر آئی ہے۔
    یوسف علیہ السلام اپنے بھائی بن یمین کو پاجانے کے بعد اب یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھے کہ اُس کو واپسی کے سفر میں بھی اُنھی ظالموں کے حوالے کر دیں جو اُس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے تھے۔ اِس کے لیے ضروری تھا کہ اُسے ساتھ جانے سے روکا جائے۔ اِس مرحلے میں وہ اپنے آپ کو ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے اور ملکی قانون کی رو سے بھائی کو بغیر کسی وجہ کے روک لینا بھی ممکن نہیں تھا، اِس لیے کہ تمام اختیارات کے باوجود اُن کے شایان شان یہی تھا کہ جو قدم بھی اٹھائیں، قانون کے مطابق اٹھائیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ اِس موقع پر خدا نے مدد فرمائی اور عین اُسی وقت جب وہ اپنا پیالہ بن یمین کے سامان میں رکھ چکے تھے اور اُن کے بھائی رخصت ہونے کو تھے، بادشاہ کا پیمانہ کہیں اِدھر اُدھر ہو گیا اور تلاش کے باوجود نہیں ملا۔ اِس پر دربار کے کارندوں کا شبہ اُنھی بھائیوں کی طرف گیا جو وہاں سے جانے کے لیے نکل رہے تھے اور اِس طرح وہ صورت پیدا ہو گئی جس کے نتیجے میں یوسف علیہ السلام کے بھائی بن یمین کو اُن کے پاس چھوڑ دینے کے لیے مجبور ہو گئے۔ یہ خدائی تدبیر تھی جو بالکل اُسی طرح سامنے آئی، جس طرح اِس نوعیت کے غیر معمولی اتفاقات کبھی کبھی ہمارے مشاہدے میں بھی آ جاتے ہیں اور ہم اُن کی کوئی توجیہ نہیں کر پاتے۔ حضرت یوسف اور اُن کے بھائی نے اِس موقع پر اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ جو کچھ ہوتا رہا، اُسے خاموشی سے دیکھتے رہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ بن یمین پر اِس کے نتیجے میں وقتی طور پر ایک الزام کا دھبا لگا، لیکن اُسے معلوم تھا کہ اِسے بہت جلد دھل جانا ہے۔ لہٰذا وہ بھی مطمئن رہا اور کسی اضطراب کا اظہار نہیں کیا۔
    اور اپنی قدرت سے کوئی ایسی صورت پیدا کر دے کہ قانون کی خلاف ورزی بھی نہ ہو اور بن یمین کو روک بھی لیا جائے۔
    یوسف علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اُس کو ایسے مقام بلند پر پہنچا دیتے ہیں کہ کائنات کا پروردگار اُس کے لیے تدبیریں فرماتا ہے۔
    یعنی خداے لا یزال جس کا علم ہی علم حقیقی ہے۔ چنانچہ وہی جانتا ہے کہ کیا چیز پردۂ غیب سے کس وقت اور کس صورت میں نمودار ہوجائے گی اور جو کچھ بظاہر ناممکن نظر آرہا ہے، اُسے ممکن بنا دے گی۔



  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List