Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی اور یتیم کے مال کے پاس نہ پھٹکو بجز اس طریقے کے جو اس کے لیے بہتر ہو یہاں تک کہ وہ سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ، تول انصاف کے ساتھ پوری رکھو۔ ہم کسی جان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ اور جب تم بولو تو عدل کی بات بولو، خواہ کوئی تمھارا قرابت دار ہی ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ چیزیں ہیں جن کی اس نے تمھیں ہدایت فرمائی تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    زنا اور محرکات زنا: ’وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ‘ ’فَوَاحِشَ‘ کے معنی کھلی ہوئی بے حیائی اور بدکاری کے ہیں، جن میں اولین درجہ زنا کو حاصل ہے۔ چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل میں اسی مضمون کو یوں ادا فرمایا ہے:

    ’وَلَا تَقْرَبُوا الزِّآٰی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَآءَ سَبِیْلًا‘(۳۲)
    (اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو، یہ کھلی ہوئی بے حیائی اور نہایت ہی بری راہ ہے)

    لَا تَقْرَبُوا‘ کا لفظ ان برائیوں سے روکنے کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے جن کا پرچھاواں بھی انسان کے لیے مہلک ہے، جو خود ہی نہیں بلکہ جن کے دواعی و محرکات بھی نہایت خطرناک ہیں، جو بہت دور سے انسانوں پر اپنی کمند پھینکتی ہیں اور پھر اس طرح اس کو گرفتار کر لیتی ہیں کہ ان سے چھوٹنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ایسی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے میں آدمی کو کامیابی صرف اسی صورت میں حاصل ہوتی ہے جب وہ اپنی نگاہ، اپنی شرم گاہ، اپنی زبان، اپنے دل کی پوری پوری حفاظت کرے اور ہر اس رخنہ کو پوری ہوشیاری سے بند رکھے جس سے کوئی ترغیب اس کے اندر راہ پا سکتی ہو اور ہر ایسے مقام سے پرے پرے رہے جہاں کوئی لغزش ہو سکتی ہے۔ اسی ’لَا تَقْرَبُوا‘ کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے قرآن نے مردوں اور عورتوں دونوں پر بہت سی پابندیاں عاید کی ہیں جن کی تفصیل احزاب اور نور میں بیان ہوئی ہے۔ وہاں ہم انشاء اللہ اس کے سارے پہلو زیر بحث لائیں گے۔
    نیکیوں اور بدیوں دونوں سے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا اصل منبع انسان کا دل ہوتا ہے اس وجہ سے کوئی نیکی اس وقت تک فروغ نہیں پاتی جب تک دل کے اندر اس کی جڑ مضبوط نہ ہو۔ علیٰ ہٰذا القیاس کوئی برائی اس وقت تک انسان کی جان نہیں چھوڑتی جب تک دل کے اندر سے اس کی جڑ اکھاڑ نہ دی جائے۔ اگر کوئی برائی دل کے اندر موجود رہے تو وہ کان، آنکھ، زبان، فکر اور خیال کی راہ سے برابر غذا حاصل کر کے موٹی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ روحانی سرطان کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور گو اس کو زندگی میں ایک دن بھی فعلاً بروئے کار آنے کا موقع نہ ملا ہو تاہم انسان کے قلب و دماغ پر اس کا اس طرح تسلط ہو جاتا ہے کہ پھر تزکیہ و اصلاح کا کوئی سخت سے سخت آپریشن بھی اس پر کارگر نہیں ہوتا۔ وہ بالآخر انسان کی اخلاقی و ایمانی موت ہی پر منتہی ہوتی ہے اس وجہ سے قرآن نے ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے فحشا سے دور دور رہنے کی تاکید فرمائی۔
    قتل نفس ’وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ‘ ہر جان بجائے خود محترم ہے اس وجہ سے اس کی صفت

    ’الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ‘
    (جس کو اللہ نے حرام ٹھہرایا)

    وارد ہوئی۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ جان ہے جو کسی حق شرعی یا بالفاظ دیگر قانون کے تحت مباح الدم قرار پا جائے۔ مثلاً کسی پر قصاص عاید ہو یا وہ اللہ و رسول کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑا ہو یا زنا کی اس شکل کا مرتکب ہوا ہو جس پر رجم کی سزا ہے۔ اس قسم کے حق شرعی و قانونی کے بغیر کسی کو قتل کرنا جائز نہیں۔
    ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ‘ یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے ملت ابراہیمؑ میں ہدایت فرمائی تھی۔ تم یہ باتیں تو چھوڑ بیٹھے، البتہ اپنے جی سے چند اچھے بھلے جانوروں کو حرام کر کے ملت ابراہیمؑ کے دعوے دار بنے پھر رہے ہو۔ اب میں تمھیں ازسرنو ملت ابراہیم کے یہ احکام اس لیے سنا رہا ہوں کہ تم سوچو اور سمجھو کہ تم کہاں سے کہاں نکل گئے ہو اور دعویٰ یہ رکھتے ہو کہ تم ملت ابراہیم پر ہو۔ ’لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ‘ کا اصلی زور سمجھنے کے لیے کلام کی تمہید ’قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ‘ پیش نظر رکھیے۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے یہ تفصیل اس لیے سنائی ہے کہ تم اپنے رویہ کا جائزہ لو اور حقیقت حال کو سمجھو۔
    اکل مال یتیم: ’وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ‘۔ اس کی پوری وضاحت سورۂ نساء کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔ یتیم کا مال دوزخ کی آگ ہے اس وجہ سے کسی بری نیت سے کسی کو اس کے پاس بھی نہیں پھٹکنا چاہیے۔ جو بھی اس کے پاس جائے صرف اچھی ہی راہ سے جائے، یعنی اس کو سنبھالنے اور حتی الامکان ترقی دینے کے لیے، تاآنکہ یتیم بالغ ہو جائے۔ جب بالغ ہو جائے پوری احتیاط کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں اس کا مال اس کے حوالہ کرے۔
    ناپ تول میں عدل کا اہتمام: ’وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ‘ ناپ تول کو ٹھیک ٹھیک عدل کے ساتھ پورا کرو۔ یہ بات بھی مثبت پہلو سے ارشاد ہوئی ہے اس وجہ سے اس کے ضد پہلو کو بھی، جیسا کہ اوپر ہم نے ’وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا‘ کے تحت، عرض کیا، پیش نظر رکھنا ہو گا۔ یعنی ناپ تول میں کمی بیشی نہ کرو کہ اپنے لیے اور پیمانہ ہو، دوسروں کے لیے اور، لینے کے لیے کوئی باٹ ہو، دینے کے لیے کوئی۔

    ’وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْ وَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ‘(۱۔۳۔ مطففین)
    (ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی تباہی ہے کہ لوگوں سے لیں تو پورا ناپ کر لیں اور جب ان کے لیے ناپیں یا تولیں تو اس میں کمی کریں)

    یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نظام کائنات، جیسا کہ سورۂ آل عمران میں واضح ہوا، عدل و قسط پر قائم ہے اور اس کائنات کی ہر چیز شاہد ہے کہ اس کا خالق و مدبر قائم بالقسط ہے اس وجہ سے اس دنیا کی صلاح و فلاح کے لیے بنیادی چیز یہ ہے کہ انسان اپنے دائرۂ اختیار میں بھی کانٹے کی تول عدل و قسط کو قائم کرے۔ اگر اس میں ذرا رخنہ پیدا ہوا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری زندگی اپنے مرکز ثقل سے منحرف ہو گئی اور اب سارے نظام تہذیب و تمدن میں فساد و اختلال رونما ہو کے رہے گا۔ عدل و قسط کی اس اہمیت کی وجہ سے یہ حکم ہوا کہ ناپ تول کو ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا کرو۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اس کی برکات کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے

    ’وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا‘۔(۳۵)
    (اور ناپ کو پورا کرو جب ناپو، اور جب تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو، یہی نتیجہ اور مآل کار کے اعتبار سے بابرکت اور بہتر ہے)

    ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا‘ کے الفاظ دنیا اور آخرت دونوں کے نتائج و برکات کے لحاظ سے استعمال ہوئے ہیں۔ آخرت میں اس کی برکات تو واضح ہیں ہی، دنیا میں بھی باعتبار مآل، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہی رویہ معاش و معیشت، کاروبار اور تجارت اور عادلانہ تمدن کے فروغ کے نقطۂ نظر سے بابرکت ہے۔ کوئی ڈنڈی مارنے والی قوم دنیا میں نہ فروغ پائی ہے، نہ پائے گی۔ یہ برائی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ بہت سی برائیوں کے پائے جانے کی ایک علامت ہے۔ جس قوم کے اندر یہ برائی پائی جاتی ہے، خبر دیتی ہے کہ یہ قوم عدل و قسط کے تصور سے خالی ہے اس وجہ سے یہ کسی صالح تمدن کے قیام کی صلاحیتوں سے نہ صرف محروم ہے بلکہ یہ خدا کی زمین میں فساد کے بیج بونے والی ہے۔ چنانچہ سنت الٰہی کے مطابق ایسی قوم کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ اس مسئلہ پر انشاء اللہ ہم سورۂ اعراف میں، قوم شعیب کے بیان میں، تفصیل سے بحث کریں گے۔
    تمام اعمال کے لیے معیار: ’لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا‘ یہ وہ معیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال کے لیے مقرر فرمایا ہے کہ وہ لوگوں پر ان کی برداشت اور ان کے امکان سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس سے ایک تو یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام جو دیے ہیں انسان کی فطرت اور اس کی صلاحیتوں کو تول کر دیے ہیں، ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو اس کے تحمل سے باہر ہو۔ دوسری یہ کہ مطلوب جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص پوری دیانت و صداقت کے ساتھ ان احکام کی تعمیل ظاہراً و باطناً کرے، اگر بلاارادہ اس کے کسی پہلو میں کوئی بھول چوک یا کوتاہی ہو گئی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ معیار مطلوب کی اس وضاحت سے احتیاط میں شدت و غلو کی نفی بھی مقصود ہے کہ لوگ خواہ مخواہ اپنے جی سے اس سے آگے بڑھ کر گول باندھنے کی کوشش نہ کریں جو خدا نے مقرر کر دیا ہے۔ البتہ اس ٹکڑے سے کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ ہماری صواب دید پر منحصر ہے کہ ہم اپنی طاقت و استطاعت کی حد خود مقرر کریں اور پھر اس مزعومہ طاقت و استطاعت کے پیمانہ سے ناپ کر اپنے لیے خدا کے احکام و شرائع میں سے انتخاب کریں کہ اتنا ہم سے ہو سکتا ہے، یہ ہم کریں گے، باقی ہماری استطاعت سے باہر ہے اس وجہ سے ہم اس کے مکلف نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کے باب میں یہ اختیار کسی کو نہیں بخشا ہے۔
    حق و عدل کا اہتمام: ’وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْکَانَ ذَا قُرْبٰی‘ یہ یوں تو زبان سے نکلنے والی ہر بات کے لیے ایک عام اصول ہے کہ جو بات بھی منہ سے نکلے وہ حق و عدل کی کسوٹی پر پوری اترنے والی ہو چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے:

    ’وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلًا‘۔(۳۶)
    (اور اس بات کے درپے نہ ہو جس کے باب میں تمھیں کوئی علم نہیں۔ کان، آنکھ، دل ان میں سے ہر ایک سے متعلق پرسش ہونی ہے)

    لیکن یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ تمھاری کوئی شہادت اور تمھارا کوئی فیصلہ حق و عدل سے ہٹا ہوا نہ ہو بلکہ جب بھی دو آدمیوں کے درمیان کوئی شہادت دو یا کوئی فیصلہ کرو تو وہ حق و عدل کے مطابق ہو، اور اس معاملے میں اپنے کسی عزیز و قریب کے ساتھ بھی کوئی رو رعایت نہ ہو۔
    ایفائے عہد: ’وَبِعَھْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا‘ اب یہ آخر میں ایک جامع بات فرمادی کہ اللہ کے ہر عہد کو پورا کرو۔ اس میں وہ تمام عہد بھی آ گئے جو اللہ نے بندوں سے لیے ہیں اور وہ عہد بھی آ گئے جو ہم آپس میں کسی مقصد صالح کے لیے کرتے ہیں۔ ہر عہد کی عند اللہ ذمہ داری ہے اس وجہ سے ہر عہد، عہد اللہ ہے اگر وہ خدا کے حدود کے اندر ہے۔ چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل میں اس کو عام ہی رکھا ہے:

    ’وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْءُوْلًا‘(۳۴)
    (اور عہد کو پورا کرو، ہر عہد کی بابت پرسش ہونی ہے)۔

    تعقّل، تذکّر اور تقویٰ میں معنوی ربط: ’ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ‘ اس ٹکڑے کو اس شرح کی روشنی میں سمجھیے جو اوپر ہم نے ’ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ‘ کی کی ہے۔ البتہ یہ بات یہاں قابل توجہ ہے کہ اوپر ’تَعْقِلُوْنَ‘ فرمایا ہے اور یہاں ’تَذَکَّرُوْنَ‘ اور آگے والی آیت میں، بالکل اسی سیاق میں ’لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘ ہے۔ ’تعقل‘، ’تذکر‘ اور ’تقوٰی‘ میں بڑا گہرا معنوی ربط ہے۔ انسان جب اندھی تقلید کی بیڑیوں سے آزاد ہو کر سنجیدگی سے ایک بات پر غور کرنے کا عزم کرتا ہے تو یہ ’تعقل‘ ہے۔ اس ’تعقل‘ سے وہ حقائق آشکارا ہوتے ہیں جو فطرت انسانی کے اندر ودیعت ہیں لیکن انسان کی غفلت کی وجہ سے ان پر دھول کا پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے، ان حقائق کا آشکارا ہونا ’تذکر‘ ہے۔ یہ تذکر انسان کی رہنمائی ’تقوٰی‘ کی منزل کی طرف کرتا ہے جو خلاصہ ہے تمام تعلیم و تزکیہ اور تمام قانون شریعت کا۔ ہم آگے کسی مناسب مقام میں واضح کریں گے کہ تمام شریعت کی بنیاد انسان کی فطرت پر ہے۔ اس وجہ سے جہاں تک دین کے مبادی اور اصول کا تعلق ہے وہ خارج سے نہیں آتے بلکہ انسان کی فطرت ہی سے برآمد ہوتے ہیں بشرطیکہ انسان خدا کی ’تذکیر‘ سے بیدار ہو کر ’تذکر‘ کرے۔ شریعت درحقیقت ہمارے ہی معدن فطرت کا برآمد شدہ خزانہ ہے جو ہماری گود میں ڈال دیا جاتا ہے بشرطیکہ ہم اس کی قدر کریں۔

     

    جاوید احمد غامدی اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو (اُس کے لیے) بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ سن رشد کو پہنچ جائے۔ اورناپ تول انصاف کے ساتھ پوری رکھو۔ ہم کسی جان پر اُس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ اور جب بات کہو تو حق کی بات کہو، اگرچہ معاملہ اپنے کسی رشتہ دار ہی کا ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ یہ چیزیں ہیں جن کی اللہ نے تمھیں ہدایت کی ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    اِس حکم کے الفاظ وہی ہیں جو اوپر فواحش سے روکنے کے لیے آئے ہیں۔ یعنی یتیم کی بہتری اور بہبود کے ارادے کے سوا اُس کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یاد رکھو کہ یتیم کے مال میں صرف وہی تصرف جائز ہے جو اُس کی حفاظت اور نشوونما کی غرض سے کیا جائے اور اُسی وقت تک کیا جائے، جب تک یتیم سن رشد کو پہنچ کر اپنے مال کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتا۔
    یہ ایک عظیم حکم ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے اُسی میزان انصاف کی فرع ہے جس پر یہ دنیا قائم ہے۔ چنانچہ اِس سے انحراف اگر کوئی شخص کرتا ہے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ عدل و قسط کے تصور میں اختلال واقع ہو چکا اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کا عقیدہ باقی نہیں رہا۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ معیشت اور معاشرت کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور تمدن کی کوئی اینٹ بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہتی۔ سورئہ بنی اسرائیل (١٧) کی آیت ٣٥ میں اِس کی برکات کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ نتیجے اور مآل کار کے لحاظ سے یہی بہتر ہے اور لوگوں کے لیے اِس میں بڑی برکتیں ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ‘’...آخرت میں اِس کی برکات توواضح ہیں ہی، دنیا میں بھی باعتبار مآل...یہی رویہ معاش و معیشت، کاروبار اور تجارت اور عادلانہ تمدن کے فروغ کے نقطۂ نظر سے بابرکت ہے۔ کوئی ڈنڈی مارنے والی قوم دنیا میں نہ فروغ پائی ہے، نہ پائے گی۔ یہ برائی کوئی منفرد برائی نہیں ہے، بلکہ یہ بہت سی برائیوں کے پائے جانے کی ایک علامت ہے۔ جس قوم کے اندر یہ برائی پائی جاتی ہے، خبر دیتی ہے کہ یہ قوم عدل و قسط کے تصور سے خالی ہے۔ اِس وجہ سے یہ کسی صالح تمدن کے قیام کی صلاحیتوں سے نہ صرف محروم ہے، بلکہ یہ خدا کی زمین میں فساد کے بیج بونے والی ہے۔’’ (تدبرقرآن٣/ ٢٠٢)

    یہ ایک برسرموقع تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام بھی دیے ہیں، وہ لوگوں کی برداشت اور استطاعت سے زیادہ نہیں ہیں۔ اُس نے یہ احکام انسان کی صلاحیتوں اور اُس کی فطرت کو تول کر دیے ہیں۔ لہٰذا اِن کو نہ اپنی استطاعت کے حدود خود طے کرکے کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور نہ احتیاط کے نام پر خود اُن کے حدود سے آگے بڑھانا چاہیے۔
    یہ وہی بات ہے جسے سورئہ نساء (٤) کی آیت ١٣٥اور سورئہ مائدہ (٥) کی آیت ٨ میں قیام بالقسط سے تعبیر فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندئہ مومن کو نہ صرف یہ کہ حق و انصاف پر قائم رہنا چاہیے، بلکہ یہ اگر گواہی کا مطالبہ کریں تو اِن کا یہ مطالبہ لازماً پورا کرنا چاہیے۔ رشتے، ناتے، جذبات اور خواہشات ، کسی چیز کو بھی اِس میں رکاوٹ نہیںبننے دینا چاہیے۔
    یہ ایک جامع بات ہے۔ عہداللہ سے کیا جائے یا بندوں سے یا فطری طور پر بندھ جائے، وہ اللہ ہی کا عہد ہے، اِس لیے کہ بندے عنداللہ اُس کے لیے مسؤل ٹھیرائے گئے ہیں۔
    اصل الفاظ ہیں: ‘لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ’۔ اوپر اِسی سیاق میں ‘تَعْقِلُوْنَ’ اور آگے ‘تَتَّقُوْنَ’ کے الفاظ آئے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ‘’...’تَعَقُّل’، ‘تَذَکُّر’ اور ‘تَقْوٰی’ میں بڑا گہرا معنوی ربط ہے۔ انسان جب اندھی تقلید کی بیڑیوں سے آزاد ہو کر سنجیدگی سے ایک بات پر غور کرنے کا عزم کرتا ہے تو یہ ‘تَعَقُّل’ ہے۔ اِس ‘تَعَقُّل’ سے وہ حقائق آشکارا ہوتے ہیں جو فطرت انسانی کے اندر ودیعت ہیں، لیکن انسان کی غفلت کی وجہ سے اُن پرذہول کا پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے، اِن حقائق کا آشکارا ہونا ‘تَذَکُّر’ ہے۔ یہ ‘تَذَکُّر’ انسان کی رہنمائی ‘تَقْوٰی’ کی منزل کی طرف کرتا ہے جو خلاصہ ہے تمام تعلیم و تزکیہ اور تمام قانون شریعت کا ...اِس وجہ سے جہاں تک دین کے مبادی اور اصول کا تعلق ہے، وہ خارج سے نہیں آتے، بلکہ انسان کی فطرت ہی سے برآمد ہوتے ہیں، بشرطیکہ انسان خدا کی ‘تَذْکِیْر’ سے بیدار ہو کر ‘تَذَکُّر’ کرے۔ شریعت درحقیقت ہمارے ہی معدن فطرت کا برآمد شدہ خزانہ ہے جو ہماری گود میں ڈال دیا جاتا ہے، بشرطیکہ ہم اُس کی قدر کریں۔’‘(تدبرقرآن٣/ ٢٠٤)

     

    یتیموں کے حقوق حلال و حرام


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    یتیموں کے حقوق, حلال و حرام,

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List