Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی کہو، آؤ میں سناؤں جو چیزیں تم پر تمھارے رب نے حرام کی ہیں۔ وہ یہ ہے کہ تم کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم ہی تم کو بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ اور بے حیائی کے کاموں کے پاس نہ پھٹکو، خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ اور جس جان کو اللہ نے حرام ٹھہرایا اس کو قتل نہ کرو مگر حق پر۔ یہ باتیں ہیں جن کی خدا نے تمھیں ہدایت فرمائی ہے تا کہ تم سمجھو۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    اصل ملت ابراہیم کی تفصیل: ’قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ اَلَّا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا‘ یہ اصل ملت ابراہیمی کا تفصیلی بیان ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلایا کہ تم نے محض اپنے ظن و گمان سے ملت ابراہیم کی بعض طیب و حلال چیزوں کو اپنے مشرکانہ توہمات کی بنا پر حرام ٹھہرا کر یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس کل ملت ابراہیم یہی ہے اور تم نے اس کا حق ادا کر دیا، حالانکہ ملت ابراہیمؑ میں دوسری بہت سی باتیں، جو خدا اور بندوں کے حقوق و معاملات سے متعلق حرام ہیں، ان کو تم نے اختیار کر رکھا ہے۔ تو آؤ، میں تمھیں سناتا ہوں کہ تمھارے رب نے تم پر کیا کیا چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں۔ فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو تم پر حرام کی گئی وہ شرک ہے لیکن شرک کو تم نے اپنا دین بنا رکھا ہے۔
    والدین کے ساتھ حسن سلوک: ’وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا‘ خدا کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔ اب یہ اس کا ذکر فرمایا۔ یہ ہے تو اسی اوپر والی بات ہی کے تحت لیکن اس کو منفی کے بجائے مثبت پہلو سے ذکر فرمایا۔ زیربحث آیات میں اسلوب کی یہ ندرت قابل لحاظ ہے کہ بعض باتیں منفی پہلو سے بیان ہوئی ہیں، بعض مثبت پہلو سے۔ مثلاً شرک، قتل اولاد، فحشا، قتل نفس اور اکل مال یتیم کا ذکر تو منفی پہلو سے ہے اور والدین کے ساتھ احسان، ایفائے کیل و میزان، قول و عمل میں اہتمام عدل اور ایفائے عہد الٰہی کا ذکر مثبت اسلوب سے ہے۔ بعینہٖ یہی اسلوب، بعینہٖ انہی امور کے بیان میں بنی اسرائیل کی آیات ۲۲۔۳۸ میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفی سے اثبات اور اثبات سے نفی کا استنباط ایک بدیہی چیز ہے۔ جب ایک شے کا اثباتی انداز میں حکم ہے تو اس کے لازمی معنی یہ ہیں کہ جو چیز اس کی ضد ہے اس کی لازماً ممانعت ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس ایک چیز کی ممانعت ہے تو اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ اس کا مقابل پہلو مطلب ہے۔ یعنی اگر شرک کی نہی ہے تو توحید مطلوب ہے، علیٰ ہٰذا القیاس اگر والدین کے حقوق کی ادائیگی کا حکم ہے تو ان کے ساتھ بدسلوکی اور ان کی نافرمانی حرام ہے۔ اس اسلوب کی روشنی میں وہ تمام باتیں جو بیان ہوئی ہیں اثبات کے الفاظ میں لیکن ہیں ظاہری تالیف کلام کے اعتبار سے ’حَرَّمَ‘ ہی کے تحت ان سب کے ضد پہلو کو بھی مدنظر رکھیے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ’نہ والدین کو اُف کہو‘ نہ جھڑکو بلکہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اس اسلوب کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں جو پہلو زیادہ زور و قوت سے ظاہر کرنے کا ہے وہ تو الفاظ میں بیان ہو جاتا ہے اور اس کا ضد پہلو بغیر الفاظ کی مدد کے مجرد فحوائے کلام اور اقتضائے نظام سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔ قرآن نے اس اسلوب کے مضمرات کہیں کہیں کھول بھی دیے ہیں۔ مثلاً سورۂ بنی اسرائیل میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔

    وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ط اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْ ھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا ہ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا (۲۳۔۲۴ بنی اسرائیل)
    ’’اور تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ تم نہ عبادت کرو مگر اسی کی اور والدین کے ساتھ احسان کرو جیسا کہ اس کا حق ہے۔ اگر تمھارے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو نہ ان سے اظہار بیزاری ہو، نہ ان کو جھڑکنا، ان سے سعادت مندانہ بات کرنا اور ان کے لیے مہر و وفا کے بازو جھکائے رکھنا اور دعا کرنا کہ اے رب تو ان پر رحم فرما جس طرح انھوں نے مجھے بچپن میں مہر کے ساتھ پالا۔‘‘

    قتل اولاد فقر و فاقہ کے اندیشہ سے: ’وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ مِنْ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاھُمْ‘ ’املاق‘ کے معنی فقر و تنگ دستی کے ہیں۔ سورۂ بنی اسرائیل میں ’خشیۃ املاق‘ کے الفاظ ہیں۔ یعنی اس ادیشہ سے کہ اولاد کیا کھائے گی، کہاں سے اس کی پرورش ہوگی، اس کو قتل نہ کرو۔ اہل عرب میں قتل اولاد کی ایک قسم تو وہ تھی جس کا تعلق مشرکانہ توہمات سے تھا، جس کا ذکر اسی سورہ میں پیچھے گزرا ہے، دوسری صورت بعض قبائل میں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینے کی تھی جس کا سبب غیرت کا ظالمانہ حد تک غلو تھا۔ تیسری یہ فقر و فاقے کے اندیشے کی صورت تھی۔ بعض غریب لوگ تنگ دستی سے گھبرا کر یہ سنگ دلانہ حرکت کر بیٹھتے۔ اس قسم کی لرزہ خیز خبریں اب بھی کبھی کبھی ان ملکوں سے آ جاتی ہیں جن میں غربت زیادہ ہے یا جہاں کسی ناگہانی آفت سے لوگ مصائب میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اس ظلم کا اصل باعث انسان کی یہ جہالت ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنا اور اپنی اولاد اور متعلقین کا روزی رساں سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ ہر شخص کو وجود اور رزق خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ انسان ان چیزوں میں واسطہ اور ذریعہ ہونے سے زیادہ دخل نہیں رکھتا۔ اگر کسی کو خدا نے اولاد بخشی ہے تو اصلاً وہ اس کی تحویل میں خدا کی امانت ہے۔ اس کا فرض یہ ہے کہ عقل و فطرت اور شریعت کی رو سے اس امانت سے متعلق اس پر جو ذمہ داریاں اور جو فرائض عاید ہوتے ہیں وہ اپنے امکان کے حد تک ادا کرے۔ لیکن ایک لمحہ کے لیے بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ خدا نے اس کو ان کا رزاق بنایا ہے اور جس رزق سے وہ پلتے ہیں یہ وہ ان کو فراہم کرتا ہے۔ ان کا رزق تو درکنار آدمی اپنا رزق بھی خدا ہی سے پاتا ہے۔ بچہ ماں کی چھاتی سے جو دودھ پیتا ہے یہ بھی ماں کا دیا ہوا نہیں بلکہ اپنے رب کا دیا ہوا پیتا ہے تو جب بچہ اپنے رب کا دیا ہوا کھاتا پیتا ہے تو کسی دوسرے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کو اس اندیشہ سے قتل کرے کہ میں اس کی پرورش کہاں سے کروں گا؟ قرآن نے اسی حقیقت کو یوں سمجھایا ہے کہ

    ’نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاھُمْ‘
    (ہم ہی تم کو بھی روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی روزی دیتے ہیں)۔

    خاندانی منصوبہ بندی: افراد کی طرح بعض اوقات حکومتیں بھی اپنے دائرۂ اختیار اور اپنے فطری و شرعی حدود کار سے متجاوز ہو کر ان حدود میں مداخلت کرنے لگتی ہیں جو قدرت کے حدود ہیں۔ اس تعدی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خلق خدا کے لیے کوئی مفید کام کرنے کی جگہ وہ اپنی صلاحیتیں نظام قدرت سے زور آزمائی میں صرف کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ ایک فرض شناس حکومت کے لیے یہ بات تو معقول ہے کہ وہ اپنے ملک کے وسائل معاش کو ترقی دینے کے لیے بر و بحر کے ایک ایک چپہ اور ایک ایک گوشے کو چھان ڈالے اور اس راہ کے کسی پتھر کو بھی الٹے بغیر نہ چھوڑے۔ یہ بات بھی اس کے فطری بلکہ شرعی فرائض میں سے ہے کہ وہ ملک کے عوام کو زندگی کے ہر شعبہ میں، خواہ وہ پبلک ہو یا پرائیویٹ، اجتماعی ہو یا خاندانی، احتیاط، اعتدال، کفایت شعاری، صحت، صفائی اور محنت کی تربیت دے لیکن یہ امر بالکل اس کے دائرۂ اختیار اور حدود کار سے باہر ہے کہ وہ یہ منصوبہ بندی کرے کہ اتنی مدت میں ہم اتنا غلہ پیدا کریں گے اور اسی حساب سے اتنے بچوں کو پیدا ہونے دیں گے اور اگر کسی مزید ناخواندہ مہمان نے ہماری نپی روٹی اور گنی بوٹی میں حصہ دار بننے کی کوشش کی تو ہم اپنی سائنسی تدبیروں سے کام لے کر اس کا گلا گھونٹ دیں گے۔
    غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس معاملے میں جو غلط فہمی عرب جاہلیت کے سنگ دلوں کو لاحق ہوئی تھی اسی غلط فہمی کا شکار اس زمانے کی متمدن حکومتیں ہو رہی ہیں۔ انھیں بھی خدا پر غصہ تھا کہ جب وہ بھرپور روٹی نہیں دے رہا ہے تو دم بدم اولاد میں کیوں اضافہ کیے جا رہا ہے؟ یہ غصہ وہ اولاد کو قتل کر کے نکالتے تھے۔ اس زمانے کے متمدن انسان کو بھی یہ برہمی ہے کہ ابھی جب اپنے ہی معیار زندگی کو ہم اپنے مطلوبہ معیار پر نہ پہنچا سکے تو دوسروں کی ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر کس طرح اٹھا لیں؟ اس برہمی یا گھبراہٹ میں انھوں نے خاندانی منصوبہ بندی کی اسکیم بنا ڈالی۔ شکلیں بدلی ہوئی ہیں، عرب اجڈ اور گنوار تھے اس وجہ سے انھوں نے ایک نا تراشیدہ اور بھونڈی سی شکل اختیار کی، موجودہ زمانے کا انسان مہذب اور تعلیم یافتہ ہے اس وجہ سے اس نے ایک خوب صورت سی شکل اختیار کی ہے اور نام بھی اس کا اس نے پیارا سا ڈھونڈھ نکالا ہے لیکن فلسفہ دونوں جگہ ایک ہی ہے۔ انھوں نے بھی رزاق اپنے کو سمجھا اور یہ بھی رزاق اپنے کو سمجھے بیٹھے ہیں حالانکہ رزاق اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن نے عربوں پر تو ان کی غلطی واضح کر دی اور وہ یہ بات سمجھ بھی گئے، مان بھی گئے، لیکن اس زمانے کے پڑھے لکھے جنوں کو کون سمجھائے اور کون قائل کرے!!

     

    جاوید احمد غامدی اِن سے کہو کہ آؤ، میں تمھیں سناؤں کہ تمھارے پروردگار نے تم پر کیا حرام ٹھیرایا ہے۔ یہ کہ کسی چیز کو اُس کا شریک نہ ٹھیراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، (اُن کے ساتھ کبھی کوئی برا رویہ اختیار نہ کرو) اور اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم تمھیں بھی روزی دیتے ہیں اور اُن کو بھی دیں گے۔ اور فواحش کے قریب نہ جاؤ، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے٢٥٥؎۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام ٹھیرایا ہے، ناحق قتل نہ کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تمھیں ہدایت کی ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    مطلب یہ ہے کہ تمھارے پروردگار کی حرام کی ہوئی چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم اپنے توہمات کی بنیاد پر حرام قرار دے رہے ہو، بلکہ اصل حرمتیں یہ ہیں جو اللہ نے اپنی شریعت میں قائم کی ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے جس دین پر تمھیں چھوڑ ا تھا، اُس میں بھی یہ سب چیزیں حرام تھیں۔ تمام شرائع الٰہیہ میں یہ ہمیشہ اِسی طرح حرام مانی گئی ہیں۔
    اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو الٰہ مانا جائے تو قرآن اپنی اصطلاح میں اُسے شرک سے تعبیر کرتا ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو خدا کی ذات سے یا خدا کو اُس کی ذات سے سمجھا جائے یا خلق میں یا مخلوقات کی تدبیر امور میں کسی کا کوئی حصہ مانا جائے اور اِس طرح کسی نہ کسی درجے میں اُسے اللہ کا ہم سر بنا دیا جائے۔
    پہلی صورت کی مثال سیدنا مسیح ، سیدہ مریم اور فرشتوں کے بارے میں عیسائیوں اور مشرکین عرب کے عقائد ہیں۔صوفیوں کا عقیدئہ وحدت الوجود بھی اِسی کے قبیل سے ہے۔
    دوسری صورت کی مثال ہندوؤں میں برہما، وشنو، شیو اور مسلمانوں میں غوث، قطب، ابدال، داتا اور غریب نواز جیسی ہستیوں کا عقیدہ ہے ۔ ارواح خبیثہ، نجوم و کواکب اور شیاطین کے تصرفات پر ایمان کو بھی اِسی کے ذیل میں سمجھنا چاہیے۔
    خدا کے بعد سب سے بڑاحق والدین کا ہے۔ چنانچہ دوسرا حکم یہی بیان ہوا ہے۔ یہ اگرچہ ‘مَاحَرَّمَ رَبُّکُمْ’ ہی کے تحت ہے، لیکن قرآن نے اِس کے لیے منفی کے بجاے مثبت اسلوب اختیار کیا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

    ‘’...زیر بحث آیات میں اسلوب کی یہ ندرت قابل لحاظ ہے کہ بعض باتیں منفی پہلو سے بیان ہوئی ہیں، بعض مثبت پہلو سے۔ مثلاً شرک، قتل اولاد، فحشا، قتل نفس اور اکل مال یتیم کا ذکر تو منفی پہلو سے ہے اور والدین کے ساتھ احسان، ایفاے کیل و میزان، قول و عمل میں اہتمام عدل اور ایفاے عہد الٰہی کا ذکر مثبت اسلوب سے ہے۔ بعینہٖ یہی اسلوب، بعینہٖ اِنھی امور کے بیان میں بنی اسرائیل کی آیات ٢٢-٣٨ میں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نفی سے اثبات اور اثبات سے نفی کا استنباط ایک بدیہی چیز ہے۔ جب ایک شے کا اثباتی انداز میں حکم ہے تو اِس کے لازمی معنی یہ ہیں کہ جو چیز اُس کی ضد ہے، اُس کی لازماً ممانعت ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس ایک چیز کی ممانعت ہے تو اِس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ اُس کا مقابل پہلو مطلوب ہے۔ یعنی اگرشرک کی نہی ہے تو توحید مطلوب ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس اگر والدین کے حقوق کی ادائیگی کا حکم ہے تو اُن کے ساتھ بد سلوکی اور اُن کی نافرمانی حرام ہے۔ اِس اسلوب کی روشنی میں وہ تمام باتیں جو بیان تو ہوئی ہیں اثبات کے الفاظ میں، لیکن ہیں ظاہری تالیف کلام کے اعتبار سے’حَرَّمَ’ ہی کے تحت، اُن سب کے ضد پہلو کو بھی مدنظر رکھیے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ‘نہ والدین کو اف کہو، نہ جھڑکو، بلکہ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرو’۔ اِس اسلوب کا فائدہ یہ ہے کہ اِس میں جو پہلو زیادہ زور و قوت سے ظاہر کرنے کا ہے، وہ تو الفاظ میں بیان ہو جاتا ہے اور اُس کا ضد پہلو بغیر الفاظ کی مدد کے مجردفحواے کلام اور اقتضاے نظام سے سمجھ میں آجاتا ہے۔’‘(تدبرقرآن٣/ ١٩٨)

    یہ عرب جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینے کی اُس سنگ دلانہ رسم کی طرف اشارہ ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ عورت چونکہ کوئی کماؤ فرد نہیں ہے، اِس لیے اُس کی پرورش کا بوجھ کیوں اٹھایا جائے۔ فرمایا ہے کہ اُنھیں قتل نہ کرو۔ تم اُن کے رازق نہیں ہو۔ اُن کا رزق تو درکنار، تم اپنا رزق بھی خدا ہی سے پاتے ہو۔ تمھاری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ پوری محنت کے ساتھ رزق کے اسباب پیدا کرو۔ اِس کے بعد یہ خدا کا کام ہے کہ وہ اِن اسباب سے تمھارے لیے کیا ثمرات و نتائج پیدا کرتا ہے۔
    یعنی بدکاری علانیہ کی جائے یا چھپ کر، ہر حال میں حرام ہے۔ اِس کے لیے جمع کا لفظ اِس لیے استعمال فرمایا ہے کہ یہ زنا، لواطت، وطی بہائم اور اِس نوعیت کے تمام جرائم کو شامل ہو جائے۔ پھر روکنے کے لیے ‘لَا تَقْرَبُوْا’ کی تعبیر اختیار فرمائی ہے۔ اِس سے مقصود یہ ہے کہ ایسی تمام باتوں سے دور رہو جو بدکاری کی محرک ، اُس کی ترغیب دینے والی اور اُس کے قریب لے جانے والی ہوں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ‘’...’لَا تَقْرَبُوْا’ کا لفظ اُن برائیوں سے روکنے کے لیے قرآن میں استعمال ہوا ہے جن کا پرچھاواں بھی انسان کے لیے مہلک ہے، جو خود ہی نہیں، بلکہ جن کے دواعی و محرکات بھی نہایت خطرناک ہیں، جو بہت دور سے انسانوں پر اپنی کمند پھینکتی ہیں اور پھر اِس طرح اُس کو گرفتار کرلیتی ہیں کہ اُن سے چھوٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسی برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے میں آدمی کو کامیابی صرف اُسی صورت میں حاصل ہوتی ہے، جب وہ اپنی نگاہ، اپنی زبان، اپنے دل کی پوری پوری حفاظت کرے اور ہر اُس رخنے کو پوری ہوشیاری سے بند رکھے جس سے کوئی ترغیب اُس کے اندر راہ پا سکتی ہو اور ہر ایسے مقام سے پرے پرے رہے، جہاں کوئی لغزش ہو سکتی ہے۔’’ (تدبرقرآن٣/ ٢٠١)


    انسانی جان کو جو حرمت ہر مذہب اور ہر اخلاقی نظام میں ہمیشہ حاصل رہی ہے، یہ اُس کا بیان ہے۔ سورئہ مائدہ (٥) کی آیت ٣٢میں صراحت ہے کہ کسی انسان کی جان دو ہی صورتوں میں لی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسرے یہ کہ نظم اجتماعی سے سرکشی کرکے وہ دوسروں کی جان و مال اور آبرو کے درپے ہو جائے۔ قرآن میں اِسے فساد فی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِس کے سوا ہر قتل ایک ناحق قتل ہے جو قرآن کی رو سے شرک کے بعد دوسرا بڑا گناہ ہے۔
    مطلب یہ ہے کہ سمجھ سے کام لو اور اپنی طرف سے حلت و حرمت کے فیصلے کرنے کے بجاے اصل ملت ابراہیمی کی طرف رجوع کرو جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ احکام دیے تھے۔



  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List