Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی اور جو اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو دوست بناتے ہیں تو وہ اللہ کی پارٹی ہیں اور اللہ ہی کی پارٹی ہے جو غالب رہنے والی ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    ’حزب اللہ‘ سے مراد: ’وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ‘ میں ایجاز کلام کے تقاضے سے ایک ٹکڑا محذوف ہے۔ پوری بات گویا یوں ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست بناتے ہیں وہ اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ ہی کی جماعت ہے جو غالب ہونے والی ہے۔ چونکہ آخر کا ٹکڑا خود محذوف پر دلیل تھا اس وجہ سے پہلے کو حذف کر دیا اوپر فرمایا تھا کہ جو لوگ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنا رہے ہیں وہ ایک دن اپنے کیے پر پچھتائیں گے، ان کے اعمال ڈھے جائیں گے، وہ نامراد ہوں گے۔ اب یہ اللہ و رسول اور اہل ایمان کو دوست بنانے والوں کے روشن انجام کو واضح فرما دیا اوران کو ’حزب اللہ‘ کے لقب سے ملقب کر کے یہ اشارہ بھی فرما دیا کہ یہ منافقین جو یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنا رہے ہیں یہ حزب الشیطان ہیں اور شیطان کا کید چونکہ ضعیف اور بودا ہوتا ہے اس وجہ سے ان کی ناکامی و نامرادی ان کی تعمیر ہی کے اندر مضمر ہے۔

    جاوید احمد غامدی اور جو اللہ اور اُس کے رسول اور سچے ایمان والوں کو اپنا دوست بنالیں، (وہی غالب ہوں گے)، ۴۰۴؂ اِس لیے کہ اللہ کی جماعت ہی ہے جو غالب رہنے والی ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    اوپر فرمایا تھا کہ جو لوگ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنائیں گے، اُن کے اعمال ضائع ہوں گے اور وہ نامراد ہو کر رہ جائیں گے۔ اب یہ اُس کے مقابل میں فرمایا ہے کہ رسول کے ساتھیوں کو لازماً غلبہ حاصل ہو گا اور اُن کے دشمن اِس سرزمین میں لازماً شکست کھائیں گے۔
    یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ رسول اور اُس کے ساتھی کیوں غالب ہوں گے؟ فرمایا ہے کہ وہ ’حزب اللہ‘، یعنی اللہ کی جماعت ہیں جو براہ راست اللہ کی رہنمائی میں کام کر رہی ہے اور اللہ کی جماعت کبھی مغلوب نہیں ہوتی۔ رسولوں کے باب میں یہ اُسی سنت الٰہی کا بیان ہے جو قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُنھیں لازماً غلبہ عطا فرماتے ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ رسول کی جماعت ہی ’حزب اللہ‘ ہوتی ہے۔ اُس کے بعد کی کسی جماعت کے لیے یہ تعبیر کسی طرح موزوں نہیں ہے۔

    اہل ایمان کی نشانیاں اہل ایمان سے مطلوب رویہ


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    اہل ایمان کی نشانیاں, اہل ایمان سے مطلوب رویہ,

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List