Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا، تو اللہ کو کوئی پروا نہیں، وہ جلد ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے، وہ مسلمانوں کے لیے نرم مزاج اور کافروں کے مقابل میں سخت ہوں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جس کو چاہے بخشے گا اور اللہ بڑی سمائی رکھنے والا اور علم والا ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    منافقین کی روش ارتداد کی روش ہے: خطاب بظاہر عام مسلمانوں سے ہے لیکن روئے سخن ان منافقین ہی کی طرف ہے جن کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ فرمایا کہ تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ اپنے دین کی خدمت کے لیے ایسے ایسے لوگوں کو کھڑا کرے گا جو....... اس سے یہ حقیقت آپ سے آپ ظاہر ہو گئی کہ ان کی یہ روش دین سے ارتداد کی روش ہے۔ اگر اس تنبیہ کے بعد بھی اس سے باز نہیں آنا چاہتے تو جائیں مرتد ہو جائیں، خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں۔ اس طرح کے جملوں میں عربیت کے عام قاعدے کے مطابق جواب شرط محذوف ہوتا ہے جو سیاق کلام سے واضح ہوتا ہے۔ ہم نے ترجمے میں اس محذوف کو کھول دیا ہے۔
    منافقین کے سامنے ایک آئینہ ۔۔۔ دین کے علم برداروں کی پسندیدہ صفات: ’فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ لا اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ز یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآءِمٍ‘ ان صفات کے بیان سے مقصود ایک تو یہ ظاہر کرنا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ زمین میں اپنے دین کا گواہ اور علم بردار بنا کر کھڑا کرتا ہے ان کی صفات کیا ہوتی ہیں یا کیا ہونی چاہئیں۔ دوسرا یہ کہ یہ منافقین ان صفات کے بالکل برعکس صفات کے حامل ہیں۔ گویا براہِ راست ان کے عیوب گنانے کے بجائے ان کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دیا گیا ہے جس میں وہ اپنے سارے عیوب خود دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اظہار حقیقت کا ایک نہایت بلیغ اسلوب ہے جو قرآن میں بہت استعمال ہوا ہے۔
    یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘ (ان سے خدا محبت کرے گا اور وہ خدا سے محبت کریں گے) اس سے یہ بات خود بخود واضح ہو گئی کہ ان منافقین سے نہ خدا محبت کرتا نہ یہ خدا سے محبت کرتے بلکہ خدا ان سے نفرت کرتا ہے اور یہ خدا سے بیزار و بے پروا ہیں۔ خدا کی محبت کسی کے نام و نسب، شکل و صورت اور مال و جاہ سے نہیں بلکہ ایمان و عمل اور اخلاق و کردار سے ہوتی ہے۔ جب اس اعتبار سے یہ نہ صرف صفر بلکہ خدا کی پسندیدہ صفات کے بالکل برعکس صفات سے متصف ہیں تو یہ خدا کی محبت کے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح خدا سے محبت کی شہادت یہ ہے کہ یہ خدا کے احکام و ہدایات اور اس کے نبی کے طریقہ اور فیصلہ کے پابند ہوں لیکن جب یہ اللہ کے فیصلہ کو چھوڑ کر جاہلیت کے فیصلہ کے طالب اور اللہ و رسول اور اہل ایمان کو دوست بنانے کے بجائے اللہ و رسولؐ کے مخالفین یہود و نصاریٰ اور کفار سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں تو خدا سے بیزار ہونے کی اس سے بڑی شہادت کیا ہو سکتی ہے۔ اس مسئلہ پر آل عمران آیت ۳۱ ’اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ‘ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
    اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ‘، ’اَذِلَّۃٍ‘، ’ذَلِیْل‘ کی جمع ہے۔ عربی میں یہ لفظ، جیسا کہ آل عمران کی آیت ۱۲۳ کے تحت ہم بتا چکے ہیں، اچھے اور برے دونوں معنوں میں آتا ہے۔ جب یہ اچھے معنوں میں آتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے تو اس کے معنی نرم خو، نرم مزاج، فرماں بردار، متواضع اور سہل الانقیاد کے ہوتے ہیں۔ ’ذَلول‘ کا لفظ بھی اسی معنی میں آتا ہے۔ فرماں بردار اونٹنی کو ’ناقۂ ذلول‘ کہتے ہیں۔
    اَعِزَّۃٍ‘ ’عزیز‘ کی جمع ہے ۔ یہ لفظ بالکل ’ذلیل‘ کے مقابل لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے معنی ہیں سخت، مشکل، بھاری، ناقابل شکست، ناقابل عبور، عسیر الانقیاد۔ اگر کسی چیز کے متعلق کہیں کہ ’ھُوَ عَزِیْزٌ عَلّی‘ تو اس کے معنی ہوں گے کہ وہ چیز مجھ پر بھاری اور مشکل ہے۔ اس کو رام کرنا اور قابو کرنا میرے لیے دشوار ہے۔ یہی مفہوم ’شَدِیْدٌ عَلَیَّ‘ کا بھی ہوتا ہے کسی حماسی کا نہایت عمدہ شعر ہے۔

    اذا المرء اعیتہ المروۃ ناشئًا
    فمطلبھا کھلاً علیہ شدید

    اگر اٹھتی جوانی میں اوالوالعزمی پیدا کرنے سے آدمی قاصر رہ جاتا ہے تو ادھیڑ پن میں اس کا حاصل کرنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔
    مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے تو وہ نہایت نرم خو، بھولے بھالے اور ہر پہلو سے لچک قبول کرنے والے اور ہر سانچے میں ڈھل جانے والے ہوں گے لیکن کافروں کے لیے وہ پتھر کی چٹان ہوں گے۔ وہ اگر اپنے اغراض و مقاصد کے لیے ان کو استعمال کرنا چاہیں گے تو کہیں سے انگلی دھنسانے کی جگہ نہ پا سکیں گے۔ مسلمانوں کی یہی تعریف ایک حدیث میں بھی وارد ہے۔ ’المومن غرکریم‘ مومن اپنے دوسرے بھائی کے لیے بھولا بھالا اور شریف و کریم ہوتا ہے۔ سیدنا مسیحؑ نے اپنے شاگردوں کو ہدایت فرمائی تھی کہ کبوتر کے مانند بے آزار اور سانپ کے مانند ہوشیار بنو، اس میں بھی یہی دونوں پہلو ملحوظ ہیں۔
    ان صفات کے بیان سے بھی مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، منافقین کے کردار پر عکس ڈالنا ہے جو بالکل اس کے برعکس واقع ہوا تھا یعنی وہ مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے تو بڑے ہوشیار اور گھاگھ تھے، پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتے تھے لیکن یہود اور مشرکین کے ہاتھوں میں موم کی ناک اور کٹھ پتلی تھے۔ وہ جس طرف چاہتے ان کو موڑتے اور جس طرح چاہتے ان کو نچاتے۔ اس مضمون پر تفصیلی بحث انشاء اللہ سورۂ فتح کی آیت

    مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ
    (محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے مقابل میں سخت اور آپس میں مہربان و نرم دل ہیں)

    کے تحت آئے گی۔
    یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآءِمٍ‘ جہاد سے مطلب یہاں صرف قتال ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ جدوجہد ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے دین کو قائم کرنے کے لیے کی جائے۔ اس میدان میں اترنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے تمام دوسرے مفادات اور دوسری دلچسپیوں سے منہ موڑ کر اور دوسروں کی نصیحتوں اور ملامتوں سے کان بالکل بند کر کے اترے۔ جو شخص ہر گام پیچھے مڑ مڑ کے بھی دیکھے گا اور اپنے ناصحوں اور ملامت گروں کی نصیحتوں اور ملاتوں کو بھی اہمیت دے گا۔ وہ اگر ایک قدم آگے بڑھائے گا تو دو قدم پیچھے ہٹائے گا۔ عرب شعراء جب اوالوالعزمی، بہادری اور فیاضی کا مضمون باندھتے ہیں تو اس کی تمہید میں ملامت کرنے والیوں کی ملامت کا ذکر ضرور کرتے ہیں اس لیے کہ اس راہ کی یہ سب سے پرانی اور ناگزیر آفت ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ آدمی کوئی عزم و جزم کا کوئی کام کرنے اٹھے اور دہنے بائیں سے کچھ ناصح اور کچھ ملامت گر دامن گیر نہ ہو جائیں۔ یہ اس راہ کی پہلی آزمائش ہوتی ہے۔ اگر کوئی آدمی دامن جھٹک کے آگے بڑھنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو تو اکثر وہ اس پہلے ہی مرحلے میں مار کھا جاتا ہے۔
    اس صفت کے بیان کرنے سے بھی مقصود منافقین کے کردار پر عکس ڈالنا ہے کہ مدعی تو یہ بنے ہیں ایمان کے اور قدم رکھا ہے انھوں نے عشق کے کوچے میں لیکن پیچھے کے مفادات بھی دامن گیر ہیں۔ مستقبل کے خطرات سے بھی ہوش اڑے جا رہے ہیں اور پوری فراخ دلی اور نیاز مندی کے ساتھ ان ہمدردوں اور ملات گروں کی نصیحتوں کا احترام بھی انھیں ملحوظ ہے جن کے پھندوں میں گرہ شیطان نے لگائی ہے اور جن سے بچ کے نکل جانا بڑے ہی صاحب توفیق کا کام ہے۔
    ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ‘۔ یعنی اللہ کا اصل فضل یہ ہے جس کے سزاوار وہ بنتے ہیں جن کو وہ چاہتا ہے، ’’جن کو وہ چاہتا ہے‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی ٹھہرائی ہوئی سنت کے مطابق اس کے اہل ٹھہرتے ہیں۔ یہ بات ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کر چکے ہیں کہ خدا کی مشیت اس کی کامل قدرت اور اس کے کامل علم و حکمت کے ساتھ ہے اور جہاں مشیت کامل قدرت اور کامل علم و حکمت کے ساتھ ہو وہاں کسی حق تلفی و نا انصافی کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ مشیت کے بیان کے ساتھ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ کی صفات کا حوالہ دینے سے مقصود اسی حقیقت کا اظہار ہے۔
    ایک شبہ کا ازالہ: یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آخر اس وقت مسلمانوں کے اندر ان صفات کے حامل بھی تو موجود تھے بلکہ اکثریت ان صفات کے حاملین ہی کی تھی تو قرآن نے یہ کیوں کہا کہ ’’خدا ایسے لوگوں کو لائے گا‘‘ ان لوگوں کا حوالہ کیوں نہ دیا جو موجود تھے اور ان صفات کے بہترین حامل تھے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان آیات میں خطاب اگرچہ الفاظ کے اعتبار سے عام ہے لیکن روئے سخن اصلاً منافقین ہی کی طرف ہے۔ ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر تم مرتد ہو گئے تو خدا کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، خدا تمھاری جگہ اپنے دوسرے بندوں کو کھڑا کرے گا جو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کے لیے تمام اعلیٰ صفات سے متصف ہوں گے۔ گویا یہ فرما کر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین مخلصین کے اس غم کو دور کیا گیا ہے جس کا ذکر اوپر لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ والی آیت میں ہوا ہے کہ پیغمبر اور اہل ایمان ان منافقین کی کفر دوستی سے غمگین نہ ہوں، اگر یہ نکل گئے تو ان کے نکل جانے سے اللہ کے دین کا کچھ نہیں بگڑے گا، ان کی جگہ اللہ اپنے دین کی خدمت کے لیے دوسری تازہ دم فوج لے آئے گا جو ان تمام کمزوریوں اور بیماریوں سے پاک ہو گی جو ان کے اندر موجود ہیں۔

    جاوید احمد غامدی ایمان والو، (یہ رویہ دین سے پھر جانے کا رویہ ہے۔ چنانچہ یاد رکھو کہ) تم میں سے جو اپنے دین سے پھرے گا، (اللہ کو اُس کی کچھ پروا نہیں ہے)، اِس لیے کہ اللہ عنقریب ایسے لوگ اٹھا دے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے، مسلمانوں کے لیے نرم اور اِن منکروں کے مقابل میں نہایت سخت ہوں گے، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور (اِس میں) کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ (اپنے قانون اور اپنی حکمت کے مطابق) جس کو چاہے گا، عطا فرمائے گا۔ اللہ بڑی وسعت رکھنے والا ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    اِس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوئی کہ یہ منافقین نہ خدا سے محبت کرتے ہیں اور نہ خدا اِن سے محبت کرتا ہے۔ اللہ و رسول اور مومنین مخلصین کو دوست بنانے کے بجاے اِنھوں نے ایمان و اسلام کے مخالفین سے دوستی کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ چنانچہ اللہ بھی اِن سے بے پروا اور اِن کے رویے سے سخت بے زار ہے۔
    یعنی مسلمانوں کے لیے نرم خو، متواضع اور سہل الانقیاد اور منکروں کے مقابل میں پتھر کی چٹان ہوں گے۔ وہ اپنے اغراض کے لیے اِن کو کبھی استعمال نہ کر سکیں گے۔ اِن منافقین کی طرح مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے ہوشیار اور منکروں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نہیں ہوں گے کہ اللہ و رسول کے دشمن اِن کو جس طرح چاہیں، نچاتے پھریں۔ اِس میں ’اَذِلَّۃ‘ اور ’اَعِزَّۃ‘، دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ استاذ امام نے اِن کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

    ’’...’اَذِلَّۃ‘، ’ذلیل‘ کی جمع ہے۔ عربی میں یہ لفظ ... اچھے اور برے، دونوں معنوں میں آتا ہے۔ جب یہ اچھے معنوں میں آتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے تو اِس کے معنی نرم خو، نرم مزاج، فرماں بردار، متواضع اور سہل الانقیاد کے ہوتے ہیں۔ ’ذلول‘ کا لفظ بھی اِسی معنی میں آتا ہے۔ فرماں بردار اونٹنی کو ’ناقۂ ذلول‘ کہتے ہیں۔
    اَعِزَّۃ‘، ’عزیز‘ کی جمع ہے۔ یہ لفظ بالکل ’ذلیل‘ کے مقابل لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس کے معنی ہیں: سخت، مشکل، بھاری، ناقابل شکست، ناقابل عبور، عسیرالانقیاد۔ اگر کسی چیز کے متعلق کہیں کہ ’ہو عزیز علیّ‘ تو اِس کے معنی ہوں گے کہ وہ چیز مجھ پر بھاری اور مشکل ہے۔ اُس کو رام کرنا اور قابو میں کرنا میرے لیے دشوار ہے۔ یہی مفہوم ’شدید علیّ‘ کا بھی ہوتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/ ۵۴۶)

    مطلب یہ ہے کہ محض راہ عشق کے مسافر ہونے کا ڈھنڈورا نہیں پیٹیں گے، بلکہ ہر اُس جدوجہد کا ہراول ہوں گے جو دین کی اقامت اور اُس کی دعوت کے فروغ کے لیے کی جائے گی۔ تمام نصیحتوں اور ملامتوں سے بے پروا ہو کر یہ جدوجہد کریں گے۔ منافقین جن مفادات اور خواہشات و رغبات کے اسیر ہیں، یہ اُن کو کوئی اہمیت نہ دیں گے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’...اِس میدان میں اترنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے تمام دوسرے مفادات اور دوسری دل چسپیوں سے منہ موڑ کر اور دوسروں کی نصیحتوں اور ملامتوں سے کان بالکل بند کر کے اترے۔ جو شخص ہر گام پر پیچھے مڑ مڑ کے بھی دیکھے گا اور اپنے ناصحوں اور ملامت گروں کی نصیحتوں اور ملامتوں کو بھی اہمیت دے گا، وہ اگر ایک قدم آگے بڑھائے گا تو دو قدم پیچھے ہٹائے گا۔ عرب شعرا جب اولوالعزمی، بہادری اور فیاضی کا مضمون باندھتے ہیں تو اُس کی تمہید میں ملامت کرنے والیوں کی ملامت کا ذکر ضرور کرتے ہیں، اِس لیے کہ اِس راہ کی یہ سب سے پرانی اور ناگزیر آفت ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ آدمی کوئی عزم و جزم کا کام کرنے اُٹھے اور دہنے بائیں سے کچھ ناصح اور کچھ ملامت گر دامن گیر نہ ہو جائیں۔ یہ اِس راہ کی پہلی آزمایش ہوتی ہے۔ اگر کوئی آدمی دامن جھٹک کے آگے بڑھنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو تو اکثر وہ اِس پہلے ہی مرحلے میں مار کھا جاتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/ ۵۴۷)

    یہ پوری آیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخلص ساتھیوں کے لیے تسلی ہے کہ کفر اور اہل کفر کی طرف اِن منافقین کے میلان سے غم زدہ نہ ہوں۔ یہ دین سے پھرے تو اُس کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔ اللہ اِن کی جگہ اُن لوگوں کو ایمان و اسلام کی توفیق دے گا جو اُن کمزوریوں سے پاک ہوں گے جو اِن کے اندر موجود ہیں۔

     



  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List