Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی اب تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور شریف عورتیں مسلمان عورتوں میں سے اور شریف عورتیں ان اہل کتاب میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی تمھارے لیے حلال ہیں بشرطیکہ ان کو قید نکاح میں لا کر ان کے مہر ان کو دو، نہ کہ بدکاری کرتے ہوئے اور آشنائی گانٹھتے ہوئے۔ اور جو ایمان کے ساتھ کفر کرے گا تو اس کا عمل ڈھے جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں ہو گا۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    اس آیت میں کوئی مشکل لفظ یا مشکل ترکیب نہیں ہے۔ اس کے لیے تمام اجزاء پچھلی سورتوں میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ البتہ اس کا موقع محل اچھی طرح سمجھ لینے کا ہے۔
    بریں خوان یغما چہ دشمن چہ دوست: یہ آیت اس انعام عام کا اعلان ہے جو خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعے سے تمام دنیا پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصا ہونے والا تھا۔ پچھلے صحیفوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے متعلق جو پیشین گوئیاں وارد ہیں اور جن میں سے بعض کا حوالہ بقرہ اور آل عمران کی تفسیر میں ہم دے چکے ہیں، ان میں یہ تصریح موجود ہے کہ جب آخری نبی آئیں گے تو اہل کتاب کو طیبات و خبائث سے متعلق خدا کے امر و نہی سے آگاہ کریں گے اور حلا ل و حرام کے باب میں ان تمام پابندیوں اور بیڑیوں سے ان کو آزاد کریں گے جو انھوں نے اپنے اوپر یا تو از خود عائد کر رکھی ہیں یا ان کی سرکشی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کر دی ہیں۔ قرآن مجید نے ان تمام پیشین گوئیوں کا حوالہ سورۂ اعراف میں ان الفاظ میں دیا ہے:

    اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسَوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ ز یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبآءِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ لا اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (الاعراف ۱۵۷:۷)
    ’’جو لوگ اس رسول، نبی امی کی پیروی کریں گے جس کو اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو جائز کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے اور ان سے ان کے اس بوجھ اور پابندیوں کو دور کرتا ہے جو ان پر تھیں تو جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی تائید و نصرت کریں گے اور اس روشنی کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتاری گئی، وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے۔‘‘

    یہ انہی باتوں کا حوالہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ظہور میں آنے والی تھیں۔ چنانچہ آپ کے وجود باجود نے ان میں سے ایک ایک بات کی عملاً تصدیق فرما دی۔ آپ نے تمام طیب اور پاکیزہ چیزیں جائز کر دیں جن میں بعض یہود کے ہاں حرام تھیں، تمام خبیث چیزیں حرام ٹھہرائیں جن میں سے بعض یہود و نصاریٰ نے جائز بنا لی تھیں اور وہ تمام پابندیاں اور بیڑیاں ختم کر دیں جو انھوں نے یا تو از خود اپنے اوپر لادی تھیں یا ان کی ضد، سرکشی، کرپزی اور کٹ حجتی کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کی گئی تھیں۔ ۱؂  اس مرحلے میں آ کر چونکہ یہ کام مکمل ہو چکا تھا اور یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ اہل کتاب نے جو خبیث چیزیں جائز بنائی ہیں محض اپنی بدعت سے جائز بنائی ہیں اور جو طیب چیزیں ان پر حرام ہیں وہ محض ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر حرام ہیں، نبی امی کی بعثت کے بعد یہ پابندیاں ختم ہو گئیں تو مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ حرام و حلال اور خبیث و طیب کی اس وضاحت کے بعد اب تم اہل کتاب کا کھانا کھا سکتے ہو اس لیے کہ اب تمھارے لیے کسی خبیث سے آلودہ ہو جانے کا اندیشہ نہیں رہا اور ساتھ ہی اس بات کا بھی اعلان کر دیا گیا کہ تمھارا کھانا اہل کتاب کے لیے جائز ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق نبی امی کی بعثت کے بعد اب وہ تمام پابندیاں ختم ہو گئیں جو ان پر عائد تھیں۔
    ایک سوال اور اس کا جواب: ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہود منتظر کب تھے کہ قرآن ان کے لیے مسلمانوں کے کھانے کے جائز ہونے کا اعلان کرے، پھر اس کا فائدہ کیا، یہ تو مفت کرم داشتن کے قسم کی بات ہوئی، اس کا جواب یہ ہے کہ یہود منتظر تو تھے اور منتظر ہوتے کیوں نہ جب کہ ان کے اپنے صحیفوں میں آخری نبی کی پیشین گوئی اس تصریح کے ساتھ موجود تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو تمام اصر و اغلال سے نجات دیں گے، لیکن اس نبی کی بعثت چونکہ ان کے حریفوں یعنی بنی اسمٰعیل کے اندر ہوئی اس وجہ سے جان بوجھ کر، جیسا کہ بقرہ اور آل عمران میں وضاحت ہو چکی ہے، وہ اس کی مخالفت کے درپے ہو گئے اور حسد میں انھوں نے اپنے آپ کو ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے محروم کر لیا جن کے سب سے پہلے حق دار وہی تھے۔ اگر وہ نبی امی پرایمان لاتے۔
    پھر فرض کیجیے، بنی اسرائیل اس کے منتظرنہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ ان سے فرمایا تھا اس کو تو پورا ہونا تھا۔ ان سے جب یہ وعدہ تھا کہ آخری نبی کے ذریعے سے کھانے پینے کے معاملے میں وہ تمام پابندیاں ان سے اٹھا لی جائیں گی جو ان کی سرکشی کے سبب سے عائد ہوئی ہیں تو جب اس وعدے کے پورا کرنے کا وقت آیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا کھانا ان کے لیے جائز کر کے یہ وعدہ پورا کر دیا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے اس کی قدر نہیں کی تو یہ ان کی اپنی محرومی و بد قسمتی ہے۔ ان کی نالائقی کی وجہ سے آخر خدا اپنے وعدے کو کیوں فراموش کرتا؟ سورج چمکتا ہے خواہ کوئی اپنی آنکھیں بند رکھے یا کھلی رکھے۔ نسیم صبح اپنی عطر بیزیوں سے ہر مشامِ جان کو معطر کرنا چاہتی ہے اور اس کے فیض عام کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہر ایک کو فیض یاب کرے لیکن جو محروم القسمت اپنی ناک اور اپنے منہ بند کر لیتے ہیں وہ اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اسی طرح رب کریم نے جو سفرۂ نعمت اس امت کے ذریعے سے تمام دنیا کے آگے بچھانا چاہا تھا وہ بچھا دیا اور اس سے متمتع ہونے کی دعوت اہل کتاب کو بھی دے دی۔ انھوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ ان کی اپنی بد قسمتی ہے۔
    اہل کتاب کا کھانا اسلامی حدودِ حلت و حرمت کی پابندی کے ساتھ جائز ہے: اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمانوں کو اہل کتاب کے کھانے پینے کی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت جو دی گئی ہے وہ اس وقت دی گئی ہے جب ان کو اس باب کی آخری ہدایات سے آگاہ کیا جا چکا ہے، جب حلال و حرام دونوں اچھی طرح واضح کر دیے گئے ہیں۔ جب اہل کتاب اور مشرکین دونوں کی بدعات کی تفصیل ان کو سنا دی گی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سارے اہتمام کا مقصد مسلمانوں کو یہ بتانا تھا کہ تم دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھو لیکن حلت و حرمت کے ان حدود کی پابندی کے ساتھ جو تمھارے لیے قائم کر دیے گئے ہیں۔ اس آیت میں ’الیوم‘ کا لفظ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اب تمھیں خبیث اور طیب کا پورا امتیاز حاصل ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے تمھیں یہ اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ خطرہ نہیں رہا کہ تم ان کے دسترخوان پر بیٹھ کر کسی حرام یا مشتبہ میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ ۲؂
    کتابیات سے جوازِ نکاح کی شرط: اس کے بعد فرمایا کہ جس طرح تمھارے لیے شریف اور پاک دامن مسلمان عورتوں سے نکاح جائز ہے اسی طرح شریف اور پاک دامن کتابیات سے بھی نکاح جائز ہے۔ یہاں لفظ ’’مَحْصَنَات‘‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں تین معنوں میں آیا ہے اور ہم اس کے تینوں معنوں کی وضاحت دوسرے مقام میں کر چکے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد با عزت، شریف اور اچھے اخلاق کی عورتیں ہیں۔ یعنی یہ اجازت مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ یہ عورتیں بد چلن، پیشہ ور، آوارہ اور بد قوارہ نہ ہوں۔ جس طرح تمھارے لیے ان کے دسترخوان کی صرف طیبات جائز ہیں اسی طرح ان کی عورتوں میں سے صرف محصنات جائز ہیں۔
    ہمارے سلف صالحین میں سے ایک گروہ نے دارالحرب اور دارالکفر میں کتابیات سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کے جواز کے لیے دارالاسلام ہونا بھی ایک شرط ہے۔ مجھے یہ قول بہت ہی قوی معلوم ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات انھوں نے فحوائے کلام سے مستنبط کی ہے۔ میں اس کے ماخذ کے لیے لفظ ’الیوم‘ کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت میں وقت کے حالات کو بھی دخل ہے۔ اوپر ’اَلْیَوْمَ یَءِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ اور ’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ‘ والی آیات بھی گزر چکی ہیں اور ’فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِ‘ بھی ارشاد ہو چکا ہے، جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس دور میں کفار کا دبدبہ ختم ہو چکا تھا اور مسلمان ایک ناقابل شکست طاقت بن چکے تھے۔ یہ اندیشہ نہیں تھا کہ ان کو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی تو وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا ہو کر تہذیب اور معاشرت اور اعمال و اخلاق میں ان سے متاثر ہوں گے۔ بلکہ توقع تھی کہ مسلمان ان سے نکاح کریں گے تو ان کو متاثر کریں گے اور اس راہ سے ان کتابیات کے عقائد و اعمال میں خوشگوار تبدیلی ہو گی اور عجب نہیں کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔
    علاوہ ازیں یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے کہ کتابیات سے نکاح کی اجازت بہرحال علی سبیل التنزل دی گئی ہے۔ اس میں آدمی کے خود اپنے اور اس کے آل و اولاد اور خاندان کے دین و ایمان کے لیے جو خطرہ ہے، وہ مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مسلمان مردوں کو تو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی لیکن مسلمان عورت کو کسی صورت میں بھی کسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی گئی خواہ کتابی ہو یا غیر کتابی۔ یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اجازت صرف ایک اجازت ہے۔ یہ کوئی مستحسن چیز نہیں ہے۔ اگر ماحول اسلامی تہذیب و معاشرت کا ہو اور آدمی کسی نیک چال چلن کی کتابیہ سے نکاح کر لے تو اس میں مضائقہ نہیں لیکن کافرانہ ماحول میں جہاں کفر اور اہل کفر کا غلبہ ہو اس قسم کا نکاح چاہے اس آیت کے الفاظ کے خلاف نہ ہو لیکن اس کے فحویٰ، اس کی روح اور اس کے موقع و محل کے خلاف ضرور ہے۔
    یہ بات یہاں چنداں یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام کے بہت سے قوانین دارالاسلام کی شرط کے ساتھ مشروط ہیں۔ اسی طرح بعض رخصتیں اور اجازتیں بھی خاص ماحول اور خاص حالات کے ساتھ مشروط ہیں۔ آگے اس سلسلے کی بعض اہم باتیں بیان ہوں گی۔
    مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ‘ پر ہم تفصیل کے ساتھ سورۂ نساء کی آیات ۲۴-۲۵ کے تحت بحث کر چکے ہیں۔
    ’کفر بالایمان‘ کا مطلب: ’وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ‘ کفر بالایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا اور رسول کو ماننے کا دعویٰ بھی کرے اور ساتھ ہی خدا اور رسول کے احکام کے صریح خلاف محض اپنی خواہشات کی ابتاع میں قانون و شریعت ایجاد کر کے اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ یہ وہی ایمان ہے جس کو قرآن نے ’نُوْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ کفر و ایمان دونوں کے اس ملغوبہ کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان صرف وہ معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کے شرائط پر ہے۔ جو لوگ اپنے شرائط پر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان ان مدعیان ایمان کے منہ پر پھینک مارا جائے گا اور اس قسم کے ایمان کے تحت کیے ہوئے سارے اعمال خدا کے ہاں ڈھے جائیں گے۔ اس پر پیچھے بھی بحث گزر چکی ہے۔

    ________
    ۱؂ اس کی تفصیل سورۂ انعام آیت ۱۴۶ کے تحت آ ئے گی۔
    ۲؂ اہل کتاب کے ذبیحہ کے جواز کے لیے بھی کسوٹی یہی ہے جو یہاں بیان ہوئی ہے بلکہ اصلاً تو یہ بحث، جیسا کہ سیاق کلام سے واضح ہے، ذبیحہ ہی سے متعلق ہے۔

     

    جاوید احمد غامدی تمام پاکیزہ چیزیں اب تمھارے لیے حلال ٹھیرا دی گئی ہیں۔ (چنانچہ) اہل کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا اُن کے لیے حلال ہے۔ (اِسی طرح شرک و توحید کے حدود بھی واضح ہو گئے ہیں، لہٰذا) مسلمانوں کی پاک دامن عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں اور اُن لوگوں کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم اُن کے مہر اُنھیں ادا کر دیتے ہو، اِس شرط کے ساتھ کہ تم بھی پاک دامن رہنے والے ہو نہ بدکاری کرنے والے اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والے۔ (اپنے ایمان کو، البتہ ہر حال میں خالص رکھو) اور (جانتے رہو کہ) جو ایمان کے منکرہوں گے، اُن کی سب محنت ضائع ہو ئی اور قیامت کے دن وہ نامرادوں میں سے ہوں گے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    یعنی خبائث میں سے جن چیزوں کے بارے میں کوئی شبہ ہو سکتا تھا، اُسے پوری طرح دور کردینے کے بعد اب تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال کر دی گئی ہیں اور وہ تمام پابندیاں ختم ہو گئی ہیں جو یہود نے یا تو ازخود اپنے اوپر عائد کر لی تھیں یا اُن کی ضد، ہٹ دھرمی اور سرکشی کے باعث اللہ تعالیٰ نے اُن پر لگا دی تھیں۔
    مطلب یہ ہے کہ حلال و حرام اور خبیث و طیب کے ہر لحاظ سے واضح ہو جانے کے بعد اب کوئی اندیشہ نہیں رہا کہ تم کسی حرام اور خبیث چیز سے آلودہ ہو سکتے ہو، اِس لیے طیبات تمھارے دستر خوان پر ہوں یا اہل کتاب کے، دونوں کے لیے جائز ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے تو ایک دوسرے کاذبیحہ بھی تمھارے لیے جائز ہے۔ اہل کتاب اِسے نہ مانیں تو یہ اُن کی بدقسمتی ہے۔ تمھارے پروردگار نے تو جو وعدہ اُن سے کیا تھا، وہ تمھارا کھانا اُن کے لیے جائز کر کے پورا کر دیا ہے اور خورونوش کے معاملے میں وہ تمام پابندیاں اٹھا لی ہیں جو اُن کی سرکشی کے باعث اُن پر عائد کی گئی تھیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

    ’’... اُنھوں نے اِس کی قدر نہیں کی تو یہ اُن کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے۔ اُن کی نالائقی کی وجہ سے آخر خدا اپنے وعدے کو کیوں فراموش کرتا؟ سورج چمکتا ہے، خواہ کوئی اپنی آنکھیں بند رکھے یا کھلی رکھے۔ نسیم صبح اپنی عطربیزیوں سے ہر مشام جان کو معطر کرنا چاہتی ہے اور اُس کے فیض عام کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہر ایک کو فیض یاب کرے، لیکن جو محروم القسمت اپنی ناک اور اپنے منہ بند کر لیتے ہیں، وہ اُس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اِسی طرح رب کریم نے جو سفرۂ نعمت اِس امت کے ذریعے سے تمام دنیا کے آگے بچھانا چاہا تھا، وہ بچھا دیا اور اُس سے متمتع ہونے کی دعوت اہل کتاب کو بھی دے دی۔ اُنھوں نے اِس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ اُن کی اپنی بدقسمتی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲ /۴۶۴)

    سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۲۲۱ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسلمان نہ مشرک عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں اور نہ اپنی عورتیں مشرکین کے نکاح میں دے سکتے ہیں۔ یہ حکم جس طرح مشرکین عرب سے متعلق تھا، اِسی طرح اشتراک علت کی بنا پر یہود و نصاریٰ سے بھی متعلق ہو سکتا تھا، کیونکہ علم و عمل، دونوں میں وہ بھی شرک جیسی نجاست سے پوری طرح آلودہ تھے، تاہم اصلاً چونکہ توحید ہی کے ماننے والے تھے، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے رعایت فرمائی اور اُن کی پاک دامن عورتوں سے مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دے دی ہے۔ آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ یہ اجازت اُس وقت دی گئی، جب حلال و حرام اور شرک و توحید کے معاملے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ اِس کے لیے آیت کے شروع میں لفظ ’اَلْیَوْمَ‘ کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس اجازت میں شرک و توحید کے وضوح اور شرک پر توحید کے غلبے کو بھی یقیناً دخل تھا۔ لہٰذا اِس بات کی پوری توقع تھی کہ مسلمان اِن عورتوں سے نکاح کریں گے تو یہ اُن سے لازماً متاثر ہوں گی اور شرک و توحید کے مابین کوئی تصادم نہ صرف یہ کہ پیدا نہیں ہوگا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ اُن میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔ یہ چیز اِس اجازت سے فائدہ اٹھاتے وقت اِس زمانے میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔
    یعنی ایمان کا دعویٰ رکھتے ہوئے اپنے علم و عمل میں کفروشرک اختیار کرتے یا اُن کے ساتھ مصالحت روا رکھتے ہیں۔

     

    حلال و حرام


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    حلال و حرام,

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List