Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی اللہ تمھاری اولاد کے باب میں تمھیں ہدایت دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اگر لڑکیاں دو سے زائد ہیں تو اُن کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر اکیلی ہے تو اُس کے لیے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ کے لیے ان میں سے ہر ایک کے لیے اِس کا چھٹا حصہ ہے جو مورث نے چھوڑا، اگر میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اُس کے اولاد نہ ہو اور اُس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اُس کی ماں کا حصہ ایک تہائی اور اگر اُس کے بھائی بہنیں ہوں تو اُس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت کی تعمیل یا ادائے قرض کے بعد ہیں جو وہ کر جاتا ہے۔ تم اپنے باپوں اور بیٹوں کے متعلق یہ نہیں جان سکتے کہ تمھارے لیے سب سے زیادہ نافع کون ہو گا۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بے شک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    مذکورہ بالا مجموعۂ آیات میں وراثت کے جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ خود بھی واضح ہیں اور ان کی تفصیل فرائض کی کتابوں میں بھی موجود ہے اس وجہ سے ہم صرف بعض اہم باتوں کی وضاحت پر کفایت کریں گے۔
    ’وصیت‘ کا صحیح مفہوم: پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقسیم وراثت سے متعلق جو احکام دیے ہیں ان کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے۔ وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی پر یہ ذمہ داری ڈالے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرزِ عمل اختیار کرے۔ اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی، خیر خواہی اور شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک عہد اور معاہدے کی ذمہ داری بھی پائی جاتی ہے۔ لفظ کے ان تمام مضمرات کو ادا کرنے کے لیے اردو میں کوئی لفظ مجھے نہیں ملا۔ میں نے جو لفظ اختیار کیا ہے وہ اس کے مفہوم پر پوری طرح حاوی نہیں ہے۔
    لڑکیوں کے بالمقابل لڑکوں کا حصہ دونا رکھنے کی وجہ: دوسری چیز یہ ہے کہ وراثت میں لڑکوں کا حصہ اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کے بالمقابل دونا رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نظامِ معاشرت میں کفالتی ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے تمام تر مرد ہی پر ڈالی ہیں۔ عورت پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے۔ مرد ہی بیوی کے نان نفقے کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور وہی بچوں کا بھی کفیل بنایا گیا ہے۔ قرآن نے یہ بات بھی واضح طور پر بتا دی ہے کہ اپنی خلقی صفات کے اعتبار سے مرد ہی اس کا اہل ہے کہ وہ خاندان کا سردھرا اور قوام بنایا جائے اور یہ قوامیت خاندان کے نظم اور اس کے قیام و بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر خاندان کا کوئی قوام نہ ہو تو یہ بات خاندان کی فطرت کے خلاف ہے اور اگر خاندان کی قوام مرد کے بجائے عورت ہو تو یہ چیز انسانی فطرت کے خلاف ہے اور فطرت کی ہر مخالفت لازماً فساد و اختلال کا سبب ہو گی جس سے سارا معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ مرد کو اس کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے بعض حقوق میں ترجیح ہو۔ جو لوگ ہر پہلو سے مردوعورت کی کامل مساوات کے مدعی ہیں ان کا دعویٰ عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس موضوع پر آگے ہم اس سورہ میں بھی بحث کریں گے اور ہم نے اس پر ایک مستقل کتاب بھی لکھی ہے جس میں اس مسئلے کے سارے پہلو زیر بحث آئے ہیں۔ ۱؂
    ________

    ۱؂ اس کے لیے ہماری کتاب ’اسلامی معاشرہ میں عورت کا مقام‘ کا باب: نظریہ مساواتِ مردوزن پڑھیے۔

    جاوید احمد غامدی تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ اُن میں سے لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ پھر اگر اولاد میں لڑکیاں ہی ہوں اور وہ (دو یا) دو سے زیادہ ہوں تو اُنھیں ترکے کا دوتہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اُس کے لیے آدھا ہے۔ لیکن ترکے کا چھٹا حصہ، (اِس سے پہلے) میت کے والدین میں سے ہر ایک کو ملنا چاہیے، اگر اُس کی اولاد ہو۔اور اگر اولاد نہ ہو اور والدین ہی اُس کے وارث ہوں تو تیسرا حصہ اُس کی ماں کا ہے (اور باقی اُس کے باپ کا)۔ لیکن اُس کے بھائی بہن ہوں تو ماں کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے (اور باپ کے لیے بھی وہی چھٹا حصہ)۔ یہ حصے اُس وقت دیے جائیں، جب وصیت جو اُس نے کی ہو، وہ پوری کر دی جائے اور قرض، (اگر ہو تو) ادا کر دیا جائے۔ تم نہیں جانتے کہ تمھارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے کون بہ لحاظ منفعت تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصے (اِسی بنا پر) اللہ نے مقرر کر دیے ہیں۔ بے شک، اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    اصل الفاظ ہیں: ’یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ‘۔ اِن سے واضح ہے کہ آگے جو حصے بیان ہوئے ہیں، اُنھیں اللہ نے اپنی وصیت قرار دیا ہے۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان اِس کے مقابلے میں اپنی وصیت پیش کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔
    یہ حکم اگر اِسی جملے پر ختم ہوجاتا تو اِس کے معنی یہ تھے کہ مرنے والے کی اولاد میں اگر ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہی ہو تو لڑکے کو لڑکی سے دونا ملے گا؛ لڑکے اور لڑکیاں اِس سے زیادہ ہوں تو میت کا ترکہ اِس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر رہے؛ اولاد میں صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہو ں تو سارا ترکہ دونوں میں سے جو موجود ہوگا، اُسے دیا جائے گا۔ لیکن حکم یہاں ختم نہیں ہوا، بلکہ اِس سے متصل اگلے ہی جملے میں ایک استثنا کے ذریعے سے قرآن نے وضاحت کر دی ہے کہ اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں تو سارا ترکہ اُن میں تقسیم نہیں ہوگا۔ ایک ہی لڑکی ہو تو اُسے ترکے کا نصف اور دو یا دو سے زیادہ ہوں تو اُنھیں دوتہائی دیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا قانون لوگوں کے جذبات پر نہیں، بے لاگ انصاف پر مبنی ہے۔ لڑکی کی منفعت والدین کے لیے لڑکے سے کم ہوتی ہے، اِس لیے کہ شادی کے بعد اُس کی منفعت بیش تر اُس کے شوہر اور شوہر کے گھر والوں کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ قرآن نے اِسی بنا پر لڑکے سے اُس کا حصہ آدھا رکھا ہے اور اولاد میں صرف لڑکیاں ہوں تو اُن کا حصہ کم بھی کر دیا ہے۔
    اصل میں ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ (دو سے زیادہ) کے الفاظ آئے ہیں، لیکن اِن کا مفہوم ہم نے دو یا دو سے زیادہ بیان کیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ سے پہلے ’اثنتین‘ کا لفظ عربیت کے قاعدے سے حذف ہو گیا ہے۔ قرآن کی زبان میں اگر ہم ایک لڑکی اور دو یا دو سے زائد لڑکیوں کا حصہ اُن کے حصوں میں فرق کی وجہ سے الگ الگ بیان کرنا چاہیں تو اِس کے دو طریقے ہیں: ترتیب صعودی کے مطابق بیان کرنا پیش نظر ہو تو پہلے ایک لڑکی اور اُس کے بعد دو لڑکیوں کا حصہ بیان کیا جائے گا۔ دو سے زائد کا حصہ اگر وہی ہے جو دو کا ہے تو اُسے لفظوں میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک کے فوراً بعد جب دو کا حصہ اِس طرح بیان کیا جائے کہ وہ ایک کے حصے سے زیادہ ہو تو اِس کے صاف معنی یہ ہیں کہ دو سے زائد کاحکم بھی وہی ہے جو دو لڑکیوں کا ہے۔ اِسی بات کو ہم ترتیب نزولی کے مطابق بیان کریں گے تو اِس کے لیے ’فوق اثنتین او اثنتین‘ کے الفاظ چونکہ عربیت کی رو سے موزوں نہ ہوں گے، اِس لیے دو سے زائد کا حصہ بیان کرنے کے بعد ایک کا حصہ بیان کر دیا جائے گا۔ اِس اسلوب میں ’فوق اثنتین‘ سے کلام کی ابتدا خود دلیل ہوگی کہ اِس سے پہلے ’اثنتین‘ کا لفظ محذوف ہے۔ اِس کا قرینہ بھی واضح ہے۔ اِس ترتیب کا حسن مقتضی ہے کہ ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ سے پہلے ’اثنتین‘ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے اور صحت زبان کا تقاضا ہے کہ ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ سے بات شروع کی جائے تو بعد میں ’اثنتین‘ مذکور نہ ہو۔ قرآن مجید نے یہ حصے یہاں ترتیب نزولی کے مطابق بیان کیے ہیں، اِس لیے حذف کا یہ اسلوب ملحوظ ہے۔ سورۂ نساء کی آخری آیت میں یہی حصے ترتیب صعودی کے مطابق بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہاں ’اِثْنَتَیْنِ‘ کے بعد ’فوق اثنتین‘ کا لفظ حذف کر دیا ہے: ’اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیْْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗٓ اُخْتٌ، فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ، وَہُوَ یَرِثُہَآ، اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہَا وَلَدٌ، فَاِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْْنِ، فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ‘۔*
    یہ جملہ پچھلے جملے سے استثنا ہے، اِس لیے اِس کا حکم بھی وہی ہوگا جو پچھلے جملے کا ہے، یعنی اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں تو اُنھیں ترکے کے اُسی حصے کا دوتہائی یا نصف دیا جائے گا جو اگر تنہا لڑکے ہوتے تو اُن میں تقسیم کیا جاتا۔ وہ پورے ترکے کے دوتہائی یا نصف کی حق دار نہ ہوں گی۔ ’فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً‘ پر اصل میں جو حرف ’ف‘ اور ’وَلِاَبَوََیْہِ‘ سے پہلے حرف ’و‘ آیا ہے، وہ اِسی پر دلالت کرتا ہے۔
    یہ جملہ اِس سے متصل پہلے لڑکیوں کے حصوں پر نہیں، بلکہ اُس پورے حکم پر عطف ہوا ہے جو اوپر اولاد کے لیے آیا ہے۔ چنانچہ اِس کا عطف اب استدراک کے لیے ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس سے پہلے یہ بات تو بیان ہوئی ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہوگا، لیکن یہ کتنا ہوگا، اِسے متعین نہیں کیا گیا۔ چنانچہ والدین اور زوجین کے جو حصے اِس کے بعد آئے ہیں، وہ لازماً پہلے دیے جائیں گے اور اِس کے بعد جو کچھ بچے گا، صرف وہی اولاد میں تقسیم ہوگا۔ لڑکے اگر تنہا ہوں تو اُنھیں بھی یہی ملے گا اور لڑکے لڑکیاں، دونوں ہوں تو اُن کے لیے بھی یہی قاعدہ ہوگا۔ اِسی طرح میت کی اولاد میں اگر تنہا لڑکیاں ہوں تو اُنھیں بھی اِس بچے ہوئے ترکے ہی کا نصف یا دوتہائی دیا جائے گا۔ اِس کے لیے ’فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً‘ کے جو الفاظ اصل میں آئے ہیں، اُن کے بارے میں ہم اوپر واضح کر چکے ہیں کہ یہ ’لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ‘ سے استثنا اور اِسی کے ایک پہلو کی وضاحت ہیں، اِن کا حکم اُس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔
    اصل میں ’اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’وَلَدٌ‘ کا لفظ ذکور و اناث، دونوں کے لیے ہے۔ یہاں اور اِس کے بعد ازواج کے حصوں میں بھی ہر جگہ اِس کا مفہوم یہی ہے۔ لڑکا لڑکی ایک ہوں یا دو، اولاد میں صرف لڑکے ہوں یا صرف لڑکیاں ہوں، نفی واثبات میں اِس شرط کا اطلاق لازماً ہوگا۔
    یہ الفاظ یہاں حذف ہیں۔ ہم اگر یہ کہیں کہ ۔۔۔’’اِس رقم کے وارث زید اور علی ہی ہوں تو زید کا حصہ ایک تہائی ہوگا‘‘ ۔۔۔تو اِس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ۔۔۔ ’’باقی دوتہائی علی کے لیے ہے۔‘‘
    اصل میں لفظ ’اِخْوَۃٌ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ جمع ہے، لیکن اِس طرح کے اسلوب میں جمع بیان عدد کے لیے نہیں، محض بیان وجود کے لیے آتی ہے۔ اِس سے مقصود صرف یہ ہے کہ بھائی بہنوں کی موجودگی میں، عام اِس سے کہ وہ ایک ہوں یا دو، یا دو سے زیادہ ہوں، والدین کا حصہ اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے گا۔
    اصل الفاظ ہیں: ’فَاِنْ کَانَ لَہٗٓ اِخْوَۃٌ، فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ‘۔ اِن کے بعد بھی ’ولابیہ‘ یا اِس کے ہم معنی الفاظ حذف ہوگئے ہیں۔ اِس میں جملوں کی تالیف اِس طرح ہے: ’’اولاد ہو تو ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ۔ اولاد نہ ہو اور والدین ہی وارث ہوں تو ماں کے لیے تہائی، لیکن اگر بھائی بہن ہوں تو ماں کے لیے وہی چھٹا حصہ۔‘‘ اِس میں دیکھ لیجیے، کلام خود پکار رہا ہے کہ ۔۔۔’’اور باپ کے لیے بھی وہی چھٹا حصہ۔‘‘ اِس سے اشارہ نکلتا ہے کہ اولاد کی عدم موجودگی میں اُن کا حصہ اب بھائی بہنوں کو ملنا چاہیے۔ یہ اشارہ واضح تھا، لیکن قرآن کے مخاطبین جب اِس کو نہیں سمجھ سکے تو اُس نے وضاحت فرما دی۔ یہ وضاحت اِسی سورہ کے آخر میں بطور ضمیمہ درج ہے۔
    اِس سے واضح ہے کہ وصیت کا حق باقی ہے، لیکن قرآن نے اِس کے ساتھ آگے ’غَیْرَ مُضَآرٍّ‘ کی شرط لگا دی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ وصیت اتنی ہونی چاہیے جس سے وارثوں کی حق تلفی نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر نصیحت فرمائی ہے کہ یہ تہائی مال تک محدود رہے تو بہتر ہے۔**
    سلسلۂ کلام کے بیچ میں یہ آیت جس مقصد کے لیے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ لوگوں پر یہ بات واضح کر دی جائے کہ جن رشتہ داروں کو اللہ تعالیٰ نے کسی میت کے وارث قرار دیا ہے، اُن کے بارے میں مبنی بر انصاف قانون وہی ہے جو اُس نے خود بیان فرما دیا ہے۔ چنانچہ اُس کی طرف سے اِس قانون کے نازل ہو جانے کے بعد اب کسی مرنے والے کو محض رشتہ داری کی بنیاد پر اللہ کے ٹھیرائے ہوئے اِن وارثوں کے حق میں وصیت کا حق باقی نہیں رہا۔ اُن کے لیے کوئی وصیت اب اگر وہ کرے گا تو صرف اُس صورت میں کرے گا، جب اُن میں سے کسی کی کوئی ضرورت یا اُس کی کوئی خدمت یا اِس طرح کی کوئی دوسری چیز اِس کا تقاضا کرتی ہو۔ اِس لیے کہ جس منفعت کے کم یا زیادہ ہونے کا علم اِس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے خاص قرار دیا گیا ہے، وہ رشتہ داری کی منفعت ہے۔ اِس کا اُن ضرورتوں اور منفعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جو ہمارے لیے معلوم اور متعین ہوتی ہیں۔
    آیت کا اصل مدعا یہی ہے، لیکن اگر غور کیجیے تو اِس سے یہ بات بھی نہایت لطیف طریقے سے واضح ہوگئی ہے کہ وراثت کا حق جس بنیاد پر قائم ہوتا ہے، وہ قرابت نافعہ ہے اور حصوں میں فرق کی وجہ بھی اُن کے پانے والوں کی طرف سے مرنے والے کے لیے اُن کی منفعت کا کم یا زیادہ ہونا ہی ہے۔ چنانچہ لڑکوں کا حصہ اِسی بنا پر لڑکیوں سے اور شوہر کا بیوی سے دوگنا رکھا گیا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ والدین، اولاد، بھائی بہن، میاں بیوی اور دوسرے اقربا کے تعلق میں یہ منفعت بالطبع موجود ہے اور عام حالات میں یہ اِسی بنا پر بغیر کسی تردد کے وارث ٹھیرائے جاتے ہیں، لیکن اِن میں سے کوئی اگر اپنے مورث کے لیے منفعت کے بجاے سراسر مضرت بن جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علت حکم کا یہ بیان تقاضا کرتا ہے کہ اُسے وراثت سے محروم قرار دیا جائے۔
    اِسی طرح یہ رہنمائی بھی ضمناً اِس آیت سے حاصل ہوتی ہے کہ ترکے کا کچھ حصہ اگر بچا ہوار ہ جائے اور مرنے والے نے کسی کو اُس کا وارث نہ بنایا ہو تو اُسے بھی ’اَقْرَبُ نَفْعًا‘ ہی کو ملنا چاہیے۔
    آیت کے آخر میں تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ علیم وحکیم ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

    ’’...یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے علم اور اُس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم پیش وعقب، ہر چیز پر حاوی اور حاضر و غائب، سب پر محیط ہے۔ کسی کا علم بھی اُس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اِسی طرح اُس کی ہر بات اور اُس کے ہر کام میں نہایت گہری حکمت ہوتی ہے اور کسی کا بھی یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اُس کی حکمت کی تمام باریکیوں کو سمجھ سکے۔ اِس وجہ سے خدا کی اِس تقسیم پر نہ تو اپنے علم و فلسفہ کے غرے میں کسی کو معترض ہونا چاہیے، نہ جذباتی جنبہ داری کے جوش میں کسی کو کوئی قدم اِس کے خلاف اٹھانا چاہیے۔ بسااوقات آدمی اپنے ذاتی میلان کی بنا پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے، لیکن یہ ترجیح دنیا اور آخرت، دونوں ہی اعتبارات سے غلط ہوتی ہے۔ اِسی طرح کسی کو اپنے ذاتی میلان کی بنا پر نظرانداز کرتا ہے، حالاں کہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ دنیا اور عقبیٰ، دونوں ہی اعتبار سے اُس کا رویہ زیادہ صحیح رہا جس کو اُس نے نظرانداز کیا۔ پس صحیح روش یہی ہے کہ آدمی جو قدم بھی اٹھائے، اپنے ذاتی میلانات کے بجاے شریعت کی ہدایت کے مطابق اٹھائے۔ اِسی میں خیروبرکت ہے۔ جولوگ شریعت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں، وہ خدا کے علم و حکمت کی تحقیر کرتے ہیں جس کی سزا بالعموم اُنھیں دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں تو بہرحال ملنی ہی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/ ۲۶۱)


    _____
    * ۴: ۱۷۶۔
    ** بخاری، رقم ۲۷۴۲۔ مسلم، رقم ۱۶۲۸۔

    وراثت کا حکم احکام وراثت


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    وراثت کا حکم, احکام وراثت,

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List