Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی جب کہ اللہ نے کہا کہ اے عیسیٰ میں تمھیں قبض کر لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان سے تمھیں پاک کرنے والا ہوں۔ جن لوگوں نے تمھاری پیروی کی ہے ان کو قیامت تک کے لیے ان لوگوں پر غالب کرنے والا ہوں جنھوں نے تمھارا انکار کیا ہے۔ پھر میری طرف تم سب کا پلٹنا ہو گا اور میں تمھارے درمیان ان چیزوں کے بارے میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    حضرت مسیحؑ کی حفاظت کے لیے تدبیر الٰہی: اب یہ بیان ہو رہا ہے اس بہترین مخفی تدبیر کا جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو یہود کی سازش سے بچانے کے لیے اختیار فرمائی اور جس سے ان کی سازش کے تمام تار پود بکھر کر رہ گئے۔
    توفٰی‘ کے لغوی اور مجازی مفہوم: ’تَوَفِّیْ‘ کے اصل معنی عربی لغت میں، ’الاخذ بالتمام‘ کسی شے کے پورا پورا لے لینے یا کسی چیز کو اپنی فطرت قبض کر لینے کے ہیں۔ موت دینے کے معنی میں اس لفظ کا استعمال حقیقتاً نہیں بلکہ مجازاً ہوا ہے۔ ایسے الفاظ جو اپنے حقیقی اور مجازی دونوں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، اپنے صحیح مفہوم کے تعین میں قرائن کے محتاج ہوتے ہیں۔
    یہاں مندرجہ ذیل قرائن اس بات کے خلاف ہیں کہ اس کے معنی یہاں موت دینے کے لیے جائیں۔
    قرائن جو اس بات کے خلاف ہیں کہ اس کے معنی موت دینے کے لیے جائیں: ایک یہ کہ یہ موقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدنا مسیحؑ ا ور ان کے ساتھیوں کے لیے بشارت اور وعدۂ نصرت کا ہے۔ جملہ رسولوں کی سرگزشتیں اس امر کی شاہد ہیں کہ جب ان کی قوموں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی حفاظت و نصرت کی بشارت دی ہے۔ یہاں بھی آیت پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ پوری آیت بشارت اور وعدۂ نصرت ہی کی ہے۔ اس سیاق و سباق میں آخر یہ کہنے کا کیا محل ہے کہ میں تمھیں موت دینے والا ہوں، یہ تو وہی چیز ہوتی ہے جس کے خواہاں یہود تھے۔ فرق صرف ذریعے کا ہوتا کہ موت یہود کے ہاتھوں نہیں بلکہ قدرت کے ہاتھوں واقع ہوتی۔
    دوسرا یہ کہ اگر اس لفظ سے یہاں موت دینا مراد ہے تو اس کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ بالکل غیر ضروری ہو کے رہ جاتے ہیں۔ آخر یہ کہنے کا کیا فائدہ کہ میں تمھیں موت دینے والا اور اپنی طرف اٹھا لینے والا ہوں؟ موقع دلیل ہے کہ یہاں ’مُتَوَفِّیْکَ‘ کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ ’تَوَفِّیْ‘ کے مفہوم کو واضح کر رہے ہیں کہ تمھاری ’تَوَفِّیْ‘ کی شکل یہ ہو گی کہ میں تمھیں اپنی طرف اٹھا لوں گا۔
    تیسرا یہ کہ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے معنی مجرد رفع درجات لینا صحیح نہیں ہے۔ اس صورت میں ’اِلَیَّ‘ کا لفظ بالکل بے ضرورت ہو کر رہ جاتا ہے اور قرآن میں کوئی لفظ بھی بے ضرورت استعمال نہیں ہوا ہے۔ اگر صرف درجے کی بلندی کا اظہار مقصود ہوتا تو عربیت کے لحاظ سے ’رَافِعُکَ‘ کافی تھا۔ ’اِلَیَّ‘ کی ضرورت نہیں تھی۔ قرآن میں دیکھ لیجیے جہاں بھی یہ لفظ بلندئ مرتبہ کے مضمون کے لیے استعمال ہوا ہے بغیر الیٰ کے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً:

    مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجَاتٍ (۲۵۳۔ بقرہ)
    (اور ان میں وہ بھی ہیں جن سے اللہ نے بات کی اور بعض کے مدارج بلند کیے۔)

    وَلَوْشِءْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِھَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ (۱۷۶۔ اعراف)
    (اور اگر ہم چاہتے تو ان آیات کے ذریعے سے ان کا رتبہ بلند کرتے لیکن وہ تو برابر زمین ہی کی طرف جھکا رہا۔)

    وَّرَفَعْنٰہٗ مَکَانًا عَلِیًّا (۵۷۔ مریم)
    (اور ہم نے اس کو فائز کیا اونچے درجے پر۔)

    اگر حرف ’اِلٰی‘ کا صحیح صحیح حق ادا کیا جائے اور یہ حق ادا کرنا ضروری ہے تو ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے معنی یہ ہوں گے کہ میں تم کو عزت و اکرام کے ساتھ اپنی جانب اٹھا لینے والا ہوں۔
    چوتھا یہ کہ قرآن نے دوسرے مقام میں جہاں یہ مضمون بیان کیا ہے وہاں مُتَوَفِّیْکَ کا لفظ بالکل اڑا دیا ہے، قتل اور سولی کی نفی کے بعد جس چیز کا اثبات کیا ہے وہ صرف اٹھا لیے جانے کا ہے۔ ’بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘ (بلکہ اللہ نے اس کو اپنی جانب اٹھا لیا) یہ اس بات کا نہایت واضح قرینہ ہے کہ قرآن نے یہ ’تَوَفِّیْ‘ کی اصل شکل بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی جانب اٹھا لیا۔ آیت ملاحظہ ہو:

    وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا (۱۵۷۔۱۵۸)
    (اور نہ انھوں نے اس کو قتل کیا اور نہ اس کو سولی دی بلکہ معاملہ ان کے لیے گھپلا کر دیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، انھیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں، محض اٹکل کے تیر تکے چلا رہے ہیں اور انھوں نے اس کو قتل یقیناً نہیں کیا بلکہ اس کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔)

    یہ آیت سب سے زیادہ موزوں مقام اپنے اندر رکھتی تھی اس بات کے بیان کے لیے حضرت عیسیٰ ؑ کی موت کس طرح ہوئی؟ اس لیے کہ یہاں قرآن نے بڑی تاکید اور شدت کے ساتھ ان لوگوں کی تردید کی ہے جو ان کے قتل یا ان کی سولی کے مدعی تھے۔ اگر آپؑ کی موت واقع ہوئی ہوتی تو اس موقع پر قرآن صاف صاف یوں کہتا کہ نہ ان کو قتل کیا گیا اور نہ ان کو سولی دی گئی بلکہ اللہ نے ان کو وفات دی۔ لیکن قرآن نے نہ صرف یہ کہ یہ کہا نہیں بلکہ یہاں ’تَوَفِّیْ‘ کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔ صرف ’رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ‘ کا لفظ استعمال کیا۔ ہر صاحب ذوق اندازہ کر سکتا ہے کہ قتل اور سولی کی نفی کے بعد اس رفع سے موت مراد لینے کی کس حد تک گنجائش ہے۔
    وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ یعنی اس گندے معاشرے سے الگ کر کے تمھیں صالحین و ابرار کے زمرے میں داخل کروں گا۔ انبیاء علیہم السلام کے لیے سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ جس قوم کی اصلاح کے لیے بھیجے جاتے ہیں اس کے اندر اس وقت تک وہ قیام کرتے ہیں جب تک ان کے ایمان لانے کی کچھ توقع ہوتی ہے۔ یہ توقع اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب قوم کے لوگ نبی کے قتل کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت نبی بحکم الٰہی ہجرت کر جاتا ہے۔ پھر جس طرح روح کی علیحدگی کے بعد جسم کے لیے سڑنے اور گلنے کے سوا کوئی اور شکل باقی نہیں رہ جاتی اسی طرح نبی کی علیحدگی کے بعد اس کے جھٹلانے والوں کے لیے ہزیمت اور ذلت کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں رہ جاتی۔ نبی اور اس کے ساتھی گندے ماحول سے نکل کر پاکیزہ اور صحت بخش ماحول میں داخل ہو جاتے ہیں جس سے ان کی روحانی قوت و صحت میں اضافہ ہوتا ہے۔ برعکس اس کے نبی کے دشمن زندگی بخش عناصر سے یک قلم محروم ہو کر پوری تیزی کے ساتھ ہلاکت کی وادی کی طرف چل پڑتے ہیں۔ استاذ امامؒ نے سورۂ کافرون کی تفسیر میں ہجرت کے ان اثرات و نتائج پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ سیدنا مسیح ؑ کا رفع آسمانی ہجرت الی اللہ ہے: سیدنا مسیحؑ کا یہ رفع آسمانی بھی چونکہ ایک نوعیت کی ہجرت ہی ہے اس وجہ سے جس طرح تمام رسولوں کو ہجرت کے بعد فتح و کامیابی کی بشارت ملی اسی طرح آپؑ کو بھی اس ہجرت کے ساتھ کامیابی و فتح مندی کی، جیسا کہ آگے بیان ہے، بشارت ملی۔
    حضرت مسیحؑ کے متبعین کا یہود پر غلبہ: وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ الآیہ۔ اس میں اس بات کی بشارت ہے کہ حضرت مسیحؑ کے نام لیوا ان کے منکرین پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔ تاریخی طور پر یہ بات ایک امر واقعہ ہے کہ نصاریٰ من حیث القوم اس بشارت کے بعد سے یہود پر ہمیشہ حاوی و غالب رہے ہیں۔ آج بھی جب کہ بظاہر یہود کی ایک چھوٹے سے خطہ میں سلطنت قائم ہو چکی ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ پر اسی طرح قائم و ثابت ہے جس طرح پہلے قائم و ثابت تھی۔ اس لیے کہ یہود کی یہ نام نہاد سلطنت قائم بھی نصاریٰ ہی کے ہاتھوں ہوئی ہے اور باقی بھی انھی کے بل بوتے پر ہے۔
    ایک شبہ کا ازالہ: البتہ ایک بات یہاں دل میں ضرور کھٹکتی ہے وہ یہ کہ یہ نصاریٰ خود متبع مسیحؑ کب ہیں؟ یہ تو بالکل مبتدع اور حضرت مسیحؑ کی تعلیم سے یک قلم منحرف ہیں؟ اس کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ سے یہاں مراد صرف ان کے صحیح قسم کے متبعین ہی نہیں ہیں بلکہ اس میں ان کے عام متبعین اور نام لیوا بھی شامل ہیں۔ ہماری اس رائے کے حق میں کئی باتیں جاتی ہیں۔ مثلاً:
    ایک یہ کہ قرآن میں ’اَھْلُ الْکِتَاب‘ اور ’اَلَّذِیْنَ اُوْتَوا الْکِتَاب‘ کے الفاظ بھی دو مختلف مفہوموں میں استعمال ہوئے ہیں۔ بعض جگہ ان سے اہل کتاب کو بحیثیت گروہ کے مراد لیا گیا ہے، اس سے بحث نہیں کہ فی الواقع ان کے عقائد و اعمال کیا ہیں، اور بعض جگہ ان سے صرف حقیقی اہل کتاب مراد لیے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے نزدیک ’الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ‘ اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے۔ حضرت مسیحؑ کے تمام منتسبین اس میں شامل ہیں۔ عام اس سے کہ وہ ان کے حقیقی پیرو ہیں یا محض نام لیوا ہیں۔
    دوسری یہ کہ یہاں ’الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ‘ کے مقابل الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رکھا ہے جس سے قرینہ یہی نکلتا ہے کہ تقابل درحقیقت منکرین مسیح اور منتسبین مسیح کے درمیان ہے نہ کہ مخلصین و مبتدعین کے درمیان۔
    تیسری یہ کہ یہ موقع بشارت کا ہے۔ بشارت کا تقاضا یہی ہے کہ اس میں وسعت ہو۔ اگر ’الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ‘ سے، صرف حقیقی متبعین ہی مراد ہوتے ہیں تو بشارت کا دائرہ بہت محدود ہو کر رہ جاتا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ذریت ابراہیمؑ کے لیے رزق کی جو بشارت دی تو اس کو صرف اہل ایمان ہی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اہل ایمان اور غیر اہل ایمان سب کے لیے عام رکھا ہے۔ اسی طرح یہاں ’الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ‘ بھی خالص اور غیر خالص متبعین کے لیے عام ہے۔
    رسول اپنی قوم کے لیے عدالت ہوتا ہے: اوپر ہم یہ اشارہ کر آئے ہیں کہ انبیا میں سے جو رسول کے درجے پر فائز ہوتے ہیں وہ اپنی قوم کے لیے عدالت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے ذریعے سے لازماً قوم کے درمیان حق و باطل کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ رسول اور اس کے ساتھیوں کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے مخالفین شکست کھاتے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ یہ غلبہ رسول کی موجودگی میں حاصل ہویا اس کے رخصت ہو چکنے کے بعد۔ سیدنا مسیحؑ کے متعلق قرآن کی تصریح کی روشنی میں اوپر معلوم ہو چکا ہے کہ وہ صرف نبی ہی نہیں تھے بلکہ ’رَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْ اِسْرَاءِ یْلَ‘ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ان کے اس منصب کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ ان کے متبعین کو ان کے مخالفین پر وہ غلبہ حاصل ہوتا جس کی اس آیت میں بشارت ہے۔ لَاَ غْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ والی آیت میں بھی اسی سنت اللہ کا بیان ہے۔ یہی وہ عدالت ہے جس کا ذکر انجیلوں میں بار بار آتا ہے۔ رسولوں کی اس امتیازی خصوصیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کو یہ مہلت نہیں دیتا کہ وہ ان کو قتل کر دیں۔ چنانچہ رسولوں میں سے کسی کا قتل ہونا ثابت نہیں۔ یہ بات بھی نصاریٰ کے اس دعوے کے خلاف جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ اس مسئلے پر مفصل بحث سورۂ مائدہ میں آئے گی۔

     

    جاوید احمد غامدی اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور (تیرے) اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے ۔ سو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    یعنی روح قبض کر کے تیرا جسم بھی اپنی طرف اٹھا لوں گا تاکہ یہ ظالم اُس کی توہین نہ کر سکیں۔ مسیح علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اللہ اُن کی حفاظت کرتا ہے اور جب تک اُن کا مشن پورا نہ ہو جائے ، اُن کے دشمن ہرگز اُن کو کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوتے ۔ اِسی طرح اُن کی توہین و تذلیل بھی اللہ تعالیٰ گوارا نہیں کرتے اور جو لوگ اِس کے درپے ہوں ، اُنھیں ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اپنے رسولوں کو لازماً اُن کی دستبرد سے محفوظ کر دیتے ہیں ۔
    یعنی علم و عقل اور سیرت و کردار کی نجاست میں مبتلا اِن لوگوں سے الگ کر کے تمھیں صالحین وابرار کی اُس دنیا میں لے جاؤں گا جو اُنھی کے لیے تیار کی گئی ہے۔
    اِس سے مراد سیدنا مسیح علیہ السلام کے عام متبعین اور نام لیوا ہیں جو پہلے نصاریٰ اور اب مسیحی کہلاتے ہیں ۔ یہ موقع بشارت کا ہے جس کا تقاضا یہی ہے کہ اِس میں وسعت ہو۔ پھر ’الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ‘ کے الفاظ یہاں ’الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ کے مقابل میں آئے ہیں ، لہٰذا اِن سے مراد منتسبین مسیح ہی ہو سکتے ہیں نہ کہ وہ لوگ جو آپ کے سچے پیرو اور آپ کی ہدایت پر مخلصانہ عمل کرنے والے ہوں۔
    یہ بنی اسرائیل کے لیے خدائی دینونت کا ظہور ہے جسے گذشتہ دو ہزار سال سے ہر شخص بچشم سر دیکھ سکتا ہے۔ اِس غیر معمولی طور پرحیرت انگیز پیشین گوئی کو دنیا کا کوئی تغیر ، زمانے کی کوئی گردش اور وقت کی کوئی کروٹ کبھی ایک لمحے کے لیے بھی باطل نہیں کر سکی ۔ خدا اور اُس کی عدالت کا یہ ایسا صریح ثبوت ہے جو ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ اِس کے بعد وہ کیا چیز ہے جو قیامت کے بارے میں قرآن کی وعید کو جھٹلا سکتی ہے؟



  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List