Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفاتحہ (The Opening)

    7 آیات | مکی
    ا۔ سورہ کا مضمون

    اس سورہ میں پہلے اس جذبۂ شکر کی تعبیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی پروردگاری، اس کی بے پایاں رحمت اور اس کائنات کے نظام میں اس کے قانون عدل کے مشاہدات سے ایک سلیم الفطرت انسان پر طاری ہوتا ہے یا طاری ہونا چاہیے۔ پھر اس جذبۂ شکر سے خدا ہی کی بندگی اور اسی سے استعانت کا جو جذبہ ابھرنا چاہیے اس کو تعبیر کیا گیا ہے، پھر اس جذبہ کی تحریک سے جو مزید طلب و جستجو ہدایت و رہنمائی کے لیے پیدا ہوتی ہے یا پیدا ہونی چاہیے، وہ ظاہر کی گئی ہے۔

    ب۔ سورہ کا اسلوب

    اس سورہ کا اسلوب دعائیہ ہے۔ لیکن انداز کلام مخاطب کو سکھانے کا نہیں ہے کہ وہ یوں دعا کرے بلکہ اصل دعا ہماری زبان پر طاری کر دی گئی ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ اگر ہماری فطرت سلیم ہے تو ہماری زبان سے ہمارے دل کا ترانۂ حمد یوں نکلنا چاہیے۔ چونکہ یہ تعبیر اسی خدا کی بخشی ہوئی ہے جو ہماری فطرت کا بنانے والا ہے اس وجہ سے اس سے زیادہ سچی تعبیر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہر سلیم الفطرت انسان اس کو اپنے ہی دل کی آواز سمجھتا ہے۔ صرف وہی لوگ اس سے کوئی بیگانگی محسوس کر سکتے ہیں جنھوں نے اپنی فطرت بگاڑ لی ہو۔

  • الفاتحہ (The Opening)

    7 آیات | مکی

    اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ سورہ پروردگار عالم کے حضور میں اُس سیدھی راہ کے لیے ہدایت کی دعا ہے جو زمانۂ بعثت نبوی میں ہرسلیم الفطرت انسان کی تمنا تھی ۔ یہودو نصاریٰ نے اپنے انحرافات اور ضلالتوں سے دین کا چہرہ جس بری طرح بگاڑ دیا تھا، اُس کے بعد اِس راہ کی ہدایت گویا ہر دل کی صدا تھی جسے اللہ تعالیٰ نے اِس سورہ کے بے مثل اور لافانی الفاظ میں اپنے پیغمبر کی زبان پر جاری فرمایا ہے۔

    تورات و انجیل کے بعد آں سوے افلاک سے ایک نئی ہدایت کی دعا یہی اِس سورہ کا مرکزی مضمون ہے۔ چنانچہ قرآن کے اِس پہلے باب کی مدنیات کے ساتھ اِس کا تعلق تو جیسا کہ باب کے تعارف میں بیان ہوا ، اجمال اورتفصیل ہی کا ہے، لیکن اپنے اِس مضمون کی رعایت سے یہ نہایت موزوں دیباچۂ قرآن بھی ہے۔

    اِس لحاظ سے دیکھیے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ قرآن کی پہلی سورہ ہے جو ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ پر نازل ہوئی ہے۔

  • Javed Ahmad Ghamidi
    امین احسن اصلاحی جزا و سزا کے دن کا مالک۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

    لفظ دین کے معانی: دین کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔

    1۔ مذہب و شریعت کے معنی کے لیے مثلاً

    ’اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ‘ 83۔ آل عمران (کیا خدا کے اتارے ہوئے مذہب کے سوا وہ کسی اور مذہب کے طالب ہیں)۔

    2۔ قانون ملکی کے لیے مثلاً

    ’مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ‘ 76۔ یوسف (اس کو بادشاہ کے قانون کی رو سے یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ اپنے بھائی کو روک سکے)۔

    3۔ اطاعت کے معنی کے لیے مثلاً

    ’وَلَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَہُ الدِّیْنُ وَاصِبًا‘ 52۔ نحل (اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہمیشہ لازم ہے)۔

    4۔ جزا کے معنی کے لیے مثلاً

    ’اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ 6-5 ذاریات (جس چیز کی تمہیں دھمکی سنائی جا رہی ہے وہ سچ ہے اور جزا و سزا واقع ہو کر رہے گی)۔

    جزا سے مراد اس کے دونوں پہلو ہیں۔ نیک اعمال کا صلہ بھی اور برے کاموں کی سزا بھی۔ اس وجہ سے ہم نے ترجمہ میں جزا کے ساتھ سزا کا لفظ بھی بڑھا دیا ہے۔
    جزا و سزا کے دن کا تنہا مالک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس روز سارا زور اور سارا اختیار اسی کو حاصل ہو گا۔ اس کے آگے سب عاجز و سرفگندہ ہوں گے۔ کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اس کی اجازت کے بغیر زبان کھول سکے۔ سارے معاملات کا فیصلہ تنہا وہی کرے گا جس کو چاہے گا سزا دے گا، جس کو چاہے گا انعام دے گا۔ جیسا کہ فرمایا ہے

    ’اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذٍ لِّلّٰہِ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ‘ 56۔ حج (اس دن سارا اختیار اللہ ہی کو ہوگا، وہی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا)۔

    ’لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ‘ 16۔ غافر (آج کے دن بادشاہی کس کی ہے؟ صرف خدائے واحد و قہار کی)۔

    اس آیت کے تین لفظوں میں جو بات پوشیدہ ہے وہ اگر پھیلا دی جائے تو پوری بات یوں ہو گی کہ ایک دن جزا اور سزا کا آنے والا ہے۔ اس دن سارا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہو گا اور اس کے آگے کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہو گی۔ لیکن کلام کے دعائیہ اسلوب میں یہ بات اس طرح لپیٹ دی گئی ہے کہ دعا کرنے والا ایک ثابت شدہ حقیقت کی حیثیت سے ان سب باتوں کا اعتراف کر جاتا ہے۔ گویا خدا کی ربوبیت و رحمت اور اس کے عدل و انصاف کے ان آثار و دلائل کے بعد جو اس کائنات کے ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں، ایک ہٹ دھرم کے سوا کون ہے، جو اس حقیقت کے کسی جزو کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر سکے؟

    جاوید احمد غامدی جو روزِ جزا کا مالک ہے۔ (تفسیر)

    آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

    یعنی یہ اُس کی پروردگاری اور اُس کی رحمت کے دوام و استمرار کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دن اپنی عدالت برپا کرے ۔ چنانچہ وہ اُسے برپا کرے گا اور اِس طرح برپا کرے گا کہ اُس دن سارا زور و اختیار اُسی کو حاصل ہو گا ۔ سب کے سر اُس کے سامنے جھکے ہوں گے ، کسی کو یارا نہ ہو گا کہ اُس کے سامنے زبان کھول سکے ۔ہر معاملے کا فیصلہ وہ خود کرے گا اور کوئی اُس کے فیصلے پر کسی پہلو سے اثر انداز نہ ہو سکے گا۔

    روز جزا


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    روز جزا,

    You are not authorized to add tags on Quran pages/verses.



     Comment or Share

    Join our Mailing List