تدبر قرآن ۔ امیں احسن اصلاحی


البیان تدبر قرآن
Chapter 001 Verse 002 Chapter 001 Verse 003 Chapter 001 Verse 004 Chapter 001 Verse 005 Chapter 001 Verse 006 Chapter 001 Verse 007
Click on a verse to highight Commentary
شکر اللہ ہی کے لیے ہے، عالم کا پروردگار۔ سراسر رحمت، جس کی شفقت ابدی ہے۔ جو روزِ جزا کا مالک ہے۔ (پروردگار)، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت بخش دے۔ اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے عنایت فرمائی ہے، جو نہ مغضوب ہوئے ہیں، نہ راہ سے بھٹکے ہیں۔
اصل میں لفظ ’الْحَمْدُ‘ استعمال ہوا ہے ۔ عربی زبان میں یہ کسی کی خوبیوں اور کمالات کے اعتراف کے لیے بولا جاتا ہے ۔ پھر اِن خوبیوں اور کمالات کا فیض اگرحمد کرنے والے کو بھی پہنچ رہا ہو تو اِس میں شکر کا مفہوم آپ سے آپ شامل ہو جاتاہے ۔ چنانچہ سورۂ اعراف (۷) آیت ۴۳، سورۂ یونس (۱۰) آیت ۱۰ اور سورۂ ابراہیم (۱۴) آیت ۳۹ میں اِس کے نظائر سے واضح ہوتا ہے کہ ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ کی ترکیب میں یہ بالعموم اُسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے ہم لفظ شکر سے ادا کرتے ہیں۔ اِس سورہ میں ، اگر غور کیجیے تو یہ اُس جذبۂ شکر و سپاس کی تعبیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی عالم گیر ربوبیت اور بے پایاں رحمت کے مشاہدے اور قیامت میں اُس کی ہمہ گیر دینونت کے بارے میں انبیا علیہم السلام کی تذکیر سے پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہیے ۔ اللہ کا نام لفظ ’الٰہ‘ پر الف لام داخل کر کے بنا ہے، نزول قرآن سے پہلے عرب جاہلیت میں بھی یہ نام اُسی پروردگار کے لیے خاص تھا جو زمین و آسمان اور اُن کے مابین تمام مخلوقات کا خالق ہے ۔ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود اپنے دیوی دیوتاؤں میں سے کسی کو بھی اُس کے برابر قرار نہیں دیتے تھے۔ اصل میں ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ رب کے معنی اصلاً پالنے والے کے ہیں۔ پھر اِس مفہوم کے لازمی نتیجے کے طور پر مالک اور آقا کے معنی اِس لفظ میں پیدا ہوئے اور اردو کے لفظ پروردگار کی طرح اِس پر ایسا غلبہ حاصل کرلیا کہ پرورش کرنے والے کے معنی میں اِس کا استعمال عربی زبان میں باقی نہیں رہا ۔ سورہ کی ابتدا جس جذبۂ شکر کی تعبیر سے ہوئی ہے ، یہ ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ ا ور اِس کے بعد کی صفات اُس کی دلیل ہیں جو استدلال کے طریقے پر نہیں، بلکہ ایک بدیہی حقیقت کے اعتراف و اقرار کے اسلوب میں بیان ہوئی ہیں ۔ یعنی شکر اُس اللہ کے لیے ہے جو پوری کائنات کا مالک ہے ۔ ہم اُس کی مخلوق ہیں ۔ چنانچہ وہی ہمارا بھی مالک ہے ۔ہم دنیا میں قدم نہیں رکھتے کہ ہماری پرورش، نگہداشت اور تربیت کا پورا سامان اُس مالک کی طرف سے بالکل تیار موجود ہوتا ہے ۔پھر جب تک ہم زندہ رہتے ہیں ،صبح و شام اِس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج ،چاند، ابروہوا، غرض یہ کہ کائنات کے سب چھوٹے بڑے عناصر ہماری ہی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اِس لیے سرگرم عمل ہیں کہ اُن کی باگ ایک ایسی ہستی کے ہاتھ میں ہے جو اُن کے دائرۂ عمل اور اُن کی غایت اور مقصود سے اُنھیں سرمو انحراف کی اجازت نہیں دیتی۔ ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ یہاں اِسی حقیقت کی تعبیر ہے۔

اصل میں ’رَحْمٰن‘ اور ’رَحِیْم‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ دونوں اگرچہ رحمت ہی سے صفت کے صیغے ہیں ، لیکن معنی کے لحاظ سے دیکھیے تو اِن میں واضح فرق ہے۔استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن ‘‘میں اِس فرق کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اسم ’رحمٰن‘، ’غضبان‘ اور ’سکران‘ کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ، اوراسم ’رحیم‘، ’علیم‘ اور ’کریم‘ کے وزن پر صفت کا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’رحیم‘ کے مقابل میں ’رحمٰن‘ میں زیادہ مبالغہ ہے، اِس وجہ سے ’رحمٰن‘ کے بعد ’رحیم‘ کا لفظ اُن کے خیال میں ایک زائد لفظ ہے جس کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی، لیکن یہ تاکید مزید کے طور پر آ گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ عربی زبان کے استعمالات کے لحاظ سے ’فعلان‘ کا وزن جوش و خروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے اور ’فعیل‘ کا وزن دوام و استمرار اور پائداری و استواری پر۔ اِس وجہ سے اِن دونوں صفتوں میں سے کوئی صفت بھی براے بیت نہیں ہے، بلکہ اِن میں سے ایک خدا کی رحمت کے جوش و خروش کو ظاہر کر رہی ہے، دوسری اُس کے دوام و تسلسل کو ۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ خدا کی رحمت اِس خلق پر ہے بھی اِسی نوعیت سے ۔ اُس میں جوش ہی جوش نہیں ہے ، بلکہ پائداری اور استقلال بھی ہے ۔اُس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جوش میں دنیا پیداتو کر ڈالی ہو ،لیکن پیدا کر کے پھر اُس کی خبر گیری اور نگہداشت سے غافل ہو گیا ہو،بلکہ اُس کو پیدا کرنے کے بعد وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اُس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے ۔بندہ جب بھی اُسے پکارتا ہے ،وہ اُس کی پکار سنتا ہے اور اُس کی دعاؤں اور التجاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے ،پھر اُس کی رحمتیں اِسی چند روزہ زندگی ہی تک محدود نہیں ہیں ،بلکہ جو لوگ اُس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے ، اُن پر اُس کی رحمت ایک ایسی ابدی اور لازوال زندگی میں بھی ہو گی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے ۔غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ ساری حقیقت اُس وقت تک ظاہر نہیں ہو سکتی ،جب تک یہ دونوں لفظ مل کر اُس کو ظاہر نہ کریں ۔‘‘ (۱/ ۴۸) ’رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کے بعد یہ دونوں صفات جس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں ،وہ یہ ہے کہ جس پروردگار نے عالم میں ربوبیت کا یہ اہتمام فرمایا ہے ،اُس کے بارے میں یہ بات اگر نہیں کہی جا سکتی اور یقیناً نہیں کہی جا سکتی کہ اُس کی کوئی ذاتی غرض اِس اہتمام سے وابستہ ہے یا وہ اپنی سلطنت کے قیام و بقا کے لیے اِس کا محتاج ہے یا کسی کا کوئی حق اُس پر قائم ہوتا ہے جسے ادا کرنے کے لیے یہ اہتمام اُسے کرنا پڑا ہے تو اِس کی وجہ پھر یہی ہو سکتی ہے کہ وہ رحمن و رحیم ہے ۔اُس کی رحمت کا جوش ہے کہ اُس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور اِس رحمت کا دوام و استمرار ہے کہ اُس کا فیضان برابر ہمیں پہنچ رہا ہے۔  

یعنی یہ اُس کی پروردگاری اور اُس کی رحمت کے دوام و استمرار کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دن اپنی عدالت برپا کرے ۔ چنانچہ وہ اُسے برپا کرے گا اور اِس طرح برپا کرے گا کہ اُس دن سارا زور و اختیار اُسی کو حاصل ہو گا ۔ سب کے سر اُس کے سامنے جھکے ہوں گے ، کسی کو یارا نہ ہو گا کہ اُس کے سامنے زبان کھول سکے ۔ہر معاملے کا فیصلہ وہ خود کرے گا اور کوئی اُس کے فیصلے پر کسی پہلو سے اثر انداز نہ ہو سکے گا۔

عبادت کا لفظ عربی زبان میں اصلاً خضوع اور تذلل کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں یہ اُس خضوع و خشوع کے لیے خاص ہو گیا ہے جو بندہ اپنے خداوند کے لیے ظاہر کرتا ہے۔ اِس کے ظہور کی اصل صورت پرستش ہی ہے ،لیکن انسان چونکہ اِس دنیا میں اپنا ایک عملی وجود بھی رکھتا ہے ، اِس وجہ سے اِس ظہور سے آگے بڑھ کر یہ عبادت انسان کے اِس عملی وجود سے بھی لازماً متعلق ہوتی ہے اور اِس طرح پرستش کے ساتھ اطاعت کو بھی شامل ہو جاتی ہے ۔اُس وقت یہ انسان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اُس کا باطن جس ہستی کے سامنے جھکا ہوا ہے ،اُس کا ظاہر بھی اُس کے سامنے جھک جائے ۔ اُس نے اپنے آپ کو اندرونی طور پر جس کے حوالے کر دیا ہے ، اُس کے خارج میں بھی اُس کا حکم جاری ہو جائے۔ یہاں تک کہ اُس کی زندگی کا کوئی پہلو اِس سے مستثنیٰ نہ رہے۔ یہی عبادت ہے جسے شرک کی ہر آلایش سے پاک کر کے اللہ ہی کے لیے خاص کرنے کا اقرار اِس آیت میں کیا گیا ہے ۔ چنانچہ اِس میں صرف اتنی بات نہیں کہی گئی کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ، بلکہ پورے زور کے ساتھ اِس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے اورتجھی سے مدد چاہتے ہیں ۔اِس اعتراف و اقرار کے بعد ظاہر ہے کہ نہ بندے کے پاس کسی کو دینے کے لیے کچھ رہا ہے اور نہ کسی سے کچھ مانگنے کی کوئی گنجایش اُس کے لیے باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ خاص عبادت کے معاملے میں بھی اور زندگی کے دوسرے تمام معاملات میں بھی وہ اللہ ہی سے مدد کی درخواست کرتا ہے۔ سورہ کی ابتدا جس جذبۂ شکر کے اظہار سے ہوئی ہے ،غور کیجیے تو یہ اُس کا لازمی نتیجہ ہے جو اِس اعتراف و اقرار کی صورت میں بندے کی زبان پر جاری ہو گیا ہے۔

اصل الفاظ ہیں: ’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘۔ اِن میں الف لام عہد کا ہے، یعنی وہ سیدھی راہ جس کی وضاحت آگے کی آیت میں کی گئی ہے۔ آیت میں ’اِھْدِنَا‘، ’الی‘ کے بغیر آیا ہے ۔چنانچہ عربیت کی رو سے اب اِس کا مفہوم صرف اِسی قدر نہیں رہا کہ ہمیں سیدھی راہ دکھا ،بلکہ اِس سے بہت کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ یعنی اِس پر ہمارے دلوں کو مطمئن کر دے۔اِس پر چلنے کا شوق عطا فرما، اِس پر ثبات و استقامت بخش دے۔ اِس کے نشیب و فراز میں ہماری رہنمائی کر اور مرتے دم تک اِس پر اِسی طرح چلتے رہنے کی توفیق عنایت فرما دے۔

یعنی اُن لوگوں کی راہ جنھیں تو نے اپنی ہدایت سے نوازا اور اُنھوں نے پورے دل اور پوری جان کے ساتھ اِس طرح اُسے قبول کیا کہ تیری نعمت ہر لحاظ سے اُن پر پوری ہو گئی ۔ سورۂ نساء (۴) آیت ۶۹ میں وضاحت ہے کہ اِس سے مراد انبیا و صدیقین اور شہداوصالحین کی مقدس جماعت ہے ۔ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنی سرکشی کے باعث اِس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا یا قبول کیا تو دل کی آمادگی سے قبول نہیں کیا اور ہمیشہ اِس سے انحراف پر مصر رہے ۔خدا کے جن بندوں نے اُن کی اصلاح کرنا چاہی، اُنھیں جھٹلایا۔ یہاں تک کہ اُن میں سے بعض کو اذیتیں دیں اور بعض کو قتل کر دیا۔ چنانچہ اپنے اِن جرائم کی پاداش میں وہ خدا کے غضب کے مستحق ٹھیرے۔ اِس میں اشارہ یہود کی طرف ہے جن پر آگے سورۂ بقرہ میں اتمام حجت کیا گیا ہے۔ یعنی جنھوں نے دین کا چہرہ اپنی بدعتوں اور ضلالتوں سے اِس طرح مسخ کر دیا کہ اب خود بھی اُسے پہچاننے سے قاصر ہیں۔ اِس میں اشارہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے پیرووں کی طرف ہے جن پر آگے سورۂ آل عمران میں اتمام حجت کیا گیا ہے۔