تدبر قرآن ۔ امیں احسن اصلاحی


البیان تدبر قرآن
Chapter 001 Verse 001
Click on a verse to highight Commentary
اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔
یہ آیت سورۂ توبہ کے سوا قرآن مجید کی ہر سورہ کے شروع میں بالکل اُسی طرح آئی ہے، جس طرح یہاں ہے ۔ لہٰذا یہ قرآن کی ایک آیت تو یقیناً ہے اور اِس کی سورتوں کے شروع میں اِسی طرح نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے لکھی گئی ہے ،لیکن اپنے اِس محل میں سورۂ فاتحہ سمیت کسی سورہ کی بھی آیت نہیں ہے، بلکہ ہر جگہ سورہ سے الگ اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے ۔ ’إقرأہ علی الناس‘ کا مفہوم اِس میں عربیت کی رو سے مقدر ہے ، یعنی اللہ، رحمن و رحیم کے نام سے یہ قرآن لوگوں کو پڑھ کر سناؤ، اے پیغمبر——چنانچہ اِس لحاظ سے دیکھیے تو اِس میں ’ب‘ گویا سند کے مفہوم میں ہے اور یہ قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تورات کی اُس پیشین گوئی کا ظہور ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ خدا کا کلام خود اُسی کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔ استثنا میں ہے: ’’میں اُن کے لیے ، اُنھی کے بھائیوں میں سے ،تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اُسے حکم دوں گا ، وہی وہ اُن سے کہے گا ۔ اور جو کوئی میری اُن باتوں کو، جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا ، نہ سنے تو میں اُن کا حساب اُس سے لے لوں گا۔‘‘ (۱۸: ۱۸۔۱۹)