Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • مریم (Mary)

    98 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سورۂ کہف کی مثنیٰ یا بالفاظ دیگر اس کی توام سورہ ہے۔ ان دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ وہی مضمون جو سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے اس میں بھی بیان ہوا ہے۔ لیکن طریق استدلال اور نہج بیان میں فرق ہے۔ اس میں حضرت آدم، نوح اور ابراہیم علیہم السلام کی نسل میں پیدا ہونے والے انبیائے اولوالعزم کے متعلق یہ بات بتائی گئی ہے کہ ان کی دعوت، توحید کی دعوت تھی۔ انھوں نے نماز و زکوٰۃ کا حکم دیا لیکن ان کے پیرو شرک میں مبتلا ہوئے اور نماز و زکوٰۃ ضائع کر کے بدعات و شہوات میں پڑ گئے۔ اور اب جب کہ ان کو ان کے اصل دین کی دعوت دی جا رہی ہے تو اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے اور انجام کار کی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ آخر میں مخالفین کی گمراہی کی اصل علت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے مقابل میں اپنی دنیوی کامیابیوں کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے ان کے لیے ڈھیل ہے کہ خدا کی حجت ان پر پوری ہو جائے اور جب وہ پکڑے جائیں تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
    اس میں حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہما السلام کا ذکر خاص طور پر نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم پچھلی سورہ میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس دور میں یہود کی طرح نصاریٰ نے بھی درپردہ قریش کی پشت پناہی شروع کر دی تھی۔ اہل کتاب کی اس پشت پناہی سے قریش کو بڑی طاقت حاصل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب امی ہونے کے سبب سے مذہبی معاملات میں اہل کتاب سے ایک قسم کا حسن ظن رکھتے تھے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ اہل کتاب بھی انہی کے ہم خیال ہیں تو اس سے ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا۔ قرآن نے اہل کتاب کے اس اثر کو باطل کرنے کے لیے ان کی حقیقت واضح کی۔ چنانچہ پیچھے سورۂ بنی اسرائیل میں یہود کا بالکل بے بنیاد ہونا واضح کیا ہے۔ اور اس سورہ میں بالکل اسی انداز میں نصاریٰ کی بے ثباتی دکھائی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ قریش پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے وہ بھلا حق و باطل کے اس معرکے میں ان کے لیے کیا سہارا بن سکیں گے۔

  • مریم (Mary)

    98 آیات | مکی

    الکہف - مریم

    ۱۸ - ۱۹

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔

    پہلی سورہ ۔۔۔ الکہف ۔۔۔ میں اِس کے حقائق اُن واقعات سے مبرہن کیے گئے ہیں جن کے بارے میں قریش مکہ نے اہل کتاب، بالخصوص نصاریٰ کے القا کیے ہوئے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتحان کی غرض سے آپ کے سامنے پیش کیے ہیں۔

    دوسری سورہ ۔۔۔ مریم ۔۔۔ میں اِن القا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے خود اِن کے دین کی حقیقت پوری طرح واضح کر دی ہے تاکہ قریش کو متنبہ کیا جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے، اگر اُن کی شہ پر خدا کے پیغمبر کی ناقدری کرو گے تو اندازہ کر لو کہ کتنی بڑی نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلو گے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 019 Verse 001 Chapter 019 Verse 002 Chapter 019 Verse 003 Chapter 019 Verse 004 Chapter 019 Verse 005 Chapter 019 Verse 006 Chapter 019 Verse 007 Chapter 019 Verse 008 Chapter 019 Verse 009 Chapter 019 Verse 010 Chapter 019 Verse 011 Chapter 019 Verse 012 Chapter 019 Verse 013 Chapter 019 Verse 014 Chapter 019 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    کٓھٰیٰعٓصٓ۔
    یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ ان حروف پر مفصل بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں دیکھیے۔
    یہ تیرے رب کے اس فضل کی یاددہانی ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کیا۔
    حضرت زکریاؑ کا مرتبۂ خاص: ’ذکر‘ یہاں اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں آگے حضرت مریمؑ سے لے کر حضرت ادریسؑ تک تمام انبیاء کا ذکر بصیغہ ’اذکر‘ ہوا ہے۔ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہے کہ نادانوں نے تو یہ تمام سرگزشتیں فراموش کر دیں، یہ تمہیں سنائی جا رہی ہیں تاکہ تم بھی ان سے بہرہ مند ہو اور دوسروں کو بھی یاددہانی کرو کہ وہ بھی ان سے بہرہ مند ہوں۔ آیت میں ’عَبْدَہٗ‘ کا لفظ حضرت زکریا کے اختصاص پر دلیل ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ خود ’اپنا بندہ‘ کہہ کر یاد فرمائے اس کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے! بولائے تو کہ گر بندۂ خویشم خوانی زسر خواجگی کون و مکاں بر خیزم  
    جب اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔
    اولاد کے لیے حضرت زکریاؑ کی دعا اور انداز دعا: یہ حضرت زکریاؑ کی دعا ہے جو انھوں نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ یہ دعا انھوں نے ہیکل میں، جیسا کہ آگے اشارہ آ رہا ہے، غالباً بحالت اعتکاف کی ہے۔ فرمایا کہ اس نے چپکے چپکے اپنے رب کو پکارا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا راز و نیاز کے انداز میں ہونا اس کے اولین آداب میں سے بھی ہے اور اس کی قبولیت کے لیے بہترین سفارش بھی۔ درحقیقت یہی دعائیں ہوتی ہیں جو ریا اور نمائش سے بھی پاک ہوتی ہیں اور انہی کے اندر بندہ اپنے دل کے اصلی راز بھی کھولتا ہے۔ اس وجہ سے دعا کے اس ادب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ صرف اجتماعی دعائیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔
    اس نے دعا کی اے میرے پروردگار! میرے اندر سے میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں اورمیرا سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا اور اے میرے رب میں تجھے پکار کے کبھی محروم نہیں رہا۔
    مؤثر تمہید: ’وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ‘ کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ میرا ظاہری جسم تو درکنار میرے تو اندر کی ہڈیاں تک کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ یہ حضرت زکریاؑ نے عرض مدعا سے پہلے اس کے لیے تمہید استوار کی ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ایسی مؤثر تمہید استوار کی ہے کہ اگر سوء ادب پر محمول نہ کیجیے تو عرض کروں کہ یہ خدا کی رحمت پر کمنڈ ڈال دینے والی تمہید ہے۔ حضرت زکریاؑ نے ایک تو اپنے ضعف و ناتوانی کو سفارش میں پیش کیا، دوسرے اپنے ساتھ زندگی بھر اپنے رب کے معاملے کو۔ فرماتے ہیں کہ اے رب میں کبھی تجھے پکار کے محروم نہیں رہا۔ غور کیجیے کہ جو سائل جس در سے کبھی محروم نہیں لوٹا ہے وہ اس پیری و ناتوانی میں، جب کہ اس کی ہڈیوں تک کی گود خشک ہو چکی ہے اس دروازے سے کس طرح محروم لوٹایا جائے گا۔
    میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو تُو اپنے پاس سے مجھے ایک وارث بخش۔
    دینی وراثت کے حامل کے لیے دعا: ’مَوَالِی‘ سے مراد کسی شخص کے بنی اعمام، بھائی بند اور اس کے نسبتی اعزہ و اقرباء ہوتے ہیں۔ حضرت زکریاؑ کے اقرباء، معلوم ہوتا ہے کہ اچھے لوگ نہیں تھے، ان کی طرف سے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ، ان کی وفات کے بعد، ان کی اور آل یعقوبؑ کی ان دینی روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو اس پاکیزہ خاندان کا اصل سرمایۂ امتیاز ہیں۔ انھیں فکر تھی کہ خاندان میں کوئی ایسا شخص اٹھے جو اس خاندان کے مشن کو زندہ رکھ سکے اور ان روایات کا حامل ہو جو آل یعقوب کا اصلی ورثہ ہیں۔ اگرچہ خود پیری و ناتوانی کے آخری مرحلہ میں داخل ہو چکے تھے اور بیوی بانجھ تھیں، جہاں تک ظاہری اسباب و حالات کا تعلق ہے اس آرزو کے بر آنے کی کوئی توقع نہیں تھی، لیکن وہ اس رمز سے آگاہ تھے کہ اسباب و ذرائع خدا کے ہاتھ میں ہیں، خدا اسباب و ذرائع کا غلام نہیں ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے دعا فرمائی کہ اے رب اگرچہ اسباب ناپید ہیں لیکن تیرے اختیار میں سب کچھ ہے۔ تو خاص اپنے پاس سے مجھے ایک وارث عنایت فرما جو میری اور آل یعقوب کی دینی وراثت کو سنبھال سکے اور اے رب اسے پسندیدہ اخلاق بنائیے۔ وہ ان کمزوریوں سے پاک ہو جو اب اس خاندان میں در آئی ہیں۔
    جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کی روایات کا بھی۔ اور اے رب! اس کو پسندیدہ اخلاق بنائیو۔
    دینی وراثت کے حامل کے لیے دعا: ’مَوَالِی‘ سے مراد کسی شخص کے بنی اعمام، بھائی بند اور اس کے نسبتی اعزہ و اقرباء ہوتے ہیں۔ حضرت زکریاؑ کے اقرباء، معلوم ہوتا ہے کہ اچھے لوگ نہیں تھے، ان کی طرف سے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ، ان کی وفات کے بعد، ان کی اور آل یعقوبؑ کی ان دینی روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو اس پاکیزہ خاندان کا اصل سرمایۂ امتیاز ہیں۔ انھیں فکر تھی کہ خاندان میں کوئی ایسا شخص اٹھے جو اس خاندان کے مشن کو زندہ رکھ سکے اور ان روایات کا حامل ہو جو آل یعقوب کا اصلی ورثہ ہیں۔ اگرچہ خود پیری و ناتوانی کے آخری مرحلہ میں داخل ہو چکے تھے اور بیوی بانجھ تھیں، جہاں تک ظاہری اسباب و حالات کا تعلق ہے اس آرزو کے بر آنے کی کوئی توقع نہیں تھی، لیکن وہ اس رمز سے آگاہ تھے کہ اسباب و ذرائع خدا کے ہاتھ میں ہیں، خدا اسباب و ذرائع کا غلام نہیں ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے دعا فرمائی کہ اے رب اگرچہ اسباب ناپید ہیں لیکن تیرے اختیار میں سب کچھ ہے۔ تو خاص اپنے پاس سے مجھے ایک وارث عنایت فرما جو میری اور آل یعقوب کی دینی وراثت کو سنبھال سکے اور اے رب اسے پسندیدہ اخلاق بنائیے۔ وہ ان کمزوریوں سے پاک ہو جو اب اس خاندان میں در آئی ہیں۔
    اے زکریا ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی نظیر نہیں بنایا۔
    سچی دیا اور اس کی قبولیت: جب دعا صحیح وقت پر، صحیح مقصد کے لیے، سچے جذبے کے ساتھ اور صحیح الفاظ میں کی جائے تو اس میں اور اس کی قبولیت میں کوئی فاصلہ نہیں رہ جاتا۔ اس کے لیے اسباب کے تمام پردے اٹھا دیے جاتے ہیں۔ ہر طرف تاریکی اور مایوسی ہوتی ہے، اسباب و حالات بالکل نامساعد نظر آتے ہیں، کسی طرف سے بھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی لیکن بندہ جب اس امید کے ساتھ اپنے آپ کو اپنے رب کے دروازے پر ڈال دیتا ہے کہ بہرحال میرے لیے یہی دروازہ ہے، میں نے جو کچھ پایا ہے یہیں سے پایا ہے اور جو کچھ پاؤں گا یہیں سے پاؤں گا تو بالآخر اس کے لیے خدا کی رحمت اس گوشہ سے نمودار ہوتی ہے جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا اور اس شان سے نمودار ہوتی ہے کہ اسباب و ظواہر کے غلام اس کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ حضرت زکریاؑ کی یہ دعا بھی ٹھیک مقصد کے لیے، ٹھیک وقت پر اور سچے جذبہ کے ساتھ تھی اس وجہ سے الفاظ زبان سے نکلے نہیں کہ اس کی قبولیت کی بشارت نازل ہو گئی۔ فرمایا کہ اے زکریا ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ’لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا‘ ’سمی‘ کے معنی نظیر و مثال کے ہیں۔ اس سورہ میں آگے آیت ۶۵ میں ہے ’ھَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا‘ کیا تم خدا کی کسی نظیر سے آشنا ہو۔ یہ حضرت زکریاؑ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ ہر چند تم بوڑھے ہو اور تمہاری بیوی بانجھ ہے، بوڑھے مرد اور بانجھ بیوی کے ہاں اولاد کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے لیکن ہماری مرضی یہی ہے کہ ہم تمہیں ایسی ہی بے نظیر اولاد دیں۔
    اس نے کہا اے میرے خداوند! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا، میری بیوی تو بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے کی بے بسی کو پہنچ چکا ہوں!
    ’عِتی‘ کے معنی ہیں کسی شے کا حد سے متجاوز ہو جانا، قابو اور اختیار سے باہر نکل جانا ’وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا‘ یعنی اب میں بڑھاپے کی اس حد کو پہنچ چکا ہوں کہ مجھے اپنے اعضا و جوارح اور اعصاب پر قابو نہیں رہ گیا ہے۔ سوال مزید اطمینان کے لیے: یہ حضرت زکریاؑ نے اس بشارت کے باب میں مزید اطمینان حاصل کرنے کے لیے اپنے اس تردد کا اظہار فرمایا جو ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اس بشارت کے ظہور سے متعلق ان کو لاحق ہوا۔ فرمایا کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود اپنے بڑھاپے کی اس حد کو پہنچ چکا ہوں کہ مجھے اپنے اعصاب پر قابو نہیں رہ گیا ہے، ایسی حالت میں میرے ہاں اولاد کس طرح ہو گی۔
    فرمایا، ایسا ہی ہو گا تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے۔ میں نے اس سے پہلے تم کو پیدا کیا درآنحالیکہ تم کچھ بھی نہ تھے۔
    قرینہ دلیل ہے کہ یہ جواب ہاتف غیب کی زبان سے ہے۔ ’کَذٰلِکَ‘ کی خبر کا حذف زور اور تاکید پر دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے رب کا فیصلہ یہی ہے، بس یوں ہی ہو گا۔ جس خدا نے عدم محض سے انسان کو وجود بخشا اس کے لیے بوڑھے باپ اور بانجھ ماں سے اولاد پیدا کر دینا کیا مشکل ہے۔
    اس نے کہا، اے میرے خداوند! میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دیجیے۔ فرمایا، تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین شب و روز لوگوں سے بات نہ کر سکو گے درآنحالیکہ تم بالکل تندرست ہو گے۔
    اطمینان قلب کے لیے ایک اور درخواست: یہ حضرت زکریاؑ نے اپنے اطمینان قلب کے لیے ایک اور درخواست پیش کر دی۔ یہ بشارت ان کی دلی آرزو کا مظہر اور ان کے لیے بڑی اہمیت رکھنے والی تھی اس وجہ سے انھوں نے چاہا کہ ہر پہلو سے اس پر شرح صدر ہو جائے۔ حضرت زکریاؑ نے یہ بشارت ہاتف غیب سے سنی تھی اس وجہ سے انھیں یہ خیال ہو سکتا تھا کہ ممکن ہے یہ واہمہ کی خلاقی ہو اور اپنے ہی گنبد دل کی صدا اس شکل میں سنائی دی ہو۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ ان کو کوئی ایسی نشانی دکھا دی جائے جس سے انھیں اطمینان ہو جائے کہ یہ بشارت رب ہی کی طرف سے ملی ہے۔ اس میں نفس یا شیطان کو کوئی دخل نہیں ہے۔ اس قسم کی درخواستیں بعض دوسرے انبیاؑء کی بھی قرآن میں مذکور ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام رویا اور ہاتف غیب کی باتیں قبول کرنے کے معاملے میں بڑی احتیاط برتتے تھے۔ اس سے خدانخواستہ ان کے ایمان کے بارے میں کوئی شبہ کرنے کی گنجائش نہیں نکلتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریاؑ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور اس بشارت کے خدائی بشارت ہونے کی نشانی یہ مقرر فرما دی کہ تم تین شبانہ روز مسلسل تسبیح و تہلیل تو کر سکو گے لیکن کوئی اور لفظ زبان سے نہ نکال سکو گے۔ ظاہر ہے کہ ایک آدمی پر ایسی حالت کا طاری ہو جانا کہ وہ ذکر الٰہی تو کر سکے لیکن کوئی اور کلمہ زبان سے نہ نکال سکے، کوئی شیطانی حالت نہیں ہو سکتی، یہ ہو سکتی ہے تو رحمانی حالت ہی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ یہ حالت حضرت زکریاؑ پر طاری ہو گئی، وہ محراب عبادت سے نکل کر لوگوں میں آئے تو وہ کچھ بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اشارے سے انھوں نے لوگوں کو تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔ بعض لوگوں نے ’اَلَّا تُکَلِّمَ‘ کو خبر کے بجائے نہی کے معنی میں لیا ہے۔ آیت کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ حضرت زکریاؑ نے نشانی مانگی تو ان کو حکم ہوا کہ تین رات لگاتار تم کسی سے بات نہ کرو۔ جن حضرات نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے انھوں نے نہ تو اس بات پر غور کرنے کی زحمت اٹھائی کہ حضرت زکریاؑ نے کس چیز کی نشانی مانگی تھی اور نہ اس مسئلہ پر غور فرمایا کہ حضرت زکریاؑ کو تین شبانہ روز خاموش رہنے کے حکم میں نشانی ہونے کا کیا پہلو نکلا! ’سَوِیّ‘ کا مفہوم: ’سَوِیّ‘ مرض اور عیب سے بری کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ تم تین شبانہ روز کسی سے بات تو نہ کر سکو گے لیکن یہ حالت کسی مرض یا خرابی کا نتیجہ نہیں ہو گی بلکہ ہرگونہ صحت کے ساتھ محض اللہ کے حکم سے بطور ایک نشانی کے ہو گی جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کے ید بیضاء کی نشانی سے متعلق فرمایا ہے کہ ’تَخْرُجُ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْءٍ‘ اسی طرح یہاں لفظ ’سَوِیًّا‘ بطور ایک بدرقہ کے ہے۔ لگاتار یا مسلسل کے معنی میں اس کا استعمال معروف نہیں ہے۔ آگے اسی سورہ میں یہ لفظ آیت ۱۷ میں بھی آیا ہے وہاں یہ صریحاً بھلے چنگے، ہٹے کٹے، تندرست اور مستوی القامت کے معنی میں ہے۔ لیالی، شب و روز، دونوں پر حاوی ہے: ’لیالی‘ کا لفظ یہاں شب و روز دونوں پر حاوی ہے۔ سورۂ آل عمران میں یہی مضمون لفظ ’ایام‘ سے بیان ہوا ہے۔ ایام کا اطلاق بھی شب و روز دونوں پر ہوتا ہے۔ عربی میں یہ استعمالات معروف ہیں۔
    پس وہ محراب عبادت سے نکل کر اپنے لوگوں کے پاس آیا اور ان سے اشارہ سے کہا کہ صبح و شام خدا کی تسبیح کرو۔
    تسبیح کی ہدایت کے اندر رمز: ’محراب‘ سے مراد معبد کا کوئی حجرہ یا برآمدہ ہے۔ آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت زکریاؑ اس دعا کے وقت ہیکل ہی کے کسی گوشہ میں معتکف تھے۔ سورۂ آل عمران سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ نماز میں کھڑے تھے کہ یہ بشارت ان پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد وہ اپنے لوگوں میں آئے اور اشارے سے ان کو برابر تسبیح و استغفار میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔ اس اشارے کے اندر یہ بات مضمر تھی کہ وہ قدرت کے کسی بہت بڑے راز کے امین ہیں جس کے اظہار کا وقت ابھی نہیں آیا ہے! لوگ خدا کی حمد و تسبیح میں مشغول رہ کر اس کا انتظار کریں اور دیکھیں کہ پردۂ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔
    اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑو اور ہم نے اس کو بچپن ہی میں قوت فیصلہ عطا فرمائی۔
    ’کتاب‘ اور ’حکم‘ سے مراد: ’کتاب‘ سے مراد ظاہر ہے کہ تورات ہے۔ حضرت یحییٰ پر کوئی الگ کتاب نازل نہیں ہوئی۔ لفظ ’حکم‘ پر ہم آل عمران ۷۹ کے تحت مفصل بحث کر چکے ہیں۔ اس سے مراد حق و باطل میں امتیاز کی قوت و صلاحیت ہے۔ یہی قوت و صلاحیت تمام علم و حکمت کی بنیاد ہے۔ یہ صلاحیت عام حالات میں تو سنِ رشد کے بعد ابھرتی ہے اور چالیس سال کی عمر میں پختہ ہوتی ہے لیکن حضرت یحییٰؑ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ ان کو یہ دولت گراں مایہ بچپن ہی میں مل گئی۔ کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے کا مفہوم: یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت سے پہلے یہ مضمون محذوف ہے کہ بالآخر اللہ تعالیٰ کی بشارت کے مطابق حضرت یحییٰ ؑ کی ولادت ہوئی، وہ سن رشد کو پہنچے، اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور ان کو اپنی کتاب مضبوطی سے پکڑنے کی ہدایت فرمائی۔ ’کتاب کو مضبوطی سے پکڑو‘ کا مفہوم یہ ہے کہ شیطان اور اس کے اولیاء اس کتاب کے ابدی دشمن ہیں وہ تم کو اس کتاب سے برگشتہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دیں گے تو خبردار خوف یا طمع یا کسی چیز سے بھی ڈرا کر یا ورغلا کر تم کو وہ اس سے ہٹانے نہ پائیں۔ چنانچہ حضرت یحییٰ ؑ کے متعلق معلوم ہے کہ اس کتاب کی خاطر انھوں نے سر کٹوا دیا۔
    اور خاص اپنے پاس سے سوز و گداز اور پاکیزگی۔ اور وہ نہایت پرہیزگار تھا۔
    ’حنان‘ کا مفہوم: ’حنان‘ کے معنی محبت، ذوق و شوق اور سوز و گداز کے ہیں۔ یہ لفظ نہایت معروف و متداول الفاظ میں سے ہے اس وجہ سے تعجب ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کی طرف، بعض لوگوں نے یہ بات، کس طرح منسوب کر دی کہ انھوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے معنی معلوم نہیں۔ قلب و روح کی اصل زندگی: یہ سوزوگداز اور یہ محبت ہی انسان کے قلب و روح کی زندگی کی اصلی علامت ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان انسان نہیں بلکہ پتھر کی ایک مورت ہے۔ اس سوز و گداز میں سے حضرت یحییٰؑ کو، جیسا کہ ’مِّنْ لَّدُنَّا‘ کے الفاظ سے واضح ہے، نہایت وافر حصہ ملا تھا۔ ان کے سوز و گداز اور جوش محبت الٰہی کا کچھ اندازہ کرنا ہو تو انجیلوں میں ان کے ارشادات پڑھیے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے اقوال کی حرارت آج بھی دلوں کو گرماتی اور روحوں کو تڑپاتی ہے۔ ’زکوٰۃ‘ کا مفہوم: ’حنان‘ کے بعد ان کی صفت میں ’زَکٰوۃ‘ کا لفظ آیا ہے۔ ’زَکٰوۃ‘ کے معنی پاکیزگی اور طہارت کے ہیں۔ اس طہارت سے مراد ظاہر اور باطن دونوں کی طہارت ہے۔ یہ درحقیقت ’حنان‘ ہی کا پرتو ہے۔ گداز باطنی موجود ہو تو نہ باطن میں کسی اخلاقی و عقائدی آلائش کا اثر باقی رہتا ہے نہ ظاہر میں۔ ’تقی‘ کا مفہوم: ’زَکٰوۃ‘ کے بعد ’تقی‘ کا لفظ ہے۔ پچھلی دونوں صفتوں کا تعلق زیادہ تر انسان کے باطن سے ہے اس لفظ میں ان کے ظاہری اعمال و اخلاق اور کردار کی تعریف ہے کہ نہایت ہی پرہیزگار اور متقی تھے۔ ان کی ساری زندگی ترک دنیا کی زندگی تھی۔ انھوں نے توبہ کی منادی اس زور و شور سے کی کہ اس سے دشت و جبل گونج اٹھے۔ ہیکل میں تقریر کرتے تو لوگوں کے دل دہل جاتے لیکن اس دنیا سے ان کا تعلق صرف دینے کے لیے تھا اس سے لیا انھوں نے کچھ بھی نہیں۔ جنگل کے شہد اور اس کی ٹڈیوں پر گزارہ کرتے۔ کمبل کی پوشاک سے تن ڈھانکتے اور جس سر کو چھپانے کے لیے اس دنیا میں کوئی چھت نہیں بنائی اس کو خدا کی کتاب کی خاطر کٹوا کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
    اور وہ اپنے والدین کا فرماں بردار تھا، سرکش و نافرمان نہ تھا۔
    ماں باپ کے ساتھ وفاداری: ’بَرَّام بِوَالِدَیۡہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا‘۔ یہ ماں باپ کے ساتھ ان کی وفاداری کا بیان ہے کہ باوجودیکہ وہ یہ سمجھ سکتے تھے کہ ان کی ولادت سے لے کر ان کی تعلیم و تربیت تک ہر چیز براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوئی ہے، وہ کسی چیز میں بھی اپنے ماں باپ کے محتاج نہیں ہوئے لیکن وہ اس قسم کی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے والدین کے نہایت وفادار اور اطاعت شعار رہے۔ وہ سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔
    اس پر سلامتی ہے جس روز وہ پیدا ہوا، جس دن وہ مرے گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
    ہر مرحلہ میں مبارک سلامت: یہ فرشتوں کی مبارک سلامت کا حوالہ ہے کہ یہ مرد حق دنیا میں جس دن آیا قدوسیوں نے اس دن مبارک و سلامت کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا، جس دن مرا اس دن بھی انھوں نے ’اَھْلًا وَسَھْلًا‘ کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور جس دن اٹھایا جائے گا اس دن بھی اسی نعرۂ تحیت کے ساتھ وہ اس کو خوش آمدید کہیں گے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس دنیا نے اس کے ساتھ جو کچھ کیا کیا، خدا کے ہاں ہر مرحلہ میں اس کے ساتھ جو معاملہ ہوا یا ہو گا وہ مبارک سلامت کا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List