Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الکھف (The Cave)

    110 آیات | مکی

    سورہ کا زمانۂ نزول، عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ کی طرح یہ سورہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب حق و باطل کی کش مکش اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ قریش اپنے تمام حربوں کے ساتھ قرآن کی دعوت کو مٹا دینے پر تل گئے تھے اور یہود و نصاریٰ نے بھی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، درپردہ قریش کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کر دی تھی کہ انہی کے ہاتھوں یہ دعوت اپنے مرکز ہی میں ختم ہو جائے، اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے خود انھیں میدان میں نہ اترنا پڑے۔
    ان حالات کے تقاضے سے اس سورہ میں چند باتیں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔
    ۱۔ قریش کو انذار و تنبیہ کہ وہ اپنی دنیوی کامیابیوں کے غرے میں ایک بدیہی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش نہ کریں۔ اب عذاب الٰہی ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے، اگر وہ اپنی رعونت سے باز نہ آئے تو وہ وقت دور نہیں ہے جب وہ اس عذاب کی زد میں آ جائیں گے۔
    ۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے مظلوم صحابہؓ کو صبر و عزیمت کی تلقین۔ آنے والے مراحل یعنی ہجرت وغیرہ کی طرف بعض لطیف اشارات، ان مراحل میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کو جو غیبی فتوحات حاصل ہونے والی ہیں ان کی بشارت۔
    ۳۔ جس طرح سابق سورہ ۔۔۔ بنی اسرائیل ۔۔۔ میں یہود کے چہرے سے نقاب الٹ دی گئی ہے اسی طرح اس سورہ اور اس کے بعد کی سورہ ۔۔۔ سورۂ مریم ۔۔۔ میں نصاریٰ کے چہرے سے نقاب الٹ دی گئی ہے اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے اگر ان کی شہ پر خدا کی اس نعمت کی ناقدری کرو گے جس سے اس نے تم کو سرفراز کرنا چاہا ہے تو یاد رکھو کہ پرائے شگون پر اپنی ناک کٹوا بیٹھو گے۔

  • الکھف (The Cave)

    110 آیات | مکی

    الکہف - مریم

    ۱۸ - ۱۹

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔

    پہلی سورہ ۔۔۔ الکہف ۔۔۔ میں اِس کے حقائق اُن واقعات سے مبرہن کیے گئے ہیں جن کے بارے میں قریش مکہ نے اہل کتاب، بالخصوص نصاریٰ کے القا کیے ہوئے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتحان کی غرض سے آپ کے سامنے پیش کیے ہیں۔

    دوسری سورہ ۔۔۔ مریم ۔۔۔ میں اِن القا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے خود اِن کے دین کی حقیقت پوری طرح واضح کر دی ہے تاکہ قریش کو متنبہ کیا جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے، اگر اُن کی شہ پر خدا کے پیغمبر کی ناقدری کرو گے تو اندازہ کر لو کہ کتنی بڑی نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلو گے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 018 Verse 001 Chapter 018 Verse 002 Chapter 018 Verse 003 Chapter 018 Verse 004 Chapter 018 Verse 005 Chapter 018 Verse 006 Chapter 018 Verse 007 Chapter 018 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    شکر کا سزاوار ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا۔
    ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ‘۔ سابق سورہ ۔ بنی اسرائیل ۔ جس مضمون پر ختم ہوئی تھی (ملاحظہ ہوں آیات ۱۰۵-۱۱۱) اسی مضمون سے اس سورہ کا آغاز فرمایا۔ قرآن کی صورت میں جو نعمت عظمیٰ اہل عرب پر نازل ہوئی تھی یہ اس کے حق کا اظہار ہے کہ یہ نعمت شکر کی موجب ہونی چاہیے نہ کہ کفر کی۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس کی ناقدری کریں اور اس کی تکذیب کے لیے نت نئے بہانے تلاش کریں۔ قرآن کی سنت: ’وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا‘ ’قَیِّمًا‘: یہ اس کتاب کی صفت ہے کہ اس کتاب میں خدا نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا ہے۔ نہ بیان کے اعتبار سے نہ معنی کے اعتبار سے۔ زبان اس کی عربی مبین ہے اور رہنمائی اس کی اس صراط مستقیم کی طرف ہے جس کے مستقیم ہونے کے دلائل عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور قرآن نے ان کو اتنے گوناگوں طریقوں سے بیان کر دیا ہے کہ کوئی عقل سے کام لینے والا ان کے سمجھنے سے قاصر نہیں رہ سکتا۔ صرف وہی ان سے محروم رہیں گے جوعقل سے کام نہیں لے رہے ہیں۔ قرآن کی یہی صفت سورۂ بنی اسرائیل میں بھی بیان ہوئی ہے: ’اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ‘ “بے شک یہ قرآن اس راستہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سیدھا ہے”۔  
    بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کر دے اور ایمان لانے والوں کو، جو نیک اعمال کر رہے ہیں، اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ ان کے لیے بہت اچھا اجر ہے۔
    قرآن کا مقصد: ’لِیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ یہ اس کتاب کے نازل کرنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ انکار کرنے والوں کے لیے انذار اور ایمان لانے والوں کے لیے بشارت ہے۔ پہلے ٹکڑے میں ’لِلْکَافِرِیْنَ‘ یا ’لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘ محذوف ہے۔ اس لیے کہ آگے والے ٹکڑے میں ’مُؤْمِنِیْنَ‘ موجود ہے جو تقابل کے اصول پر اس محذوف کو خود واضح کر رہا ہے۔ فعل ’یُنْذِرَ‘ کا فاعل اللہ بھی ہو سکتا ہے اور ’عبد‘ یعنی رسول بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ اللہ نے یہ کتاب خاص اپنے پاس سے اس لیے اتاری ہے کہ کافروں کو ایک عذاب شدید سے آگاہ و ہوشیار کر دے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ اللہ کا رسول لوگوں کو خدا کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب شدید سے متنبہ کر دے۔ پہلی صورت میں ’مِنْ لَّدُنْہُ‘ کا لفظ اہتمام و عنایت پر دلیل ہو گا کہ اس مقصد کے لیے خدا نے خاص اپنے پاس سے اور اپنی نگرانی میں انتظام فرمایا۔ دوسری صورت میں اس سے عذاب کی شدت کا اظہار ہو گا کہ یہ عذاب کوئی ایسا ویسا عذاب نہیں ہو گا بلکہ قہر الٰہی ہو گا جس سے بچانے والا کوئی نہیں بن سکے گا۔
    جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
    ’مَا کِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا‘: اس ’اجر حسن‘ میں ہمیشہ رہیں گے یعنی اس بہشت میں ہمیشہ رہیں گے جو اس ’اجر حسن‘ کے ثمرہ اور نتیجہ کے طور پر حاصل ہو گی۔ شے کو بول کر اس سے اس کے نتیجہ کومراد لینا عربیت کا ایک معروف اسلوب ہے جس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔
    اور ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد بنائی ہوئی ہے آگاہ کر دے۔
    یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے، یعنی خاص طور پر ان لوگوں کو آگاہ کر دے جو خدا کے لیے اولاد فرض کر کے ان کی عبادت میں لگے ہوئے اور ان کی شفاعت کے اعتماد پر خدا سے بالکل مستغنی ہو بیٹھے ہیں۔ اس سے مراد مشرکین عرب بھی ہیں اور نصاریٰ بھی۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور نصاریٰ حضرت مسیحؑ کو خدا کا بیٹا بنائے ہوئے تھے۔
    ان کو اس باب میں کوئی علم نہیں، نہ ان کو نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ نہایت ہی سنگین بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے جو وہ بک رہے ہیں۔
    مشرکین کی اندھی تقلید: علم سے مراد یہاں دلیل و برہان ہے۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کے بیٹے اور بیٹیاں فرض کر کے ان کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے انھوں نے یہ افسانہ محض اپنے جی سے گھڑا ہے۔ نہ خدا نے کہیں یہ بات کہی ہے اور نہ ان بوالفضولوں کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ یہ اپنے جن آباء و اجداد کی تقلید میں یہ حماقت کر رہے ہیں ان کے پاس بھی اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ محض جہالت سے انھوں نے یہ ضلالت اختیار کی اور یہ بھی جہالت ہی سے ان کی لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ بڑی ہی سنگین بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت و بہتان اور اس کی غیرت کو چیلنج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اپنی گستاخی سے باز نہ آئے تو عنقریب اپنا حشر دیکھیں گے۔
    تو شاید تم ان کے پیچھے اپنے تئیں غم سے ہلاک کر کے رہو گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔
    آنحضرت صلعم کو پرمحبت تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اور تسلی دینے کا انداز بہت پیارا ہے فرمایا کہ تم تو ان کے ایمان کے غم سے اس طرح گھلے جا رہے ہو کہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو ان کے پیچھے تم اپنے آپ کو ہلاک کر کے رہو گے! اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرض رسالت کی ادائیگی کا احساس کتنا شدید تھا۔ آپ دعوت کے کام کے لیے اپنے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ لیکن پھر بھی آپ کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ لوگ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو مبادا اس میں آپؐ کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ اس احساس کے باعث آپ کی مشقت اور آپ کے غم دونوں میں برابر اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت پرمحبت انداز میں ٹوکا کہ اپنی ذمہ داری کے احساس میں اس درجہ غلو صحیح نہیں ہے۔ یہ ناشکرے اور ناقدرے لوگ جو اس کتاب پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو یہ نہ سمجھو کہ اس کے سمجھنے میں ان کو کوئی دشواری پیش آ رہی ہے یا تمہاری طرف سے فرض دعوت کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہو رہی ہے بلکہ اس کا اصل سبب کچھ اور ہے۔
    روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے سنگار بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ ان میں اچھے عمل کرنے والا کون بنتا ہے۔
    منکرین کے انکار کا اصل سبب: یہ ان کے اعراض و انکار کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اس میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون اپنی عقل و تمیز سے کام لے کر آخرت کا طالب بنتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ کر اسی دنیا کا پرستار بن کر رہ جاتا ہے۔ اس امتحان کے تقاضے سے ہم نے اس دنیا کے چہرے پر حسن و زیبائی کا ایک پرفریب غازہ مل دیا ہے۔ اس کے مال و اولاد، اس کے کھیتوں کھلیانوں، اس کے باغوں اور چمنوں، اس کی کاروں اور کوٹھیوں، اس کے محلوں اور ایوانوں، اس کی صدارتوں اور وزارتوں میں بڑی کشش اور دل فریبی ہے۔ اس کی لذتیں نقد اور عاجل اور اس کی تلخیاں پس پردہ ہیں۔ اس کے مقابل میں آخرت کی تمام کامرانیاں نسیہ ہیں اور اس کے طالبوں کو اس کی خاطر بے شمار جانکاہ مصیبتیں نقد نقد اسی دنیا میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ یہ امتحان ایک سخت امتحان ہے۔ اس میں پورا اترنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس میں پورے وہی اتریں گے جن کی بصیرت اتنی گہری ہو کہ خواہ یہ دنیا ان کے سامنے کتنی ہی عشوہ گری کرے لیکن وہ اس عجوزۂ ہزار داماد کو اس کے ہر بھیس میں تاڑ جائیں اور کبھی اس کے عشق میں پھنس کر آخرت کے ابدی انعام کو قربان کرنے پر تیار نہ ہوں۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنی عقل و دل کی آنکھیں اندھی کر لی ہیں اور اپنی خواہشوں کے پرستار بن کے رہ گئے ہیں وہ اس نقد کو آخرت کے نسیہ کے لیے قربان کرنے پر تیار نہیں ہو سکتے اگرچہ اس کے حق ہونے پر اس کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ ہے۔
    اور ہم بالآخر اس پر جو کچھ ہے سب کو چٹیل میدان کر کے رہیں گے۔
    اس دنیا کا انجام: ’جُرُز‘ بے آب و گیاہ زمین کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بے وقوف لوگ اس زمین کی جن چیزوں پر ریجھے ہوئے ہیں ایک وقت آئے گا کہ ہم ان ساری چیزوں کو مٹا کر اس کو چٹیل اور بے آب و گیاہ میدان کی طرح کر دیں گے۔ یہی مضمون آگے آیات ۴۶-۴۸ میں آ رہا ہے وہاں انشا ء اللہ اس کی مزید تفصیل ہو گی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List