Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النحل (The Honey Bees)

    128 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس گروپ کی تمام سورتوں کے عمود پر ایک جامع بحث ہم سورۂ یونس کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں۔ رسول کی بعثت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش شروع ہوتی ہے وہ لازماً رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی فتح اور اس کے جھٹلانے والوں کی ہزیمت پر ختم ہوتی ہے۔ یہی حقیقت ایک نئے اسلوب سے اس سورہ میں بھی واضح کی گئی ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو اس کی آیت ۳۰ ’لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُ الْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ‘ کو عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی جو لوگ نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھی فیروز مندی ہے اور آخرت کا گھر تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے ہی اور کیا ہی خوب ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کا گھر۔ یہی بات اس سورہ کی آیات ۴۱-۴۲ میں بھی فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ حق کی راہ میں مخالفین حق کے مظالم سہہ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اختیار کرتے ہیں ہم ان کو دنیا میں بھی اقتدار و تمکن عطا کرتے ہیں اور آخرت کا صلہ تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے ہی۔

    سابق سورہ (سورۂ حجر) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس تسلی کے مضمون پر ختم ہوئی تھی کہ آج جو لوگ تمہارے انذار اور تمہاری تنبیہ و تذکیر کا مذاق اڑا رہے ہیں اور تمہاری باتوں کو محض ہوائی باتیں خیال کر رہے ہیں تم ان کے اس استہزاء سے دل شکستہ نہ ہو، تمہاری طرف سے ان متکبروں اور مغروروں سے نپٹنے کے لیے ہم کافی ہیں۔ اس مضمون کے بعد یہ سورہ بغیر کسی تمہید کے ان متکبرین ہی کو خطاب کر کے یوں شروع ہو گئی ہے کہ ’اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ سُبْحٰٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘۔ یعنی عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اور یہ لوگ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ جن کو خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کا کوئی شریک و سہیم ہو۔

  • النحل (The Honey Bees)

    128 آیات | مکی
    النحل —— بنی اسرائیل

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا باہمی تعلق اجمال اور تفصیل کا ہے۔ چنانچہ پہلی سورہ میں جو چیزیں اشارات کی صورت میں ہیں، دوسری میں اُن کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ یہود سے مفصل خطاب، اخلاق کے فضائل و رذائل کی وضاحت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے لیے تیاری کی ہدایت اِس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دونوں سورتوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے اور دونوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے۔ دوسری سورہ—- بنی اسرائیل—- میں، البتہ یہود سے بھی مفصل خطاب کیا گیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قریش کی حمایت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے اب وہ بھی پوری طرح میدان میں آ چکے ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 016 Verse 001 Chapter 016 Verse 002 Chapter 016 Verse 003 Chapter 016 Verse 004 Chapter 016 Verse 005 Chapter 016 Verse 006 Chapter 016 Verse 007 Chapter 016 Verse 008 Chapter 016 Verse 009
    Click translation to show/hide Commentary
    امر الٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
    جلد بازوں سے خطاب اور ان کی وعید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی قوم کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس امر حق کی دعوت دے رہا ہوں اگر تم نے اس کو اختیار نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آ جائے گا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں، ہم تو تمہاری بات جب مانیں گے جب اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کے روز روز ڈراوے سنا رہے ہو۔ آگے آیت ۳۳ میں اس کی تفصیل آئے گی۔ انہی جلد بازوں کو خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ ’اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ‘ (عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہو چکا ہے) محض دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک امر واقعی کا بیان ہے۔ ہم اس کتاب میں متعدد آیات کے تحت اس سنت الٰہی کی وضاحت کر چکے ہیں کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہی کے اندر یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ جو لوگ اس رسول پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جو لوگ اس کی تکذیب کر دیں گے وہ ہلاک کر دیے جائیں گے۔ رسول، حق و باطل کے امتیاز کے لیے کسوٹی اور اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے رسول کی بعثت کے بعد اس کی قوم کے لیے دو ہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو لوگ اس پر ایمان لائیں اور نجات حاصل کریں ورنہ خدا کی پکڑ میں آئیں اور اپنی سرکشی کا انجام بد دیکھیں۔ ’سُبْحٰٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘ یعنی یہ لوگ اس خبط میں مبتلا نہ رہیں کہ جن کو یہ خدا کا شریک و شفیع بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گے۔ خدا ان کے مزعومہ شریکوں سے پاک اور برتر ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ جن اعلیٰ صفات سے متصف ہے ان صفات کے ساتھ ان مشرکانہ توہمات کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ وہ اپنی تمام صفات میں یکتا اور وحدہٗ لاشریک ہے۔ بلاغت کا ایک اسلوب: اس آیت میں اسلوب بیان کا یہ فرق بھی ملحوظ رہے کہ ’فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ‘ میں براہ راست ان کو خطاب کیا ہے لیکن ’عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘ میں خطاب کے بجائے غایب کا صیغہ آ گیا ہے۔ اس میں بلاغت یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں تہدید و وعید ہے جس کے لیے خطاب ہی کا اسلوب زیادہ موزوں ہے اور اس دوسرے ٹکڑے میں کراہت و نفرت کا اظہار ہے جس کے لیے غایب کا صیغہ زیادہ مناسب تھا گویا بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی گئی۔
    وہ فرشتوں کو اپنے امر کی روح کے ساتھ اتارتا ہے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے کہ لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو۔
    کفار کے بعض مطالبات کا جواب: کفار کا مطالبہ دو چیزوں کے لیے تھا۔ ایک تو اس چیز کے لیے کہ ان پر بھی اسی طرح فرشتے اتریں جس طرح پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دعویٰ ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں، دوسرا اس عذاب کے لیے جس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ڈراتے تھے۔ چنانچہ اسی سورہ میں ان کے ان دونوں مطالبات کا حوالہ ہے: ’ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَآٰءِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّکَ‘ (۳۳) (وہ منتظر ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمہارے رب کا حکم ہی آ جائے) ان میں سے دوسرے مطالبہ کا جواب تو اوپر والی آیت میں دے دیا گیا کہ عذاب کے لیے امرالٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اب یہ ان کے پہلے مطالبہ کا جواب دیا جا رہا ہے کہ ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ اس پر فرشتے اتریں۔ اللہ اپنے فرشتے اپنے بندوں میں سے ان پر اتارتا ہے جن پر چاہتا ہے۔ یعنی جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے اور جن کا وہ اس مقصد کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔ ’روح‘ سے مراد وحی الٰہی ہے: ’بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ‘۔ یعنی یہ فرشتے امر الٰہی کی ’روح‘ کے ساتھ اترتے ہیں۔ ’روح‘ سے مراد وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا ہے کہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے اسی طرح روح و دل کی زندگی وحی الٰہی سے ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ انسان روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔ رسولوں کو اللہ کی مشترک ہدایت: ’اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ‘۔ یعنی ہر رسول کو اللہ کی طرف سے یہ ہدایت ہوئی کہ لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے تو صرف مجھی سے ڈرو اور میری ہی عبادت کرو۔ کسی اور کو میرا ساجھی اور شریک نہ ٹھہراؤ۔  
    اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا، وہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک گردانتے ہیں۔
    کارخانۂ کائنات کے ’بالحق‘ ہونے کا لازمی تقاضا: لفظ ’حَق‘ کی تشریح سورۂ حجر کی آیت ۸۵ کے تحت گزر چکی ہے۔ اس کے معنی غایت اور مقصد کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے یہ دنیا بے غایت و بے مقصد نہیں بنائی ہے۔ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور بازیچۂ اطفال نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ایک چیز کے اندر جو قدرت و حکمت نمایاں ہے وہ شاہد ہے کہ اس کا خالق حکیم و قدیر ہے۔ ایک حکیم و قدیر خالق کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ کوئی عبث، باطل اور بے مقصد کام کرے۔ اس کے بامقصد اور باغایت ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن ضرور لائے جس دن سب اس کی طرف لوٹیں اور اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ تمام کارخانہ بالکل عبث اور بے غایت ایک کھیل بن کے رہ جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورۂ مومنون کی آیت ۱۱۵ میں یوں واضح فرمایا ہے: ’اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘ (کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو عبث پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے)۔ ’تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘ یہ اسی اوپر والے مضمون کی ایک دوسرے پہلو سے تاکید ہے۔ کفار و مشرکین اول تو قیامت کے قائل نہ تھے، پھر ان کا اصل تعلق ان کے ان فرضی معبودوں اور شرکاء و شفعاء سے رہ گیا تھا جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ان کی طرف سے خدا سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ ظاہر ہے یہ عقیدہ اس کارخانۂ کائنات کے ’بِالْحَق‘ ہونے کی صریح نفی ہے۔ اس وجہ سے یہ حقیقت بھی واضح کر دی گئی کہ یہ لوگ اپنے جن معبودوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہیں ہے۔ خدا کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں ہے۔ وہ ان تمام شریکوں سے پاک اور منزہ ہے۔ وہ جن اعلیٰ صفات سے متصف ہے ان کے ساتھ ان شریکوں کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔  
    اس نے انسان کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    انسان سے یہاں مراد وہی کفار و مشرکین ہیں جو اوپر کی آیات میں مخاطب ہیں۔ ان سے بیزاری کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیدا تو ہم نے انسان کو نجس پانی کی ایک بوند سے کیا لیکن اب وہ کھلم کھلا ہمارا ایک حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اب وہ اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو بھی بعید ازامکان سمجھتا ہے اور کہتا ہے: ’ءَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا ذٰلِکَ رَجْعٌ بَعِیْدٌ‘ (۳ ق) (کیا جب ہم مر جائیں گے اور گل سڑ کر مٹی ہو جائیں گے تو ہم ازسرنو اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو بہت ہی مستبعد ہے) اور جن کو اپنے زعم کے مطابق اس نے ہمارا شریک بنا رکھا ہے ان کی حمایت میں بھی ہم سے لڑتا ہے۔ آگے آیت ۲۷ میں ان کے اسی لڑنے کا حوالہ ہے: ’وَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْھِمْ‘ (اور وہ فرمائے گا کہ اب میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے؟)  
    اور چوپائے بھی اس نے تمہارے لیے پیدا کیے جن کے اندر تمہارے لیے جڑ اول بھی ہے اور دوسری منفعتیں بھی اور ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔
    ’دِفْءٌ‘ چوپایوں کے بال اور اون وغیرہ کو کہتے ہیں جن سے بنے ہوئے لباس سردیوں میں گرمی حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آیات الٰہی کی طرف اشارہ: اب اس آیت اور آگے کی آیات میں مخاطب کے گرد و پیش کی چیزوں اور ان کے گوناگوں فوائد و منافع کا حوالہ دے کر اس کو توجہ دلائی ہے کہ ان میں سے ایک ایک چیز شہادت دے رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت ہی کریم و حکیم اور نہایت ہی مہربان و رحیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نعمتیں تو تمہیں ساری خدا سے ملی ہیں لیکن تم عبادت دوسروں کی کرتے ہو اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں دیکھتے ہو اس کے متعلق یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ اس نے بس تمہیں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے چھوڑ رکھا ہے، نہ ان نعمتوں کے جواب میں اس کا تم پر کوئی حق قائم ہوتا ہے اور نہ تمہیں اس کے آگے کبھی کوئی جواب دہی کرنی ہے۔ نعمتوں کے ذکر میں سب سے پہلے چوپایوں کا حوالہ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کی اصل دولت یہ چوپائے ہی تھے۔ وہ بیشتر انہی سے لباس غذا اور دوسرے گوناگوں فوائد حاصل کرتے تھے۔
    اور ان کے اندر تمہارے لیے ایک شان بھی ہے جب کہ تم ان کو شام کو گھر واپس لاتے ہو اور جس وقت کہ ان کو چرنے کو چھوڑتے ہو۔
    چوپایوں کی نعمت: ’جمال‘ سے مراد یہاں شان و شوکت اور دولت و عظمت ہے اہل عرب کی اصل چونکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چوپائے ہی تھے اس وجہ سے وہاں کسی شخص کی ثروت و عظمت کا اندازہ اس کے گلے ہی سے کیا جاتا۔ اگر اس کا گلہ بڑا ہوتا تووہ بڑا آدمی سمجھا جاتا اور اگر چھوٹا ہوتا تو چھوٹا آدمی خیال کیا جاتا۔ ’اِرَاحَۃٌ‘ کے معنی شام کو گلے کو چراگاہ سے گھر واپس لانے کے ہیں اور ’سَرْحٌ‘ کے معنی اس کو چرنے چگنے کے لیے صبح کو چھوڑنے کے ہیں۔ یہاں ’اِرَاحَۃٌ‘ کو ’سَرْحٌ‘ پر مقدم کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موقع کلام اظہار شان کا ہے اور شان کا اظہار گلے کی شام کو واپسی میں زیادہ ہے جبکہ وہ چراگاہ سے چر چگ کے تازگی اور فربہی کی حالت میں گھر کو واپس آتا ہے۔ یہ بات اس درجہ میں اس وقت نہیں ہوتی جب وہ صبح کو چرنے کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔
    اور وہ تمہارے بوجھ ایسی جگہوں تک پہنچاتے ہیں جہاں تم شدید مشقت کے بغیر پہنچنے والے نہیں بن سکتے تھے، بے شک تمہارا رب بڑا ہی شفیق و مہربان ہے۔
    یہ اشارہ اونٹوں کی طرف ہے جن پر عرب میں باربرداری اور سفر کا تمام تر انحصار تھا۔ یہ جانور طویل سے طویل اور پر مشقت سے پر مشقت سفر کے لیے، خاص طور پر صحرائی اور گرم ملکوں میں، خدائی سفینہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وصف میں کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نعمت سے متمتع ہونے والوں کے لیے سبق: ’اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یہ وہ اصل سبق ہے جو ان نعمتوں سے متمتع ہونے والے انسان کو حاصل ہونا چاہیے کہ وہ یہ مانے کہ ان کا بخشنے والا نہایت ہی مہربان اور نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور پھر اس سے جو بات لازم آتی ہے اس کو اختیار کرے یعنی اس منعم کا حق پہچانے، اس کا شکرگزار بندہ بنے، اس کی بندگی و اطاعت میں سرگرم رہے، اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک نہ بنائے اور اس کے مقابل میں حریف بن کر نہ اٹھ کھڑا ہو۔ لیکن انسان کی یہ عجیب شامت ہے کہ وہ خدا کی نعمتیں پا کر اس کا شکرگزار بندہ بننے کی بجائے خود اپنی شان میں مبتلا ہو جاتا ہے اور خدا کا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ مزید ستم یہ کہ اگر شکر گزار بھی ہوتا ہے تو خدا کا نہیں بلکہ خدا کے سوا دوسروں کا ہوتا ہے۔
    اور اسی نے پیدا کیے گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ تم ان پر سوار ہو اور وہ زینت بھی ہیں اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے۔
    اونٹ کے بعد یہ دوسرے جانوروں کی طرف اشارہ فرمایا جو سواری کے کام بھی آتے اور سرداری کے لوازم میں سے ہونے کے باعث شان و شوکت کا بھی ذریعہ تھے نیز فرمایا کہ انہی تک محدود نہیں خدا بے شمار ایسی مخلوقات بھی پیدا کرتا رہتا ہے، جن کو تم جانتے بھی نہیں بلکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ تم یا تمہارے سوا دوسرے لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مقصود ان چیزوں کے ذکر سے بھی وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ نعمتیں بخشی ہوئی تو سب خدا کی ہیں لیکن تم ان کو پا کر خدا کو تو بھول جاتے ہو اور اپنی شان اور دوسروں کی بندگی میں لگ جاتے ہو۔
    اور اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے اور بعض راہیں کج ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر کر دیتا۔
    ’قَصْد‘ کے معنی سیدھے اور مستقیم کے ہیں۔ ’طَرِیْق قَصْد‘ سیدھا راستہ۔ ’قَصْد السَّبِیل‘ میں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہو گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندے کو خدا تک توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے، اس میں کج پیچ اور پگ ڈنڈیاں نہیں ہیں۔ خدا نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان وسائط کو حائل نہیں کیا ہے۔ اس نے اپنے تک پہنچنے کے لیے سیدھی راہ کھولی ہے، بندہ اس کو اختیار کر لے تو یہ سیدھے خدا تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو سورۂ حجر کی آیت ۴۱ میں یوں واضح فرمایا گیا ہے: ’ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ‘ (یہ سیدھی راہ (توحید) سیدھے مجھ تک پہنچاتی ہے) یہی مضمون سورۂ ہود آیت ۵۶ میں یوں بیان ہوا ہے: ’اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٌٍ‘ (بے شک میرا رب ایک سیدھے راستہ پر ہے)۔ ’وَمِنْھَا جَآءِرٌ‘۔ یعنی خدا تک تو توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے لیکن لوگوں نے اپنی شامت سے اس سیدھی راہ سے شرک کے کج پیچ کے راستے نکال لیے ہیں جن پر پڑ کے وہ اس طرح کھو جاتے ہیں کہ پھر خدا سے وہ دور سے دور تر ہی ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے لیے اصل شاہراہ کی طرف لوٹنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔ ’وَلَوْ شَآءَ لَھَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ‘ یعنی اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت کے راستہ ہی پر ڈال دیتا لیکن اس معاملے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی عقل و تمیز سے کام لیں اور جس راہ کو بھی اختیار کریں اپنی ذمہ داری پر اختیار کریں۔ اگر وہ توحید کی راہ اختیار کریں گے تو منزل تک پہنچیں گے اور اگر اس سے انحراف کریں گے تو اس کا انجام خود دیکھیں گے۔ اسی سورہ میں آگے ارشاد ہوا ہے۔ ’اِنْ تَحْرِصْ عَلٰی ھُدٰھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ‘۔ یعنی جن پر خدا کا قانون ضلالت نافذ ہو جاتا ہے، پھر ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی تو ایسوں کی ہدایت کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List