Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الحجر (The Rocky Tract, Al-Hijr, The Stoneland, The Rock City)

    99 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    پچھلی سورہ کے آخر میں کفار کے لیے جو تہدید و وعید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو تسکین و تسلی مجمل الفاظ میں وارد ہوئی ہے وہ اس سورہ میں بالکل سامنے آ گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ قرآن بجائے خود ایک واضح حجت ہے۔ اگر یہ لوگ اس کو نہیں مان رہے ہیں، تمہیں خبطی اور دیوانہ کہتے ہیں، مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پر فرشتے اتارے جائیں تب یہ مانیں گے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے، ہمیشہ سے رسولوں کے جھٹلانے والوں کی یہی روش رہی ہے، اگر ان کے مطالبہ کے مطابق ان کو معجزے دکھا بھی دیے گئے جب بھی یہ ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، وہ وقت آئے گا جب یہ آرزوئیں کریں گے کہ کاش پیغمبرؐ اور قرآن کی دعوت قبول کر کے مومن و مسلم بنے ہوتے۔

  • الحجر (The Rocky Tract, Al-Hijr, The Stoneland, The Rock City)

    99 آیات | مکی

    ابرٰھیم —— الحجر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس چیز کے لیے قریش کو تنبیہ و تہدید ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ مطمئن رہو، یہ قرآن بجاے خود ایک واضح حجت ہے، یہ نہیں مانتے تو اِنھیں اِن کے حال پر چھوڑ و، وہ وقت اب جلد آنے والا ہے، جب یہ آرزوئیں کریں گے کہ اے کاش، ہم نے یہ رویہ اختیار نہ کیا ہوتا۔

    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے۔ اتنا فرق، البتہ ہوا ہے کہ نتائج کا بیان زیادہ صریح ہو گیا ہے اور فہمایش تنبیہ، ملامت اور زجر و توبیخ میں تبدیل ہو گئی ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 015 Verse 001 Chapter 015 Verse 002 Chapter 015 Verse 003 Chapter 015 Verse 004 Chapter 015 Verse 005 Chapter 015 Verse 006 Chapter 015 Verse 007 Chapter 015 Verse 008 Chapter 015 Verse 009 Chapter 015 Verse 010 Chapter 015 Verse 011 Chapter 015 Verse 012 Chapter 015 Verse 013 Chapter 015 Verse 014 Chapter 015 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الف، لام، را ہے۔ یہ کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی آیات ہیں۔
    قرآن اپنی صداقت کی خود دلیل ہے: حروف مقطعات پر ایک جامع بحث ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر کے آغاز میں کر چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک ’الٓرٰ‘ اس سورہ کا قرآنی نام ہے اور ’تلک‘ کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ لفظ ’اَلْکِتٰبِ‘ پر بھی ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں بحث کر چکے ہیں۔ اس سے مراد وہ خدائی کتاب ہے جس کے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا اور جس کی پچھلے نبیوں نے خبر دی تھی۔ قرآن کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلام جو ان کو سنایا جا رہا ہے یہ کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی آیات پر مشتمل ہے۔ یہ اپنی صداقت کی دلیل خود اپنے اندر رکھتا ہے، کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ اس کو نہیں مان رہے ہیں، اس کی صداقت کو جانچنے کے لیے معجزوں کی فرمائش کر رہے ہیں، وہ درحقیقت اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔
    وہ وقت آئیں گے جب یہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا ہے، تمنا کریں گے کہ کاش ہم مسلم بنے ہوتے۔
    یعنی آج تو یہ لوگ غرور و رعونت کے ساتھ اس کتاب کا انکار کر رہے ہیں لیکن آگے ایسے وقت آئیں گے اور بار بار آئیں گے جب یہ تمنائیں کریں گے کہ کاش اس کتاب کو قبول کر کے مسلمان بنے ہوتے کہ ان ہولناک نتائج سے محفوظ رہتے۔ یہ مضمون سورۂ ابراہیم آیت ۴۴ میں بھی گزر چکا ہے۔
    ان کو چھوڑو، کھا پی لیں، عیش کر لیں اور آرزؤوں میں مگن رہ لیں۔ عنقریب یہ جان لیں گے۔
    یعنی اگر یہ اپنی سرمستیوں میں گم ہیں، تم کو اور تمہاری دعوت کو (خطاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے) خاطر میں نہیں لا رہے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، چند دن یہ کھا پی لیں، مزے کر لیں اور لذیذ آرزوؤں کے خواب دیکھ لیں، عنقریب وہ وقت آیا چاہتا ہے جب یہ اپنی سرمستی کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
    ہم نے جس قوم کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک معین نوشتہ رہا ہے۔
    عذاب الٰہی کے مؤخر ہونے کی وجہ: یہ وجہ بیان ہوئی ہے عذاب کے مؤخر ہونے کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان پر عذاب جو نہیں آ رہا ہے تو یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کی ایک سنت پر مبنی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر وہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہیں آتی تو لازماً وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اتمام حجت اور اخلاقی زوال کی وہ حد جس پر پہنچ کر کوئی قوم مستحق عذاب ہو جاتی ہے ایک خدائی نوشتہ میں مرقوم ہے۔ جب اس نوشتہ کی مدت پوری ہو جاتی ہے، قوم ہلاک کر دی جاتی ہے۔ سرمو اس میں فرق واقع نہیں ہوتا۔ نہ اس میں تقدیم ہوتی نہ تاخیر۔
    کوئی قوم نہ اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھتی نہ پیچھے ہٹتی۔
    عذاب الٰہی کے مؤخر ہونے کی وجہ: یہ وجہ بیان ہوئی ہے عذاب کے مؤخر ہونے کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان پر عذاب جو نہیں آ رہا ہے تو یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کی ایک سنت پر مبنی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر وہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہیں آتی تو لازماً وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اتمام حجت اور اخلاقی زوال کی وہ حد جس پر پہنچ کر کوئی قوم مستحق عذاب ہو جاتی ہے ایک خدائی نوشتہ میں مرقوم ہے۔ جب اس نوشتہ کی مدت پوری ہو جاتی ہے، قوم ہلاک کر دی جاتی ہے۔ سرمو اس میں فرق واقع نہیں ہوتا۔ نہ اس میں تقدیم ہوتی نہ تاخیر۔
    اور یہ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یاددہانی اتاری گئی ہے تم تو ایک خبطی ہو۔
    آنحضرتؐ پر کفار کا طعن اور اس کا جواب: کفار آنحضرت صلعم کو طنزیہ انداز میں خطاب کر کے کہتے کہ اے وہ شخص جو مدعی ہے کہ اس پر خدا کی طرف سے ہمارے لیے یاددہانی اتری ہے تم تو ہمیں ایک خبطی معلوم ہوتے ہو کہ ہمیں تو عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو اور اپنے لیے فوز و فلاح کے مدعی ہو درآنحالیکہ ہمارے حالات تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حالات سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔ اگر ہم خدا کے مبغوض و مقہور ہیں اور تم خدا کے محبوب و منظور نظر ہو تو ہم کو یہ نعمتیں کیوں ملی ہوئی ہیں اور تم ان سے کیوں محروم ہو؟ یہ صورت حال تو صاف ظاہر کرتی ہے کہ تم ایک خبطی آدمی ہو اور خبطیوں کی سی باتیں کر رہے ہو اور یہ بھی تمہارا ایک خبط ہی ہے کہ تم مدعی ہو کہ تمہارے پاس فرشتہ آتا ہے۔ اگر فرشتے آتے ہیں اور تم اس دعوے میں سچے ہو تو ان فرشتوں کو تم ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے کہ ہم بھی ذرا دیکھیں اور سنیں کہ وہ کیسے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔ آخر تمہیں ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ تمہارے پاس تو آتے ہیں اور ہمارے پاس نہیں آتے۔
    اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے؟
    اگر فرشتے آتے ہیں اور تم اس دعوے میں سچے ہو تو ان فرشتوں کو تم ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے کہ ہم بھی ذرا دیکھیں اور سنیں کہ وہ کیسے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔ آخر تمہیں ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ تمہارے پاس تو آتے ہیں اور ہمارے پاس نہیں آتے۔ ’لَوْمَا تَاْتِیْنَا‘ میں ’لَوْمَا‘ ابھارنے، اکسانے یا مطالبہ کرنے کے مفہوم میں ہے یعنی ’کیوں نہیں ایسا کرتے‘۔ کلام عرب اور قرآن مجید میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔
    ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر فیصلہ کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملے گی۔
    یہ مذکورہ بالا مطالبہ کا جواب ہے۔ ’حق‘ کے معنی یہاں فیصلہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل اور سمجھ سے کام لیں اور آفاق و انفس میں جو نشانیاں موجود ہیں اور جن کی طرف قرآن توجہ دلا رہا ہے ان پر غور کریں اور ان کی روشنی میں ایمان لائیں۔ ایمان لانے کے لیے فرشتوں کے اتارے جانے کا مطالبہ نہ کریں۔ فرشتے تو ہم لوگوں پر صرف اس وقت بھیجتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے اور عذاب کے سوا ان کے لیے کوئی اور چیز باقی رہ ہی نہیں جاتی۔ اس وقت فرشتے خدا کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم نیست و نابود کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی۔
    یہ یاددہانی ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
    قرآن کی حفاظت کا ذمہ دار خود خدا ہے: یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت پرزور الفاظ میں تسکین و تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ (قریش) اس قرآن عظیم کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو۔ یہ کتاب، تمہاری طرف سے کسی طلب و تمنا کے بغیر، ہم ہی نے تم پر اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اگر یہ لوگ اس کو رد کر رہے ہیں تو رد کر دیں، خدا اس کے لیے دوسروں کو کھڑا کر دے گا جو اس کو قبول کریں گے اور اس کی دعوت و حفاظت کی راہ میں کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہی مضمون سورۂ انعام میں یوں بیان ہوا ہے: ’فَاِنْ یَّکْفُرْ بِھَا ھآؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِھَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِھَا بِکٰفِرِیْنَ‘(۸۹۔ انعام) (اگر یہ لوگ اس کا انکار کر دیں تو تم اس کا غم نہ کرو ہم نے اس پر ایسے لوگوں کو مامور کر رکھا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں ہیں) مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کو قبول کرتے ہیں تو اس میں ان کی اپنی ہی دنیا و آخرت کی سعادت ہے، اور اگر یہ اپنی بدقسمتی اور شامت اعمال سے اس کو رد کر دیتے ہیں تو دوسرے اس کے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ چنانچہ جب قریش نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے انصار کے سینے اس کے لیے کھول دیے، انھوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی حفاظت کی راہ میں کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا‘ میں حصر در حصر کا جو مضمون پایا جاتا ہے اس سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ یہ کتاب تم نے ہم سے مانگ کے تو لی نہیں ہے کہ تم پر لوگوں سے اس کو قبول کروانے کی ذمہ داری ہو۔ تم پر ذمہ داری صرف تبلیغ و دعوت کی ہے، تم اس کو ادا کر دو۔ رہا اس کتاب کی حفاظت اور اس کے قیام و بقا کا مسئلہ تو یہ ہم سے متعلق ہے، اس کی حفاظت اور اس کے قیام و بقا کا انتظام ہم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کن کن شکلوں میں پورا فرمایا، تاریخ میں اس سوال کا پورا جواب موجود ہے۔ اس تفصیل میں جانے کا یہاں موقع نہیں ہے۔  
    اور ہم نے تم سے پہلے بھی اگلے گروہوں میں اپنے رسول بھیجے۔
    انبیاؑء کی سرگزشتوں کا حوالہ: تسکین و تسلی کے مضمون کو مزید مؤکد و مبرہن کرنے کے لیے یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتوں کا حوالہ ہے کہ آج اپنی قوم کی طرف سے جو تجربہ تمہیں ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول پچھلی قوموں میں بھیجے انھیں بھی اپنی اپنی قوموں کی طرف سے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑا۔
    تو جو رسول بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔
    انبیاؑء کی سرگزشتوں کا حوالہ: جس طرح آج تمہارا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔
    ہم مجرموں کے دلوں میں اس کو اسی طرح اتارتے ہیں۔
    انبیاؑء کی سرگزشتوں کا حوالہ: اللہ کے رسولوں کی دعوت چیز ہی ایسی ہے کہ نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے مجرمین اس کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں برداشت کرتے۔ یہ چیز ان کو تیر و نشتر کی طرح چبھتی ہے اور وہ اس کو اگلنے کے لیے زور لگاتے ہیں۔
    یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگلوں کی سنت گزر چکی ہے۔
    انبیاؑء کی سرگزشتوں کا حوالہ: چنانچہ یہ تمہاری قوم کے لوگ بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے بلکہ وہی روش انھوں نے اختیار کی ہے جو ان کے پیشرؤوں نے اختیار کی اور لازماً اسی انجام سے بھی دوچار ہوں گے جس سے ان کے پیش رو دوچار ہوئے۔
    اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیتے جس میں وہ چڑھنے لگتے۔
    منکرین کے انکار کا اصل سبب: یعنی فرشتوں کا اتارا جانا تو الگ رہا اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے لگ جائیں جبب بھی وہ ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیں گے۔ کہیں گے ہماری نگاہیں خیرہ کر دی گئی ہیں اور ہماری پوری قوم، مردوں اور عورتوں سب پر، جادو کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور اپنے مزعومات میں کوئی تبدیلی قبول کرنے اور استکبار کے سبب سے پیغمبر کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    تب بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھیں مدہوش کر دی گئی ہیں بلکہ ہم سب پر جادو کر دیا گیا ہے۔
    منکرین کے انکار کا اصل سبب: یعنی فرشتوں کا اتارا جانا تو الگ رہا اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے لگ جائیں جبب بھی وہ ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیں گے۔ کہیں گے ہماری نگاہیں خیرہ کر دی گئی ہیں اور ہماری پوری قوم، مردوں اور عورتوں سب پر، جادو کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور اپنے مزعومات میں کوئی تبدیلی قبول کرنے اور استکبار کے سبب سے پیغمبر کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List