Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • ابراہیم (Abraham)

    52 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    سورۂ رعد کی آیات ’اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا‘ الایہ میں قریش کو جو دھمکی اور مسلمانوں کو جو بشارت، اشارہ اور کنایہ کے انداز میں، دی گئی تھی اس سورہ میں وہ کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ قریش پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ آج مکہ کی سرزمین پر حق و باطل میں جو کشمکش برپا ہے اس میں تم جس کلمۂ باطل کے علم بردار ہو اس کی کوئی بنیاد نہ زمین میں ہے نہ آسمان میں۔ اس کی مثال گھورے پر اگے ہوئے ایک شجرۂ خبیثہ کی ہے جو بیک جنبش اکھاڑ کر پھینکا جا سکتا ہے۔ اگر یہ اب تک برقرار رہا تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ کوئی مضبوط جڑ رکھتا تھا بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس کو اکھاڑنے والے ہاتھ موجود نہیں تھے۔ اب اللہ نے وہ ہاتھ نمودار کر دیے ہیں تو تم دیکھو گے کہ کتنی جلدی اس کا قصہ پاک ہوا جاتا ہے۔ اس کے بالمقابل اسلام کی دعوت کی تمثیل اس سدا بہار شجرۂ طیبہ سے دی گئی ہے جس کی جڑیں پاتال میں اتری ہوئی اور جس کی شاخیں فضائے آسمانی میں پھیلی ہوئی ہوں۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں بھی مضبوط و مستحکم کرے گا اور آخرت میں بھی ان کو سرخروئی بخشے گا بشرطیکہ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنی دعوت حق پر جمے رہے اور اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا انھوں نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے مقابلہ کیا۔
    اس حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں واضح کرنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاؑء کی سرگزشتوں کے ان پہلوؤں کی طرف اس میں اشارات ہیں جن سے اصل مدعا کی تائید ہوتی ہے۔ آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت کا حوالہ دے کر یہ واضح فرمایا ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے اپنے وطن سے ہجرت کر کے اس وادئ غیر ذی زرع میں آئے تھے، اس سرزمین کے لیے انھوں نے کیا دعا کی، اس میں اپنی اولاد کو بساتے ہوئے ان کے دل میں کیا ارمان تھے اور انھوں نے اپنے رب سے ان کے لیے کیا چاہا اور کیا مانگا تھا۔ یہ باتیں سنانے سے مقصود قریش کے سامنے ان کی اپنی تاریخ کا آئینہ رکھ دینا ہے تاکہ وہ اندازہ کر سکیں کہ ان کو کیا بننا تھا اور وہ کیا بن کے رہ گئے ہیں۔

  • ابراہیم (Abraham)

    52 آیات | مکی

    ابرٰھیم —— الحجر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس چیز کے لیے قریش کو تنبیہ و تہدید ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ مطمئن رہو، یہ قرآن بجاے خود ایک واضح حجت ہے، یہ نہیں مانتے تو اِنھیں اِن کے حال پر چھوڑ و، وہ وقت اب جلد آنے والا ہے، جب یہ آرزوئیں کریں گے کہ اے کاش، ہم نے یہ رویہ اختیار نہ کیا ہوتا۔

    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے۔ اتنا فرق، البتہ ہوا ہے کہ نتائج کا بیان زیادہ صریح ہو گیا ہے اور فہمایش تنبیہ، ملامت اور زجر و توبیخ میں تبدیل ہو گئی ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 014 Verse 001 Chapter 014 Verse 002 Chapter 014 Verse 003 Chapter 014 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الٓرٰ ہے۔ یہ کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اس لیے اتاری ہے کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ ان کے رب کے اذن سے۔ خدائے عزیز و حمید کے راستہ کی طرف۔
    ’الٓرٰ‘۔ حرف مقطعات پر جامع بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں ملاحظہ فرمائیے۔ ’کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ‘۔ ’ظلمٰت‘ اور ’نور‘ سے مراد: ’ظُلُمٰت‘ سے مراد عقائد و اعمال کی تاریکیاں اور ’نُوْر‘ سے مراد ایمان و عمل صالح کی روشنی ہے۔ گمراہی کے ہزاروں راستے ہیں لیکن ہدایت کی راہ ایک ہی ہے اس وجہ سے ظلمات جمع ہے اور نور واحد۔ ہدایت خدا کی توفیق بخشی پر منحصر ہے: ’بِاِذْنِ رَبِّھِمْ‘ یعنی یہ تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی طرف آنا جن کو بھی میسر ہو گا خدا کی توفیق بخشی ہی سے میسر ہو گا۔ وہی اپنی سنت کے مطابق جن کو ہدایت کا اہل پائے گا ان کو ہدایت بخشے گا اور جن کو اس کا اہل نہیں پائے گا ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ذمہ داری اس معاملے میں صرف تبلیغ و دعوت کی ہے۔ لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لا کھڑے کرنا اس کی ذمہ داری ہی نہیں ہے۔ ’عَزِیْز‘ اور ’حَمِیْد‘ کا مفہوم: ’اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ‘ یہ ’نور‘ کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ راستہ ہے جو خدائے عزیز و حمید کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ’عَزِیْز‘ یعنی سب پر غالب و مقتدر، اس وجہ سے وہی سزاوار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ ’حَمِیْد‘ یعنی تمام جود و کرم کا منبع، اس وجہ سے وہی حق دار ہے کہ اس کی حمد کی جائے اور اس سے امیدیں باندھی جائیں۔
    اس اللہ کے راستہ کی طرف جو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے اور کافروں کے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی ہے۔
    دنیوی مفادات ہدایت کے لیے حجاب: یعنی اس خدا کے راستہ کی طرف جو تنہا آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ آج اپنے مزعومہ شریکوں کے اعتماد پر اس صحیفہ ہدایت کا انکار کر رہے ہیں وہ اپنے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں۔
    ان کے لیے جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔
    ’الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ‘ یہ ان کے اصل سبب انکار سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ باتیں تو وہ جو چاہیں بنا لیں لیکن اصل چیز جو ان کے اور اس صحیفۂ ہدایت کے درمیان حجاب بنی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آخرت کی خاطر اپنے دنیوی مفادات قربان کرنے کو تیار نہیں ہیں، ’وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘ چنانچہ وہ خود بھی اللہ کی راہ سے روگردان ہیں اور دوسروں کو بھی، جہاں تک ان کا زور چلتا ہے، اس سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا‘ یعنی خدائے عزیز و حمید کی طرف لے جانے والی سیدھی راہ کو کج کر کے اپنے مزعومہ معبودوں کی طرف موڑ رہے ہیں اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خدا تک اگر پہنچا جا سکتا ہے تو انہی پرپیچ پگ ڈنڈیوں سے ہو کر پہنچا جا سکتا ہے۔ ’اُولٰٓءِکَ فِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ‘ یعنی اپنی ان حرکتوں کے سبب سے وہ اصل شاہراہ سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔
    اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان پر اچھی طرح واضح کر دے۔ پس اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ عزیز و حکیم ہے۔
    ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی: یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا اظہار فرمایا ہے جو اس صحیفۂ ہدایت کو عربی میں اور رسولؐ کو خود ان کی قوم کے اندر سے مبعوث فرما کر اس نے ان کے اوپر کیا ہے اور مقصود اس سے ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ انھیں اللہ کی اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے کہ اس نے انہی کے اندر سے ایک فرد کے ذریعہ سے انہی کی زبان میں اپنا صحیفہ اتارا تاکہ وہ اللہ کی ہدایت کو لوگوں پر اچھی طرح واضح کر دے۔ ’فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت واضح فرما دی ہے کہ وہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ تمہارا کام اللہ کی باتوں کو اچھی طرح واضح کر دینا ہے وہ تم نے کر دیا ہے اور کر رہے ہو، رہا لوگوں کا ایمان لانا یا نہ لانا تو یہ خدا کی مشیت پر منحصر ہے اور خدا عزیز و حکیم ہے۔ یعنی اس کی ہر مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے۔ جو لوگ اس کی حکمت کے تحت ہدایت پانے کے مستحق ٹھہریں گے وہ ہدایت پائیں گے اور جو لوگ اس کے مستحق نہیں ٹھہریں گے وہ اس سے محروم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے اندر جو صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں اگر ایک شخص ان سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ مزید توفیق کا سزاوار قرار پاتا ہے اور اگر کوئی شخص ان کی قدر نہیں کرتا تو مزید پانا تو الگ رہا جو اس کو دی گئی ہوتی ہیں وہ بھی اس سے سلب ہو جاتی ہیں۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کر چکے ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List