Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الرعد (The Thunder)

    43 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    یہ سورہ سورۂ یوسفؑ کے توام اور اس کے جوڑے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآن کے نزول نے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا کر دی تھی، انجام کار کی کامیابی اس میں جس گروہ کو حاصل ہونے والی تھی اس کو اس میں نمایاں فرمایا ہے۔ یہی حقیقت سورۂ یوسف میں بھی واضح کی گئی ہے، البتہ دونوں سورتوں میں طریق استدلال الگ الگ ہے۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف کی زندگی کے حالات و واقعات سے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس سورہ میں عقل و فطرت کے دلائل سے۔ آیات ۱۷-۲۲ سے اس سورہ کے عمود پر روشنی پڑتی ہے۔

  • الرعد (The Thunder)

    43 آیات | مدنی

    یوسف —— الرعد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اُن نتائج کے حوالے سے انذار و بشارت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اِسی دنیا میں نکلنے والے تھے۔ استدلال کا طریقہ، البتہ الگ الگ ہے۔ پہلی سورہ جن حقائق کو یوسف علیہ السلام کی سرگذشت کے حوالے سے مبرہن کرتی ہے، دوسری میں وہی حقائق عقل و فطرت کے دلائل سے مبرہن کیے گئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 013 Verse 001 Chapter 013 Verse 002 Chapter 013 Verse 003 Chapter 013 Verse 004 Chapter 013 Verse 005 Chapter 013 Verse 006 Chapter 013 Verse 007 Chapter 013 Verse 008 Chapter 013 Verse 009 Chapter 013 Verse 010 Chapter 013 Verse 011 Chapter 013 Verse 012 Chapter 013 Verse 013
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الف، لام، میم، را ہے۔ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو چیز تمہاری طرف تمہارے خداوند کی طرف سے اتاری گئی ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں مان رہے ہیں۔
    اظہار احسان اور انذار بیک وقت دونوں: ’تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ‘ لفظ ’اَلْکِتٰب‘ پر تفصیلی بحث بقرہ کی پہلی آیات کے تحت گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ موعود و منتظر کتاب الٰہی ہے جس کو آخری صحیفۂ ہدایت کی حیثیت سے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا۔ ’تِلْکَ‘ کا اشارہ ’الٓمٓرٰ‘ کی طرف ہے۔ یعنی یہ سورہ موعود و منتظر کتاب الٰہی کی آیات پر مشتمل ہے۔ اس فقرے میں بیک وقت اظہار احسان بھی ہے اور دھمکی بھی۔ احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم نعمت، جس کا اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا، اتار دی ہے۔ اب یہ لوگوں کا فرض ہے کہ اس کی صدق دل سے قدر کریں اور اس کی برکتوں سے متمتع ہوں۔ دھمکی کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں تو جو لوگ ان کی قدر کرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑائیں گے اور ان کی مخالفت میں اپنا زور صرف کریں گے وہ خود سوچ لیں کہ وہ اپنے لیے کس شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔ ’وَالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ‘۔ پیغمبر صلعم کو تسلی: یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کتاب جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی ایک ایک بات حق ہے۔ اس کا ہر دعویٰ ثابت، مدلل اور مبرہن ہے اور اس کی ہر چیز شدنی ہے۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے اختلاف کیا جا سکے، یہ لوگوں کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے کہ ان کی اکثریت اس کو قبول نہیں کر رہی ہے۔
    اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں۔ پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ان میں سے ہر ایک ایک وقت معین کے لیے گردش کرتا ہے۔ وہی کائنات کا انتظام فرماتا ہے اور اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔
    خدا کی عظیم قدرت و حکمت کی طرف ایک اشارہ: ’رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا‘۔ ’عَمَدٍ‘ عمود کی بھی جمع ہے اور عماد کی بھی اور ’تَرَوْنَھَا‘ اس کی صفت ہے۔ یعنی خدا نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر کھڑا کیا ہے جو تمہیں نظر آئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس نے یہ عظیم شامیانہ جذب و کشش کے ایسے ستونوں پر کھڑا کیا ہے جن کو دیکھنے سے تمہاری نگاہیں قاصر ہیں۔ ’ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ‘۔ یعنی وہ ان کو پیدا کر کے کہیں کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے جیسا کہ مشرکین گمان کرتے ہیں، بلکہ وہ اپنے عرش اقتدار پر متمکن ہے اور اس پوری کائنات پر فرماں روائی کر رہا ہے۔ ’وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی‘۔ یہ دو بڑی نشانیاں۔ سورج اور چاند اپنے وجود سے شہادت دے رہی ہیں کہ ہر چیز ہر وقت، خدا کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اپنے معین مدار سے بال برابر ادھر ادھر ہو سکے۔ سورج اور چاند کے طلوع و غروب کے لیے جو اوقات مقرر کر دیے گئے ہیں وہ ٹھیک ٹھیک اسی نظام الاوقات کی پابندی کرتے ہیں، اس میں منٹ اور سیکنڈ کا بھی کبھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ ’یُُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُْفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَآءِ رَبِّکُمْ تُوْقِنُوْنَ‘۔ یعنی ان نشانیوں سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ خدا ہی تمام کائنات کا اتنظام فرما رہا ہے اور ساتھ ہی وہ ان نشانیوں کے تمام مضمرات بھی واضح فرما رہا ہے تاکہ تم اس بات کا یقین کرو کہ جس طرح ہر چیز کے لیے ایک اجل معین ہے اسی طرح تمہارے لیے بھی ایک اجل معین ہے۔ بالآخر تمہیں ایک دن خدا کی طرف لوٹنا اور اس سے ملنا ہے۔
    اور وہی ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں اس میں پیدا کیں۔ وہ رات کو دن پر اڑھا دیتا ہے۔ بے شک ان چیزوں کے اندر ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کریں۔
    آسمان کے بعد زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ: آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جس طرح آسمان کی نشانیوں سے اس کے خلق و تدبیر، اس کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدت و یکتائی کی شانیں ظاہر ہوتی ہیں اسی طرح زمین کے چپہ چپہ سے بھی اس کی ان صفات کی شہادت مل رہی ہے بشرطیکہ سوچنے والے دل اور غور کرنے والی عقلیں ہوں۔ دریا اور پہاڑ بظاہر اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں لیکن خدا نے اپنی قدرت و حکمت سے ان کے اندر ایسی سازگاری پیدا کر رکھی ہے کہ پتھروں کے اندر سے پانی کے چشمے جاری کر دیے ہیں۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ آپ سے آپ وجود میں آ گئے ہیں اور ان پر الگ الگ دیوتاؤں کی خدائی ہے یا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ہی قادر و توانا حکیم نے یہ تمام اضداد پیدا کیے اور پھر اپنی بے پایاں حکمت سے ان میں حیرت انگیز سازگاری پیدا کر دی کہ ان میں زوجین کا سارا توافق پیدا ہو گیا ہے۔ آسمان و زمین کی نشانیوں کی شہادت: اس کائنات کے ہر گوشہ میں، ہر چیز، آسمان اور زمین، سورج اور چاند، شب اور روز کے اندر جس طرح کا تضاد اور پھر ساتھ ہی جس طرح کا توافق پایا جاتا ہے۔ وہ صاف صاف شہادت دے رہا ہے کہ یہ کائنات مختلف الاغراض دیوتاؤں کی رزم گاہ نہیں ہے بلکہ اس پر ایک ہی قادر و قیوم کا ارادہ کارفرما ہے۔ تضاد اور توافق کے قانون کی ہمہ گیری: ’مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰت‘ کے الفاظ سے تضاد اور توافق کے اس قانون کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس طرح شب اور روز کے اندر یہ قانون کارفرما ہے اسی طرح ایک ایک پھل اور ایک ایک دانے کے اندر کارفرما ہے، خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ گندم کے ایک دانے کو بھی دیکھیے تو وہ بھی دو حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ تاہم دونوں میں پوری وابستگی اور پیوستگی پائی جاتی ہے ۔۔۔ کائنات کے ہر گوشہ کی یہ شہادت اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ دنیا بھی تنہا نہیں ہے بلکہ اس کا بھی جوڑا ہے اور وہ ہے آخرت۔ اپنے اسی جوڑے کے ساتھ مل کر ہی یہ اپنی غایت کو پہنچتی ہے ورنہ اس کا وجود بالکل بے مقصد اور بے غایت ہو کے رہ جاتا ہے۔ نشانیاں صرف اہل حق کے لیے کارآمد ہیں: ’اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ‘ یعنی ان چیزوں کے اندر خدا کے خلق و تدبیر، اس کی قدرت و حکمت، اس کی توحید اور آخرت کی بہت سی نشانیاں ہیں لیکن ان نشانیوں تک انہی لوگوں کی عقلیں پہنچتی ہیں جو ان پر غور کرتے ہیں اور ان سے جو رہنمائی حاصل ہوتی ہے اس کو حرزجاں بناتے ہیں۔ بے فکرے اور لاابالی لوگ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
    اور زمین میں پاس پاس کے قطعے ہیں، انگوروں کے باغ ہیں، کھیتی ہے اور کھجور ہیں۔ جڑواں بھی ہیں اور اکہرے بھی۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں لیکن ہم پیداوار میں ایک کو دوسرے پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ بے شک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔
    زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ: یہ زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھتے ہو کہ زمین کے بالکل پاس پاس کے قطعے ہیں، بعض میں انگور کے باغ ہیں، بعض میں کھیتیاں ہیں، بعض میں کھجور ہیں، جن میں بعض کے تنے اکہرے ہیں، بعض کے دوہرے۔ ٹکڑے پاس پاس کے ہیں، سیراب سب ایک ہی پانی سے ہوتے ہیں، لیکن پیداوار کی مقدار میں فرق ہو جاتا ہے، کسی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے کسی کی کم، مزے میں بھی اختلاف ہو جاتا ہے، کسی کا مزا معیار پر ہوتا ہے کسی کا معیار سے اترا ہوا، درختوں کی نشوونما میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے، کہیں ایک ہی جڑ سے کئی کئی تنے پھوٹ نکلے ہیں، کہیں ایک ہی تنا نکلا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے اور نیچر کا ایک اندھا بہرہ قانون سب پر مسلط ہے یا اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی خدائے علیم و حکیم اس پورے نظام کائنات کو اپنی نگرانی میں چلا رہا ہے اور سارے عالم اسباب پر تنہا اسی کی حکمرانی ہے اور وہ اپنی حکمت کے تحت اس کے ذرے ذرے پر تصرف فرما رہا ہے۔
    اور اگر تم تعجب کرو تو تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ، کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو ہم ازسرنو وجود میں آئیں گے! یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا، یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں، یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
    تعجب کی اصل بات: یعنی خدا کی قدرت و حکمت اور اس کے خلق و تدبیر کی ان نشانیوں کی موجودگی میں جن کا ذکر اوپر ہوا، تعجب کرنے کی بات وہ نہیں ہے جس سے تم (خطاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے) لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو کہ مرنے کے بعد اٹھنا اور خدا کے حضور حساب کتاب کے لیے حاضر ہونا ہے بلکہ تعجب کے قابل ان لوگوں کا یہ تعجب ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم سڑ گل کر خاک ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو زندہ کیے جائیں گے۔ خدا کو ماننے کا صحیح مفہوم: ’اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ‘۔ فرمایا کہ اپنے رب کے اصلی منکر درحقیقت یہ لوگ ہیں۔ خدا کو ماننے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ مان لے کہ خدا ہے بلکہ اس کو اس کی صفات اور اس کے حقوق کے ساتھ ماننا ضروری ہے، اگر کوئی شخص خدا کا اقرار کرتا ہے لیکن اس کی بدیہی اور لازمی صفات یا ان سے عاید شدہ حقوق و لوازم کا منکر ہے تو وہ اپنے اقرار کے باوجود مومن نہیں بلکہ کافر ہے۔ خدا کی میزان میں اس کے اس اقرار کا کوئی وزن نہیں ہے۔ خدا کسی کے ماننے کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ اس کے ماننے کے محتاج ہیں اور یہ چیز اس کو صحیح طور پر ماننے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ منکرین کے انکار کی اصل علت: ’اُولٰٓءِکَ الْاَغْلٰلُ فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی گردنوں میں کبر و انانیت، خودپرستی، تقلید اعمیٰ اور جمود کے طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ طوق نہ ان کی گردنیں اوپر کی طرف اٹھنے دیتے ہیں کہ یہ آسمان کی ان نشانیوں پر غور کر سکیں جن کی طرف قرآن نے آیت ۲ میں اشارہ فرمایا ہے اور نہ زمین کی ان نشانیوں کی طرف جھکنے دیتے جن کا حوالہ آیات ۳-۴ میں ہے۔ نتیجہ اس اندھے پن کا یہ ہے کہ یہ دوزخ میں پڑیں گے اور اسی میں ہمیشہ سڑیں گے۔ اس حقیقت کو سورۂ یٰسین میں یوں واضح فرمایا ہے۔ ’اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلَالًا فَھِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَھُمْ مُّقْمَحُوْنَ‘ (۸)
    اور یہ لوگ خیر سے پہلے شر کے لیے تم سے جلدی مچائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان سے پہلے عقوبت کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ تمہارا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان سے درگزر کرنے والا بھی ہے اور تیرا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے۔
    عاقل وہ ہے جو دوسروں سے سبق حاصل کرے: قوموں کی تاریخ میں نشان عبرت: ’مثلت‘ ’مَثُلَۃ‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی عقوبت اور عبرت انگیز عذاب کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ توبہ اور اصلاح سے پہلے کسی آفت اور عذاب کے منتظر ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب ہم اس عذاب کی کوئی نشانی دیکھ لیں گے جس سے پیغمبر ڈرا رہے ہیں، تب ہم ان کی بات مانیں گے۔ حالانکہ عاقل وہ ہے جو دوسروں سے سبق حاصل کرے۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنھوں نے انھی کی طرح اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی اور بالآخر کیفر کردار کو پہنچیں۔ ان کی سرگزشتیں ان کو سنائی بھی جا رہی ہیں۔ کیا ان کے اندر ان کے لیے درس عبرت موجود نہیں ہے؟ یہ تو اللہ کی عنایت ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے کفر و شرک کے باوجود توبہ و اصلاح کی طویل مہلت دیتا ہے لیکن اس مہلت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اس کے گزر جانے کے بعد جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بھی بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔
    اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ تم تو بس ایک آگاہ کر دینے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے۔
    مطالبۂ عذاب کا جواب: ’اٰیت‘ سے مراد یہاں کوئی نشانئ عذاب ہے۔ اوپر والی آیت میں جس عذاب کے لیے عجلت کا ذکر ہے یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ہمیں جس عذاب کے ڈراوے ہر وقت سنا رہے ہیں آخر اس کی کوئی نشانی یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ فرمایا کہ تمہارا کام صرف لوگوں کو اس عذاب سے خبردار کر دینا ہے، اس کی کوئی نشانی دکھانا یا اس عذاب کو لا دینا تمہارا کام نہیں ہے۔ یہ ہمارا کام ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہمارا کام ہم پر چھوڑو۔ ان کی بکواسوں کی پروا مت کرو۔ ’وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ‘ میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو سزا دینے سے پہلے اس کو انذار و تنبیہ فرماتا ہے چنانچہ ان کے انذار کے لیے خدا نے تمہیں ہادی بنا کر بھیج دیا ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر انھوں نے تمہاری ہدایت قبول نہ کی تو اب اس کے بعد ان کے لیے عذاب ہی کا مرحلہ باقی رہ جاتا ہے۔
    اللہ ہی جانتا ہے ہر مادہ کے حمل کو اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کو بھی اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازہ کے مطابق ہے۔
    یعنی ایک بات جو ایک امر واقعی اور شدنی ہے اس میں اس بنیاد پر کوئی شبہ قائم کرنا کہ تم اس کا وقت معین طور پر نہیں بتا سکتے یا ان کے مطالبے پر اس کو دکھا نہیں سکتے، کوئی معقول بات نہیں ہے۔ ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، اس کے رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس میں درپردہ جو کمی بیشی واقع ہوتی ہے اس کو بھی اللہ ہی جانتا ہے، اس کے وضع کا ٹھیک ٹھیک وقت بھی اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے۔ ان باتوں کے نہ جاننے سے نہ تو نفس حمل کی نفی ہوتی اور نہ کوئی عاقل اس بنیاد پر ایک حاملہ کے حاملہ ہونے سے انکار کرتا ہے۔ یہی مثال ان ظالموں کے لیے عذاب الٰہی کی ہے۔ انھوں نے اپنے عقاید و اعمال کے فساد کے باعث اس کا حمل قبول کر لیا ہے اور یہ حمل لازماً اپنی مدت کو پہنچ کر ظہور میں آئے گا لیکن کب آئے گا اور کس شکل و صورت میں آئے گا اس کا ٹھیک ٹھیک پتہ صرف اللہ ہی کو ہے، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں ہے۔ ’کُلُّ شَیْءٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ‘ اللہ کے ہاں ہر چیز کے لگے بندھے ضابطے، معین پیمانے اور مقرر اوقات ہیں۔ لوگوں کی جلد بازی سے وہ سنت الٰہی متغیر نہیں ہوتی جو اس نے ہر چیز کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔
    وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا، عظیم اور عالی شان ہے۔
    یہ اوپر والے مضمون کی مزید توضیح و تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی باتوں، اس کے علم اور اس کے منصوبوں کو اپنے محدود علم سے ناپنے کی کوشش نہ کرو۔ اس کا علم تمام غائب و حاضر کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ بڑی ہی عظیم ہستی اور اس کی بارگاہ بہت بلند ہے۔ وہ اپنے ارادوں اور اپنی اسکیموں کے بھیدوں کو خود ہی جانتا ہے، دوسرے اس میں سے اتنا ہی جان سکتے ہیں، جتنا وہ ظاہر کر دے۔
    اس کے علم میں یکساں ہیں تم میں سے وہ جو بات کو چپکے سے کہیں اور وہ جو بلند آواز سے کہیں اور جو شب کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں نقل و حرکت کر رہے ہوں۔
    مطلب یہ کہ دیر سویر کی فکر تو اس کو ہو جس کو اندیشہ ہو کہ ذرا تاخیر ہوئی تو وقت نکل جائے گا اور پھر حریف قابو میں نہ آ سکے گا۔ جس کا علم اور جس کی قدرت ہر چیز اور ہر شخص کا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہو کہ اس کا ’سِرًّا وَّعَلَانِیَۃ‘ سب اس کے علم میں ہو اور اس کی شب اور اس کے روز کی ہر نقل و حرکت پر اس کو پورا اختیار حاصل ہو وہ پکڑنے میں جلد بازی کیوں کرے؟ وہ جب چاہے گا اور جہاں سے چاہے گا ہر ایک کو پکڑے گا۔ کس کی طاقت ہے کہ اس کے قابو سے باہر نکل سکے یا کہیں اس سے چھپ سکے۔
    ان پر ان کے آگے اور پیچھے سے امر الٰہی کے مؤکل لگے رہتے ہیں جو باری باری سے ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کر لے اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور ان کا اس کے مقابل میں کوئی بھی مددگار نہیں بن سکتا۔
    ’مُعَقِّبٰتٍ‘ یعنی ’اَرْوَاحٌ مُّعَقِّبٰتٍ‘ مراد اس سے وہ فرشتے ہیں جو باری باری ہر انسان پر خدا کی طرف سے نگرانی کے لیے مقرر ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ’مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ‘ بیان کے لیے ہے جس طرح ’قُلِ الراُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ‘ اور بعض دوسری آیات میں ہے۔ یعنی یہ فرشتے یا یہ ارواح اللہ کے امر میں سے ہیں۔ اوپر کے مضمون کی توضیح مزید: یہ آیت اوپر والی آیت کے مضمون کی توضیح مزید ہے۔ یعنی اللہ ہر شخص کے ظاہر و باطن اور اس کے شب و روز سے پوری طرح آگاہ ہے۔ اس نے ہر شخص پر اپنے فرشتے بطور پہرہ دار مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے امر میں سے ہیں جو ہر وقت ہر شخص کے ہر قول و فعل کی نگرانی کرتے ہیں۔ عذاب کے معاملے میں سنت الٰہی: ’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ‘۔ اب یہ قوموں کے عذاب کے معاملے میں اصل سنت اللہ کی وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ اپنا معاملہ کسی قوم کے ساتھ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کر لے۔ جب قوم خود اپنی روش بدل لیتی ہے اور تنبیہ و انذار کے باوجود متنبہ نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس پر وہ عذاب بھیجتا ہے جس کو کوئی طاقت بھی دفع نہیں کر سکتی۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس سنت الٰہی کی روشنی میں اپنے حالات کا جائزہ لو۔ اگر تم نے خود اپنی روش بدل لی ہے تو بس سمجھ لو کہ خدا کا تمہارے ساتھ جو معاملہ اب تک رہا ہے اب اس کے بدلنے میں بھی دیر نہیں ہے اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ جب خدا کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس قضائے مبرم کو ٹالنے کا بوتا کسی میں نہیں ہوتا۔ تمہارے سارے اصنام خیالی اور سارے قلعے اور دمدمے ہوا ہو جائیں گے۔
    وہی دکھاتا ہے تمہیں بجلی جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور ابھارتا ہے بوجھل بادلوں کو۔
    آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ: اب یہ اسی مطالبۂ عذاب کے جواب میں، جس کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے، آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نشانیوں کی طلب ہے تو نشانیاں تو روز ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ بجلی چمکتی ہے جو اپنے اندر امید و بیم دونوں کے پہلو رکھتی ہے، وہی بارش کا پیغام بھی بن کر نمودار ہوتی ہے اور اگر اللہ چاہتا ہے تو اسی کو عذاب کا تازیانہ بھی بنا دیتا ہے۔ بادل اٹھتے ہیں جو رحمت کی گھٹا بن کر بھی برستے ہیں اور اگر اللہ چاہتا ہے تو انہی کے اندر سے طوفان نوح بھی ابل پڑتا ہے ۔۔۔ ان نشانیوں کے بعد اب کن نشانیوں کے منتظر ہو؟
    اور بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ بھیجتا ہے بجلی کے کڑکے اور ان کو نازل کر دیتا ہے جن پر چاہتا ہے اور وہ خدا کے باب میں جھگڑتے ہی ہوتے ہیں اور وہ بڑی ہی زبردست قوت والا ہے۔
    ’یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَآٰءِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ‘۔ میں حذف کا وہ اسلوب مضمر ہے جس کی طرف ہم ایک سے زیادہ مقامات میں اشارہ کر چکے ہیں کہ بعض مرتبہ مقابل الفاظ قرینہ کی وضاحت کی وجہ سے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اس اسلوب کو کھول دیجیے تو پوری بات گویا یوں ہو گی ’وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ مِنْ خیْفَتِہٖ بِحَمْدِہٖ وَالْمَآٰءِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ بِحَمْدِہٖ‘۔ یہ بات بھی ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ ’تسبیح‘ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور حمد میں صفات حسنیٰ کے اقرار و اعتراف کا۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی توضیح مزید ہے کہ منکرین اور مکذبین کی جسارت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور ادھر رعد و برق اور فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر وقت خوف الٰہی سے اس کی تسبیح اور حمد میں مصروف رہتے ہیں کہ معلوم نہیں کس وقت کیا حکم صادر ہو۔ پھر خدا جن پر چاہتا ہے اپنا صاعقۂ عذاب بھیج دیتا ہے اور لوگ خدا کے بارے میں جھگڑنے ہی میں مصروف ہوتے ہیں۔ خدا ’شَدِیْدُ الْمِحَالِ‘ یعنی بڑی طاقت والا ہے، کسی میں طاقت نہیں کہ اس کے وار کو روک سکے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List