Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • یوسف (Joseph)

    111 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    سورتوں کا یہ گروپ سورۂ یونس سے شروع ہوا ہے۔ ہم اس پورے گروپ کے عمود پر، سورۂ یونس کی تفسیر کی تمہید میں ایک جامع تبصرہ کر چکے ہیں۔ یہاں ہم اس کا ضروری حصہ نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ذہن میں بات تازہ ہو جائے ہم نے لکھا ہے:

    ’’اس پورے گروپ کی تلاوت، تدبر کے ساتھ باربار کیجیے تو آپ نہایت واضح طور پر محسوس کریں گے کہ گروپ کی تمام سورتوں میں مشترک حقیقت، جو مختلف پہلوؤں اور اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے، یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہو چکی ہے وہ بالآخر پیغمبرؐ اور اس پر ایمان لانے والوں کی کامیابی و فتح مندی اور قریش کی ذلت و ہزیمت پر منتہی ہو گی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ اس میں قریش کے لیے انذار اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کے لیے بشارت ہے۔ قریش پر عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے دلائل اور تاریخ و نظام کائنات کے شواہد سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جو حق تمہارے پاس آ چکا ہے۔ اس کی مخالفت میں اگر تمہاری یہی روش قائم رہی تو بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب تم اس کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔‘‘
    ’’اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو صبر، اسقامت اور تقویٰ کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ جس حق کو لے کر تم اٹھے ہو انجام کار کی کامیابی و فیروز مندی اسی کا حصہ ہے۔ البتہ سنت الٰہی یہ ہے کہ حق کو غلبہ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے لازماً تمہیں بھی گزرنا ہے۔ اگر یہ مرحلے تم نے عزیمت و استقامت کے ساتھ طے کر لیے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ ’یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ‘۔ (۲۷۔ ابراہیم)‘‘

    اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے سورۂ یونس اور سورۂ ہود دنوں میں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کی سرگزشتیں تفصیل سے سنائی گئی ہیں اور سورۂ ہود کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ان سرگزشتوں کے سنانے کا یہ مقصد بیان فرمایا گیا ہے:

    وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَ کَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۵ وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنَّا عٰمِلُوْنَ ۵ وَانْتَظِرُوْا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ. (ہود ۱۲۰-۱۲۲)
    ’’اور ہم رسولوں کی سرگزشتوں میں سے تمہیں وہ سب سنا رہے ہیں جس سے تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ان میں تمہارے لیے بھی حق واضح ہوا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے بھی ان میں موعظت اور یاددہانی ہے اور جو ایمان نہیں لا رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ پر کام کرو، ہم اپنی جگہ پر کام کر رہے ہیں اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہی ہیں۔‘‘

  • یوسف (Joseph)

    111 آیات | مکی

    یوسف —— الرعد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اُن نتائج کے حوالے سے انذار و بشارت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اِسی دنیا میں نکلنے والے تھے۔ استدلال کا طریقہ، البتہ الگ الگ ہے۔ پہلی سورہ جن حقائق کو یوسف علیہ السلام کی سرگذشت کے حوالے سے مبرہن کرتی ہے، دوسری میں وہی حقائق عقل و فطرت کے دلائل سے مبرہن کیے گئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 012 Verse 001 Chapter 012 Verse 002 Chapter 012 Verse 003 Chapter 012 Verse 004 Chapter 012 Verse 005 Chapter 012 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الف، لام، را ہے۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔
    سورہ کا قرآنی نام: ’الٓرٰ‘ یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ یہی نام سورۂ یونس اور سورۂ ہود کا بھی ہے۔ نام میں اصل مقصود تسمیہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے معانی کی کھود کرید کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ناموں کا اشتراک معانی و مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے۔ سو یہ چیز، جیسا کہ ہم پچھلی دونوں سورتوں کی تفسیر میں اشارہ کر آئے ہیں، ان سب سورتوں میں موجود ہے۔ ان میں اصل موضوع بحث ایک ہی ہے البتہ انداز بحث اور مواد استدلال ہر ایک میں الگ الگ ہے۔ کتاب مبین کا مفہوم: ’تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ‘۔ ’کتاب مبین‘ وہ کتا ب جو اپنے بیان و استدلال میں بالکل واضح ہو، جس کی ہر بات ناقابل انکار دلائل سے مبرہن ہو، جس کا انداز بحث و نظر دل نشین، طمانیت بخش اور تمام الجھنوں کو دور کر دینے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کی صداقت کی گواہی کے لیے کسی خارجی معجزے یا نشانی کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ منکرین مطالبہ کر رہے ہیں، بلکہ اس کی حقانیت و صداقت کے سورج کی طرح روشن دلائل خود اس کے اندر ہی موجود ہیں بشرطیکہ لوگ کان کھول کر اس کو سنیں اور اس کے دلائل پر غور کریں۔
    ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا تاکہ تم سمجھو۔
    اہل عرب پر عظیم احسان: ’اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْءٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ‘۔ خطاب اہل عرب سے عموماً اور قریش سے خاص طور پر ہے کہ اللہ کا تم پر عظیم احسان ہوا ہے کہ اللہ کی یہ سب سے بڑی نعمت تمہاری عربی زبان میں نازل ہوئی ہے تاکہ تم اس کو سمجھو، اس کی قدر کرو اور اس کو دوسروں تک پہنچاؤ اور ان کو سمجھاؤ۔ یہ اس کتاب کے ’کتاب مبین‘ ہونے کا ایک پہلو ہے اور اس میں قریش کے لیے ایک دھمکی بھی ہے کہ اگر تم نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو تم سے بڑا بدقسمت بھی کوئی اور نہ ہو گا، یہ جتنی بڑی نعمت ہے اتنی ہی بڑی نقمت کے سزاوار ٹھہرو گے اگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔
    ہم تمہیں ایک بہترین سرگزشت سناتے ہیں اس قرآن کی بدولت جو ہم نے تمہاری طرف وحی کیا۔ اس سے پہلے بے شک تم اس سے نا آشنا تھے۔
    ’احسن القصص‘ کا مفہوم: ’اَحْسَنَ الْقَصَصِ‘ میں ’قصص‘ قصہ اور سرگزشت کے معنی میں ہے۔ مصدر یعنی قصہ بیان کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر مصدر کے معنی میں ہوتا تو زبان کے معروف استعمال کے مطابق اس پر الف لام نہ آتا بلکہ ’احسن قصص‘ ہوتا۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم تمہیں بہترین قصہ سناتے ہیں۔ یہ معنی اس کے صحیح نہیں ہیں کہ ہم تمہیں بہترین پیرایہ میں سناتے ہیں۔ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے، مثلاً سورۂ اعراف میں ہے: ’فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ‘ (پس ان کو سرگزشت سناؤ تاکہ وہ غور کریں) سورۂ قصص میں ہے: ’فَلَمَّا جَآءَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ‘ (پس جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کو سرگزشت سنائی) ہمارے نزدیک ’احسن القصص‘ اسی طرح کی تالیف کلام ہے جس کی نظیر قرآن میں’اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ‘۔(۲۳ زمر) (اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے) ہے۔ یہ امر بھی یہاں قابل توجہ ہے کہ ’احسن القصص‘ کو مصدر کے معنی میں لینے کی صورت میں مفعول غائب ہو جاتا ہے۔ درآنحالیکہ فعل اپنے مفعول کا مقتضی ہے اور قرآن میں ہر جگہ یہ اپنے مفعول کے ساتھ ہی آیا ہے۔ یہ چند اشارات تالیف کلام سے متعلق ہیں۔ رہا یہ سوال کہ حضرت یوسفؑ کی اس سزگزشت کو ’احسن القصص‘ سے کیوں تعبیر فرمایا گیا ہے تو اس کے بعض پہلو ہم اپنے تمہیدی مباحث میں واضح کر چکے ہیں اور بعض کی طرف ہم آگے ان کے محل میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے۔ ایک سرگزشت آنحضرت صلعم کے لیے بمنزلہ آئینہ: اوپر کی آیات میں خطاب عام ہے اور اس کی نوعیت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قریش کو تنبیہ کی تھی۔ اب اس آیت سے روئے سخن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف براہ راست ہو گیا ہے۔ آپؐ کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم تمہیں ایک بہترین سرگزشت سنا رہے ہیں اور یہ سرگزشت اس قرآن کی بے شمار برکتوں میں سے ایک برکت ہے جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں، اس سے پہلے تم اس سے بالکل ناآشنا تھے۔ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس سرگزشت کے دو نہایت اہم پہلو آپؐ کے سامنے واضح کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ احسن القصص ہے، دوسرا یہ کہ یہ آپؐ کی رسالت کی ایک نہایت واضح دلیل ہے۔ جہاں تک اس کے احسن القصص ہونے کا تعلق ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے کر چکے ہیں۔ ایک سرگزشت اگر بجائے خود سچی بھی ہو اور جس کو سنائی جا رہی ہو اس کے لیے وہ بمنزلہ ایک آئینہ کے بھی بن جائے جس میں وہ اپنی زندگی کے تمام نشیب و فراز کامیابی کی آخری منزلوں تک، دیکھ لے تو اس سرگزشت سے زیادہ سبق آموز، بابرکت اور قیمتی سرگزشت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت یوسفؑ کی سرگزشت کی نوعیت یہی تھی۔ اس میں آپؐ کو آپؐ کے حاضر اور مستقبل کا پورا نقشہ دکھا دیا گیا جس میں چند مقامات بہت سخت بھی تھے لیکن آخری منزل نہایت شان دار تھی۔ اس راہ میں اگرچہ غار ثور بھی آتا تھا لیکن غار ثور کی ظلمتوں سے مدینہ کی حکومت بھی نظر آرہی تھی اور مکہ کی پرمحن زندگی کے اندر اس دن کی جھلک بھی نمایاں تھی جب کہ مکہ کے متمردین گھٹنے ٹیک کر آپ سے عفو و کرم کی التجائیں کریں گے۔ سرگزشت کے دلیل رسالت ہونے کی نوعیت: رسالت کی دلیل یہ یوں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے۔ آپ نہ تو اس سرگزشت سے واقف ہی تھے نہ آپؐ کے پاس اس سے واقف ہونے کا ذریعہ ہی تھا۔ یہ قرآن کا فیض تھا کہ آپؐ اس سے واقف ہوئے اور اس صحت و صداقت اور ایسی وسعت و تفصیل کے ساتھ واقف ہوئے کہ اہل کتاب بھی اس سے واقف نہ تھے۔ اس پہلو سے یہ آپؐ کی قوم کے لیے بھی آپؐ کی رسالت کی ایک دلیل تھی اور اہل کتاب کے لیے بھی، کہ اگر آپؐ وحی الٰہی سے مشرف نہیں ہیں تو یہ باتیں اس استقصا اور صحت و صداقت کے ساتھ آپؐ کو کیسے معلوم ہوئیں! ’مِنْ قَبْلِہٖ‘ کے لفظ سے اس امر واقعی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اگر اس قرآن سے پہلے تمہیں اس سرگزشت کی کچھ بھی واقفیت ہوتی تو چالیس سال کی وسیع مدت میں کبھی تو بات زبان پر آتی۔ پھر تمہارے مخالفین کیوں نہیں سوچتے کہ اگر یہ وحی الٰہی کا فیضان نہیں ہے تو یہ چشمہ یکایک کہاں سے پھوٹ پڑا۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ تورات اور تالمود میں یہ سرگزشت ہے ضرور لیکن اول تو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا آپؐ کے پاس ان سے واقف ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، پھر ان کے بیان اور قرآن کے بیان میں قدم قدم پر اختلاف ہے اور اس اختلاف پر جو شخص بھی انصاف سے غور کرے گا وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ قرآن کا بیان بالکل نیچرل ہے اور تورات کا بیان بالکل خلاف عقل و فطرت اور شان نبوت کا منافی۔
    یہ اس وقت کی بات ہے جب یوسفؑ نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے، میں نے ان کو دیکھا کہ وہ میرے آگے سربسجود ہیں۔
    حضرت یوسفؑ کا خواب: اب یہ اصل سرگزشت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ حضرت یوسفؑ نے ایک دن اپنے والد حضرت یعقوبؑ سے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند میرے آگے سربسجود ہیں۔ حضرت یوسفؑ کا اس خواب کو سب سے پہلے اپنے والد کے علم میں لانا ان کی غیرمعمولی سلیم الطبعی، نیک نیتی اور سعادت مندی کی دلیل ہے۔ اس طرح کا خواب اگر کوئی اوچھی طبیعت کا آدمی دیکھتا تو سب سے پہلے اپنی بڑائی کا ڈھول دوسروں میں پیٹتا لیکن حضرت یوسفؑ بچپن ہی سے نہایت رزین، متین اور سنجیدہ تھے۔ انھوں نے یہ خواب دیکھا تو انھیں یہ محسوس ہوا کہ یہ خواب خواب پریشاں کی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اہمیت رکھنے والا خواب ہے اس وجہ سے انھوں نے اس کو سب سے پہلے اپنے والد ماجد کے سامنے پیش کیا جن پر ہر پہلو سے ان کو سب سے زیادہ اعتماد تھا۔ آیت کے الفاظ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کی طبیعت کے اندر جو تواضع تھی وہ خواب کو پیش کرنے کے انداز میں بھی نمایاں ہے۔ حضرت یعقوبؑ کے سامنے جاتے ہی بے دھڑک یوں نہیں کہہ دیا کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کو اپنے آگے سربسجود دیکھا بلکہ خواب کا ابتدائی حصہ کہ ’میں نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کو دیکھا، کہہ کر ٹھٹک گئے اس لیے کہ آگے کی بات میں ان کی بڑائی نمایاں تھی جس کے اظہار سے ان کی متواضع طبیعت جھجھکتی تھی لیکن چونکہ اظہار ضروری تھا اس وجہ سے ذرا توقف کے بعد فرمایا کہ ’رَاَیْتُھُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ‘ میں نے دیکھا کہ وہ میرے لیے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے اندازہ کر سکتے ہیں کہ فعل ’رایت‘ کے اعادہ میں یہ بلاغت ہے کہ اس میں رویا کے بیان کرتے وقت خاص کر واقعۂ سجدہ کے بیان کرتے وقت، حضرت یوسفؑ پر جو جھجھک طاری رہی ہے وہ واضح ہے۔
    اس نے جواب دیا کہ اے میرے بیٹے تم اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ وہ تمہارے خلاف کسی سازش میں لگ جائیں۔ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔
    حضرت یعقوبؑ کی تعبیر اور حضرت یوسفؑ کو ہدایت: حضرت یعقوبؑ نے خواب سنتے ہی یہ اندازہ فرما لیا کہ یہ منصب نبوت پر سرفرازی کا اشارہ ہے لیکن اس بشارت سے پہلے انھوں نے حضرت یوسفؑ کو تاکید کے ساتھ منع فرمایا کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کے آگے نہ بیان کر دینا کہ کہیں وہ حسد سے جل بھن کر تمہارے خلاف کسی سازش میں سرگرم ہو جائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ حضرت یوسفؑ کے کل گیارہ بھائی تھے جن میں سے دس ان کی سوتیلی ماؤں سے تھے۔ صرف سب سے چھوٹے بھائی بن یامین ان کی اپنی ماں سے تھے۔ یہاں اشارہ انھی دس سوتیلے بھائیوں کی طرف ہے۔ چونکہ ان بھائیوں کی پرخاش حضرت یوسفؑ کے ساتھ واضح تھی اس وجہ سے حضرت یوسفؑ کو اندیشہ ہوا کہ اگر کہیں انھوں نے یوسفؑ کا خواب سن لیا تو ان کی حسد کی آگ اور بھڑک اٹھے گی اور عجب نہیں کہ وہ حسد سے اندھے ہو کر ان کو نقصان پہنچانے کی کوئی خطرناک سازش کر ڈالیں ’اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ‘ یعنی کھلا ہوا دشمن شیطان تو موجود ہی ہے، وہ کہیں ان کو کسی فتنہ کی راہ پر نہ ڈال دے۔
    اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی حقیقتوں تک پہنچنا سکھائے گا اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا جس طرح اس نے اس سے پہلے تمہارے اجداد ابراہیمؑ اور اسحاقؑ پر اپنی نعمت تمام کی۔ بے شک تمہارا رب بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔
    حضرت یعقوبؑ نے جب خواب سنا تو چونکہ یہ بات ان کے علم میں تھی کہ نبوت کا آغاز رویائے صادقہ ہی سے ہوتا ہے اور اس خواب کا ظاہر ہی بتا رہا تھا کہ یہ سچا خواب ہے اور خواب دیکھنے والے کے لیے ایک شان دار مستقبل کی پیشین گوئی کر رہا ہے اس وجہ سے انھوں نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے ٹھیک ہے۔ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب تمہارا رب تمہیں منصب نبوت کے لیے منتخب فرمائے گا۔ ’وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ‘ میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے ایک تو اس بات کی طرف کہ اس رویا کی حقیقت اللہ تعالیٰ خود تم پر واضح فرما دے گا۔ چنانچہ جب اس کی حقیقت حضرت یوسفؑ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تو فرمایا: ’یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْ یَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا وَقَدْ اَحْسَنَ بِیْٓ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِکُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْم بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ اِنَّہٗ ھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۵ رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ‘۔ (اے میرے باپ یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اس کو حقیقت کر دکھایا اور اس نے مجھ پر بڑا ہی کرم فرمایا جب کہ مجھے قید خانہ سے باہر نکالا اور آپ لوگوں کو بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، دیہات سے یہاں لایا، میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کو نہایت خوبی سے کر دکھاتا ہے۔ وہ بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ اے میرے رب تو نے مجھے حکومت بھی عطا فرمائی اور رویا کی تعبیر بھی بتائی)۔ تعبیر رؤیا کا علم: دوسری یہ کہ رویا چونکہ علوم نبوت کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور رویا میں حقائق مجاز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن کو سمجھنا ایک خاص ذہنی مناسبت کا مقتضی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ حضرات انبیاء علیہم السلام کو تعبیر رویا کا ایک خاص ذوق اور ایک خاص علم بھی عطا فرماتا ہے۔ حضرت یعقوبؑ نے جب محسوس فرما لیا کہ اس رویا میں حضرت یوسفؑ کے لیے نبوت کی بشارت ہے تو ساتھ ہی ان پر یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اب حضرت یوسفؑ کو تعبیر رویا کا علم بھی عطا ہو گا تاکہ رویا کی شکل میں جو حقائق ان پر وارد ہوں ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر وہ منشائے خداوندی کی تعمیل کر سکیں۔ چنانچہ آگے اسی سورہ میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم میں ان کا درجہ اتنا بلند کیا کہ بالآخر یہی علم ان کے لیے مصر کی بادشاہی کے حصول کا ذریعہ بن گیا۔ اصل نعمت دین و شریعت ہے: ’یُتِمُّ عَلَیْکَ ....... الایہ‘۔ نعمت سے مراد دین و شریعت کی نعمت ہے۔ دنیا کی دوسری چیزوں کا نعمت ہونا ایک امر اضافی ہے۔ جب بندے کو دین و شریعت کی نعمت ملتی ہے تب ہی نعمت کامل ہوتی ہے۔ حضرت یعقوبؑ نے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے اجداد ابراہیمؑ اور اسحقؑ کو اپنی نعمت سے نوازا اسی طرح وہ تم کو اور آل یعقوب کو بھی اس نعمت سے نوازے گا اور تم نے جو رویا دیکھی ہے وہ اسی اتمام نعمت کی بشارت ہے۔ اللہ بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے وہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List