Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • ہود (Hud)

    123 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس پورے گروپ کے عمود اور اس کے مطالب پر ایک جامع تبصرہ ہم سورہ یونس کی تمہید میں پیش کر چکے ہیں۔ یہ سورہ چونکہ ہمارے اصول سے سورۂ یونس ہی کا مثنیٰ ہے اس وجہ سے نفس عمود میں دونوں کے درمیان کچھ ایسا فرق نہیں ہے، البتہ اجمال و تفصیل اور بحث و استدلال کے اعتبار سے دونوں کا نہج الگ الگ ہے۔ سورۂ یونس میں جو باتیں بالاجمال بیان ہوئی تھیں، مثلاً پچھلی قوموں کی سرگزشتیں ۔۔۔ وہ اس سورہ میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں اور اس حقیقت کی طرف اس کی پہلی ہی آیت نے اشارہ بھی کر دیا ہے۔ ’کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ‘ (یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں، پھر خدائے حکیم و خبیر کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی)۔ ان دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی یعنی ’الٓرا‘ ہے اور یہ بات ہم اس کے محل میں واضح کر چکے ہیں کہ سورتوں کے نام میں اشتراک ان کے مطالب کے اشتراک پر دلیل ہے۔

  • ہود (Hud)

    123 آیات | مکی
    یونس ——- ہود

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اِس انذار و بشارت کے تاریخی دلائل، البتہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میںیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 011 Verse 001 Chapter 011 Verse 002 Chapter 011 Verse 003 Chapter 011 Verse 004 Chapter 011 Verse 005 Chapter 011 Verse 006 Chapter 011 Verse 007 Chapter 011 Verse 008 Chapter 011 Verse 009 Chapter 011 Verse 010 Chapter 011 Verse 011 Chapter 011 Verse 012 Chapter 011 Verse 013 Chapter 011 Verse 014 Chapter 011 Verse 015 Chapter 011 Verse 016 Chapter 011 Verse 017 Chapter 011 Verse 018 Chapter 011 Verse 019 Chapter 011 Verse 020 Chapter 011 Verse 021 Chapter 011 Verse 022 Chapter 011 Verse 023 Chapter 011 Verse 024
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الٓرٰ ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں پھر خدائے حکیم و خبیر کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی۔
    آیات قرآن میں اجمال اور تفصیل: ’الٓرٰ کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیَاتُہٗ .....الایۃ‘۔ ’الٓرٰ‘ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ یہی نام پچھلی سورہ کا بھی ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ عمود و مضمون کے اعتبار سے دونوں سورتیں باہم ملتی جلتی ہیں چنانچہ آگے آپ دیکھیں گے کہ ان دونوں میں فرق صرف اجمال و تفصیل کا ہے۔ پچھلی سورہ میں جو پہلو مجمل رہ گئے تھے وہ اس میں وضاحت سے سامنے آ گئے ہیں۔ یہ فرق یوں تو ہر پہلو میں نمایاں ہے لیکن خاص طور پر واقعات کے بیان میں یہ فرق بہت زیادہ نظر آئے گا۔ اجمال کے بعد تفصیل کا یہ طریقہ، جو قرآن نے اختیار کیا ہے، یہ صرف تنوع کی خاطر نہیں اختیار کیا ہے بلکہ تعلیم و تربیت اور تبلیغ و دعوت کے نقطۂ نظر سے یہی طریقہ مفید اور بابرکت ہے۔ ’احکام‘ کا مفہوم: ’اِحکام‘ کے معنی کسی چیز کو اچھی طرح گانٹھنے اور مضبوط کرنے کے ہیں۔ کپڑا خوب ٹھونک کر گف بُنا جائے تو یہ لفظ اس کے لیے بھی آئے گا۔ قرآنی آیات کے لیے اس لفظ کے استعمال سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ قرآن کی تعلیمات پہلے گٹھے ہوئے، مختصر اور جامع جملوں کی شکل میں نازل ہوئیں، پھر بالتدریج وہ واضح اور مفصل ہوتی گئیں۔ چنانچہ مکہ کے ابتدائی دور میں جو سورتیں نازل ہوئیں وہ اختصار، جامعیت اور اعجاز بیان کا کامل نمونہ ہیں۔ دین کی بنیادی باتیں مختصر گٹھے ہوئے جملوں میں دریا بکوزہ کی مثال ہیں۔ بعد میں آہستہ آہستہ ان پر تفصیل کا رنگ آیا یہاں تک کہ مدنی دور میں آ کر دین کی وہی بنیادی باتیں ایک جامع اور ہمہ گیر نظام زندگی کی شکل میں نمایاں ہو گئیں۔ اس چیز کا حوالہ دینے سے مقصود اس اہتمام خاص کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا ہے جو ان کی تعلیم و تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں ملحوظ رکھا ہے۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ تورات کے معاملے میں ترتیب و تدریج اور احکام و تفصیل کا یہ اہتمام نہیں ہوا بلکہ اس کا بیشتر حصہ بیک دفعہ نازل ہو گیا۔ آخر میں ’حکیم و خبیر‘ کی صفات کا حوالہ ہے اس لیے کہ خدائے حکیم ہی جان سکتا تھا کہ وہ حکمت کے خزانوں کو کس طرح مختصر لفظوں میں بند کرے اور پھر خدائے خبیر ہی کی یہ شان تھی کہ وہ کھول کر دکھائے کہ ایک کوزے میں کتنے دریا اور کتنے سمندر بند ہیں۔
    کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ہوشیار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔
    قرآن کا بنیادی پیغام: ’اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰہَ ......... الایۃ‘۔ یہ اس کتاب کا بنیادی پیغام ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ یہی پیغام تمام دین و شریعت کی اصل ہے۔ اللہ کے رسول ہمیشہ اسی پیغام کے ساتھ بشیر و نذیر بن کر آئے۔ انھوں نے اس پیغام کے قبول کر لینے والوں کے فضل و رحمت کی بشارت دی اور جو لوگ اس سے اعراض کریں ان کو ایک ہولناک عذاب سے ڈرایا۔ چنانچہ انذار و بشارت کا یہی فریضہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہوا تھا۔
    اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت چاہو، پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو ایک وقت معین تک اچھی طرح بہرہ مند کرے گا اور ہر مستحق فضل کو اپنے فضل سے نوازے گا۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو میں تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔
    بشارت: ’وَاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ‘ یہ بشارت کا پہلو مذکور ہوا ہے کہ اپنے رب سے مغفرت مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو تو اللہ تعالیٰ ایک مدت معینہ تک اس دنیا میں تم کو اپنی نعمتوں سے بہرہ مند کرے گا اور ہر مستحق فضل کو خاص اپنے فضل سے نوازے گا۔ انذار: ’وَاِنْ تَوَلَّوْا ..... الایۃ‘۔ یہ انذار کا پہلو بیان ہوا ہے کہ اگر اس دعوت سے منہ موڑو گے تو ایک ہولناک دن کے عذاب سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہو۔ اس عذاب سے وہ عذاب مراد ہے جو رسول کی تکذیب کرنے والوں پر لازماً آتا ہے۔ رسول کے مان لینے والوں کو زندگی کی مہلت ملتی ہے اور کامیابی نصیب ہوتی ہے جو اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک لوگ صحیح راستہ پر استوار رہتے ہیں لیکن رسول کے مکذبین اتمام حجت کی مہلت گزر جانے پر کسی ہولناک عذاب کے ذریعے سے یک قلم ختم کر دیے جاتے ہیں۔ توبہ کے دو رکن: اس آیت سے توبہ کے متعلق بھی یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس کے دو اہم رکن ہیں۔ ایک استغفار دوسرا توبہ۔ استغفار تو یہ ہے کہ آدمی اپنے جرم کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اس سے آئندہ باز رہنے کا عہد کرے اور توبہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور اس صحیح راہ کو اختیار کرے جس کی طرف اللہ نے رہنمائی فرمائی ہے۔ اگر آدمی جرم سے باز نہ آئے اور صحیح روش اختیار نہ کرے تو زبان سے لاکھ توبہ توبہ کرے اس کی توبہ محض مذاق ہے۔
    اللہ ہی کی طرف تم سب کا پلٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    ’اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ ...... الایۃ‘۔ اوپر مکذبین رسول کے لیے جس عذاب کا ذکر ہے اس کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ اب یہ آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے کہ اس کے بعد تمہاری واپسی خدا کی طرف ہونی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ کے ابہام کے اندر جو تخویف ہے وہ کسی تصریح کے اندر نہیں سما سکتی۔
    ذرا دیکھو، یہ اپنے سینے موڑتے ہیں کہ اس سے چھپ جائیں۔ آگاہ ہو، یہ اس وقت بھی اس کی نظر میں ہوتے ہیں جب اپنے اوپر کپڑے لپیٹتے ہیں۔ وہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ تو سینوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہے۔
    متکبرین کے تکبر کی تصویر: ’ثنی‘ کے معنی پھیرنے، موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ آدمی جب کسی بات کو غرور اور نفرت کے سبب سے سننا نہیں چاہتا تو مونڈھے جھٹک کر اور سینہ موڑ کر وہاں سے چل دیتا ہے۔ اسی حالت کو سورۂ حج آیت ۹ میں ’ثانی عطفہ‘ سے تعبیر فرمایا ہے اور یہاں ’یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ‘ سے۔ اسی چیز کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ آدمی اپنی چادر سنبھالتا اور اپنے اوپر لپیٹتا اور چل دیتا ہے اس کو ’استغشائے ثیاب‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ مثلاً سورۂ نوح آیت ۷ میں ہے: ’وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُھُمْ لِتَغْفِرَلَہُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَھُمْ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا‘ (اور میں نے جب جب ان کو دعوت دی کہ تو ان کی مغفرت فرمائے انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنی چادریں لپیٹ لیں اور ضد کی اور نہایت گھمنڈ کیا)۔ اب اس آیت میں تصویر ہے اس رویے کی جو پیغمبر کے انذار کے جواب میں متکبرین قریش اختیار کرتے تھے کہ غرور سے سینہ موڑ کے وہاں سے چل دیتے اور اس طرح اپنے زعم میں گویا خدا اور اس کے انذار سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیتے۔ انسان کی حماقتوں میں سے ایک حماقت یہ بھی ہے کہ وہ ایک حقیقت کا مواجہہ کرنے سے گریز کرتا ہے اور سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب وہ حقیقت حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ کسی کے گریز کرنے سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ شترمرغ طوفان کا احساس کر کے اپنا سر ریت میں چھپا لیا کرتا ہے تو اس سے طوفان کا رخ تبدیل نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح اگر خدا انذار فرما رہا ہے تو اس سے چھپنے کی یہ تدبیر بالکل ہی احمقانہ ہے کہ اس کو سننے سے گریز کیا جائے۔ آخر خدا سے آدمی کہاں چھپ سکتا ہے، وہ تو اس وقت بھی لوگوں کو دیکھتا ہے جب لوگ اپنے اوپر اپنی چادریں لپیٹتے ہیں۔ وہ تو ظاہر سے بھی واقف ہوتا ہے اور پوشیدہ سے بھی اور سینوں کے تمام اسرار سے بھی۔  
    اور زمین کے ہر جان دار کا رزق اللہ ہی کے ذمہ ہے۔ اور وہ جانتا ہے اس کے مستقر اور مدفن کو۔ ہر چیز ایک واضح رجسٹر میں درج ہے۔
    خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے: ’مُسْتَقَر‘ اور ’مَسْتَوْدَعَ‘ پر انعام آیت ۹۸ کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ ’مُسْتَقَر‘ سے مراد وہ ٹھکانا ہے جہاں انسان زندگی کے دن گزارتا ہے اور ’مَسْتَوْدَعَ‘ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ مرنے کے بعد زمین کے سپرد کیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اسی مضمون کی مزید وضاحت ہے جو اوپر والی آیت میں گزرا کہ خدا کا علم ہر چیزکا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی اس سے بھاگ یا چھپ نہیں سکتا۔ فرمایا کہ وہ خدا ہی ہے جس کے ہاتھوں ہر جان دار کو روزی مل رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو ہر جان دار کو، وہ جہاں بھی ہو۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر یا سمندروں کی تہوں میں، گھنے جنگلوں میں یا آباد شہروں میں، اس کا مقدر رزق پہنچا رہا ہے کیا اس سے کوئی چیز مخفی ہو سکتی ہے؟ پھر اس میں خدا سے چھپنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے ایک مخفی ملامت بھی ہے کہ حیف ہے ان لوگوں پر جو اس کی بات سننے سے گریز کر رہے ہیں جس کے بخشے ہوئے رزق پر پل رہے ہیں۔ ’یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّھَا وَمَسْتَوْدَعَھَا‘ وہ ہر ایک کے مستقر کو بھی جانتا ہے اور اس کے مدفن کو بھی جانتا ہے جہاں وہ مرنے کے بعد زمین کی امانت میں دیا جاتا ہے۔ مدفن کے لیے ’مَسْتَوْدَعَ‘ کا لفظ استعمال کرنے میں یہ بلیغ تذکیر ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب وہ مر گیا تو بس فنا ہو گیا۔ وہ فنا نہیں ہو جاتا بلکہ وہ زمین کی امانت میں دے دیا جاتا ہے اور ایک دن آئے گا جب زمین یہ امانت اپنے رب کے حوالے کرے گی۔ ’کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ‘ ہر چیز ایک واضح رجسٹر میں درج ہے، نہ کوئی چیز درج ہونے سے رہ گئی اور نہ کسی چیز کی تلاش کے لیے کوئی زحمت اٹھانی ہے۔
    اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں جانچے کہ کون اچھے عمل والا ہے اور اگر تم کہتے ہو کہ مرنے کے بعد تم لوگ اٹھائے جاؤ گے تو یہ کافر کہتے ہیں کہ یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہے۔
    جزا اور سزا کی دلیل: یہ اس جزا و سزا کا بیان ہے جس سے ان کو ڈرایا جاتا تھا لیکن وہ اس کو تسلیم کر کے اس کے لیے تیاری کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ فرمایا کہ وہی خدا جس کے رزق پر سب پل رہے ہیں وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس سے پہلے اس کی حکومت پانی پر تھی۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ چھ دنوں سے یہ ہمارے دن مراد نہیں ہیں بلکہ خدائی دن مراد ہیں جن میں سے ہر دن ہمارے ہزاروں سال کے برابر ہوتا ہے۔ ہم ان کو ادوار سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ دنیا کا چھ ادوار میں درجہ بدرجہ ظہور میں آنا اور اپنے نقطۂ کمال کو پہنچنا اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا ظہور کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ اس کے خالق نے ارادہ، اسکیم، ترتیب اور حکمت کے ساتھ اس کو وجود بخشا ہے۔ یہ ارادہ، اسکیم اور ترتیب و حکمت اس بات کی شہادت ہے کہ یہ کوئی بے غایت و بے مقصد کارخانہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے جس کا ظہور میں آنا لازمی ہے۔ ’وَکَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ‘۔ ’عرش‘ خدا کی حکومت کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کرۂ ارض کی خشکی نمودار ہونے سے پہلے پہلے یہ سارا کرہ مائی تھا اور اللہ کی حکومت اس پر تھی۔ پھر پانی سے خشکی نمودار ہوئی اور زندگی کی مختلف النوع انواع ظہور میں آئیں اور درجہ بدرجہ یہ پورا عالم ہستی آباد ہوا۔ یہی بات تورات میں بھی بیان ہوئی ہے اگرچہ اس کے مترجموں نے مطلب خبط کر دیا ہے۔ کتاب پیدائش کی پہلی ہی آیت میں یہ الفاظ ہیں:’’اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔‘‘ ’لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ‘۔ یعنی یہ سارا اہتمام و انتظام صاف اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ دنیا کوئی بازیچۂ اطفال یا کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا نہیں ہے کہ یوں ہی پیدا ہوئی، یوں ہی تمام ہوجائے۔ انسان جو اس میں گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کے لیے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ساری چیزیں پیدا کی گئی ہیں کوئی شتر بے مہار نہیں چھوڑا گیا کہ کھائے پیے، عیش کرے اور ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس دنیا کے خالق نے ایک عبث کام کیا درآنحالیکہ اس دنیا کے ایک ایک ذرہ سے اس کی قدرت، حکمت اور رحمت کی ایسی شہادتیں مل رہی ہیں کہ ان کی موجودگی میں اس کی طرف کسی کار عبث کی نسبت بالکل خلاف عقل ہے۔ اگر اس کی طرف اس طرح کی کوئی نسبت خلاف عقل ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ انسان کو ارادے کی آزادی اور خیر و شر کا امتیاز دے کر یہ امتحان کر رہا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے خیر کی راہ اختیار کرتا ہے یا شر کی اور لازماً وہ اس کے لیے ایک دن اپنے رب کے آگے مسؤل اور جواب دہ ہو گا اور اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا بھگتے گا۔ یاد ہو گا، عالم کے چھ دن میں پیدا کیے جانے کا ذکر سورۂ یونس میں بھی ہوا ہے۔ یہاں اس پر ’لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا‘ کا اضافہ ہے جس سے وہ حقیقت واضح ہوتی ہے جو اس اہتمام سے اس عالم کے پیدا کیے جانے میں مضمر ہے۔ ’وَلَءِنْ قُلْتَ اِنَّکُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ ....... الایۃ‘۔ یعنی یہ بات تو بالکل بدیہی اور نہایت واضح معلوم ہوتی ہے لیکن اگر یہی بات تم ان لوگوں کو سمجھاتے ہو کہ مرنے کے بعد تم حساب کتاب اور جزا و سزا کے لیے اٹھائے جاؤ گے تو یہ تمہاری تقریر کے زور اور تمہارے حسن بیان کو صداقت کی دل نشینی قرار دینے کے بجائے الفاظ و بیان کی جادوگری قرار دیتے ہیں تاکہ یہ اپنے عوام کو دھوکا دے سکیں کہ وہ قرآن اور پیغمبر کی باتوں سے متاثر نہ ہوں۔
    اور اگر ہم ان سے عذاب کو کچھ مدت کے لیے ٹالے دیتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ اس کو کیا چیز روکے ہوئے ہے! آگاہ کہ جس دن وہ ان پر آ دھمکے گا تو ان سے ٹالا نہ جا سکے گا اور جس چیز کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہ ان کو آ گھیرے گی۔
    لفظ ’امۃ‘ کا مفہوم: ’وَلَءِنْ اَخَّرْنَا عَنْھُمُ الْعَذَابَ اِآٰی اُمَّۃٍ ......الایہ‘ لفظ ’امت‘ یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم یعنی مدت کے معنی میں ہے جس طرح سورۂ یوسف میں ہے:’وَقَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْھُمَا وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ‘۔(۴۵) (اور کہا اس نے جس نے ان دونوں میں سے رہائی پالی تھی اور ایک مدت کے بعد اس نے یاد کیا)۔ کفار کے استہزاء کا جواب: اوپر کی آیت میں ان کے اس مذاق کا ذکر ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی خبر کا وہ اڑا رہے تھے۔ اس آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہی مذاق کی روش ان کی اس عذاب کے بارے میں بھی ہے جس سے اس دنیا میں ان کو لازماً دوچار ہونا ہے اگر انھوں نے رسول کی تکذیب کر دی۔ فرمایا کہ جس عذاب کی ان کو خبر دی جا رہی ہے اگر کچھ مدت کے لیے ہم اس کو ٹال رہے ہیں تو یہ ہماری عنایت ہے کہ ہم ان کو توبہ و اصلاح کی مہلت دے رہے ہیں لیکن یہ اپنی بدبختی سے اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ایک دھونس ہے اور پیغمبر کا مذاق اڑاتے ہیں کہ عذاب آنے والا ہے تو آ کیوں نہیں جاتا، کس چیز نے اس کو باندھ رکھا ہے۔ فرمایا کہ ان کی اس جسارت اور بدبختی پر افسوس ہے۔ جس دن وہ عذاب ظاہر ہو گا، کسی کی یہ طاقت نہ ہو گی کہ وہ اس کو ان سے ہٹا سکے، نہ یہ خود اس کے رخ کو موڑ سکیں گے اور نہ ان کے شرکاء اور شفعاء اس وقت ان کی کچھ مدد کر سکیں گے، وہ عذاب ان کو اپنے گرداب میں لے لے گا جس کو یہ دل لگی سمجھتے اور جس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
    اور اگر ہم انسان کو کسی فضل سے نوازتے ہیں پھر اس سے اس کو محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے۔
    ایک خاص اسلوب کلام: ’وَلَءِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ ...... اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ‘۔ یہاں لفظ انسان اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اوپر سے آ رہا ہے۔ ضدی اور جھگڑالو مخاطب سے جب منہ پھیر لینا مقصود ہوتا ہے تو بسا اوقات یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ اس کو خطاب کر کے یا اس کی طرف اشارہ کر کے بات کہنے کے بجائے ایک کلیہ کے اسلوب میں بات کہہ دی جاتی ہے جس سے اعراض کا مقصد بھی پورا ہو جاتا ہے اور بات بھی ایک کلیہ کا جامہ اختیار کر لینے کی وجہ سے زیادہ مؤثر اور جان دار ہو جاتی ہے۔ یہی اسلوب تقریر یہاں اختیار کیا گیا ہے اور اس کی نہایت بلیغ مثالیں آگے آئیں گی۔ اس اسلوب کے فوائد پر ان شاء اللہ ہم کسی موزوں مقام پر بحث کریں گے۔ پیغمبرؐ کو صبر کی تلقین: مطلب یہ ہے کہ اس وقت اللہ نے ان کو جو اپنے رزق و فضل سے نواز رکھا ہے تو یہ اس کے شکر گزار ہونے کے بجائے بدمستی میں اس کی تذکیر و تنبیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو ڈرنے کے بجائے ڈھیٹ ہو کر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کی اس حالت پر صبر کرو اور ان کو نظر انداز کرو۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ جب اللہ ان کو اپنے فضل سے نوازتا ہے تو وہ اس کے شکرگزار ہونے کے بجائے اکڑتے اور دندناتے ہیں اور جب ذرا خدا کی گرفت میں آ جاتے ہیں تو فوراً دل شکستہ اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ آج ان کے طنطنہ اور غرہ کا یہ حال ہے کہ اپنے آگے کسی کو خاطر ہی میں نہیں لا رہے ہیں لیکن اس طنطنہ کی کوئی بنیاد نہیں ہے، قدرت ذرا سا جھنجھوڑ دے تو دیکھو کیسے بلبلا اٹھتے ہیں۔
    اور اگر کسی تکلیف کے بعد، جواس کو پہنچی اس کو نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے میری مصیبتیں دفع ہوئیں اور وہ اکڑنے والا اور شیخی بگھارنے والا بن جاتا ہے۔
    ایک خاص اسلوب کلام: ’وَلَءِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ ...... اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ‘۔ یہاں لفظ انسان اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اوپر سے آ رہا ہے۔ ضدی اور جھگڑالو مخاطب سے جب منہ پھیر لینا مقصود ہوتا ہے تو بسا اوقات یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ اس کو خطاب کر کے یا اس کی طرف اشارہ کر کے بات کہنے کے بجائے ایک کلیہ کے اسلوب میں بات کہہ دی جاتی ہے جس سے اعراض کا مقصد بھی پورا ہو جاتا ہے اور بات بھی ایک کلیہ کا جامہ اختیار کر لینے کی وجہ سے زیادہ مؤثر اور جان دار ہو جاتی ہے۔ یہی اسلوب تقریر یہاں اختیار کیا گیا ہے اور اس کی نہایت بلیغ مثالیں آگے آئیں گی۔ اس اسلوب کے فوائد پر ان شاء اللہ ہم کسی موزوں مقام پر بحث کریں گے۔ پیغمبرؐ کو صبر کی تلقین: مطلب یہ ہے کہ اس وقت اللہ نے ان کو جو اپنے رزق و فضل سے نواز رکھا ہے تو یہ اس کے شکر گزار ہونے کے بجائے بدمستی میں اس کی تذکیر و تنبیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو ڈرنے کے بجائے ڈھیٹ ہو کر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کی اس حالت پر صبر کرو اور ان کو نظر انداز کرو۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ جب اللہ ان کو اپنے فضل سے نوازتا ہے تو وہ اس کے شکرگزار ہونے کے بجائے اکڑتے اور دندناتے ہیں اور جب ذرا خدا کی گرفت میں آ جاتے ہیں تو فوراً دل شکستہ اور مایوس ہو جاتے ہیں۔ آج ان کے طنطنہ اور غرہ کا یہ حال ہے کہ اپنے آگے کسی کو خاطر ہی میں نہیں لا رہے ہیں لیکن اس طنطنہ کی کوئی بنیاد نہیں ہے، قدرت ذرا سا جھنجھوڑ دے تو دیکھو کیسے بلبلا اٹھتے ہیں۔
    صرف وہ اس سے مستثنیٰ ہیں جو صبر کرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہیں۔ انہی کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔
    خدا کے پسندیدہ بندوں کی روش: ’اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ..........‘ الایۃ۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو مذکورہ عام کلیہ سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی آزمائش اور مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ سے مایوس و دل شکستہ ہونے کے بجائے اس کی رحمت کی امید پر صابر و مطمئن رہتے ہیں اور جب اس کے فضل و نعمت سے نوازے جاتے ہیں تو اکڑنے اور مغرور ہونے کے بجائے اس کے شکرگزار ہوتے اور نیک عمل کرتے ہیں۔ مصیبت ان کی صبر کی صفت کو مستحکم کرتی ہے اور نعمت ان کے لیے شکر اور اعمال صالحہ کی راہیں کھولتی ہے۔ یہی لوگ انسانیت کے گل سرسبد ہیں اور ان کے لیے اللہ کے ہاں مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے مصائب سے مایوسی کا اور نعمتوں سے غرور و تکبر کا اندوختہ فراہم کیا ہے تو یہ اپنے اس اندوختہ سمیت جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
    شاید اس چیز کا کچھ حصہ تم چھوڑ دینے والے ہو جو تم پر وحی کی جا رہی ہے اور اس سے تمہارا سینہ بھنچ رہا ہے کہ وہ کہیں گے کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ تو تم بس ایک ہوشیار کر دینے والے ہو اور ہر چیز اللہ کے حوالہ ہے۔
    پیغمبرؐ کو تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ تم ان لوگوں کے رویے سے برداشتہ خاطر ہو کر اپنے فرض کی ادائیگی میں ذرا ڈھیلے نہ پڑنا۔ اگر یہ تمہیں خدا کا رسول ماننے کے لیے یہ شرط ٹھہراتے ہیں کہ تمہارے پاس بہت بڑا خزانہ ہو یا تمہارے ساتھ کوئی فرشتہ تمہاری رسالت کی گواہی دیتا پھرے تو اس قسم کے احمقانہ مطالبات تمہارے لیے وجہ پریشانی نہ ہوں۔ تم صرف ان کے لیے نذیر بنا کر بھیجے گئے ہو، ان پر داروغہ مقرر کر کے نہیں بھیجے گئے ہو کہ لازماً ان کو تم ہدایت کے راستہ پر کر ہی دو۔ انذار کا فرض ادا کر دینے کے بعد تمہاری ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اگر لاطائل مطالبات کو بہانہ بنا کر یہ لوگ حقیقت سے گریز کرنا چاہتے ہیں تو معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ تمہاری جاں فشانیاں بھی اس کے سامنے ہیں اور ان کی شرارتیں بھی۔ وہ ان کو جس چیز کا مستحق پائے گا وہی ان کے ساتھ کرے گا اور جب کرے گا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ بن سکے گا ۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس قسم کی ہدایات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دینے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ وحی الٰہی کے کسی حصہ کی تبلیغ سے ہچکچا رہے تھے یا اس کو چھوڑ دینا چاہتے تھے بلکہ یہ حالات کی شدت اور ان کے سبب سے آپ کی پریشانی کے پیش نظر آپ کو اپنے موقف پر استقامت کی تلقین اور اپنی ذمہ داری کو اس کے حدود ہی تک محدود رکھنے کی ہدایت ہے۔ اس قسم کے مواقع میں خطاب میں جو ذرا تیزی ہوتی ہے اس کا رخ، جیسا کہ ہم بار بار ظاہر کر چکے ہیں، اصلاً پیغمبر کی طرف نہیں ہوتا بلکہ ان معاندین کی طرف ہوتا ہے جن کا عناد اس ہدایت کا موجب ہوتا ہے۔
    کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو کہ پھر تم ایسی ہی دس سورتیں گھڑی ہوئی لاؤ اور اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکو ان کو بھی بلا لو اگر تم سچے ہو۔
    مخالفین قرآن کو متبادل کلام پیش کرنے کا چیلنج: یہ استفہام اظہار تعجب کی نوعیت کا ہے۔ اوپر کے اعتراضات تو سادہ اسلوب میں نقل کر دیے ہیں لیکن قرآن کو پیغمبر کی گھڑی ہوئی کتاب قرار دینا ایک نہایت عجیب بات تھی، بالخصوص ان لوگوں کی زبان سے جو کلام کے حسن و قبح کے نقاد اور اس کے ایجاز و اعجاز کے قدردان بھی تھے اور موازنہ اور مقابلہ کے لیے ان کے پاس اپنے چوٹی کے شاعروں اور خطیبوں کے کلام کا ایک دفتر بھی موجود تھا۔ اس وجہ سے اس کا ذکر تعجب کے اسلوب میں فرمایا کہ اگر یہ بے شرم ہو کر یہ بات کہتے ہیں تو اس کا فیصلہ نہایت آسانی سے یوں ہو سکتا ہے کہ وہ بھی ایسی ہی دس سورتیں گھڑی ہوئی پیش کر دیں اور اگر یہ کام تنہا ان کے بس کا نہ ہو تو اپنے ان شرکاء اور شفعاء کو بھی اپنی مدد کے لیے بلا لیں جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں۔ ’اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ‘ میں ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ جن کو تم پوجتے ہو یہ خدا کے شریک ہیں۔ اگر یہ خدا کے شریک ہیں تو یہ سب سے زیادہ اہم موقع ہے کہ وہ قرآن کی نظیر پیش کرنے میں تمہاری مدد کریں۔ اس لیے کہ اس قرآن کی بدولت سب سے زیادہ خطرے میں خود ان کی خدائی ہے۔ دوسرا مفہوم اس کے اندر یہ ہے کہ اگر تم اپنے اس گمان میں سچے ہو کہ یہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اپنی تصنیف ہے جس کو وہ لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ سورۂ طور میں ہے: ’اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَہٗ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَ فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِہٖٖٓ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ‘(۳۳-۳۴) (کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو گھڑ لیا ہے بلکہ وہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ اگر وہ اپنے اس گمان میں سچے ہیں تو اس کے مانند کوئی کلام خود پیش کر دیں) اس آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جو لوگ اس کو گھڑی ہوئی چیز قرار دیتے تھے یہ ان کے دل کی آواز نہیں تھی بلکہ یہ محض ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ تراشا گیا تھا۔ تحدی کی نوعیت: اس سورہ میں ان سے دس سورتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سورۂ یونس آیت ۳۸ میں ایک ہی سورہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بقرہ آیت ۲۳ میں بھی ایک سورہ کا مطالبہ ہے۔ بنی اسرائیل آیت ۸۸ میں ’مثل قرآن‘ کا مطالبہ ہے اور سورۂ طور کی مذکورہ بالا آیت میں ’بِحَدِیْثٍ مِّثْلِہٖٖٓ‘ کے الفاظ ہیں جس کا واضح مفہوم یہی معلوم ہوتا ہے کہ مراد قرآن کی مانند کلام ہے۔ عام اس سے کہ وہ ایک سورہ کی شکل میں ہو یا دس سورتوں کی شکل میں، یا قرآن و کتاب کی شکل میں۔ عام طور پر لوگوں نے ان مختلف آیتوں کو سامنے رکھ کر اس تحدی کی ایک تدریج و ترتیب قائم کی ہے کہ پہلے ان سے مانند قرآن کتاب پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جب وہ اس سے عاجز رہے تودس سورتوں کا مطالبہ کیا گیا، جب وہ اس سے بھی قاصر رہے تو ادنیٰ درجہ میں ان سے ایک ہی سورہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن وہ اس کا بھی حوصلہ نہ کر سکے۔ اگرچہ یہ بات بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن اس کی صحت کا انحصار اس امر پر ہے کہ جن سورتوں میں یہ تحدی مذکور ہوئی ہے ان کا زمانۂ نزول تعین کے ساتھ معلوم ہو۔ چونکہ یہ معاملہ مشکل ہے اس وجہ سے ہمارے نزدیک صائب رائے یہ ہے کہ قرآن نے شروع ہی میں، جیسا کہ سورۂ طور کی مذکورہ بالا آیت سے واضح ہوتا ہے، قرآن کے مانند کلام پیش کرنے کا مطالبہ کیا، خواہ وہ دس سورتوں کی شکل میں ہو یا ایک ہی سورہ کی شکل میں، بعد میں اسی اجمال کو حسب موقع مختلف الفاظ میں واضح فرمایا گیا۔ ہمارے نزدیک اس کو عام معنی میں تحدی سمجھنا بھی کچھ صحیح نہیں ہے۔ تحدی اور چیلنج کا سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں گمان ہو کہ حریف میدان مقابلہ میں اترنے اور قسمت آزمائی کا حوصلہ رکھتا ہے۔ جب یہ واضح ہو کہ حریف کی ساری مشیخت محض حقیقت سے گریز و فرار کے لیے ایک بہانہ ہے تو اس کو ایک خاص اہتمام کے ساتھ چیلنج کرنے کے بجائے یہ بہتر ہوتا ہے کہ پہلا ہی وار اس کے لیے بھرپور ہو۔  
    پس اگر وہ تمہاری مدد کو نہ پہنچیں تم سمجھ لو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے اترا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو کیا اب تم مانتے ہو؟
    ’اِسْتَجَابَ لَہٗ‘ کے معنی ہیں: اس کے سوال کا جواب دیا، اس کی حاجت پوری کی۔ خدا کے تعلق سے یہ لفظ آئے تو اس کے معنی ہوں گے: اس کی دعا قبول کی۔ مخالفین قرآن پر اتمام حجت: اوپر والی آیت میں بات بالواسطہ کہی گئی تھی اس میں ان کو براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تمہارے یہ شفعاء و شرکاء قرآن کا جواب پیش کرنے کی مہم میں تمہاری حاجت روائی کے لیے نہ اٹھیں تو پھر یہ مانو کہ یہ کتاب علم الٰہی کا فیضان ہے جیسا کہ پیغمبر کہتے ہیں، نہ کہ ان کی گھڑی ہوئی، جیسا کہ تم الزام لگاتے ہو۔ ’اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰہِ‘ سے یہ بات واضح ہوئی کہ قرآن کے اعجاز کا اصل پہلو یہ ہے کہ وہ جس علم و معرفت کا خزانہ ہے وہ خزانہ خدا کے سوا کوئی اور بخش ہی نہیں سکتا۔ ’وَاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ‘ یہ دوسرا بدیہی نتیجہ ہے جو اس کا جواب پیش کرنے سے قاصر رہنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور تم جن کو معبود بنائے بیٹھے ہو، یہ محض خیالی چیزیں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اگر ان کی کوئی حقیقت ہے تو یہ وقت ہے کہ وہ تمہاری اور خود اپنی عزت بچانے کے لیے کچھ جوہر دکھائیں۔ اگر اس نازک موقع پر بھی ان کی غیرت جوش میں نہیں آتی تو پھر آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں۔ ’فَھَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ‘ کے اسلوب بیان میں تشویق و ترغیب کا پہلو بھی ہے اور زجر و ملامت کا بھی۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں اپنی بات ثابت کرنے کے لیے پورا موقع حاصل ہے، تم اس کے لیے اپنے معبودوں کو بھی مدد کے لیے بلا سکتے ہو لیکن اس سب کے بعد بھی اگر تم کچھ نہ کر سکے تو بتاؤ اسلام لانے والے بنتے ہو؟
    جو دنیا کی زندگی اور اس کے سروسامان کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
    وسعت رزق کے مغالطہ کی تردید: اوپر آیت ۱۲ میں کفار کے اس طعنہ کا حوالہ گزر چکا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی بے سروسامانی کو آپؐ کی رسالت کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جب ہم دنیوی اسباب و وسائل کے اعتبار سے ان سے نہایت بہتر حالت میں ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی نگاہوں میں بھی ہم ان سے بہتر ہیں، پھر ہم کو خدا کے غضب اور اس کے عذاب سے ڈرانے کے کیا معنی؟ اگر ہم خدا کے مبغوض و معتوب ہوتے تو کیا اس کا نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ یہ جوتیاں چٹخاتے پھرتے اور ہم عیش کرتے؟ پھر تو یہ ہونا تھا کہ یہ خزانے لٹاتے اور ہم ان کی جوتیاں سیدھی کرتے۔ ان دونوں آیتوں میں ان کے اسی مغالطے کا جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا اور اس کی زینتیں نیک اعمال کے صلہ کے طور پر نہیں ملتیں کہ جو نیک اعمال نہ کریں وہ ان سے محروم رہیں۔ یہ دنیا تو نیک اور بد دونوں کو ملتی ہے البتہ جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں، آخرت کی جن کو کوئی پروا نہیں ہوتی ان کا سارا کھاتا یہیں بے باق کر دیا جاتا ہے، آخرت میں ان کے لیے دوزخ کے سوا کچھ نہیں بچ رہتا۔ چونکہ وہ کوئی کام آخرت کو مقصود بنا کر نہیں کرتے اس وجہ سے آخرت میں ان کے سارے اعمال حبط ہو جائیں گے۔ دنیا آخرت کے بغیر مجرد باطل رہ جاتی ہے اور اس باطل کو مقصود قرار دے کر جو کچھ بھی کیا جاتا ہے سب باطل ہوتا ہے اگرچہ وہ بظاہر نیکی ہی کے کام کیوں نہ ہوں۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے: ’مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْھَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَھَنَّمَ یَصْلٰھَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا ہ وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓءِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا ہ کُلًّا نُّمِدُّ ھآؤُلَآءِ وَھٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّکَ وَمَا کَانَ عَطَآءُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًا‘ (۱۸-۲۰) (جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کو یہیں دے دیتے ہیں جو دنیا چاہتے ہیں، پھر ہم نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ذلیل اور راندہ ہو کر پڑیں گے اور جو آخرت کے طالب بنتے ہیں اور ایمان و اخلاص کے ساتھ اس کے لیے اس کے شایان شان کوشش بھی کرتے ہیں، وہی لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہو گی، ہم تیرے رب کی بخشش سے دونوں کو فیض یاب کرتے ہیں، اُن کو بھی اور اِن کی بھی اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بھی بند نہیں ہے) ان آیات میں ’مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ‘ کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دنیا کے طالبوں کو بھی اتنا ہی ملتا ہے جتنا خدا چاہتا ہے اور انہی کو ملتا ہے جن کو خدا دینا چاہتا ہے۔ یہ نہیں کہ جو دنیا کا طالب بن جائے وہ جتنا چاہے سمیٹ لے۔ ان کے معاملے میں بھی جو کچھ ہوتا ہے خدا ہی کے اختیار اور اسی کی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ اسی طرح ’وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ‘ کے الفاظ یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ طلب آخرت بھی اللہ کے ہاں وہ معتبر ہے جو ایمان و اخلاص کے ساتھ اور جس کے ساتھ آخرت کے شایان شان عملی جدوجہد بھی پائی جاتی ہو۔ اگر اس میں ریا اور شرک کی کوئی آلودگی شامل ہو، یا محض زبان کے پھاگ کے بل پر جنت کو جیتنے کے خواب دیکھے جا رہے ہوں تو ان لذیذ خوابوں کی خدا کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔  
    یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور جو کچھ انھوں نے کیا کرایا ہے سب حبط ہو جائے گا اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔
    وسعت رزق کے مغالطہ کی تردید: اوپر آیت ۱۲ میں کفار کے اس طعنہ کا حوالہ گزر چکا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی بے سروسامانی کو آپؐ کی رسالت کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جب ہم دنیوی اسباب و وسائل کے اعتبار سے ان سے نہایت بہتر حالت میں ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی نگاہوں میں بھی ہم ان سے بہتر ہیں، پھر ہم کو خدا کے غضب اور اس کے عذاب سے ڈرانے کے کیا معنی؟ اگر ہم خدا کے مبغوض و معتوب ہوتے تو کیا اس کا نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ یہ جوتیاں چٹخاتے پھرتے اور ہم عیش کرتے؟ پھر تو یہ ہونا تھا کہ یہ خزانے لٹاتے اور ہم ان کی جوتیاں سیدھی کرتے۔ ان دونوں آیتوں میں ان کے اسی مغالطے کا جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا اور اس کی زینتیں نیک اعمال کے صلہ کے طور پر نہیں ملتیں کہ جو نیک اعمال نہ کریں وہ ان سے محروم رہیں۔ یہ دنیا تو نیک اور بد دونوں کو ملتی ہے البتہ جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں، آخرت کی جن کو کوئی پروا نہیں ہوتی ان کا سارا کھاتا یہیں بے باق کر دیا جاتا ہے، آخرت میں ان کے لیے دوزخ کے سوا کچھ نہیں بچ رہتا۔ چونکہ وہ کوئی کام آخرت کو مقصود بنا کر نہیں کرتے اس وجہ سے آخرت میں ان کے سارے اعمال حبط ہو جائیں گے۔ دنیا آخرت کے بغیر مجرد باطل رہ جاتی ہے اور اس باطل کو مقصود قرار دے کر جو کچھ بھی کیا جاتا ہے سب باطل ہوتا ہے اگرچہ وہ بظاہر نیکی ہی کے کام کیوں نہ ہوں۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے: ’مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیْھَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَھَنَّمَ یَصْلٰھَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا ہ وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓءِکَ کَانَ سَعْیُھُمْ مَّشْکُوْرًا ہ کُلًّا نُّمِدُّ ھآؤُلَآءِ وَھٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّکَ وَمَا کَانَ عَطَآءُ رَبِّکَ مَحْظُوْرًا‘ (۱۸-۲۰) (جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کو یہیں دے دیتے ہیں جو دنیا چاہتے ہیں، پھر ہم نے ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ذلیل اور راندہ ہو کر پڑیں گے اور جو آخرت کے طالب بنتے ہیں اور ایمان و اخلاص کے ساتھ اس کے لیے اس کے شایان شان کوشش بھی کرتے ہیں، وہی لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہو گی، ہم تیرے رب کی بخشش سے دونوں کو فیض یاب کرتے ہیں، اُن کو بھی اور اِن کی بھی اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بھی بند نہیں ہے) ان آیات میں ’مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ‘ کے الفاظ سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دنیا کے طالبوں کو بھی اتنا ہی ملتا ہے جتنا خدا چاہتا ہے اور انہی کو ملتا ہے جن کو خدا دینا چاہتا ہے۔ یہ نہیں کہ جو دنیا کا طالب بن جائے وہ جتنا چاہے سمیٹ لے۔ ان کے معاملے میں بھی جو کچھ ہوتا ہے خدا ہی کے اختیار اور اسی کی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ اسی طرح ’وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ‘ کے الفاظ یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ طلب آخرت بھی اللہ کے ہاں وہ معتبر ہے جو ایمان و اخلاص کے ساتھ اور جس کے ساتھ آخرت کے شایان شان عملی جدوجہد بھی پائی جاتی ہو۔ اگر اس میں ریا اور شرک کی کوئی آلودگی شامل ہو، یا محض زبان کے پھاگ کے بل پر جنت کو جیتنے کے خواب دیکھے جا رہے ہوں تو ان لذیذ خوابوں کی خدا کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔  
    کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک برہان پر ہے، پھر اس کے بعد اس کی طرف سے ایک گواہ بھی آ جاتا ہے اور اس کے پہلے سے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود ہے اور وہ جو نور بصیرت سے محروم ہیں، دونوں یکساں ہو جائیں گے؟ اس پر ایمان تو وہی لوگ لائیں گے اور جماعتوں میں سے جو اس کا انکار کریں گے ان کا موعود ٹھکانا بس دوزخ ہے۔ پس تم اس کے باب میں کسی شک میں نہ پڑو، یہی تمہارے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ اس کو نہیں مانتے۔
    مخالفین قرآن کی اصل بیماری: اب یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جو لوگ قرآن سے گریز و فرار کے لیے یہ بہانے تراش رہے ہیں ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ ان کی فطرت کا نور بجھ چکا ہے اور جن کی فطرت کا نور بجھ چکا ہو وہ قرآن پر ایمان لانے والے نہیں بن سکتے۔ اس پر ایمان لانے والے وہی بنیں گے جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوظ ہو۔ وہ بے شک پہلے سے بنیادی حقائق کے باب میں اپنے اندر ایک دلیل و برہان رکھتے ہیں، پھر جب اس کے بعد اوپر سے بھی قرآن کی شکل میں ان کے سامنے ایک شہادت آ جاتی ہے تو وہ انھیں بعینہٖ اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ اپنے دل میں پا رہے ہیں اس کی تائید و تصدیق اس آسمانی شاہد کی زبان سے بھی ہو رہی ہے۔ اس طرح کے استفہامیہ جملوں میں بعض اوقات مقابل جملہ حذف کر دیا جاتا ہے جو قرینہ سے سمجھا جاتا ہے۔ گویا پوری بات یوں ہو گی کہ کیا وہ لوگ جن کے سامنے یہ یہ روشنیاں ہیں اور وہ لوگ جو ان تمام روشنیوں سے محروم ہیں، قرآن پر ایمان لانے کے معاملے میں یکساں ہوں گے؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جو نور فطرت سے بہرہ مند ہیں اور اس امر سے بھی آشنا ہیں کہ اس سے پہلے اسی طرح کی کتاب ہدایت و رحمت بن کر موسیٰ ؑ پر بھی اتر چکی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کے لیے قرآن بے شک ایک مانوس چیز ہے۔ وہ جب اس کو سنتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ اپنے صحیفۂ فطرت میں پا رہے تھے اسی کی تصدیق و تائید خدا کی طرف سے ایک شاہد کے ذریعہ سے بھی سامنے آ گئی۔ چنانچہ ایسے ہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان لائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کی مخالفت میں طرح طرح کی باتیں بنا رہے ہیں ان کی محرومی کے اسباب خود ان کے اندر موجود ہیں۔ ان کی دل کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں۔ ان سے کسی خیر کی امید نہ رکھو۔ ’بَیِّنَۃ‘ سے مراد نور فطرت ہے: ’بَیِّنَۃ‘ کے معنی روشن دلیل اور واضح حجت کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وہ نور فطرت ہے جو حق و باطل اور خیر و شر کے مبادی کے امتیاز کے لیے خدا نے خود ہمارے اندر ودیعت فرمایا ہے۔ جن کی فطرت خارج کے برے اثرات سے جنتی ہی محفوظ ہوتی ہے ان کے اندر یہ نور اتنا ہی قوی ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرات انبیاؑء اس سے کامل طور پر بہرہ مند ہوتے ہیں ۔ ان کا باطن وحی کے نور سے منور ہونے سے پہلے بھی اس نور سے نورانی ہوتا ہے۔ ان کے لیے وحی کی حیثیت تاریکی پر روشنی کی نہیں بلکہ، جیسا کہ سورۂ نور میں ارشاد ہوا ہے، ’نُوْرٌ عَلٰی نُوْر‘ یعنی روشنی پر روشنی کی ہوتی ہے۔ آگے اسی سورہ کی آیات ۲۸۔۶۳۔۸۸ میں بھی یہ لفظ اسی مفہوم میں آیا ہے۔ عام لوگوں میں سے جو لوگ انبیاؑء کی دعوت قبول کرنے میں سبقت کرتے ہیں وہ بھی علیٰ فرق مراتب اس نور سے بہرہ مندہ ہوتے ہیں اور جس کے اندر یہ نور جتنا ہی قوی ہوتا ہے وہ اسی اعتبار سے ان کی طرف سبقت بھی کرتا ہے اور اسی نسبت سے ان کا دست و بازو بھی بنتا ہے۔ اس کے بالکل برعکس حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی شامت اعمال سے اس نور کو بجھا کر ’ظُلُمَاتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ‘ کے گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔ ضمیروں کے باب میں ایک خاص اسلوب: یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ اس طرح کے الفاظ کے معاملہ میں جن کی تانیث غیر حقیقی ہوتی ہے، یہ ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ان کے لیے ضمیر لانے میں لفظ کے ظاہر کا لحاظ کیا جائے بلکہ ضمیر مذکر بھی لا سکتے ہیں اگر لفظ کا اصل مصداق مذکر ہو۔ چنانچہ یہاں ’یَتْلُوْہُ‘ میں اس کے لیے ضمیر مذکر ہی آئی ہے اس لیے کہ اس سے مراد درحقیقت وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن کے دوسرے مقامات میں ’نور‘ ’برہان‘ اور ’سلطان‘ وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ’وَیَتْلُوْہُ شَاھِدٌ مِّنْہُ‘ ’تلایتلو‘ کے معنی یہاں کسی چیز کے بعد اور پیچھے آنے کے ہیں اور ’مِنْہُ‘ میں ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ اس نے اپنے فضل سے پہلے تو ہماری فطرت کے اندر وہ سب کچھ ودیعت فرما دیا جس کی قرآن دعوت دیتا ہے پھر اپنے مزید فضل سے اس نے لسان غیب کے ذریعے سے اس سارے ریکارڈ کو ہمیں سنا بھی دیا تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ ’شَاھِد‘ سے مراد یہاں وہ وحی الٰہی ہے جس کا مظہر قرآن ہے، جس کے لانے والے جبرائیل امین اور جس کے حامل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے ’شَاھِد‘ سے جبرائیل امین کو مراد لیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات صحیح ہے۔ وحی قرآن، جبرائیل اور پیغمبر میں فرق صرف تعبیر کا ہے۔ خدا کے شاہد ہونے کے اعتبار سے ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ چنانچہ قرآن میں یہ لفظ ان سب کے لیے استعمال ہوا ہے۔ قرآن کے حق میں پہلے کی شہادت: ’وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَۃً‘ یعنی پہلے کی شہادتوں میں سے یہ شہادت بھی قرآن کی تصدیق و تائید کے لیے ان کے سامنے موجود ہے کہ اسی طرح کی ایک کتاب، اسی طرح کی تعلیمات و ہدایات بلکہ اس کی اور اس کے حامل کی پیشین گوئیوں کے ساتھ اس سے پہلے امام اور رحمت بن بن کر موسیٰ ؑ پر بھی اتر چکی ہے۔ ’امام‘ اور ’رحمت‘ کے الفاظ یہاں اسی طرح آئے ہیں جس طرح بعض دوسرے مقامات میں ’ھدی‘ اور ’رحمت‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں ’ھدی‘ کے مفہوم کو ’امام‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اس لیے کہ رہنمائی کا مضمون دونوں لفظوں کے اندر یکساں موجود ہے۔ ہم نے دوسرے مقام میں ان دونوں لفظوں کی تشریح کی ہے کہ یہ آغاز و انجام کے اعتبار سے استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کتاب اس دنیا میں صراط مستقیم کی ہدایت و رہنمائی ہے اور جو لوگ اس ہدایت و رہنمائی کو قبول کر لیں ان کے لیے آخرت میں ابدی فضل و رحمت کا پیش خیمہ ہے۔ یہود کی بدبختی کی طرف اشارہ: یہاں ایک لطیف اشارہ بھی قابل توجہ ہے۔ اس سورہ میں مخاطب چونکہ اصلاً قریش ہیں اس وجہ سے یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے لیے کتاب موسیٰ ؑ کی نظیر کچھ زیادہ مؤثر نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ قریش اول تو مذہبی علم و فضل کے اعتبار سے اہل کتاب کے معترف تھے ثانیاً یہاں قرآن ایک ہلکا سا اشارہ ان یہود کی طرف بھی کر دینا چاہتا ہے جن کو ایک ’امام و رحمت‘ کتاب کے حامل ہونے کے سبب سے قرآن کی طرف سب سے پہلے سبقت کرنے والا بننا تھا لیکن وہ سبقت کرنے کے بجائے اندر اندر اس کی مخالفت کے لیے سازشوں کی تیاریاں کر رہے تھے۔ قرآن نے ایک نہایت لطیف اشارے کی شکل میں ان کو توجہ دلا دی کہ ان کے مرتبہ و مقام کا تقاضا کیا ہے اور اگر انھوں نے اس کے خلاف کیا تو وہ اپنے آپ کو کس گڑھے میں گرائیں گے۔ ’اُولٰٓءِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ‘ میں حصر کا مضمون پایا جاتا ہے۔ یعنی یہی لوگ جن کی خصوصیات اوپر بیان ہوئیں قرآن پر ایمان لائیں گے۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں ان خصوصیات سے محروم ہیں۔ چونکہ یہ بات کلام کے سیاق سے واضح تھی اس وجہ سے حذف کر دی گئی۔ خطاب پیغمبرؐ سے، عتاب دوسروں پر: ’وَمَنْ یَّکْفُرْبِہٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗ‘۔ ’احزاب‘ کے لفظ میں ذرا وسعت ہے۔ قرآن نے اپنے سامنے کے مخالفین کے ساتھ ساتھ ان مخالفین کی طرف بھی ہلکا سا اشارہ کر دیا ہے جو ابھی اس مرحلے تک تو اگرچہ پردے کے پیچھے تھے لیکن بعد کے مراحل میں نہایت خطرناک دشمن بن کر سامنے آئے۔ یعنی اہل کتاب۔ ’فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ‘۔ یہ خطاب اگرچہ عام بھی ہو سکتا ہے لیکن ہمارے نزدیک خطاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہے۔ البتہ اس طرح کے جملوں میں جو عتاب ہوتا ہے اس کا رخ، جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کر چکے ہیں، مخالفین کی طرف ہوتا ہے لیکن وہ لائق التفات نہیں رہ جاتے اس وجہ سے ان کو خطاب کر کے بات براہ راست کہنے کی بجائے پیغمبر کو خطاب کر کے کہہ دی جاتی ہے۔ زجر و ملامت کا یہ اسلوب بسا اوقات براہ راست زجر و تنبیہ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ قرآن میں اس کی نہایت دلآویز مثالیں موجود ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ شامت زدہ لوگ اس واضح حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں تو جھٹلائیں، ان کی اس روش سے تم کسی الجھن میں نہ پڑو۔ یہی حقیقت ہے اور یہ تمہارے رب کی طرف سے ہے لیکن اکثر لوگ اپنی بدبختی کے سبب سے ایمان نہیں لائیں گے۔ یہ مضمون سورۂ رعد کی آیت ۱۹ میں بیان ہوا ہے۔ وہاں انشاء اللہ ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے سورۂ یونس کی آیات ۹۴۔۹۵ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
    اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑیں۔ ان لوگوں کی پیشی ان کے رب کے سامنے ہو گی اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب پر جھوٹ بولے ہیں۔ آگاہ کہ اللہ کی لعنت ہے ان ظالموں پر۔
    مشرکین کی بدبختی پر اظہار افسوس: یہی مضمون بعینہٖ اسی سیاق و سباق کے ساتھ سورۂ یونس کی آیات ۱۷-۱۸ میں گزر چکا ہے، وہاں تصریح ہے کہ قریش کو قرآن سے سب سے زیادہ چڑ اس کی دعوت توحید سے ہے۔ وہ اپنے دیوتاؤں کی مذمت سن کر آگ بگولا ہو جاتے اور پھر اس کے خلاف جو کچھ منہ میں آ جاتا وہ بک ڈالتے۔ قرآن نے یہاں ان کے اسی اصل محرک مخالفت کو سامنے رکھ کر ان کی بدبختی اور محرومی پر افسوس کیا ہے کہ ان سے بڑھ کر بدقسمت اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والا کون ہو سکتا ہے جنھوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا، یعنی اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی پرستش کی اور ان کے متعلق بالکل جھوٹ موٹ، بلا کسی سند اور دلیل کے، یہ دعویٰ کیا ہے کہ خدا نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے اور ان کی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہ سب سے بڑی بدقسمتی اس وجہ سے ہے کہ یہی چیز ان کی ابدی محرومی کا باعث ہو گی جب کہ قیامت کے دن ان کے سامنے یہ راز کھلے گا کہ جن کی انھوں نے زندگی بھر عبادت کی اور جن کی حمیت و حمایت میں اللہ کی کتاب کو جھٹلایا وہ سب ہوا ہو گئے اور معاملہ تنہا خدائے واحد و قہار سے پڑا۔ ’وَیَقُوْلُ الْاَشْھَادُ ھآؤُلَآءِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ‘۔ یہ شہادت انبیاؑء کی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے کہ قرآن میں تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نبی سے اس کی امت پر قیامت کے دن گواہی دلوائے گا کہ اس نے ان کو کیا تعلیم دی تھی اور انھوں نے اس میں کیا بگاڑ پیدا کیا، ان ہستیوں کی بھی ہو سکتی ہے جن کو معبود بنا کر پوجا گیا حالانکہ نہ انھوں نے اس کا حکم دیا اور نہ انھیں اس کی خبر ہوئی اور ان فرشتوں کی بھی ہو سکتی ہے جو ہر شخص کے سارے اعمال کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور قیامت کے دن یہ سارا ریکارڈ سامنے آئے گا۔ ’اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ‘۔ یہ وہ منادی ہے جو گواہوں کی گواہی کے بعد ان مشرکین پر لعنت کے لیے کی جائے گی۔ اور یہ لعنت ان کے لیے تمام مصیبتوں کا فتح باب ہو گی۔
    جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں۔
    مشرکین کے جرائم: ’الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ‘۔ یہ ان ’ظالمین‘ کی مزید صفات بیان کر دی گئیں تاکہ کلام مطابق حال بھی ہو جائے اور ان کے وہ جرائم بھی سامنے آ جائیں جو اس لعنت کے موجب ہوں گے۔ ان کا ایک جرم تو یہ ہے کہ انھوں نے دیدہ و دانستہ، حقیقت کے واضح ہونے کے باوجود، لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا اور دوسرا جرم یہ ہے کہ اس راستہ کو کج کرنے کی کوشش کی۔ بندوں کے لیے خدا تک پہنچنے کی راہ بالکل ہموار و مستقیم ہے، اس میں کج پیچ اور پگڈنڈیاں نہیں ہیں۔ بندہ اس راہ پر چلے تو براہ راست اپنے رب سے تعلق پیدا کر لیتا ہے لیکن ان ظالموں نے اس راہ میں بہت سے اڑنگے ڈال دیے۔ قدم قدم پر انھوں نے اس کا رخ مختلف تھانوں، استھانوں، دیویوں اور دیوتاؤں کی طرف موڑ دیا اور اس طرح لوگوں کو اصل شاہراہ توحید سے ہٹا کر گلیوں اور کوچوں میں ڈال دیا۔ ’وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ‘ میں مبتدا کے اعادے سے مقصود اس پر زور دینا ہے۔ یعنی آخرت کے اصلی منکر یہی ہیں۔ اول تو انھوں نے خلق کو اللہ کے راستہ سے روکنے کی کوشش کی اور یہ جسارت آخرت سے بالکل بے پروا ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ دوسرے شرک بجائے خود آخرت کی نفی ہے اس لیے کہ شرکاء و شفعاء جب اپنے پجاریوں کو بہرحال بخشوا ہی لیں گے خواہ ان کے عقائد و اعمال کچھ ہی ہوں تو آخرت کا ہونا، نہ ہونا دونوں یکساں ہوا۔ آخرت کو مان لینا مطلوب نہیں ہے بلکہ یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ ہر ایک کے لیے بے لاگ انصاف کا دن ہو گا اور خدا کے آگے اس دن کسی کا زور نہیں چلے گا۔
    یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے، ان پر دونا عذاب ہو گا۔ یہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے ہی تھے۔
    یعنی دنیا میں اللہ نے ان کو جو مہلت دی تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ خدا کے قابو سے باہر تھے بلکہ یہ اس کی ڈھیل تھی کہ وہ توبہ اور اصلاح کرنا چاہیں تو توبہ اور اصلاح کر لیں ورنہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں۔ ان کا یہ زعم بھی بالکل بے حقیقت تھا کہ ان کے کچھ اولیاء اور مددگار ہیں جو خدا کی پکڑ سے ان کو بچا سکتے ہیں۔ اب سارے حقائق ان کے سامنے آ گئے۔ اب یہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے اور چونکہ یہ خدا کی راہ سے صرف خود ہی نہیں رکے بلکہ دوسروں کو بھی روکنے والے بنے اس وجہ سے یہ دوہرے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ ’مَا کَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ‘۔ یعنی نفرت اور بیزاری کی شدت کے سبب سے نہ تو یہ اللہ اور رسول کی باتیں سننے ہی کے لیے تیار ہوتے تھے اور نہ محبت دنیا کا پردہ اللہ کی نشانیاں دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں ہی کھلنے دیتا تھا۔
    یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو انھوں نے گھڑ رکھے تھے سب ہوا ہو جائیں گے۔
    ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح اپنی صلاحیتیں برباد کیں انھوں نے اپنے آپ کو خود اپنے ہی ہاتھوں برباد کیا اور جن کی مدد اور شفاعت کے اعتماد پر یہ خطرناک کھیل کھیلے ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہ بنے گا اس لیے کہ خدا پر افترا کر کے محض اپنے ذہن سے جو خیالی معبود انھوں نے گھڑے وہ سب بے حقیقت ثابت ہوں گے ظاہر ہے کہ آخرت کی نامرادی ایسے ہی عقل و بصیرت سے محروم لوگوں کے حصے میں آئے گی۔
    لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خسارے میں ہوں گے۔
    ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح اپنی صلاحیتیں برباد کیں انھوں نے اپنے آپ کو خود اپنے ہی ہاتھوں برباد کیا اور جن کی مدد اور شفاعت کے اعتماد پر یہ خطرناک کھیل کھیلے ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہ بنے گا اس لیے کہ خدا پر افترا کر کے محض اپنے ذہن سے جو خیالی معبود انھوں نے گھڑے وہ سب بے حقیقت ثابت ہوں گے ظاہر ہے کہ آخرت کی نامرادی ایسے ہی عقل و بصیرت سے محروم لوگوں کے حصے میں آئے گی۔
    باقی رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اور جو اپنے رب کی طرف جھک پڑے تو وہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
    اہل ایمان کے فضائل: اب یہ کفار و مشرکین کے مقابل گروہ یعنی اہل ایمان کے انجام کا ذکر ہے ’وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْ‘ کے معنی ’اِطْمَاَنُّوْا اِلَی اللّٰہِ وَتَخْشَّعُوْآ اَمَامَہٗ‘ کے ہیں۔ یعنی ہر ایک سے کٹ کر اپنے رب کی طرف پوری دل جمعی اور کامل یک سوئی کے ساتھ وہ جھک پڑے۔ اوپر مشرکین کا حال تو یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے کبر و غرور کے سبب سے نہ اپنے کان ہی کھولنے کے لیے تیار ہوئے نہ اپنی آنکھیں ہی لیکن ان لوگوں نے ایمان و عمل صالح کی روش اختیار کی اور خلق خدا کو اللہ کی صراط مستقیم سے ہٹانے اور اس کو مختلف وادیوں میں ہرزہ گردی کرانے کے بجائے پوری یکسوئی و فروتنی کے ساتھ اپنے آپ کو اپنے خالق و پروردگار کے آگے ڈال دیا۔ فرمایا کہ یہی لوگ جنت کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ایک مرتبہ اس میں داخل ہو جانے کے بعد پھر اس سے کبھی محروم نہیں ہوں گے۔
    دونوں فریقوں کی تمثیل ایسی ہے کہ ایک اندھا اور بہرا ہو اور ایک دیکھنے والا اور سننے والا کیا دونوں کا حال ایک جیسا ہو جائے گا؟ کیا تم لوگ دھیان نہیں کرتے۔
    اوپر کفار کی حالت بیان ہو چکی ہے کہ ’مَا کَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ‘ کہ ان کے ہوش کے کان اور ان کی بصیرت کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں اس وجہ سے وہ قرآن کو سننے اور اللہ کی نشانیوں کے مشاہدہ سے محروم رہے۔ اس کے برعکس اہل ایمان نے اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھیں اور اپنے کان بھی۔ فرمایا کہ ان دونوں گروہوں کی تمثیل یہ ہے کہ ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا بینا اور شنوا تو دونوں کا رویہ قرآن کے باب میں ایک سا کس طرح ہو سکتا ہے؟ قرآن کی دعوت سرتاسر عقل و بصیرت پر مبنی ہے، اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کے کان اور دل کھلے ہوں اور جنھوں نے بخشی ہوئی فطری صلاحیتیں اپنی محفوظ رکھی ہوں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List