Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • یونس (Jonah)

    109 آیات | مکی

    سورہ کا عمود
    اس سورہ کا عمود نہایت جامع الفاظ میں اس کی دوسری ہی آیت سے واضح ہو رہا ہے۔ فرمایا ہے:

    اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ. (۲۔ یونس)
    ’’ کہ لوگوں کو آگاہ کر دو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے رب کے پاس ان کے لیے بڑی پایگاہ ہے کافروں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادوگر ہے۔‘‘

    سورۂ ہود میں اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے:

    فَاصْبِرْ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ. (۴۹۔ ہود)
    ’’ پس ثابت قدم رہو۔ انجام کار کی کامیابی متقین ہی کے لیے ہے۔‘‘

    سورۂ یوسف میں ارشاد ہے:

    اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ. (۹۰۔ یوسف)
    ’’ بے شک جو تقویٰ اختیار کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے تو اللہ ایسے خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

    سورۂ رعد میں اس صبر و تقویٰ کی کسی قدر تفصیل بھی آ گئی ہے:

    وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّ یَدْرَءُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ. (۲۲۔ رعد)
    ’’اور جو لوگ اپنے رب کی رضا جوئی میں جمے رہے اور نماز کا اہتمام کیا اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا اس میں سے چھپے اور کھلے خرچ کیا اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے رہے وہی لوگ ہیں جن کے لیے دارآخرت کی کامیابی ہے۔‘‘

    سورۂ ابراہیم میں اس کلمہ کی طرف بھی اشارہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے ثبات قدم کا ضامن ہے:

    یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ. (۲۷۔ ابراہیم)
    ’’اللہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں قول محکم کی بدولت ثبات قدم بخشے گا اور ظالموں کو نامراد کر دے گا۔‘‘

    سورۂ نحل میں ہے:

    لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ. (۳۰۔ نحل)
    ’’جن لوگوں نے خوب کاری اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی اچھا صلہ ہے اور آخرت کا گھر اس سے کہیں بہتر ہے اور کیا ہی اچھا ہے متقین کا گھر۔‘‘

    سورۂ بنی اسرائیل میں ہے کہ سیدھی راہ قرآن کی بتائی ہوئی راہ ہے اور جن لوگوں نے یہ راہ اختیار کر لی ہے دنیا اور آخرت کی فلاح کی بشارت انہی کے لیے ہے:

    اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا ۵ وَّاَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا. (۹۔۱۰ بنی اسرائیل)
    ’’بے شک یہ قرآن اس رستہ کی طرف رہنمائی کر رہا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان مومنین کو جو نیک عمل کر رہے ہیں ایک اجر عظیم کی بشارت دے رہا ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

    سورۂ انبیاء میں ہے:

    وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ م بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ. (۱۰۵۔ انبیاء)
    ’’اور ہم نے زبور میں یاددہانی کے بعد یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔‘‘

    گروپ کی آخری سورہ ۔۔۔ سورۂ نور۔۔۔ میں یہ بشارت واضح سے واضح تر ہو گئی ہے:

    وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا. (۵۵۔ نور)
    ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت عطا فرمائے گا جس طرح ان لوگوں کو خلافت عطا فرمائی جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو مستحکم کرے گا جس کو ان کے لیے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔‘‘

    ان آیات کو نقل کرنے سے مقصود سورۂ یونس اور اس گروپ کی دوسری سورتوں کے عام مزاج سے فی الجملہ قارئین کو آشنا کر دینا ہے۔

  • یونس (Jonah)

    109 آیات | مکی
    یونس ——- ہود

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اِس انذار و بشارت کے تاریخی دلائل، البتہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میںیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 010 Verse 001 Chapter 010 Verse 002 Chapter 010 Verse 003 Chapter 010 Verse 004 Chapter 010 Verse 005 Chapter 010 Verse 006 Chapter 010 Verse 007 Chapter 010 Verse 008 Chapter 010 Verse 009 Chapter 010 Verse 010
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الف، لام، را ہے۔ یہ پرحکمت کتاب کی آیات ہیں۔
    ’کتاب حکیم‘ کا مفہوم: ’الٓرٰ‘۔ اس سورہ کا قرآنی نام ’الٓرٰ‘ ہے اور ’تِلْکَ‘ کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ یہ حروف مقطعات ہیں جن پر ایک جامع بحث ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں۔ کتاب کی صفت ’حکیم‘ اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ کتاب اپنے ہر دعوے پر دلیل و حجت سے اس طرح آراستہ ہے کہ اپنی صداقت کی کسوٹی خود اپنے ہی اندر رکھتی ہے، کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے۔ جو لوگ اس کی صداقت کے ثبوت کے لیے کسی شہادت کے طلب گار ہیں وہ خارج کی بجائے خود اس کے اندر اتریں، اگر ان کی عقل سلیم اور فطرت مستقیم ہو گی تو اس کی حکمت خود ان کے ہر شبہے کو صاف کر دے گی۔
    کیا لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو ہوشیار کر دو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا، بے شک یہ ایک کھلا ہوا جادوگر ہے۔
    اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان: ’اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَباً ........ الایۃ‘۔ ’النَّاس‘ سے مراد، قرینہ دلیل ہے کہ یہاں قریش ہیں۔ یعنی جب یہ کتاب بجائے خود حجت و برہان ہے تو مجرد یہ بات اس کے انکار کی کیا دلیل ہوئی کہ اس کی وحی انہی میں سے ایک شخص پر آئی؟ اپنے اندر کے کسی شخص پر اس وحی کا آنا کوئی انکار و استعجاب کی چیز نہیں بلکہ یہ سوچیں تو یہ اللہ کا ان پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ان پر انہی کے اندر کے ایک ایسے شخص کے ذریعہ سے یہ کتاب اتاری جس کے ماضی و حاضر اور جس کے کردار و اخلاق سے وہ اچھی طرح آگاہ بھی ہیں اور جس کے امین و راست باز ہونے کے وہ معترف بھی رہے ہیں؟ کیا یہ بات بہتر ہوتی کہ کوئی غیر ان پر اس حق کی گواہی دیتا یا یہ بہتر ہے کہ اللہ نے انہی کے ایک بہترین فرد کو اس حق کا گواہ بنایا اور اس طرح گویا انہی کی زبان اور انہی کے ضمیر نے ان پر حق کی حجت تمام کی۔ یہ بات بھی کسی پہلو سے معقول نہ ہوتی کہ اس کام کے لیے کوئی فرشتہ یا جن منتخب کیا جاتا۔ انسانوں کے لیے معلم و مرشد اور نمونہ و مثال انسان ہو سکتا ہے نہ کہ فرشتے اور جن۔ کتاب اور حامل کتاب کا اصل پیغام: ’اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا‘۔ یہ اس کتاب یا حامل کتاب کا اصل پیغام نقل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پیغام بھی کوئی استعجاب یا انکار کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ یہ دنیا کی زندگی یوں ہی ختم ہو جانے والی نہیں ہے بلکہ اس کے بعد ایک ایسا دن آنے والا ہے جس میں سب کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور اس دن وہ لوگ خدا کے ہاں عزت و سرفرازی کا مقام پائیں گے جو اس کتاب پر ایمان لائیں گے اور جو لوگ اس کو جھٹلائیں گے وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں پڑیں گے۔ اس حقیقت کے اظہار سے اگر قریش کے متکبرین کے دل کو چوٹ لگتی ہے تو لگے اور وہ حیران ہوتے ہیں تو حیران ہوں لیکن جو حقیقت ہے وہ اس وجہ سے غلط نہیں ہو جائے گی کہ اس سے کسی گروہ کے پندار پر ضرب پڑتی ہے۔ ’قَدَمَ صِدْقٍ‘ کا مفہوم: ’قَدَمَ صِدْقٍ‘ میں ’صدق‘ کا لفظ، جیسا کہ دوسرے مقام میں ہم واضح کر چکے ہیں، رسوخ، استحکام اور تمکن پر دلیل ہے اس وجہ سے ’قَدَمَ صِدْق‘ کا مفہوم عزت کا مقام، مرتبۂ بلند، اونچی پائگاہ اور لازوال سرفرازی ہوگا۔ اس آیت میں ایمان لانے والوں کے لیے جو بشارت ہے وہ تو واضح الفاظ میں مذکور ہے لیکن انذار کا پہلو مبہم چھوڑ دیا گیا ہے اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اس گروپ کی تمام سورتوں میں نمایاں پہلو اہل ایمان کے لیے بشارت ہی کا ہے۔ کفار کے انجام کا پہلو ان میں اصلاً نہیں بلکہ ضمناً اور تبعاً بیان ہوا ہے۔ کفار کے استعجاب و انکار کی تعبیر: ’قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ‘ یہ کفار کے استعجاب و انکار کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس پر حکمت کتاب کی آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں تو بجائے اس کے کہ اس کی قدر کریں اور اس پر ایمان لائیں اس کے لانے والے کو یہ کھلا ہوا جادوگر قرار دیتے ہیں۔ یعنی اس کتاب کے زور، اس کے اثر اور اس کی فصاحت و بلاغت کا لوہا تو مانتے ہیں لیکن ان سب چیزوں کو محض الفاظ اور سجع و قافیہ کی صناعی اور پیغمبر کی فصاحت و بلاغت کی شعبدہ بازی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور اپنے عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس کتاب اور اس کے لانے والے کے کلام میں جو تاثیر اور کشش محسوس کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ خدا کی طرف سے آئی ہے اور اس میں حکمت کا خزانہ ہے بلکہ جس طرح ایک شعبدہ باز اپنی شعبدہ بازی سے ایک شے کو کچھ سے کچھ بنا کر دکھاتا ہے اسی طرح یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) الفاظ کی شعبدہ گری کا ماہر ہے اور اپنی بات اس طرح پیش کرتا ہے کہ سادہ لوگ اس کے کلام سے مسحور ہو جاتے ہیں۔ انبیاؑء کو ساحر و کاہن کہنے کا ایک خاص پہلو: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کو کفار جو ساحر قرار دیتے رہے ہیں تو صرف ان کے معجزات کی اہمیت گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ یہی حربہ وہ ان کے کلام کو بے وقعت ٹھہرانے کے لیے بھی استعمال کرتے، جب دیکھتے کہ ان کے اندر کے سلیم الفطرت لوگ نبی کے پیش کیے ہوئے کلام سے متاثر ہو رہے ہیں تو یہ اشغلہ چھوڑتے کہ یہ تو محض الفاظ کی شعبدہ بازی اور زبان کی جادوگری ہے، اپنے آپ کو اس فریب سے بچاؤ۔ خود قرآن کو سحر کہنے میں بھی یہی مقصد ان کے پیش نظر ہوتا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کاہن بھی کہتے تھے۔ اس سے بھی ان کا مقصد یہی ہوتا کہ اپنے عوام کی توجہ قرآن اور پیغمبر سے ہٹائیں کہ یہ کلام کوئی مافوق چیز اور اس کا پیش کرنے والا کوئی مافوق ہستی نہیں ہے۔ جس طرح ہمارے کاہن سجع اور قافیہ کے ساتھ مرصع اسلوب میں اپنا کلام پیش کرتے ہیں اور جس طرح کاہنوں کے کلام میں مستقبل سے متعلق کچھ پیشین گوئیوں کی جھلک ہوتی ہے اسی طرح کی جھلک ان کے کلام میں بھی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ یہ ہماری جانی پہچانی ہوئی چیزیں ہیں۔ ان کو آسمانی اور خدائی مرتبہ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
    بے شک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا کیا، پھر وہ معاملات کا انتظام سنبھالے عرش پر متمکن ہوا۔ اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی نہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے تو اسی کی بندگی کرو، کیا تم سوچتے نہیں!
    مذکورہ بالا انذار و بشارت کی دلیل: اوپر والے ٹکڑے میں جو انذار و بشارت ہے یہ اسی کی دلیل بیان ہو رہی ہے اور مقدمات کی ترتیب اس طرح ہے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور جس کا خالق ہونا تمہیں خود بھی تسلیم ہے، وہی تمہارا رب اور آقا و مولیٰ ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو، آقا و مولیٰ کوئی اور بن جائے؟ اگر تم نے کچھ اور رب بنا کر ان سے کچھ امیدیں باندھ رکھی ہیں تو یہ محض تمہاری حماقت ہے جو عقل و فطرت اور خود تمہارے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ پھر یہ کائنات کسی اتفاقی حادثے کے طور پر ظہور میں نہیں آ گئی ہے بلکہ یہ خدائی دنوں کے حساب سے چھ دنوں یا بالفاظ دیگر چھ ادوار میں درجہ بدرجہ ارتقا پذیر ہوئی ہے۔ یہ تدریج و ترتیب اور یہ ارتقا خود شاہد ہے کہ نہ اس کا ظہور کوئی اتفاقی حادثہ ہے نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشہ ہے بلکہ یہ نہایت اہتمام سے پیدا کیا ہوا ایک باغایت و بامقصد کارخانہ ہے اور اس کی مقصدیت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان جو اس کائنات میں خلیفہ کی حیثیت رکھتا ہے یوں ہی شتر بے مہار نہ چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کے سامنے ایک ایسا دن آئے جس میں وہ لوگ پورے انصاف کے ساتھ اپنے اعمال کا صلہ پائیں جنھوں نے خالق کائنات کی پسند کے مطابق زندگی بسر کی اور وہ لوگ اپنے جرائم کی سزا بھگتیں جنھوں نے اس دنیا کو کھل تماشہ سمجھا اور ساری زندگی بطالت میں گزاری۔ خدا عرش حکومت پر متمکن ہے: ’ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ‘۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ خدا دنیا کو پیدا کر کے کسی گوشے میں ایک خاموش علۃ العلل بن کر بیٹھ رہا ہے اور اس دنیا کا سارا انتظام و انصرام اس نے دوسروں کے حوالے کر دیا ہے بلکہ وہ خود عرش حکومت پر متمکن اور متمکن ہی نہیں بلکہ تمام معاملات کا انتظام فرما رہا ہے۔ زبور میں یہی حقیقت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: ’’تو نے تخت پر بیٹھ کر صداقت سے انصاف کیا۔‘‘ (۹: ۴) خدا کے ہاں کوئی سفارش اس کے اذن کے بغیر نہیں ہو گی: ’مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِہٖ‘ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خدا کے اس انصاف سے کسی کی سعی و سفارش کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو بچا لے جائے گا۔ خدا کے ہاں کوئی بھی نہ اس کے اذن کے بغیر سفارش کے لیے زبان کھول سکے گا اور نہ کوئی سفارش باطل کو حق یا حق کو باطل بنا سکے گی۔ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ ’ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ‘۔ یعنی یہی اللہ جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، جو عرش حکومت پر متمکن ہو کر عدل و انصاف کے ساتھ فرمانروائی کر رہا ہے، جس کے ہاں کوئی بڑے سے بڑا سفارشی بھی، اس کے اذن کے بغیر، کسی کی سفارش کی جرأت نہ کر سکے گا، وہی اللہ تمہارا رب ہے تو اپنے اسی رب کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تم نے اور رب کہاں سے گھڑ لیے، تم اپنے مانے ہوئے مقدمات و مسلمات کو کس طرح نظرانداز کر جاتے ہو۔  
    اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک وہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کو عدل کے ساتھ بدلہ دے اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے ان کے کفر کی پاداش میں کھولتا پانی اور دردناک عذاب ہے۔
    سب کی پیشی خدا ہی کے آگے ہو گی: ’اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا‘۔ اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور مولیٰ و مرجع نہیں ہے۔ یہ اللہ کا شدنی وعدہ ہے۔ ’جَمِیْعًا‘ کی تاکید اس امر کے اظہار کے لیے ہے کہ تمہاری اور جن کو تم نے اپنے گمان کے مطابق خدا کا شریک و شفیع بنا رکھا ہے سب کی پیشی خدا ہی کے آگے ہونی ہے اس سے کوئی بھی نہ بچ سکے گا۔ آغاز و اعادہ خدا کے اختیار میں ہے: ’اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ‘۔ یہ اس وعدے کے حق ہونے کی دلیل ہے کہ خدا خلق کا آغاز فرماتا ہے۔ وہی دوبارہ اس کا اعادہ فرمائے گا جس نے پہلی مرتبہ اس کا آغاز کیا، آخر دوبارہ اس کا اعادہ کرنے میں اس کو کیوں دشواری پیش آئے گی؟ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جن کا نہ اس کائنات کے آغاز میں کوئی حصہ نہ اس کے اعادہ میں کوئی دخل آخر ان کو کس بنیاد پر تم نے مرجع و مولیٰ بنا رکھا ہے؟ قیامت کا اصل مقصد: ’لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ‘۔ یہی اصل مقصد ہے قیامت کے آنے کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا اصل مقصود درحقیقت اہل ایمان کو جزا دینا ہے، اہل کفر کو سزا اس کے لوازم اور توابع میں سے ہے۔ یہی وہ بشارت ہے جس کا آغاز میں ذکر ہوا ہے اس کی دلیل بیان کرنے کے بعد پھر اس کی طرف اشارہ فرما دیا۔ کفار کے لیے اولین سامان ضیافت: ’وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌم بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ‘۔ کفار کو جو عذاب ہو گا یہ اس کا بیان ہے۔ ’شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ‘ کا ذکر، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں اشارہ کر چکے ہیں، اولین سامان ضیافت کی حیثیت سے ہے یعنی ان کی اول تواضع تو ان کے اترتے ہی کھولتے پانی سے ہو گی۔ پھر ان کے لیے دردناک عذاب کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔
    وہی ہے جس نے سورج کو تاباں اور چاند کو نور بنایا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرا دیں تاکہ تم سالوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو۔ اللہ نے یہ کارخانہ بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔
    جزا اور سزا کے قطعی ہونے کی دلیل: توحید کے بعد اب یہ جزا اور سزا کے قطعی ہونے کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ اس کارخانۂ کائنات پر جو شخص بھی غور کرے گا اس کو یہ حقیقت نہایت نمایاں طور پر نظر آئے گی کہ یہ کسی کباڑیے کا مال گودام نہیں بلکہ اس کے ہر گوشے میں اس کے خالق کی عظیم قدرت اور اس کی بے پایاں رحمت و ربوبیت نمایاں ہے۔ اس کے اندر نہایت اعلیٰ اہتمام ہے۔ بے نظیر ترتیب و انتظام ہے، بے مثال اقلیدس و ریاضی ہے۔ سورج معین نظام اوقات کے ساتھ نکلتا اور اپنی تابانیوں سے سارے جہان کو روشن کرتا ہے۔ اس کے فیض سے گرمی، سردی، خزاں اور بہار کے مختلف موسم پیدا ہو جاتے ہیں جن میں سے ہر ایک ہماری دنیا کی زندگی اور اس کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ چاند اس سے کسب ۱؂ نور کر کے اپنی معین منزلیں طے کرتا اور ہماری تاریک راتوں میں مختلف زاویوں سے ہمارے لیے شمع برداری بھی کرتا ہے اور ہمارے مہینوں اور سالوں کی تقویم بھی بناتا ہے ۔۔۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ دنیا خیر و شر اور نیکی و بدی کے درمیان امتیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہو جائے گی؟ اگر یہ مان لیا جائے تو یہ ساری قدرت و حکمت بے مقصد بے غایت ہو جاتی ہے جو اس کائنات کے ہر گوشہ میں جلوہ گر ہے۔ پھر تو یہ دنیا بالکل باطل اور ایک کھیل تماشا بن کے رہ جاتی ہے اور یہ ایک ایسی خلاف عقل، ایسی خلاف عدل اور ایسی خلاف فطرت بات ہے کہ کوئی سلیم العقل اور کوئی مستقیم الفطرت انسان ایک لمحہ کے لیے بھی اس کو باور نہیں کر سکتا۔ کچھ اینٹیں ایک جگہ بکھری ہوئی پڑی ہوں تو ان کو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ یونہی پڑی ہوئی ہیں لیکن کیا یہی گمان تاج محل، لال قلعہ اور لاہور و دلی کی جامع مسجدوں کے متعلق بھی کر سکتے ہیں؟ صحیح انسانی فطرت کا اعتراف: ’مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ‘۔ یہ صحیح انسانی فطرت کا اعتراف بیان ہوا ہے کہ جو عاقل اس نظام کائنات پر غور کرتا ہے وہ پکار اٹھتا ہے کہ یہ کارخانہ باطل اور بے مقصد نہیں بلکہ ایک عظیم غایت کے ساتھ وجود میں آیا ہے اور یہ غایت مقتضی ہے کہ یہ ایک ایسے انجام پر منتہی ہو جو حق اور باطل کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے۔ ’یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘۔ فرمایا کہ اس جزا و سزا کی دلیلیں اور نشانیاں اس نظام کائنات کے اندر پھیلی ہوئی ہیں جو دیکھنے والی آنکھوں سے مخفی نہیں ہو سکتیں لیکن اگر کسی کے لیے یہ مخفی تھیں تو اب ہم نے ان لوگوں کے لیے جو جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کی تفصیل بھی کر دی ہے۔ بعینہٖ یہی مضمون آل عمران کی آیت ۱۹۱۔ ’وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ میں بیان ہوا ہے۔ مزید تفصیل کے طالب اس آیت کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ _____ ۱؂ آیت میں سورج کے لیے ضیا (چمک اور تابانی) اور چاند کے لیے نور (خنک روشنی) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس فرق کی یہ توجیہہ کی ہے کہ سورج کی روشنی اپنی ذاتی ہے اور چاند کی روشنی سورج سے حاصل کی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے لیکن میرے نزدیک ’ضیا‘ میں روشنی کے ساتھ تپش کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور ’نور‘ خنک روشنی کو کہتے ہیں۔ اور یہ ایک امر واقعہ ہے کہ سورج کی روشنی میں تپش ہوتی ہے اور چاند کی روشنی ٹھنڈی ہوتی ہے۔
    بے شک رات اور دن کی آمد و شد اور آسمانوں اور زمین کی مخلوقات میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ڈریں۔
    گردش لیل و نہار کا درس: ’اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ ...... الایۃ‘۔ اختلاف لیل و نہار سے اس تعاقب کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے جو وہ ایک دوسرے کا پوری سرگرمی سے کر رہے ہیں جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ یہ گردش بے غایت و بے مقصد نہیں ہے بلکہ ایک عظیم نتیجہ پر منتہی ہونے والی ہے، دوسرے اس عظیم نظام ربوبیت کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے جو رات اور دن کے اختلاف مزاج کے اندر مضمر ہے کہ دن انسان کے لیے معاش و معیشت کی سرگرمیوں کا میدان گرم کرتا ہے اور رات اس کے لیے راحت و سکون کا بستر بچھاتی ہے۔ اس نظام پر جو شخص بھی غور کرتا ہے وہ لازماً اس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ اضداد کے اندر ایک مشترک مقصد کے لیے یہ حیرت انگیز توافق اسی شکل میں وجود میں آ سکتا ہے جب یہ مانا جائے کہ یہ سارا کارخانہ صرف ایک قادر و قیوم کے ارادے کے تحت کام کر رہا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس نے ربوبیت و پرورش کا یہ سارا نظام کھڑا کیا ہے اور اس کو اس اہتمام سے چلا رہا ہے وہ انسان کو مطلق العنان اور غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا بلکہ اس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے جس میں وہ اس ربوبیت کا حق پہچاننے والوں کو ان کی حق شناسی کا انعام دے گا اور اس سے بے پروا رہنے والوں کو جہنم میں جھونک دے گا۔ یہی نتیجہ اس کائنات کے تمام اجزا اور اس کے تمام اضداد پر غور کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہی حاصل ہے جو انسان کی رہنمائی آخرت اور اس جزا و سزا کی طرف کرتا ہے جس سے انسان کے اندر وہ حقیقی تقویٰ پیدا ہوتا ہے جس کی طرف آل عمران کی مذکورہ بالا آیت میں ’سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ کے الفاظ سے اشارہ ہوا ہے۔
    جو لوگ ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر قانع اور مطمئن ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔
    ان لوگوں کا انجام جو نشانیوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں: ’اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ ....... بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘۔ یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اس کائنات کی ان تمام نشانیوں کے باوجود اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر مطمئن ہیں نہ انھیں خدا کی ملاقات کا اندیشہ ہے، نہ آخرت کا ڈر ہے۔ فرمایا کہ ان سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ لفظ ’رجا‘ یہاں توقع اور اندیشہ کے معنی میں ہے اور یہی اس کا اصل لغوی مفہوم ہے۔
    انہی لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کے اعمال کی پاداش میں۔
    ان لوگوں کا انجام جو نشانیوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں: ’اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ ....... بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘۔ یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اس کائنات کی ان تمام نشانیوں کے باوجود اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر مطمئن ہیں نہ انھیں خدا کی ملاقات کا اندیشہ ہے، نہ آخرت کا ڈر ہے۔ فرمایا کہ ان سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ لفظ ’رجا‘ یہاں توقع اور اندیشہ کے معنی میں ہے اور یہی اس کا اصل لغوی مفہوم ہے۔
    جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اللہ ان کے ایمان کی بدولت ان کو ان کی منزل پر پہنچائے گا، ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، نعمت کے باغوں میں۔
    اہل ایمان کا انجام: ’اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَھْدِیْھِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ ....... اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ ’ھدَایت‘ یہاں منزل مقصود کی ہدایت کے مفہوم میں ہے جو تمام کائنات کی تخلیق کی غایت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی بدولت جنت میں ان کے حسب مراتب منازل و مقامات کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے گا ’دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ‘ یعنی جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ حق، حق ہو کے رہا اور باطل، باطل تو بے تحاشا ان کی زبان سے ’سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ‘ کے الفاظ نکلیں گے کہ آیات الٰہی کے مشاہدے سے ہمارا جو یہ گمان تھا کہ یہ کارخانۂ کائنات کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہو سکتا، اس عظیم خالق کی شان سے بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے، تو ہمارا یہ گمان سچا ثابت ہوا۔ ’تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ‘ یعنی ایک کامیاب اور فتح مند ٹیم کی طرح ان کے آپس میں مبارک سلامت کے تبادلے ہوں گے اور دوسری طرف کفار کے اندر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو گی اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کر رہا ہو گا ’وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ یہ تکمیل نعمت پر اظہار تشکر ہے کہ اہل جنت جب دیکھیں گے کہ ہر طرف نعمت ہی نعمت ہے تو بے تحاشا ان کی زبان سے یہ شکر کا کلمہ نکلے گا۔
    اس میں ان کا ترانہ ہو گا اے اللہ تو پاک ہے۔ اور اس میں ان کی آپس کی تحیت سلام ہو گی اور ان کا آخری کلمہ الحمد للہ رب العالمین (شکر ہے اللہ رب العالمین کے لیے) ہو گا۔
    اہل ایمان کا انجام: ’اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَھْدِیْھِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ ....... اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ ’ھدَایت‘ یہاں منزل مقصود کی ہدایت کے مفہوم میں ہے جو تمام کائنات کی تخلیق کی غایت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی بدولت جنت میں ان کے حسب مراتب منازل و مقامات کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے گا ’دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ‘ یعنی جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ حق، حق ہو کے رہا اور باطل، باطل تو بے تحاشا ان کی زبان سے ’سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ‘ کے الفاظ نکلیں گے کہ آیات الٰہی کے مشاہدے سے ہمارا جو یہ گمان تھا کہ یہ کارخانۂ کائنات کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہو سکتا، اس عظیم خالق کی شان سے بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے، تو ہمارا یہ گمان سچا ثابت ہوا۔ ’تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ‘ یعنی ایک کامیاب اور فتح مند ٹیم کی طرح ان کے آپس میں مبارک سلامت کے تبادلے ہوں گے اور دوسری طرف کفار کے اندر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو گی اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کر رہا ہو گا ’وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ یہ تکمیل نعمت پر اظہار تشکر ہے کہ اہل جنت جب دیکھیں گے کہ ہر طرف نعمت ہی نعمت ہے تو بے تحاشا ان کی زبان سے یہ شکر کا کلمہ نکلے گا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List