Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • التوبہ (The Repentance)

    129 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور اس پر بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ

    یہ سورہ، جیسا کہ گروپ کی تمہید میں ہم واضح کر چکے ہیں، سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورہ ہے۔ اس میں اور انفال میں بالکل اسی نوع کا تعلق ہے جس نوع کا تعلق متن اور شرح یا تمہید اور اصل مقصد میں ہوتا ہے۔ سورۂ انفال میں مسلمانوں کو جس جہاد کے لیے ظاہراً و باطناً منظم کیا گیا ہے اس سورہ میں اس کا اعلان فرما دیا۔ مصحف کی ترتیب میں اس سورہ پر بسم اللہ نہیں لکھی ہوئی ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے چلی آ رہی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس پر بسم اللہ کا نہ لکھا جانا ایمائے الٰہی سے ہوا ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل قبول توجیہہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں عمود و مضمون کے لحاظ سے نہایت گہرا اتصال بھی ہے اور مقصد و غایت کے اعتبار سے فی الجملہ انفصال بھی۔ ایک کا رخ بالکلیہ مسلمانوں کی طرف ہے اور دوسری کا رخ اصلاً مشرکین، اہل کتاب اور منافقین کی طرف۔ ایک کی نوعیت تیاری کی ہے اور دوسری کی، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، الٹی میٹم اور اعلان جنگ کی۔ اشتراک و انفصال کے ان دونوں پہلوؤں کو ممیز کرنے کے لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ یہ سورہ سابق سورہ سے بالکل الگ بھی نہ ہو لیکن فی الجملہ نمایاں اور ممتاز بھی رہے۔ بسم اللہ نہ لکھے جانے سے یہ دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہو گئے۔ بسم اللہ، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، دو سورتوں کے درمیان علامت فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علامت فصل کے نہ ہونے سے دونوں کا معنوی اتصال نمایاں ہو گیا اور ساتھ ہی اس کے علیحدہ وجود نے اس کو علیحدہ نام دے دیا جس سے اس کی امتیازی خصوصیت بھی سامنے آ گئی۔

  • التوبہ (The Repentance)

    129 آیات | مدنی
    الانفال —— التوبۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس آخری دینونت کے لیے تیاری اور مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر کی ہدایات دی گئی ہیں، دوسری اُسی کے ظہور کا بیان ہے۔ دونوں کے مخاطب اہل ایمان ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ دونوں سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ جزا و سزا میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ— الانفال— کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے خلاف آخری اقدام کی تیاری اور اِس کے لیے مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

    دوسری سورہ— التوبہ— کا موضوع اِنھی منکرین کے لیے، خواہ وہ کھلے منکر ہوں یا منافقین، خدا کی آخری دینونت کا ظہور ہے۔

  • Click verse to highight translation
    Chapter 009 Verse 001 Chapter 009 Verse 002 Chapter 009 Verse 003 Chapter 009 Verse 004 Chapter 009 Verse 005 Chapter 009 Verse 006 Chapter 009 Verse 007 Chapter 009 Verse 008 Chapter 009 Verse 009 Chapter 009 Verse 010 Chapter 009 Verse 011 Chapter 009 Verse 012 Chapter 009 Verse 013 Chapter 009 Verse 014 Chapter 009 Verse 015 Chapter 009 Verse 016 Chapter 009 Verse 017 Chapter 009 Verse 018 Chapter 009 Verse 019 Chapter 009 Verse 020 Chapter 009 Verse 021 Chapter 009 Verse 022 Chapter 009 Verse 023 Chapter 009 Verse 024 Chapter 009 Verse 025 Chapter 009 Verse 026 Chapter 009 Verse 027 Chapter 009 Verse 028
    Click translation to show/hide Commentary
    ان مشرکین سے اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان براء ت ہے جن سے تم نے معاہدے کیے تھے۔
    لفظ ’بَرَآءَ ۃٌ‘ کا مفہوم: ’بَرَآءَ ۃٌ مِنَ اللّٰہِ الایہ‘۔ ’بَرَآءَ ۃٌ‘ کے معنی کسی ذمہ داری سے دست بردار اور بری الذمہ ہونے کے ہیں۔ یہاں یہ ان معاہدات کی ذمہ داری سے دست کش ہونے کے معنی میں ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد مشرکین عرب کے مختلف قبائل سے موقت اور غیر موقت نوعیت کے کر لیے تھے۔ ’مشرکین‘ سے یہاں بھی اور قرآن میں جہاں جہاں بھی یہ لفظ بشکل علم استعمال ہوا ہے مشرکین بنی اسمٰعیل یا بالفاظ دیگر مشرکین عرب مراد ہیں۔ ان کے معاہدات کی ذمہ داری سے اس اعلان براء ت کی وجہ آگے آیت ۳ سے واضح ہوتی ہے کہ بہت سے قبائل نے معاہدات کرنے کو تو کر لیے تھے لیکن ان کو وفاداری اور راست بازی کے ساتھ نباہ نہیں رہے تھے اس وجہ سے اس قسم کے معاہدوں کے کالعدم ہونے کا اعلان کر دیا گیا، صرف ان قبائل کے معاہدے باقی رکھے گئے جنھوں نے کوئی غداری یا عہد شکنی نہیں کی تھی اور وہ بھی صرف ان کی قرار دادہ مدت تک کے لیے۔ لفظ ’بَرَآءَ ۃٌ‘ کے بعد حرف ’الٰی‘ جو آیا ہے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ یہاں ’ابلاغ‘ کا مفہوم بھی مضمر ہے۔ یعنی اس دست برداری کی اطلاع تمام ناقض عہد مشرکین کو پہنچا دی جائے چنانچہ بعد والی آیت میں اس کی تصریح بھی آ رہی ہے۔ ایک قابل توجہ نکتہ: یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جہاں تک معاہدہ کرنے کا تعلق ہے اس کی ذمہ داری تو اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ ’عٰھَدْتُّمْ‘ کے لفظ سے واضح ہے تمام مسلمانوں پر ڈالی ہے اس لیے کہ پیغمبر کی اٹھائی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے لیکن براء ت ذمہ کے معاملے میں مسلمانوں کی ذمہ داری معین نہیں فرمائی ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے۔ اس سے اس اعلان کی شدت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ و رسول تو ان بودے معاہدوں سے بری ہوئے، اب اہل ایمان خود فیصلہ کریں کہ انھیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اللہ و رسول کا ساتھ دے کر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے یا عزیز داری، برادری اور خاندان و قبیلہ کی پاس داری میں نفاق کی روش اختیار کرنی ہے۔ بات کے اس انداز سے کہنے میں مصلحت یہ تھی کہ پس منظر میں، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے، منافقین بھی تھے جو ابھی اپنے خاندانی و قبائلی بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے۔ ان لوگوں پر اس اسلوب سے یہ حقیقت واضح کر دی گئی کہ اللہ اور رسول کی طرف سے یہ فیصلہ قطعی ہے، اس میں کسی لچک کا امکان نہیں ہے، جس کو اس کا ساتھ دینا ہو، ساتھ دے ورنہ اپنی راہ اور اپنی منزل کا خود فیصلہ کرے۔
    سو اب ملک میں چار ماہ چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کے قابو سے باہر نہیں جا سکتے اور اللہ کافروں کو رسوا کر کے رہے گا۔
    براہ راست مشرکین سے خطاب: ’فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ الایۃ‘ اوپر والی آیت کا خطاب مسلمانوں سے تھا، اس آیت میں خطاب کا رخ براہ راست مشرکین کی طرف ہو گیا ہے۔ خطاب کی یہ تبدیلی اس دھمکی کی شدت اور اس کے فیصلہ کن ہونے کی دلیل ہے۔ مسلمانوں کو خطاب کر کے یوں نہیں فرمایا کہ دھمکی مشرکین کو سنا دو بلکہ جس طرح اعلان براء ت خود فرما دیا اسی طرح براہ راست مشرکین کو خطاب کر کے فرمایا کہ بس اب چار ماہ کی مہلت تمھیں اور حاصل ہے، اس کے بعد ان لوگوں کے معاہدات کی اللہ و رسول پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے جو اپنے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر چکے ہیں بلکہ ہر قدم پر ان کی دار و گیر شروع ہو جائے گی۔ معاہدات میں براء ت میں چار ماہ کی مہلت کی مصلحتیں: چار ماہ کی مہلت میں کئی مصلحتیں مدنظر ہو سکتی ہیں۔ یہ مصلحت بھی ہو سکتی ہے کہ معاہدے کے باوجود جو لوگ شرارتیں کر رہے تھے وہ اپنے رویے پر نظرثانی کرنا چاہیں تو نظرثانی کر لیں، یہ مصلحت بھی ہو سکتی ہے کہ اس دوران میں مسلمان اپنے اس اہم اقدام سے پوری طرح یک سو، منظم اور تیار ہو جائیں۔ علاوہ ازیں آیت ۵ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آگے اشہر حرم آ رہے تھے جن کا احترام کسی جنگی اقدام سے مانع تھا۔ ’وَّاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ‘ کی وضاحت انفال آیت ۵۹ کے تحت گزر چکی ہے۔
    اور اللہ و رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں میں منادی کر دی جائے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں تو اگر تم توبہ کرو تو تمھارے حق میں بہتر ہے اور اگر روگردانی کرو گے تو جان رکھو کہ تم اللہ سے بھاگ نہیں سکتے اور کافروں کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری پہنچا دو۔
    حج کے موقع پر اعلان براء ت کی عام منادی: ’اَذَان‘ یہاں اپنے لغوی مفوہم یعنی اعلان و منادی کے معنی میں ہے۔ ہدایت ہوئی کہ حج اکبر کے دن یہ منادی کرا دی جائے کہ اللہ و رسولؐ اس قسم کے معاہدوں سے بری الذمہ ہیں، اب جو توبہ کر لے گا اس کی خیر ہے اور جو روگردانی کریں گے وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔ حج کے موقع پر منادی کی ہدایت اس وجہ سے ہوئی کہ عرب میں حج ہی کا اجتماع ایک ایسا اجتماع ہوتا تھا جس میں ملک کے کونے کونے سے لوگ جمع ہوتے جس کے سبب سے ہر وہ بات جو وہاں پھیل جائے پورے ملک میں پھیل جاتی تھی۔ خاص طور پر ۹ھ کے حج تک چونکہ صورت یہ تھی کہ مشرکین بھی حج کو جاتے تھے اس وجہ سے وہاں کا ہر اعلان سب کے کانوں تک پہنچ جاتا تھا، خواہ مسلمان ہوں یا کفار۔ اسی وجہ سے آیت میں لفظ بھی ’الی الناس‘ استعمال ہوا ہے جو عام ہے۔ حج اکبر سے کیا مراد ہے؟ ’حج اکبر‘ سے کیا مراد ہے اور یہ کس سن کے حج کی طرف اشارہ ہے؟ اس سوال کا جواب مفسرین نے یہ دیا ہے کہ اس سے مراد ۹ھ کا حج ہے جو حضرت ابوبکرؓ صدیق کی امارت میں ہوا۔ ہمارے نزدیک یہ بات ٹھیک ہے۔ اس لیے کہ یہی پہلا موقع ہے جب مسلمانوں کو باقاعدہ حج کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے انھیں دو تین مواقع جو ملے ان میں وہ صرف عمرہ کر سکے تھے۔ عمرہ کو حج اصغر (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں۔ اس نسبت سے پورے حج کے لیے ’حج اکبر‘ (بڑا حج) کا لفظ استعمال ہوا جس میں گویا مسلمانوں کو پہلے سے یہ بشارت بھی دے دی گئی کہ اب تک وہ صرف چھوٹے حج ہی کی سعادت حاصل کر سکے ہیں، آگے ان کو بڑے حج سے بھی سعادت اندوز ہونے کا موقع ملنے والا ہے۔ سورۂ توبہ کا نزول: یہیں سے عام طور پر لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس سورہ کا نزول ۹ھ میں ہوا ہے لیکن اس نتیجہ کے قبول کرنے میں مجھے تردد ہے اس لیے کہ آگے جو آیات آ رہی ہیں ان سے، جیسا کہ آپ دیکھیں گے، صاف واضح ہے کہ کم از کم یہ اور آگے کی آیات معاہدہ حدیبیہ کے خاتمہ اور فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہیں لیکن اعلان براء ت کی منادئ عام چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۹ھ کے حج کے موقع پر ہی کرائی اس لیے بعض لوگوں کو یہ گمان گزرا کہ ان آیات کا نزول بھی اسی موقع پر ہوا۔ حالانکہ یہ ایک پیشگی ہدایت تھی اس بات کی کہ جب حج اکبر کی سعادت حاصل کرنے کا موقع آئے تو اس موقع پر اس فیصلہ کی منادئ عام بھی کرا دی جائے۔ اس سے ضمناً مسلمانوں کو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، حج سے مشرف ہونے کی بشارت بھی حاصل ہو گئی۔ میرے لیے ان آیات کا زمانۂ نزول ٹھیک ٹھیک متعین کرنا مشکل ہے۔ اس لیے کہ عرب میں حجۃ الوداع سے پہلے تک دو جنتریاں رائج رہی ہیں، ایک سادہ قمری حساب پر مبنی تھی دوسری نسی کے اس قاعدے پر مبنی تھی جس کی طرف آگے اسی سورہ میں اشارہ آئے گا۔ اگر کوئی شخص اس فرق کو معلوم کر سکے جو نسی کے قاعدے نے اصل قمری مہینوں میں پیدا کر دیا تھا تو وہ ان چار مہینوں کو بھی معین کر سکے گا جو آیت نمبر ۲ میں مذکور ہیں اور ان محترم مہینوں کو بھی ٹھیک ٹھیک بتا سکے گا جن کا حوالہ آیت ۵ میں ہے۔ اس تحقیق میں اس مسلم حقیقت سے بڑی رہنمائی مل سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۰ھ میں جو حج کیا وہ قمری حساب سے بھی ٹھیک نویں ذی الحجۃ کو پڑا تھا اور نسی کے حساب سے بھی اس کی تاریخ یہی تھی، گویا دونوں جنتریوں کا قِران ہو گیا تھا۔ ’استدار الزمان کھیئتہ یوم خلق السموت والارض‘ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ میں حساب کتاب کے میدان کا مرد نہیں ہوں اس وجہ سے اس باب میں عزم و جزم سے کچھ کہنا میرے لیے مشکل ہے لیکن قرآن کے الفاظ اور اس کے نظم کی روشنی میں اس بات پر میں مطمئن ہوں کہ یہ آیات معاہدۂ حدیبیہ کے خاتمہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہیں۔ دلائل و قرائن کی تفصیل آئے گی۔
    وہ مشرکین اس سے مستثنیٰ ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا اور انھوں نے اس میں نہ تم سے کوئی خیانت کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی سو ان کے معاہدے ان کی قراردادہ مدت تک پورے کرو، اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
    اعلان براء ت سے مستثنیٰ مشرکین: یہ ان مشرکین کا بیان ہے جو مذکورہ اعلان سے مستثنیٰ تھے۔ یہ وہ قبائل ہیں جو اپنے عہد پر قائم رہے، نہ خود معاہدے کے خلاف کوئی چھوٹا یا بڑا اقدام کیا، نہ مسلمانوں کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی مدد کی۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مذکورہ بالا اعلان ناقضین عہد ہی سے متعلق تھا لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اس سے واضح ہوتی ہے کہ یہ معاہدے بھی صرف ان کی قرار دادہ مدت ہی تک باقی رکھنے کی اجازت ہوئی۔ مدت گزر جانے کے بعد یہ بھی کالعدم۔ آگے کے لیے ان سے کسی نئے معاہدے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چنانچہ اس اعلان براء ت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی گروہ سے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مشرکین سے جو معاہدے کیے گئے تھے وہ صرف دعوت و تبلیغ اور اتمام حجت کی مصلحت سے کیے گئے تھے۔ مقصود ان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نباہ کرنا نہ تھا۔ یہ سنت الٰہی ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کر چکے ہیں کہ جس قوم کی طرف براہ راست رسول کی بعثت ہوتی ہے اگر وہ تبلیغ و دعوت اور اتمام حجت کے بعد بھی رسول کی تکذیب پر اڑی رہتی ہے تو وہ لازماً ختم کر دی جاتی ہے۔ خواہ اس کا خاتمہ خدا کے کسی براہ راست عذاب سے ہو یا اہل ایمان کی تلوارسے۔ مشرکین عرب کا معاملہ اسی نوعیت کا تھا۔ اب تبلیغ و دعوت اور اتمام حجت کا دور ان کے لیے ختم ہو رہا تھا اس وجہ سے اب ان کے کسی گروہ کے ساتھ کسی معاہدے کا سوال خارج از بحث تھا۔ ’اجتماعی تقویٰ‘ کی وضاحت: ’اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ‘ میں جس تقویٰ کا ذکر ہے، یہ انفرادی تقویٰ نہیں بلکہ اجتماعی و سیاسی تقویٰ ہے۔ اسلام جس طرح ہر شخص سے انفرادی تقویٰ کا مطالبہ بھی کرتا ہے اسی طرح مسلمانوں سے من حیث الجماعت اجتماعی اور سیاسی تقویٰ کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ یعنی مسلمان دوسری قوموں سے جو معاملات اور معاہدات کریں ان میں راست باز، صداقت شعار اور وفادار رہیں، کسی عہد اور قول و قرار کی کوئی ادنیٰ خلاف ورزی بھی نہ کریں۔ خدا ایسے ہی متقیوں کو دوست رکھتا ہے اور خدا جن کو دوست رکھتا ہے وہی دنیا اور آخرت میں برو مند اور فائز المرام ہوتے ہیں۔
    سو جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو، ان کو پکڑو، ان کو گھیرو، اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک لگاؤ۔ پس اگر یہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تب ان کی جان چھوڑو۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔
    ’اشہر حرم‘ سے مراد: ’اَشْھُرُ حُرُم‘ سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجۃ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔ ’اَشْھُرُ حُرُم‘ ان مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتا ہے۔ ان کے سوا کوئی اور مہینہ اس لفظ سے مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ مہینے زمانۂ جاہلیت بلکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے محترم چلے آ رہے تھے۔ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ حج و عمرہ کے مہینے بھی تھے اور اہل عرب کی بیشتر تجارتی کاروباری نقل و حرکت انہی مہینوں میں ہوتی تھی۔ ان میں لڑنا بھڑنا شرعاً ممنوع تھا اور اہل عرب اپنی جنگ جویانہ طبیعت کے باوجود ان کا احترام برابر ملحوظ رکھتے تھے۔ اوپر آیت ۲ میں جو چار ماہ کی مہلت مذکور ہوئی ہے ان میں تین مہینے حرمت والے تھے۔ تین مہینے اس وجہ سے کہ حرمت کے چاروں مہینے یک جا نہیں ہیں۔ تین ایک سلسلہ میں ہیں، رجب الگ ہے۔ اگرچہ نسی کے قاعدے کے تحت یہ اپنے اصل مقام سے ہٹے ہوئے تھے تاہم اگر ان تین حرمت والے مہینوں سے پہلے وقت کے مہینوں میں سے شوال کو ملا دیا جائے تو یہ چار مہینے بن جاتے ہیں۔ فرمایا کہ جب محترم مہینے گزر جائیں تو ان ناقض عہد مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ ’جہاں پاؤ‘ سے مراد، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں وضاحت گزر چکی ہے، یہ ہے کہ حدود حرم میں بھی ان سے جنگ و قتال مباح ہے۔ مشرکین عرب کی داروگیر: ’وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ‘ یعنی ان کے خلاف ہر قسم کی جنگی کارروائی کی جائے اور ہر پہلو سے ان کا ناطقہ بند کیا جائے۔ اس شدت کے ساتھ ان کی داروگیر کے اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نوعیت محض ایک دشمن کے خلاف اقدام کی نہیں تھی بلکہ یہ مشرکین عرب کے لیے اس سنت الٰہی کا ظہور تھا جو رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے لیے ہمیشہ ظاہر ہوئی ہے اور جس کی تفصیلات سورۂ اعراف میں بیان ہوئی ہیں۔ مشرکین عرب کے لیے دو راہیں: اسلام یا تلوار: ’فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُواالصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ داروگیر اس وقت تک بند نہ کی جائے جب تک یہ اپنے کفرو شرک سے تائب ہو کر نماز نہ قائم کریں اور زکوٰۃ نہ ادا کرنے لگ جائیں۔ نماز اور زکوٰۃ ایک جامع تعبیر ہے اسلام کے نظام عبادت و اطاعت میں داخل ہونے کی۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام کے بغیر نہ ان کے لیے ذمی یا معاہد بن کر اسلامی نظام میں باقی رہنے کی گنجائش رہی نہ لونڈی غلام بن کر۔ ان کے لیے صرف دو راہیں باقی ہیں۔ یا تو اسلام قبول کریں یا تلوار۔ مشرکین عرب کے ساتھ خاص معاملہ کی وجہ: مشرکین عرب کے ساتھ یہ خاص معاملہ کرنے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول بھیجا، انہی کی زبان میں ان پر اپنی کتاب اتاری، اسی ملت کی ان کو دعوت دی گئی جس کے وہ مدعی تھے۔ رسول نے مسلسل ۲۳ سال تک ان کو جھنجھوڑا اور جگایا، ان کی ہر مجلس اور ہر بزم میں وہ پہنچا، ان کے ایک ایک دروازے پر اس نے دستک دی۔ ان کے ایک ایک شبہ اور ایک ایک اعتراض کا جواب دیا۔ ان کی تمام الزام تراشیوں، تہمتوں اور عداوتوں کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطالبہ پر معجزے بھی دکھائے اور ان کی منتخب کی ہوئی کسوٹیوں پر بھی اپنے کو کھرا اور سچا ثابت کر دیا۔ یہاں تک کہ ان کے اندر جو اچھے لوگ تھے وہ اس کے ساتھی بھی بن گئے تو اس سارے اہتمام کے بعد بھی جو لوگ قبول حق پر آمادہ نہیں ہوئے آخر وہ کس لیے باقی رکھے جاتے۔ رسول اتمام حجت کا کامل اور آخری ذریعہ ہوتا ہے، جو لوگ اس کے جگانے سے بھی نہیں جاگتے وہ مردہ ہیں اور مردوں کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ دفن کر دیے جائیں۔
    اور اگر ان مشرکین میں سے کوئی تم سے امان کا طالب ہو تو اس کو امان دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنھیں اللہ کی باتوں کا علم نہیں۔
    اتمام حجت کی خاطر آخری رعایت: اوپر والی آیت میں مشرکین کی داروگیر کا جو حکم ہوا ہے، اتمام حجت کی خاطر یہ اس میں آخری رعایت ہے۔ فرمایا کہ اس داروگیر کے دوران میں اگر کوئی شخص امان کا طالب ہو تو اس کو امان دے دو۔ اور اس کو اللہ و رسول کی دعوت اور اس کا مقصد اچھی طرح سنا سمجھا کر اس کی امان کی جگہ پر پہنچا دو تاکہ وہ ٹھنڈے دل سے اپنے معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کر سکے کہ وہ اسلام قبول کرتا ہے یا تلوار۔ یہ امان بخشی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے، محض اتمام حجت کے نقطۂ نظر سے تھی۔ اس کے معنی یہ نہیں تھے کہ وہ اس داروگیر کے حکم سے امان پا گیا۔ اگر وہ ایمان نہ قبول کرے گا تو اس کے لیے وہی حکم باقی رہے گا جو اوپر بیان ہوا ہے اور جب وہ دوبارہ زد میں آئے گا تو نہ یہ امان اس کے لیے نافع ہو گی، نہ ازسرنو طلب امان کی اس کے لیے کوئی گنجائش ہی باقی رہے گی۔ ’ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ‘ یہ اس رعایت کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ چونکہ یہ امی لوگ رہے ہیں۔ دین و شریعت سے بے خبر اور نبوت و رسالت سے نا آشنا، اس وجہ سے اس کا امکان ہے کہ اتنے طویل سلسلۂ تبلیغ و دعوت کے بعد بھی، کسی کے معاملہ میں اتمام حجت کے پہلو سے کوئی کسر رہ گئی ہو اور چونکہ اس داروگیر کا حکم، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اتمام حجت ہی کی بنیاد پر تھا اس وجہ سے ہدایت ہوئی کہ اگر کوئی شخص طالب رعایت ہو تو اس کو رعایت دے دی جائے۔ ہر چند اس میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کوئی شخص اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر جاسوسی کرے یا دوبارہ حریف بن کر سامنے آئے۔
    مشرکین کے کسی عہد کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر کس طرح باقی رہ سکتی ہے؟ ۔۔۔ ہاں جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا ہے تو جب تک وہ قائم رہیں تم بھی ان کے لیے معاہدے پر قائم رہو، اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔۔۔ ۔
    اعلان براء ت کے وجوہ: یہ اعلان براء ت کے وجوہ اور دلائل بیان ہو رہے ہیں۔ خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف خاص طور سے ہے جو مشرکین کے اندر اپنے تعلقات اور عزیز داریوں کے باعث اس اعلان سے تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اس اعلان سے اتنی بات تو ہر شخص کے سامنے آ گئی کہ اب حدیبیہ کے اس معاہدے کے دن بھی قریب آ لگے ہیں جس نے مسلمانوں اور قریش کے درمیان ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی راہ کھول دی تھی۔ جو لوگ ضعیف الایمان تھے قدرتی طور پر ان کا ایمان ایک سخت آزمائش میں پڑ گیا۔ قریش میں گھر گھر ان کی عزیز داریاں تھیں اور وہ توقع لیے بیٹھے تھے کہ ملنے جلنے کا یہ دروازہ کھلا رہے گا اور وہ کفر اور اسلام دونوں کے ساتھ نباہ کرتے رہیں گے۔ اس اعلان نے نہ صرف اس توقع کا ہمیشہ کے لیے یک قلم خاتمہ کر دیا بلکہ انھوں نے دیکھا کہ اب وہ وقت سر پر آ رہا ہے کہ انھیں اپنے ان تمام عزیزوں اور رشتہ داروں کے خلاف تلوار سونتنی پڑے گی۔ اس ذہن کے لوگوں کو سامنے رکھ کر فرمایا جا رہا ہے کہ بھلا ان مشرکین کے کسی عہد و پیمان کی کوئی ذمہ داری اللہ و رسول پر کیسے ہو سکتی ہے جن کا حال یہ ہے کہ اگر تم پر کہیں ان کا زور چل جائے تو نہ قرابت کا پاس کریں نہ کسی عہد کا۔ باتوں سے وہ تمہیں خوش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے دل تمہارے اوپر غم و غصہ سے کھول رہے ہیں۔ ان کی اکثریت بدعہدوں پر مشتمل ہے۔ آیات ۷۔۸ کا دروبست: اس آیت کا درو بست ذرا قابل غور ہے اس کو سمجھ لیجیے۔ کلام کا آغاز تو فرمایا ’کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ‘ سے لیکن بات پوری کرنے سے پہلے ایک استثنا کا ذکر بطور جملۂ معترضہ کر دیا کہ ’اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ‘ پھر اس بات کو جو اس جملۂ معترضہ کے سبب سے ادھوری رہ گئی تھی ازسرنو لیا اور اس کو بعینہٖ اسی تمہید سے شروع کر کے اس کی تکمیل کی۔ فرمایا ’کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّۃً‘۔ الایۃ معاشرتی و سیاسی تعلقات کی بنیادیں: تعلقات کی بنیاد دو ہی چیزوں پر ہوتی ہے۔ معاشرتی تعلقات کی بنیاد رشتۂ رحم و قرابت کے پاس و لحاظ پر اور سیاسی روابط کی بنیاد باہمی معاہدات کی عائد کردہ ذمہ داریوں کے احترام پر۔ پہلی کو ’الّ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان حقوق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک اصل و نسل، ایک جوہر و معدن سے ہونے یا قرابت اور پڑوس کی بنا پر ایک دوسرے پر آپ سے آپ قائم ہو جاتے ہیں۔ دوسری کو ’ذمّہ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی معاہدہ میں شریک ہونے والی پارٹیوں پر ازروئے معاہدہ عائد ہوتی ہیں۔ فرمایا کہ اس اعلان براء ت سے تم میں سے کوئی اس تشویش میں مبتلا نہ ہو کہ اب ان لوگوں کے ساتھ تمام معاشرتی اور اجتماعی تعلقات ختم ہو رہے ہیں۔ یہ ختم ہو رہے ہیں تو اب ان کو ختم ہی ہونا تھا۔ تعلقات کبھی بھی یک طرفہ قائم نہیں رہتے۔ تم میں سے جو لوگ ان کے تعلقات کو عزیز رکھتے ہیں انھیں یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ وہ اگر تم پر کبھی قابو پا جائیں گے تو نہ قرابت مندی کا لحاظ رکھیں گے نہ کسی معاہدے کا۔ ملاقاتوں میں یہ جو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں وہ محض زبانی ہمدردی کی نمائش اور تمہیں بے وقوف بنانے کی ایک کوشش ہے ورنہ حقیقت میں ان کے دل ان کی زبان سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر تمہارے اور تمہارے دین کے خلاف عناد بھرا ہوا ہے۔ ’فسق‘ کا مفہوم: ’وَاَکْثَرُھُمْ فٰسِقُوْنَ‘ یعنی جس طرح ان کی قرابت داری محض زبانی اور نمائشی ہے اسی طرح اپنے عہد و پیمان کے معاملے میں بھی یہ بالکل جھوٹے اور غدار ہیں۔ ان کی اکثریت عہد شکن ہے۔ ’فسق‘ کا لفظ یہاں غداری اور عہد شکنی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن میں اس لفظ کا استعمال اس معنی میں معروف ہے۔ جس طرح اوپر ’تقوٰی‘ کا لفظ پاس عد کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اسی طرح یہاں ’فسق‘ کا لفظ نقض عہد کے لیے استعمال ہوا ہے۔ معاہدۂ حدیبیہ کی طرف اشارہ: ’اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ‘ ہمارے نزدیک یہ اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے جو قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوا تھا۔ اس رائے کے دلائل تو آگے واضح ہوں گے لیکن ایک قرینہ یہاں قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ اس کا تعارف ’اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‘ سے کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی معاہدے ہجرت کے بعد مشرکین کے ساتھ کیے ان میں سے اگر کوئی معاہدہ مسجد حرام کی نسبت کے ساتھ تعارف کا سزاوار ہو سکتا ہے تو وہ صرف حدیبیہ کا معاہدہ ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ یہی معاہدہ مسجد حرام کے قرب و جوار میں طے پایا تھا۔ اس نسبت کے اظہار سے ایک طرف تو معاہدے کا تعارف ہو گیا۔ دوسری طرف اس سے اس کی غیرمعمولی حرمت بھی واضح ہوئی کہ کوئی ایسا ویسا معاہدہ نہیں ہے بلکہ اس کی تکمیل جوار حرم میں ہوئی ہے جس سے زیادہ کوئی دوسری جگہ مقدس و محترم نہیں ہو سکتی۔ ہم کسی دوسرے مقام میں اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ اہل عرب بالعموم اپنے معاہدات اپنے معبدوں اور استھانوں کے سامنے کرتے تھے تاکہ فریقین کے اندر معاہدات کے احترام کا جذبہ پیدا ہو۔ معاہدۂ حدیبیہ کی پابندی کی ہدایت: فرمایا کہ ’فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ‘ یعنی جب تک قریش اس معاہدے پر قائم رہیں تم بھی اس پر قائم رہو۔ اگر وہ اس کو توڑ دیں تم بھی اس کو توڑ دو۔ کوئی معاہدہ یک طرفہ قائم نہیں رہتا۔ دونوں پارٹیاں مل کر اس کو قائم رکھتی ہیں۔ یہی تقاضائے عدل ہے اور اسلام اسی کا تمہیں حکم دیتا ہے۔ ’اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے ہی عدل پسندوں کو دوست رکھتا ہے۔ معاہدات سے متعلق تین باتیں: اوپر کی آیات سے اس وقت تک کے ان تمام معاہدات کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کی مختلف پارٹیوں کے درمیان طے پائے تھے تین باتیں واضح ہوئیں: ۱۔ جن مشرکین نے اپنے معاہدات کی خلاف ورزیاں کی تھیں ان سے اعلان براء ت اور چار ماہ کی مہلت کے بعد ان سے جنگ۔ ۲۔ جنھوں نے اپنے معاہدات پوری وفاداری سے نباہے تھے اور ان کے معاہدات موقّت تھے، اختتام مدت کے بعد یہ معاہدات بھی ختم۔ ۳۔ معاہدۂ حدیبیہ کی خاص نوعیت: معاہدۂ حدیبیہ کو اس وقت تک قائم رکھنے کی ہدایت جب تک قریش اس کو قائم رکھیں۔ یہ یاد رہے کہ معاہدۂ حدیبیہ غیر موقت تھا اور ان آیات کے نزول کے وقت تک معلوم ہوتا ہے قریش لشتم پشتم اس کو نباہ رہے تھے اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے متعلق بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ چار ماہ کی مذکورہ مدت گزرنے کے بعد اس کا کیا انجام ہو گا؟ یہ اسی سوال کا جواب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی دوران میں قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنی خزاعہ کے خلاف اپنے حلیف بنی بکر کی مدد کر کے اس معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر فوج کشی کی اور اس کو فتح کر لیا۔
    کس طرح باقی رہ سکتی ہے جب کہ حال یہ ہے کہ اگر وہ کہیں تمہیں دبا پائیں تو نہ تمہارے بارے میں کسی قرابت کا پاس کریں نہ عہد کا۔ وہ تمہیں باتوں سے مطمئن کرنا چاہتے ہیں، پر ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور ان کی اکثریت بدعہد ہے۔
    آیات ۷۔۸ کا دروبست: اس آیت کا درو بست ذرا قابل غور ہے اس کو سمجھ لیجیے۔ کلام کا آغاز تو فرمایا ’کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ‘ سے لیکن بات پوری کرنے سے پہلے ایک استثنا کا ذکر بطور جملۂ معترضہ کر دیا کہ ’اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ‘ پھر اس بات کو جو اس جملۂ معترضہ کے سبب سے ادھوری رہ گئی تھی ازسرنو لیا اور اس کو بعینہٖ اسی تمہید سے شروع کر کے اس کی تکمیل کی۔ فرمایا ’کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّۃً‘۔ الایۃ معاشرتی و سیاسی تعلقات کی بنیادیں: تعلقات کی بنیاد دو ہی چیزوں پر ہوتی ہے۔ معاشرتی تعلقات کی بنیاد رشتۂ رحم و قرابت کے پاس و لحاظ پر اور سیاسی روابط کی بنیاد باہمی معاہدات کی عائد کردہ ذمہ داریوں کے احترام پر۔ پہلی کو ’الّ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان حقوق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک اصل و نسل، ایک جوہر و معدن سے ہونے یا قرابت اور پڑوس کی بنا پر ایک دوسرے پر آپ سے آپ قائم ہو جاتے ہیں۔ دوسری کو ’ذمّہ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی معاہدہ میں شریک ہونے والی پارٹیوں پر ازروئے معاہدہ عائد ہوتی ہیں۔ فرمایا کہ اس اعلان براء ت سے تم میں سے کوئی اس تشویش میں مبتلا نہ ہو کہ اب ان لوگوں کے ساتھ تمام معاشرتی اور اجتماعی تعلقات ختم ہو رہے ہیں۔ یہ ختم ہو رہے ہیں تو اب ان کو ختم ہی ہونا تھا۔ تعلقات کبھی بھی یک طرفہ قائم نہیں رہتے۔ تم میں سے جو لوگ ان کے تعلقات کو عزیز رکھتے ہیں انھیں یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ وہ اگر تم پر کبھی قابو پا جائیں گے تو نہ قرابت مندی کا لحاظ رکھیں گے نہ کسی معاہدے کا۔ ملاقاتوں میں یہ جو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں وہ محض زبانی ہمدردی کی نمائش اور تمہیں بے وقوف بنانے کی ایک کوشش ہے ورنہ حقیقت میں ان کے دل ان کی زبان سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر تمہارے اور تمہارے دین کے خلاف عناد بھرا ہوا ہے۔ معاہدات سے متعلق تین باتیں: اوپر کی آیات سے اس وقت تک کے ان تمام معاہدات کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کی مختلف پارٹیوں کے درمیان طے پائے تھے تین باتیں واضح ہوئیں: ۱۔ جن مشرکین نے اپنے معاہدات کی خلاف ورزیاں کی تھیں ان سے اعلان براء ت اور چار ماہ کی مہلت کے بعد ان سے جنگ۔ ۲۔ جنھوں نے اپنے معاہدات پوری وفاداری سے نباہے تھے اور ان کے معاہدات موقّت تھے، اختتام مدت کے بعد یہ معاہدات بھی ختم۔ ۳۔ معاہدۂ حدیبیہ کی خاص نوعیت: معاہدۂ حدیبیہ کو اس وقت تک قائم رکھنے کی ہدایت جب تک قریش اس کو قائم رکھیں۔ یہ یاد رہے کہ معاہدۂ حدیبیہ غیر موقت تھا اور ان آیات کے نزول کے وقت تک معلوم ہوتا ہے قریش لشتم پشتم اس کو نباہ رہے تھے اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے متعلق بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ چار ماہ کی مذکورہ مدت گزرنے کے بعد اس کا کیا انجام ہو گا؟ یہ اسی سوال کا جواب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی دوران میں قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنی خزاعہ کے خلاف اپنے حلیف بنی بکر کی مدد کر کے اس معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر فوج کشی کی اور اس کو فتح کر لیا۔
    انھوں نے اللہ کی آیات کے عوض میں ایک نہایت حقیر قیمت اختیار کر لی ہے۔ اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، بے شک بہت ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔
    اعلان براء ت کے وجوہ کی مزید وضاحت: یہ اعلان براء ت کے وجود کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انھوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی، خود بھی اس سے منہ موڑا اور دوسروں کو بھی، جن پر ان کا بس چلا، اس سے روکا۔ خلق کے ساتھ ان کے معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے معاملے میں ان کو نہ رِحم اور قرابت کا پاس ہے نہ عہد و ذمہ کا۔ ’وَاُولٰءِٓکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ‘ یعنی حقوق تلف کرنے اور حدود توڑنے میں انہی نے سبقت کی ہے تو ایسے بدعہدوں اور ایسے ظالموں کے ساتھ اللہ و رسول کا کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے۔ اب ان کے لیے بس یہی راہ ہے کہ توبہ کریں ، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی بن جائیں گے ’وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘ میں فی الجملہ تنبیہ کا مضمون ہے مسلمانوں اور کفار دونوں کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کے لیے اس باب میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے ان مشرکین کے ساتھ اس سے الگ ہو کر کوئی معاملہ کرنا چاہا تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہے، اسی طرح مشرکین میں سے اگر کسی نے اس سے کچھ الگ امید باندھی تو اس کی ذمہ داری بھی خود اسی پر ہے۔
    کسی صاحب ایمان کے معاملے میں نہ ان کو کسی قرابت کا پاس ہے اور نہ کسی عہد کا۔ اور یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں۔
    اعلان براء ت کے وجوہ کی مزید وضاحت: یہ اعلان براء ت کے وجود کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انھوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی، خود بھی اس سے منہ موڑا اور دوسروں کو بھی، جن پر ان کا بس چلا، اس سے روکا۔ خلق کے ساتھ ان کے معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے معاملے میں ان کو نہ رِحم اور قرابت کا پاس ہے نہ عہد و ذمہ کا۔ ’وَاُولٰءِٓکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ‘ یعنی حقوق تلف کرنے اور حدود توڑنے میں انہی نے سبقت کی ہے تو ایسے بدعہدوں اور ایسے ظالموں کے ساتھ اللہ و رسول کا کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے۔ اب ان کے لیے بس یہی راہ ہے کہ توبہ کریں ، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی بن جائیں گے ’وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘ میں فی الجملہ تنبیہ کا مضمون ہے مسلمانوں اور کفار دونوں کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کے لیے اس باب میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے ان مشرکین کے ساتھ اس سے الگ ہو کر کوئی معاملہ کرنا چاہا تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہے، اسی طرح مشرکین میں سے اگر کسی نے اس سے کچھ الگ امید باندھی تو اس کی ذمہ داری بھی خود اسی پر ہے۔
    پس اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل کیے دے رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔
    اعلان براء ت کے وجوہ کی مزید وضاحت: یہ اعلان براء ت کے وجود کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انھوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی، خود بھی اس سے منہ موڑا اور دوسروں کو بھی، جن پر ان کا بس چلا، اس سے روکا۔ خلق کے ساتھ ان کے معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے معاملے میں ان کو نہ رِحم اور قرابت کا پاس ہے نہ عہد و ذمہ کا۔ ’وَاُولٰءِٓکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ‘ یعنی حقوق تلف کرنے اور حدود توڑنے میں انہی نے سبقت کی ہے تو ایسے بدعہدوں اور ایسے ظالموں کے ساتھ اللہ و رسول کا کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے۔ اب ان کے لیے بس یہی راہ ہے کہ توبہ کریں ، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی بن جائیں گے ’وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘ میں فی الجملہ تنبیہ کا مضمون ہے مسلمانوں اور کفار دونوں کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کے لیے اس باب میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے ان مشرکین کے ساتھ اس سے الگ ہو کر کوئی معاملہ کرنا چاہا تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہے، اسی طرح مشرکین میں سے اگر کسی نے اس سے کچھ الگ امید باندھی تو اس کی ذمہ داری بھی خود اسی پر ہے۔
    اور اگر عہد کر چکنے کے بعد یہ اپنے قول و قرار توڑ دیں اور تمہارے دین پر نیش زنی کریں تو تم کفر کے ان سرخیلوں سے بھی لڑو۔ ان کے کسی قول و قرار کا کوئی وزن نہیں تا کہ یہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں۔
    قریش کے باب میں ہدایات: ’وَاِنْ نَّکَثُوْآ اَیْمَانَھُمْ مِّنْم بَعْدِ عَھْدِھِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْآ اَءِمَّۃَ الْکُفْرِ‘ یہ اوپر آیت ۷ سے متعلق ہے۔ وہاں فرمایا تھا کہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا ہے جب تک یہ لوگ اس پر قائم رہیں تم بھی اس پر قائم رہو۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر قریش بھی اپنا معاہدہ توڑ دیں تو تم ان ائمۂ کفر سے بھی لڑو۔ ’ائمۂ کفر‘ کا اطلاق عرب میں ظاہر ہے کہ قریش کے سوا کسی اور پر نہیں ہو سکتا تھا۔ دین کے معاملہ میں سارا عرب انہی کے تابع تھا۔ پیشوائی اور سرداری کا مقام انہی کو حاصل تھا۔ قریش کے لیے اس لقب کے استعمال میں ان کے خلاف جہاد کی ایک مضبوط دلیل بھی ہے کہ سارے کفر کے امام و سرغنہ جب یہ ہیں تو ان سے نہ لڑو گے تو کس سے لڑو گے۔ اسلام کے خلاف طعن و طنز اور استخفاف و استہزا کے جتنے تیر و نشتر اور جتنے پروپیگنڈے اور اشغلے ایجاد ہوتے تھے سب انہی کے کارخانے میں ڈھلتے تھے، پھر انہی سے دوسروں میں پھیلتے تھے۔ اسی چیز کی طرف ’وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ‘ میں اشارہ ہے۔ ’اِنَّھُمْ لَا اَیْمَانَ لَھُمْ‘ بطور جملہ معترضہ ہے اور ’لَعَلَّھُمْ یَنْتَھُوْنَ‘ اصل سلسلہ کلام سے مربوط ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی وزن نہیں۔ یہ زیادہ دیر اس کو نباہ نہ سکیں گے۔ آج نہیں تو کل یہ اس کو توڑ دیں گے تو جب بھی اس کو توڑ دیں تم ان سے جنگ کرو تاکہ یہ اپنی شرارتوں سے باز آئیں۔ ان کے باز آنے کا مفہوم وہی ہے جو اوپر کی آیات سے واضح ہو چکا ہے کہ توبہ کریں اور اسلام لائیں۔
    بھلا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنے قول و قرار توڑ دیے، اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی، اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ چھیڑنے میں پہل کی! کیا تم ان سے ڈرو گے؟ اصلی حق دار تو اللہ ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم واقعی مومن ہو۔
    نقض عہد کے بعد قریش سے قتال کی ہدایت: ’اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْآ اَیْمَانَھُمْ وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَھُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ‘ یہ قریش کے خلاف مسلمانوں کو جنگ پر ابھارا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ آیت کچھ فصل سے نازل ہوئی ہے۔ اوپر والی آیت میں تو ’وَاِنْ نَّکَثُوْا‘ کے الفاظ تھے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی معاہدہ کم از کم رسمی طور پر باقی تھا لیکن اس آیت میں ’نَّکَثُوْا اَیْمَانَھُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ انھوں نے معاہدہ توڑ دیا۔ اس معاہدہ کے توڑنے کی شکل، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ ہوئی کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیفوں کے خلاف اپنے حلیفوں کی مدد کی۔ قریش کے جرائم: ’وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ‘ نقض عہد کے جرم کے ساتھ ان کے بعض پچھلے جرائم کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ خاص طور پر ان جرائم کی طرف جو انھوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف کیے۔ ان میں سب سے زیادہ سنگین جرم اللہ کے رسول کو جلاوطن کرنے کا جرم تھا۔ یہ جرم ایک ایسا جرم ہے کہ اس کے ارتکاب پر، جیسا کہ پچھلی سورتوں میں وضاحت ہو چکی ہے، فیصلہ کن عذاب آ جایا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ سنت الٰہی کے مطابق عذاب کے مستحق ہیں، کیا تم ان سے جنگ کرنے سے جی چراؤ گے؟ اس جرم کا ذکر ’وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ‘ کے الفاظ سے فرمایا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا اصل جرم یہ ہے کہ انھوں نے رسولؐ کے جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ جسارت ہی بجائے خود ایک جرم عظیم ہے۔ رہا رسول کا نکلنا تو وہ تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت و مشیت کے تحت ہوتا ہے۔ ’وَھُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ‘ یعنی صرف رسولؐ کے جلاوطن کرنے کی جسارت ہی پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے بعد جنگ چھیڑنے میں بھی پہل انہی نے کی۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ جنگ بدر کی طرف ہے جس پر تفصیلی بحث انفال میں گزر چکی ہے۔ ان الفاظ سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے جو ہم پیچھے واضح کر چکے ہیں کہ جنگ بدر کے لیے پیش قدمی تمام تر قریش کی طرف سے ہوئی۔ قافلۂ تجارت کی حفاظت کا انھوں نے محض ایک بہانہ پیدا کیا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مذکورہ جرائم اصلا قریش ہی کے جرائم تھے اس وجہ سے ان آیات کا تعلق قریش ہی سے ہو سکتا ہے۔ اس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے جو پیچھے ہم نے اس سورہ کے زمانۂ نزول سے متعلق ظاہر کیا ہے۔ کمزور قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ: ’اَتَخْشَوْنَھُمْ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر کمزوروں اور منافق قسم کے لوگوں کی طرف ہے۔ یہ لوگ، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر چکے ہیں اور آگے تفصیل آ رہی ہے، قریش کے ساتھ جنگ کے معاملے میں بہت ہراساں تھے اور اس کی وجہ جنگ سے زیادہ یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے پچھلے تعلقات و روابط کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کے دل کسی طرح اس بات پر راضی نہیں ہوتے تھے کہ یہ تعلقات یک قلم ختم ہو کے رہ جائیں۔ فرمایا کہ تم ان لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ ڈرنے کا زیادہ حق دار اللہ ہے۔ اگر ایمان کے مدعی ہو تو تمہیں دوسروں کے تعلقات سے زیادہ اپنے اس تعلق کا اہتمام ہونا چاہیے جو تم اللہ سے رکھنے کا دعویٰ کرتے ہو۔
    تم ان سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا، ان کو رسوا کرے گا، تم کو ان پر غلبہ دے گا، اہل ایمان کے ایک گروہ کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا۔
    مقابلے میں دشمن کی رسوائی کی بشارت: ’قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ‘ یہ مسلمانوں کی عموماً اور کمزور مسلمانوں کی خصوصاً حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ تم ان ائمہ کفر سے جنگ کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمھارے ہاتھوں ان کو عذاب دینے اور ان کو رسوا کرنے کا فیصلہ فرما لیا ہے۔ ہم پیچھے اس سنت الٰہی کا ذکر کر چکے ہیں کہ جو قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے، رسول کی ہجرت کے بعد اس پر لازماً عذاب آ جاتا ہے۔ اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے تو یہ عذاب براہ راست خدا کی طرف سے آتا ہے۔ اور اگر ایمان لانے والوں کی تعداد معتد بہ ہوتی ہے تو پھر انہی اہل ایمان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ اس قوم کو عذاب دیتا اور ان کو رسوا کرتا ہے۔ یہ رسوائی بھی اس کا خاص حصہ ہوتی ہے، اس لیے کہ تکذیب رسول کا اصل محرک، جیسا کہ اپنے مقام میں واضح ہو چکا ہے، استکبار ہے اور اسکتبار کی سزا رسوائی ہے۔ مظلوم مسلمانوں کی دل داری: ’وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ‘ میں ان مسلمانوں کی دل داری ہے جو بے بس و بے کس ہونے کے سبب سے قریش کے شریروں اور سنگ دلوں کے ہاتھوں مکہ میں سنگ دلانہ مظالم کے ہدف بنے تھے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں ان سنگ دلوں کو اس طرح ذلیل و خوار کرے گا کہ ان کے اس عبرت انگیز انجام کو دیکھ کر ان لوگوں کے کلیجے ٹھنڈے ہو جائیں گے جو اسلام لانے کے جرم میں ان اشقیاء کے ہاتھوں ستائے گئے تھے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اعدائے حق کے خلاف دل میں غم و غصہ کا پایا جانا اور ان کی بربادی پر خوش ہونا ان لوگوں کے لیے بالکل روا ہے جو ان پر حق کی حجت تمام کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔
    اور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جن کو چاہے گا اللہ توبہ کی توفیق دے گا۔ اللہ علم و حکمت والا ہے۔
    اپنے اعزہ و اقرباء کے ایمان کے آرزو مند مسلمانوں کے لیے بشارت: ’وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘۔ ’وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ‘ میں ایک لطیف اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان لوگوں کے اندر سے ابھی کچھ لوگوں کو توبہ کی توفیق نصیب ہو گی اور وہ ایمان سے مشرف ہوں گے۔ یہ ایک قسم کی خوش خبری ہے ان مسلمانوں کے لیے جو اپنے عزیزوں اور قریبوں کے ایمان کے آرزو مند تھے۔ فرمایا کہ مطمئن رہو۔ اگر اس گھورے میں رلے ملے کچھ اور جواہر ریزے بھی ہوئے تو اللہ ان کو بھی چن لے گا۔ ’عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ‘ اور ’وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘ سے اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرما دیا ہے جو توفیق توبہ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے اور جس کی وضاحت اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ہو چکی ہے۔
    کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں جنھوں نے جہاد کیے اور اللہ و رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جنھوں نے دوست نہیں بنایا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔
    ’وَلِیْجَۃ‘ بطانۃ الانسان وخاصۃ او من یتخذہ معتمدا علیہ من غیر اھلہ‘۔ یعنی محرم راز، دوست اور معتمد۔ اعلان براء ت مومنین کی تطہیر کے لیے ایک کسوٹی: اوپر ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ ہر چند یہاں خطاب باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن ان مسلمانوں ہی کی طرف ہے جو ابھی اپنے سابق روابط و تعلقات کے بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے اس وجہ سے ان کے لیے یہ اعلان برأت ایک سخت آزمائش بن گیا۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ اعلان ایک کسوٹی ہے جو تمہارے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کر دے گی کہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور ایسے بے لاگ ہیں کہ انھیں اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے سوا کسی کی دوستی اور قرابت کی کوئی پروا نہیں ہے اور کون لوگ دوسروں کی خاطر اللہ و رسول اور اہل ایمان کو نظرانداز کر دینے والے ہیں۔ یہ امتحان ایک سنت الٰہی ہے جس سے ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو لازماً گزرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے لیکن اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ امتحان کی کسوٹی پر پرکھ کے غث و سمین کو نمایاں اور اہل ایمان کی تطہیر کرتا رہتا ہے۔ اگر تمہارا گمان یہ تھا کہ تم ایمان کا دعویٰ کر کے یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے تو یہ خیال غلط تھا۔ اب تمہاری جانچ کا مرحلہ آ گیا کہ تم میں کون اللہ و رسول اور اہل ایمان کا وفادار ہے اور کون محض جھوٹا مدعی ہے۔ اہل ایمان کا دشمن اللہ و رسول کا دشمن ہے: یہاں یہ بات خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ اللہ اور رسول اور اہل ایمان کا ذکر ایک ہی ساتھ ہوا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اس میں تقسیم کی گنجائش نہیں ہے۔ جو شخص اللہ کا وفادار ہونے کا مدعی ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کا بھی اپنے آپ کو وفادار ثابت کرے۔ اگر کوئی شخص اہل ایمان کے مقابل میں کسی اور کو اپنا دوست اور معتمد بناتا ہے تو وہ خدا اور رسول کا بھی ساتھی نہیں ہے اگرچہ وہ کتنی ہی بلند آہنگی سے اس کا دعویٰ کرے۔ یہ مضمون نہایت وضاحت سے آگے آیات ۲۳۔۲۴ میں بھی آ رہا ہے۔ لفظ ’عَلِمَ یَعْلَمُ‘ کے مفہوم پر دوسرے مقام میں بحث ہو چکی ہے۔
    مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مساجد الٰہی کا انتظام کریں درآنحالیکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ ان لوگوں کے سارے اعمال ڈھے گئے اور دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے تو یہی ہیں۔
    جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہو سکتی: اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براء ت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بے حقیقت اور بے وزن ہیں۔ ان کی بنیاد پر یہ ہرگز اس بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت اور نیکی اس وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ اصل مقصود کے تحفظ کے ساتھ ہو۔ اگر اصل مقصد برباد ہو جائے تو کوئی جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ ایک مسجد کا متولی اگر مسجد کو بت خانہ بنا دے تو مجرد اس بنا پر وہ کسی کریڈٹ کا سزاوار نہیں قرار دیا جا سکتا کہ اس نے مسجد میں پانی اور لوٹے کا انتظام کر رکھا ہے۔ مسجد میں پانی اور لوٹے کا انتظام بجائے خود ایک اچھا کام ہے۔ لیکن ایسا کام نہیں ہے کہ اس کی خاطر کسی کے اس حق کو تسلیم کر لیا جائے کہ وہ مسجد کو بت خانہ بنائے رکھے اور اس کا متولی بنا رہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رے کہ قریش بھی اپنی ان خدمات پر نازاں تھے اور ان کے دوسرے ہمدرد بھی ان کے ان کاموں کو قابل لحاظ سمجھتے تھے۔ خاص طور پر جب ان کے خلاف اعلان جنگ ہوا تو وہ مسلمان بھی، جو ابھی اچھی طرح یکسو نہیں ہوئے تھے، یہ سوچنے لگ گئے کہ یہ لوگ خانہ کعبہ کے متولی ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اس وجہ سے یہ رعایت کے حق دار ہیں، ان کے ساتھ اتنا سخت معاملہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے آگے یہ دوٹوک فیصلہ رکھ دیا جائے کہ اسلام قبول کریں یا تلوار۔ یہ ذہنیت ایک فاسد ذہنیت تھی جو ایک طرف تو مکذبین رسول کے لیے ایک عذر فراہم کرتی تھی، دوسری طرف اس سے ایک نہایت مکروہ قسم کے نفاق کے پرورش پانے کا امکان تھا اس وجہ سے قرآن نے اس فساد کی اصلاح کی تاکہ ایک غلط تصور دین مسلمانوں کے اندر جڑ نہ پکڑنے پائے۔ ’مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ‘ قریش کی تولیت بیت اللہ سے معزولی: ’عَمَرَ یَعْمُرُ‘ مکان بنانے، کسی زمین کو آباد کرنے، کسی گھر کو بسانے اور اس کا انتظام کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ ’’مشرکین‘‘ کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس عام سے مراد قریش ہیں جو بیت اللہ کی تولیت کے مدعی تھے۔ نام کی بجائے وصف سے ان کے ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ حکم عام ہو جائے اور اس کی علت بھی واضح ہو جائے۔ ’مَسٰجِدَ اللّٰہِ‘ سے مراد اگرچہ مسجد حرام ہی ہے، چنانچہ آیت ۱۹ میں اس کی وضاحت بھی ہو گئی ہے، لیکن اس کو جمع کے لفظ سے تعبیر فرمایا اس لیے کہ مسجد حرام کا معاملہ تنہا مسجد حرام ہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام مساجد الٰہی کا معاملہ ہے۔ یہی تمام مساجد کی اصل، سب کا مرکز و محور اور سب کا قبلہ ہے۔ اس کے انتظام و انصرام، اس کے مقصد اور اس کی دعوت میں کوئی فساد پیدا ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ تمام ہدایت و سعادت اور ساری خیر و برکت کا مرکز ہی درہم برہم ہو گیا۔ فرمایا کہ مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسجد حرام کے جو تمام مساجد الٰہی کا مرکز اور قبلہ ہے منتظم بنے رہیں جب کہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ کفر سے مراد یہاں ان کا شرک ہی ہے۔ شرک کو کفر سے تعبیر کر کے دین کی یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا بالکل اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ خدا کا ماننا صرف وہ معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو بالخصوص اس شرک کے ساتھ تو ایمان باللہ کے جمع ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے جس کا کھلم کھلا اقرار و اظہار ہو۔ مشرکین عرب کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ہاں شرک کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ ان کے کسی قول یا عمل سے شرک ایک لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتا ہو بلکہ شرک کو بطور دین اور عقیدہ کے انھوں نے اختیار کیا تھا۔ یہ ان کے تصور الوہیت کا ایک غیر منفک حصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اس کفر کے علم بردار ہوں ان کو یہ حق کسی طرح نہیں پہنچتا کہ وہ اس گھر کی تولیت پر، جو دنیا میں توحید اور خالص خدا پرستی کا سب سے پہلا گھر اور تمام مساجد الٰہی کا قبلہ ہے، قابض رہیں۔ ان کا اس گھر کا منتظم بنے رہنا کوئی نیکی نہیں ہے جو ان کے حق میں سفارش بنے بلکہ ایک بہت بڑی بدی ہے جس سے اس گھر کو پاک کرنا اہل ایمان کا اولین فریضہ ہے۔ شرک کے ساتھ ہر نیکی برباد: ’اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ‘ ’اعمال‘ سے یہاں ان کے وہی اعمال مراد ہیں جن کو لوگ نیکی اور خدمت دین کے کام شمار کرتے تھے۔ فرمایا کہ ان کے یہ سارے اعمال ڈھے جائیں گے اور یہ لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی بھی نیکی نہیں رہ جاتی۔ خدا کے ہاں صرف وہی نیکی باقی رہتی ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ مذہبی صحیفوں میں مشرک کو زانیہ عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح ایک عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ سارا چاؤ پیار بیکار ہے اگر وہ بدکار ہے اسی طرح بندے کا سارا کیا دھرا برباد ہے اگر وہ اپنے رب کا کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔
    مساجد الٰہی کے انتظام کرنے والے تو بس وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، نماز قائم کرتے ہوں، زکوٰۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، یہ لوگ توقع ہے کہ راہ یاب ہونے والے بنیں۔
    مساجد الٰہی کی تولیت کے اصلی حق دار: ’اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ‘۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ بیت اللہ اور مساجد الٰہی کی تولیت کے اصل حق دار کون لوگ ہیں۔ فرمایا کہ صرف وہ لوگ اس کے حق دار ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، جو نماز قائم کریں اور جو زکوٰۃ ادا کریں۔ ظاہر ہے ان تمام صفات کے حامل اگر تھے تو مسلمان تھے نہ کہ مشرکین۔ لیکن مسلمانوں کا نام لینے کے بجائے صرف ان صفات کا ذکر فرمایا جو منصب تولیت کے لیے بنیادی شرائط کی حیثیت رکھتی تھیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہو جائے کہ یہ منصب کسی گروہ یا خاندان کا اجارہ نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر چند صفات اور فرائض کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر یہ صفات مفقود ہوں تو کوئی گروہ اس منصب کا دعوے دار نہیں ہو سکتا۔ ’وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ‘ شرک کی نفی کے لیے ہے یعنی ان کے اندر کسی غیر اللہ کا خوف نہ پایا جاتا ہو۔ ظاہر ہے یہاں خوف سے مراد وہ خوف ہے جو کسی غیر اللہ کو بذات خود نافع و ضار ماننے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ خوف شرک ہے۔ یہاں شرک کی نفی اس کے اصل محرک کی نفی سے کی ہے۔ ہم اپنی کتاب ’’حقیقت شرک‘‘ میں یہ بات وضاحت سے لکھ چکے ہیں کہ شرک کا اصل سبب یہ خوف ہی ہوتا ہے۔ فائزالمرام گروہ: ’فَعَسٰٓی اُولٰٓءِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ‘۔ ’اِھتدَاء‘ کا لفظ یہاں ہدایت منزل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی جو مذکورہ صفات کے حامل ہوں گے انہی کے باب میں یہ توقع ہے کہ وہ منزل پر پہنچیں اور بامراد و فائزالمرام ہوں۔ لفظ کے اس مفہوم کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں۔ اس بات کو ’عَسٰی‘ کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے۔ اس میں قدم قدم پر مشکلات اور آزمائشیں ہیں صرف وہی لوگ جادۂ مستقیم پر استوار رہ سکتے ہیں جن کے پاس توفیق الٰہی کا زاد راہ ہو اور جن کو خدا سے استعانت کا سہارا حاصل ہو۔
    کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے انتظام کو ان لوگوں کے عمل کے ہم رتبہ کر دیا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیے۔ اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہوں گے۔ خدا ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔
    مشرکین کی خدمت بیت اللہ بے ثمر: ’اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘ ’کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ‘ میں مضاف محذوف ہے جس طرح ’وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ‘ میں محذوف ہے۔ مخاطب وہی لوگ ہیں جو حرم کی تولیت اور اس سے متعلق بعض خدمات، مثلاً حجاج کے لیے پانی کے انتظام کی خدمت، کی بنا پر مشرکین قریش کو دوسروں کے مقابل میں ایک امتیاز کا درجہ دے کر ان کو مستحق رعایت خیال کرتے تھے۔ فرمایا کیا حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کا الٹا سیدھا کچھ انتظام کر دینا ایمان باللہ والآخرۃ اور جہاد فی سبیل اللہ کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟ ’لَایَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ‘ اگر تم ان کاموں کو یکساں سمجھتے ہو تو سمجھو لیکن خدا کے ہاں یہ دونوں قسم کے لوگ یکساں نہیں ہوں گے۔ ’وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘ خدا ان مشرکوں کو بامراد نہیں کرے گا۔ ظلم سے مراد یہاں شرک ہے اور ’ہدایت‘ سے مراد مطلوب و مقصود کی ہدایت ہے۔ اوپر ہم واضح کر چکے ہیں کہ شرک کے ساتھ جو کام نیکی کے کیے جاتے ہیں وہ نقش بر آب ہوتے ہیں۔ خدا کے ہاں وہ بالکل لا حاصل ہو کر رہ جائیں گے اور ان کی بنا پر جو امیدیں باندھی جائیں گی ان سب کا نتیجہ نامرادی کی شکل میں نکلے گا۔
    جو ایمان لائے، جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جنھوں نے اپنے جان و مال سے جہاد کیا، ان کا درجہ اللہ کے ہاں بڑا ہے اور وہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں۔
    فائز المرام صرف اہل ایمان ہوں گے: ’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً‘ ’اَعْظَمُ دَرَجَۃً‘ یہاں تقابل کے لیے نہیں بلکہ تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد والوں کا مرتبہ اللہ کے ہاں بہت اونچا ہے۔ جس طرح سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے: ’وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ (۲۱۲) (جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے قیامت کے دن ان پر بالا ہوں گے) اس اسلوب میں یہاں اہل ایمان کے درجے کی عظمت کفار کے درجے سے قطع نظر کر کے بتائی گئی ہے۔ کفار کا جو حال ہو گا وہ ’اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ‘ سے واضح ہو ہی چکا ہے ’وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفَآءِزُوْنَ‘ بالکل ’وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘ کے مقابل میں ہے یعنی کفار و مشرکین تو آخرت میں بالکل نامراد رہیں گے البتہ اہل ایمان فائزالمرام اور بامراد ہوں گے۔  
    ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے، اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لیے ابدی نعمت ہے۔
    ’یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ ۵ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٓٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ‘۔ یہ اوپر والے ٹکڑے ’وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفَآءِزُوْنَ‘ کی تفسیر ہے کہ ان کو ان کے ایمان اور ہجرت و جہاد کے صلہ میں ان کے رب کی طرف سے رحمت، رضوان اور ابدی نعمت کے باغوں کی بشارت ہے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ دنیا کی نعمتوں کی طرح ان نعمتوں کے لیے زوال نہیں ہے۔
    وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ بے شک اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔
    ’یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ ۵ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٓٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ‘۔ یہ اوپر والے ٹکڑے ’وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفَآءِزُوْنَ‘ کی تفسیر ہے کہ ان کو ان کے ایمان اور ہجرت و جہاد کے صلہ میں ان کے رب کی طرف سے رحمت، رضوان اور ابدی نعمت کے باغوں کی بشارت ہے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ دنیا کی نعمتوں کی طرح ان نعمتوں کے لیے زوال نہیں ہے۔
    اے ایمان والو، تم اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو اپنا ولی نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ اور تم میں سے جو لوگ ان کو اپنا ولی بنائیں گے تو وہی لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ٹھہریں گے۔
    سچے اہل ایمان کی صفات: اوپر آیت ۱۶ میں یہ مضمون گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ اہل ایمان کے اندر وہ لوگ بھی رلے ملے رہیں جو ایمان کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں اور کفار و مشرکین سے دوستی بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں اور اللہ و رسولؐ اور اہل ایمان کے مقابل میں کسی اور کو اپنا دوست اور معتمد نہ بنائیں۔ اب یہ اسی مضمون کو دوسرے اسلوب سے نہایت واضح اور فیصلہ کن لب و لہجہ میں، تمام مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا ہے تاکہ ہر شخص اپنی راہ اور اپنی منزل کا انتخاب کر لے۔ فرمایا کہ تمہارے درمیان تعلق، دوستی اور اعتماد کی بنیاد نسب اور خاندان پر نہیں بلکہ ایمان پر ہے۔ اگر تم میں سے کسی کے باپ اور بھائی ایمان پر کفر کو ترجیح دیں تو تم ان کو اپنا معتمد اور دوست نہ بناؤ۔ جو ایسا کرے گا تو یاد رکھے کہ وہ خود اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا بنے گا ’فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ‘ یعنی اس کے نتیجہ میں جو وبال اس پر دنیا اور آخرت، دونوں میں آئے گا اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہو گی۔ اس میں کسی دوسرے کی کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔
    ان سے کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھارے بھائی، تمھاری بیویاں، تمھارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمایا، وہ تجارت جس کی کساد بازاری کا تم کو اندیشہ ہے اور وہ مکانات جو تمھیں پسند ہیں اگر تمھیں اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے اور اللہ بدعہدوں کو بامراد نہیں کرتا۔
    ’قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ‘۔ الایہ نہایت فیصلہ کن انداز میں اس باب کی آخری تنبیہ ہے۔ انسان کی تمام محبوبات میں سے ایک ایک چیز کو گنا کر فرمایا کہ اگر ان میں سے کوئی چیز بھی کسی کو اللہ اور رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز و محبوب ہے تو وہ اللہ کے فیصلے کا انتظار کرے۔ اللہ و رسول کے محبوب رکھنے کا مطلب: کسی چیز کا اللہ اور رسول سے زیادہ عزیز و محبوب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سامنے جب دو بالکل متضاد مطالبے سامنے آئیں، ایک طرف اللہ و رسولؐ کا مطالبہ ہو، دوسری طرف مذکورہ چیزوں میں کسی چیز کی محبت کا مطالبہ اور آدمی خدا اور رسولؐ کے مطالبے کو نظر انداز کر کے دوسری چیز کے مطالبہ کو ترجیح دے دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ اور رسولؐ سے زیادہ اس کو وہ چیز محبوب ہے اور اگر اس کے برعکس وہ اس چیز کے مطالبہ پر اللہ و رسولؐ کے مطالبہ کو مقدم رکھے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اللہ و رسولؐ کی محبت کو ترجیح دی۔ اللہ و رسولؐ سے یہ محبت ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اس کے بغیر کسی کا دعوائے ایمان معتبر نہیں ہے اور یہ محبت الٰہی کے جانچنے کے لیے ایک ایسی کسوٹی ہے جس سے ہر شخص اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنے ایمان اور اپنی محبت کو جانچ سکتا ہے۔ مرغوبات نفس اور ایمان کا تقاضا: یہاں جن محبوبات و مرغوبات کی فہرست گنائی ہے ان میں نہایت لطیف نفسیاتی ترتیب ہے جو بجائے خود واضح ہے۔ پہلے باپ، بیٹے، بھائی، بیوی اور خاندان کو لیا ہے جن کی محبت یا عصبیت آدمی کے لیے حق کی راہ میں حجاب اور آزمائش بنتی ہے پھر اموال، کاروبار اور مکانات کا ذکر کیا ہے جو اصلاً مذکورہ متعلقین ہی کے تعلق سے مطلوب و مرغوب ہوتے ہیں اور آدمی صاحب توفیق نہ ہو تو اس کے لے یہ فتنہ بن جاتے ہیں۔ اموال کے ساتھ ’اقترفتموھا‘ کی قید ہے۔ ’اقتراف‘ کے معنی اکتساب کے ہیں۔ یہ قید اس مال کے محبوب ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جس مال کو آدمی نے خود کمایا اور بڑھایا ہو وہ اس کو زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ اسی طرح ’تجارت‘ کے ساتھ ’تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا‘ کی قید اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ وہ تجارت کامیاب اور چلتی ہوئی تجارت ہے اس لیے کہ کامیاب اور چلتی ہوئی تجارت ہی وہ چیز ہے جس کے متعلق تاجر کو ہر وقت یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ اس پر کساد بازاری کا جھونکا نہ آ جائے اور اس خطرے سے اس کو بچائے رکھنے کے لیے وہ سارے جتن کرتا ہے یہاں تک کہ وہی اس کی معبود بن جاتی ہے۔ پھر نہ تو اسے حلال و حرام کی تمیز باقی رہ جاتی ہے اور نہ ہجرت، جہاد اور اللہ کی راہ میں قطع علائق کی آزمائشیں اسے گوارا ہوتیں۔ فرمایا کہ ان میں سے ہر چیز ایک بت ہے اور جب تک بندہ اللہ کی خاطر ان میں سے ہر بت کو توڑنے کے لیے تیار نہ ہو جائے وہ ایمان کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔ جھوٹے مدعیانِ ایمان کا انجام: ’فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ‘ دھمکی ہے اور نہایت سخت دھمکی۔ اس کے ابہام کے اندر بڑی تفصیل پوشیدہ ہے۔ اوپر مکذبین رسول کا انجام بیان ہو چکا ہے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو انجام مکذبین رسول کے لیے مقدر ہو چکا ہے اسی انجام بد سے دوچار ہونے کے لیے وہ مدعیان ایمان بھی تیار رہیں جو کفر اور ایمان دونوں کی کشتی پر بیک وقت سوار رہنا چاہتے ہیں۔ ’وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ‘ جس طرح اوپر مشرکین کی بابت فرمایا تھا کہ ’وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘ اللہ مشرکوں کو بامراد نہیں کرے گا اسی طرح یہاں کفر و اسلام دونوں کے درمیان ڈانواں ڈول لوگوں کی بابت ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے فاسقوں کو بامراد نہیں کرے گا۔ ’فِسْق‘ کا لفظ خروج عن الایمان کے مفہوم میں ہے جس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ اللہ و رسولؐ کے مقابل میں اہل کفر کو اپنا دوست اور معتمد بناتے ہیں وہ ایمان کے دعوے کے باوجود ایمان سے نکل جاتے ہیں۔
    بے شک اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد فرمائی ہے۔ اور حنین کے دن بھی جب کہ تمہاری کثرت نے تمہیں غرہ میں مبتلا کر دیا تو وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
    کمزوروں کی ہمت افزائی: ’لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ‘ یہ بات انہی مذبذبین کی ہمت افزائی کے لیے فرمائی گئی ہے۔ کہ ان سے جنگ کرنے میں ہچکچاؤ نہیں، جس خدا نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرمائی ہے اس کی مدد اب بھی تمہارے شامل حال ہے۔ ہجرت کے بعد سے فتح مکہ تک متعدد جنگیں مشرکین کے ساتھ ہو چکی تھیں جن میں سے ایک آدھ کے سوا سب میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔ اب ان سب کا حوالہ دے کر فرمایا کہ جس خدا کی نصرت ہمیشہ تمہارے ہمرکاب رہی ہے اس پر بھروسہ رکھو، وہ تمہیں اپنی مدد سے محروم نہیں کرے گا۔ غزوۂ حنین کی مثال سے کمزوروں کی ہمت افزائی: ’وَیَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْءًا‘ یہ ایک شبہ کا، جو مذکورہ وعدۂ نصرت سے متعلق کمزور ذہنوں میں پیدا ہو سکتا تھا، برسر موقع ازالہ ہے۔ اس سے کچھ ہی پہلے جنگ حنین میں مسلمانوں کو اول اول شکست کی افتاد سے سابقہ پیش آ چکا تھا۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس حادثہ کی اصلی نوعیت واضح کر دی جائے۔ فرمایا کہ حنین کے دن بھی اللہ نے تمہاری مدد فرمائی البتہ یہ ہوا کہ شروع شروع میں تمہاری کثرت تعداد نے تمہارے اندر غلط قسم کی خود اعتمادی اور بے پروائی پیدا کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمہیں شکست سے سابقہ پیش آیا اور تم میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور مومنین مخلصین پر عزم و حوصلہ اتارا اور تمہاری مدد کے لیے اپنی غیبی فوجیں بھیجیں اور کفار کو تمہارے ہاتھوں پامال کروایا۔ غزوۂ حنین میں ابتدائی شکست کی وجہ: مطلب یہ کہ فتح تو اللہ نے تمہیں اس جنگ میں بھی دی البتہ تمہاری غلطی پر تمہیں تنبیہ کرنے کے بعد دی۔ غزوۂ حنین میں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا لشکر ۱۲ ہزار مجاہدین پر مشتمل تھا۔ مسلمان اس سے پہلے بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفار کی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ وہ جب پہلی بار ایک لشکر جرار کی شکل میں نکلے تو یہ خیال تو ان کے دل میں پیدا ہونا ہی تھا کہ بھلا آج ہمارے مقابل میں کون ٹک سکتا ہے؟ اس غلط خود اعتمادی سے قدرتی طور پر ان کے اندر بے پروائی پیدا ہو گئی۔ بہتوں کے اندر نہ اللہ کی طرف وہ توجہ ہی باقی رہ گئی جس کی ہدایت سورۂ انفال کی آیت ۴۵ میں فرمائی گئی تھی کہ ’اِذَا لَقِیْتُمْ فِءَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘ (جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ کامیابی حاصل کرو) اور نہ نظم اور ڈسپلن، امر و اطاعت اور اخلاص و انابت کا وہ اہتمام ہی باقی رہا جس کی تاکید آیت ۴۶۔۴۷ میں فرمائی گئی ہے: ’اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بَطَرًا وَّرِءَآءَ النَّاسِ‘ (اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور اختلاف رائے نہ پیدا ہونے دو ورنہ ہمت ہار بیٹھو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، ثابت قدم رہو کیونکہ اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہوتا ہے اور ان لوگوں کی مانند نہ ہونا جو اپنے گھروں سے اتراتے اور نمائش کرتے نکلے) اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس طرح پیغمبرؐ کی حکم عدولی اور تنازع فی الامر نے احد میں شکست سے دوچار کیا اسی طرح کثرت تعداد کے عُجب و غرور نے حنین میں خطرے سے دوچار کیا اس لیے کہ اس غرے میں اس بطر و ریا کی جھلک تھی جو اللہ کو ناپسند ہے اور جس سے اس نے اپنی راہ میں جہاد کے لیے نکلنے والوں کو روکا ہے۔ اس قسم کا غرہ آدمی کا اعتماد اللہ کے بجائے اسباب و وسائل پر جما دیتا ہے درآنحالیکہ مومن کا اعتماد ہر حال میں اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔ اگر اللہ کا بھروسہ کمزور ہو جائے تو بڑی سے بڑی تعداد اور زیادہ سے زیادہ اسباب و وسائل سب خس و خاشاک بن کے رہ جاتے ہیں اور جن لوگوں کو یہ گھمنڈ ہوتا ہے کہ کوئی ہمارے مقابل میں ٹک نہیں سکتا ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ زمین اپنی تمام وسعتوں اور پہنائیوں کے باوجود ان پر اس طرح تنگ ہو جاتی ہے کہ انھیں کوئی راہ فرار سجھائی نہیں دیتی۔ ’فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْءًا وَّضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ‘ میں اسی صورت حال کی تصویر ہے۔  
    بالآخر اللہ نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور ایسی فوجیں اتاریں جنھیں تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو سزا دی اور یہی کافروں کا بدلہ ہے۔
    غزوۂ حنین میں شکست کے بعد فتح: ’ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ‘ اسلوب بیان اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ جو کچھ پیش آیا محض بطور تنبیہ و تذکیر پیش آیا۔ اس تنبیہ کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے قدم جما دیے اور وہ اس طرح کہ اس نے اپنے پیغمبر اور اس کے مخلص جاں نثاروں پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی سکینت دوسروں کے اندر سکینت پیدا کرنے کا باعث ہوئی۔ اس جنگ کے جو حالات سیرت و مغازی کی کتابوں میں مذکور ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب فوج میں بھگدڑ مچ گئی تو صرف سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑے سے جاں نثاروں کے ساتھ اپنی جگہ پر جمے رہے۔ بالآخر آپؐ ہی کی عزیمت و استقامت نے دوسروں کے اندر روح پھونکی اور منتشر شیرازہ ازسرنو مجتمع ہوا اور اللہ نے شکست کے بعد فتح سے نوازا اور مومنین کے ہاتھوں کفار کو وہ سزا ملی جو ان کے لیے مقدر ہو چکی تھی۔ ’سکینت‘ سے مراد جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں، قرار، عزم اور حوصلہ ہے۔ اور ’جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا‘ سے اشارہ ملائکہ کی غیبی افواج کی طرف ہے جو ہر جگہ اہل ایمان کی ہمرکاب ہوتی ہیں گو وہ ناسوتی نگاہوں سے نظر نہیں آتیں۔
    پھر اللہ اس کے بعد جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق دے دیتا ہے اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔
    اپنے کافر عزیزوں کے باب میں تشویش میں مبتلا لوگوں کے لیے بشارت: ’ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ الایۃ‘ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان سب واقعات کے بعد بھی اللہ ان لوگوں کو توبہ کی توفیق دے گا جن کے اندر صلاحیت کی کوئی رمق باقی ہے۔ یہ گویا ایک قسم کی بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے کافر عزیزوں کے باب میں تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے۔ یہ مضمون آیت ۱۵ میں بھی گزر چکا ہے۔ یہ بشارت نہایت واضح الفاظ میں سورۂ نصر میں بھی وارد ہوئی ہے۔
    اے ایمان والو، یہ مشرکین بالکل نجس ہیں تو یہ اپنے اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ پھٹکنے پائیں اور اگر تمہیں معاشی بدحالی کا اندیشہ ہو تو اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تم کو مستغنی کر دے گا۔ بے شک اللہ علیم و حکیم ہے۔
    اعلان براء ت کے سلسلہ کی آخری ہدایت: مشرکین کو مسجد حرام کے پاس آنے کی ممانعت: یہ اس اعلان براء ت کے سلسلہ کی آخری ہدایت ہے جس کا ذکر شروع سے چلا آ رہا ہے۔ فرمایا کہ یہ مشرکین نجس ہیں اس وجہ سے اس سال کے بعد سے یہ مسجد حرام کے پاس پھٹکنے نہ پائیں۔ نجاست سے مراد ظاہر ہے کہ یہاں وہ عقائدی نجاست مراد ہے جس کی تفصیلات دوسرے مقامات میں بیان ہو چکی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد بیت اللہ پر سے مشرکین کا تسلط تو ختم ہو چکا تھا لیکن ۹ھ کے حج تک ان کو یہ مہلت حاصل رہی کہ وہ حج کے لیے آتے اور اپنے جاہلی طریقے کے مطابق حج کے مراسم بھی ادا کرتے اور تجارتی خرید و فروخت بھی کرتے لیکن اسی حج کے موقع پر اعلان براء ت کی عام منادی کے ساتھ ساتھ اس حکم کے بموجب یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ آئندہ سے مشرکین حج کے لیے نہ آئیں۔ یہ گویا حجۃ الوداع کی تیاریوں کی تمہید تھی کہ ۱۰ھ میں جب خود سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم حج ادا فرمائیں تو مرکز ابراہیمؑ شرک و کفر کی ہر آلائش سے بالکل پاک ہو۔ تجارتی کساد بازاری کے اندیشے کا ازالہ: ’وَاِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآءَ الایہ‘ ’عیلۃ‘ کے معنی فقر و مفلسی کے ہیں۔ یہاں یہ معاشی اور تجارتی نقصان کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں تفصیل سے بیان کر آئے ہیں کہ حج کو جس طرح ایک بہت بڑی مذہبی عبادت کی حیثیت حاصل تھی اسی طرح تجارتی اور کاروباری پہلو سے بھی اس کی بڑی اہمیت تھی۔ اس موسم میں باہر کا مال مکہ میں پہنچتا اور مکہ کی چیزیں باہر کے تاجر خریدتے۔ زمانۂ جاہلیت میں اس کے کاروباری پہلو کو اتنی اہمیت حاصل ہو گئی تھی کہ قریش نے نسئی کا قاعدہ ایجاد کر کے حج کو ایک خاص موسم میں کر دیا تھا تاکہ موسموں کا تغیر تجارتی چہل پہل پر اثرانداز نہ ہو۔ اب اسلام کے دور میں آ کر جب یہ اعلان ہوا کہ آئندہ مشرکین حج کے لیے نہیں آ سکتے تو ان لوگوں کو تشویش لاحق ہوئی جو کاروباری زندگی سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے خیال کیا کہ مشرکین کو روک دینے سے کاروبار اور تجارت پر بڑا اثر پڑے گا جس سے مسلمانوں کی معاشی حالت خراب سے خراب تر ہو جائے گی۔ ان لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے فرمایا کہ معاشی بدحالی کا غم نہ کرو۔ اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ یہ وعدہ پورا ہوا اور اس طرح پورا ہوا کہ ایک دن کے لیے بھی مکہ کی تجارت اس بندش سے متاثر نہ ہوئی اور کچھ عرصہ بعد تو یہ حال ہوا کہ مصر و شام اور روم و ایران کے خزانے بھی اونٹوں پر لد لد کر اسلام کے بیت المال میں پہنچنے لگے اور اللہ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو اس طرح غنی کر دیا کہ لوگ اپنی زکوٰۃ کا مال مدینہ کی گلیوں میں لیے پھرتے تھے لیکن اس کا کوئی لینے والا نہیں ملتا تھا۔ اصل قدرو قیمت ایمانی اقدار کی ہے: ’اِنْ شَآءَ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ چیز بہرحال اللہ ہی کی مشیت پر منحصر ہے اور اللہ کی مشیت اس کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ تنگی یا کشادگی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں، اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس وجہ سے اصل بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہیے جس کا ہر کام علم و حکمت پر مبنی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام میں اصلی قدر و قیمت روحانی و ایمانی اقدار کی ہے۔ سیاسی اور معاشی مصالح ان کے تحت ہیں۔ ایمانی اقدار کے لیے معاشی مصالح قربان کیے جا سکتے ہیں لیکن پیٹ اور تن کے مفاد پر ایمان کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List