Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانفال (The Spoils of War)

    75 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    سورۂ انفال دوسرے گروپ کی تیسری سورہ ہے۔ یہ مدنی ہے۔ اس میں مسلمانوں کو تقویٰ، باہمی اخوت و ہمدردی اور اللہ و رسول کی اطاعت کی اساس پر منظم اور جہاد کے لیے تیار ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اس ملت ابراہیمیؑ اور مرکز ملت ابراہیمیؑ ۔ بیت اللہ ۔ کی امانت و تولیت کے اہل ہو سکیں جو اب قریش کی جگہ ان کی تحویل میں دی جانے والی ہے۔

    پچھلی دونوں سورتوں ۔۔۔ انعام اور اعراف ۔۔۔ میں آپ نے دیکھا کہ قریش کو عقائد، اعمال اور اخلاق، ہر پہلو سے اس امانت کے لیے نااہل ثابت کر دیا ہے۔ اب اس سورہ میں مسلمانوں کی تطہیر و تنظیم، ان کی اصلاح اور تزکیہ کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ غزوۂ بدر کے دوران میں بعض کمزور مسلمانوں کی طرف سے جو کمزوریاں، اللہ و رسول کی اطاعت اور ایمان و توکل کے منافی، صادر ہوئی تھیں، ان پر پہلے گرفت فرمائی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ان کمزوریوں سے پاک کریں۔ پھر ان غیبی تائیدات کی طرف اشارہ فرمایا جو غزوۂ بدر کے دوران میں ظاہر ہوئیں تاکہ مسلمانوں کا اعتماد اللہ پرمضبوط ہو اور جو لوگ ابھی پوری طرح یکسو نہیں ہوئے ہیں وہ یکسو ہو کر آگے کے مراحل کے تقاضے پورے کرنے کے اہل ہو سکیں۔ پھر مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جہاد پر ابھارا ہے اور یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے کمزوری نہ دکھائی تو جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ حریف کی سازشوں کے سارے تار و پود بکھر جائیں گے۔ بیچ بیچ میں قریش کو بھی تنبیہ فرمائی ہے کہ بدر کے واقعہ میں تمہارے لیے بڑا سبق ہے، تمہارے لیے اب بہتر یہی ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ ورنہ یاد رکھو کہ اگر تم نے مزید کوئی شرارت کی تو پھر منہ کی کھاؤ گے، اب تک تمہارے ساتھ جو رعایت ہوئی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ رسولؐ تمہارے اندر موجود تھا۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک رسولؐ قوم کے اندر موجود رہتا ہے اس وقت تک قوم پر عذاب نہیں آتا لیکن اب جب کہ رسول تمہارے اندر سے ہجرت کر چکا ہے، تمہاری امان اٹھ چکی ہے اور تم ہر وقت عذاب الٰہی کی زد میں ہو۔ تمہارا یہ غرہ بالکل بے جا ہے کہ تم بیت اللہ کے متولی اور مجاور ہو، بیت اللہ کے متولی ہونے کے اہل تم نہیں ہو، تم نے ابراہیمؑ کے بنائے ہوئے اس گھر کا مقصد بالکل برباد کر کے رکھ دیا اور اس کی حرمت کو بٹہ لگایا، تم جس نماز اور عبادت کے مدعی ہو یہ نماز عبادت نہیں بلکہ محض مذاق ہے، تمہارے لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ تم توبہ اور اصلاح کی روش اختیار کرو ورنہ یاد رکھو کہ اب اس حرم کی سرزمین پر نہ اہل ایمان پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا کوئی موقع باقی چھوڑا جائے گا اور نہ اللہ کے دین کے سوا یہاں کوئی اور دین باقی رہنے دیا جائے گا۔

    آگے بدر کے واقعات ہی کی روشنی میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے بات ان اعتراضات کے جواب تک پہنچ گئی ہے جو قریش نے بدر میں شکست کھانے کے بعد لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان کرنے کے لیے اٹھائے۔ بدر سے پہلے تک تو وہ مسلمانوں کی کمزوری و مجبوری کو اسلام کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے لیکن بدر میں انہی کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں جب پٹ گئے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پیغمبر کس طرح ہو سکتے ہیں، بھلا پیغمبر کا کہیں یہ کام ہوتا ہے کہ اپنی ہی قوم کو باہم لڑا دے۔ اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرائے، پھر ان کو قید کرے، ان سے فدیہ وصول کرے اور ان کا مال و اسباب غنیمت بنا کر کھائے اور کھلائے؟ اس اعتراض سے بھی کمزور قسم کے لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہو سکتے تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کو بھی صاف کیا اور آخر میں انصار اور مہاجرین کو باہمی اخوت کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ دونوں مل کر کفر کے مقابلہ میں بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہوں۔

    اگرچہ سورہ کا نظام سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے لیکن ہم مزید وضاحت کے لیے سورہ کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔

  • الانفال (The Spoils of War)

    75 آیات | مدنی
    الانفال ——- التوبۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس آخری دینونت کے لیے تیاری اور مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر کی ہدایات دی گئی ہیں، دوسری اُسی کے ظہور کا بیان ہے۔ دونوں کے مخاطب اہل ایمان ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ دونوں سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ جزا و سزا میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ— الانفال— کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے خلاف آخری اقدام کی تیاری اور اِس کے لیے مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

    دوسری سورہ— التوبہ— کا موضوع اِنھی منکرین کے لیے، خواہ وہ کھلے منکر ہوں یا منافقین، خدا کی آخری دینونت کا ظہور ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 008 Verse 001 Chapter 008 Verse 002 Chapter 008 Verse 003 Chapter 008 Verse 004 Chapter 008 Verse 005 Chapter 008 Verse 006 Chapter 008 Verse 007 Chapter 008 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    وہ تم سے غنیمتوں کے بابت سوال کرتے ہیں، ان کو بتا دو کہ غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں، پس اللہ سے ڈرتے رہو، اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم سچے مومن ہو۔
    یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ لفظ انفال کی تحقیق: ’انفال‘، نفل کی جمع ہے، اس کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی وہ نفل ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو اس حصہ مزید کو ’نفل‘ کہیں گے۔ یہاں انفال سے اس مال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ اس تعبیر میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دشمن سے جو مال غنیمت حاصل کرتے ہیں اس کی حیثیت ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نفل مزید اور انعام مزید کی ہے اس لیے کہ جہاد کا جو اجر ہے وہ اس سے بالکل الگ مستقلاً اللہ کے ہاں دائمی اور بے پایاں اجر کی شکل میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ غنیمت سے متعلق سوال کی نوعیت: سوال، جیسا کہ ہم بقرہ کی تفسیر میں واضح کر چکے ہیں، بعض اوقات اعتراض کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے، خواہ وہ الفاظ سے ظاہر ہو یا اس کے اندر مضمر ہو۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اسی نوعیت کے سوال کا حوالہ ہے۔ یہ سوال، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، غزوۂ بدر میں حاصل شدہ مال غنیمت سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو کفار سے نہ تو کوئی منظم جنگ پیش آئی تھی نہ مال غنیمت اور اس کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تھا۔ ۲ھ  میں یہ جنگ پیش آئی جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح بھی شان دار عطا فرمائی اور مال غنیمت بھی ان کو کافی مقدار میں حاصل ہوا۔ جاہلیت میں تو دستور یہ تھا کہ جو جتنا مال جنگ میں لوٹے وہ اس کا حق دار ہے ۔ اسی دستور کی بنا پر بعض لوگوں نے، خاص طور پر کمزور قسم کے مسلمانوں نے ایسے سوالات اٹھائے جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ تقویٰ، باہمی خیر خواہی، اطاعت اللہ و رسول کی وہ روح جو سچے ایمان کا تقاضا ہے ابھی ایک گروہ کے اندر اچھی طرح پختہ نہیں ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ سوال، جیسا کہ قرائن سے واضح ہے، کچھ خاص افراد ہی کی طرف سے اٹھایا گیا لیکن اسلامی معاشرہ کے اندر اس سے ایک بڑی خامی کی نشان دہی ہوئی تھی اس وجہ سے قرآن نے مسلمانوں کی تطہیر و تنظیم کی اس سورہ کا آغاز اسی واقعہ سے کیا کہ سرچشمہ شاید گرفتن بہ میل چوپر شد نشاید گزشتن بہ پیل اور اس کا ذکر بھی عام صیغہ سے کیا تاکہ کسی خاص گروہ کی پردہ دری نہ ہو بلکہ تمام مسلمان بحیثیت مجموعی اس تعلیم کو قبول کریں اور اپنے اندر کسی ایسے رجحان کو نشوونما نہ پانے دیں جو تقویٰ و توکل، باہمی ہمددردی اور اطاعت اللہ و رسول کے خلاف ہو۔ جس قسم کے سوال کی طرف قرآن نے یہاں اشارہ کیا ہے اس کی تفصیل تاریخ و سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ ابن ہشام میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے فارغ ہونے کے بعد حکم دیا کہ فوج کے لوگوں نے جتنا مال غنیمت جمع کیا ہے سب اکٹھا کیا جائے چنانچہ و ہ سب اکٹھا کیا گیا۔ اب لوگوں میں اختلاف ہوا کہ یہ کس کا حق ہے؟ جن لوگوں نے جمع کیا تھا وہ مدعی ہوئے کہ یہ ہمارا حق ہے، اگر ہم نہ ہوتے تو یہ مال حاصل نہ ہوتا، ہم نے دشمن کو مار بھگایا اس وجہ سے یہ ہاتھ لگا۔ اسی طرح جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت پر تھے انھوں نے کہا کہ ہم بھی سب کچھ کر سکتے تھے، لڑ بھی سکتے تھے، غنیمت بھی جمع کر سکتے تھے لیکن ہم نے رسول اللہ کی حفاظت کے کام کو دسرے تمام کاموں پر مقدم رکھا اس وجہ سے مال غنیمت میں دوسرے لوگ ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو سکتے۔ غرض مختلف سوالات اٹھ کھڑے ہوئے جن سے لوگوں کے اندر دبی ہوئی بعض کمزوریاں سامنے آ گئیں اور حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ ان کمزوریوں کا برسر موقع علاج ہو جائے تا کہ یہ مزید بڑھنے نہ پائیں۔ سوالات کا اصولی جواب: ’قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ‘۔ یہ ان تمام سوالات کا جامع اور اصولی جواب ہے کہ ان کو بتا دو کہ اموال غنیمت اللہ اور رسول کی ملک ہیں۔ ’اللہ و رسول کی ملک‘ قرآن میں اجتماعی ملکیت کی تعبیر ہے۔ اس اصولی جواب نے اموال غنیمت کے باب میں اس جاہلی دستور کا خاتمہ کر دیا جو اب تک رہا تھا اور جس کی بنا پر ہی وہ سوالات پیدا ہوئے تھے جو اوپر مذکور ہوئے۔ گویا اموال غنیمت میں استحقاق کی بنیاد یہ نہیں ہو گی کہ کس نے جمع کیا، کس نے بالفعل جنگ کی، کس نے پہرہ دیا بلکہ اس میں سب مجاہدین، بلالحاظ اس کے کہ کس کی خدمت کی نوعیت کیا رہی ہے، شریک ہوں گے اور دوسرے مسلمانوں کا بھی اس میں حصہ ہوگا۔ یہاں یہی اصولی جواب دے کر کلام کا رخ ان خامیوں کی اصلاح کی طرف مڑ گیا ہے جو اس واقعہ سے نمایاں ہوئی تھیں۔ پھر آگے چل کر آیت ۴۱ میں اس اجمال کی تفصیل بھی فرما دی کہ اس کا کتنا حصہ مجاہدین پر تقسیم ہو گا اور کتنا حصہ دوسرے مسلمانوں کے حق کی حیثیت سے بیت المال میں جمع ہو گا۔ مسلمانوں کی اجتماعی شیرازہ بندی کی بنیاد: ’فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ‘ جس طرح تقویٰ اور پاس رِحم کو سورۂ نساء میں تمام خاندانی و معاشرتی صلاح و فلاح کی اساس ٹھہرایا ہے۔ اسی طرح یہاں تقویٰ اور اصلاح ذات البین کو مسلمانوں کی اجتماعی شیرازہ بندی کی بنیاد قراردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اموال غنیمت اصلاً اللہ اور رسول کی ملکیت ہیں تو اللہ و رسول جس طرح ان کو تقسیم کریں پوری خوش دلی اور رضا مندی سے اس کو قبول کرو۔ نہ اللہ کے حکم سے متعلق دل میں کوئی بدگمانی یا رنجش پیدا ہو اور نہ اپنے دینی بھائیوں کے خلاف کوئی رشک و حسد کا جذبہ ابھرے کہ فلاں اور فلاں کو اس مال میں کیوں شریک بنا دیا گیا؟ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے باہمی تعلقات کی بنیاد اخوت، رحم اور محبت پر ہے۔ یہ ’رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ‘ کا گروہ ہے، ان کے اندر حسد، رقابت، خود غرضی اور نفسا نفسی کی حالت اس ایمان اور تقویٰ کے منافی ہے جس کو انھوں نے اختیار کیا ہے۔ جن کے اندر ابھی کو ئی کانٹا اپنے دینی بھائیوں کے خلاف موجود ہے وہ اس کو نکال ڈالیں اور اپنے دامن دل کو ہر قسم کے غبار سے پاک و صاف کر لیں۔ ایمان باللہ کا لازمی تقاضا: ’وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ یہ ’ایمان باللہ‘ کا اصل تقاضا بیان ہوا کہ جو لوگ اللہ و رسول پر ایمان کے مدعی ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ و رسول کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔ یہ بات ایمان کے منافی ہے کہ اللہ و رسول کا کوئی حکم اپنی خواہشات نفس کے خلاف ہو تو اس کے خلاف بغاوت کا جذبہ ابھرے یا اس سے متعلق دل میں کوئی رنجش یا بدگمانی جگہ پائے۔ ’اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ ایمان کی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جنھوں نے ایمان کی یہ حقیقت نہیں سمجھی ہے ان کا دعوائے ایمان بالکل بے حقیقت ہے۔  
    مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل دہل جائیں اور جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جائیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کریں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھیں۔
    سچے اہل ایمان کے اوصاف: ’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ............‘ اب یہ حقیقی ایمان اور سچے اہل ایمان کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں۔ گویا ’اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ کے الفاظ ہیں جن کمزور قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ تھا ان کے سامنے سچے اہل ایمان کی تصویر رکھ دی گئی کہ اگر ایمان کا دعویٰ ہے تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔ ان صفات کے بدوں یہ دعویٰ کسی کو زیب نہیں دیتا۔ ایمان کی پہلی علامت: ’اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا‘۔ ان کی پہلی علامت یہ بتائی ہے کہ ان کے اندر خدا کی عظمت و کبریائی اور اس کی جلالت کا شعور ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ خدا سے برابر ڈرتے رہتے ہیں۔ جب ان کے سامنے خدا کا نام آ جائے، جب ان کو اس کی یاددہانی کی جائے، جب ان کے سامنے کوئی بات خدا کی بات کی حیثیت سے پیش کی جائے، وہ اس کو خوف و خشیت کے گہرے احساس کے ساتھ سنتے ہیں۔ گویا ایمان کا پہلا تقاضا خدا کا خوف ہے جو اس کی عظمت و جلالت اور اس کی صفات عدل و حکمت و ربوبیت و رحمت کے صحیح تصور سے پیدا ہوتا ہے اور اسی سے وہ تقویٰ وجود میں آتا ہے جس کی اوپر ’وَتَّقُوا اللّٰہ‘ کے الفاظ سے ہدایت فرمائی گئی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا کی رحمت و ربوبیت بھی، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں، خدا کے عدل اور اس کے روز جزا کو مستلزم ہیں، اس وجہ سے ان صفات کا صحیح تصور بھی بندے کو خدا سے بے خوف نہیں بناتا بلکہ اس کے خوف کو بڑھاتا ہے اور اس خوف کی بنیاد خدا کی محبت پر ہوتی ہے۔ ایمان کی دوسری علامت: دوسری علامت یہ بتائی کہ جب اللہ کی آیات ان کو سنائی جاتی ہیں یہ ان کے ایمان کو بڑھاتی ہیں۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں آیات سے مراد خدا کے احکام اور اس کے قوانین ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا پر ایمان کے بعد ان کو سب سے زیادہ مرغوب و مطلوب خدا کی پسند و ناپسند اور اس کی مرضیات و احکام کا علم ہوتا ہے اور یہ علم ان کی دولت ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔ ایمان کی مثال جڑ کی ہے اور آداب و احکام اور قوانین و شرائع کی حیثیت اس جڑ سے پھوٹی ہوئی شاخوں اور ان سے ظہور میں آئے ہوئے برگ و بار کی۔ گویا پوری شریعت، ایمان ہی کا مظہر اور اسی کے مضمرات کی تفصیل ہوئی۔ ’زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن کے اندر ایمان موجود ہوتا ہے جب ان کے سامنے ایمان کے مقتضیات و مطالبات آتے ہیں تو وہ پوری بشاشت سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وہ ان مقتضیات و مطالبات کو اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کا پھل اور اپنی ہی بوئی ہوئی کھیتی کا حاصل سمجھتے ہیں اور جس طرح ہر کسان اپنی کھیتی کے حاصل اور اپنے درخت کے پھلوں میں افزونی دیکھ کر باغ باغ ہوتا ہے اسی طرح یہ اہل ایمان بھی اپنے ایمان کی یہ افزائش دیکھ کر شادمان ہوتے ہیں۔ یہ گویا ان مدعیان ایمان پر ایک لطیف تعریض ہوئی جو ایمان کا دعویٰ کرنے کو تو کر بیٹھے لیکن جب اس کے مطالبے سامنے آئے تو ان سے خوش ہونے کے بجائے ان کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے کہ یہ کیا بلا نازل ہو گئی۔ ایک نکتہ: یہ نکتہ بھی یہاں ملحوظ رہے کہ ایمان کے اقرار کے بعد اس کے مطالبات میں سے بڑا یا چھوٹا جو مطالبہ بھی اہل ایمان کے سامنے آتا ہے وہ ان کے لیے آزمائش و امتحان کا ایک میدان کھولتا ہے اور جو سچے اہل ایمان ہوتے ہیں وہ اس امتحان سے گھبرانے کی بجائے اس میں بازی جیتنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کوشش ان کی مومنانہ فتوت کا ایک فطری تقاضا ہوتی ہے۔ جس کے بروئے کار آنے سے ان کے لیے ہر امتحان فتح مندی کا ایک نیا دروازاہ کھولتا ہے جس سے ان کا ایمان قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف سورۂ احزاب میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ وَمَا زَادَھُمْ اِلَّآ اِیْمَانًا وَّتَسْلِیْمًا (۲۲۔ احزاب) (اور جب مومنوں نے پارٹیوں کے ہجوم کو دیکھا تو بولے، یہ تو وہی صورت حال سامنے آئی ہے جس سے اللہ و رسول نے پہلے ہی ہمیں خبردار کر دیا تھا، اور اس چیز نے ان کے ایمان و اطاعت میں اضافہ ہی کیا) ایمان کی تیسری علامت: ’وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ‘ یہ ان کی تیسری علامت بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے یعنی ایمان کے مطالبے، خواہ سخت ہوں یا نرم، ان سے دنیوی مفادات کو نقصان پہنچے یا نفع، ان کی خاطر تعلقات ٹوٹیں یا جڑیں وہ بہرحال دین و دنیا کی فلاح اپنے رب کے احکام کی تعمیل ہی میں سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایمان کی راہ میں انھیں اپنے سر بھی کٹوانے پڑ جاتے ہیں تو وہ یہی یقین رکھتے ہیں کہ حیات جاوداں کے حصول کی راہ یہی ہے۔ ان کو اپنے رب پر پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ اس نے جو حکم بھی ان کو دیا ہے اور جس آزمائش میں بھی ان کو ڈالا ہے اس میں سرتاسر انہی کی فلاح ہے۔ اپنے بندوں کے ساتھ خدا کا کوئی معاملہ بھی حکمت و مصلحت اور رحمت و برکت سے خالی نہیں۔ اس ٹکڑے میں بھی ان خام کاروں پر تعریض ہے جو دین کے مطالبات کو اپنے مفادات کی میزان میں تولنے کے خواہش مند تھے اور وہ باتیں ان کو بالکل بے مصلحت نظر آتی تھیں جن کو وہ اپنی خواہشات کے خلاف پاتے تھے۔  
    جو نماز کا اہتمام کریں اور اس مال میں سے، جو ہم نے ان کو بخشا ہے، خرچ کریں۔
    ایمان کی چوتھی علامت: ’الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ‘ یہ چوتھی علامت بیان ہوئی اور اس کی حیثیت، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں، رأس الصفات کی ہے اس لیے کہ انہی دو چیزوں ۔۔۔ اہتمام نماز اور انفاق ۔۔۔ سے ان تمام اوصاف کو بیان کرنے کے بعد جن کا بیان کرنا پیش نظر گروہ کی خامیوں کی اصلاح کے لیے ضروری ہوا، آخر میں ان دو چیزوں کا ذکر فرمایا جو سب کی جامع بھی ہیں اور سب کی محافظ بھی۔
    یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت اور باعزت روزی ہے۔
    ’اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا‘ یعنی جن کے اندر یہ اوصاف ہیں سچے مومن وہی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اہل ایمان کی صفوں میں آ تو گھسے ہیں لیکن ان اوصاف سے عاری ہیں، وہ محض مدعی ایمان ہیں۔ سچے مومن نہیں ہیں۔ گویا اوپر ’اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ کے الفاظ میں جو بات اشارۃً فرمائی گئی تھی اب وہ پوری طرح واضح ہو کر سامنے آ گئی۔ ’لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ‘ مطلب یہ ہے کہ خدا کے ہاں جو درجے اور مرتبے ہیں وہ ہر مدعی ایمان کے لیے نہیں ہیں بلکہ انہی لوگوں کے لیے ہیں جو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سیاق میں ’مغفرۃ‘ کا لفظ بڑا بلیغ اور بشارت انگیز ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ہر چند مطلوب و مطبوع تو یہی اوصاف ہیں اور مراتب انہی کے اعتبار سے قائم ہوں گے لیکن اللہ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے اس وجہ سے ان غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے اس کی مغفرت کا دامن بھی ہے جو انسان کی بشریت کے لوازم میں سے ہیں۔ ’رزق‘ کا لفظ، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں ایک جامع لفظ ہے اور ’کریم‘ کی صفت اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگرچہ بندوں کو سارا رزق و فضل رب کی عنایت ہی سے ملے گا لیکن اس کے ساتھ بندوں کے لیے عزت کی یہ سرفرازی بھی ہو گی کہ یہ سب کچھ ان کے حق کی حیثیت سے ان کو عطا ہو گا۔ ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کی نوعیت: اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ایمان کوئی ٹھونٹھ درخت نہیں ہے بلکہ یہ جڑ بھی رکھتا ہے اور شاخیں اور برگ و بار بھی۔ قرآن میں اس کی تمثیل یوں بیان ہوئی ہے کہ ’اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ‘ اس کی مثال ایک ایسے درخت کی ہے جس کی جڑیں پاتال میں اتری ہوئی ہوں اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہوں۔ یہ جس طرح عقائد پر مبنی ہے اسی طرح احکام و شرائع پر بھی مشتمل ہے اور جس طرح ایک شاداب درخت اپنی جڑوں سے بھی غذا حاصل کرتا ہے اور اپنی شاخوں اور پتوں سے بھی، اسی طرح یہ عقائد کی معرفت اور اعمال کی بجا آوری دونوں سے غذا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ اگر عقائد میں کھوکھلا پن پیدا ہو جائے جب بھی یہ سوکھ جاتا ہے اور اگر اس کی شاخوں کو کوئی روگ لگ جائے جب بھی یہ مضمحل ہو جاتا ہے۔ اس کے صحیح نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ اس کی جڑ اور اس کی شاخوں دونوں کی دیکھ بھال ہوتی رہے۔ اس دیکھ بھال سے یہ بڑھتا، پھیلتا اور پھلتا پھولتا ہے اور اس کے مفقود ہو جانے سے وہ گھٹتا، سکڑتا اور مردہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک قرآن و حدیث دونوں سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ ہمارے فقہاء اور متکلمین میں سے جن لوگوں نے ایمان کے گھٹنے بڑھنے سے انکار کیا ہے ان کی بات کا کوئی صحیح محل اگر ہو سکتا ہے تو یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو قانونی ایمان سے متعلق مانا جائے۔ قانون چونکہ صرف ظاہری حالات سے تعلق رکھتا ہے، باطن اس کی دسترس سے باہر ہے اس وجہ سے اس کی نظر میں ایک مخلص اور ایک منافق کے ایمان میں کوئی فرق نہیں ہوتا لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حقیقت کی نگاہ میں بھی دونوں کا ایمان یکساں ہے۔ یہاں اس اجمالی اشارے پر قناعت کیجیے۔ اس پر تفصیلی بحث اپنے محل میں آئے گی۔
    اسی طرح کی بات اس وقت ظاہر ہوئی جب تمہارے رب نے ایک مقصد کے ساتھ تم کو گھر سے نکلنے کا حکم دیا اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو یہ بات ناگوار تھی۔
    ’کَمَا‘ کے مواقع استعمال: ’کَمَا‘۔ عربی زبان میں ’کَذَالِک‘، ’کَدَأبِک‘ اور ’کَمَا‘، بسا اوقات واقعہ کی مماثلت واقعہ سے ظاہر کرنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ ایسی صورت میں متعین الفاظ کے اندر ان کا مشبہ اور مشبہ بہ نہیں ہوتا بلکہ بحیثیت مجموعی واقعہ کے اندر ہوتا ہے۔ ’کَذٰلِک‘ بقرہ کی آیت ۱۴۳ میں اسی نوعیت سے آیا ہے۔ امرأ القیس نے اپنے مشہور قصیدہ میں پہلے اپنی ایک سرگزشت عشق بیان کی اس کے بعد ’کَدَابک من ام الحویرث قبلھا‘ کہہ کر اپنی اسی طرح کی دوسری سرگزشتوں کا ذکر شروع کر دیا کہ اسی طرح کا ماجرا اس کو فلاں اور فلاں کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے۔ بقرہ آیت ۱۵۱ سے اوپر تحویل قبلہ کا ذکر ہوا پھر بدوں کسی تقریب و تمہید کے ارشاد ہوا ’کَمَا اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ‘ یہ بھی اسی طرح کا اسلوب بیان ہے یعنی تمہارے قبلہ کو اہل کتاب کے قبلہ سے الگ کر کے خدا نے تم کو ایک علیحدہ امت کی حیثیت سے ممتاز کر دیا۔ اسی طرح کا ’کَمَا‘ یہ زیربحث آیت میں بھی ہے۔ اوپر جیسا کہ مذکور ہوا، ان کمزور قسم کے مسلمانوں کے رویہ پر گرفت فرمائی ہے جو بدر میں حاصل شدہ مال غنیمت کی تقسیم پر معترض ہوئے تھے۔ جب ان کی یہ کمزوری زیربحث آ گئی تو تعلیم و تربیت کا تقاضا یہ ہوا کہ ان لوگوں کی ایک اور کمزوری کی طرف بھی توجہ دلا دی جائے جو اس سے پہلے ان سے اس وقت ظاہر ہوئی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے بدر کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ گویا اس وقت تو ان کی غلطی نظرانداز فرما دی گئی کہ حکمت کا تقاضا یہی تھا لیکن جب اسی طرح کی غلطی ان سے پھر صادر ہوئی تو اس پر گرفت فرمائی گئی اور ساتھ ہی سابق غلطی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا کہ لوگ متنبہ ہو جائیں کہ یہ بیماری کہاں سے چلی ہے اور اگر اس کی اصلاح نہ ہوئی تو کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ بدر کے لیے مسلمانوں کا نکلنا ایمائے الٰہی سے ہوا: ’اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ م بَیْتِکَ بِالْحَقِّ‘۔ ’اَخْرَجَکَ رَبُّکَ‘ کے الفاظ اس امر پر نہایت واضح دلیل ہیں کہ بدر کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نکلنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا تھا۔ آگے آیت ۴۲۔۴۳ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ آپ کو رویا میں شام کی طرف سے قافلۂ قریش کی واپسی اور مکی کی طرف سے فوج قریش کی آمد کا مشاہدہ کرا دیا گیا تھا اور حملہ آور فوج کی حقیقت بھی واضح کر دی گئی تھی کہ معنوی اعتبار سے وہ کچھ زیادہ وزنی نہیں ہو گی بلکہ مسلمانوں سے مغلوب ہو جائے گی۔ بلکہ روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسی رویا میں حضور کو قریش کے خاص خاص لیڈروں کے قتل ہونے کی جگہیں بھی دکھا دی گئیں۔ اسی رویا کی ہدایت کے بموجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اس وجہ سے اس کو ’اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ م بَیْتِکَ‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آگے کی آیت ۴۲ سے یہ بات بھی واضح ہو گی کہ اسی خدائی رہنمائی کی برکت تھی کہ مسلمان بالکل ٹھیک اس وقت قریش کی فوج کے مقابلہ کے لیے بدر کے مقام پر پہنچ گئے جب کہ وادی کے ایک سرے پر ان کی فوج تھی اور نیچے سے قافلہ گزر رہا تھا۔ بدر کے لیے نکلنے کا اصل مقصد: ’بِالْحَقِّ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے نکلنے کا یہ حکم ایک مقصد حق کے لیے دیا تھا۔ اس مقصد حق کی وضاحت آگے یوں فرما دی ہے: ’یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ‘ (اللہ تعالیٰ اپنے حکموں سے یہ چاہتا ہے کہ حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے)۔ ’لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ‘ (تاکہ حق کا بول بالا کرے اور باطل کو نابود کرے مجرموں کے علی الرغم) اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نکلنا ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ایک مقصد حق کے لیے تھا اور وہ مقصد حق یہ تھا کہ دین کا بول بالا ہو اور کفر کی جڑ کٹے۔ ظاہر ہے کہ کفر کی جڑ کٹ سکتی تھی تو قریش کی ہزیمت سے کٹ سکتی تھی نہ کہ ان کے کسی تجارتی قافلہ کو لوٹ لینے سے اس وجہ سے سیرت و مغازی کی کتابوں کی وہ روایت قرآن کے الفاظ کے صریحاً خلاف ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے اس تجارتی قافلے پر حملہ کرنا چاہتے تھے جو ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے واپس آ رہا تھا۔ مسلمانوں کے اندر کے ایک کمزور گروہ کی طرف اشارہ: ’وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ‘۔ ’فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ سے کمزور قسم کے مسلمانوں کی وہ ٹولی مراد ہے جس کا کردار ابتدائے سورہ ہی سے زیربحث ہے اور جس نے مال غنیمت سے متعلق بعد میں وہ سوالات بھی اٹھائے جن پر اوپر کی آیات میں تبصرہ ہوا ہے۔ ’’فَرِیْقًا‘‘ کے لفظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی، بس ایک مختصر سی جماعت تھی۔ ان لوگوں نے جب یہ سنا ہو گا کہ کفار کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک سے مقابلہ درپیش ہے تو یہ بات تو وہ فوراً تاڑ گئے ہوں گے کہ یہ مقابلہ بہرحال فوج سے ہونا ہے نہ کہ تجارتی قافلہ سے اس وجہ سے ان لوگوں پر دہشت طاری ہوئی اور یہ دہشت ان کے اس ضعف اعتماد علی اللہ کا نتیجہ تھی جس کی طرف اوپر آیت ۲ میں اشارہ ہوا ہے۔  
    وہ تم سے امر حق میں جھگڑتے رہے باوجودیکہ حق ان پر اچھی طرح واضح تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں اور وہ اس کو دیکھ رہے ہیں۔
    کمزوروں کی کمزوری پر گرفت: ’یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ‘ لفظ ’مُجَادلۃ‘ کے معنی یہاں، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں اس کی تحقیق بیان کر چکے ہیں، باصرار و بلطائف الحیل مخاطب سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اب یہ وضاحت ہو رہی ہے اس بات کی کہ جب ان کو خطرہ لاحق ہو گا کہ مقابلہ فوج سے درپیش ہے تو اس کے فرار کی انھوں نے کیا راہ نکالنی چاہی۔ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باصرار اور بلطائف الحیل اپنی چرب زبانی سے اس رخ پر لانا چاہا کہ آپ تجارتی قافلے کا قصد کریں۔ بظاہر تو انھوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہو گی کہ یہ مشورہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی میں دے رہے ہیں کہ قافلہ کو لوٹ لینے سے قریش کی کمر اقتصادی اعتبار سے ٹوٹ جائے گی اس لیے کہ ان کے سرمایہ کا بڑا حصہ اس قافلے کے ساتھ ہے جس سے مسلمانوں کی موجودہ کمزور مالی حالت کو درست کرنے میں بڑی مدد ملے گی لیکن اس مشورہ کی تہ میں ان کا وہی خوف بیٹھا ہوا تھا جس کو قرآن نے بے نقاب کردیا ہے کہ ’’گویا وہ موت کی طرف ہنکائے جا رہے ہوں اور وہ موت کو سامنے دیکھ رہے ہوں۔‘‘ اس مشورے کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ تھا کہ ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا، جیسا کہ قرآن کے الفاظ ’بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ‘ سے ثابت ہے، اچھی طرح واضح تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنی بات منوانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ ہر چند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرحلے تک، جیسا کہ آگے والی آیت میں اشارہ آ رہا ہے، بعض خاص اسباب سے، جن کی تفصیل آگے آئے گی، اپنا منشا واضح الفاظ میں ظاہر نہیں فرمایا تھا لیکن یہ لوگ اتنے غبی نہیں تھے کہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ جب ایک طرف تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف سے فوج آ رہی ہے تو آنحضرت کا یہ نکلنا کس سے نمٹنے کے لیے ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ دل کے بودے ضرور تھے لیکن عقل کے اتنے غریب نہیں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج، اسلام کے مقصد، احقاق حق کے تقاضوں سے اتنے نابلد ہوں کہ یہ موٹی سی بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ کسی تجارتی قافلہ کو تاخت و تاراج کرنا ایسا کیا کام ہو سکتا ہے جس کے لیے خدا کا رسول اپنے جاں نثاروں کے ساتھ یوں سربکف ہو کر نکلے! چنانچہ آگے تفصیل آئے گی کہ نہ مہاجرین کے لیڈروں کو آنحضرت کا منشا سمجھنے میں کوئی اشتباہ پیش آیا نہ انصار کے جان نثاروں کو۔ سب نے پہلے ہی مرحلے میں تاڑ لیا کہ حضور کا منشا کیا ہے اور اس منشا کی تکمیل کے لیے وہ سربکف ہو گئے۔ صرف ایک گروہ موت کے ڈر سے آخر وقت تک سخن سازی کرتا رہا اس وجہ سے اس کا رویہ قرآن میں زیر بحث آیا تاکہ آئندہ کے مراحل میں مسلمان ان داخلی فتنوں سے ہوشیار رہیں۔
    یاد کرو جب کہ اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمہارا لقمہ بنے گا اور تم یہ چاہ رہے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارا لقمہ بنے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹے۔
    ’وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنِ اَنَّھَا لَکُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ‘۔ جماعت کے حوصلہ کا اندازہ کرنے کے لیے ایک حکیمانہ طریقہ: ’وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنِ اَنَّھَا لَکُمْ‘ کے اسلوب بیان میں جو ابہام ہے وہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلتے وقت انصار و مہاجرین سے جب اس مہم کے باب میں استمزاج فرمایا تو بات کھل کر یوں نہیں فرمائی کہ تجارتی قافلہ کی حفاظت کا بہانہ بنا کر قریش نے ہم پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج بھیج دی ہے بلکہ مبہم انداز میں یوں فرمایا کہ کفار کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ ہمارے قابو میں کر دے گا۔ یہ مبہم انداز بیان حضور نے کیوں ارشاد فرمایا؟ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک اہم مہم پر روانہ ہونے سے پہلے حضور نے چاہا کہ ہر گروہ کا جائزہ لے لیا جائے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور اگر مسئلہ کو بالکل دوٹوک انداز میں لوگوں کے سامنے رکھ دیتے تو مخلص و منافق سب کو آمنا و صدقنا کہتے ہی بن پڑتی۔ پھر نہ تو کسی کو اس سے اختلاف کی جرأت ہوتی اور نہ کسی کی کمزوری ظاہر ہو سکتی۔ یاد ہو گا، یہی طریقہ آپ نے جنگ احد کے موقع پر بھی اختیار فرمایا۔ اس وقت آپ نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ جنگ شہر سے باہر نکل کر کی جائے یا شہر میں محصور ہو کر اور خود اپنی رائے ظاہر نہیں فرمائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جاں نثاروں نے شہر سے باہر نکل کر جنگ کرنے کی رائے دی اور کمزور قسم کے لوگوں نے شہر میں محصور ہو کر۔ اس طرح آپ کو جماعت کے قوی و ضعیف اور مخلص و منافق سب کا جائزہ لینے کا موقع مل گیا۔ ۱؂ اسی حکمت و مصلحت سے حضور نے اس موقع پر بھی بات مبہم انداز میں فرمائی کہ لوگوں کے جواب سے اندازہ ہو جائے کہ کون کس طرز پر سوچ رہا ہے چنانچہ پہلے اپنے مہاجرین کا عندیہ معلوم کرنا چاہا۔ وہ صاف سمجھ گئے کہ حضور کا منشا کیا ہے۔ چنانچہ ان میں سے مقداد بن عمر نے اٹھ کر ایک ایسی تقریر کی جس کی گونج اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے گی۔ انہوں نے فرمایا: ’’اے اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو جس بات کا حکم دیا ہے آپ اس کے لیے اقدام کیجیے۔ آپ جہاں کے لیے نکلیں گے ہم آپ کے ہم رکاب ہیں۔ ہم آپ سے وہ بات کہنے والے نہیں ہیں جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ  سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب دونوں جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھتے ہیں۔ بلکہ ہمارا قول یہ ہے کہ آپ اور آپ کا رب دونوں جنگ کے لیے نکلیں، جب تک کہ ایک آنکھ بھی ہم میں گردش کرتی ہے ہم سر کٹانے کے لیے حاضر ہیں۔‘‘ کیا یہ تصور بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان الفاظ میں جن لوگوں کی ترجمانی کی گئی ہے ان کے کسی فرد میں بھی کسی تجارتی قافلے پر حملے کا کوئی موہوم وسوسہ بھی ہو سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی طرف سے اطمینان کر لینے کے بعد اپنے وہی الفاظ جو اوپر مذکور ہوئے پھر دہرائے۔ انصار سمجھ گئے کہ اب حضور ہمارا عندیہ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انصار کے لیڈر سعد بن معاذ اٹھے اور انھوں نے عرض کیا کہ حضور کا روئے سخن ہماری طرف ہے؟ پھر انھوں نے وہ تقریر کی جس کا ایک ایک لفظ میدان جہاد کا رجز ہے اور جس کی حرارت ایمانی 14 سو سال گزرنے پر بھی ٹھنڈی نہیں پڑی ہے۔ انھوں نے فرمایا: ’’ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ جو دین آپ لے کر آئے ہیں وہی حق ہے۔ ہم نے آپ سے سمع و طاعت کا عہد و میثاق کیا ہے۔ پس اے اللہ کے رسول، آپ نے جو ارادہ فرمایا ہے وہ پورا کیجیے۔ اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں اس سمندر کے کنارے لے جا کر اس میں کود پڑیں گے تو آپ کے ساتھ ہم بھی اس میں کود پڑیں گے اور ایک شخص بھی ہم میں سے پیچھے رہنے والا نہیں ہو گا۔ ہم اس بات سے نہیں گھبراتے کہ کل آپ ہمیں ہمارے دشمنوں کے مقابلہ کے لیے لے جا کھڑا کریں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے۔ مقابلہ کے وقت ہم راست باز ثابت ہوں گے اور کیا عجب کہ اللہ ہمارے ہاتھوں وہ کچھ دکھائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں تو اللہ کا نام لے کر آپ ہمیں ہم رکابی کا شرف بخشیے۔‘‘ غور کیجیے کہ کیا یہ تقریریں ان لوگوں کی ہو سکتی ہیں جو ایک غیرمسلح قافلہ پر، جس کی جمعیت شاید کل چالیس آدمیوں پر منحصر تھی، حملہ کی سکیمیں سوچ رہے ہوں اور پھر اس امر پر غور کیجیے کہ کیا لفظ لفظ سے یہ بات واضح نہیں ہو رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کے اس ابہام کے باوجود، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا، انصار و مہاجرین دونوں گروہوں پر یہ بات سورج کی طرح روشن تھی کہ آپ کا منشا کیا ہے اور آپ کا رخ کدھر کو ہے۔ البتہ ایک گروہ، جیسا کہ قرآن کے الفاظ سے واضح ہے، ضعیف الایمانوں کا ایسا تھا جو حقیقت کی وضاحت کے باوجود محض اپنی بزدلی کے سبب سے یہ چاہتا تھا کہ حملہ قافلہ پر کیا جائے جو غیر مسلح ہے تاکہ خطرہ کوئی نہ پیش آئے اور لقمہ تر ہاتھ آئے۔ انہی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ’تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ‘ (تم چاہتے تھے کہ غیرمسلح گروہ تمہارا لقمہ بنے) ’شوک‘ اور ’شوکۃ‘ عربی میں کانٹے کو کہتے ہیں یہیں سے لفظ ’شوکۃ‘ ہتھیار اور پھر قوت اور دبدبہ کے معنی میں استعمال ہوا۔ چونکہ تجارتی قافلہ غیر مسلح تھا اس وجہ سے اس کے لیے ’غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ‘ کا لفظ استعمال ہوا۔ خدائی احکام کا منشا سمجھنے کے لیے ایک عقلی کسوٹی: ’وَیُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ‘ اب یہ اللہ کے ارادے اور منشا کو سمجھنے اور جانچنے کے لیے ایک عقلی اور فطری معیار بتایا گیا ہے کہ اللہ کا ہر حکم و ارادہ احقاق حق اور ابطال باطل کے مقصد کے لیے ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی باتوں کا منشا، اگرچہ وہ مجمل ہوں، معین کرنے میں اس اصول کو نظرانداز کرنا جائز نہیں ہے۔ جن لوگوں نے قافلہ پر حملہ کرنے کا ارمان کیا انھوں نے اس بات کا خیال نہ کیا کہ خدا ایک ایسی بات کیسے چاہ سکتا ہے جس سے نہ حق کا بول بالا ہو نہ کفر اور اہل کفر کی جڑ کٹے۔ ’کَلِمَات‘ کا لفظ، جیسا کہ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں تصریح کر چکے ہیں، ایک قسم کے ابہام کا حامل ہے۔ چونکہ اس موقع پر بات، جیسا کہ ہم اوپر واضح کر چکے ہیں، لوگوں کے سامنے مبہم طور پر رکھی گئی تھی اس وجہ سے قرآن نے اس کو ’کَلِمَات‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جن باتوں کے اندر کوئی اجمال و ابہام ہوتا ہے درحقیقت وہی باتیں ہوتی ہیں جن کے منشا کے تعین کا کام دشوار ہوتا ہے۔ ایسے مواقع میں اہل ایمان کی روش یہ ہونی چاہیے کہ بات کا وہ پہلو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی شان سے موافقت رکھنے والا ہو نہ کہ ان کے منافی۔ ’یَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ‘ کے الفاظ سے قرآن نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ سارے کفر کی جڑ تو قریش کی جمعیت تھی، کاٹنے کی چیز تھی تو وہ تھی اور اللہ چاہ سکتا تھا تو اس کو کاٹنا چاہ سکتا تھا لیکن ایک گروہ نے تجارتی قافلہ ہی پر وار کر کے تیس مارخاں بننے کی کوشش کی۔ _____ ۱؂ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔  
    تا کہ مجرموں کے علی الرغم وہ حق کو پابرجا اور باطل کو نابود کرے۔
    ’لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ‘ یہ ٹکڑا ’یَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ‘ کی غایت واضح کر رہا ہے کہ اللہ نے ان کافروں کی جڑ کاٹنے کا جو ارادہ فرمایا ہے تو اس کا مقصد حق کا بول بالا کرنا اور باطل کو مٹانا ہے۔ خدا کو کسی سے پرخاش نہیں ہے البتہ احقاق حق اور ابطال باطل اس کی صفات کا مقتضیٰ ہے اور اس کا فیصلہ اب خدا نے فرما لیا ہے اور یہ کام ہو کر رہے گا اور ان مجرموں کے علی الرغم ہو کر رہے گا۔ قرآنی اشارات کی روشنی میں غزوۂ بدر کی اصل تصویر: اوپر قرآن نے جو اشارات کیے ہیں ان کی روشنی میں غزوہ بدر کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو سیرت و مغازی کی کتابوں میں پیش کی گئی ہے اور جس میں رنگ آمیزی کر کے مستشرقین نے اس کو اور زیادہ بھیانک شکل دے دی ہے۔ قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا مسلمانوں کے ذہن میں قریش کے قافلۂ تجارت سے تعرض کرنے کا کوئی خیال موجود نہیں تھا۔ مدینہ پر حملہ کی ساری اسکیم قریش نے بنائی اور اس کے لیے قافلۂ تجارت کی حفاظت کا بہانہ تراشا۔ قریش مدینہ میں مسلمانوں کے جڑ پکڑنے سے بہت خائف تھے۔ مذہبی عناد کے علاوہ انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ اب مکہ اور شام کی تجارتی شاہراہ ان کے لیے محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ہی وہ اس فکر میں تھے کہ کوئی عذر تلاش کر کے مسلمانوں کو ایک قوت بننے سے پہلے ہی ختم کر دیں۔ اب یا تو قافلۂ تجارت کے سالار ابوسفیان نے واپسی کے موقع پر کوئی وہمی خطرہ مسلمانوں کے حملے کا محسوس کیا ہو کہ آدمی بھیج کر قریش کو حملہ کی خبر بھیج دی یا اس کے لیے بھی پہلے سے قریش کے لیڈروں میں کوئی سازش رہی ہو۔ بہرحال ابوسفیان کی اطلاع پر مکہ سے ایک بھاری بھرکم لشکر مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہ مرحلہ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا کے ذریعے سے یہ اطلاع ہوتی ہے کہ قریش کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد مدینہ سے بدر کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا اور مسلمانوں کے حوصلہ کا اندازہ کرنے کے لیے صورت حال مبہم انداز میں ان کے سامنے رکھی کہ کفار کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک سے ہمارا مقابلہ ہو گا۔ اور وہ ہم سے شکست کھائے گی۔ مسئلہ کے سامنے آتے ہی مہاجرین و انصار سب سمجھ گئے کہ قریش کی فوج آ رہی ہے اور اس سے معاملہ درپیش ہے۔ چنانچہ ان کے لیڈروں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفاداری اور اسلام کے لیے اپنی جاں نثاری کا یقین دلایا۔ البتہ ایک مختصر سی ٹولی ان میں ایسی بھی تھی جس نے اپنا زور اس بات کے لیے لگایا کہ قریش کی فوج کے بجائے قافلۂ تجارت کا رخ کیا جائے تاکہ بغیر ایک قطرۂ خون بہائے بھاری غنیمت ہاتھ آئے۔ اسی گروہ کو بے نقاب کرنے کے لیے حضور نے اپنی بات مبہم انداز میں پیش کی تھی تاکہ جن لوگوں کے اندر کوئی کمزوری چھپی ہوئی ہے وہ اپنی کمزوری ظاہر کر دیں اور مخلص و منافق میں مرحلۂ جنگ پیش آنے سے پہلے ہی امتیاز ہو جائے۔ آگے اسی سورہ کی بعض آیات کی روشنی میں ہم انشاء اللہ یہ بھی دکھائیں گے کہ اس جنگ کے لیے یہود نے بھی قریش کی پیٹھ ٹھونکی تھی لیکن میدان جنگ کا نقشہ دیکھ کر وہ اپنی عادت کے مطابق دبک گئے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List