Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الاعراف (The Heights)

    206 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ انعام میں، جیسا کہ تفصیل سے واضح ہوا، قریش کو اسلام کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ دعوت اس بنیاد پر دی گئی ہے کہ یہی اصل ملت ابراہیمؑ ہے جس کی ابراہیمؑ نے اپنی ذریت کو تلقین کی نہ کہ وہ مجموعۂ بدعات و اوہام ہے جو تم لیے بیٹھے ہو۔ اللہ نے تم پر بڑا فضل فرمایا ہے کہ اس نے تمہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جس نے اللہ کی حجت تم پر پوری کر دی ہے اب تمھارے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر تم اپنی ضد پر اڑے رہ گئے تو یاد رکھو کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو خدا نے ہمیشہ تباہ کر دیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک معروف حقیقت ہے جس کی دلیل ڈھونڈنے کے لیے تمھیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس ملک میں تم آج بااقتدار ہو خود اسی کی تاریخ میں تمھارے لیے کافی سامان عبرت موجود ہے۔ تم اس سرزمین پر پہلے آنے والے نہیں ہو بلکہ تم سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جو اسی طرح اقتدار کی مالک ہوئیں جس طرح تم۔ بلکہ بعض اپنے اقتدار و سطوت کے اعتبار سے تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ انہی کے وارث تم ہوئے ہو۔ پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ قدرت کا قانون تمھارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔ ان کے جرائم کی بنا پر خدا نے ان کو ہلاک کر کے ان کی جگہ تم کو بخشی، انہی جرائم کے مرتکب تم ہوئے تو خدا تم کو دندناتے پھرنے کے لیے کیوں چھوڑے رکھے گا، خدا کا قانون تو سب کے لیے ایک ہی ہے۔

    انعام کے بعد اعراف، انعام کی مثنیٰ سورہ ہے۔ اس میں دعوت کے بجائے انذار کا پہلو غالب ہے۔ اس میں صاف صاف قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو بس سمجھ لو کہ اب تم خدا کے عذاب کی زد میں ہو۔ اس میں پہلے ان کی فرد قرارداد جرم کی طرف اجمالاً اشارہ کیا، اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ان تمام پچھلی قوموں کی تاریخ سنائی جو اس ملک میں اقتدار پر آئیں اور پھر یکے بعد دیگرے اسی جرم میں کیفر کردار کو پہنچیں جس کے مرتکب قریش ہوئے۔ یہ تفصیل گویا انعام کی آخری آیت کے اجمال کی تفصیل ہے۔ اسی کے ساتھ یہود کو بھی لے لیا ہے اور ان کو بھی بالکل آخر تنبیہ فرمائی ہے۔ آخر میں عہد فطرت کو، جو تمام ذریت آدم سے لیا گیا ہے، بنیاد قرار دے کر انذار کے مضمون کو اس کے آخری نتائج تک پہنچا دیا ہے جس کے بعد برأت، ہجرت اور اعلان جنگ یا نزول عذاب کے مراحل سامنے آ جاتے ہیں۔ اب ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں تاکہ پوری سورہ بیک نظر نگاہ کے سامنے آ جائے۔

  • الاعراف (The Heights)

    206 آیات | مکی
    الانعام ——- الاعراف

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جو حقائق عقل و فطرت اور انفس و آفاق کے دلائل سے ثابت کیے گئے ہیں، دوسری میں اُنھی کا اثبات تاریخی دلائل کے ساتھ اور اتمام حجت کے اسلوب میں ہوا ہے۔ پہلی سورہ میں دعوت اور دوسری میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ دونوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ دونوں سورتیں بالترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارعام اور مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔ پہلی سورہ الانعام کا موضوع قریش کے لیے توحید، رسالت اور معاد کے بنیادی مسائل کی وضاحت، اِن مسائل کے بارے میں اُن کی غلط فہمیوں پر تنبیہ اور اُنھیں توحید خالص پر ایمان کی دعوت ہے۔

    دوسری سورہ الاعراف کا موضوع قریش کو انذار اور اُن کے لیے اِس حقیقت کی وضاحت ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہیں اور اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اصرار کرے تو اُس کے کیا نتائج اُسے لازماً بھگتنا پڑتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 007 Verse 001 Chapter 007 Verse 002 Chapter 007 Verse 003 Chapter 007 Verse 004 Chapter 007 Verse 005 Chapter 007 Verse 006 Chapter 007 Verse 007 Chapter 007 Verse 008 Chapter 007 Verse 009
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الٓمّٓصٓ ہے۔
    ’الٓمّٓصٓ‘۔ حروف مقطعات پر تفصیلی بحث بقرہ میں ’الم‘ کے تحت گزرچکی ہے۔ یہاں الف، لام، میم پر حرف ص کا اضافہ ہے۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ جن سورتوں کے نام کچھ مشترک سے ہیں ان کے مطالب میں بھی فی الجملہ اشتراک پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس سورہ کو غور سے پڑھیے تو معلوم ہو گا کہ اس کی بہت سی باتیں بقرہ سے ملتی جلتی ہیں اگرچہ دونوں میں مکی و مدنی کا فرق بھی ہے اور دونوں کے مخاطب بھی الگ الگ ہیں۔ یہاں تالیف کلام کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ ’الٓمّٓصٓ‘ کو بحذف مبتدا مستقل جملہ بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس کو آگے سے ملانا چاہیں تو اس کو مبتدا اور ’کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ‘ کو اس کی خبر بھی مان سکتے ہیں۔ ہم نے پہلی شکل اختیار کی ہے اور ’کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ‘ میں بھی مبتدا کو محذوف مانا ہے۔ ویسے دونوں شکلوں میں باعتبار مفہوم کوئی فرق نہیں ہے۔
    یہ کتاب ہے جو تمھاری طرف اتاری گئی ہے تو اس کے باعث تمھارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو تا کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کر دو اور اہل ایمان کے لیے یاددہانی ہے۔
    قریش کی مخالفت کے دور شباب میں آنحضرت صلعم کو تسلی اور آپ کی ذمہ داری کی حد: ’کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ‘ ’حرج‘ کے معنی تنگی، ضیق اور پریشانی کے ہیں۔ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسکین و تسلی کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ یہ دور، جیسا کہ سورہ کے مطالب کی فہرست سے واضح ہے، قریش کی مخالفت کے شباب کا دور تھا۔ وہ ہر قسم کے اوچھے سے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے پر اتر آئے تھے۔ آپؐ کو زچ کرنے کے لیے روز نت نئے مطالبے وہ پیش کرتے۔ ایک مخالفت کی یہ شدت تھی دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرض دعوت کا احساس اتنا شدید تھا کہ سارے جتن کرنے کے باوجود آپ کو یہ فکر دامن گیر ہی رہتی کہ مبادا میری ہی کوئی کوتاہی ہو جس کے سبب سے یہ لوگ اتنی صاف اور واضح حقیقت کے قائل نہ ہو رہے ہوں۔ یہ دونوں چیزیں مل کر آپ کے دل پر ایک بھاری بوجھ بنی ہوئی تھیں۔ قرآن نے یہاں یہ دونوں بوجھ ہلکے کیے ہیں۔ قریش کی مخالفت سے بے پروا ہونے کی یوں تلقین فرمائی کہ یہ کتاب نہ تمھاری اپنی پیش کردہ ہے نہ خدا سے درخواست کر کے تم نے اپنے اوپر اتروائی ہے بلکہ یہ تمھاری طلب و تمنا کے بغیر خدا کی طرف سے تم پر اتاری گئی ہے تو تم اس کے مخالفوں کی مخالفت سے اپنے آپ کو ضیق و پریشانی میں کیوں مبتلا کرو؟ جس خدا نے یہ اتاری ہے وہی اس کی تائید و نصرت کے لیے کمک اور بدرقہ بھی فراہم کرے گا۔ نہ وہ کوئی کمزور ہستی ہے نہ حالات سے بے تعلق یا بے خبر ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جو ذمہ داری اس نے تم پر ڈالی ہے اس کو کما حقہٗ ادا کرنے کے لیے تم کن چیزوں کے محتاج ہو اور راہ کے پتھروں کو ہٹانے کے لیے تمھیں کتنی قوت درکار ہے۔ وہ یہ ساری چیزیں فراہم کرے گا تو تم خاطر جمع رکھو، اپنے آپ کو پریشانی میں مبتلا نہ کرو۔ ’لِتُنْذِرَ بِہٖ وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘ یہ اس کتاب سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری کی حد بتا دی گئی ہے کہ آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو تکذیب رسول کے نتائج اور قیامت کے احوال سے اچھی طرح ہوشیار کر دیں۔ یہ مانتے ہیں یا نہیں، یہ سوال آپ سے متعلق نہیں ہے۔ آپ پر ذمہ داری صرف انذار و بلاغ کی ہے۔ ’وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘ کا ٹکڑا معناً عطف تو ’لِتُنْذِرَ‘ ہی پر ہے لیکن یہ فعل کے بجائے اسم کی شکل میں ہے۔ اس کے اسم کی شکل میں لانے سے ایک امر واقعہ کا اظہار مقصود ہے۔ وہ یہ کہ جہاں تک انذار کا تعلق ہے وہ تو تم ان کفار کو کر دو لیکن اس سے یاددہانی کا فائدہ صرف اہل ایمان ہی اٹھائیں گے۔ یہ مضمون جگہ جگہ، قرآن میں مختلف سورتوں میں، بیان ہوا ہے۔ ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں: ’طٰہٰ ہ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقآی اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی‘۔ (طٰہٰ ۱۔۴) (یہ سورہ طٰہٰ ہے، ہم نے تم پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تمھاری زندگی تمھارے لیے اجیرن ہو کے رہ جائے، یہ تو بس یاددہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈریں، یہ تو نہایت اہتمام سے اتارا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے زمین اور ان بلند آسمانوں کو پیدا کیا)۔  
    لوگو، جو چیز تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے ماسوا سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔ بہت کم ہی تم لوگ یاددہانی حاصل کرتے ہو!
    کفار قریش کو عذاب کی دھمکی: عام طور پر لوگوں نے اس آیت کا مخاطب مسلمانوں کو مانا ہے لیکن سیاق و سباق اور آیت کے الفاظ دلیل ہیں کہ خطاب قریش سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر والی آیت میں تسلی دینے کے بعد اب یہ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ یہ چیز جو تم پر تمھارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور خدا کے ماسوا دوسرے معبودوں اور شریکوں کی پیروی نہ کرو، یہ خیالی اولیاء اصنام تمھارے کچھ کام آنے والے نہیں ہیں۔ اس کے بعد بانداز حسرت و افسوس فرمایا کہ ’قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ‘ کہ تم ایسے شامت زدہ لوگ ہو کہ مشکل ہی سے یاددہانی حاصل کرتے ہو۔
    اور کتنی ہی بستیاں ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا تو آیا ان پر ہمارا عذاب رات میں اچانک یا دن دہاڑے جب وہ دوپہر کے آرام میں تھے۔
    ’قریہ‘ کا مفہوم: ’قَرْیَۃ‘ کا لفظ قریہ اور اہل قریہ دونوں پر حاوی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے ضمیر میں، اشارات اور فعل وغیرہ استعمال کرتے ہیں، کبھی لفظ کا اعتبار کرتے ہیں، کبھی مفہوم کا۔ یہ اسلوب ہر زبان میں عام ہے۔ ’قَآءِلُوْنَ‘ قیلولہ سے ہے۔ ’قیلولہ‘ کے معنی دوپہر منانے کے ہیں، سونا اس کے لوازم میں سے نہیں ہے۔ عرب کا ملک، گرم ملک ہے اس وجہ سے وہاں دوپہر میں لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے اپنے مکانوں، ڈیروں، خیموں اور باغوں میں آرام کریں۔ اہل تاویل کی ایک غلط فہمی: بعض اہل تاویل کو ’فَجَآءَ ھَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْھُمْ قَآءِلُوْنَ‘ کے الفاظ سے یہ خیال ہوا ہے کہ اللہ کا عذاب اس وقت آتا ہے جب لوگ رات میں یا دن میں سوئے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ بات تاریخ کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بیان کے بھی۔ سورۂ انعام میں ہے: ’قُلْ اَرَءَیْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ بَغْتَۃً اَوْ جَھْرَۃً ھَلْ یُھْلَکُ اِلَّاالْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ‘۔(۴۷) (کہو، بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک چپکے سے یا کھلم کھلا آ دھمکے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا!) اسی سورۂ اعراف میں معذب قوموں کی سرگزشتیں سنانے کے بعد ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا ہے: ’اَفَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرآی اَنْ یَّاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّھُمْ نَآءِمُوْنَ اَوَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرآی اَنْ یَّاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا ضُحًی وَّھُمْ یَلْعَبُوْنَ‘۔(۹۷۔۹۸) (کیا یہ بستیوں والے مامون ہوئے اس بات سے کہ ہمارا عذاب ان پر رات میں آ دھمکے جب وہ سوئے ہوئے ہوں! کیا یہ بستیوں والے مامون رہے کہ ہمارا عذاب ان پر چاشت کے وقت آ دھمکے جب کہ وہ لہو و لعب میں مشغول ہوں) ہمارے نزدیک ’فَجَآءَ ھَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْھُمْ قَآءِلُوْنَ‘ سے یہ ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے کہ خدا کا عذاب اس وقت آیا کرتا ہے جب لوگ سوئے ہوتے ہیں بلکہ یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ خدا کا عذاب شب کی تاریکیوں میں چپ چپاتے بھی آیا اور ڈنکے کی چوٹ دن دہاڑے بھی۔ جس وقت بھی آیا آ گیا، نہ کوئی اس کو روک سکا اور نہ کوئی اس سے اپنے آپ کو بچا سکا۔ صرف وہ لوگ اس سے بچ سکے جن کو اللہ کی امان حاصل ہوئی۔ اصل انذار: یہ وہ انذار ہے جس کا ’لِتُنْذِرَ بِہٖ‘ میں اشارہ ہے۔ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ کتنی قومیں اور بستیاں ہیں جن پر رات میں یا دن میں جب خدا نے چاہا اپنا عذاب بھیج دیا اور وہ تباہ کر دی گئیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کے مقابل میں کھڑی نہ ہوسکی بلکہ ہر قوم نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے حوالہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے بھی اس چیز کی پیروی نہ کی جو خدا نے تم پر اتاری ہے تو یہی حشر تمھارا بھی ہونا ہے۔ آج اکڑتے ہو لیکن اس وقت سارے کس بل نکل جائیں گے اور تم خود اپنے منہ سے اپنے جرم کا اقرار کرو گے لیکن اس وقت یہ اقرار تمھارے لیے کچھ نافع نہیں ہو گا۔
    تو جب ہمارا عذاب ان پر آیا اس کے سوا وہ کچھ نہ کہہ سکے کہ بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔
    اصل انذار: یہ وہ انذار ہے جس کا ’لِتُنْذِرَ بِہٖ‘ میں اشارہ ہے۔ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ کتنی قومیں اور بستیاں ہیں جن پر رات میں یا دن میں جب خدا نے چاہا اپنا عذاب بھیج دیا اور وہ تباہ کر دی گئیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کے مقابل میں کھڑی نہ ہوسکی بلکہ ہر قوم نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے حوالہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے بھی اس چیز کی پیروی نہ کی جو خدا نے تم پر اتاری ہے تو یہی حشر تمھارا بھی ہونا ہے۔ آج اکڑتے ہو لیکن اس وقت سارے کس بل نکل جائیں گے اور تم خود اپنے منہ سے اپنے جرم کا اقرار کرو گے لیکن اس وقت یہ اقرار تمھارے لیے کچھ نافع نہیں ہو گا۔
    سو، یاد رکھو، ہم ان لوگوں سے پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی ہم استفسار کریں گے۔
    انذار کی تفصیل: ’فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ‘۔ ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ اللہ کے رسول دو چیزوں سے لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کرنے والی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دوسرے اس جزا و سزا سے جس سے آخرت میں ہر شخص کو لازماً دوچار ہونا ہے۔ اوپر والی آیت میں پہلی چیز سے ڈرایا ہے۔ اب آگے اس دوسری چیز سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ ایک دن آنے والا ہے جب ہم ان امتوں سے بھی پرسش کریں گے جن کی طرف ہم نے اپنے رسول بھیجے اور خود رسولوں سے بھی سوال کریں گے۔ امتوں سے جو پرسش ہونی ہے اس کی تفصیل قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے: کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَاَلَھُمْ خَزَنَتُھَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآءَ نَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ہ وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِھِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (ملک ۸۔۱۱) ’’جب جب ان کی کوئی بھیڑ دوزخ میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی ہوشیار کرنے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے، ہاں ہمارے پاس ایک ہوشیار کرنے والا آیا تو تھا پر ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز بھی نہیں اتاری ہے، تم لوگ ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ وہ اعتراف کریں گے کہ اگر ہم سنتے سمجھتے ہوتے تو جہنم میں پڑنے والے نہ بنتے۔ پس وہ اپنے جرم کا اقرار کریں گے تو لعنت ہو ان دوزخیوں پر۔‘‘ رسولوں سے جو سوال ہو گا اس کا حوالہ سورۂ مائدہ میں یوں دیا گیا ہے: یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَآ اُجِبْتُمْ (۱۰۹۔ مائدہ) ’’جس دن اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا پھر پوچھے گا تمھیں کیا جواب ملا؟‘‘  
    پھر ہم ان کے سامنے سب بیان کریں گے پورے علم کے ساتھ اور ہم کہیں غائب نہیں رہے ہیں۔
    ’فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ بِعِلْمٍ وَّمَا کُنَّا غَآءِبِیْنَ‘ مطلب یہ ہے کہ اس دن ہم رسولوں اور ان کی قوموں کو ساری گزری ہوئی روداد، پورے علم و خبر کے ساتھ سنا دیں گے کہ ہمارے رسولوں نے کس طرح حق بلاغ ادا کیا اور ان کی تکذیب کرنے والوں نے کس طرح جان بوجھ کر ان کی تکذیب کی۔ فرمایا کہ ہم ایک لمحہ کے لیے بھی ان حالات و واقعات سے بے تعلق یا بے خبر نہیں رہے ہیں۔ جو کچھ ہوا ہے ہمارے سامنے ہوا ہے۔ یہ واضح رہے کہ یہ سنانا قطع عذر کے لیے ہو گا تاکہ کسی کے لیے بھی لب کشائی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔
    اس دن وزن دار صرف حق ہو گا تو جن کے پلڑے بھاری ٹھہریں گے وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے۔
    میزان قیامت میں وزن دار صرف حق ہو گا: ’وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِنِ الْحَقُّ‘ مطلب یہ ہے کہ اس دن وزن رکھنے والی شے صرف حق ہو گا۔ باطل میں سرے سے کوئی وزن ہی نہیں ہو گا۔ قیامت میں اللہ تعالیٰ جو ترازو نصب فرمائے گا وہ ہر ایک کے اعمال تول کر بتا دے گی کہ اس میں حق کا حصہ کتنا ہے۔ پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے؟ یعنی حق کی مقدار ان کے ساتھ زیادہ ہو گی، وہ فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ خائب و خاسر ہوں گے۔ اعمال کے باوزن اور بے وزن ہونے کے باب میں قرآن نے یہ اصول بھی بیان فرمایا ہے: ’ھَلْ نُنَبِّءُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ہ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ہ اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَلِقَآءِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا‘(۱۰۳۔۱۰۵ کہف) (ہم تمھیں بتائیں گے کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے کون ہوں گے؟ وہ جن کی ساری سرگرمیاں طلب دنیا میں برباد ہوئیں اور وہ اس خوش گمانی میں رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں، وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور ملاقات کا انکار کیا تو ان کے اعمال ڈھے گئے، تو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن نہیں قائم کریں گے) اس سے معلوم ہوا کہ میزان قیامت میں وزن دار اعمال وہی ہوں گے جو خدا کی رضا اور آخرت کے لیے انجام دیے جائیں۔ جو اعمال اس وصف سے خالی ہوں گے نہ وہ اعمال حق ہیں، نہ میزان الٰہی میں ان کا کوئی وزن ہو گا۔  
    اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا بوجہ اس کے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار اور اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔
    زبان کا ایک اسلوب: ’وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ ....... بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ‘ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں زبان کے اس اسلوب کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ جب صلہ اور فعل میں مناسبت نہ ہو تو وہاں تضمین ہوتی ہے یعنی کوئی ایسا فعل وہاں محذوف مانیں گے جو موجود خلا کو بھر سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لفظ کم استعمال ہو تے ہیں، لیکن معنی میں بہت وسعت ہو جاتی ہے۔ یہاں تضمین کھول دی جائے تو پوری بات یوں ہو گی ’بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِنَا وَیَظْلِمُوْنَ اَنْفُسَھُمْ‘ بوجہ اس کے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List