Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانعام (The Cattle)

    165 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    سورۂ انعام میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مخاطب قریش ہیں۔ ان کے سامنے توحید، معاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل واضح کرتے ہوئے ان کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ تنبیہ ہے کہ اگر اُنھوں نے یہ دعوت قبول نہ کی تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے ان کو تیار رہنا چاہیے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دوچار ہونا پڑا۔ اہل عرب چونکہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد تھے اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جس مذہب پر وہ ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم ؑ ہی سے وراثت میں ملا ہے اس وجہ سے اس سورہ میں اس حجت کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تاکہ قریش پر یہ واضح ہو جائے کہ اصل ملتِ ابراہیم ؑ کیا ہے اور اس کے حقیقی پیرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ ہیں یا قریش۔

  • الانعام (The Cattle)

    165 آیات | مکی
    الانعام ——- الاعراف

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جو حقائق عقل و فطرت اور انفس و آفاق کے دلائل سے ثابت کیے گئے ہیں، دوسری میں اُنھی کا اثبات تاریخی دلائل کے ساتھ اور اتمام حجت کے اسلوب میں ہوا ہے۔ پہلی سورہ میں دعوت اور دوسری میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ دونوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ دونوں سورتیں بالترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارعام اور مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ الانعام کا موضوع قریش کے لیے توحید، رسالت اور معاد کے بنیادی مسائل کی وضاحت، اِن مسائل کے بارے میں اُن کی غلط فہمیوں پر تنبیہ اور اُنھیں توحید خالص پر ایمان کی دعوت ہے۔

    دوسری سورہ الاعراف کا موضوع قریش کو انذار اور اُن کے لیے اِس حقیقت کی وضاحت ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہیں اور اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اصرار کرے تو اُس کے کیا نتائج اُسے لازماً بھگتنا پڑتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 006 Verse 001 Chapter 006 Verse 002 Chapter 006 Verse 003 Chapter 006 Verse 004 Chapter 006 Verse 005 Chapter 006 Verse 006 Chapter 006 Verse 007 Chapter 006 Verse 008 Chapter 006 Verse 009 Chapter 006 Verse 010 Chapter 006 Verse 011
    Click translation to show/hide Commentary
    شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا تاریکیوں اور روشنی کو، پھر تعجب ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے رب کے ہم سر ٹھہراتے ہیں۔
    توحید کی دلیل عرب کے مسلمات سے: لفظ ’حمد‘ کی تحقیق تفسیر سورۂ فاتحہ میں گزر چکی ہے اور یہ بات بھی اس کتاب میں بار بار بیان ہو چکی ہے کہ مشرکین عرب آسمان و زمین اور نور و ظلمت سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ یہاں قرآن نے ان کے اسی مسلمہ پر توحید کی دلیل قائم کی ہے کہ جب یہ تسلیم ہے کہ آسمانوں اور زمین اور نور و ظلمت کا خالق اللہ ہی ہے تو پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہ کفار دوسروں کو خدا کا ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں۔ ’ثُمَّ‘ اظہار تعجب کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اور آگے والی آیت میں بھی، اظہار تعجب ہی کے مفہوم میں ہے۔ شرک پر اظہار تعجب کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ جب ساری چیزوں کا خالق خدا ہی ہے تو پھر شرک کی گنجائش کہاں سے نکلی؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کائنات کی چیزوں میں بظاہر جو تضاد نظرآتا ہے مثلاً زمین اور آسمان، روشنی اور تاریکی، سردی اور گرمی، تو اس تضاد کے اندر اس کائنات کے مجموعی مقصد کے لیے ایسی حیرت انگیز سازگاری بھی ہے کہ کوئی عاقل تصور نہیں کر سکتا کہ ان میں سے ہر ایک کے خالق و مالک الگ الگ ہیں۔ بلکہ ہر صاحب نظر یہ ماننے پر مجبور ہے کہ پوری کائنات ایک ہی کارفرما کے ارادے اور مشیت کے تحت حرکت کر رہی ہے۔
    وہی ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک مدّت ٹھہرائی اور مدت مقررہ اسی کے علم میں ہے، پھر تعجب ہے کہ تم کج بحثیاں کرتے ہو!
    ’خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ‘ سے مقصود انسان کی ابتدائی خلقت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ فرمایا: وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ.(۷۔ السجدہ) (اور انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا) تمام ارضی مخلوقات کی زندگی کا آغاز مٹی ہی سے ہوا ہے۔ اس مضمون کو قرآن نے باربار مختلف شکلوں سے بیان کیا ہے اور اس سے عام طور پر دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، ایک تو انسان کی بے حقیقتی کی طرف کہ مٹی سے پیدا ہونے والی مخلوق کو اپنی ہستی پر زیادہ مغرور نہیں ہونا چاہیے، دوسرے مرنے کے بعد پیدا کیے جانے پر کہ جب انسان کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا اور اس پیدا کرنے میں اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو اب دوبارہ اس کے پیدا کرنے سے وہ کیوں عاجز رہے گا۔ یہاں اسی دوسری حقیقت کو واضح کرنے کے لیے اس کا ذکر ہوا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے: وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُہُمْ ءَ اِذَا کُنَّا تُرَابًا ءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۔(۵۔ الرعد) (اور اگر تم تعجب کرنا چاہو تو نہایت ہی عجیب ہے ان کی یہ بات کہ جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا دوبارہ نئی خلقت میں آئیں گے!) کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗط وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ۔(۱۰۴۔ انبیا) (جس طرح ہم نے پہلی بار مٹی سے بنایا اسی طرح مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ اس کو پیدا کر دیں گے، یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے، یہ ہم کر کے رہیں گے) وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ۔(۲۷۔ روم) (اور وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اعادہ اس کے لیے سہل ہے) ’اجل‘ کے مختلف مفہوم: ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً، ’اجل‘ کے معنی مدت مقررہ کے ہیں۔ ’اجل‘ یا ’اَجَلٌ مُّسَمَّی‘ کا لفظ فرد یا اقوام کے تعلق سے مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک تو اس مدت حیات کے لیے جو ہر فرد کو تقدیر کی طرف سے ملی ہے، دوسرے اس روز بعث کے لیے استعمال ہوا ہے جو کسی قوم کی ہلاکت کے لیے مقرر ہے۔ پہلے معنی کے لیے نظیر آیت زیربحث میں بھی ہے اور اسی سورہ کی آیت ۶۰ میں بھی۔ فرمایا ہے: وَھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔(۶۰) (اور وہی خدا ہے جو تمھیں وفات دیتا ہے شب میں اور وہ جاتنا ہوتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کیا ہوتا ہے، پھر وہ تم کو دوسرے دن اٹھاتا ہے تاکہ تمھاری مقررہ مدت پوری کی جائے، پھر اسی کی طرف تمھارا لوٹنا ہوگا، پھر وہ تم کو آگاہ کرے گا ان سارے کاموں سے جو تم کرتے رہے ہو) دوسرے معنی کے لیے نظیر آیت زیر بحث میں ہے۔ اس میں ’اجل‘ کا ذکر دو مرتبہ ہے۔ ایک اجل تو ظاہر ہے کہ وہی ہے جو ہر فرد کی مدت حیات کے طور پر مقرر ہے، دوسری ’اجل‘ جس کے ساتھ ’مُسَمَّی‘ کی صفت لگی ہوئی ہے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے وہ مدت مقررہ مراد ہے جو خلق کے اُٹھائے جانے کے لیے مقرر ہے۔ تیسرے معنی کے لیے نظیر آیت لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌج فَاِذَا جَآءَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ۔ (۳۴۔ اعراف)، اور اس مضمون کی دوسری آیات میں ہے۔ اس ’اجل‘ سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وہ مقررہ پیمانہ مراد ہے جو کسی قوم کے اخلاقی زوال کی اس آخری حد کی خبر دیتا ہے جب قانون الٰہی اس کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ پیمانہ افراد کی مدت حیات کی طرح نہیں ہے کہ کوئی نیک ہو یا بد، جو مدت حیات اس کے لیے مقرر ہے اس کے ختم ہو جانے پر وہ لازماً مر جاتا ہے بلکہ یہ اخلاقی قوانین کے تابع ہے، جب تک کوئی قوم اپنے ایمان و کردار کو محفوظ رکھے گی خدا اس کو قائم رکھے گا، یہاں تک کہ وہ اجل مسمّی آجائے جو اس پوری کائنات کے لیے خدا کی طرف سے مقرر ہے۔ اس پیمانہ کے اخلاقی ہونے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک قوم کا پیمانہ لبریز ہونے کی آخری حد پر پہنچ رہا ہو اور اس کی اجل مسمّی آئی کھڑی ہو لیکن سوئی کے آخری نقطہ پر پہنچنے سے پہلے ہی وہ قوم توبہ اور اصلاح کے ذریعہ سے اپنے زندہ رہنے کا حق پھر بحال کر لے۔ یہاں ہم اشارے پر کفایت کرتے ہیں انشاء اللہ سورۂ نوح کی تفسیر میں اس نکتہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔ ’امتراء‘، ’مری‘ سے ہے جس کے معنی متھنے، مسلنے، نچوڑنے کے ہیں ’امتری اللبن‘ کے معنی ہوں گے اس نے تھن سے دودھ نچوڑا۔ یہیں سے یہ لفظ اس بحث و جدال کے لیے استعمال ہوا جس میں کوئی کٹ حجتی کرنے والا مناظر اس بات میں سے بھی شک و اعتراض کا کوئی پہلو نکال ہی لے جس میں اعتراض و بحث کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہی خدا ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تمھیں بھی انکار نہیں۔ پھر ہر ایک کے لیے اس نے زندگی کی ایک مدت ٹھہرا دی۔ یہ نہیں ہے کہ جو پیدا ہوتا ہو وہ غیرفانی ہو کر پیدا ہوتا ہو، پھر اس میں کیا شک کی گنجائش ہے کہ جس خدا نے تمھیں مٹی سے بنایا وہ تمھیں دوبارہ اسی مٹی سے اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کے لیے اس نے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے جس میں کسی بحث و جدال کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن تم ہر بات میں کٹ حجتی کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہو۔  
    اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور وہی زمین میں بھی۔ وہ تمھارے خفیہ اور علانیہ کو جانتا ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو اسے بھی جانتا ہے۔
    ’وَہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وِفِی الْاَرْضِ الایۃ‘ یعنی زمین و آسمان میں الگ الگ الٰہ نہیں ہیں بلکہ وہی اللہ آسمان و زمین دونوں کا مالک ہے اور دونوں میں اسی کا حکم چل رہا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے: وَھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ۔ (۸۴۔ زخرف) (وہی ہے جو آسمان کا بھی معبود ہے اور وہی زمین کا بھی معبود ہے اور وہ علیم و حکیم ہے) آسمان و زمین دونوں کا قیام و بقا ہی اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک ہی خدا کا ارادہ کارفرما ہے۔ اگر ان کے اندر الگ الگ ارادے کارفرما ہوتے تو، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے، دونوں درہم برہم ہو جاتے۔ یہ مشرکین کے اس خیال کی تردید ہے کہ آسمان و زمین کا خالق تو خدا ہی ہے لیکن چونکہ زمین اس کی مملکت کا دور دراز حصہ ہے اس وجہ سے اس نے اس کا انتظام و انصرام اپنے دوسرے کارندوں کے سپرد کررکھا ہے۔ فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے۔ آسمان و زمین سب براہ راست اسی کے کنٹرول میں ہیں اور اس کا علم تمھارے ظاہر و باطن اور تمھارے قول و فعل ہر چیز پر محیط ہے اس وجہ سے اس کو اپنی اس مملکت میں کسی مددگار کی احتیاج بھی نہیں ہے۔ توحید اور معاد کا باہمی تعلق: توحید کا یہ مضمون اوپر قیامت والے مضمون کی تاکید ہے۔ یہ حقیقت قرآن میں بار بار واضح کی گئی ہے کہ قیامت کا ماننا اس لیے ضروری ہے کہ قیامت کو مانے بغیر یہ سارا کارخانہ ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتا ہے اور یہی بات اس صورت میں بھی لازم آتی ہے جب قیامت کے ساتھ شرک اور شفاعت باطل کی گنجائش تسلیم کر لی جائے۔ اس لیے کہ جب شرکا اپنے پرستاروں کو بہر صورت بخشوا لیں گے، جیسا کہ مشرکین کا دعویٰ ہے، خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں تو پھر قیامت کا آنا نہ آنا دونوں یکساں ہی رہا۔  
    اور نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔
    تکذیبِ حق کا انجام اور تاریخ کی شہادت: یعنی توحید اور قیامت کی ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش تو نہیں ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں اور اس طرح انھوں نے اس حق کو جھٹلا دیا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں ’حق‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن، پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرا رہا تھا لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ فرمایا کہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کے آثار کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔
    سو انھوں نے واضح حق کو بھی جُھٹلا دیا جب کہ وہ اُن کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں۔
    تکذیبِ حق کا انجام اور تاریخ کی شہادت: یعنی توحید اور قیامت کی ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش تو نہیں ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں اور اس طرح انھوں نے اس حق کو جھٹلا دیا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں ’حق‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن، پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرا رہا تھا لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ فرمایا کہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کے آثار کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔
    کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا جن کو ہم نے ملک میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی جو تم کو نہیں دی اور ہم نے اُن پر خوب مینہ برسائے اور نہریں جاری کیں جو ان کے نیچے بہتی تھیں، پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں اُٹھا کھڑی کیں۔
    یہ تاریخ کی شہادت پیش کی گئی ہے اوپر والے دعوے پر۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کو یہ غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کو بڑی قوت و شوکت حاصل ہے، ان کو ہلایا نہیں جا سکتا۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گزری ہیں جن کو ان سے زیادہ اقتدار حاصل ہوا، ان کو رزق و فضل میں سے بھی ان سے کہیں زیادہ حصہ ملا لیکن جب اُنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو خدا نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کے بعد ان کی جگہ دوسری قومیں اٹھا کھڑی کیں۔ یہاں تاریخ کا یہ حوالہ اجمال کے ساتھ آیا ہے۔ اس کی پوری تفصیل اعراف میں آئے گی جو اس سورہ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ ’سما‘ کا لفظ بادلوں کے لیے بھی آتا ہے۔ ’مِدْرَارًا‘ کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اور بارش کی کثرت رزق و فضل کی کثرت کی تعبیر ہے۔ ملاحظہ ہو سورۂ ہود آیت ۵۲ اور سورۂ نوح آیت ۱۱۔
    اور اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب اتارتے جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہوتی اور یہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے جب بھی یہ کفر کرنے والے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔
    خُوئے بدرا بہانہ بسیار: اوپر آیت ۴ میں قرآن سے ان کے اعراض کا جو ذکر فرمایا تو یہ ان کے ان مطالبات و اعتراضات کا جواب بھی دے دیا جو وہ اس اعراض کے لیے بطور بہانہ کے پیش کرتے تھے۔ مقصود اس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ یہ نہ خیال کرو کہ ان کے اعراض کے لیے فی الواقع کوئی عذر ہے، جو دور ہو جائے تو یہ قرآن کو مان لیں گے۔ نہیں، بات وہیں رہے گی جہاں اب ہے۔ یہ کوئی نہ کوئی نیا بہانہ تراش لیں گے اس لیے کہ نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انھیں معجزے نہیں دکھائے گئے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ اپنی خواہشوں کے خلاف کوئی بات ماننے کے لیے یہ تیار نہیں ہیں۔ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ الایۃ۔ یہ اس مطالبے کا جواب ہے جو اہل کتاب کی زبانی سورۂ نساء آیت ۱۵۴ میں نقل ہوا ہے۔ وہاں اس کا وہ جواب دیا ہے جو اہل کتاب کے لیے موزوں تھا۔ یہاں فرمایا کہ ان کے مطالبہ کے مطابق اگر فی الواقع ان پر لکھی لکھائی مابین الدفتین کتاب بھی اتار دی جاتی جب بھی یہ ایمان نہ لاتے بلکہ کہتے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
    اور یہ کہتے ہیں کہ اس پر علانیہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو بس معاملے کا فیصلہ ہی ہو جاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ ملتی۔
    معتبر ایمان کی شرط: وَقَالُوْا لَوْلَآاُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ الآیۃ۔ یہ ان کا ایک دوسرا مطالبہ اور اس کا جواب ہے۔ یہ مطالبہ بھی قرآن میں دوسری جگہ نقل ہوا ہے۔ یہ مطالبہ یہ تھا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر فرشتہ آتا ہے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو وہ فرشتہ یوں کیوں آتا ہے کہ صرف انھی کو نظر آتا ہے، کھلم کھلا ان کی نبوت کی منادی کرتا ہوا کیوں نظر نہیں آتا کہ سب دیکھیں اور سب سنیں۔ اس کا جواب یہ دیا کہ جب بات یہاں تک پہنچ جائے گی کہ فرشتے علانیہ اترنے لگیں تو پھر اللہ کا عذاب آ دھمکے گا۔ پھر ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ یہ اس سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے جو قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو غیب میں رہتے، آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے ان دلائل کی بنیاد پر لایا جائے، جن کی انبیاء دعوت دیتے ہیں نہ کہ وہ جو کشفِ حجاب اور حقائق کا بچشم سر مشاہدہ کر لینے کے بعد لایا جائے۔
    اور اگر ہم اس کو کوئی فرشتہ بناتے جب بھی آدمی ہی کی شکل میں بناتے تو جو گھپلا وہ پیدا کر رہے ہیں ہم اسی میں ان کو ڈال دیتے۔
    فرشتوں کو رسول بنا کر نہ بھیجنے کی مصالحت: وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا الایۃ یہ تیسرے مطالبے کا جواب ہے اور یہ بھی قرآن میں دوسری جگہ نقل ہوا ہے۔ مثلاً وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَآءَ ھُمُُ الْھُآٰی اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلًا۔(۹۴۔ اسراء) (اور ہدایت الٰہی کے آ جانے کے بعد لوگوں کو ایمان سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ انھوں نے اعتراض کیا کہ کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا) فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ یَّھْدُوْنَنَا فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ۔(۶۔ تغابن) (پس وہ بولے کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے، پس انھوں نے انکار کر دیا اور پیٹھ پھیر لی اور اللہ بھی ان سے بے نیاز ہو گیا) اس کا جواب یہ دیا کہ اگر رسول بالفرض فرشتہ ہی بھیجا جاتا جب بھی لازماً وہ آدمی ہی کی شکل و صورت میں ہوتا تو پھر وہی گھپلا پیش آ جاتا جو اب پیش آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی فرشتے کو رسول بنا کر نہ بھیجنا اس بنا پر نہیں ہے کہ خدا کے لیے یہ ناممکن تھا بلکہ اس بنا پر ہے کہ انسان فرشتوں کو فرشتوں کی شکل میں نہیں انسانوں ہی کی شکل میں دیکھ سکتے اور اسی صورت میں ان سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں تو جب وہ انسان ہی کے روپ میں آتا تو یہ پھر وہی اعتراض اٹھاتے جو اب اُٹھا رہے ہیں۔ مَا یَلْبِسُوْنَ سے یہاں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ بات نہیں ہے کہ فی الواقع یہ شبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ لوگ یہ شبہ پیدا کر رہے ہیں تاکہ اس طرح اپنے سادہ لوح پیرووں کو گھپلے میں ڈالیں۔ لَبَسْنَا میں فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف جو منسوب فرمایا ہے تو یہ نسبت اسی طرح کی ہے جس طرح کی نسبت فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ میں ہے۔  
    اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آ گھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
    ’حَاق یَحیْقُ حِیْقًا بِہٖ‘ کے معنی ہیں احاطہ کر لینا، گھیر لینا اور چھا جانا۔ اوپر آیت ۵ میں قریش کو یہ دھمکی جو دی ہے کہ وہ ایک امر حق کا مذاق اڑا رہے ہیں جو شدنی اور اٹل ہے، وہ عنقریب اس عذاب کے آثار دیکھ لیں گے جس کی ہنسی اڑا رہے ہیں۔ اب یہ اس امر واقعی کی ان شہادتوں اور مثالوں کی طرف اشارہ فرمایا جو خود ان کی تاریخ اور ان کے ملک کے آثار میں موجود ہیں کہ تم سے پہلے جو رسول آئے انھوں نے بھی اپنی اپنی قوموں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا تو ان کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ بالآخر اس عذاب نے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور وہ تباہ ہو گئیں۔
    کہو، ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
    قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ الایۃ یہ اشارہ ہے خود ملک عرب کی طرف کہ اگر اس نگاہ سے اپنے ملک کے حالات و آثار کا مشاہدہ کرو تو تمھیں اس میں رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کی تباہی کے بہت سے آثار ملیں گے۔ یہاں صرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے۔ بعد والی سورہ میں اس اجمال کی تفصیل آئے گی۔ وہاں قوم نوح، عاد، ثمود، مدین، قوم لوط وغیرہ کی سرگزشتیں سنائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قوموں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کے انذار کا مذاق اڑایا اور اس عذاب کو انھوں نے محض خالی خولی دھمکی سمجھا جس کی رسول نے خبر دی۔ بالآخر وہ واقعہ کی شکل میں نمودار ہو گیا اور مذاق اڑانے والوں کا بیڑا غرق ہوگیا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List