Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المائدہ (The Table Spread, The Table)

    120 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    یہ سورہ، جیسا کہ مقدمۂ کتاب میں واضح ہو چکا ہے، پہلے گروپ کی آخری سورہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے، آخری امت کی حیثیت سے، اپنی آخری اور کامل شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ قائم رہنے اور اس کو قائم کرنے کا عہد و پیمان لیا ہے۔ اس سے پہلے یہ عہد و پیمان اہل کتاب سے لیا گیا تھا لیکن وہ، جیسا کہ پچھلی سورتوں سے واضح ہوا، اس کے اہل ثابت نہ ہوئے اس وجہ سے معزول کیے گئے اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دی اور اس کو اپنی آخری اور مکمل شریعت کا حامل اور امین بنایا۔ اب اس سورہ (مائدہ) میں عہد و پیمان لیا جا رہا ہے کہ تم پچھلی امتوں کی طرح خدا کی شریعت کے معاملے میں خائن اور غدار نہ بن جانا بلکہ پوری وفاداری اور کامل استواری کے ساتھ اس عہد کو نباہنا، اس پر خود بھی قائم رہنا ، دوسروں کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کرنا اور اس راہ میں پوری عزیمت و پا مردی کے ساتھ تمام آزمائشوں اور تمام خطرات کا مقابلہ کرنا۔

  • المائدہ (The Table Spread, The Table)

    120 آیات | مدنی
    النساء ——- المائدہ
    ۴ ——- ۵

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس امت کے لیے صالح معاشرت کی اساسات واضح کی گئی ہیں، دوسری سورہ میں اُسی پر اتمام نعمت اور اُس کے ساتھ اللہ کے آخری عہدوپیمان کا بیان ہے۔ اِن میں خطاب اگرچہ اہل کتاب سے بھی ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ بقرہ و آل عمران کی طرح یہ بھی ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہوچکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ —- النساء کا موضوع امت مسلمہ کے لیے صالح معاشرت کی اساسات اور اُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

    دوسری سورہ —- المائدۃ کا موضوع اِس امت پر اتمام نعمت اور اِس کے ساتھ اللہ، پروردگار عالم کے آخری عہدوپیمان کا بیان ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 005 Verse 001 Chapter 005 Verse 002 Chapter 005 Verse 003 Chapter 005 Verse 004 Chapter 005 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    اے ایمان والو! اپنے عہد و پیمان پورے کرو۔ تمھارے لیے انعام کی قسم کے تمام چوپائے حلال ٹھہرائے گئے بجز ان کے جن کا حکم تم کو پڑھ کر سنایا جا رہا ہے۔ نہ جائز کرتے ہوئے شکار کو حالت احرام میں۔ اللہ حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے۔
    لفظ ’عقد‘ کا مفہوم اور اس کی وسعت: ’اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ‘۔ عقد کا لفظ عہد و میثاق کے الفاظ کے مقابل میں عام ہے۔ اس میں قول قرار، قسم اور کسی معاملے میں گواہی کی ذمہ داری سے لے کر اس عہد و میثاق تک، جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے، سب آ گیا۔ چنانچہ اس سورہ میں میثاق شریعت کی پوری تاریخ بھی اس کے تمام نتائج و عواقب کے ساتھ بیان ہوئی ہے، قسم اور شہادت کی ذمہ داریاں بھی واضح کی گئی ہیں۔ ’انعام‘ اور ’بہیمۃ‘ میں فرق: اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ، ’اَنْعَام‘ کا لفظ عربی میں بھیڑ بکری، اونٹ اور گائے بیل کے لیے معروف ہے۔ اس کی تصریح خود قرآن نے سورۂ انعام کی آیات ۱۴۳، ۱۴۴میں فرما دی ہے۔ ’بہیمہ‘ کا لفظ اس سے عام ہے۔ اس میں انعام کی نوع کے دوسرے چوپائے بھی داخل ہیں۔ ’انعام‘ کی طرف اس کی اضافت سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ اونٹ، گائے، بکری اور اس قبیل کے سارے ہی چوپائے، خواہ گھریلو ہوں یا وحشی، تمھارے لیے جائز ٹھہرائے گئے۔ ’’جائز ٹھہرائے گئے‘‘ سے مطلب یہ ہے کہ وہ پابندیاں جو تم نے اپنے اوہام کی بنا پر عائد کی ہیں وہ بھی ختم اور جو پچھلے صحیفوں کی روایات کی بنا پر تھیں وہ بھی کالعدم۔ ’اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ‘ یہ اشارہ ہے آگے آیت ۳ میں بیان کردہ حرمتوں کی طرف۔ حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اس کی اہمیت: ’غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ‘ یہ ان حرمتوں میں سب سے پہلی حرمت کا ذکر ہے۔ یعنی تمھارے لیے انعام کے قسم کے تمام چوپائے خواہ پالتو ہوں یا وحشی جائز ہیں بایں پابندی کہ حالتِ احرام میں شکار کو جائز کر لینے والے نہ بن جانا۔ اس کے حالیہ اسلوب بیان اور اس کے سب سے پہلے ذکر کرنے سے اس کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے جس کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تفصیل کی ضرورت ہے۔ ہم اوپر تمہیدی گفتگو میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ تکمیلی و اتمامی نوعیت کے بھی ہیں اور ان میں امتحان و آزمائش کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ اپنے اسی پہلو سے وہ اس سورہ کے لیے، جو سورۃ المیثاق ہے، موزوں قرار پائے ہیں۔ ان پر عہد لینے کے معنی ایک طرف تو یہ ہیں کہ پوری شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیا، دوسری طرف یہ کہ ان چیزوں پر عہد لے لیا گیا جو دوسری ملتوں کے لیے مزلۂ قدم ثابت ہو چکی تھیں۔ چنانچہ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ دونوں ہی پہلو ملحوظ ہیں۔ کھانے پینے کے باب میں یہاں جو حرمتیں اور حلتیں بیان ہوئیں ہیں وہ بالکل آخری نوعیت کی ہیں۔ اس سے پہلے اس باب کے بہت سے احکام بقرہ میں گزر چکے ہیں۔ بلکہ بقرہ سے بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ سو رۂ انعام میں بیان ہوئے ہیں جو ایک مکی سورہ ہے۔ ۱؂ صرف کچھ جزئیات و تفصیلات باقی رہ گئی تھیں جو اس سورہ میں بیان ہو گئی ہیں اور ان کے بعد یہ باب گویا بالکل مکمل ہو گیا ہے۔ یہ حقیقت آگے کی آیات سے خود اس قدر واضح ہو جائے گی کہ دلیل کی محتاج نہیں رہے گی۔ ابتلا و امتحان کے زاویہ سے دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ حالتِ احرام میں شکار کی ممانعت کا معاملہ بالکل اس حکم سے مشابہ ہے جو یہود کو سبت کے احترام سے متعلق دیا گیا تھا۔ ان کو سبت کے دن شکار کی ممانعت تھی لیکن وہ اس عہد کو نباہ نہ سکے بلکہ مختلف حیلے ایجاد کر کے انہوں نے اس کو جائز بنا لیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کر دی۔ سبت کے حکم سے اس کی مشابہت خود قرآن نے اسی سورہ میں آگے آیات ۹۳۔۹۶ میں واضح کر دی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اے ایمان والو، اپنے رب سے اس کی شریعت کی پابندی کا جو عہد و میثاق تم نے کیا ہے وہ پورا کرنا۔ تمھارے لیے انعام کی قسم کے تمام چوپائے، بجز ان کے جو آگے بیان کیے جا رہے ہیں، اس پابندی کے ساتھ حلال ٹھہرائے گئے کہ احرام کی حالت میں شکار نہ کرنا۔ آخر میں ’اِنَّ اللهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ‘ فرما کر اس حکم کے امتحانی پہلو کی طرف اشارہ فرما دیا کہ یہ حکم تمہاری وفاداری کی جانچ کے لیے ہے، اس میں مین میکھ نکالنے اور اس سے گریز و فرار کی راہیں نہ ڈھونڈنا۔ خدا جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور اس کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت ہی میں اس کے بندوں کے لیے مصلحت کا پہلو مخفی ہوتا ہے اس وجہ سے جب تک یہ عقیدہ دل میں مضبوط نہ ہو کہ خدا کو حکم دینے کا اختیار مطلق حاصل ہے اور اس کا ہر حکم بندوں ہی کی مصلحت کے لیے ہوتا ہے اس وقت تک سچی وفاداری کے ساتھ ان کی تعمیل نہیں ہو سکتی۔ ________ ۱؂ ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ آیت ۱۷۳ اور سورۂ انعام آیات۱۴۳۔۱۴۴۔
    اے ایمان والو! شعائر الٰہی کی بے حرمتی نہ کیجیو، نہ محترم مہینوں کی، نہ قربانیوں کی، نہ پٹے بندھے ہوئے نیاز کے جانوروں کی، نہ بیت اللہ کے عازمین کی، جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوش نودی کے طالب بن کر نکلتے ہیں۔ اور جب تم حالت احرام سے باہر آ جاؤ تو شکار کرو۔ اور کسی قوم کی دشمنی، کہ اس نے تمھیں مسجد حرام سے روکا ہے تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ تم نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرو، گناہ اور تعدی میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ سخت پاداش والا ہے۔
    شعائر کا احترام ظاہر و باطن دونوں پہلوؤں سے مطلوب ہے: ’لَا تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہِ‘ بقرہ آیت ۱۵۸ کے تحت ’شَعَآءِرَ اللّٰہِ‘ پر تفصیل کے ساتھ بحث ہو چکی ہے۔ شعائر کسی اہم دینی و روحانی حقیقت کے مظہر اور پیکر ہیں۔ ان میں اصل مقصود کی حیثیت تو ان روحانی و معنوی حقائق کی ہے جو ان مظاہر کے اندر مضمر ہیں اس لیے کہ ان حقائق ہی کا احساس دلانے کے لیے ان کو بطور نشان اور علامت کے مقرر کیا گیا ہے لیکن یہ مقرر کردہ خدا کے ہیں اس وجہ سے ان کے ظاہر و باطن دونوں کا یکساں احترام مطلوب ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کے احترام کے جو آداب و شرائط مقرر ہیں ان کی خلاف ورزی کرے یا جو چیزیں یا جو باتیں ان کے تعلق سے حرام ہیں ان کو جائز کرے۔ مثلاً چار مہینوں ۔۔۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب جو حج و عمرہ کے تعلق سے محترم مہینے قرار دیے گئے ہیں، ان میں لڑائی بھڑائی ممنوع ہے، اگر کوئی گروہ ان میں لڑائی چھیڑ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے ان حرام مہینوں کو اپنے لیے جائز کر لیا اور ان کی بے حرمتی کی۔ ’ہدی‘ اور ’قلائد‘ کا مفہوم: ’ھَدی‘ قربانی کے جانوروں کو کہتے ہیں جو بطور ہدیہ خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے بیت اللہ لے جائے جاتے ہیں۔ ’قَلَاءِد‘ یعنی قربانی اور نذر و نیاز کے وہ جانور جن کو تخصیص کے طور پر پٹے باندھ دیے گئے ہیں کہ پہچانے جائیں، کوئی ان سے تعرض نہ کرے۔ ہدی کے بعد قلائد کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کی نوعیت رکھتا ہے اور مقصود اس سے تعرض کی سنگینی کو واضح کرنا ہے کہ جن جانوروں کے گلے میں خدا کی تخصیص کے پٹے بندھ گئے ان پر حملہ خاض خدا کے گلے پر حملہ کرنا ہے۔ اسی طرح آمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَام کے ساتھ ’یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنْ رَبِّھِمْ وَرِضْوَانًا‘ کی صفت کا ذکر اس نہی کو موثر بنانے کے لیے ہے کہ جو اللہ کے بندے، خدا کے فضل اور اس کی خوش نودی کی تلاش میں گھر سے نکلے ہوں ان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہونا خود خدا کے تعرض کرنے کے مترادف ہے۔ دشمن کی دشمنی بھی توہین شعائر کے لیے دلیل جواز نہیں ہے: ’وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ‘ الایۃ ، ’شَنَاٰنُ‘ کے معنی بغض و عداوت کے ہیں اور ’لَا یَجْرِمَنَّکُمْ‘ کے معنی ہیں، تمھارے لیے سبب و محرک نہ بنے، تمھیں آمادہ نہ کرے۔ قوم سے مراد یہاں قریش ہیں اور اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، اس بغض و عداوت کے سبب کی تفصیل ہے۔ یعنی قریش نے تمھیں بیت اللہ سے روک کر ہر چند تمھارے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے لیکن اس چیز کا غم و غصہ بھی تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم شعائر الٰہی کے معاملے میں حدودِ الٰہی سے تجاوز کرو۔ ان کے عازمین حج کے قافلوں کو یا ان کے نذر و نیاز کے جانوروں کو کوئی گزند نہ پہنچاؤ۔ دوسروں کی انگیخت پر حدودِ الٰہی سے تجاوز تعاون علی الاثم ہے: ’وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی الایۃ‘ یہ اوپر والی بات ہی کی ایک دوسرے پہلو سے تاکید ہے یعنی جس گروہ کو اللہ نے دنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے اس کے لیے پسندیدہ روش یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں سے مشتعل ہو کر خود اسی طرح کی زیادتیاں کرنے لگے، وہ ایسا کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے گناہ اور زیادتی کے کام میں تعاون کیا اور شریروں نے برائی کی جو نیو جمائی اس پر اس نے بھی چند ردّے رکھ دیے، حالانکہ اس کا کام نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرنا تھا۔ ۱؂ اجزا کو سمجھ لینے کے بعد آیت کے مجموعی نظام پر ایک بار پھر نظر ڈال لیجیے۔ اوپر والی آیت میں حالت احرام میں شکار کی ممانعت فرمائی تھی کہ یہ چیز احرام کے تقدس اور اس کے درویشانہ مزاج کے خلاف نیز شعار الٰہی میں سے ایک شعیرہ کی توہین ہے۔ اب اسی تعلق سے تمام شعائر الٰہی کے احترام کی پہلے بحیثیت مجموعی تاکید فرمائی پھر چند مخصوص شعائر کا حوالہ دیا۔ پھر شکار کی ممانعت سے متعلق یہ واضح فرما دیا کہ اس کا تعلق صرف حالتِ احرام سے ہے۔ احرام سے باہر آ جانے کے بعد یہ ممانعت اٹھ جائے گی۔ پھر اس اشتعال انگیز سبب کا ذکر فرمایا جو اس وقت تازہ بتازہ موجود تھا۔ اندیشہ تھا کہ مسلمان اس سے مغلوب ہو کر کوئی ایسی بات کر گزریں جو احترامِ شعائر کے منافی ہو۔ قریش نے ان کو بیت اللہ کے حج و زیارت سے محروم کر رکھا تھا۔ یہ معاملہ نہایت نازک اور صبر آزما تھا اور اب کہ مسلمانوں نے سیاسی قوت حاصل کر لی تھی خاصا اندیشہ اس بات کا تھا کہ اس عہد کے احترام میں ان سے کوئی بے اعتدالی صادر ہو جائے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ان کو مزلۂ قدم سے ہوشیار کر دے کہ دوسروں کی زیادتیاں بھی ان کے لیے کسی زیادتی کا جواز فراہم نہیں کر سکتیں۔ وہ دنیا میں شعائر الٰہی کا احترام قائم کرنے اور نیکی اور تقویٰ کے علم بردار بن کر اٹھے ہیں۔ اس وجہ سے جب تک اپنے بچاؤ کی ضرورت مجبور نہ کر دے ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی قدم نیکی اور تقویٰ کے خلاف اٹھائیں۔ اس کے بعد نکتے کی بات یہ ارشاد ہوئی کہ دوسروں کے غلط رویے سے متاثر ہو کر انہی کی سی روش اختیار کر لینا درحقیقت ان کی برپا کی ہوئی بدی میں ان کے ساتھ تعاون کرنا ہے، اور یہ چیز اہل ایمان کے شایان شان نہیں ہے اہل ایمان کے شایان شان بات یہ ہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کریں۔ دشمن کے ہاتھوں بھی کوئی کام نیکی کا ہو رہا ہو تو اس میں مزاحم ہونے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ آخر میں شَدِیْدُ الْعِقَاب کا حوالہ دینے سے مقصود مسلمانوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ ہے کہ عہد الٰہی کی حرمت سخت سے سخت حالات میں بھی قائم رکھنی ہے۔ ورنہ یاد رکھو کہ جس خدا نے تم کو اپنے عہد و میثاق سے دنیا کی امامت کی سرفرازی بخشی ہے، اس کے ہاں نقض میثاق کی پاداش بھی بڑی ہی سخت ہے۔ ________ ۱؂ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں جس چیز سے روکا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے کے طرزِ عمل سے مشتعل ہو کر کوئی کام جارحانہ طور پر خود مسلمان بھی ایسا کر گزریں جو شعائر الٰہی کے احترام کے منافی ہو۔ اگر مسلمانوں کو اپنے تحفظ اور دفاع کے لیے مجبوراً کوئی قدم اٹھانا پڑے تو وہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ دفاعی جنگ اشہر حرم بلکہ عین حرم میں بھی لڑی جا سکتی ہے۔ بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
    تم پر مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا گیا جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو، جس کو کسی درندے نے کھایا ہو بجز اس کے جس کو تم نے ذبح کر لیا ہو اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کرو تیروں کے ذریعے سے۔ یہ سب باتیں فسق ہیں۔ اب یہ کافر تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے تو ان سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو، اب میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند فرمایا۔ پس جو بھوک میں مضطر ہو کر، بغیر گناہ کی طرف مائل ہوئے، کوئی حرام چیز کھا لے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
    ’میتۃ‘ کی تفصیل: مَیْتَۃ، دَم، لَحْمَ خِنْزِیْر اور ’مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ کا ذکر سورۂ بقرہ کی آیت ۱۷۳ کے تحت گزر چکا ہے۔ مُنْخَنِقَۃُ اس جانور کو کہتے ہیں جو گلا گھٹ کر مر جائے۔ مَوْقُوْذَۃُ جو چوٹ سے مر جائے۔ مثلاً کسی جانور پر دیوار گر پڑی یا وہ کسی ٹرک کے نیچے آ گیا۔ مُتَرَدِّیَۃُ جو اوپر سے نیچے گر کر مر جائے۔ نَطِیْحَۃ جو کسی جانور کی سینگ سے زخمی ہو کر مر جائے۔ مَآ اَکَلَ السَّبُعُ جس کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو۔ مذکورہ پانچوں چیزوں کا ذکر درحقیقت میتہ کی تفصیل کے طور پر ہوا ہے اور اس تفصیل سے گویا اس حکم کی تکمیل ہو گئی جو بقرہ اور اس سے پہلے انعام میں بیان ہو چکا ہے۔ اس تفصیل کی ضرورت اس لیے تھی کہ بعض ذہنوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ ایک مردار میں جو طبعی موت مرا ہو اور اس جانور میں جو کسی چوٹ یا کسی حادثہ کا شکار ہو کر اچانک مر گیا ہو، کچھ فرق ہونا چاہیے۔ چنانچہ یہ شبہ اس زمانے میں بھی بعض لوگ پیش کرتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ تو اسی کو بہانہ بنا کر گردن مروڑی ہوئی مرغی بھی جائز کر بیٹھے۔ قران کی اس تفصیل نے اس شبہے کو صاف کر دیا۔ تھان، استھان اور مزار پر قربانی کی ممانعت: وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ، نُصب تھان اور استھان کو کہتے ہیں۔ عرب میں ایسے تھان اور استھان بے شمار تھے جہاں دیویوں، دیوتاؤں، بھوتوں، جنوں کی خوش نودی کے لیے قربانیاں کی جاتی تھیں۔ قرآن نے اس قسم کے ذبیحے بھی حرام قرار دیے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ ان کے اندر حرمت مجرد با ارادۂ تقرب و خوش نودی، استھانوں پر ذبح کیے جانے ہی سے پیدا ہو جاتی ہے، اس سے بحث نہیں کہ ان پر نام اللہ کا لیا گیا ہے یا کسی غیر اللہ کا۔ اگر غیر اللہ کا نام لینے کے سبب سے ان کو حرمت لاحق ہوتی تو ان کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اوپر ’وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ کا ذکر گزر چکا ہے، وہ کافی تھا۔ ہمارے نزدیک اسی حکم میں وہ قربانیاں بھی داخل ہیں جو مزاروں اور قبروں پر پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں بھی صاحب مزار اور صاحب قبر کی خوش نودی مدنظر ہوتی ہے۔ ذبح کے وقت نام چاہے اللہ کا لیا جائے یا صاحب قبر و مزار کا، ان کی حرمت میں دخل نام کو نہیں بلکہ مقام کو حاصل ہے۔ ’استقسام بالازلام‘ کی نوعیت: ’وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ، ’اِسْتِقْسَام‘ کے معنی ہیں حصہ یا قسمت یا تقدیر معلوم کرنا۔ ’ازلام‘ جوئے یا فال کے تیروں کو کہتے ہیں۔ عرب میں فال کے تیروں کا بھی رواج تھا جن کے ذریعے سے وہ گوشت یا کسی چیز کے حصے حاصل کرتے تھے۔ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ’خمر و میسر‘ کے تحت بیان کر آئے ہیں کہ عرب شراب نوشی کی مجلسیں منعقد کرتے، شراب کے نشے میں جس کا اونٹ چاہتے ذبح کر دیتے، مالک کو منہ مانگے دام دے کر راضی کر لیتے پھر اس کے گوشت پر جوا کھیلتے۔ گوشت کی جو ڈھیریاں جیتتے جاتے ان کو بھونتے، کھاتے، کھلاتے اور شرابیں پیتے اور بسا اوقات اسی شغل بد مستی میں ایسے ایسے جھگڑے کھڑے کر لیتے کہ قبیلے کے قبیلے برسوں کے لیے آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے اور سینکڑوں جانیں اس کی نذرہوجاتیں ۔۔۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ یہاں ’اِسْتِقْسَام بِالْاَزْلَامِ‘ سے یہی دوسری صورت مراد ہے۔ ذٰلِکُمْ فِسْقٌ، ذٰلِکُمْ کا اشارہ اوپر ذکر کی ہوئی تمام چیزوں کی طرف ہے اور ’فسق‘ کا لفظ یہاں عام فقہی مفہوم میں نہیں ہے بلکہ قرآنی مفہوم میں ہے۔ قرآن میں یہ لفظ کھلی ہوئی نا فرمانی، سرکشی، کفر اور شرک سب کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ ابلیس کے متعلق ہے۔ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ۔ کفار سے معاشرتی انقطاع کا اعلان: اَلْیَوْمَ یَءِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ الایۃ، ’الیوم‘ سے مراد کوئی معین دن نہیں ہے بلکہ وہ زمانہ ہے جس میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ ہم تمہید میں اشارہ کر آئے ہیں کہ یہ سورہ تمام تر اسلام کے تکمیلی دور کے احکام و ہدایات پر مشتمل ہے۔ کفار کے اس دین سے مایوس ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اب تک تو وہ اس طمع خام میں مبتلا رہے ہیں کہ وہ اس کو یا تو مغلوب کر لیں گے یا ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر کوئی ایسا سمجھوتہ کرلیں گے کہ دونوں کا نباہ ہو سکے۔ لیکن اب ان کی اس طمع خام کا خاتمہ ہو گیا۔ اب انھوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ دونوں راہیں ایک دوسری سے اس طرح الگ الگ ہو گئی ہیں کہ اب ان کا کسی نقطۂ اتصال پر جمع ہونا بالکل ناممکن ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کے اشتراک کو معاشرتی ارتباط میں بڑا دخل ہوتا ہے۔ اگر صورت یہ پیدا ہو جائے کہ ایک کے ہاں جو چیزیں حلال و طیب ہوں دوسرے کے ہاں وہ خبیث و حرام قرار دے دی جائیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ دونوں میں مکمل معاشرتی انقطاع کا اعلان ہو گیا اور اب ان دونوں کے مل بیٹھنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ہے۔ قدرتی طور پر اس چیز نے ان کو اسلام اور مسلمانوں سے آخری درجے میں مایوس کر دیا۔ آخری مایوسی سے بعض مرتبہ آخری جھلاہٹ بھی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ مریض کا آخری سنبھالا ہوتی ہے جس کے بعد آخری ہچکی کے سوا کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وجہ سے قرآن نے فرمایا کہ اب ان سے اندیشہ ناک ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وہ زور لگائیں بھی تو ان میں دم کیا ہے۔ اب تم صرف مجھی سے ڈرو۔ ان کی کوئی پروا نہ کرو۔ تکمیل دین اور اتمامِ نعمت: ’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ‘ الایۃ۔ تکمیل دین سے مراد اصل دین کی تکمیل ہے اور اتمامِ نعمت سے مراد اس آخری شریعت کا اتمام ہے۔ جہاں تک اصل دین کا تعلق ہے اس کا آغاز تو حضرت آدمؑ سے ہوا ہے۔ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ، حالات اور حکمت الٰہی کے تقاضوں کے مطابق، مختلف انبیا و رسل پر یہ اترتا رہا یہاں تک کہ خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کامل ہو گیا۔ اس سے پہلے جو دین آئے وہ اسی دین کے اجزا تھے۔ ان کی حیثیت پورے دین کی نہیں تھی۔ پورے دین کی حیثیت صرف اسی دین کو حاصل ہے۔ اس حقیقت کے اشارات پچھلے آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہیں جن کے حوالے اس کتاب میں بھی گزر چکے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی اور اس قصر دین کے کونے کی آخری اینٹ ہیں۔ جہاں تک اس آخری امت پر اللہ کی نعمت کا تعلق ہے اس کا آغاز غارِ حرا کی پہلی وحی سے ہوا اور درجہ بدرجہ ۲۳ سال کی مدت میں اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کا اتمام فرمایا۔ چنانچہ اس مرحلے میں آ کر ایک طرف اللہ کا دین بھی اپنے کمال کو پہنچ گیا، دوسری طرف اس امت پر اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی پوری ہو گئی۔ اسی کا مجموعی نام اسلام ہے جو ہمیشہ سے اللہ کا دین ہے اور جو حضرت ابراہیم ؑ و حضرت اسمٰعیل ؑ کی وراثت کی حیثیت سے نبی امی اور ان کی امت کو منتقل ہوا، وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا میں اس دین کے لیے اللہ تعالیٰ کی اس پسندیدگی اور انتخاب کے اظہار سے بالواسطہ یہودیت اور نصرانیت کے لیے نا پسندیدگی کا اظہار بھی ہو گیا کہ وہ اللہ کے دین نہیں بلکہ دین سے انحراف کی مختلف شکلیں ہیں۔ اضطرار کی شرعی حد: ’فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ‘، مَخْمَصَۃ، کے معنی بھوک کے ہیں۔ بھوک سے مضطر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی بھوک کی ایسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے کہ موت یا حرام میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے سوا کوئی اور راہ بظاہر کھلی ہوئی باقی ہی نہ رہ جائے۔ ایسی حالت میں اس کو اجازت ہے کہ حرام چیزوں میں سے بھی کسی چیز سے فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ’غَیْرَ مُتَجَانِفٍ‘ کی قید اسی مضمون کو ظاہر کر رہی ہے جو دوسرے مقام میں ’غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ‘ سے ادا ہوا ہے۔ یعنی نہ تو دل سے چاہنے والا بنے اور نہ سدرمق کی حد سے آگے بڑھنے والا۔ ’مَخْمَصَۃ ‘کی قید سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جہاں دوسرے غذائی بدل موجود ہوں وہاں مجرد اس عذر پر کہ شرعی ذبیحہ کا گوشت میسر نہیں آتا، جیسا کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر ملکوں کا حال ہے، ناجائز کو جائز بنا لینے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ گوشت زندگی کے بقا کے لیے ناگزیر نہیں ہے۔ دوسری غذاؤں سے نہ صرف زندگی بلکہ صحت بھی نہایت اعلیٰ معیار پر قائم رکھی جا سکتی ہے۔ ’غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ‘ کی قید اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ رخصت بہرحال رخصت ہے اور حرام بہرشکل حرام ہے۔ نہ کوئی حرام چیز شیر مادر بن سکتی نہ رخصت کوئی ابدی پروانہ ہے۔ اس وجہ سے یہ بات کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رفع اضطرار کی حد سے آگے بڑھے۔ اگر ان پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شخص کسی حرام سے اپنی زندگی بچا لے گا تو اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اگر اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر اپنے حظ نفس کی راہیں کھولے گا تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہے، یہ اجازت اس کے لیے قیامت کے دن عذر خواہ نہیں بنے گی۔ اجزاء کی وضاحت کے بعد آیت کے مجموعی نظام پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہ ان حرمتوں کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جن کا پہلی آیت میں ’اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ‘ کے الفاظ سے حوالہ دیا گیا تھا۔ اس میں پہلے ان چیزوں کا ذکر ہوا جن کی حرمت پہلے بیان ہو چکی تھی، مزید تاکید اور تکمیل بحث کے طور پر ان کا یہاں بھی اعادہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ’میتہ‘ کی تفصیل فرمائی کہ جس طرح طبعی موت سے مرا ہوا جانور مردار ہے اسی طرح نا گہانی اور اتفاقی حوادث سے مرے ہوئے جانور بھی مردار ہیں۔ دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ اسی طرح کسی درندے کا پھاڑا ہوا جانور بھی مردار ہے الا آنکہ تم نے اس کو زندہ پایا ہو اور ذبح کر لیا ہو۔ اسی طرح کسی استھان پر پیش کی ہوئی قربانی اور جوئے کے ذریعے سے تقسیم کیا ہوا گوشت بھی حرام ہے۔ جس طرح غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کو شرک کی آلودگی سے حرمت لاحق ہو جاتی ہے اسی طرح غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کو شرک کی آلودگی سے حرمت لاحق ہو جاتی ہے اسی طرح غیر اللہ کی خوش نودی اور جوئے سے تعلق سے ان چیزوں کو حرمت لاحق ہو جاتی ہے۔ حرمتوں کا یہ اعلان چونکہ کفار سے کامل معاشرتی انقطاع کے اعلان کے مترادف تھا، اس وجہ سے فرمایا کہ اب کفار تم سے اور تمھارے دین سے مایوس ہو چکے ہیں۔ اب ان کے اندر یہ خم باقی نہیں رہا کہ تمھارے دین کو مغلوب کرنے یا اس کو کچھ نرم بنانے کا حوصلہ کریں۔ اب اگر وہ کچھ کریں گے بھی تو وہ بس مایوسی کا مظاہرہ ہو گا تو تم اس کی پروا نہ کرنا۔ صرف میری ہی پروا کرنا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو بشارت دی کہ اب اللہ کا دین بھی تکمیل کی حد کو پہنچا اور تمھاری شریعت بھی اتمام کی منزل کو پہنچی اور اسلام کو خدا نے تمھارے لیے دین کی حیثیت سے پسند فرمایا۔ آخر میں اضطرار کی حالت میں، حرام سے فائدہ اٹھا لینے کی جو رخصت ہے اس کا ذکر فرمایا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے ’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ الایۃ‘ حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ نازل تو اسی سلسلے میں حجتہ الوداع سے پہلے ہوئی ہے لیکن اس بشارت کا اعلان عام چونکہ حجتہ الوداع ہی کے موقع پر ہوا اس وجہ سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ اس کا نزول اسی موقع پر ہوا ہے۔
    وہ پوچھتے ہیں ان کے لیے کیا چیز حلال ٹھہرائی گئی ہے۔ کہو تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال ٹھہرائی گئی ہیں۔ اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے سدھایا ہے اس علم میں سے کچھ سکھا کر جو خدا نے تم کو سکھایا تو تم ان کے اس شکار میں سے کھاؤ جو وہ تمھارے لیے روک رکھیں اور ان پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔
    سدھائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار کا حکم: ’یَسْءَلُوْنَکَ مَا ذَآ اُحِلَّ لَھُمْ‘۔ سوال قرآن کے معروف اسلوب بیان کے مطابق اختصار کے ساتھ نقل ہوا ہے لیکن جواب بتا رہا ہے کہ سوال، سدھائے اور سکھلائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار سے متعلق ہے کہ اگر وہ شکار پکڑیں اور شکار ذبح کی نوبت آنے سے پہلے ہی دم توڑ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا ہو گا کہ اوپر والی آیت میں درندے کے پھاڑے ہوئے جانور کو صرف اس صورت میں جائز بتایا ہے جب اس کو زندہ حالت میں ذبح کر لیا جائے۔ تحریم و تحلیل کے باب میں ایک کلیہ: ’قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ‘۔ یہ جواب کا صرف ایک حصہ ہے جو ایک کلیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کا یہ بھی ایک اسلوب ہے کہ وہ کسی سوال کا جواب دیتا ہے تو اس کا آغاز بالعموم جامع بات سے کرتا ہے کہ جواب صرف سوال ہی تک محدود نہ رہ جائے بلکہ ایک وسیع دائرے میں سائل کی رہنمائی کرے۔ چنانچہ پہلے فرمایا کہ تمھارے لیے ’طیبات‘ حلال ہیں۔ ’طیبات‘ کا لفظ خبائث کا ضد ہے۔ ’طیبات‘ اچھی، ستھری اور پاکیزہ چیزوں کو کہتے ہیں۔ سوال چونکہ جانوروں سے متعلق ہے اس وجہ سے اس سے مراد وہ جانور ہوں گے جو اول تو خود اپنے مزاج، اپنی سرشت اور انسان کے لیے اپنی افادیت اور اپنے اثرات کے لحاظ سے اچھے اور پاکیزہ ہوں۔ ثانیاً ان کو اللہ کے نام پر ذبح کر لیا گیا ہو۔ اس طرح اس سے وہ تمام جانور نکل جائیں گے جو اپنے مزاج اور سرشت کے اعتبار سے انسان کے صالح مزاج سے مناسبت رکھنے والے نہ ہوں۔ مثلاً خنزیر، کتے، بندر، درندے اور شکاری پرندے وغیرہ۔ یا مزاج سے مناسبت رکھنے والے تو ہوں لیکن کسی خارجی سبب سے ان کے اندر خبیث و فساد پیدا ہو گیا ہو۔ مثلاً جانور مر گیا یا غیر اللہ کے نام پر یا کسی استھان پر اس کو ذبح کیا گیا ہو۔ یہ خبائث میں داخل ہیں۔ قرآن کے اس جواب سے یہ رہنمائی ملی کہ شکار کیے ہوئے جانوروں میں بھی حلال صرف طیبات ہیں۔ خبائث اس حلت سے خارج ہیں۔ ’وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ‘۔ جوارح، شکاری یا جانوروں کو کہتے ہیں، عام اس سے کہ وہ درندوں میں سے ہوں مثلاً کتے، شیر، چیتے وغیرہ یا پرندوں میں سے مثلاً باز اور شکرے وغیرہ۔ ’کلب‘ کتے کو کہتے ہیں۔ اسی سے ’تکلیب‘ بنا لیا ہے جس کے معنی کتے کو شکار کی ٹریننگ دینے کے ہیں۔ ابتداءً تو یہ لفظ اسی معنی کے لیے استعمال ہوا لیکن پھر اس کا استعمال شکاری جانوروں کی تربیت کے لیے عام ہو گیا، خواہ کتا ہو یا شکاری درندوں اور پرندوں میں سے کوئی اور جانور۔ تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ سے اس تربیت اور ٹریننگ کی نوعیت کا اظہار ہو رہا ہے کہ تم نے اس سلیقہ سے ان کو کچھ بتایا اور سکھایا ہو جو اللہ نے تم کو سکھایا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر تربیت میں مربی کے ذوق، اس کے پسند و نا پسند اور اس کے مقصد تربیت کی جھلک ہوتی ہے اور اس چیز کو جس طرح زیر تربیت انسان اپناتا ہے اسی طرح اپنی جبلی استعداد کے حد تک حیوانات بھی اپناتے ہیں۔ یہ چیز سدھائے ہوئے جانوروں کو دوسرے جانوروں سے بالکل الگ کر دیتی ہے اس وجہ سے ایک عام کتے کے شکار اور ایک سدھائے ہوئے کتے کے شکار میں فرق ایک امر فطری ہے۔ بلکہ ایک مسلمان کے تربیت کردہ کتے اور ایک عیسائی کے تربیت کردہ کتے کے میلان اور سلیقہ میں بھی فرق ہو جائے گا۔ میرے نزدیک ’تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ‘ کے الفاظ سے اسی خاص سلیقہ کی طرف اشارہ ہو رہا ہے جو کسی سدھائے ہوئے جانور کو اس کے مسلمان مربی سے ملتا ہے۔ اپنے اس سلیقہ کی وجہ سے یہ جانور اپنے مربی کا آلہ اور جارحہ بن جاتا ہے اور اس کا کیا ہوا شکار اس کے لیے اسی طرح طیب بن جاتا ہے جس طرح اس کے اپنے ہاتھ کا ذبیحہ۔ تربیت یافتہ جانور کی علامت: ’فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ‘، اِمْسَاک کے معنی روکنے اور تھامنے کے ہیں۔ جب اس کے ساتھ علیٰ آئے جیسا کہ ’اَمْسِکُ عَلَیْکَ زوجک‘ میں ہے تو اس کے اندر اختصاص کا مضمون بھی پیدا ہو جاتا ہے یعنی کسی شے کو کسی خاص کے لیے روک یا سینت رکھنا۔ اب یہ سوال کا اصل جواب ہے۔ فرمایا کہ اگر مذکورہ شرائط کے مطابق تربیت کیا ہوا جانور ہو تو اس کے کیے ہوئے شکاروں میں سے وہ شکار تمھارے لیے جائز ہو گا جو وہ خاص تمھارے لیے روک رکھے۔ چونکہ یہاں اختصاص کا مضمون پایا جاتا ہے اس وجہ سے میں ان لوگوں کے مذہب کو زیادہ قوی سمجھتا ہوں جو کہتے ہیں کہ شکاری جانور شکار میں سے کچھ کھا لے تو وہ شکار جائز نہ ہو گا۔ یہی بات بعض احادیث سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ میرے نزدیک اس معاملے میں درندے اور پرندے کے شکار کے درمیان فرق کرنے کی بھی کوئی قوی بنیاد نہیں ہے۔ اس حد تک تربیت جس طرح درندے قبول کر لیتے ہیں، تجربہ کار بتاتے ہیں کہ باز، عقاب، شاہین بھی قبول کر لیتے ہیں۔ ’وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ‘ کا مفہوم: ’وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ‘ میں ضمیر مجرور کے مرجع سے متعلق سلف سے تین قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ شکاری جانور کو چھوڑتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو، اس قول کے قائلین کے نزدیک مرجع وَمَا عَلَّمْتُمْ ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر شکار زندہ ہاتھ آ گیا ہو تو اس کو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کر لو۔ اس گروہ کے نزدیک مرجع ’مَآ اَمْسَکْن‘ ہے۔ تیسرایہ کہ اس شکار کو کھاتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔ ان لوگوں کے نزدیک اس کا تعلق ’فَکُلُوْا‘ سے ہے۔ ان میں سے پہلے قول کی تائید میں ایک حدیث ہے جو بخاری میں عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں اور کوئی دوسرا کتا بھی اس میں شریک بن جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اللہ کا نام اپنے کتے پر لیا ہے، دوسرے کتے پر نہیں لیا ہے۔ دوسرے قول میں یہ ضعف ہے کہ جب اوپر یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ درندے کا کھایا ہوا شکار اگر زندہ ہاتھ آ جائے تو اس کو ذبح کر کے کھا سکتے ہو تو تربیت یافتہ جانور کے شکار سے متعلق بعینہٖ اسی حکم کا اعادہ ایک بالکل غیر ضروری بات کا اعادہ ہے۔ تیسرے قول میں اس طرح کا کوئی ضعف یا اشکال اگرچہ نہیں ہے لیکن یہ بات عام آداب طعام سے تعلق رکھنے والی بات ہے، یہاں اس کا محل سمجھ میں نہیں آتا۔ شکار بادیہ نشین قوموں کی ایک معاشی ضرورت ہے: اس سوال اور اس کے جواب کی یہ اہمیت ملحوظ رہے کہ شکار عرب میں محض ایک شوقیہ تفریح نہیں تھا بلکہ ان کے ہاں اس کو معاش کے ایک اہم ذریعے کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی معاش کا انحصار تین چیزوں پر تھا۔ گلہ بانی، تجارت، شکار۔ اس معاشی اہمیت کے سبب سے ان کے ہاں شکاری جانوروں کی تربیت کا فن بھی کافی ترقی کر گیا تھا۔ امراء القیس جب اپنے شعروں میں اپنی کتیا کا ذکر کرتا ہے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کسی کتیا کا ذکر ہے یا کسی شعلہ صفت پُر فن قتالہ کا۔ اور یہ چیز کچھ عربوں ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کی تمام بادیہ نشین قوموں کی یہ مشترک خصوصیت ہے۔ اس وجہ سے حلت و حرمت کی اس بحث میں یہ سوال پیدا ہوا اور قرآن نے اس کا جواب دیا اور اس جواب سے یہ حقیقت نہایت واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے کہ حلت و حرمت اور پاکی و ناپاکی کے حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے شکار، فن شکار اور شکاری جانور ہر چیز کی اسلام نے عزت بڑھائی ہے۔ ایک تربیت پائے ہوئے درندے کی یہ عزت بڑھائی کہ اس کا پکڑا ہوا شکار اگر ذبح سے پہلے ہی دم توڑ دے جب بھی طیب ہے، اس فن تربیت کی عزت یہ بڑھائی کہ اس کو تعلیم الٰہی کا ایک جزو قرار دیا، اور یہ رہنمائی دی کہ کتوں اور درندوں کی تربیت کے معاملے میں بھی ایک مسلمان کو اپنے مخصوص اسلامی نقطۂ نظر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ گویا اسلام میں فن شکار بھی دوسروں کے فن شکار سے مختلف مزاج رکھتا ہے۔ آخر میں ’وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ‘ فرما کر اللہ کے مقرر کردہ حدود اور اس کے عہد و پیمان کے احترام کی یاد دہانی یہاں بھی فرما دی کہ شکار کی حرص و ہوس میں خدا کے حدود حلت و حرمت کو نہ بھول جانا ورنہ روز حساب بہت دور نہیں ہے۔ یہ یاد دہانی اس پہلو سے بھی بہت ضروری تھی کہ جب شکار معاشی ضرورت ہو تو اس میں بے احتیاطی کے بڑے امکانات ہیں۔
    اب تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور شریف عورتیں مسلمان عورتوں میں سے اور شریف عورتیں ان اہل کتاب میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی تمھارے لیے حلال ہیں بشرطیکہ ان کو قید نکاح میں لا کر ان کے مہر ان کو دو، نہ کہ بدکاری کرتے ہوئے اور آشنائی گانٹھتے ہوئے۔ اور جو ایمان کے ساتھ کفر کرے گا تو اس کا عمل ڈھے جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں ہو گا۔
    اس آیت میں کوئی مشکل لفظ یا مشکل ترکیب نہیں ہے۔ اس کے لیے تمام اجزاء پچھلی سورتوں میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ البتہ اس کا موقع محل اچھی طرح سمجھ لینے کا ہے۔ بریں خوان یغما چہ دشمن چہ دوست: یہ آیت اس انعام عام کا اعلان ہے جو خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعے سے تمام دنیا پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصا ہونے والا تھا۔ پچھلے صحیفوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے متعلق جو پیشین گوئیاں وارد ہیں اور جن میں سے بعض کا حوالہ بقرہ اور آل عمران کی تفسیر میں ہم دے چکے ہیں، ان میں یہ تصریح موجود ہے کہ جب آخری نبی آئیں گے تو اہل کتاب کو طیبات و خبائث سے متعلق خدا کے امر و نہی سے آگاہ کریں گے اور حلا ل و حرام کے باب میں ان تمام پابندیوں اور بیڑیوں سے ان کو آزاد کریں گے جو انھوں نے اپنے اوپر یا تو از خود عائد کر رکھی ہیں یا ان کی سرکشی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کر دی ہیں۔ قرآن مجید نے ان تمام پیشین گوئیوں کا حوالہ سورۂ اعراف میں ان الفاظ میں دیا ہے: اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسَوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ ز یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبآءِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ لا اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (الاعراف ۱۵۷:۷) ’’جو لوگ اس رسول، نبی امی کی پیروی کریں گے جس کو اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو جائز کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے اور ان سے ان کے اس بوجھ اور پابندیوں کو دور کرتا ہے جو ان پر تھیں تو جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی تائید و نصرت کریں گے اور اس روشنی کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتاری گئی، وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے۔‘‘ یہ انہی باتوں کا حوالہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ظہور میں آنے والی تھیں۔ چنانچہ آپ کے وجود باجود نے ان میں سے ایک ایک بات کی عملاً تصدیق فرما دی۔ آپ نے تمام طیب اور پاکیزہ چیزیں جائز کر دیں جن میں بعض یہود کے ہاں حرام تھیں، تمام خبیث چیزیں حرام ٹھہرائیں جن میں سے بعض یہود و نصاریٰ نے جائز بنا لی تھیں اور وہ تمام پابندیاں اور بیڑیاں ختم کر دیں جو انھوں نے یا تو از خود اپنے اوپر لادی تھیں یا ان کی ضد، سرکشی، کرپزی اور کٹ حجتی کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کی گئی تھیں۔ ۱؂  اس مرحلے میں آ کر چونکہ یہ کام مکمل ہو چکا تھا اور یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ اہل کتاب نے جو خبیث چیزیں جائز بنائی ہیں محض اپنی بدعت سے جائز بنائی ہیں اور جو طیب چیزیں ان پر حرام ہیں وہ محض ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر حرام ہیں، نبی امی کی بعثت کے بعد یہ پابندیاں ختم ہو گئیں تو مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ حرام و حلال اور خبیث و طیب کی اس وضاحت کے بعد اب تم اہل کتاب کا کھانا کھا سکتے ہو اس لیے کہ اب تمھارے لیے کسی خبیث سے آلودہ ہو جانے کا اندیشہ نہیں رہا اور ساتھ ہی اس بات کا بھی اعلان کر دیا گیا کہ تمھارا کھانا اہل کتاب کے لیے جائز ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق نبی امی کی بعثت کے بعد اب وہ تمام پابندیاں ختم ہو گئیں جو ان پر عائد تھیں۔ ایک سوال اور اس کا جواب: ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہود منتظر کب تھے کہ قرآن ان کے لیے مسلمانوں کے کھانے کے جائز ہونے کا اعلان کرے، پھر اس کا فائدہ کیا، یہ تو مفت کرم داشتن کے قسم کی بات ہوئی، اس کا جواب یہ ہے کہ یہود منتظر تو تھے اور منتظر ہوتے کیوں نہ جب کہ ان کے اپنے صحیفوں میں آخری نبی کی پیشین گوئی اس تصریح کے ساتھ موجود تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو تمام اصر و اغلال سے نجات دیں گے، لیکن اس نبی کی بعثت چونکہ ان کے حریفوں یعنی بنی اسمٰعیل کے اندر ہوئی اس وجہ سے جان بوجھ کر، جیسا کہ بقرہ اور آل عمران میں وضاحت ہو چکی ہے، وہ اس کی مخالفت کے درپے ہو گئے اور حسد میں انھوں نے اپنے آپ کو ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے محروم کر لیا جن کے سب سے پہلے حق دار وہی تھے۔ اگر وہ نبی امی پرایمان لاتے۔ پھر فرض کیجیے، بنی اسرائیل اس کے منتظرنہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ ان سے فرمایا تھا اس کو تو پورا ہونا تھا۔ ان سے جب یہ وعدہ تھا کہ آخری نبی کے ذریعے سے کھانے پینے کے معاملے میں وہ تمام پابندیاں ان سے اٹھا لی جائیں گی جو ان کی سرکشی کے سبب سے عائد ہوئی ہیں تو جب اس وعدے کے پورا کرنے کا وقت آیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا کھانا ان کے لیے جائز کر کے یہ وعدہ پورا کر دیا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے اس کی قدر نہیں کی تو یہ ان کی اپنی محرومی و بد قسمتی ہے۔ ان کی نالائقی کی وجہ سے آخر خدا اپنے وعدے کو کیوں فراموش کرتا؟ سورج چمکتا ہے خواہ کوئی اپنی آنکھیں بند رکھے یا کھلی رکھے۔ نسیم صبح اپنی عطر بیزیوں سے ہر مشامِ جان کو معطر کرنا چاہتی ہے اور اس کے فیض عام کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہر ایک کو فیض یاب کرے لیکن جو محروم القسمت اپنی ناک اور اپنے منہ بند کر لیتے ہیں وہ اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اسی طرح رب کریم نے جو سفرۂ نعمت اس امت کے ذریعے سے تمام دنیا کے آگے بچھانا چاہا تھا وہ بچھا دیا اور اس سے متمتع ہونے کی دعوت اہل کتاب کو بھی دے دی۔ انھوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ ان کی اپنی بد قسمتی ہے۔ اہل کتاب کا کھانا اسلامی حدودِ حلت و حرمت کی پابندی کے ساتھ جائز ہے: اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمانوں کو اہل کتاب کے کھانے پینے کی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت جو دی گئی ہے وہ اس وقت دی گئی ہے جب ان کو اس باب کی آخری ہدایات سے آگاہ کیا جا چکا ہے، جب حلال و حرام دونوں اچھی طرح واضح کر دیے گئے ہیں۔ جب اہل کتاب اور مشرکین دونوں کی بدعات کی تفصیل ان کو سنا دی گی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سارے اہتمام کا مقصد مسلمانوں کو یہ بتانا تھا کہ تم دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھو لیکن حلت و حرمت کے ان حدود کی پابندی کے ساتھ جو تمھارے لیے قائم کر دیے گئے ہیں۔ اس آیت میں ’الیوم‘ کا لفظ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اب تمھیں خبیث اور طیب کا پورا امتیاز حاصل ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے تمھیں یہ اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ خطرہ نہیں رہا کہ تم ان کے دسترخوان پر بیٹھ کر کسی حرام یا مشتبہ میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ ۲؂ کتابیات سے جوازِ نکاح کی شرط: اس کے بعد فرمایا کہ جس طرح تمھارے لیے شریف اور پاک دامن مسلمان عورتوں سے نکاح جائز ہے اسی طرح شریف اور پاک دامن کتابیات سے بھی نکاح جائز ہے۔ یہاں لفظ ’’مَحْصَنَات‘‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں تین معنوں میں آیا ہے اور ہم اس کے تینوں معنوں کی وضاحت دوسرے مقام میں کر چکے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد با عزت، شریف اور اچھے اخلاق کی عورتیں ہیں۔ یعنی یہ اجازت مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ یہ عورتیں بد چلن، پیشہ ور، آوارہ اور بد قوارہ نہ ہوں۔ جس طرح تمھارے لیے ان کے دسترخوان کی صرف طیبات جائز ہیں اسی طرح ان کی عورتوں میں سے صرف محصنات جائز ہیں۔ ہمارے سلف صالحین میں سے ایک گروہ نے دارالحرب اور دارالکفر میں کتابیات سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کے جواز کے لیے دارالاسلام ہونا بھی ایک شرط ہے۔ مجھے یہ قول بہت ہی قوی معلوم ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات انھوں نے فحوائے کلام سے مستنبط کی ہے۔ میں اس کے ماخذ کے لیے لفظ ’الیوم‘ کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت میں وقت کے حالات کو بھی دخل ہے۔ اوپر ’اَلْیَوْمَ یَءِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ اور ’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ‘ والی آیات بھی گزر چکی ہیں اور ’فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِ‘ بھی ارشاد ہو چکا ہے، جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس دور میں کفار کا دبدبہ ختم ہو چکا تھا اور مسلمان ایک ناقابل شکست طاقت بن چکے تھے۔ یہ اندیشہ نہیں تھا کہ ان کو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی تو وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا ہو کر تہذیب اور معاشرت اور اعمال و اخلاق میں ان سے متاثر ہوں گے۔ بلکہ توقع تھی کہ مسلمان ان سے نکاح کریں گے تو ان کو متاثر کریں گے اور اس راہ سے ان کتابیات کے عقائد و اعمال میں خوشگوار تبدیلی ہو گی اور عجب نہیں کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔ علاوہ ازیں یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے کہ کتابیات سے نکاح کی اجازت بہرحال علی سبیل التنزل دی گئی ہے۔ اس میں آدمی کے خود اپنے اور اس کے آل و اولاد اور خاندان کے دین و ایمان کے لیے جو خطرہ ہے، وہ مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مسلمان مردوں کو تو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی لیکن مسلمان عورت کو کسی صورت میں بھی کسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی گئی خواہ کتابی ہو یا غیر کتابی۔ یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اجازت صرف ایک اجازت ہے۔ یہ کوئی مستحسن چیز نہیں ہے۔ اگر ماحول اسلامی تہذیب و معاشرت کا ہو اور آدمی کسی نیک چال چلن کی کتابیہ سے نکاح کر لے تو اس میں مضائقہ نہیں لیکن کافرانہ ماحول میں جہاں کفر اور اہل کفر کا غلبہ ہو اس قسم کا نکاح چاہے اس آیت کے الفاظ کے خلاف نہ ہو لیکن اس کے فحویٰ، اس کی روح اور اس کے موقع و محل کے خلاف ضرور ہے۔ یہ بات یہاں چنداں یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام کے بہت سے قوانین دارالاسلام کی شرط کے ساتھ مشروط ہیں۔ اسی طرح بعض رخصتیں اور اجازتیں بھی خاص ماحول اور خاص حالات کے ساتھ مشروط ہیں۔ آگے اس سلسلے کی بعض اہم باتیں بیان ہوں گی۔ ’مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ‘ پر ہم تفصیل کے ساتھ سورۂ نساء کی آیات ۲۴-۲۵ کے تحت بحث کر چکے ہیں۔ ’کفر بالایمان‘ کا مطلب: ’وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ‘ کفر بالایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا اور رسول کو ماننے کا دعویٰ بھی کرے اور ساتھ ہی خدا اور رسول کے احکام کے صریح خلاف محض اپنی خواہشات کی ابتاع میں قانون و شریعت ایجاد کر کے اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ یہ وہی ایمان ہے جس کو قرآن نے ’نُوْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ کفر و ایمان دونوں کے اس ملغوبہ کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان صرف وہ معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کے شرائط پر ہے۔ جو لوگ اپنے شرائط پر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان ان مدعیان ایمان کے منہ پر پھینک مارا جائے گا اور اس قسم کے ایمان کے تحت کیے ہوئے سارے اعمال خدا کے ہاں ڈھے جائیں گے۔ اس پر پیچھے بھی بحث گزر چکی ہے۔ ________ ۱؂ اس کی تفصیل سورۂ انعام آیت ۱۴۶ کے تحت آ ئے گی۔ ۲؂ اہل کتاب کے ذبیحہ کے جواز کے لیے بھی کسوٹی یہی ہے جو یہاں بیان ہوئی ہے بلکہ اصلاً تو یہ بحث، جیسا کہ سیاق کلام سے واضح ہے، ذبیحہ ہی سے متعلق ہے۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List