Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النساء (The Women)

    176 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ اپنی سابق سورہ ۔۔۔ آلِ عمران ۔۔۔ کے بعد اس طرح شروع ہو گئی ہے کہ اس کے ابتدائی الفاظ ہی سے نمایاں ہو جاتا ہے کہ یہ آل عمران کا تکملہ و تتمہ ہے۔ آلِ عمران کی آخری اور نساء کی پہلی آیت پڑھیے تو معلوم ہو گا کہ جس اہم مضمون پر آلِ عمران ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے سورۂ نساء کی تمہید استوار ہوئی ہے۔ گویا آلِ عمران کے خاتمے اور نساء کے آغاز نے ایک حلقۂ اتصال کی صورت اختیار کر لی ہے۔ آل عمران کی آخری آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْاقف وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہے جس میں مسلمانوں کو فوز و فلاح کی راہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی حیثیت سے ثابت قدمی دکھائیں، آپس میں جڑے، دشمن کے مقابل میں ڈٹے اور خدا سے ڈرتے رہیں۔ اب اس سورہ کو دیکھئے تو اسی ’اِتَّقُوا اللّٰہ‘ کے مضمون سے شروع ہو گئی ہے۔ (یا یھا الناس اتقوا ربکم) اور آگے آپس میں جڑے رہنے اور مخالفین کے بالمقابل ثابت قدمی کے لیے جو باتیں ضروری ہیں وہ نہایت وضاحت و تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔۱؂

    ثابت قدمی، بالخصوص اجتماعی ثابت قدمی، بغیر مضبوط جماعتی اتصال کے ممکن نہیں ہے اور جماعتی اتصال کوئی اتفاق سے پیدا ہو جانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ بنیاد کا بھی محتاج ہے، مثبت تدابیر کا بھی متقاضی ہے اور اس کو ان فتنوں سے محفوظ رکھنے کی بھی ضرورت ہے جو اس کو درہم برہم کر سکتے ہوں۔ چنانچہ اس سورہ میں وہ ساری چیزیں بیان ہوئیں جو اسلامی معاشرہ اور اس کے فطری نتیجہ اسلامی حکومت کو مستحکم رکھنے اور اس کو انتشار سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔

    اس سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر بھی ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ اس کا آغاز اس حقیقت کے اظہار سے ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اس عقیدے پر قائم ہے کہ مرد اور عورت سب کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے، اسی نے سب کو ایک آدم و حوا سے وجود بخشا ہے۔ اس وجہ سے خدا اور رحم سب کے درمیان مشترک ہیں۔ اس کے بعد معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور عناصر یتیموں اور عورتوں کے حقوق معین فرمائے ہیں اور ان کو ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ پھر اسی تعلق سے وراثت کی تقسیم سے متعلق قانون کی وضاحت فرمائی ہے۔ پھر مسلمانوں کے باہمی حقوق و فرائض پر زور دیتے ہوئے اللہ، رسول اور اولوالامر کی اطاعت پر سب کو مجتمع و متفق رہنے کی تاکید فرمائی، اس لیے کہ اسی چیز پر اسلامی حکومت کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد تفصیل کے ساتھ منافقین کی قلعی کھولی ہے جو اسلامی معاشرے کے اندر ناسور کی حیثیت رکھتے تھے اور مسلمانوں کے اندر ان کے دشمنوں ۔۔۔ یہود و نصاریٰ ۔۔۔ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس روشنی میں غور کیجیے تو اس سورہ میں گویا اس ارتباط باہمی کی بنیادیں استوار کی گئی ہیں جس کی ہدایت پر سابق سورہ ختم ہوئی تھی۔

    _____
    ۱؂ سابق اور لاحق سورہ میں ربط کی یہ صورت صرف انہی دو سورتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد نہایت لطیف مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جو اپنے مواقع پر بیان ہوں گی۔

  • النساء (The Women)

    176 آیات | مدنی
    النساء ——- المائدہ
    ۴——- ۵

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس امت کے لیے صالح معاشرت کی اساسات واضح کی گئی ہیں، دوسری سورہ میں اُسی پر اتمام نعمت اور اُس کے ساتھ اللہ کے آخری عہدوپیمان کا بیان ہے۔ اِن میں خطاب اگرچہ اہل کتاب سے بھی ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ بقرہ و آل عمران کی طرح یہ بھی ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہوچکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔
    پہلی سورہ —- النساء —- کا موضوع امت مسلمہ کے لیے صالح معاشرت کی اساسات اور اُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔ دوسری سورہ —- المائدۃ —- کا موضوع اِس امت پر اتمام نعمت اور اِس کے ساتھ اللہ، پروردگار عالم کے آخری عہد و پیمان کا بیان ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 004 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    اے لوگو، اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اور ڈرو اُس اللہ سے جس کے واسطے سے تم باہمدگر طالب مدد ہوتے ہو اور ڈرو قطع رحم سے۔ بے شک اللہ تمھاری نگرانی کر رہا ہے۔
    خلق منھا زوجھا کا مفہوم: ’خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا‘ کے معنی ہیں اس کی جنس سے۔ اگرچہ اس کے معنی لوگوں نے اور بھی لیے ہیں لیکن جس بنیاد پر لیے ہیں وہ نہایت کمزور ہے۔ ہم نے جو معنی لیے ہیں اس کی تائید خود قرآن میں موجود ہے۔ سورۂ نحل میں فرمایا ہے وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا (۷۲) ظاہر ہے کہ اس کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں۔‘‘ اس کے یہ معنی کوئی بھی نہیں لے سکتا کہ یہ بیویاں ہر ایک کے اندر سے پیدا ہوئیں۔ ’تساء ل‘ کا مفہوم: ’تساء ل‘ کے معنی باہمدگر ایک دوسرے سے پوچھنے، سوال کرنے اورمانگنے کے ہیں۔ اسی سے ترقی کر کے ایک دوسرے سے طالب مدد ہونے کے معنی میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ سورۂ مومنون میں ہے فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَءِذٍ وَّلَا یَتَسَآءَ لُوْنَ (۱۰۱) (جب صور پھونکا جائے گا تو نہ ان کے نسبی تعلقات باقی رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے سے طلب مدد ہی کر سکیں گے.) ’ارحام‘ کا مفہوم: ’ارحام‘ سے مراد رحمی رشتے ہیں۔ اس کو ’اللہ ‘ پر عطف کر کے اس کی وہ اہمیت واضح فرمائی ہے جو دین میں اس کی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ خدا کے بعد پہلی چیز جو تقویٰ اور احترام کی سزاوار ہے وہ رشتۂ رحم اور اس کے حقوق ہیں۔ خدا سب کا خالق ہے اور رحم سب کے وجود میں آنے کا واسطہ اور ذریعہ ہے اس وجہ سے خدا اور رحم کے حقوق سب پر واجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بنیاد پر رحم کا یہ درجہ رکھا ہے کہ جو اس کو جوڑتا ہے خدا اس سے جڑتا ہے اور جو اس کو کاٹتا ہے خدا اس سے کٹتا ہے۔ یہ بات ایک حدیث قدسی سے بھی ثابت ہے اور یہی بات قرآن سے بھی نکلتی ہے۔ معاشرہ کی تنظیم سے متعلق بنیادی حقائق: زیر بحث آیت ایک جامع تمہید ہے ان تمام احکامات و ہدایات کے لیے جو انسانی معاشرہ کی تنظیم کے لیے اللہ تعالیٰ نے اتارے ہیں اور جو آگے آ رہے ہیں۔ اس تمہید میں جو باتیں بنیادی حقائق کی حیثیت سے واضح کی گئی ہیں ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس آیت میں جس تقویٰ کی ہدایت کی گئی ہے اس کا ایک خاص موقع و محل ہے۔ اس تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ یہ خلق آپ سے آپ وجود میں نہیں آ گئی ہے بلکہ خدا کی پیدا کی ہوئی ہے جو سب کا خالق بھی ہے اور سب کا رب بھی۔ اس وجہ سے کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو ایک بے مالک اور بے راعی کا ایک آوارہ گلہ سمجھ کر اس میں دھاندلی مچائے اور اس کو اپنے ظلم و تعدی کا نشانہ بنائے بلکہ ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اس کے معاملات میں انصاف اور رحم کی روش اختیار کرے ورنہ یاد رکھے کہ خدا بڑا زور آور اور بڑا منتقم و قہار ہے۔ جو اس کی مخلوق کے معاملات میں دھاندلی مچائیں گے وہ اس کے قہر و غضب سے نہ بچ سکیں گے۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔ دوسری یہ کہ تم نسل انسانی ایک ہی آدم کا گھرانا ہے۔ سب کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آدمؑ و حوا کی نسل سے پیدا کیا ہے۔ نسل آدم ہونے کے اعتبار سے سب برابر ہیں۔ اس پہلو سے عربی و عجمی، احمر و اسود اور افریقی و ایشیائی میں کوئی فرق نہیں، سب خدا کی مخلوق اور سب آدمؑ کی اولاد ہیں۔ خدا اور رحم کا رشتہ سب کے درمیان مشترک ہے۔ اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ سب ایک ہی خدا کی بندگی کرنے والے اورایک ہی مشترک گھرانے کے افراد کی طرح آپس میں حق و انصاف اور مہر و محبت کے تعلقات رکھنے والے بن کر زندگی بسر کریں۔ تیسری یہ کہ جس طرح آدمؑ تمام نسل انسانی کے باپ ہیں اسی طرح حوا تمام نسلِ انسانی کی ماں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدمؑ ہی کی جنس سے بنایا ہے اس وجہ سے عورت کوئی ذلیل، حقیر، فروتر اور فطری گنہگار مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ بھی شرف انسانیت میں برابر کی شریک ہے۔ اس کو حقیر و ذلیل مخلوق سمجھ کر نہ اس کو حقوق سے محروم کیا جا سکتا نہ کمزور خیال کر کے اس کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ چوتھی یہ کہ خدا اور رحم کا واسطہ ہمیشہ سے باہمی تعاون و ہمدردی کا محرک رہا ہے۔ جس کو بھی کسی مشکل یا خطرے سے سابقہ پیش آتا ہے وہ اس میں دوسروں سے خدا او ر رحم کا واسطہ دے کر اپیل کرتا ہے اور یہ اپیل چونکہ فطرت پر مبنی ہے اس وجہ سے اکثر حالات میں یہ موثر بھی ہوتی ہے۔ لیکن خدا اور رحم کے نام پر حق مانگنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح ان واسطوں پر حق مانگنا حق ہے اسی طرح ان کا حق ادا کرنا بھی فرض ہے۔ جو شخص خدا اور رحم کے نام پر لینے کے لیے تو چوکس ہے لیکن دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے وہ خدا سے دھوکا بازی اور رحم سے بے وفائی کا مجرم ہے اور اس جرم کا ارتکاب وہی کر سکتا ہے جس کا دل تقویٰ کی روح سے خالی ہو۔ خدا اور رحم کے حقوق پہچاننے والے جس طرح ان ناموں سے فائدے اٹھاتے ہیں اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی اٹھاتے ہیں اور درحقیقت حق طلبی و حق شناسی کا یہی توازن ہے جو صحیح اسلامی معاشرے کا اصلی جمال ہے۔ اسی حقیقت کی طرف وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ کا ٹکڑا اشارہ کر رہا ہے۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List