Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • آل عمران (The Family of Imran)

    200 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    مندرجہ ذیل پہلوؤں سے یہ سورہ سابق سورہ (بقرہ) سے نہایت گہرا ربط رکھتی ہے۔

    ۱۔ ان دونوں کا موضوع ایک ہی ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اثبات۔ لوگوں پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصاً۔

    ۲۔ دونوں میں یکساں شرح و بسط کے ساتھ دین کی اصولی باتوں پر بحث ہوئی ہے۔

    ۳۔ دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی ہے۔ یعنی الٓمٓ۔

    ۴۔ دونوں شکلاً بھی ایک ہی تنے سے پھوٹی ہوئی دو بڑی بڑی شاخوں کی طرح نظر آتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو شمس و قمر سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حشر کے دن دو بدلیوں کی صورت میں ظاہر ہوں گی۔ اہل بصیرت سمجھ سکتے ہیں کہ وصف اور تمثیل میں یہ اشتراک بغیر کسی گہری مناسبت کے نہیں ہو سکتا۔

    ۵۔ دونوں میں زوجین کی سی نسبت ہے۔ ایک میں جو بات مجمل بیان ہوئی ہے، دوسری میں اس کی تفصیل بیان ہو گئی ہے۔ اسی طرح ایک میں جو خلا رہ گیا ہے، دوسری نے اس کو پر کر دیا ہے۔ گویا دونوں مل کر ایک اعلیٰ مقصد کو اس کی مکمل شکل میں نہایت خوب صورتی کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔

  • آل عمران (The Family of Imran)

    200 آیات | مدنی
    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 003 Verse 001 Chapter 003 Verse 002 Chapter 003 Verse 003 Chapter 003 Verse 004 Chapter 003 Verse 005 Chapter 003 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الٓمّٓ ہے۔
    سورۂ بقرہ کی تفسیر میں حروف مقطعات پر ایک جامع بحث ہم کر چکے ہیں۔ وہاں ہم نے اس باب میں استاذ امام مولانا فراہی رحمتہ اللہ علیہ کا نقطہ نظر بھی پیش کر دیا ہے ۔ اس کے سوا کوئی نئی چیز اس سلسلے میں ہمارے سامنے ایسی نہیں آئی جو یہاں قابل ذکر ہو۔
    اللہ ہی معبود ہے، نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی، زندہ اور قائم رکھنے والا۔
    اس آیت میں جو اسمائے حسنی مذکور ہیں سب کی تحقیق گزر چکی ہے۔ بعض کی تفسیر سورۂ فاتحہ میں، بعض کی سورہ بقرہ میں۔ صفات حیات و قیومیت کے اسرار و مقتضیات: یہ امر، جیسا کہ ہم تمھید میں اشارہ کر چکے ہیں، ملحوظ رہے کہ اس سورہ میں استدلال بیشتر صفاتِ الٰہی سے ہے۔ صفات الٰہی میں سب سے پہلے صفاتِ حیات و قیومیت کو لیا ہے۔ ان دونوں صفتوں کے اسرار و حقائق پر ہم آیت الکرسی کے اسرار و حقائق میں گفتگو کر چکے ہیں۔ یہاں ان کا اعادہ باعث طوالت ہو گا۔ یہاں موقع کلام کی مناسبت سے ان صفات کا حوالہ کتابِ الٰہی کی ضرورت کے اثبات کے پہلو سے ہے۔ چنانچہ بعد کی آیات سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ایک زندہ خدا ہے تو ناگزیر ہے کہ وہ سب کچھ دیکھتا سنتا ہے، ہماری دعائیں، فریادیں اس تک پہنچتی ہیں ہمارے اعمال و افعال اس کی نظر میں ہیں۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ ہماری دعائیں اپنی حکمت کے مطابق قبول فرماتا ہے اور ہمارے اعمال پر وہ ایک دن جزا اور سزا بھی دے گا۔ پھر ایک قدم اور آگے بڑھ کر اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ بندے اپنی زندگی میں وہ رویہ اختیار کریں جو اسے پسند ہو۔ یہ چیز اس بات کی مقتضی ہے کہ بندوں میں اس بات کی جستجو ہو کہ کون سے اعمال خدا کو پسند ہیں، کون سے ناپسند، تاکہ وہ اس کی اطاعت و ہدایت کی راہ اختیار کر کے سعادت کا مقام حاصل کر سکیں اور حقیقی زندگی کے چشمۂ حیواں سے فیض یاب ہو سکیں۔ اہل کتاب ’’خداوند خدا، زندہ خدا‘‘ کی تعبیر سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ ان کے انبیا کے صحیفوں میں بکثرت یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ جہاں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے علم اور اس کی غیرت کا اظہار ہوا ہے بالعموم اس کے لیے ’’زندہ خدا‘‘ ہی کی تعبیر ہوئی ہے۔ نصاریٰ اگرچہ اپنے زعم کے مطابق ایک مصلوب خدا کی پرستش کرتے ہیں لیکن وہ بھی ’’زندہ خدا‘‘ کی تعبیر سے نا آشنا نہیں تھے۔ اس وجہ سے یہ بات بداہتہً ان کے خلاف جاتی ہے کہ ایک طرف تو وہ زندہ خدا کا تصور رکھتے ہیں اور دوسری طرف اس کا مصلوب ہونا بھی مانتے ہیں۔ اسی طرح ’’قیوم‘‘ کی صفت بھی انبیا کے صحیفوں میں بار بار مذکور ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قیوم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اللہ ہی کے حکم اور اس کی قدرت سے قائم ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی ان بدیہی صفات میں سے ہے جن پر عقلاً بھی ایمان لانا ضروری ہے اور انبیا کے صحیفوں کی رو سے بھی۔ نصاریٰ بھی ان صحیفوں پر ایمان کے مدعی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ حضرت مسیحؑ کی الوہیت کے قائل ہیں۔ اگر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ جب تم خود اقرار کرتے ہوکہ حضرت مسیح بھوک پیاس محسوس کرتے تھے، غذا اور پانی کے محتاج تھے، بغیر ان چیزوں کے وہ اپنی ہستی کو قائم رکھنے پر قادر نہ تھے تو پھر وہ خدا کس طرح ہوئے، جب کہ خدا کے لیے تمھارے اپنے انبیا کے ارشاد کے بموجب قیوم ہونا صروری ہے؟ یا یہ سوال کیا جائے کہ جب تمھاری اپنی انجیلوں سے ثابت ہے کہ حضرت مسیحؑ مصائب و شداید پیش آنے پر روئے، ان کا دل تنگ ہوا اور سولی پر انھوں نے فریاد کی تو پھر وہ آسمان و زمین کے تھامنے والے اور قائم رکھنے والے کیسے ہوسکتے ہیں؟ تو ان سوالوں کے جواب میں ان کے پاس ضد اور کٹ حجتی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہاں قیوم کی صفت کا حوالہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قیوم ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ہمیں ہدایت بخشے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ واحد، ہمارا پروردگار، جس طرح ہمارا پیدا کرنے والا اور ہمیں زندگی بخشنے والا ہے اسی طرح وہ، جیسا کہ آیت الکرسی میں ارشاد ہوا، اپنی خلق کو قائم رکھنے والا بھی ہے اور اس کے لیے اس نے ہر قسم کے اسباب و وسائل پیدا کیے ہیں۔ پھر جب اس نے ہماری معیشت کے لیے یہ کچھ سامان کیے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ہماری اجتماعی زندگی کے لیے وہ چیز نہ دے جو ہمارے قیام و بقا کی ضامن ہو سکے درآنحالیکہ یہ چیز ہماری خلقت کی اصل غایت ہے۔ چنانچہ یہی چیز قیام عدل و قسط کی اصل اور اللہ کی طرف سے شرائع و احکام کے نزول کی بنیاد بنی اس لیے کہ اس کے بغیر فطرتِ انسانی ارتقا کے اس درجے کو حاصل نہیں کر سکتی تھی جو اس کے وجود کے اندر مضمر ہے۔ یہ قیومیت اس بات کی بھی مقتضی ہوئی کہ خدائے قیوم و کارساز اس امر کی بھی نگرانی رکھے کہ جب بندے اپنی خود مختاری اور سرکشی سے کام لے کر اس کے نظامِ عدل کو بالکل مٹا دینے کی کوشش کریں تو وہ اپنے ایسے بندوں کو بھی اٹھاتا رہے جو اس کو ازسرِ نو بحال کرنے کے لیے اپنی مساعی صرف کریں۔ چنانچہ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ خاتم الانبیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے تک اللہ تعالیٰ نے دنیا کو عدل و حق اور اپنی سیدھی راہ پر استوار رکھنے کے لیے اپنے بے شمار نبی اور رسول بھیجے اور خاتم الانبیا پر دین کی تکمیل کر دینے اور کتابِ الٰہی کو ہر قسم کی دست اندازیوں سے محفوظ کر دینے کے بعد اس مقصد کے لیے یہ اہتمام فرمایا کہ ہر دور میں اس امت کے اندر ایک ایسا گروہ، خواہ وہ کتنا ہی قلیل التعداد ہو، پیدا ہوتا رہے گا جو خود حق و عدل پر قائم اور دوسروں کو اس عدل و حق کے قائم کرنے کی دعوت دیتا رہے گا۔ اس حقیقت کی وضاحت حدیثوں میں بھی ہوئی ہے اوراس کی طرف بعض لطیف اشارات اس سورہ میں بھی آ رہے ہیں جن کی طرف ہم آگے ان شاء اللہ موزوں مقامات میں توجہ دلائیں گے۔
    اس نے تم پر کتاب اتاری حق کے ساتھ مصداق اس کی جو اس کے آگے سے موجود ہے۔ اور اس نے تورات اور انجیل اتاری۔
    قرآن کے اتارے جانے کی ضرورت: ’’حق‘‘ کے معنی کی تحقیق تفسیر سورۂ بقرہ کے شروع میں ہم بیان کر چکے ہیں۔ یہاں اس کے مختلف معانی میں سے ’’قولِ فیصل‘‘ مراد ہے۔ یعنی وہ بات جو نزاع و اختلاف کا فیصلہ کر دے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ یہود و نصاریٰ کو جو کتاب دی گئی تھی اس میں انھوں نے اختلاف پیدا کر دیے جس کے سبب سے اصل حقیقت گم ہو کر رہ گئی تھی۔ اس گم شدہ حقیقت کو واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن اتارا تاکہ لوگ اللہ کے اصل دین سے بہرہ مند ہوں اور اختلاف و نزاعات کی بھول بھلیوں سے نکل کر دین کی اصلی شاہراہ پر آ جائیں۔ ’مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ‘ پر بھی تفصیلی بحث سورہ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ قرآن کے ’مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ‘ ہونے کے ایک مشہور معنی تو یہ ہیں کہ یہ بنیادی طور پر پچھلے صحیفوں کی تمام صحیح تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے، صرف ان باتوں کی تردید کرتا ہے جو ان میں ملاوٹ کرنے والوں کی طرف سے ملا دی گئی ہیں۔ قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفوں کی یہ ہم اہنگی و ہم رنگی اس بات کی صاف شہادت ہے کہ یہ سب ایک ہی آفتابِ حق کی شعائیں اور ایک ہی منبع انوار کے پرتو ہیں۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ قرآن اور اس کے حامل کی صفات پچھلے صحیفوں کی پیشین گوئیوں میں مذکور ہیں، یہ پیشین گوئیاں اب تک اپنے مصداق کی منتظر تھیں، قرآن کے نزول اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ان کی تصدیق ہوئی۔ یہ قران کے حق ہونے کی ایک بہت بڑی شہادت ہے اور ساتھ ہی اس سے ان صحیفوں کی بھی تصدیق ہو رہی ہے کہ ان میں جو پیشین گوئیاں وارد تھیں وہ سچی ثابت ہوئیں۔ اس پہلو سے قرآن سب سے پہلے ان لوگوں کی طرف خیر مقدم کا سزاوار تھا جو اگلے صحیفوں پر ایمان کے مدعی تھے کہ اصلاً قرآن کے ظہور سے سب سے زیادہ انہی کے سر اونچے ہوئے تھے، لیکن انھوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اس کا انکار کیا۔
    اس سے پہلے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر۔ اور پھر فرقان اُتارا۔ بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔
    خلاصۂ مطلب: ’وَاَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ‘ الایۃ۔ یہ اوپر والے ٹکڑے کے اجمال کی تفصیل ہے جس سے قرآن کے اتارے جانے کی ضرورت واضح ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ حی و قیوم ہے اس وجہ سے اس نے ہماری زندگی کی رہنمائی اور ہمیں عدل و قسط پر استوار رکھنے کے لیے قران کو قولِ فیصل بنا کر اتارا ہے۔ اس سے پہلے اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل فرمائیں لیکن ان کے پیروؤں نے ان میں تحریف اور ان کے بعض حصوں کو فراموش کر کے ان میں بہت سے اختلافات پیدا کر دیے جس کے سبب سے حق و باطل میں امتیاز ناممکن ہو گیا۔ یہ صورتِ حال مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قرآن کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کی کسوٹی بنا کر اتارے۔ چنانچہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی۔ اب جو لوگ اس کتاب کا انکار کریں گے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہے اس لیے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے اس نظامِ عدل و قسط کے دشمن ہیں جو اس کی مخلوق کی صلاح و فلاح اور اس کی دنیا و آخرت دونوں کی سعادت کے لیے ضروری ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو چھوڑ دے، ان کی عدل دشمنی کی ان کو سزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے اپنی دنیا کو تباہی کے لیے چھوڑ دیا اور اس کے بقا سے اسے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ درآنحالیکہ اس کی صفت، جیسا کہ اسی سورہ میں آگے ذکر آئے گا ’قَاءِمًا بِالْقِسْط‘ ہے۔ اس قوامیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس قسط کے دشمنوں سے انتقام لے اوران کو واجبی سزا دے۔ وہ عزیز یعنی غالب اور قدرت والا ہے، کمزور اور ناتوان نہیں ہے کہ کوئی اسے بے بس کر دے، اسی طرح وہ انتقام والا ہے یعنی عدل و قسط کے معاملے میں غیور ہے، سرد مہر اور بے احساس نہیں ہے کہ ان کی پامالی پر راضی ہو جائے۔ یہ اس کی انھی صفات کا ظہور ہے کہ جن قوموں نے اس کے قائم کردہ قسط کو مٹایا ہے، ایک خاص حد تک ان کو مہلت دینے کے بعد اس نے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے اور جب جب اس کے شرائع و احکام کو نابود کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس نے ان کو ازسرنو تازہ کرنے اور سنوارنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ عدل و قسط کے قیام و بقا کے لیے اپنی اسی سنت کو یہاں انتقام سے تعبیر فرمایا ہے۔
    اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں۔
    قیام عدل پر صفاتِ الٰہی سے استدلال: اوپر والی آیت میں کتابِ الٰہی کے مخالفین یا بالفاظِ دیگر عدل و قسط کے ہادمین کے لیے جو سزا مذکور ہوئی ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا کی اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے وہ بے خبر رہتا ہے۔ اس سے کوئی بات بھی مخفی نہیں رہتی، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، اور خواہ زمین میں پیش آئے یا آسمانوں میں، خدا کا علم ہر چیز اور ہر جگہ کو محیط ہے.
    وہی ہے جو تمھاری صورت گری کرتا ہے رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر وہ، وہ غالب اور حکیم ہے۔
    اس سے کوئی بات بھی مخفی نہیں رہتی، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، اور خواہ زمین میں پیش آئے یا آسمانوں میں، خدا کا علم ہر چیز اور ہر جگہ کو محیط ہے. اور محیط کیوں نہ ہو اسی نے تو سب کو پیدا کیا اور وہی ہے جو رحموں کے اندر صورت گری فرماتا ہے تو جس نے پیدا کیا اور جس نے صورت گری فرمائی کیا وہ بھی بے خبر ہو سکتا ہےاَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَق (کیا جس نے پیدا کیا وہ بھی نہ جانے گا) اس کے بعد توحید اور خدا کی صفات میں عزیز اور حکیم کا حوالہ دیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ محیط کُل علم رکھنے والی ہستی اگر قیام عدل و قسط کا اہتمام نہ کرے تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو سکتی ہے کہ اس کو عزت وقدرت حاصل نہیں ہے یا عزت و قدرت تو حاصل ہے لیکن اس کو اپنے کاموں میں کسی حکمت و مصلحت کی کوئی پروا نہیں، بس ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے، خیر ہو یا شر، ظلم ہو یا انصاف اس سے اسے کچھ بحث نہیں، دونوں ہی چیزیں اس کی نظر میں یکساں ہیں۔ یہ خیال بالبداہت باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی، اسے ہر چیز پر قدرت بھی حاصل ہے اور اس کے ہر کام میں عدل و حکمت بھی ہے اور ساتھ ہی وہ ہر چیز سے با خبر بھی ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ان لوگوں سے انتقام نہ لے گا جو اللہ کی اس کتاب کا انکار کریں گے جو اس نے دنیا میں ازسرِ نو حق و عدل کے آثار و اعلام کو اجاگر کرنے کے لیے نازل فرمائی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List