Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا مرکزی مضمون دعوت ایمان ہے۔ ایمان کی طرف اشارہ تو، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، سورہ فاتحہ میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہ اجمالی ایمان ہے جو جذبہ شکر کی تحریک اور اللہ تعالی کی ربوبیت و رحمت کی نشانیوں کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سورہ میں اس اجمال نے تفصیل کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس میں نہایت واضح طور پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ گویا سورہ فاتحہ میں ایمان باللہ کا ذکر ہے۔ اور سورہ بقرہ میں ایمان بالرسالت کا۔

    ایمان کی اصلی حقیقت ایمان بالرسالت ہی سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ اگر ایمان بالرسالت موجود نہ ہو تو مجرد ایمان باللہ ہماری زندگی کو اللہ کے رنگ میں نہیں رنگ سکتا۔ زندگی پر اللہ کا رنگ اسی وقت چڑھتا ہے جب ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ ایمان بالرسالت بھی پایا جائے۔

    ایمان بالرسالت پیدا ایمان باللہ ہی سے ہوتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ پہلی چیز اس دوسری چیز ہی کا ایک بالکل فطری نتیجہ ہے۔ ایمان باللہ سے بندہ کے اندر خدا کی ہدایت کے لئے ایک پیاس اور ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہی پیاس اور تڑپ ہے جس کا اظہار سورہ فاتحہ میں اِھۡدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ کی دعا سے ہو رہا ہے۔ اسی دعا کے جواب میں یہ سورۂ بقرہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دے رہی ہے۔ گویا بندے کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ تعالی کی بندگی کے حق کو تسلیم کر چکنے کے بعد اس کے راستہ کی تلاش ہے تو اس کتاب پر اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جس پر یہ کتاب اتری۔

    اس حقیقت کی روشنی میں اگر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ سورۂ فاتحہ اگرچہ بظاہر ایک نہایت چھوٹی سی سورہ ہے، لیکن فی الحقیقت وہ ایک نہایت ہی عظیم الشان سورہ ہے۔ کیونکہ اس کے تنے سے پہلی ہی شاخ جو پھوٹی ہے وہی اتنی بڑی ہے کہ ہماری ساری زندگی پر حاوی ہو گئی ہے۔ اس سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس کی طرف ہم نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کہ پورا قرآن درحقیقت اسی سورہ فاتحہ کے تخم سے پیدا ہوا ہے اور یہ اسی شجرۂ طیبہ کے برگ و بار ہیں جو قرآن کے پورے تیس پاروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

  • البقرۃ (The Heifer, The Calf)

    286 آیات | مکی

    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 002 Verse 001 Chapter 002 Verse 002 Chapter 002 Verse 003 Chapter 002 Verse 004 Chapter 002 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ الف، لام، میم ہے۔
    الٓمّٓ: یہ ایک مستقل جملہ ہے۔ عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق یہاں مبتدا محذوف ہے۔ اس کو ظاہر کر دیا جائے تو پوری بات یوں ہو گی۔ ھٰذہ الٓمّٓ، (یہ الف، لام، میم ہے) ہم نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔ یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں۔ یہ جس سورہ میں بھی آئے ہیں بالکل شروع میں اس طرح آئے ہیں جس طرح کتابوں، فصلوں اور ابواب کے شروع میں ان کے نام آیا کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں۔ قرآن نے جگہ جگہ ذٰلک اور تِلۡکَ کے ذریعہ سے ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے نام ہونے کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔ حدیثوں سے بھی ان کا نام ہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو سورتیں ان ناموں سے موسوم ہیں اگرچہ ان میں سے سب اپنے انہی ناموں سے مشہور نہیں ہوئیں بلکہ بعض دوسرے ناموں سے مشہور ہوئیں، لیکن ان میں سے کچھ اپنے انہی ناموں سے مشہور بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ، یٰس، ق اور ن وغیرہ۔ ان ناموں کے معانی کے بارے میں کوئی قطعی بات کہنا بڑا مشکل ہے اس وجہ سے ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ قرآن کا تو دعویٰ یہ ہے کہ وہ ایک بالکل واضح کتاب ہے، اس میں کوئی چیز بھی چیستاں یا معمے کی قسم کی نہیں ہے، پھر اس نے سورتوں کے نام ایسے کیوں رکھ دیے ہیں جن کے معنی کسی کو بھی نہیں معلوم؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔ قرآن پر اہل عرب نے بہت سے اعتراضات کئے اور ان کے یہ سارے اعتراض قرآن نے نقل بھی کئے ہیں لیکن ان کے اس طرح کے کسی اعتراض کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ناموں میں ان کے لئے کوئی اجنبیت نہیں تھی۔ علاوہ بریں جن لوگوں کی نظر اہل عرب کی روایات اور ان کے لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ اہل عرب نہ صرف یہ کہ اس طرح کے ناموں سے نامانوس نہیں تھے بلکہ وہ خود اشخاص، چیزوں، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتیٰ کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ یہ نام مفرد حروف پر بھی ہوتے تھے اور مرکب بھی ہوتے تھے۔ ان میں یہ اہتمام بھی ضروری نہیں تھا کہ اسم اور مسمٰی میں کوئی معنوی مناسبت پہلے سے موجود ہو بلکہ یہ نام ہی بتاتا تھا کہ یہ نام اس مسمٰی کے لئے وضع ہوا ہے۔ اور یہ بالکل ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک شے کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ نام ہے تو پھر اس کے معنی کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ نام سے اصل مقصود مسمٰی کا اس نام کے ساتھ خاص ہوجانا ہے نہ کہ اس کے معنی۔ کم ازکم فہم قرآن کے نقطۂ نظر سے ان ناموں کے معانی کی تحقیق کی تو کوئی خاص اہمیت ہے نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ چونکہ یہ نام اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے ہیں اس وجہ سے آدمی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بنا پر رکھے گئے ہوں گے۔ یہ خیال فطری طور پر طبیعت میں ایک جستجو پیدا کر دیتا ہے۔ اسی جستجو کی بنا پر ہمارے بہت سے پچھلے علماء نے ان ناموں پر غور کیا اور ان کے معنی معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی جستجو سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن ہمارے نزدیک ان کا یہ کام بجائے خود غلط نہیں تھا اور اگر ہم بھی ان پر غور کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی غلط نہیں ہو گا۔ اگر اس کوشش سے کوئِی حقیقت واضح ہوئی تو اس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو گا اور اگر کوئی بات نہ مل سکی تو اس کو ہم اپنے علم کی کوتاہی اور قرآن کے اتھاہ ہونے پر محمول کریں گے۔ یہ رائے بہرحال نہیں قائم کریں گے کہ یہ نام ہی بے معنی ہیں۔ اپنے علم کی کمی اور قرآن کے اتھاہ ہونے کا یہ احساس بجائے خود ایک بہت بڑا علم ہے۔ اس احساس سے علم و معرفت کی بہت سی بند راہیں کھلتی ہیں۔ اگر قرآن کا پہلا ہی حرف اس عظیم انکشاف کے لئے کلید بن جائے تو یہ بھی قرآن کے بہت سے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہو گا۔ یہ اسی کتاب کا کمال ہے کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سربستہ اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے دلیل راہ بنی۔ ان حروف  پر ہمارے پچھلے علماء نے جو رائیں ظاہر کی ہیں ہمارے نزدیک وہ تو کسی مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ البتہ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمة اللہ علیہ کی رائے اجمالاً یہاں پیش کرتا ہوں۔ اس سے اصل مسئلہ اگرچہ حل نہیں ہوتا لیکن اس کے حل کے لئے ایک راہ کھلتی ضرور نظر آتی ہے۔ کیا عجب کہ مولانا رحمة اللہ علیہ نے جو سراغ دیا ہے دوسرے اس کی رہنمائی سے کچھ مفید نشانات راہ اور معلوم کر لیں اور اس طرح درجہ بدرجہ تحقیق کے قدم کچھ اور آگے بڑھ جائیں۔ جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لئے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام رحمة اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرف صرف آواز ہی  نہیں بتاتے تھے بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرف معانی اور اشیاء پر بھی دلیل ہوتے تھے اور جن معانی یا اشیاء پر وہ دلیل ہوتے تھے عموماً ان ہی کی صورت و ہئیت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کئے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم و اصلاح کر کے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی جس کے آثار اہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔ ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً “الف” کے متعلق معلوم ہے کہ وہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا ہے۔ “ب” کو عبرانی میں بَیت کہتے بھی ہیں اور اس کے معنی بھی “بیت” (گھر) کے ہیں۔ “ج” کا عبرانی تلفظ جمیل ہے جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ “ط” سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی کی شکل پر جاتا تھا۔ “م” پانی کی لہر پر دلیل ہوتا ہے اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔ مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورہ “ن” کو پیش کرتے ہیں۔ حرف “نون” اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں اور جو سورہ اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر صاحب الحوت، مچھلی والے، کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کر کے فرماتے ہیں کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورہ کا نام “نون” (ن) اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت، حضرت یونس علیہ السلام، کا واقعہ بیان ہوا ہے جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں وہ  بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بنا پر آئے ہوں۔ قران مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے مثلاً حرف “ط” کے معنی، جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہئیت بھی سانپ کی ہئیت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ اب قرآن میں سورہ طٰہٰ کو دیکھئے جو “ط” سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ  بیان ہوتا ہے۔ اسی طرح طسم، طس وغیرہ بھی “ط” سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کر لینے کا معجزہ مذکور ہے۔ “الف” کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہئیت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بھی بتاتا تھا۔ اس کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن مجید میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سورہ بقرہ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے سے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔ میں نے مولانا کا یہ نظریہ، جیسا کہ عرض کر چکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لئے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معانی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کر لینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم قرآن کے قدردانوں کے لئے ایک اشارہ ہے، جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔
    یہ کتابِ الہی ہے۔ اس کے کتابِ الہی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔
    ذٰلِکَ: اہل نحو کہتے ہیں کہ “ذٰلِکَ” اشارہ بعید کے لئے آتا ہے اور “ھٰذا” اشارہ قریب کے لئے۔ اس سے عام طور پر لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر کسی فاصلہ کی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو “ذٰلِکَ” لائیں گے اور اگر قریب کی کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو “ھٰذا” استعمال کریں گے۔ لیکن اہل نحو کا مطلب قریب اور بعید سے یہ نہیں ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز مخاطب کے علم میں ہے یا جس کا ذکر گفتگو میں ہو چکا ہے اگر اس کی طرف اشارہ کرنا ہو تو وہاں “ذٰلِکَ” استعمال کریں گے اور اگر کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو جس کا ذکر آگے آرہا ہو تو وہاں “ھٰذا” لائیں گے۔ اہل زبان ان دونوں اشارات کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں اور اگر کبھی ان کو اس عام ضابطہ کے خلاف استعمال کرتے ہیں تو بلاغت کے کسی نکتہ کو ملحوظ رکھ کر کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی سابق الذکر چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے “ھٰذا” استعمال کر دیں تو اس سے مقصود چیز کو نگاہوں کے سامنے حاضر کر دینا ہو گا اسی طرح اگر کہیں “ھٰذا” کی جگہ “ذٰلِکَ” استعمال ہوتا ہے تو اس سے عموماً مقصود اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی شان اس سے ارفع ہے کہ اس کو سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ یہاں ذٰلِکَ کا اشارہ سورہ کے اس نام کی طرف ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اور بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ الٓمٓ قرآن عظیم کا ایک حصہ ہے۔ قرآن میں اس قسم کے اشارات کی نظیریں بکثرت موجود ہیں۔ مثلاً حٰمٓ عٓسٓقٓ کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡٓ اِلَیْْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنۡ قَبْلِکَ اللَّہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. (شوریٰ ۱ - ۳) (یہ حٰمٓ، عسق ہے۔ اسی طرح خدائے عزیز وحکیم تمہاری طرف وحی کرتا ہے اور اسی طرح اس نے ان لوگوں کی طرف وحی کی جو تم سے پہلے گزرے ہیں) طٰسٓ تِلْکَ اٰیَاتُ الْقُرْاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍ۔ (النمل) یہ طس ہے یہ قرآن اور ایک کتاب مبین کی آیتیں ہیں۔ الکتٰب:  قرآن مجید میں کتاب کا لفظ پانچ مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ۱ – نوشتہ تقدیر- مثلاً لَوْلاَ کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (۶۸۔ انفال) اگر نوشتہ الٰہی نہ گزر چکا ہوتا تو جس چیز میں تم مبتلا ہوئے اس کے باعث تمہیں ایک دردناک عذاب آ پکڑتا۔ ۲ – اللہ تعالیٰ کا وہ رجسٹر جس میں ہر چیز ریکارڈ ہے۔ مثلاً وَعِنْدَنَا کِتَابٌ حَفِیْظٌ۔ (۴، ق) (اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے محفوظ رکھنے والی۔) ۳ – خط اور پیغام۔ مثلاً اِنِّیْ اُلْقِیَ اِلَیَّ کِتَابٌ کَرِیْمٌ۔ (۲۹ نمل) (میرے پاس ایک گرامی نامہ  بھجوایا گیا ہے) ۴ ۔ احکام و قوانین۔ مثلاً وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔ (۲ جمعہ) (اور ان کو شریعت اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے) ۵ ۔ اللہ تعالی کا اتارا ہوا کلام۔ اپنے اسی معنی کے لحاظ سے یہ لفظ کتاب الٰہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد کتاب الٰہی کا کوئی خاص حصہ بھی ہوا کرتا ہے اور اس کا مجموعہ بھی۔ مجموعہ کے مفہوم کے لئے نظیر اعراف کی یہ آیت ہے۔ وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتَابِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۔ (۱۷۰ اعراف) (اور جو کتاب الہی کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں) دوسرے معنی کے لئے نظیر سورۂ آل عمران کی یہ آیت ہے۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتَابِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْْنَہُمْ۔ (۲۳ اٰل عمران) (ذرا دیکھو تو ان کو جنہیں کتاب الہٰی کا ایک حصہ ملا، ان کو دعوت دی جا رہی ہے اللہ کی کتاب کی طرف تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے) جس طرح کوئی لفظ اپنے مختلف معنی میں سے کسی ایک اعلیٰ اور برتر معنی کے لئے خاص ہو جایا کرتا ہے، اسی طرح یہ کتاب کا لفظ بھی خاص طور پر کتاب الہٰی کے لئے بولا جانے لگا۔ چنانچہ یہ استعمال قدیم زمانہ سے معروف ہے۔ یہود انبیاء کے صحیفوں میں سے ہر صحیفہ کو سِفۡر کہتے تھے جس کے معنی کتاب کے ہیں۔ عیسائی مترجموں نے ان کتابوں کو بائیبل کا نام دیا اس کے معنی بھی یونانی میں کتاب کے ہیں۔ اسی طرح ان صحیفوں کے لئے (scripture) کا لفظ استعمال ہوا جس کے معنی لاطینی میں کتاب کے ہیں۔ الغرض کتاب کا لفظ کتاب اللہ کے لئے کوئی نیا استعمال نہیں ہے۔ یہ استعمال جیسا کہ واضح ہوا، بہت قدیم ہے۔ قرآن نے بھی اس معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا اور اپنے استعمالات سے اس کے اس معنی کو اس قدر واضح کر دیا کہ اس کے مخاطب اس استعمال کو بے تکلف سمجھنے لگ گئے۔ لَارَیۡبَ فیہ: “ریب” کے معنی شک کے ہیں۔ “اس میں کوئی شک نہیں ہے” کا مطلب یہ ہے کہ اس کے کتاب الہٰی ہونے یا ایک کتاب منزل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ یہ جملہ پہلے جملہ کی خبر نہیں بلکہ اس کی تاکید ہے۔ ذٰلِکَ الۡکِتَابُ کے معنی ہیں، یہ کتاب الہٰی ہے۔ اس کے بعد یہ تاکید اسی حقیقت کو مزید قوت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے کہ اس کے کتاب الہٰی ہونے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر اس کے معنی یہ نہ لئے جائیں تو پھر اس ٹکڑے کے لئے یہاں کوئی موزوں موقع ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ قرآن مجید کے نظائر سے بھی اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً اسی سورہ میں چند ہی آیات کے بعد فرمایا ہے۔ وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ۔ (۲۳ بقرہ) (اور اگر تم اس کی طرف سے شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتاری ہے تو لاؤ اس کے مانند کوئی ایک سورہ) اآمّٓ تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ لَا رَیْْبَ فِیْہِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (۱-۲ السجدہ) (الٓمٓ، کتاب کی تنزیل، جس کے کتاب الہٰی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، عالم خداوند کی طرف سے ہے) حٰمٓ تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ۔ (۱-۲ مومن) (حٰمٓ، کتاب کا اتارنا خدائے عزیز و علیم کی طرف سے ہے) عام طور پر لوگ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اس کتاب میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس میں شک کیا جاسکے۔ اگرچہ بجائے خود یہ ایک حقیقت ہے، قرآن میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش ہو لیکن ہمارے نزدیک اس جملہ کا مطلب یہ نہیں ہے۔ اس کے کئی وجوہ ہیں۔ اولاً تو قرآن کے نظائر جو ہم نے پیش کئے ہیں اس مطلب کے خلاف ہیں۔ ثانیاً شک و شبہ کتاب کی صفات میں سے نہیں ہے بلکہ آدمی کے ذہن کی صفات میں سے ہے۔ ایک ٹیڑھے ذہن کا آدمی سیدھی سے سیدھی بات میں سے بھی کوئِی نہ کوئی ٹیڑھ نکال ہی لیتا ہے اس وجہ سے اس بات کے کہنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ ثالثاً شک و شبہ کا سوال درحقیقت پیدا کسی دعوے سے متعلق ہوتا ہے، یہاں دعویٰ یہ ہے کہ یہ کتاب الہٰی ہے۔ اس وجہ سے اگر شک کی نفی کی ضرورت ہے تو اس دعویٰ سے متعلق ہے نہ کہ کتاب سے متعلق۔ رابعاً کتاب سے متعلق شک کی نفی سے کتاب کی شان میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح کے شک کی نفی ریاضی یا اقلیدس کی کسی کتاب کے بارہ میں بھی کی جاسکتی ہے۔ خامساً قرآن کے ابتدائی مخاطبین کی اصلی الجھن یہ نہیں تھی کہ قرآن کی کچھ باتیں ان کو مشکوک و مشتبہ معلوم ہوتی تھیں بلکہ ان کی اصلی الجھن یہ تھی کہ اس کتاب کو اللہ کی اتاری ہوئی بتایا جاتا تھا اور وہ اس کو اللہ کی اتاری ہوئی کتاب ماننے کو تیار نہیں تھے۔ سادساً اگر کتاب سے متعلق شک کی نفی کر بھی دی جائے تو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کے خدا کی طرف سے ہونے کا مسئلہ پھر بھی مشکوک ہی رہا۔ ہاں اس کا خدا کی طرف سے ہونا غیر مشکوک ہوجائے تو پھر اس کا ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہونا آپ سے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔ ھدی:  ھدی کا لفظ عربی زبان میں بھی اور قرآن مجید میں بھی کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جن معانی کے نظائر خود قرآن میں موجود ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ ۱ ۔ قلبی نور و بصیرت۔ مثلاً وَالَّذِیْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی. (۱۷۔ محمد) (اور جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی قلبی بصیرت میں اضافہ فرماتا ہے) ۲ – دلیل و حجت اور نشان راہ۔ مثلاً اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی. (۱۰۔ طٰہٰ) (مجھے آگ کے پاس پہنچ کر کوئی نشان راہ مل جائے)۔ بغیر علم ولا ھدی ولا کتاب منیر – حج : ۸- (بغیر کسی علم، بغیر کسی دلیل اور بغیر کسی روشن کتاب کے۔) ۳ – سیدھا اور صاف راستہ۔ مثلاً بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَّلَا ہُدًی وَّلَا کِتَابٍ مُّنِیْرٍ. (۸ ۔ حج) (بے شک تم ایک سیدھے راستے پر ہو۔) یہیں سے یہ لفظ طریقہ اور شریعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس معنی کی مثالیں بھی قران میں موجود ہیں۔ مثلاً فَبِھُدَاھُمُ اقۡتَدِہۡ (۰۹ انعام) (پس ان کے طریقہ کی پیروی کر) اِنَّ الْہُدٰی ہُدَی اللّٰہِ. (۷۲ ۔ اٰل عمران) (اور شریعت تو بس اللہ کی شریعت ہے۔) ۴ – فعل ہدایت۔ مثلاً لَیْْسَ عَلَیْْکَ ہُدَاہُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ. (۲۷۲ ۔ بقرہ) (تمہارے ذمہ ان کو ہدایت دینا نہیں ہے بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے)۔ قرآن مجید میں ظاہر ہے کہ ان چاروں معنوں کے اعتبار سے ھدی ہے۔ لِلۡمُتَّقِیۡنَ:  حرف لام یہاں انتفاع کے مفہوم میں ہے۔ یعنی اس کتاب سے فائدہ وہی لوگ اٹھائیں گے جو متقی ہیں۔ جس طرح سورج چمکتا تو سب کے لئے ہے لیکن اس سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو آنکھیں رکھتے ہیں اور جو ان آنکھوں کو دیکھنے کے لئے کھولتے بھی ہیں۔ اسی طرح یہ کتاب اتری تو سب ہی کی ہدایت کے لئے ہے لیکن چونکہ اس سے فائدہ فی الحقیقت وہی لوگ اٹھائیں گے جن کے اندر خدا کا خوف ہو، اس وجہ سے فرمایا کہ یہ متقین کے لئے ہدایت ہے۔ متقی کا لفظ اتقاء سے ہے۔ اتقاء کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ہم مثالوں سے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ ۱ – جس چیز سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو اس سے بچنا۔ مثلاً فَکَیْْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبًا. (۱۷ ۔ مزمل) (اگر تم نے کفر کیا تو اس دن سے کیسے بچ سکو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔) ۲ – کسی آفت کے ظہور سے اندیشہ ناک ہونا۔ مثلاً وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً. (۲۵ ۔ انفال) (اور اس آفت سے چوکنے رہو جو خاص طور پر انہی پر نہیں آئے گی جنہوں نے تم میں سے ظلم کا ارتکاب کیا ہوگا۔) ۳ – اس رب قدوس سے برابر لرزتے اور کانپتے رہنا جو اپنے شکرگزار اور وفادار بندوں پر رحم فرماتا ہے جو کفر و معصیت کو ناپسند کرتا ہے اور جو ہر ظاہر و پوشیدہ سے باخبر ہے۔ وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا. (۷۳ ۔ زمر) (اور جو لوگ اپنے پروردگار سے برابر ڈرتے رہے ان کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔) ۴ – اس کا چوتھا مفہوم مذکورہ تینوں مفہوموں کا جامع ہے۔ یعنی گناہ سے اس کے برے نتائج اور خدا کے غضب کے ڈر سے بچتے رہنا۔ جب یہ لفظ مفعول کے بغیر استعمال ہوتا ہے تو عموماً یہی مراد ہوتے ہیں اور اسی چیز کو تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ. (۱۷۹ ۔ اٰل عمران) (اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہے۔) اس تشریح کی روشنی میں متقی وہ شخص ہوگا جس کے دل میں خدا کی عظمت اور اس کےغضب کا خوف سمایا ہوا ہو اور جس کو گناہوں کے نتائج کا پورا پورا احساس ہو۔ تقویٰ میں عمل کی نسبت کیفیت اور حال کا پہلو اور فعل کے بالمقابل ترک کا پہلو اگرچہ زیادہ نمایاں ہے اور اس پہلو سے کہہ سکتے ہیں کہ اس میں نفی اثبات پر غالب ہے لیکن چونکہ یہ دل کی تندرستی کی دلیل ہے اور دل تندرست ہو تو سب کچھ تندرست ہے اس وجہ سے اس سے علم اور عمل دونوں کے سوتے پھوٹتے ہیں۔
    ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ  ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
    يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ:  ایمان، امن سے ہے۔ ایمان کے اصل معنی امن دینے کے ہیں۔ اگر اس کا صلہ لام کے ساتھ آئے تو اس کے معنی تصدیق کرنے اور رب کے ساتھ آئے تو یقین اور اعتماد کرنے کے ہوجاتے ہیں۔ اس لفظ کی حقیقی روح یقین، اعتماد اور اعتقاد ہے۔ جو یقین، خشیت، توکل اور اعتقاد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر، اس کی آیات پر، اس کے احکام پر ایمان لائے اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر کے اس کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جائے وہ مومن ہے۔ یہ لفظ جب اپنے مفعول کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے خاص اسی چیز پر ایمان لانا مراد ہوتا ہے جس کا اس کے مفعول کی حیثیت سے ذکر ہوتا ہے لیکن اگر مفعول کے بغیر آئے تو اس کے تحت وہ ساری ہی چیزیں آ سکتی ہیں جن پر ایمان لانے کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ یا جن پر قرینہ دلیل بن سکتا ہے۔ “غیب” کا لفظ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل معنوں میں آیا ہے۔ وہ جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو۔ اس کا مدمقابل لفظ شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے  ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ عَالِمُ الغَیۡبِ وَالشَھَادَۃِ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے بھی باخبر ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں اور ان چیزوں سے بھی باخبر ہے جو ہمارے سامنے ہیں۔ وہ چیز جس کے جاننے کا آدمی کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہو – نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قران میں نقل ہے وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْْرِ (۱۸۸ ۔ اعراف) اگر مجھے غیب کا پتہ ہوتا تو میں خیر میں بہت سا اضافہ کر لیتا۔ وہ جگہ جو آدمی کے سامنے نہ ہو یا وہ سمت جو متعین نہ ہو رہی ہو- ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَیْْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْْہِمْ اِذْ اَجْمَعُوْا اَمْرَہُمْ. (۱۰۲ ۔ یوسف) یہ غیب کے واقعات میں سے ہے جس کو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اور جب وہ اپنے فیصلہ پر متفق ہوئے تو تم ان کے پاس موجود نہ تھے۔ راز کے معنی میں بھی اس لفظ کا استعمال عام ہے۔ مثلاً نیک بیبیوں کی تعریف میں آتا ہے۔ حٰفِظٰتُ لِلۡغَیۡبِ – (وہ راز کی حفاظت کرنے والیاں ہیں)۔ بِٱلْغَيْبِ کی “ب” کے بارے میں بھی دو رائیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو ظرف کے معنی میں لیا جائے یعنی وہ غیب میں ہوتے ہوئے ایمان لاتے ہیں۔ اس معنی کی متعدد مثالیں قرآن میں موجود ہیں۔ مثلاً الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْْبِ وَہُمْ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشْفِقُوْنَ. (۴۹ ۔ انبیاء) جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں ہوتے ہوئے اور قیامت سے ڈرنے والے ہیں۔ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالغَیْْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ. (۱۸ ۔ فاطر) تم انہی کو ڈرا سکتے ہو جو غیب میں ہوتے ہوئے اپنے رب سے ڈریں اور نماز قائم کریں۔ اس صورت میں “يُؤْمِنُونَ” عام رہے گا۔ اور وہی تمام چیزیں اس کے تحت آ سکیں گی جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ ایمان لانے کے لئے وہ اس بات کے منتظر نہیں ہیں کہ تمام حقائق کا آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں، بلکہ وہ مشاہدہ کے بغیر محض عقل و فطرت کی شہادت اور پیغمبر صلی اللہ علیہ سلم کی دعوت کی بنا پر ان تمام چیزوں پر ایمان لاتے ہیں جن پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سلف میں سے ربیع بن انس نے یہی تاویل اختیار کی ہے اور ہم نے بھی ترجمہ میں اسی کو ترجیح دی ہے۔ دوسری رائے یہ ہو سکتی ہے کہ اس کو صلہ کی “ب” مانا جائے اور “بِٱلْغَيْبِ” کو “يُؤْمِنُونَ” کا مفعول قرار دیا جائے۔ یہ رائے اگرچہ اکثریتی رائے ہے، اور زبان کے اعتبار سے اس میں کوئی بھی نقص نہیں ہے لیکن مندرجہ ذیل وجوہ سے ہمیں یہ رائے کچھ زیادہ قوی نہیں معلوم ہوتی۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس صورت میں ایمان صرف غیب کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ جاتا ہے۔ غیب کے سوا بقیہ ساری چیزیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے، ایمان کے دائرہ سے باہر ہوجاتی ہیں۔ برعکس اس کے پہلی صورت میں وہ تمام چیزیں ایمان کے دائرہ میں آجاتی ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے اور جن کی قرآن نے دوسرے مواقع پر تفصیل بیان کر دی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لفظ غیب کا اطلاق چاہے ان تمام چیزوں پر ہوتا ہو جن پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن نبی اور کتاب پر تو اس کا اطلاق بہرحال نہیں ہوتا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ دونوں چیزیں جن پر اللہ تعالیٰ کے بعد ایمان لانا سب سے زیادہ ضروری ہے یہاں ایمان سے کیوں خارج کر دی گئیں؟ تیسری وجہ یہ ہے کہ غیب کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی نہیں بولا گیا ہے۔ غیب اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے نہیں ہے۔ اس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ یہاں اللہ تعالیٰ بھی ایمان کے اجزاء میں شامل نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بھی ایمان کے اجزاء میں شامل نہیں ہے تو ایمان بالغیب کے تحت صرف آخرت اور فرشتوں پر ایمان لانا ضروری ٹھہرتا ہے یا زیادہ سے زیادہ مستقبل کے حوادث پر۔ آخر ایمان کے دائرہ کو اس قدر محدود کردینے کی کیا وجہ ہے؟ چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہ دوسری تاویل لینے والے حضرات کہتے ہیں کہ غیب سے مراد احوال آخرت ہیں۔ اگر احوال آخرت ہی مراد ہیں تو آخرت کا ذکر تو آگے اسی سلسلہ میں مستقل طور پر آ رہا ہے۔ فرمایا ہےوَبِالۡاٰخِرَۃِ ھُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ- اور آخرت پر یہی لوگ ایمان رکھتے ہیں۔ آخر ایک ہی سلسلہ میں ایک ہی بات کو اس طرح دہرانے کی کیا ضرورت تھی؟ پانچویں وجہ یہ ہے کہ پہلی تاویل سے ایک بہت بڑی حقیقت سامنے آتی ہے جس سے یہ دوسری  تاویل بالکل خالی ہے۔ وہ یہ کہ ایمان یا خشیت وہی معتبر ہے جو بصیرت اور تقویٰ سے پیدا ہو۔ جو ایمان یا خشیت گناہوں کے نتائج سامنے آجانے کے بعد پیدا ہو خدا کے ہاں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کا عذاب دیکھ کر ایمان لائے ان کے بارہ میں ارشاد یہ ہے۔ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِہٖ آلْاٰنَ وَقَدْ کُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ. (۵۱۔ یونس) تو کیا پھر جب عذاب آ نازل ہی ہوگا تب ہی اس کو مانو گے، اس وقت ہم کہیں گے اب! حالانکہ اس کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔ ظرفیت کے مفہوم کے خلاف ایک بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ جہاں جہاں بھی، قرآن میں لفظ ایمان کے ساتھ “ب” آئی ہے کہیں بھی ظرفیت کے مفہوم میں نہیں آئی ہے۔ لیکن یہ بات کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کے جواب میں بالکل اسی کے برابر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بالغیب کا لفظ قرآن میں جہاں جہاں بھی آیا ہے ظرف ہی کے طور پر آیا ہے، کہیں بھی مفعول کے طور پر نہیں آیا۔ اس وجہ سے جہاں تک قرآن کے نظائر کا تعلق ہے، وہ ظرفیت کے مفہوم کے حق میں زیادہ نمایاں ہیں۔ یقیمون الصلٰوۃ: اقامت کے معنی کسی چیز کے کھڑے کرنے یا اس طرح سیدھے کرنے کے ہیں کہ اس میں کوئی ٹیڑھ باقی نہ رہ جائے۔ فرمایا ہے وہ نماز قائم کرتے ہیں، یہ نہیں کہا ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں قرآن نے نماز کے لئے قائم کرنے کا لفظ استعمال کر کے ایک ہی ساتھ کئی حقیقتوں کی طرف توجہ دلا دی ہے۔ پہلی چیز جس کی طرف یہ لفظ متوجہ کرتا ہے وہ نماز میں اخلاص ہے یعنی نماز صرف اللہ ہی کے لئے پڑھی جائے کسی اور کو اس میں شریک نہ کیا جائے۔ اس کے اندر سیدھے کرنے کا جو مفہوم ہے اس کا تقاضا اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ ہی کے لئے نہ پڑھی جائے۔ دوسرے مقام پر یہ حقیقت واضح لفظوں میں بھی بیان کر دی ہے۔ وَاَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔ (۲۹ اعراف) اور اسی کی طرف اپنے رخ کرو ہر مسجد کے پاس اور اسی کو پکارو اسی کے لئے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے۔ یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ نماز میں رخ قبلہ کی طرف ہونا چاہئے کیونکہ وہی توحید اور اخلاص کا مرکز ہے۔ دوسری چیز جس کی طرف یہ لفظ اشارہ کرتا ہے وہ نماز کے اصل مقصود پر دل کو پوری طرح جمانا ہے۔ نماز کا اصل مقصود ذکر الہٰی میں خشوع و خضوع ہے، اگر آدمی اس چیز سے غافل ہو کر نماز پڑھے تو یہ نماز کو قائم کرنے نہیں بلکہ محض چھدا اتارنا ہوا۔ اس حقیقت کی طرف بھی قران نے بعض مقامات پر توجہ دلائی ہے۔ مثلاً وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ. (۱۴ طٰہٰ) اور نماز کو میرے ذکر کے لئے قائم کرو۔ دوسری جگہ فرمایا ہے۔ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوْنَ. (۱۔۲ مومنون) ان مومنوں نے فلاح پائی جو اپنی نمازیں خشوع و خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ تیسری چیز یہ ہے کہ نماز بغیر کسی کمی بیشی کے اس طریقہ کے مطابق ادا کی جائے جس طریقہ پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: فَاِذَا اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ. (۲۳۹ بقرہ) پس جب تم امن میں ہو جاو تو اس طریقہ کو یاد کرو جو طریقہ اس نے تم کو سکھایا ہے۔ نماز کی صفوں کا ٹھیک کرنا اور ارکان نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اسی وجہ سے حدیث میں آیا ہے کہ تسویۃ الصفوف من اقامۃ الصلوۃ- صفوں کو برابر کرنا بھی اقامت صلوۃ کا ایک جزو ہے۔ چوتھی چیز نماز کی پوری پوری پابندی ہے۔ فرمایا ہے: اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ اللَّیْْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ. (۷۸ اسراء) اور نماز قائم کرو سورج کے زوال کے وقت سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک اور صبح کے وقت کا قرآن پڑھنا۔ اسی چیز کو دوسرے مقامات میں  “نمازوں کی نگرانی” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ. (۲۳۸ بقرہ) پانچویں چیز نماز پر قائم رہنا ہے جیسا کہ فرمایا ہے- ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَاءِمُوْنَ. (۲۳ معارج) وہ اپنی نمازوں پر برابر قائم رہتے ہیں۔ چھٹی چیز جمعہ وجماعت کا قیام واہتمام ہے۔ خصوصیت کے ساتھ جب امت یا امام کی طرف سے اس کی نسبت کی جاتی ہے تب تو واضح طور پر جمعہ وجماعت کا قیام واہتمام ہی مدنظر ہوتا ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو: اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنَّاہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَآتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ . (۴۱ حج) اگر ہم ان کو زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا جس میں انہوں نے اپنی ذریت کا مشن بتایا ہے، ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ رَّبَّنَا اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ. (۳۷ ابراہیم) اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو اس کھیتی کی زمین میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے، اے ہمارے رب، تاکہ یہ نماز قائم کریں۔ “صلوٰۃ” کا لفظ اصل لغت میں کسی شے کی طرف متوجہ ہونے کے لئے آیا ہے۔ پھر یہیں سے یہ لفظ رکوع کے معنی میں اور پھر تعظیم اور تضرع اور دعا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ لفظ عبادت کے معنی میں بہت قدیم ہے۔ کلدانی میں دعا اور تضرع کے معنی میں اور عبرانی میں رکوع اور نماز کے معنی میں یہ استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ایک اصطلاح کی حیثیت سے استعمال ہوا ہے جس کی وضاحت قرآن نے بھی کر دی ہے اور سنت نے بھی اس کی پوری وضاحت کی ہے۔ علاوہ ازیں امت کے قولی و عملی تواتر نے اس کی شکل و ہئیت اور اس کے اوقات بالکل محفوظ رکھے ہیں۔ اگر اس کے کسی جزو میں کوئی اختلاف ہے تو وہ محض فروعی قسم کا ہے جس سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔  
    اور ان کے لئے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں۔
    وَبِٱلْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ: آخرت سے مراد دار آخرت یا حیات آخرت ہے۔ آخرت کے لئے یہاں ایمان کے بجائے ایقان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ایمان اور ایقان کے درمیان تھوڑا سا فرق ہے جس کو سمجھ لینا چاہئے۔ ایمان کے معنی تصدیق کرنے اور مان لینے کے ہیں۔ اس کا ضد کفر و انکار اور تکذیب ہے۔ ایقان کے معنی یقین کرنے کے ہیں۔ اس کا ضد گمان اور شک ہے جس طرح کسی شے پر یقین رکھنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اس پر ایمان بھی رکھتا ہو، اسی طرح کسی چیز پر ایمان رکھنے کے لئے اس پر یقین کرنا شرط نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آدمی کا ایمان محض گمان غالب پر مبنی ہو اور وہ آہستہ آہستہ گمان کی منزل سے نکل کر یقین کی منزل تک پہنچے اور اس طرح اس کے ایمان کی تکمیل ہوجائے۔ یہاں ایقان کا ذکر ایمان کے چند معروف عملی مظاہر کے بعد ہوا ہے جس سے اس بات کا اشارہ نکلتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ اوصاف کے حامل ہیں درحقیقت وہی لوگ ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
    یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
    عَلَى هُدًى: ھدی کے مختلف معانی اوپر بیان ہو چکے ہیں۔ یہاں مذکورہ معانی میں سے نور بصیرت کے معنی بھی لئے جا سکتے ہیں اور صراط مستقیم کے معنی بھی لئے جا سکتے ہیں۔ ان دونوں معنوں میں سے جو معنی بھی لے لیا جائے آیت کی تاویل ٹھیک بن جاتی ہے اور لغت اور استعمالات قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ الْمُفْلِحُونَ: اس لفظ کی اصلی روح انشراح اور انکشاف کی ہے اور اس سے مراد وہ فائزالمرامی اور کامیابی ہوتی ہے جو اگرچہ حاصل ہو تو ایک صبر آزما اور جاں گسل جدوجہد کے بعد لیکن جب حاصل ہو تو محنت کرنے والے نہال ہوجائیں اور ان کی توقعات کے سارے پیمانے اس کے ناپنے سے قاصر رہ جائیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List