Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الناس (Mankind)

    6 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سے تعلق اور اس کے امتیازی پہلو

    سابق سورہ ۔۔۔ الفلق ۔۔۔ کی تمہید میں ہم اس سورہ کے موقع و محل اور اس کے عمود کی طرف بالاجمال اشارہ کر چکے ہیں۔ یہ سورہ اس کی مثنیٰ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ جس طرح وہ تعوّذ کی سورہ ہے اسی طرح یہ بھی تعوّذ کی سورہ ہے۔ بس چند پہلو اس کے خاص ہیں جن کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اس کا امتیازی وصف سامنے رہے۔

    ایک یہ کہ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی ان صفات کے توسّل سے چاہی گئی ہے۔ جن کا تعلق براہ راست انسان سے ہے۔ اس وجہ سے اس کی اپیل نہایت مؤثر ہے۔ اپیل مؤثر تو سابق سورہ کی بھی ہے لیکن اس پر استدلال کا پہلو غالب ہے۔ اس میں استدلال کا پہلو اگرچہ موجود ہے لیکن زیادہ نمایاں پہلو اس میں استرحام کا ہے۔

    دوسرا یہ کہ سابق سورہ میں کئی آفتوں سے پناہ مانگی گئی ہے لیکن اس میں ساری توجہ صرف شیطان پر مرکوز کر دی گئی ہے جو درحقیقت تمام آفتوں کی جڑ اور توحید کا، جیسا کہ سابق سورہ میں واضح ہو چکا ہے، ازلی دشمن ہے۔

    تیسرا یہ کہ سابق سورہ میں شیطان کا حوالہ صرف اس کے ایک معروف کردار ۔۔۔ حسد ۔۔۔ سے آیا ہے لیکن اس سورہ میں اس کی اصل تکنیک، اس کے دائرۂ نفوذ و اثر، اس کی ذات اور برادری ہر چیز سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے تاکہ لوگ اپنے اس شاطر دشمن کو اچھی طرح پہچان لیں اور جن کمین گاہوں سے وہ حملہ آور ہو سکتا ہے ان سے ہوشیار رہیں۔

  • الناس (Mankind)

    6 آیات | مکی
    الفلق - الناس

    یہ دونوں سورتیں خاتمۂ قرآن کی دعا اور ہرلحاظ سے توام ہیں۔اِسی بنا پر اِنھیں معوذتین کہا جاتا ہے۔پہلی سورہ میں استدلال اور دوسری میں استرحام کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں یہ اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب یہود وقریش اور ذریت ابلیس کے سب شیاطین جن و انس آپ کی دعوت کو کامیابی سے ہم کنار ہوتے دیکھ کر آپ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تلقین ہے کہ اپنی اور اپنے مشن کی حفاظت کے لیے آپ اِس دنیا کی تمام آفتوں اور تمام مخلوقات کے شر سے اپنے پروردگار کی پناہ مانگیں، اِس لیے کہ تنہا وہی ہے جو اِن سب آفات و شرور سے انسان کو فی الواقع پناہ دے سکتا ہے۔

    یہ مضمون ، اگر غور کیجیے تو قرآن کے ہر طالب علم کو اُس کی ابتدا میں سورۂ فاتحہ کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں بندہ توحید کا اقرار کرتا اور اپنے پروردگار کے حضور میں دست بدعا ہوتا ہے کہ وہ اُسے صراط مستقیم کی ہدایت بخشے۔ اِس کے جواب میں پورا قرآن ہے جو اُس کے لیے صراط مستقیم کی وضاحت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ توحید کی جامع ترین سورہ—- الاخلاص—- تک پہنچ جاتا ہے۔ اِس کے بعد یہ سورتیں ہیں جن میں بندہ صفات الٰہی کے توسل سے ایک مرتبہ پھر دعا کرتا ہے کہ اُس کا پروردگار اُسے توحید کی راہ پر کھڑے ہر رہ زن سے اپنی پناہ میں رکھے اور اِس راہ کے نشیب و فراز میں ہر قدم پر اُس کی حفاظت فرمائے۔ قرآن کی ابتدا کے ساتھ یہ خاتمہ جو مناسبت رکھتا ہے، وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 114 Verse 001 Chapter 114 Verse 002 Chapter 114 Verse 003 Chapter 114 Verse 004 Chapter 114 Verse 005 Chapter 114 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    کہہ، میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی۔
    اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کے واسطہ سے تعوّذ: یہ اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطہ سے چاہی گئی ہے اور یہ تینوں صفتیں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے ان بنیادی حقوق کو بھی معین کرتی ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں اور پھر یہ رہنمائی بھی دیتی ہیں کہ ان صفات سے جو ذات متصف ہے وہی اہل ہے کہ بندے مشکلات میں اس کی پناہ ڈھونڈیں اور وہی اس لائق ہے کہ وہ بڑے سے بڑے دشمن کے مقابل میں بھی ان کو پناہ دے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے حقوق: حقوق کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا بادشاہ حقیقی ہو اور جو بادشاہ حقیقی ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا معبود ہو۔ اگر پروردگار کے سوا کوئی دوسرا لوگوں کا بادشاہ بن کر اپنا قانون اور حکم چلائے تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور ناجائز ہے اور رب کے سوا اگر کسی اور کو لوگ اپنا معبود بنائیں گے تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور حرام ہے۔ سورۂ فاتحہ میں ربوبیت ہی کی دلیل پر بندوں کی تمام شکرگزاری کا حق دار اللہ تعالیٰ کو ٹھہرایا گیا ہے اور پھر اسی کو تمام عبادت اور استعانت کا مرجع بتایا گیا ہے۔ وہی بات یہاں بھی فرمائی گئی ہے۔ بس الفاظ مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان تین صفتوں سے متصف مان لینے کے بعد غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ شرک کے تمام رخنے بند ہو جاتے ہیں اور ان صفتوں میں ایسا لزوم ہے کہ ایک کو مان لینے کے بعد دوسری صفتوں کو ماننا لازم ہو جاتا ہے۔
    لوگوں کے بادشاہ کی۔
    اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کے واسطہ سے تعوّذ: یہ اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطہ سے چاہی گئی ہے اور یہ تینوں صفتیں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے ان بنیادی حقوق کو بھی معین کرتی ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں اور پھر یہ رہنمائی بھی دیتی ہیں کہ ان صفات سے جو ذات متصف ہے وہی اہل ہے کہ بندے مشکلات میں اس کی پناہ ڈھونڈیں اور وہی اس لائق ہے کہ وہ بڑے سے بڑے دشمن کے مقابل میں بھی ان کو پناہ دے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے حقوق: حقوق کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا بادشاہ حقیقی ہو اور جو بادشاہ حقیقی ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا معبود ہو۔ اگر پروردگار کے سوا کوئی دوسرا لوگوں کا بادشاہ بن کر اپنا قانون اور حکم چلائے تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور ناجائز ہے اور رب کے سوا اگر کسی اور کو لوگ اپنا معبود بنائیں گے تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور حرام ہے۔ سورۂ فاتحہ میں ربوبیت ہی کی دلیل پر بندوں کی تمام شکرگزاری کا حق دار اللہ تعالیٰ کو ٹھہرایا گیا ہے اور پھر اسی کو تمام عبادت اور استعانت کا مرجع بتایا گیا ہے۔ وہی بات یہاں بھی فرمائی گئی ہے۔ بس الفاظ مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان تین صفتوں سے متصف مان لینے کے بعد غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ شرک کے تمام رخنے بند ہو جاتے ہیں اور ان صفتوں میں ایسا لزوم ہے کہ ایک کو مان لینے کے بعد دوسری صفتوں کو ماننا لازم ہو جاتا ہے۔
    لوگوں کے معبود کی۔
    اللہ تعالیٰ کی تین صفتوں کے واسطہ سے تعوّذ: یہ اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطہ سے چاہی گئی ہے اور یہ تینوں صفتیں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے ان بنیادی حقوق کو بھی معین کرتی ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں اور پھر یہ رہنمائی بھی دیتی ہیں کہ ان صفات سے جو ذات متصف ہے وہی اہل ہے کہ بندے مشکلات میں اس کی پناہ ڈھونڈیں اور وہی اس لائق ہے کہ وہ بڑے سے بڑے دشمن کے مقابل میں بھی ان کو پناہ دے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے حقوق: حقوق کی وضاحت یوں ہوتی ہے کہ جو لوگوں کا پروردگار ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا بادشاہ حقیقی ہو اور جو بادشاہ حقیقی ہے وہی حق دار ہے کہ لوگوں کا معبود ہو۔ اگر پروردگار کے سوا کوئی دوسرا لوگوں کا بادشاہ بن کر اپنا قانون اور حکم چلائے تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور ناجائز ہے اور رب کے سوا اگر کسی اور کو لوگ اپنا معبود بنائیں گے تو یہ چیز بھی خلاف عقل و فطرت اور حرام ہے۔ سورۂ فاتحہ میں ربوبیت ہی کی دلیل پر بندوں کی تمام شکرگزاری کا حق دار اللہ تعالیٰ کو ٹھہرایا گیا ہے اور پھر اسی کو تمام عبادت اور استعانت کا مرجع بتایا گیا ہے۔ وہی بات یہاں بھی فرمائی گئی ہے۔ بس الفاظ مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ان تین صفتوں سے متصف مان لینے کے بعد غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ شرک کے تمام رخنے بند ہو جاتے ہیں اور ان صفتوں میں ایسا لزوم ہے کہ ایک کو مان لینے کے بعد دوسری صفتوں کو ماننا لازم ہو جاتا ہے۔
    وسوسہ ڈالنے والے دبک جانے والے کی آفت سے۔
    اس چیز کا بیان جس سے پناہ مانگی گئی ہے: یہ اس چیز کا بیان ہے جس کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ فرمایا کہ کہو میں وسوسہ ڈالنے والے، دبک جانے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ الفاظ میں اگرچہ تصریح نہیں ہے لیکن ان صفات اور آگے کی تصریح سے واضح ہے کہ مراد اس سے شیطان ہی ہے۔ شیطان کی تکنیک: یہ شیطان کے تکنیک کی وضاحت ہے کہ اس کا سارا اعتماد وسوسہ اندازی، پراپیگنڈے اور پر فریب وعدوں پر ہے۔ انہی چیزوں سے وہ لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھنساتا ہے۔ پھر جب پھنسا لیتا ہے تو اپنے کو بری قرار دے کر ان بے وقوفوں کی بد انجامی کا تماشا دیکھتا ہے جو اس کے دام میں پھنس کر اپنی دنیا اور عاقبت برباد کر لیتے ہیں۔ ’وسواس‘ (وسوسہ ڈالنے والے) اور ’خنّاس‘ (دبک رہنے والے) کے درمیان حرف ربط نہیں ہے اور اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوں صفتیں موصوف میں بیک وقت موجود ہیں۔ شیطان کا واحد ہتھیار: اس سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوئی کہ شیطان کے پاس واحد ہتھیار صرف وسوسہ اندازی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور زور و اختیار اللہ تعالیٰ نے اس کو نہیں بخشا ہے کہ لازماً وہ لوگوں کو گمراہ کر ہی ڈالے۔ پرفریب وعدوں، ملمع کی ہوئی باتوں، ناصحانہ تنبیہات اور دھمکیوں سے وہ لوگوں کو ڈرانے کی بھی کوشش کرتا ہے اور پرچانے کی بھی لیکن اللہ کے بندے اس کی دھمکیوں سے مرعوب نہ ہوں تو ان کا وہ کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ چنانچہ اس نے جب اللہ تعالیٰ کو یہ دھمکی دی تھی کہ میں اولاد آدم کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا تو اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں یہ واضح فرما دیا کہ’إِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۵) (جا تیرا جو جی چاہے کر دیکھ، میرے خاص بندوں پر ۔۔۔ جو میری بندگی پر قائم رہنا چاہیں گے ۔۔۔ تیرا کوئی زور نہیں چلے گا) ساتھ ہی بندوں کے بارے میں یہ اطمینان بھی دلا دیا تھا کہ’وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً‘ (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۵) (اور تیرا خداوند اعتماد کے لیے بالکل کافی ہے) یعنی اس کے جو بندے اپنے رب پر بھروسہ کر کے شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے اعتماد کی لاج رکھے گا اور وہ سرخ رو ہوں گے۔ ’خنّاس‘ کا مفہوم: ’خَنَّاس‘ کے لفظ سے اس کے کردار کا دوسرا رخ واضح کیا گیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ چھپ کر وسوسہ اندازی کرتا ہے، خود سامنے نہیں آتا اس وجہ سے اس کو ’خنّاس‘ کہا گیا۔ لیکن یہ بات اگر صحیح ہو سکتی ہے تو صرف انہی شیاطین کے حد تک صحیح ہو سکتی ہے جو جنات کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہیں درآنحالیکہ اسی سورہ کی آگے والی آیت میں تصریح ہے کہ شیاطین جنوں اور انسانوں دونوں میں سے ہوتے ہیں۔ اس دور کے بعض قلم کاروں نے اس کے معنی باربار آنے والے کے لکھے ہیں لیکن اس معنی کو عربی لغت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک اس کے معنی وہی ہیں جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں یعنی دبک رہنے والا۔ اس سے مقصود شیطان کے کردار کے اس پہلو کو سامنے لانا ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو ورغلانے کے لیے تو نمودار ہوتا ہے لیکن جب کوئی شخص اس کے چکمہ میں آ کر گناہ کر بیٹھتا ہے تو وہ اس کے نتائج کی ذمہ داری سے اپنے کو بالکل بری قرار دے کر اس کو چھوڑ بیٹھتا ہے۔ چنانچہ شیطان کی صفت قرآن میں ’خَذُوْل‘ بھی آئی ہے یعنی اپنے مریدوں کو دغا دینے والا۔ اس کی اس دغا بازی اور بے وفائی کا ذکر قرآن میں مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ آیا ہے۔ سابق سورہ میں ہم سورۂ بنی اسرائیل کی یہ آیت نقل کر آئے ہیں کہ’وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْْطَانُ إِلاَّ غُرُوۡرًا‘؂۱ (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۴) (اور شیطان کے سارے وعدے محض فریب ہیں)۔ شیطان کا یہ کردار سورۂ حشر میں نہایت واضح لفظوں میں یوں بیان ہوا ہے: کَمَثَلِ الشَّیْْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنۡسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْءٌ مِّنۡکَ إِنِّیْٓ أَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔(الحشر ۵۹: ۱۶) ’’ان کی مثال شیطان کی ہے۔ جب کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر تو جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں، میں عالم کے خداوند، اللہ سے ڈرتا ہوں۔‘‘ اسی شیطانی کردار کا مظاہرہ یہود نے جنگ بدر کے موقع پر قریش کے ساتھ کیا کہ ان کو بھڑی دے کر مدینہ پر چڑھا لائے کہ وہ مسلمانوں کو ختم کر دیں، مسلمان ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اگر ضرورت ہوئی تو وہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ لیکن جب معرکۂ کارزار گرم ہوا اور انھوں نے میدان جنگ کا نقشہ دیکھا تو چھپ کر گھروں میں بیٹھ رہے۔ قرآن نے ان کے اس کردار کا نقشہ یوں کھینچا ہے: وَإِذْ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ أَعْمَالَہُمْ وَقَالَ لاَ غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّیْ جَارٌ لَّکُمْ فَلَمَّا تَرَآءَ تِ الْفِئَتَانِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْہِ وَقَالَ إِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنۡکُمْ إِنِّیْ أَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ۔؂۲ (الانفال ۸: ۴۸) ’’اور جب کہ شیطان (یہود) نے ان کے (قریش کے) اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیے اور کہا کہ اب آپ لوگوں پر غالب ہونے کا بوتا کسی میں نہیں ہے اور میں آپ لوگوں کا پڑوسی ہوں تو جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو وہ دم دبا کر بھاگا اور بولا کہ میں تم سے بری ہوں۔ میں وہ مشاہدہ کر رہا ہوں جو تم نہیں کر رہے ہو۔‘‘ شیطان اور اس کے پیروؤں کا یہی کردار اس دنیا میں بھی ہے اور اسی کا مظاہرہ وہ آخرت میں بھی کریں گے۔ قرآن میں جگہ جگہ گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروؤں کی اس توتکار کی تصویر کھینچی گئی ہے جو ان کے درمیان جہنم میں برپا ہو گی۔ عوام اپنے لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم نے آپ لوگوں کی پیروی کی اور اس کے نتیجہ میں یہاں پہنچے تو کیا آپ لوگ اس عذاب میں سے کچھ حصہ بٹائیں گے جو ہمارے حصہ میں آیا؟ لیڈر جھٹ جواب دیں گے کہ تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہماری پیروی کی، ہم کو تمہارے اوپر کوئی زور تو حاصل نہیں تھا، تم جو کچھ بنے خود بنے تو اپنے کیے کی سزا خود بھگتو۔ لفظ ’خَنَّاسٌ‘ یہاں اس کے اسی کردار کی تصویر پیش کر رہا ہے تاکہ لوگ اس کے صرف اس چاؤ اور پیار ہی کو نہ دیکھیں جو وہ اس وقت ظاہر کرتا ہے جب وہ ان کے پاس فریب دینے کے لیے آتا ہے بلکہ اس کی اس غداری اور بے وفائی کو بھی پیش نظر رکھیں جس کا مظاہرہ وہ اس وقت کرتا ہے جب آدمی اس کے دام فریب میں پھنس جاتا ہے اور متوقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے کیے ہوئے وعدے پورے کرے گا۔ _____ ؂۱وَکَانَ الشَّیْْطَانُ لِلْإِنۡسَانِ خَذُوۡلاً (الفرقان ۲۵: ۲۹) ’’اور شیطان انسان کے ساتھ بڑا ہی بے وفائی کرنے والا ہے۔‘‘ ؂۲ اس آیت کی تفسیر کے لیے ملاحظہ ہو تدبرقرآن۔ جلد سوم، صفحات ۸۰-۸۳۔
    جو دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔
    شیطان کی ذات برادری: شیطان کے مشن کے ساتھ ساتھ یہ اس کی ذات برادری کی بھی نشان دہی کر دی گئی ہے تاکہ لوگ اس کو اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا کہ اس کا اصل کام لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی ہے۔ ’صُدُوْرِ النَّاسِ‘ ظرف ہے لیکن مراد اس سے مظروف ہے یعنی دلوں میں وسوسہ اندازی۔ ’وسوسہ اندازی‘ کا مفہوم ظاہر ہے کہ لوگوں کو خدا کی صراط مستقیم سے برگشتہ کرنے کے لیے وسوسہ اندازی ہے۔ اس کا اظہار شیطان نے خود کر دیا ہے اور ہم ضروری حوالے اوپر نقل کر آئے ہیں۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی ہے، اپنے بندوں پر کوئی اختیار اور تصرف نہیں بخشا ہے۔ وہ صرف وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ لوگوں کو بجبر و زور گمراہ کرنے کا اختیار وہ نہیں رکھتا۔
    جنوں میں سے اور انسانوں میں سے۔
    ’مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ‘۔ یہ اس کی ذات برادری کی نشان دہی ہے کہ شیطان کوئی مستقل مخلوق نہیں ہے بلکہ جنوں اور انسانوں میں سے جو دلوں میں وسوسہ اندازی کا پیشہ اختیار کر لیں وہ شیطان بن جاتے ہیں۔ جس شیطان نے بابا آدم کو دھوکا دیا، قرآن میں تصریح ہے کہ، وہ جنوں میں سے تھا۔ جو لوگ اس کو ایک مستقل مخلوق اور زندہ جاوید ہستی سمجھتے ہیں ان کا خیال غلط ہے۔ البتہ اس نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لیے جس مشن کا اعلان کیا تھا وہ مشن اس کے ان مریدوں کے ذریعہ سے قیامت تک قائم رہے گا جو انسانوں اور جنوں میں سے اپنی خدمات اس کے لیے پیش کریں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List