Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفیل (The Elephant)

    5 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق و لاحق سے تعلق اور ترتیب بیان

    القارعۃ‘ سے لے کر ’الھمزۃ‘ تک خاص بات جو قریش پر واضح فرمائی گئی ہے وہ یہی ہے کہ انھوں نے مال اور اولاد کے عشق میں مبتلا ہو کر اللہ اور بندوں کے حقوق تو تمام برباد کر دیے ہیں لیکن یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے وارث اور ان کے بنائے ہوئے گھر کے متولی ہیں۔ اب اس سورہ اور اس کے بعد کی سورہ ۔۔۔ قریش ۔۔۔ میں، جو اس کی توام ہے، ان کو یہ تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اس سرزمین میں جو امن اور رزق حاصل ہے وہ تمہاری تدبیر و قابلیت اور تمہارے استحقاق کا کرشمہ نہیں بلکہ یہ تمام تر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور ان کے بنائے ہوئے اس گھر کی برکت کا ثمرہ ہے اس وجہ سے تم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس امن و رزق پر نازاں ہونے کے بجائے اس گھر کے خداوند کی بندگی کرو جس نے تمہیں بھوک میں کھلایا اور خطرہ سے نچنت کیا ہے۔ یہ مضمون آگے والی سورہ میں یوں واضح فرمایا گیا ہے:

    ’فَلْیَعْبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ ۵ الَّذِیْ أَطْعَمَہُم مِّنۡ جُوۡعٍ وَاٰمَنَہُمۡ مِّنْ خَوْفٍ‘ (قریش ۱۰۶: ۳-۴)

    (پس چاہیے کہ وہ اس گھر کے خداوند کی بندگی کریں جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور خطرے سے نچنت کیا)

    ان دونوں سورتوں میں بس یہ فرق ہے کہ سورۂ فیل میں ایک نہایت اہم شہادت اس امر کی پیش کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی حفاظت کے لیے اپنی کیا شان دکھائی ہے اور سورۂ قریش میں یہ واضح کیا ہے کہ اس سرزمین کے باشندوں کے لیے رزق و فضل کی جو راہیں کھلی ہیں وہ اسی گھر کے واسطہ سے کھلی ہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس وقت حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو مکہ کی سرزمین میں بسایا ہے اس وقت یہ علاقہ امن اور رزق کے وسائل سے بالکل محروم تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں چیزوں کے لیے دعا کی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور ان کی ذریت کو یہ دونوں چیزیں حرم ہی کے واسطہ سے حاصل ہوئیں لیکن بعد میں لوگ اس حقیقت کو فراموش کر کے اپنی بدمستیوں میں کھو گئے۔ ان کی اس ناشکری پر قرآن نے ان کو جگہ جگہ تنبیہ فرمائی ہے جس کی وضاحت ہم کرتے آ رہے ہیں۔ اس گروپ کی سورتوں میں سے سورۂ بلد میں بھی اس کے بعض اہم پہلو زیربحث آئے ہیں، تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

    زیر نظر سورہ میں قریش کو ابرہہ کی اس فوج کشی کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس نے بیت اللہ الحرام کو ڈھا دینے کے ناپاک ارادے سے ساٹھ ہزار کے لشکر جرار کے ساتھ، مکہ پر کی۔ ایک ایسے بھاری لشکر سے، بالخصوص جب کہ اس کا ہراول دستہ ہاتھیوں پر مشتمل ہو، عربوں کے لیے میدان میں نکل کر عہدہ برآ ہونا آسان نہیں تھا اس وجہ سے انھوں نے پہاڑوں میں محفوظ ہو کر سنگ باری کی صورت میں اپنی مدافعت کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ مدافعت ایک کمزور مدافعت تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید غیبی سے ان کی اسی کمزور مدافعت کو ابرہہ کے لشکرگراں کے لیے ایک قہر الٰہی بنا دیا اور وہ اس طرح تباہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا گوشت مکہ کی وادی میں چیلوں، کوّوں اور گِدھوں کو کھلایا۔

  • الفیل (The Elephant)

    5 آیات | مکی
    الفیل - قریش

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں واقعۂ فیل کے حوالے سے قریش کو تہدید ہے کہ وہ خدا کے قہر سے ڈریں اور دوسری میں بیت الحرام کے حوالے سے اُنھیں تلقین کی گئی ہے کہ خدا کی جو نعمتیں اِس گھر کی بدولت اُنھیں حاصل ہیں، اُن کا لحاظ کریں اور خدا کے مقابلے میں سرکشی چھوڑ کر تنہا اُسی کی بندگی اختیار کر لیں۔

    دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الفیل—- کا موضوع قریش کو اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ جس پروردگار نے اپنے دشمنوں کو تمھارے سامنے اِس طرح پامال کیا ہے، تم اُس کی دشمنی کے لیے اٹھے ہو تو وہ تمھیں چھوڑ نہیں دے گا۔ تم بھی اِسی طرح پامال کر دیے جاؤ گے۔

    دوسری سورہ—- قریش—- کا موضوع اُنھیں اِس بات کی تلقین کرنا ہے کہ جس گھر کے مالک نے اُنھیں رزق و امن سے نوازا ہے، اُس کا یہ حق تو کم سے کم پہچانیں کہ تنہا اُسی کی عبادت کریں اور دنیا میں اُس کے بندے بن کر رہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 105 Verse 001 Chapter 105 Verse 002 Chapter 105 Verse 003 Chapter 105 Verse 004 Chapter 105 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے خداوند نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا!
    خطاب کی نوعیت: ’اَلَمْ تَرَ‘ کے خطاب کی نوعیت ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اگرچہ یہ لفظاً واحد ہے لیکن اس کا استعمال بیشتر جمع کو مخاطب کرنے کے لیے ہوتا ہے اور یہ طرز خطاب گویا مخاطب گروہ کے ایک ایک فرد کو فرداً فرداً متوجہ کرتا ہے۔ یہاں مخاطب قریش ہیں۔ ان کو مخاطب کر کے توجہ دلائی ہے کہ اصحاب فیل کے ساتھ تمہارے رب نے جو معاملہ کیا، کیا وہ تم نے نہیں دیکھا؟ یہ امر ملحوظ رہے کہ اصحاب الفیل کے واقعہ پر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت عام الفیل ہی کے دوران میں ہوئی ہے اس وجہ سے اس سورہ کے نزول کے وقت بہت سے ایسے لوگ رہے ہوں گے جنھوں نے اس واقعہ کا بچشم خود مشاہدہ کیا ہو گا اور اگر مشاہدہ نہیں کیا ہو گا تو اس تواتر کے ساتھ سنا ہو گا کہ وہ مشاہدہ ہی کے حکم میں ہے۔ اس وجہ سے ’اَلَمْ تَرَ‘ کا خطاب یہاں بالکل اپنے موزوں محل میں ہے۔ اصحاب الفیل کون تھے؟ قرآن نے یہاں ان ہاتھی والوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے کہ وہ کون تھے، کہاں سے آئے تھے اور ان کے آنے کا مقصد کیا تھا؟ اجمال کے ساتھ صرف ان کے انجام کی طرف اشارہ کر کے بات ختم کر دی ہے۔ اس اجمال کی وجہ یہ ہے کہ مخاطب گروہ کو ان کا سارا واقعہ معلوم تھا۔ ’اصحاب الفیل‘ کے الفاظ سے ان کا تعارف ہی یہ سمجھ جانے کے لیے کافی تھا کہ یہ اشارہ یمن کے حبشی حکمران، ابرہہ کی طرف ہے جس کے حملہ آور لشکر کے ساتھ کوہ پیکر ہاتھی بھی تھے۔ ہاتھیوں والے لشکر کا تجربہ عربوں کو پہلی بار اسی جنگ میں ہوا اس وجہ سے اسی نام سے انھوں نے اس حملہ کو یاد رکھا جس سے اس کی سنگینی کا اظہار ہوتا ہے۔ ہاتھی ایک ہی تھا یا اس سے زیادہ تھے قرآن کے الفاظ سے دونوں ہی مفہوم نکل سکتے ہیں لیکن چونکہ ’صاحب الفیل‘ نہیں بلکہ ’اصحاب الفیل‘ کہا گیا ہے اس وجہ سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ ہاتھی ایک سے زیادہ تھے اور روایات سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھیوں کا ایک پورا دستہ فوج کے ساتھ تھا جس سے اس کی قوت اور ہیبت میں بڑا اضافہ ہو گیا تھا۔ ابرہہ اور اس کا کردار: ابرہہ کو اگرچہ بعض مورخین نے ایک بردبار حکمران لکھا ہے لیکن اس کے حالات زندگی سے اس حسن ظن کی تائید نہیں ہوتی بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک موقع پرست، غدار اور نہایت متعصب عیسائی تھا۔ اس نے خود حبش کے بادشاہ کے ساتھ غداری کی جس کی فوجوں کے ذریعہ سے اس نے یمن پر قبضہ کیا تھا، اس کی تفصیل تاریخوں میں موجود ہے، لیکن یہاں اس سے تعرض کا موقع نہیں ہے۔ یمن پر قبضہ کرنے کے بعد اس نے نہ صرف اس کے یہودی بادشاہ کو قتل کیا بلکہ وہاں سے یہود اور یہودیت کا بیخ و بُن سے خاتمہ کر دیا۔ ابرہہ کی چال اور اس کی ناکامی: عیسائیت کے تعصب کے جنون میں اس نے یہ اسکیم بنائی کہ عربوں کو عیسائی بنا لے۔ اس اسکیم کو بروئے کار لانے کے لیے اس نے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک عظیم الشان گرجا بنوایا اور حبش کے نجاشی کو، جس کے نائب السلطنت کی حیثیت سے وہ یمن پر حکومت کر رہا تھا، اس نے لکھا کہ میں نے ایک ایسا گرجا تعمیر کرایا ہے جس کی نظیر چشم فلک نے نہیں دیکھی ہو گی۔ میں چاہتا ہوں کہ عربوں کے حج کا رخ بھی اسی کی طرف موڑ دوں اور ان کے مکہ کے معبد کو ڈھا دوں۔ اس کے بعد اس نے کعبہ پر حملہ کا جواز پیدا کرنے کے لیے مشہور کیا کہ اس کے تعمیر کردہ گرجا کو کسی عرب نے بقصد توہین ناپاک کیا ہے۔ یہ واقعہ اول تو بالکل جھوٹ معلوم ہوتا ہے، عرب ہمیشہ تلوار کے دھنی رہے ہیں، بہادر قوموں کے افراد اس طرح کی پست حرکتیں نہیں کیا کرتے، لیکن بالفرض صحیح بھی ہو تو کسی ایک شخص کا انفرادی فعل اس بات کو جائز ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ اس کا انتقام پوری قوم سے لیا جائے، یہاں تک کہ اس جرم کی پاداش میں ان کے دینی معبد کو ڈھا دینے کی جسارت کی جائے لیکن عیسائیوں کے جذبات بھڑکانے اور نجاشی کی تائید حاصل کرنے کے لیے اس جھوٹ کو خوب شہرت دی گئی یہاں تک کہ ساٹھ ہزار کا لشکر جرار، جس کے ساتھ نو دس ہاتھی بھی تھے، جمع کر کے مکہ پر حملہ کر دیا گیا۔
    کیا ان کی چال بالکل برباد نہ کر دی!
    لیکن ابرہہ کی یہ ساری تدبیریں اللہ تعالیٰ نے بالکل پائمال و رائگاں کر دیں۔ ان تدبیروں کو ’کید‘ (چال) سے تعبیر کرنے کی ایک واضح وجہ تو وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ ایک نہایت ظالمانہ اقدام کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایک نہایت بے ہودہ قسم کا الزام گھڑا گیا لیکن اس کے ’کید‘ ہونے کے بعض اور پہلو بھی ہیں جن کی طرف امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اشارے فرمائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’۱۔ اس نے محترم مہینوں میں حملہ کیا۔ اس کو خیال تھا کہ عرب ان مہینوں میں جنگ و خونریزی سے احتراز کرتے ہیں۔ ۲۔ اس نے مکہ میں ایسے وقت میں داخل ہونے کی کوشش کی جب اہل مکہ دوسرے عربوں کے ساتھ حج کے مناسک ادا کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ۳۔ اس نے خاص طور پر قیام منیٰ کے دنوں میں حملہ کرنا چاہا کہ عرب یا تو منیٰ میں قربانی میں مصروف ہوں گے یا تھکے ماندے گھروں کو واپس آ رہے ہوں گے۔‘‘ ابرہہ کی چالوں کی ناکامی کا خدائی انتظام: اس کی ان چالوں کو ناکام کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام فرمایا اس کا خلاصہ، واقعات سے مستنبط کر کے، مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے: ’’۱۔ ان کی فوج کو وادئ محسر ہی میں روک دیا۔ ۲۔ محسر کے پتھروں سے عربوں نے اسلحہ کا کام لیا اور ان پر سنگ باری کی جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ ۳۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کے ان دشمنوں پر سنگ باری کرنے والی ہوا (حاصب) بھی بھیجی جس نے ان کو بالکل پامال کر دیا۔‘‘ اس ’حاصب‘ کا ذکر واقعہ کے بعض عینی شاہدوں نے کیا ہے اور ابن ہشام وغیرہ نے اپنی کتابوں میں ان شہادتوں کو نقل کیا ہے۔ مولانا فراہیؒ نے اس پر پوری تفصیل سے بحث کی ہے۔ ہم بقصد اختصار صرف دو مثالیں پیش کرتے ہیں۔ مشہور شاعر ابوقیس اس واقعہ کے سلسلہ میں قدرت الٰہی کی بعض شانوں کا ذکر کرتے ہوئے ’حاصب‘ کا ذکر یوں کرتا ہے: فارسل من ربھم حاصب یلفہم مثل لف القزم (پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حاصب (سنگ ریزے برسانے والی آندھی) چلی جو خس و خاشاک کی طرح ان کو لپیٹ لیتی)۔ اسی طرح صیفی بن عامر نے بھی ’ساف‘ اور ’حاصب‘ کا ذکر کیا ہے۔؂۱ وہ کہتا ہے: فلما اجازوا بطن نعمان ردھم جنود الا لہ بین ساف و حاصب (جونہی وہ بطن نعمان سے آگے بڑھے، خدا کی فوجوں نے ساف اور حاصب کے درمیان نمودار ہو کر ان کو پسپا کر دیا)۔ _____ ؂۱ لفظ ’ساف‘ بھی ’حاصب‘ کی طرح تند ہوا ہی کے لیے آتا ہے۔ دونوں میں صرف درجے کا فرق ہے۔
    اور ان پر جُھنڈ کی جُھنڈ چڑیاں نہ بھیجیں!
    ابرہہ کی فوجوں کی بربادی کی تعبیر بطریق کنایہ: یہ ابرہہ کی فوجوں کی بربادی، پامالی اور بے کسی و بے بسی سے کنایہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس طرح ان کو پامال کیا کہ کوئی ان کی لاشوں کو اٹھانے والا نہ رہا۔ وہ میدان میں پڑی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر گوشت خوار چڑیاں بھیجیں جنھوں نے ان کا گوشت نوچا، کھایا اور وادئ مکہ کو ان کے تعفن سے پاک کیا۔ دشمن پر چڑیوں کو مسلط کرنا اس کی شکست و پامالی کی تعبیر کے لیے معروف کنایہ ہے۔ عرب شعراء نے اپنے فخریوں میں یہاں تک کہا ہے کہ جب ہماری فوجیں دشمن پر حملہ آور ہوتی ہیں تو گوشت خوار چڑیاں ہمارے ہم رکاب ہوتی ہیں، انھیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمارے حملہ سے دشمن پامال ہوں گے اور ان کو پیٹ بھر ان کا گوشت کھانے کا موقع ملے گا۔ تورات میں حضرت داؤد اور جالوت کا جو واقعہ بیان ہوا ہے اس میں بھی ہے کہ جب حضرت داؤد اس سے مقابلہ کرنے پر بضد ہوئے اور اس کی مغرورانہ باتوں کا جواب ترکی بہ ترکی دیا تو اس نے جھلا کر کہا کہ ’’اچھا آ، آج تیرا گوشت چیلوں اور کوّوں کو کھلاتا ہوں۔‘‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو اس پر غلبہ دیا اور خود اسی کے گوشت کو چیلوں اور گِدھوں نے کھایا۔ ابابیل: ’اَبَابِیْلَ‘ سے ابابیلیں مراد نہیں ہیں، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے۔ یہ لفظ گھوڑوں کی جماعت اور چڑیوں کے جھنڈ کے لیے آتا ہے۔ اس کے واحد اور جمع ہونے کے باب میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اس کی واحد نہیں ہے۔ بعض اس کو ’اِبَّالَۃٌ‘ کی جمع بتاتے ہیں۔ یہاں یہ ان چڑیوں کے لیے آیا ہے جو مقتولوں کی لاشیں کھانے کے لیے جمع ہو جاتی ہیں۔ ’اَرْسَلَ عَلَیْھِمْ‘ میں مسلط کر دینے کا مضمون ہے جس سے اصحاب فیل کی کس مپرسی کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ کوئی ان کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے والا نہیں تھا۔ اس وجہ سے چڑیوں کو پوری آزادی سے ان پر تصرف کرنے کا موقع ملا۔
    تم ان کو مارتے تھے سنگ گِل کے قسم کے پتھروں سے۔
    مفسرین کی ایک عام غلط فہمی: اب آخر میں بتایا کہ اس لشکر جرار کے تباہ کرنے میں کتنا حصہ عربوں کا ہے اور کتنا قدرت کا۔ فرمایا کہ تم ان کو پتھروں اور کنکروں سے مار رہے تھے، پس خدا نے ان کو کھانے کے بھس کی طرح پامال کر دیا۔ یعنی اس لشکر جرار کے مقابلے میں تمہاری یہ مدافعت نہایت کمزور تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید غیبی سے تمہاری یہی کمزور مدافعت اتنی مؤثر بنا دی کہ وہ کھانے کے بھس کی طرح پامال ہو کر رہ گئے۔ ہمارے مفسرین تو عام طور پر کہتے ہیں کہ قریش نے ابرہہ کا کوئی مقابلہ نہیں کیا بلکہ ان کے سردار، عبدالمطلب قوم کو لے کر پہاڑوں میں جا چھپے اور خانہ کعبہ کو خدا کے سپرد کر دیا کہ جس کا یہ گھر ہے وہ خود اس کی حفاظت کر لے گا۔ ان کے نزدیک ’تَرْمِیْ‘ کا فاعل ’طَیْرًا اَبَابِیْلَ‘ ہے۔ یعنی چڑیوں نے ابرہہ کی فوجوں پر سنگ باری کر کے ان کو پامال کر دیا۔ اگرچہ اس قول پر تمام مفسرین متفق ہیں لیکن گوناگوں وجوہ سے یہ بالکل غلط ہے جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کریں گے: ۱۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس موقع پر قریش پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ مدافعت سے کلیۃً دست بردار ہو کر پہاڑوں میں جا چھپے تھے، بلکہ ابرہہ کی عظیم فوج کے مقابل میں مدافعت کی واحد ممکن شکل جو وہ اختیار کر سکتے تھے یہی تھی اس وجہ سے انھوں نے یہی اختیار کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق کہ بندہ جب اپنے امکان کے حد تک اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کی مدد فرماتا ہے، اس نے قریش کی مدد فرمائی۔ اوپر آپ پڑھ آئے ہیں کہ ابرہہ کا لشکر ساٹھ ہزار تھا اور اس کے ساتھ ہاتھیوں کا ایک دستہ بھی تھا۔ اتنی بڑی فوج کا مقابلہ میدان میں نکل کر اور صف بندی کرکے، تلواروں کے ذریعہ سے کرنا، قریش کے لیے ناممکن تھا۔ وہ اگر اپنا پورا زور و اثر استعمال کرتے تو بھی شاید دس بیس ہزار سے زیادہ آدمی اکٹھے نہ کر پاتے، اس وجہ سے انھوں نے اپنے لیے بہترین جنگی پالیسی یہی خیال کی کہ میدان میں نکل کر مقابلہ کرنے کے بجائے پہاڑوں میں محفوظ ہو جائیں اور وہاں سے گوریلوں کے طریقہ پر، جس حد تک ان کے اقدام میں مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں، کریں۔ یہ اسی طرح کی ایک تدبیر تھی جس طرح کی تدبیر مسلمانوں نے غزوۂ احزاب کے موقع پر اختیار کی۔ یعنی مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی اور اس کے اندر محفوظ ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ ۲۔ جن لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قریش نے کوئی مزاحمت نہیں کی، ان کا دعویٰ واقعات کے بھی خلاف ہے اور قریش کی حمیت و غیرت کے بھی۔ تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ ابرہہ کی فوجیں جن راستوں سے گزریں ان کے عرب قبائل نے ان کو مزاحمت کے بغیر گزرنے نہیں دیا بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ اس دل بادل فوج سے ان کے لیے عہدہ برآ ہونا ممکن نہیں ہے انھوں نے مزاحمت کر کے شکست کھانا تو گوارا کیا لیکن یہ ننگ نہیں گوارا کیا کہ دشمن خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے ان کے حدود کے اندر سے، آسانی سے، گزر جائے۔ صرف ایک قبیلہ، بنو ثقیف نے اہل عرب کی اس عام حمیت کے خلاف روش اختیار کی۔ اس کے بعد ایک فرد، ابورغال نے ابرہہ کی فوج کو مکہ کا راستہ بتایا لیکن اس قبیلہ کو اس بے حمیتی کی سزا یہ ملی کہ پورے عرب میں اس کی آبرو مٹ گئی اور ابورغال کا حشر یہ ہوا کہ اس کی قبر پر اہل عرب ایک مدت تک لعنت کے طور پر سنگ باری کرتے رہے۔ غور کیجیے کہ جب چھوٹے چھوٹے قبائل نے اس بے جگری سے دشمن کا مقابلہ کیا تو قریش اس کے آگے اس بے حمیتی کا اظہار کس طرح کرتے کہ اس کو بے روک ٹوک اللہ کے گھر پر قابض ہو جانے دیتے۔ اور اگر انھوں نے واقعی بغیر کسی مزاحمت کے اس کو راہ دے دی تھی تو ابورغال نے کیا گناہ کیا تھا کہ اس کی قبر پر وہ سنگ باری کرتے رہے۔ بہرحال یہ بات کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ وہ بغیر کوئی مزاحمت کیے پہاڑوں میں جا چھپے۔ قریش کی غیرت و حمیت ہمیشہ مشہور رہی ہے۔ انھوں نے کبھی معمولی باتوں میں بھی کوئی ایسی کمزوری نہیں دکھائی جس سے ان کی غیرت و حمیت پر حرف آئے، تو وہ بیت اللہ کے معاملہ میں ایسی بے حمیتی کا ثبوت کیونکر دے سکتے تھے جس پر ان کی دینی و دنیوی دونوں سیادتوں کا انحصار تھا۔ بیت اللہ کے بعد ان کے پاس بچ کیا رہتا تھا جس کے لیے وہ پہاڑوں میں چھپ کر زندگی بچانے کی تمنا کرتے! ۳۔ جن لوگوں نے قریش پر اس بے حمیتی کا الزام لگایا ہے ان کے نزدیک اس سورہ کا درس گویا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس گھر کا محافظ خود ہے۔ اس کے پاسبان، دشمن سے ڈر کر، اگر اس کو چھوڑ کے بھاگ جائیں جب بھی خدا اس کی حفاظت کرے گا۔ چنانچہ جب قریش ابرہہ کی فوجوں سے ڈر کر پہاڑوں میں جا چھپے تو اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں کے ذریعہ سے ان پر پتھراؤ کر کے ان کو بھس کی طرح پامال کر دیا۔ اگر فی الواقع اس سورہ کا درس یہی ہے تو یہ درس اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ نہیں ہے کہ بندے اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے بنی اسرائیل کی طرح یہ کہیں کہ’فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ‘ (المائدہ ۵: ۲۴) (تم اور تمہارا خداوند جاؤ لڑو، ہم یہاں بیٹھتے ہیں) اور خدا ان کے لیے میدان جیت کر ان کے لیے تخت بچھا دے اور یہ اس پر براجمان ہو جائیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والا ہوتا تو بنی اسرائیل کے ساتھ اس نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ ان کو تو اس نے اس کی سزا یہ دی کہ چالیس سال کے لیے ان کو صحرا ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جو قرآن سے واضح ہوتی ہے وہ تو یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد فرماتا ہے جو اپنا فرض ادا کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اگرچہ ان کی تعداد کتنی ہی کم اور ان کے وسائل کتنے ہی محدوود ہوں۔ چنانچہ قرآن نے بیت اللہ سے متعلق سورۂ بقرہ، سورۂ توبہ، سورۂ حج وغیرہ میں ہماری جو ذمہ داریاں بتائی ہیں وہ یہی ہیں کہ ہم اس کی آزادی و حفاظت کے لیے جو کچھ ہمارے بس میں ہے وہ کریں، اللہ ہماری مدد کرے گا۔ یہ کہیں نہیں کہا ہے کہ تم کچھ کرو یا نہ کرو ہماری ابابیلیں اس کی حفاظت کر لیں گی۔ بہرحال قریش نے، جو کچھ ان کے امکان میں تھا، وہ کیا۔ اگرچہ ان کی مدافعت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، کمزور تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حاصب کے ذریعہ سے ان کی اس کمزور مدافعت کے اندر اتنی قوت پیدا کر دی کہ دشمن کھانے کے بھس کی طرح پامال ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے موقع پر صرف مٹھی بھر خاک قریش کے لشکر کی طرف پھینکی تھی لیکن وہی مٹھی بھر خاک ان کے لیے طوفان بن گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی اہمیت یوں واضح فرمائی کہ’وَمَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی‘ (الانفال ۸: ۱۷) (اور وہ کنکریاں دشمنوں پر تم نے نہیں پھینکیں تھیں بلکہ اللہ نے پھینکیں)۔ ۴۔ عبدالمطلب کا اپنے رب سے استغاثہ: عبدالمطلب نے جبل حراء پر چڑھ کر رب کعبہ سے جو استغاثہ کیا اس سے یہ بات نہیں نکلتی کہ وہ بیت اللہ کی مدافعت سے بالکل دست بردار ہو کر اور سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالہ کر کے، خود الگ ہو رہے ہیں بلکہ اس میں انھوں نے بعض فقرے تو ایسے کہے ہیں جن کے اندر ناز اور اعتماد کی وہ شان پائی جاتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا میں ہے جو آپ نے غزوۂ بدر کے موقع پر عین میدان جنگ میں فرمائی ہے۔ اس طرح کی دعا میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے والا نہیں کرتا بلکہ وہ شخص کرتا ہے جو اگرچہ حالات کی نزاکت سے پریشان تو ہوتا ہے لیکن اپنے رب کی قدرت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اس دعا کو جن لوگوں نے فرار کے مفہوم میں لیا ہے انھوں نے نہایت بدذوقی کا ثبوت دیا ہے۔ میں تو جب اس کو پڑھتا ہوں مجھے اس کے اندر ایک رجز کی شان معلوم ہوتی ہے اور اس سے ایمان کی مہک آتی ہے۔ آپ بھی ذرا اپنے ذوق کو بیدار کر کے یہ اشعار پڑھیے۔ ان میں کتنی حرارت اور اللہ تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لانے والی کتنی مؤثر اپیل ہے! اللھم ان المرء یمنع رحلہ فامنع رحالک (اے خدا، آدمی اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے لوگوں کی حفاظت کر) لا یغلِبنّ صلیبھم ومحالھم ابدا محالک (ان کی صلیب اور ان کی قوت تیری قوت پر ہرگز غالب نہ ہونے پائے) ان کنت تارکھم وقبلتنا فامر ما بدا لک (اگر تو ہمارے قبلہ کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتا ہے تو کر جو تیری مرضی!) کیا اس غیرت و حمیت کے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ میدان چھوڑ کر بھاگ جائے گا۔ بہرحال یہ رائے ہمارے نزدیک بالکل بے بنیاد ہے کہ قریش میدان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ چڑیوں نے سنگ باری کر کے ابرہہ کی فوجوں کو پامال کیا۔ ’تَرْمِیْ‘ کے فاعل، ہمارے نزدیک قریش ہیں جو ’اَلَمْ تَرَ‘ کے مخاطب ہیں۔ فعل ’تَرْمِیْ‘ چڑیوں کے لیے کسی طرح موزوں ہے بھی نہیں۔ چڑیاں اپنی چونچوں اور چنگلوں سے سنگ ریزے گرا تو سکتی ہیں لیکن اس کو ’رمی‘ نہیں کہہ سکتے۔ ’رمی‘ صرف اسی صورت میں ہو گی جب پھینکنے میں بازو یا فلاخن کا زور استعمال ہو یا ہوا کے تند و تیز تھپیڑے اس کے ساتھ ہوں۔ چنانچہ جو لوگ چڑیوں کی رمی کے قائل ہوئے ہیں انھیں بھی لفظ ’رمی‘ کھٹکا ہے۔ انھوں نے تکلف کر کے اس کی شکل یہ بیان کی ہے کہ چڑیاں مٹر کے دانوں کے برابر سنگ ریزے گراتی تھیں جو ہاتھیوں کے سواروں کے جسموں میں سے گزر کر ہاتھیوں کے جسموں میں گھس جاتے تھے۔ اس طرح انھوں نے چڑیوں کی چونچوں سے گرے ہوئے سنگ ریزوں کا مؤثر ہونا تو دکھا دیا لیکن یہ واقعہ ہے کہ اس صورت کو ’رمی‘ سے تعبیر کرنا کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ ’سجّیل‘: ’بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْل‘۔ لفظ ’سِجِّیْلٌ‘ کی تحقیق اس کے محل میں ہو چکی ہے۔؂۱  یہ فارسی کے سنگ گل سے معرب ہے۔ اس کا ترجمہ اگر کنکر کیجیے تو میرے نزدیک یہ صحیح ہو گا۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ عربوں کی یہ مدافعت ایک کمزور مدافعت تھی۔ اصل مقابلہ تو اس صورت میں ہوتا جب کھلے میدان میں صف بندی کر کے تلواروں، نیزوں اور تیروں سے دوبدو جنگ ہوتی۔ اگر حریف کے پاس ہاتھی تھے تو ان کے پاس بھی کم از کم گھوڑے ہوتے لیکن اس طرح کی جنگ کا، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، امکان نہیں تھا اس وجہ سے قریش نے آخری چارۂ کار کے طور پر یہ راہ اختیار کی کہ جہاں داؤ لگ گیا پہاڑوں سے پتھراؤ کر کے دشمن کی راہ روکنے کی کوشش کی۔ ظاہر ہے کہ یہ مدافعت ایک کمزور مدافعت تھی اور اس کی اس کمزوری ہی کو واضح کرنے کے لیے قرآن نے ’بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْل‘ کے الفاظ سے اس کی نوعیت واضح کر دی۔ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو تدبرقرآن۔ جلد سوم، صفحہ: ۴۰۷۔  
    بالآخر ان کو اللہ نے کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔
    یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت بیان فرمائی ہے کہ اگرچہ تمہاری مدافعت کمزور مدافعت تھی لیکن جب تم حوصلہ کر کے مدافعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی سنت کے مطابق تمہاری مدد کے لیے اپنی شان دکھائی اور ان کو کھانے کے بھس کی طرح پامال کر دیا۔ کسی شے کا نام اس کے انجام کے اعتبار سے رکھنا عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ ’کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ‘ اسی نوع کی ترکیب ہے۔ یہاں یہ بات نگاہ میں رہے کہ ’رمی‘ کی نسبت تو مخاطب کی طرف کی ہے لیکن ان کو کھانے کے بھس کی طرح کر دینا اللہ تعالیٰ نے اپنی شان بتائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابرہہ کے لشکر کو پامال کردینا تنہا عربوں کی سنگ باری کے بس کی بات نہ تھی اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی شان دکھائی اور یہ شان ان کی سنگ باری کے پردے میں دکھائی۔ ہم پیچھے بعض عینی شاہدوں کا یہ بیان نقل کر آئے ہیں کہ ابرہہ کی فوجوں پر حاصب بھی چلی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حاصب اسی وقت چلی ہے جب عربوں نے وادئ محسر کے کنکروں سے ان پر پتھراؤ کیا۔ یاد ہو گا کہ غزوۂ خندق کے موقع پر بھی ہوا نے مسلمانوں کی مدد کی تھی اسی طرح کی مدد اس موقع پر بھی نمودار ہوئی۔ ہم پیچھے یہ اشارہ کر آئے ہیں کہ ابرہہ کی فوجوں کے مقابل میں قریش نے اس سے ملتی جلتی تدبیر اختیار کی جو مسلمانوں نے احزاب کے مقابل میں اختیار کی۔ ایک سوال اور اس کا جواب: اب صرف ایک سوال قابل غور رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر واقعہ یہ ہے کہ ابرہہ کی فوجوں کی پامالی چڑیوں کی سنگ باری سے نہیں بلکہ عربوں کی سنگ باری اور حاصب کے ذریعہ سے ہوئی، چڑیاں صرف لاشوں کو کھانے آئی تھیں، تو ترتیب کلام یوں ہونی چاہیے تھی کہ ’تَرْمِیْھِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَ‘ یہ سوال جن لوگوں کے ذہن میں ہوا ہے ہمارے نزدیک وہ عربیت کے ایک خاص اسلوب بلاغت سے نا آشنا ہیں۔ وہ یہ کہ بعض مرتبہ کسی نتیجۂ خیر یا شر کی مبادرت ظاہر کرنے کے لیے اس کو فعل کی پوری تفصیل سے پہلے ہی ظاہر کر دیتے ہیں۔ دعاؤں کی قبولیت کی مبادرت ظاہر کرنے کے لیے قرآن نے یہ اسلوب جگہ جگہ اختیار کیا ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں سورۂ نوح سے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں: قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّھُمْ عَصَوْنِیْ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْہُ مَالُہٗ وَوَلَدُہٗ اِلَّا خَسَارًا وَمَکَرُوْا مَکْرًا کُبَّارًا وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًَا وَقَدْ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا مِمَّا خَطِیْٓئٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا فَلَمْ یَجِدُوْا لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْصَارًا وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا.(نوح ۷۱: ۲۱-۲۷) ’’نوح نے فریاد کی، اے میرے رب! انھوں نے میری نافرمانی کر دی اور ان لوگوں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے خسارے ہی میں اضافہ کیا اور انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں اور اپنی قوم کو ورغلایا کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑیو اور نہ چھوڑیو وَدّ کو اور نہ سُوَاع کو اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو (اور اے میرے رب) انھوں نے ایک خلق کثیر کو گمراہ کر رکھا ہے اور تو ان ظالموں کی گمراہی ہی میں اب اضافہ کر، پس وہ اپنے گناہوں کی پاداش میں پانی میں غرق اور آگ میں داخل کیے گئے اور اللہ کے مقابل میں وہ اپنے لیے کوئی مددگار نہ پا سکے اور نوح نے کہا، اے میرے رب! تو ان کافروں میں سے زمین پر ایک متنفس بھی نہ چھوڑ۔ اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور صرف نابکاروں اور ناشکروں ہی کو جنم دیں گے۔‘‘ ان آیات پر تدبر کی نظر ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کے پہلے ہی فقرے کے بعد ان کی قوم کا انجام رکھ دیا گیا ہے اور ان کی باقی دعا مؤخر کر دی گئی ہے حالانکہ انجام بہرحال پوری دعا کے بعد ہی سامنے آیا ہو گا۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ قبولیت دعا کی مبادرت ظاہر کرنے کے لیے ترتیب کلام میں تقدیم یا تاخیر کر دی گئی! بالکل اسی طرح اس سورہ میں، ابرہہ کی فوجوں کا انجام ظاہر کرنے کے لیے ان پر چڑیوں کے بھیجے جانے کا ذکر پہلے کیا اور ان کے پامال ہونے کا ذکر اس کے بعد کیا۔ سورہ کا مزاج چونکہ قریش پر امتنان و احسان کا تھا اس وجہ سے بلاغت کا تقاضا یہی تھا کہ دشمن کی بدانجامی کی تصویر پہلے سامنے آئے۔ استاذ امام حمید الدین فراہی علیہ الرحمۃ نے اس سورہ کی تفسیر نہایت مفصل لکھی ہے۔ میں نے بقصد اختصار ان کی کتاب کی بعض باتیں اس میں نہیں لی ہیں حالانکہ وہ تفسیر کے پہلو سے نہایت اہمیت رکھنے والی ہیں۔ مولانا نے حج کے سلسلہ میں ’رمی جمرات‘ کی سنت کو اسی ’رمی‘ کی یادگار قرار دیا ہے اور بعض دوسری تحقیقات بھی نہایت اہم بیان فرمائی ہیں۔ اس کتاب کے قارئین کو میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ مولانا کی تفسیر بھی ضرور پڑھیں۔ اس سے ان کے زاویۂ نگاہ میں وسعت بھی پیدا ہو گی اور وہ فرق بھی سامنے آئے گا جو ان کے اور میرے نقطۂ نظر میں، بہت باریک سا، ہے۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List