Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • العلق (The Clinging Clot, The Clot, Recite)

    19 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ التین ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ سابق سورہ میں تاریخی شواہد اور فطرت انسانی کی اعلیٰ ساخت سے یہ حقیقت نمایاں فرمائی ہے کہ انسان کے لیے فلاح کی راہ یہ ہے کہ وہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرے۔ جو لوگ یہ راہ اختیار نہیں کرتے وہ بالآخر تباہی کے کھڈ میں گر کے رہتے ہیں اور اپنے اس انجام کے وہ خود ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اسی کلیہ کی روشنی میں اس سورہ میں قریش اور ان کے لیڈروں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ سیدھی راہ اختیار کرنے کے بجائے بالکل الٹی چال چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنے فضل و کرم سے ان کی رہنمائی کے لیے اپنا صحیفۂ ہدایت اتارا لیکن ان کے طغیان کا حال یہ ہے کہ اللہ کا جو بندہ ان کے لیے ایمان و عمل صالح کی راہ کھول رہا ہے یہ اس کے جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ اپنے رب کی نماز پڑھتا ہے تو یہ شامت زدہ لوگ اس کے بھی روادار نہیں ہیں بلکہ اس سے بالجبر روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • العلق (The Clinging Clot, The Clot, Recite)

    19 آیات | مکی

    التین - العلق

    ​یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ خدا کے جس قانون مجازات کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ وہ اگر اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا تو لازماً اُس کی زد میں آجائے گا۔ دونوں میں خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن روے سخن، اگر غور کیجیے تو قریش کے اُنھی سرداروں کی طرف ہے جن کی سرکشی اب اپنی انتہا کو پہنچ رہی تھی۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ ہجرت سے کچھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- التین—- کا موضوع روز جزا کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو تنبیہ ہے کہ اُن پر خدا کی حجت ہر لحاظ سے پوری ہو گئی ہے، لہٰذا ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا قیامت کو جھٹلانے کے لیے اب اُن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    دوسری سورہ—- العلق—- کا موضوع قریش کے بڑے سردار کو تہدید ہے کہ قرآن جیسی کتاب کے ذریعے سے تعلیم و تذکیر کے بعد بھی وہ اگر سرکشی پر قائم ہے تو اِس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ خدا کے سرہنگ بہت جلد اُسے گھسیٹ کر جہنم کے گہرے کھڈ میں ڈال دیں گے اور اُس کے اعوان وانصار میں سے کوئی بھی اُس کی کچھ مدد نہ کر سکے گا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 096 Verse 001 Chapter 096 Verse 002 Chapter 096 Verse 003 Chapter 096 Verse 004 Chapter 096 Verse 005 Chapter 096 Verse 006 Chapter 096 Verse 007 Chapter 096 Verse 008 Chapter 096 Verse 009 Chapter 096 Verse 010 Chapter 096 Verse 011 Chapter 096 Verse 012 Chapter 096 Verse 013 Chapter 096 Verse 014 Chapter 096 Verse 015 Chapter 096 Verse 016 Chapter 096 Verse 017 Chapter 096 Verse 018 Chapter 096 Verse 019
    Click translation to show/hide Commentary
    پڑھ اپنے اس خداوند کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
    ’اقْرَا‘ بطریق دعوت سنانے کے معنی میں: لفظ ’اقْرَا‘ (پڑھو) صرف اسی مفہوم میں نہیں آتا جس مفہوم میں ایک استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے: پڑھو!، بلکہ یہ ’اقْرَا عَلی الناس‘ یا ’اُتل علی الناس‘ یعنی دوسروں کو بطریق دعوت سنانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ان کفار کو مخاطب کر کے جو قرآن کے سنانے میں مزاحم ہوتے تھے، فرمایا ہے: وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَأَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ (الاعراف ۷: ۲۰۴) ’’جب قرآن سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے: وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالۡآخِرَۃِ حِجَابًاً مَّسْتُوۡرًا (بنی اسرائیل ۱۷: ۴۵) ’’اور جب تم لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک مخفی پردہ کھڑا کر دیتے ہیں۔‘‘ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں یہ لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ ایک نہایت اہم تنبیہ: ’بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘۔ یعنی اس قرآن کو اپنے اس خداوند کے نام سے پڑھ کر سناؤ جو سارے جہان کا خالق ہے۔ یہ ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اس کو اپنے خداوند کے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے پیش کرو تاکہ لوگ یہ جانیں کہ جو کلام ان کو سنایا جا رہا ہے وہ براہ راست رب دوجہان کا کلام ہے۔ نہ یہ داعی کا کلام ہے، نہ کسی اور شخص کا اور نہ یہ کسی سائل کی درخواست ہے کہ رد کر دی تو وہ دور ہو جائے۔ بلکہ یہ اس خالق و مالک کا کلام ہے جس کو حق ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو حکم دے اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ بے چون و چرا اس کی تعمیل کریں، اس کو کوئی معمولی چیز سمجھ کر ٹالنے، مذاق اڑانے یا اس کی مخالفت کرنے کی جسارت نہ کریں۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ قرآن مجید براہ راست اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس سے پہلے کسی کتاب کو یہ شرف حاصل نہیں کہ وہ کُل کی کُل اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ الفاظ پر مشتمل ہو۔ اس وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہوئی کہ اس کو اپنے خداوند کے نام سے پیش کرو تاکہ اس کی اصلی عظمت لوگوں پر واضح ہو اور وہ اس کی مخالفت کر کے اپنی شامت نہ بلائیں۔ قدیم صحیفوں میں حضور سے متعلق جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں بھی یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ ’آپ جو کچھ کہیں گے خدا کے نام سے کہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے انتقام لے گا جو خدا کے نام پر کہی ہوئی اس کی باتوں کو رد کریں گے۔‘ گویا ان الفاظ سے قرآن کی اصلی عظمت بھی واضح کر دی گئی ہے اور قریش کو ڈرا بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ اس کی مخالفت کرنی چاہتے ہیں تو اپنے اس فعل کے انجام کو دور تک سونچ لیں۔  
    پیدا کیا انسان کو خون کے تھکّے سے۔
    یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں تمام کائنات کے پیدا کیے جانے کا ذکر ہوا۔ اب یہ خاص اہتمام کے ساتھ انسان کے پیدا کیے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ انسان کی خلقت کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی سے مقصود: ’عَلَقٌ‘ خون کی پھٹکی یا تھکے کو کہتے ہیں۔ انسان کی خلقت کے ابتدائی مراحل کی یاددہانی قرآن میں جگہ جگہ فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ حج، سورۂ مومنون، سورۂ سجدہ، سورۂ قیامہ اور سورۂ دہر وغیرہ میں۔ ہم ہر جگہ تمام اہم الفاظ کی بھی وضاحت کرتے آ رہے ہیں اور اس خاص پہلو کی طرف بھی ہم نے توجہ دلا دی ہے جو اس یاددہانی سے پیش نظر ہے۔ اس سے مقصود بالعموم تین حقیقتوں کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے: o ایک یہ کہ جس خالق کی قدرت و حکمت کا یہ حال ہے کہ وہ خون کی ایک حقیر پھٹکی کو عاقل و مدرک اور سمیع و بصیر انسان بنا کر کھڑا کر دیتی ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ پیدا کر دینا مشکل ہو جائے گا۔ o دوسری یہ کہ انسان کی تخلیق میں خالق کی جو قدرتیں اور حکمتیں نمایاں ہیں وہ دلیل ہیں کہ یہ عبث اور بے غایت نہیں پیدا کیا گیا ہے بلکہ اس کے لیے ایک روز حساب لازماً آنا ہے اور یہ اپنے اعمال کی جزا یا سزا ضرور پائے گا۔ o تیسری یہ کہ جس انسان کی پیدائش اتنے حقیر اور ذلیل عنصر سے ہوئی ہے اس کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ اپنی پاکی و پاک دامنی یا اپنے حسب و نسب کی حکایت زیادہ بڑھائے اور غرور و استکبار کا مظاہرہ کرے۔ قرآن کے بعض مقامات میں بیک وقت ان تمام حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے لیکن بعض جگہ ان میں سے ایک یا دو مدنظر ہیں۔ یہاں موقع کلام اشارہ کر رہا ہے کہ ان میں سے اوپر کی دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ خالق کائنات کا کلام خاص اس کے نام سے لوگوں کو پہنچاؤ اور ان کو یاددہانی کرو کہ جس خالق نے انسان کو خون کی پھٹکی سے وجود بخشا ہے وہ قادر ہے کہ اس کو دوبارہ پیدا کر کے اس کے اعمال کا محاسبہ کرے۔
    پڑھ اور تیرا رب بڑا ہی کریم ہے۔
    اہل عرب پر عظیم احسان: یہ ’اِقْرَاْ‘ سابق ’اِقْرَاْ‘ سے بدل کے طور پر آیا ہے اور یہ اسی حکم کی تاکید ہے جو اوپر دیا گیا ہے البتہ اس میں اظہار احسان کا پہلو بھی نمایاں ہے کہ قریش اللہ تعالیٰ کے اس فضل عظیم کی قدر کریں کہ اس نے ان کی ہدایت کے لیے تعلیم بالقلم کا اہتمام فرمایا۔ یہ امر واضح رہے کہ اس سے پہلے بنی اسماعیل کے پاس حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل کی تعلیمات سے متعلق اگر کچھ روایات تھیں تو وہ زبانی روایات کی شکل میں تھیں اور امتداد زمانہ سے ان کی شکل بھی متغیر ہو چکی تھی۔ دوسرے انبیاء کی تعلیمات بھی زبانی ہی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو احکام عشرہ تو ضرور لکھ کر دیے گئے لیکن موجودہ تورات کی حیثیت بس قلم بند کی ہوئی روایات کی ہے۔ اس کے اندر یہ امتیاز ناممکن ہے کہ کون سی بات اللہ تعالیٰ کے لفظوں میں ہے اور کون سی بات مجہول راویوں کے الفاظ میں لیکن قرآن کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام فرمایا کہ اس کا ہر لفظ اول تو براہ راست نطق الٰہی ہے، پھر اس کو زبانی روایات پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ اس کو عین اللہ تعالیٰ کے لفظوں میں تحریری طور پر محفوظ کیا گیا اور یہ کام، جیسا کہ سورۂ قلم اور سورۂ قیامہ کی تفسیروں میں وضاحت ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت کے تحت کرایا تا کہ کسی حرف میں سرمو کوئی تغیر نہ ہونے پائے۔
    جس نے تعلیم دی قلم کے واسطہ سے۔
    مزید احسان اور ایک تنبیہ: اس اہتمام خاص کی طرف یہاں ’عَلَّمَ بِالْقَلَمِ‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ یہ عربوں پر ایک عظیم احسان ہوا۔ اول تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وحی کو محفوظ کرنے کا یہ اہتمام اس سے پہلے کسی قوم کے لیے بھی نہیں کیا گیا، ثانیاً اہل عرب امی ہونے کے باعث قلم کے استعمال سے اچھی طرح واقف نہ تھے لیکن قرآن کی بدولت انھوں نے اس کے ذریعہ وہ عظیم آسمانی خزانہ محفوظ کیا جو صرف انہی کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے سرمایۂ زندگی ہے۔
    اس نے سکھایا انسان کو وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا۔
    یہ اسی انعام و احسان کا ایک اور پہلو ہے کہ صرف تعلیم بالقلم ہی کا احسان امیوں پر نہیں کیا بلکہ مزید احسان یہ بھی کیا کہ ان کو وہ باتیں بتائیں اور سکھائیں جو وہ نہیں جانتے تھے۔ لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن قرآن کے پہلے مخاطب چونکہ امی عرب ہی تھے اس وجہ سے یہاں اصلاً وہی مراد ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ان کو جاہلیت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے ان پر اپنی یہ کامل ہدایت نازل فرمائی ہے۔ ان پر حق ہے کہ وہ اس کی قدر کریں۔ سورۂ جمعہ میں یہی مضمون یوں آیا ہے: ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّیْنَ رَسُوۡلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ (الجمعہ ۶۲: ۲) ’’وہی ہے جس نے اٹھایا امیوں میں ایک رسول انہی میں سے وہ ان کو سناتا ہے اس کی آیتیں اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو سکھاتا ہے کتاب اور حکمت درآنحالیکہ وہ اس سے پہلے نہایت کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔‘‘ یہی مضمون، الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ، البقرہ: ۱۵۱، البقرہ: ۱۹۸ اور آل عمران: ۱۶۴ میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر کفایت اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ اس آیت میں جہاں اظہار احسان ہے وہیں اس کے اندر قریش کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر انھوں نے اپنے رب کی اس سب سے بڑی نعمت کی قدر نہ کی تو سونچ لیں کہ ان کی اس ناسپاسی اور اس طغیان کا نتیجہ ان کے سامنے کس شکل میں آ سکتا ہے!  
    ہرگز نہیں، بے شک انسان سرکشی کر رہا ہے۔
    یہ ان کے اس رویہ کا بیان ہے جو انھوں نے اس ہدایت کے معاملے میں اختیار کیا۔ فرمایا کہ وہ اس رحمت کی قدر کرنے کے بجائے نہایت سرکشی کے ساتھ اس کی تکذیب کر رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو جو مال و اسباب حاصل ہے اس کو پا کر وہ اب خدا سے اپنے کو بالکل مستغنی خیال کرنے لگے ہیں۔ قریش کے رویہ کا بیان: اس آیت کا آغاز ’کَلَّا‘ سے جو ہوا ہے اس سے مقصود قریش کی ان سخن سازیوں کی تردید ہے جو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی تکذیب کے لیے کرتے تھے۔
    اپنے تئیں، بے نیاز سمجھ کر۔
    فرمایا کہ ان کی یہ سخن سازیاں محض حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے ہیں۔ ان کے انکار کی اصل علت ہے تو خدا سے ان کی بے نیازی اور دنیا کی محبت لیکن نمائش یہ کر رہے ہیں کہ گویا ان کے پاس کچھ شبہات ہیں جن کا کوئی تسلی بخش جواب ان کو نہیں مل رہا ہے۔
    بے شک تیرے خداوند ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
    ’رُجْعٰی‘ مصدر ہے ’بُشْرٰی‘ کے وزن پر، لوٹنے کے معنی میں۔ تنبیہ اور آخرت کی یاددہانی: فرمایا کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں کرنے دو بالآخر ان کو لوٹنا تمہارے رب ہی کی طرف ہے جس سے یہ مستغنی اور بے خوف ہیں۔ اس وقت ان کے طغیان کی حقیقت ان کے سامنے کھل جائے گی۔ اگر ان کو گمان ہے کہ ان کے مزعومہ شرکاء ان کے مولیٰ و مرجع بنیں گے تو ان کے اس وہم سے بھی پردہ اٹھ جائے گا۔ اس دن بادشاہی صرف اللہ کی ہو گی اور اس کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہیں ہو گا۔
    ذرا دیکھو تو اس کو جو روکتا ہے۔
    قریش کے گنڈوں کے طغیان کی ایک مثال: یہ ان کے اس طغیان کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ فرمایا کہ بھلا دیکھو تو اس کو جو ایک بندے کو روکتا ہے جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے! یہ قریش کے ان اشقیاء کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی نماز سے روکتے تھے۔ بندے پر اس کے رب کا اولین حق اس کی بندگی ہے اور بندگی میں اولین درجہ نماز کا ہے اس وجہ سے جو بندہ نماز پڑھ رہا ہے وہ اپنے رب کا سب سے بڑا حق ادا کر رہا ہے اور سزاوار ہے کہ سب اس کے اس کام کو عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھیں اور اس کے عمل کو قابل تقلید جانیں۔ اگر کوئی اس چیز سے روکنے کی جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ بندے کو سب سے بڑے فرض اور خدا کے سب سے بڑے حق سے روک رہا ہے۔ ’اَرَءَ یْتَ‘ کے اسلوب پر ہم جگہ جگہ لکھ چکے ہیں کہ یہ اس وقت لاتے ہیں کہ جب کسی کی نہایت نامناسب حرکت پر لوگوں کو توجہ دلانی یا اس پر نکیر کرنی ہو۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں ’بھلا دیکھا تم نے اس کو، کیا تم نے اس کا حال دیکھا، ذرا اس کو تو دیکھو‘۔ ’اَلَّذِیْ‘ سے ضروری نہیں کہ کوئی ایک معین شخص ہی مراد ہو بلکہ یہ اس طرح کی بے ہودہ حرکت کرنے والوں کو ممثل کر دینے کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کر چکے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے روکنے والا ابوجہل ہی نہیں تھا بلکہ دوسرے گنڈے بھی تھے اور یہ گنڈے صرف حضور ہی کی نمازوں میں مزاحم نہیں ہوتے تھے بلکہ اللہ کے دوسرے بندوں کے ساتھ بھی وہ اسی طرح کی بدتمیزیاں کرتے تھے۔
    ایک بندے کو، جب وہ نماز پڑھتا ہے۔
    قریش کے گنڈوں کے طغیان کی ایک مثال: یہ ان کے اس طغیان کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ فرمایا کہ بھلا دیکھو تو اس کو جو ایک بندے کو روکتا ہے جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے! یہ قریش کے ان اشقیاء کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی نماز سے روکتے تھے۔ بندے پر اس کے رب کا اولین حق اس کی بندگی ہے اور بندگی میں اولین درجہ نماز کا ہے اس وجہ سے جو بندہ نماز پڑھ رہا ہے وہ اپنے رب کا سب سے بڑا حق ادا کر رہا ہے اور سزاوار ہے کہ سب اس کے اس کام کو عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھیں اور اس کے عمل کو قابل تقلید جانیں۔ اگر کوئی اس چیز سے روکنے کی جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ بندے کو سب سے بڑے فرض اور خدا کے سب سے بڑے حق سے روک رہا ہے۔
    بھلا دیکھو تو، اگر وہ ہدایت پر ہوا۔
    اقدام سے پہلے سوچنے کی ضرورت: یعنی اس مجنونانہ اقدام سے پہلے اسے سونچنا تھا کہ اسلام دشمنی کے جوش میں اسے اتنا اندھا نہیں بن جانا چاہیے کہ اپنے انجام کا بھی ہوش نہ رہے۔ آخر امکان اس بات کا بھی تو ہے کہ یہ اللہ کا بندہ نیکی اور ہدایت پر ہو اور اپنے قول و عمل سے تقویٰ کی راہ دکھا رہا ہو اور یہ اس کو اس سے روک کر اپنی شامت کو دعوت دے رہا ہو! مطلب یہ ہے کہ آخر کس دلیل سے وہ اپنے کو برحق سمجھ کر وہ کام کرنے اٹھ کھڑا ہوا جو شیطان کے کرنے کا ہے!
    یا نیکی کا حکم دینے والا ہوا ۔۔۔!
    اقدام سے پہلے سوچنے کی ضرورت: یعنی اس مجنونانہ اقدام سے پہلے اسے سونچنا تھا کہ اسلام دشمنی کے جوش میں اسے اتنا اندھا نہیں بن جانا چاہیے کہ اپنے انجام کا بھی ہوش نہ رہے۔ آخر امکان اس بات کا بھی تو ہے کہ یہ اللہ کا بندہ نیکی اور ہدایت پر ہو اور اپنے قول و عمل سے تقویٰ کی راہ دکھا رہا ہو اور یہ اس کو اس سے روک کر اپنی شامت کو دعوت دے رہا ہو! مطلب یہ ہے کہ آخر کس دلیل سے وہ اپنے کو برحق سمجھ کر وہ کام کرنے اٹھ کھڑا ہوا جو شیطان کے کرنے کا ہے!
    بھلا دیکھو تو، اگر اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا ۔۔۔!
    دوسرے امکان کا حوالہ: یہ اس دوسرے امکان کا حوالہ ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ یعنی کوئی بتائے کہ اگر یہی تکذیب کرنے والا اور حق سے منہ موڑنے والا ہوا تب ۔۔۔۔۔۔! یعنی تب تو اس نے اپنے لیے جہنم کا دروازہ خود اپنے ہی ہاتھوں کھولا! یہاں عربیت کا وہ قاعدہ ملحوظ رہے جس کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں کہ بعض مرتبہ شرط کا جواب اس وجہ سے حذف کر دیا جاتا ہے کہ اس کی سنگینی احاطۂ بیان سے باہر ہوتی ہے۔ یہاں اسی وجہ سے جواب محذوف ہے۔ اس کی ایک مثال سورۂ یونس میں بھی موجود ہے۔ رسول کی تکذیب کرنے اور اس کی دعوت سے منہ موڑنے والوں کا انجام سورۂ لیل میں یوں بیان ہوا ہے: لَا یَصْلَاہَا إِلَّا الْأَشْقَی۵ الَّذِیْ کَذَّبَ وَتَوَلَٰی (الیل ۹۲: ۱۵-۱۶) ’’اس جہنم میں وہی بدبخت خلائق پڑیں گے جنھوں نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔‘‘  
    کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے!
    یعنی کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ اس کی یہ ساری تعدیاں دیکھ رہا ہے! اگر وہ دیکھ رہا ہے اور ضرور دیکھ رہا ہے تو اس کا انتقام وہ ضرور لے گا۔ وہ عادل، رحیم، عزیز اور غیور ہے۔ اس کے بندے اگر اس کی بندگی سے روکے جائیں تو وہ کس طرح گوارا کر سکتا ہے کہ وہ تماشائی بن کر اس کا تماشا دیکھتا رہے۔
    ہرگز نہیں، اگر یہ باز نہ آیا تو ہم اس کو گھسیٹیں گے، چوٹی پکڑ کر۔
    سرکشوں کو تند الفاظ میں وعید: یہ اس قسم کے سرکشوں کو نہایت تند الفاظ میں وعید ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ ان حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ ’نَاصِیَۃٌ‘ پیشانی اور پیشانی پر بکھرے ہوئے بالوں کو کہتے ہیں۔ ’سَفْعٌ‘ کسی چیز کو مٹھی میں پکڑ کر کھینچنے اور گھسیٹنے کے معنی میں آتا ہے۔ سورۂ رحمان میں اسی طرح کے سرکشوں کے بارے میں فرمایا ہے: ’فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْأَقْدَامِ‘ (الرحمن ۵۵: ۴۱) (پس وہ چوٹیوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیے جائیں گے)۔  
    جھوٹی نابکار، گنہ گار چوٹی!
    یہ ’اَلنَّاصِیَۃِ‘ سے بدل ہے۔ اگرچہ دونوں میں معرفہ اور نکرہ کا فرق ہے لیکن نکرہ موصوف ہو تو معرفہ سے بدل پڑ سکتا ہے۔ یہاں اس جوش غضب پر خاص طور سے نگاہ رہے جو اس آیت کے ہر لفظ سے ابل رہا ہے۔ ان نابکاروں کی چوٹی کا ذکر انتہائی غضب آلود الفاظ میں فرمایا: ’نابکار اور گنہ گار چوٹی!!‘ ۔۔۔ چہرہ اور پیشانی آدمی کی ذات کے سب سے اشرف حصے ہیں اس وجہ سے ان سے بعض اوقات اس کی پوری شخصیت تعبیر کر دی جاتی ہے۔ یہاں یہی صورت ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ آدمی کی پیشانی کے لیے سب سے بڑا شرف سجدوں کا نشان ہے۔ اگر کوئی شخص اتنا شقی ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ خود سجدہ نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو سجدہ کرنے سے روکتا بھی ہے تو ایسا نابکار و گنہ گار سزاوار ہے کہ اس کی چوٹی پکڑ کر اس کو گھسیٹا اور جہنم میں جھونک دیا جائے۔
    پس وہ بلاوے اپنی پارٹی کو۔
    سرکشوں کو چیلنج: یہ ان سرکشوں کو چیلنج ہے کہ اگر کسی کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے تو وہ اپنی ٹولی کو بلائے، ہم بھی اپنے سرہنگوں کو بلائیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کے اندر کتنا زور ہے! ۔۔۔ اس چیلنج کا عملی امتحان بعد کے دور میں سب سے پہلے بدر کے معرکہ میں ہوا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ خدا کے سرہنگوں کے آگے قریش کی پوری قوت و جمعیت کس طرح غبار بن کر اڑ گئی۔ ’نَادِی‘ کے اصل معنی مجلس اور سوسائٹی کے ہیں۔ یہاں مراد وہ افراد ہیں جو کسی رشتۂ عصبیت کے تحت باہم دگر وابستہ ہیں۔ موقع و محل کا لحاظ کر کے اس کا ترجمہ ’ٹولی‘ یا پارٹی ہو سکتا ہے۔
    ہم بھی بلائیں گے سرہنگوں کو!
    ’زَبَانِیَۃٌ‘ جمع ہے ’زبنیۃ‘ کی جس کے معنی تو دفاع کرنے والے کے ہیں لیکن یہ پولیس اور پیادوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ میں نے موقع و محل کا لحاظ کر کے اس کا ترجمہ ’سرہنگوں‘ کیا ہے۔ گویا یہ خدائی ٹاسک فورس کے وہ کروبی ہیں جو خاص نوعیت کی وقتی مہمات پر بھیجے جاتے ہیں۔
    ہرگز نہیں، اس کی بات نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔
    نبی صلعم کو ہدایت: فرمایا کہ اگر کوئی سرپھرا تمہیں خدا کے آگے سجدہ کرنے سے روکتا ہے تو اس کی اس حرکت کو خاطر میں نہ لاؤ بلکہ سجدہ کرو اور اپنے رب سے قریب تر ہو جاؤ۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ قرآن نے جگہ جگہ نماز ہی کو صبر و عزیمت اور فتح باب نصرت کی کلید بتایا ہے اور سجدہ نماز کا سب سے اعلیٰ رکن ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کس کی مجال ہے کہ تمہیں اس چیز سے روک دے جو تمہاری زندگی کی غایت اور خدا سے تعلق کا واحد وسیلہ ہے۔ اگر کوئی ایسی جسارت کرتا ہے تو تم اس کے شر سے خدا کی پناہ چاہو جس کا واحد طریقہ اس کے آگے سربسجود ہونا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List