Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الشرح (The Expansion of Breast, Solace, Consolation, Relief)

    8 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ کی مثنیٰ ہے۔ سورۂ ضحٰی کے بعد یہ بغیر کسی تمہید کے اس طرح شروع ہو گئی ہے گویا سابق سورہ میں جو مضمون ’اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَآوٰی‘ (الضحٰی ۹۳: ۶) اور اس کے بعد کی آیات میں بیان ہوا ہے اسی کی اس میں تکمیل کر دی گئی ہے۔ بس اتنا فرق نظر آتا ہے کہ سابق سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جن الطاف و عنایات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کا ذریعہ بنایا ہے ان کا تعلق بعثت سے قبل یا ابتدائے بعثت کے دور سے ہے اور اس میں جن افضال و احسانات کا حوالہ دیا ہے وہ اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جب آپ کی دعوت کا چرچا مکہ سے نکل کر عرب کے دوسرے گوشوں میں بھی پہنچ چکا ہے۔

    سابق سورہ میں آپ کو یہ بشارت دی گئی کہ دعوت کے پہلو سے آپ کا مستقبل آپ کے ماضی اور حاضر سے بہت بہتر ہو گا، آپ اس وقت جن مشکلات سے دوچار ہیں وہ قانون قدرت کے مطابق آپ کی تربیت کے لیے ہیں وہ جلد دور ہو جائیں گی۔ اس سورہ میں اس بشارت کی صداقت کے چند نمایاں شواہد کا حوالہ دے کر تاکید کے ساتھ آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں آپ کو جو دشواری بھی پیش آئے گی اس کے پہلو بہ پہلو فیروز مندی بھی ہو گی بشرطیکہ آپ عزم و جزم کے ساتھ اس سے عہدہ برآ ہونے کا حوصلہ کریں۔

  • الشرح (The Expansion of Breast, Solace, Consolation, Relief)

    8 آیات | مکی
    الضحٰی - الم نشرح

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔اِن میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ قرآن کی ترتیب میں اِن کا یہ مقام بتاتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں آپ کی دعوت کا مرحلۂ انذار عام اِنھی دو سورتوں پر ختم ہوا ہے۔ یہی بات اِن کے مضمون سے بھی واضح ہوتی ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور آیندہ ایک بڑی کامیابی کی بشارت ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 094 Verse 001 Chapter 094 Verse 002 Chapter 094 Verse 003 Chapter 094 Verse 004 Chapter 094 Verse 005 Chapter 094 Verse 006 Chapter 094 Verse 007 Chapter 094 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    کیا ہم نے تمہارا سینہ کھول نہیں دیا۔
    وہ سنت الٰہی جو دعوت حق کی کامیابی کے لیے مقرر ہے: سابق سورہ کی تفسیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں کی تفصیل بیان ہو چکی ہے جو بعثت سے پہلے آپ کو جستجوئے حقیقت کی راہ میں اور ابتدائے بعثت کے دور میں مخالفوں کی مخالفت کی شدت اور اعوان و انصار کی قلت کے سبب سے لاحق ہوئیں۔ ساتھ ہی اس میں یہ بشارت بھی دی گئی کہ اس وقت آپ جن حالات و مشکلات سے دوچار ہیں یہ وقتی و عارضی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جلد دور فرما دے گا اور آپ کی دعوت کا مستقبل اس کے ماضی و حاضر سے بہت زیادہ روشن ہو گا۔ بعد میں جب وحئ الٰہی کی روشنی نے آپ کے دل کے خلجان دور کر دیے اور حقیقت روشن ہو کر سامنے آ گئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تعلیم اور مزید حوصلہ افزائی کے لیے اپنی وہ سنت بھی نہایت واضح الفاظ میں بیان فرما دی جو اس نے دعوت حق کی کامیابی کے لیے مقرر فرما رکھی ہے اور جس سے لازماً ہر داعئ حق کو سابقہ پیش آتا ہے اور جو آگے اس سورہ کے اصل مضمون کی حیثیت سے ’فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا‘ (۵) (بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ سینہ کو کھول دینے سے مقصود وہ بصیرت و معرفت پیدا کرنا ہے جو صحیح ایمان کا ثمرہ ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ پر وہ اعتماد و توکل پیدا ہوتا ہے جو تمام قوت اور عزم کا سرچشمہ ہے۔ اگر یہ ایمان موجود ہو تو بڑی سے بڑی مزاحمت بھی انسان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی اور اگر یہ نہ ہو تو بغیر کسی مزاحمت کے بھی انسان شکست کھا جاتا ہے۔
    اس کو تمہارے اوپر سے اتار نہیں دیا!
    ’وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ‘۔ یہ جملہ معناً پہلے ہی جملہ پر عطف ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ ہم نے اسی کے تحت کیا ہے۔ سورۂ نبا کی تفسیر میں اس اسلوب کی وضاحت ہو چکی ہے۔
    اور جو بوجھ تمہاری کمر کو توڑے دے رہا تھا۔
    غم بالائے غم! یہ اس ’وِزْر‘ (بوجھ) کی صفت ہے کہ اس نے تمہاری کمر توڑ رکھی تھی۔ یہ وہی بارغم ہے جو بعثت سے پہلے آپ کے دل پر اس سبب سے تھا کہ آپ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں و حیران تھے لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا پھر جب اللہ نے آپ پر ہدایت کی راہ کھول دی تو اس غم پر مزید اضافہ اس سبب سے ہوا کہ آپ کی پوری قوم اس کی دشمن بن کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس غم کو ’اَلَّذِیْ أَنقَضَ ظَہْرَکَ‘ (کمر شکن) کی صفت سے تعبیر کرنا کوئی مبالغہ نہیں بلکہ یکسر حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس ہدایت سے آپ کا سینہ کھول دیا اس کے متعلق آپ کا یہ احساس ایک امر فطری تھا کہ جس طرح اس نے آپ کے سینہ میں گھر کر لیا اسی طرح ہر سینہ میں اس کو اتر جانا چاہیے۔ لیکن اس توقع کے خلاف جب آپ نے دیکھا کہ جتنے ہی دعوت کی راہ میں آپ کی سرگرمی بڑھتی جا رہی ہے اتنی ہی اس سے لوگوں کی وحشت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو قدرتی طور پر آپ کو یہ گمان گزرا کہ شاید آپ کی جدوجہد میں کوئی کمی یا خامی ہے جس کے سبب سے دعوت اثر انداز نہیں ہو رہی ہے۔ یہ گمان کر کے آپ جدوجہد میں مزید اضافہ کرتے چلے جاتے لیکن اس سے بھی جب صورت حال میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو آپ کی پریشانی دوچند ہو گئی۔ علاوہ ازیں اس طرح کے حالات میں اگر وحی کے آنے میں کچھ وقفہ ہو جاتا تو یہ وقفہ بھی آپ کے غم و الم میں اضافہ کر دیتا کہ مبادا یہ اللہ تعالیٰ کے کسی عتاب کے سبب سے ہو۔ حضور کی ان پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے جس طرح یہاں تسلی دی گئی ہے اسی طرح سورۂ طٰہٰ میں بھی دی گئی ہے: طٰہٰ ۵ مَا أَنۡزَلْنَا عَلَیْْکَ الْقُرْآنَ لِتَشْقٰٓی ۵ إِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنۡ یَّخْشٰی (طٰہٰ ۲۰: ۱-۳) ’’یہ سورۂ طٰہٰ ہے۔ ہم نے تم پر قرآن اس لیے نہیں اتارا ہے کہ اپنی زندگی اجیرن بنا لو۔ یہ تو بس ان لوگوں کے لیے یاددہانی ہے جو ڈرنے والے ہوں۔‘‘  
    اور تمہارا آوازہ بلند نہیں کیا۔
    یعنی کیا یہ بات نہیں ہے کہ ہم نے تمہارا آوازہ بلند کیا! ’لَکَ‘ جس طرح پہلی آیت میں اختصاص، تائید اور نصرت کے اظہار کے لیے ہے اسی طرح یہاں بھی ہے۔ یعنی تمہاری تقویت و حوصلہ افزائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارا ذکر دور دور تک پھیلا دیا۔ دعوت کا چرچا اطراف و اکناف میں: اس آیت سے سورہ کا زمانۂ نزول معین ہوتا ہے کہ یہ اس دور میں اتری ہے جب آپ کی دعوت کا چرچا عرب کے اطراف و اکناف میں پھیلنے لگا ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ مکہ کے سادات، جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے دعوت دی، وہ تو ایک عرصہ تک دعوت اور داعی کی مخالفت پر جمے رہے لیکن حج کے موسم میں باہر کے جو لوگ آتے ان کے ذریعہ سے یہ دعوت مکہ کے اطراف، خصوصیت کے ساتھ مدینہ کے انصار میں پھیل گئی۔ پھر بالتدریج نہ صرف عرب کے دور و قریب کے قبائل بلکہ اطراف کے دوسرے ملکوں میں بھی اس کا ذکر پہنچ گیا اور یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں رہا کہ یہ آواز دبنے والی نہیں ہے بلکہ جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ بچہ بچہ کی زبان پر اس کا چرچا ہو گا اور گوشہ گوشہ ’اَللّٰہُ اَکْبَر‘ کی صدا سے گونج اٹھے گا۔
    تو ہر مشکل کے ساتھ آسانی (ہے)۔
    اصل سبق: یہ وہ اصل سبق ہے جو اوپر کے پیش کر دہ شواہد کی روشنی میں دینا مقصود ہے اور جس کو اس سورہ کے عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا کہ جب تم اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ دیکھ رہے ہو تو اس کی اس سنت پر اطمینان رکھو کہ اس نے ’یُسْر‘ کا دامن ’عُسْر‘ کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یعنی آسانی ظاہر تو ہو گی ضرور لیکن آزمائش کے دور سے گزرنے کے بعد۔ سابق سورہ میں یہی حقیقت آفاق اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات سے ثابت کی گئی ہے۔ اس سورہ میں خاص حضور کی زندگی کے تجربات ہی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ زیادہ موثر ہو سکیں۔ ایک خاص نکتہ: یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ ایک ہی بات دو مرتبہ فرمائی گئی ہے۔ یہ تکرار محض تاکید کے لیے نہیں، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ یہ ’عُسْر‘ اور ’یُسْر‘ دونوں اس دنیا میں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک گھاٹی کسی نے پار کر لی تو یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ بس اب کسی نئی گھاٹی سے اس کو سابقہ نہیں پیش آنا ہے بلکہ دوسری اور تیسری گھاٹی بھی آ سکتی ہے۔ چاہیے کہ ان کو عبور کرنے کا حوصلہ بھی قائم رکھے۔ زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ اس جہان میں ہر مسافر کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آتا ہے اور ان سے گزرنے کے بعد ہی کوئی رہرو منزل مقصود پر پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ حق کے راستہ پر چلنے والوں سے بھی ہے۔ جو لوگ اس راستہ پر چلنے کا ارادہ کرتے ہیں ان کے لیے یہ نہیں ہوتا کہ راہ سے تمام عقبات خود بخود دور ہو جائیں بلکہ ان کے دور کرنے کے لیے خود ان کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے یہ ضمانت ضرور ہے کہ اگر وہ راہ کی رکاوٹوں کے علی الرغم ہمت نہیں ہاریں گے اور جتنی قوت ان کے رب نے ان کو بخشی ہے اس کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کریں گے تو وہ ان کے لیے ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا کرے گا جس سے تازہ دم ہو کر وہ آگے کے سفر کے لیے مزید عزم و حوصلہ حاصل کر لیں گے اور ایک کے بعد دوسری مشکل سے لڑتے اور اس کو سر کرتے ہوئے بالآخر منزل مطلوب پر پہنچ جائیں گے۔ اس امتحان کی حکمت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ منافق اور مخلص، راست باز اور ریاکار میں امتیاز کرتا ہے تاکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائے، کسی کو یہ شکایت نہ رہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔ اگر یہ امتحان نہ ہوتا تو کھوٹے اور کھرے میں وہ امتیاز نہ ہو سکتا جو ہر ایک پر حجت قائم کر دے۔
    بےشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
    اصل سبق: یہ وہ اصل سبق ہے جو اوپر کے پیش کر دہ شواہد کی روشنی میں دینا مقصود ہے اور جس کو اس سورہ کے عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا کہ جب تم اپنے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ دیکھ رہے ہو تو اس کی اس سنت پر اطمینان رکھو کہ اس نے ’یُسْر‘ کا دامن ’عُسْر‘ کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یعنی آسانی ظاہر تو ہو گی ضرور لیکن آزمائش کے دور سے گزرنے کے بعد۔ سابق سورہ میں یہی حقیقت آفاق اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات سے ثابت کی گئی ہے۔ اس سورہ میں خاص حضور کی زندگی کے تجربات ہی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ زیادہ موثر ہو سکیں۔ ایک خاص نکتہ: یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ ایک ہی بات دو مرتبہ فرمائی گئی ہے۔ یہ تکرار محض تاکید کے لیے نہیں، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ یہ ’عُسْر‘ اور ’یُسْر‘ دونوں اس دنیا میں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک گھاٹی کسی نے پار کر لی تو یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ بس اب کسی نئی گھاٹی سے اس کو سابقہ نہیں پیش آنا ہے بلکہ دوسری اور تیسری گھاٹی بھی آ سکتی ہے۔ چاہیے کہ ان کو عبور کرنے کا حوصلہ بھی قائم رکھے۔ زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ اس جہان میں ہر مسافر کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آتا ہے اور ان سے گزرنے کے بعد ہی کوئی رہرو منزل مقصود پر پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی معاملہ حق کے راستہ پر چلنے والوں سے بھی ہے۔ جو لوگ اس راستہ پر چلنے کا ارادہ کرتے ہیں ان کے لیے یہ نہیں ہوتا کہ راہ سے تمام عقبات خود بخود دور ہو جائیں بلکہ ان کے دور کرنے کے لیے خود ان کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے یہ ضمانت ضرور ہے کہ اگر وہ راہ کی رکاوٹوں کے علی الرغم ہمت نہیں ہاریں گے اور جتنی قوت ان کے رب نے ان کو بخشی ہے اس کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کریں گے تو وہ ان کے لیے ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا کرے گا جس سے تازہ دم ہو کر وہ آگے کے سفر کے لیے مزید عزم و حوصلہ حاصل کر لیں گے اور ایک کے بعد دوسری مشکل سے لڑتے اور اس کو سر کرتے ہوئے بالآخر منزل مطلوب پر پہنچ جائیں گے۔ اس امتحان کی حکمت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ منافق اور مخلص، راست باز اور ریاکار میں امتیاز کرتا ہے تاکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائے، کسی کو یہ شکایت نہ رہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔ اگر یہ امتحان نہ ہوتا تو کھوٹے اور کھرے میں وہ امتیاز نہ ہو سکتا جو ہر ایک پر حجت قائم کر دے۔
    پس جب تم فارغ ہو تو کمر بستہ ہو۔
    آخری منزل کے لیے جدوجہد: یہ آخری منزل کے لیے جدوجہد کی ہدایت ہے۔ ’نصب ینصب‘ کے معنی جدوجہد اور محنت کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ دعوت کی راہ کے عقبات طے کرتے ہوئے جب وہ مرحلہ آ جائے کہ اللہ کی نصرت بے نقاب ہو جائے، مکہ فتح ہو جائے، دشمن گھٹنے ٹیک دیں اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگیں تو پھر تم کمر کس کے آخری منزل کی تیاری کے لیے جدوجہد کرو اور کلیۃً اپنے رب کی طرف جھک پڑو۔ گویا بیک وقت ان آیات میں دو باتیں جمع کر دی گئی ہیں۔ ایک تو یہ بشارت کہ آپ تمام مشکلات راہ کو عبور کرتے ہوئے دعوت کی آخری منزل پر کامیابی کے ساتھ پہنچنے اور اپنی عظیم ذمہ داری سے سرخ روئی کے ساتھ فارغ ہونے کا شرف حاصل کریں گے۔ دوسری یہ کہ کامیابی کی آخری منزل پر پہنچ جانے کے بعد بھی آپ کے لیے کمر کھول دینے کا وقت نہیں آئے گا بلکہ لقائے رب کی منزل کے سفر کے لیے آپ کو مزید اہتمام سے کمر کس کے تیاری کرنی پڑے گی۔ اسی آخری ہدایت کی تعمیل کا اہتمام تھا کہ آخر دور حیات میں آپ کا انہماک عبادت الٰہی میں بہت بڑھ گیا تھا۔ بعض لوگوں نے آپ کا یہ حال دیکھ کر سوال کیا کہ حضور آپ کے تو تمام اگلے پچھلے گناہ بخشے جا چکے ہیں تو آپ عبادت میں اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ نے جواب میں فرمایا:’افلا اکون عبدًا شکورا‘ (تو کیا میں اپنے رب کا شکرگزار بندہ نہ بنوں!) یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی گئی۔ اس کی پوری تفصیل سورۂ نصر میں آئے گی۔ سورہ یہاں ہم نقل کیے دیتے ہیں: إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ ۵ وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ أَفْوَاجًا ۵ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا (النصر ۱۱۰: ۱-۳) ’’جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے اور دیکھو کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی تسبیح کرو اس کی حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت مانگو۔ وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘  
    اور اپنے رب سے لَو لگاؤ۔
    آخری منزل کے لیے جدوجہد: یہ آخری منزل کے لیے جدوجہد کی ہدایت ہے۔ ’نصب ینصب‘ کے معنی جدوجہد اور محنت کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ دعوت کی راہ کے عقبات طے کرتے ہوئے جب وہ مرحلہ آ جائے کہ اللہ کی نصرت بے نقاب ہو جائے، مکہ فتح ہو جائے، دشمن گھٹنے ٹیک دیں اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگیں تو پھر تم کمر کس کے آخری منزل کی تیاری کے لیے جدوجہد کرو اور کلیۃً اپنے رب کی طرف جھک پڑو۔ گویا بیک وقت ان آیات میں دو باتیں جمع کر دی گئی ہیں۔ ایک تو یہ بشارت کہ آپ تمام مشکلات راہ کو عبور کرتے ہوئے دعوت کی آخری منزل پر کامیابی کے ساتھ پہنچنے اور اپنی عظیم ذمہ داری سے سرخ روئی کے ساتھ فارغ ہونے کا شرف حاصل کریں گے۔ دوسری یہ کہ کامیابی کی آخری منزل پر پہنچ جانے کے بعد بھی آپ کے لیے کمر کھول دینے کا وقت نہیں آئے گا بلکہ لقائے رب کی منزل کے سفر کے لیے آپ کو مزید اہتمام سے کمر کس کے تیاری کرنی پڑے گی۔ اسی آخری ہدایت کی تعمیل کا اہتمام تھا کہ آخر دور حیات میں آپ کا انہماک عبادت الٰہی میں بہت بڑھ گیا تھا۔ بعض لوگوں نے آپ کا یہ حال دیکھ کر سوال کیا کہ حضور آپ کے تو تمام اگلے پچھلے گناہ بخشے جا چکے ہیں تو آپ عبادت میں اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ نے جواب میں فرمایا:’افلا اکون عبدًا شکورا‘ (تو کیا میں اپنے رب کا شکرگزار بندہ نہ بنوں!) یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی گئی۔ اس کی پوری تفصیل سورۂ نصر میں آئے گی۔ سورہ یہاں ہم نقل کیے دیتے ہیں: إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ ۵ وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوۡنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ أَفْوَاجًا ۵ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا (النصر ۱۱۰: ۱-۳) ’’جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے اور دیکھو کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی تسبیح کرو اس کی حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت مانگو۔ وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List