Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الشمس (The Sun)

    15 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    سابق سورہ ۔۔۔ البلد ۔۔۔ میں قریش کے لیڈروں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ جب تم اس وادئ مکہ میں بسائے گئے اس وقت یہاں زندگی نہایت مشقت کی زندگی تھی۔ یہ ایک بے آب و گیاہ علاقہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور بیت اللہ کی برکت سے یہاں تم کو رزق و فضل کی فراوانی حاصل ہوئی اور تم پھلے پھولے۔ تو یہ نعتمیں پا کر خدا سے اکڑنے والے اور اس کی زمین میں فساد برپا کرنے والے نہ بنو ورنہ یاد رکھو کہ جو خدا یہ سب کچھ دے سکتا ہے وہ جب چاہے اس کو چھین بھی سکتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔

    اس سورہ میں ان کو طغیان و سرکشی کے انجام سے ڈرایا ہے۔ اس کی تمہید یوں استوار فرمائی ہے کہ دیکھتے ہو کہ کائنات بظاہر اضداد کی ایک رزم گاہ ہے لیکن خدائے قادر و قیوم ان اضداد میں سے کسی کو ان کے حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیتا جس کا فیض یہ ہے کہ یہ اضداد نہ صرف یہ کہ آپس میں ٹکراتے نہیں بلکہ پوری سازگاری کے ساتھ اس کائنات کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی اس سازگاری ہی پر اس کے بقا کا انحصار ہے ورنہ یہ دنیا چشم زدن میں درہم برہم ہو جاتی۔

    اس کے بعد نفس انسانی کی تشکیل کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو حال اس عالم اکبر کا ہے وہی حال عالم اصغر یعنی نفس انسانی کا بھی ہے۔ یہ بھی خیر و شر کے متضاد داعیات و محرکات سے مرکب ہے اور خالق نے انسان کی فطرت میں خیر و شر کا امتیاز بھی ودیعت فرمایا ہے اور خیر سے محبت اور شر سے نفرت کا ذوق بھی بخشا ہے۔ اس کا اقتضا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے توازن کو قائم رکھے اور برے داعیات کو خیر کے داعیات پر غلبہ نہ پانے دے ورنہ وہ طغیان و فساد میں مبتلا ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنی دنیا میں طغیان و فساد کو پسند نہیں کرتا۔ اس کو وہ اسی حد تک ڈھیل دیتا ہے جس حد تک وہ اس دنیا کی مصلحت کے مطابق پاتا ہے۔ جب یہ اس حد سے متجاوز ہونے لگتا ہے تو خالق کائنات اس کا سر کچل دیتا ہے اور ان لوگوں سے اپنی دنیا کو پاک کر دیتا ہے جن کا وجود بحیثیت مجموعی اس کے لیے زہر ناک بن جاتا ہے۔

    آخر میں اپنی اس سنت کے ظہور کی شہادت کے طور پر عرب کی پچھلی قوموں میں سے ایک ایسی قوم کی تباہی کا ذکر فرمایا ہے جس کی شوکت و صولت سے قریش واقف تھے اور جس کے طغیان و فساد کا ذکر ان کے لٹریچر میں موجود تھا۔ ان کی مثال سے قریش کو عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی ہے اور ڈرایا ہے کہ اگر انہی کی طرح تمہارا مزاج بھی فاسد ہو گیا تو تم بھی خدا کے بے امان عذاب کی زد میں آ جاؤ گے اور پھر کوئی تمہاری مدد کے لیے نہیں اٹھے گا۔

  • الشمس (The Sun)

    15 آیات | مکی
    الشمس - اللیل

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں آخرت کے خسران اور اُس میں فوز و فلاح کے جس راستے کا ذکر بالاجمال ہوا ہے، دوسری سورہ میں اُس کی تفصیل کر دی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب قریش کے سرداروں سے ہے، لیکن اسلوب میں ا عراض کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الشمس—- کا موضوع قانون جزا و سزا کے حوالے سے قریش کے سرداروں کو طغیان اور سرکشی کے اُس رویے پر تنبیہ ہے جو دعوت حق کے مقابلے میں وہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

    دوسری سورہ—- اللیل—- کا موضوع قریش کے لیے اُس راستے کی وضاحت ہے جس کا ذکر سورۂ شمس میں ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ کے الفاظ میں بالاجمال ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 091 Verse 001 Chapter 091 Verse 002 Chapter 091 Verse 003 Chapter 091 Verse 004 Chapter 091 Verse 005 Chapter 091 Verse 006 Chapter 091 Verse 007 Chapter 091 Verse 008 Chapter 091 Verse 009 Chapter 091 Verse 010 Chapter 091 Verse 011 Chapter 091 Verse 012 Chapter 091 Verse 013 Chapter 091 Verse 014 Chapter 091 Verse 015
    Click translation to show/hide Commentary
    شاہد ہے آفتاب اور اس کا چڑھنا۔
    اضداد اور ان کی باہمی سازگاری کا درس: یہ آفاق کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اشیاء کے جوڑے جوڑے ہونے سے قرآن نے توحید، معاد اور جزا و سزا پر جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔ یہاں جس خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ہر چند سورج اور چاند، دن اور رات میں سے ہر چیز کی شکل و صورت، ان کے ظہور کے طریقے، ان کے مزاج اور اس کائنات پر ان کے اثرات میں بڑا فرق ہے جس کے سبب سے یہ دنیا اضداد کی ایک رزم گاہ معلوم ہوتی ہے لیکن مدبر کائنات نے ان اضداد کو اس طرح اس عالم کی مشین میں فٹ کیا ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں ان میں کسی قسم کا تصادم واقع ہو بلکہ یہ نہایت سازگاری کے ساتھ اپنے اپنے دائروں میں کائنات کی مجموعی مصلحت میں رات دن سرگرم ہیں۔ نہ سورج چاند کے حدود میں مداخلت کرتا، نہ چاند اپنے وقت سے پہلے ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتا، نہ دن کی یہ تاب کہ وہ اپنے وقت سے پہلے برآمد ہو جائے اور نہ رات کی یہ مجال کہ وہ دن کو اس کی ڈیوٹی پوری کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دے:’لَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۴۰) (نہ سورج کے لیے روا کہ وہ چاند کو جا لے اور نہ رات ہی دن سے سبقت کرنے والی بن سکتی)۔ ان اضداد کی یہ باہمی سازگاری ہی ہے جس پر اس کائنات کے بقاء کا انحصار ہے۔ اگر اس سازگاری و فرماں برداری کے بجائے ان کے اندر طغیان و سرکشی پیدا ہو جائے تو یہ عالم چشم زدن میں درہم برہم ہو جائے۔ اس وجہ سے خالق کائنات نے ان کو ان کے حدود کا پابند کر رکھا ہے اور یہ اپنے وجود سے زمین پر بسنے والوں کو یہ درس دیتے ہیں کہ وہ بھی خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کریں۔ اگر وہ اس کی خلاف ورزی کریں گے تو زمین میں فساد برپا کریں گے اور زمین کا خداوند ان لوگوں کو گوارا نہیں کرے گا جو اس کے ملک میں فساد برپا کریں گے۔  
    اور چاند جب اس کے پیچھے لگے۔
    اضداد اور ان کی باہمی سازگاری کا درس: یہ آفاق کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اشیاء کے جوڑے جوڑے ہونے سے قرآن نے توحید، معاد اور جزا و سزا پر جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔ یہاں جس خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ہر چند سورج اور چاند، دن اور رات میں سے ہر چیز کی شکل و صورت، ان کے ظہور کے طریقے، ان کے مزاج اور اس کائنات پر ان کے اثرات میں بڑا فرق ہے جس کے سبب سے یہ دنیا اضداد کی ایک رزم گاہ معلوم ہوتی ہے لیکن مدبر کائنات نے ان اضداد کو اس طرح اس عالم کی مشین میں فٹ کیا ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں ان میں کسی قسم کا تصادم واقع ہو بلکہ یہ نہایت سازگاری کے ساتھ اپنے اپنے دائروں میں کائنات کی مجموعی مصلحت میں رات دن سرگرم ہیں۔ نہ سورج چاند کے حدود میں مداخلت کرتا، نہ چاند اپنے وقت سے پہلے ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتا، نہ دن کی یہ تاب کہ وہ اپنے وقت سے پہلے برآمد ہو جائے اور نہ رات کی یہ مجال کہ وہ دن کو اس کی ڈیوٹی پوری کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دے:’لَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۴۰) (نہ سورج کے لیے روا کہ وہ چاند کو جا لے اور نہ رات ہی دن سے سبقت کرنے والی بن سکتی)۔ ان اضداد کی یہ باہمی سازگاری ہی ہے جس پر اس کائنات کے بقاء کا انحصار ہے۔ اگر اس سازگاری و فرماں برداری کے بجائے ان کے اندر طغیان و سرکشی پیدا ہو جائے تو یہ عالم چشم زدن میں درہم برہم ہو جائے۔ اس وجہ سے خالق کائنات نے ان کو ان کے حدود کا پابند کر رکھا ہے اور یہ اپنے وجود سے زمین پر بسنے والوں کو یہ درس دیتے ہیں کہ وہ بھی خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کریں۔ اگر وہ اس کی خلاف ورزی کریں گے تو زمین میں فساد برپا کریں گے اور زمین کا خداوند ان لوگوں کو گوارا نہیں کرے گا جو اس کے ملک میں فساد برپا کریں گے۔  
    اور دن جب اسے چمکا دے۔
    اضداد اور ان کی باہمی سازگاری کا درس: یہ آفاق کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اشیاء کے جوڑے جوڑے ہونے سے قرآن نے توحید، معاد اور جزا و سزا پر جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔ یہاں جس خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ہر چند سورج اور چاند، دن اور رات میں سے ہر چیز کی شکل و صورت، ان کے ظہور کے طریقے، ان کے مزاج اور اس کائنات پر ان کے اثرات میں بڑا فرق ہے جس کے سبب سے یہ دنیا اضداد کی ایک رزم گاہ معلوم ہوتی ہے لیکن مدبر کائنات نے ان اضداد کو اس طرح اس عالم کی مشین میں فٹ کیا ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں ان میں کسی قسم کا تصادم واقع ہو بلکہ یہ نہایت سازگاری کے ساتھ اپنے اپنے دائروں میں کائنات کی مجموعی مصلحت میں رات دن سرگرم ہیں۔ نہ سورج چاند کے حدود میں مداخلت کرتا، نہ چاند اپنے وقت سے پہلے ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتا، نہ دن کی یہ تاب کہ وہ اپنے وقت سے پہلے برآمد ہو جائے اور نہ رات کی یہ مجال کہ وہ دن کو اس کی ڈیوٹی پوری کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دے:’لَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۴۰) (نہ سورج کے لیے روا کہ وہ چاند کو جا لے اور نہ رات ہی دن سے سبقت کرنے والی بن سکتی)۔ ان اضداد کی یہ باہمی سازگاری ہی ہے جس پر اس کائنات کے بقاء کا انحصار ہے۔ اگر اس سازگاری و فرماں برداری کے بجائے ان کے اندر طغیان و سرکشی پیدا ہو جائے تو یہ عالم چشم زدن میں درہم برہم ہو جائے۔ اس وجہ سے خالق کائنات نے ان کو ان کے حدود کا پابند کر رکھا ہے اور یہ اپنے وجود سے زمین پر بسنے والوں کو یہ درس دیتے ہیں کہ وہ بھی خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کریں۔ اگر وہ اس کی خلاف ورزی کریں گے تو زمین میں فساد برپا کریں گے اور زمین کا خداوند ان لوگوں کو گوارا نہیں کرے گا جو اس کے ملک میں فساد برپا کریں گے۔  
    اور رات جب اسے ڈھانک لے۔
    اضداد اور ان کی باہمی سازگاری کا درس: یہ آفاق کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اشیاء کے جوڑے جوڑے ہونے سے قرآن نے توحید، معاد اور جزا و سزا پر جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔ یہاں جس خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ہر چند سورج اور چاند، دن اور رات میں سے ہر چیز کی شکل و صورت، ان کے ظہور کے طریقے، ان کے مزاج اور اس کائنات پر ان کے اثرات میں بڑا فرق ہے جس کے سبب سے یہ دنیا اضداد کی ایک رزم گاہ معلوم ہوتی ہے لیکن مدبر کائنات نے ان اضداد کو اس طرح اس عالم کی مشین میں فٹ کیا ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں ان میں کسی قسم کا تصادم واقع ہو بلکہ یہ نہایت سازگاری کے ساتھ اپنے اپنے دائروں میں کائنات کی مجموعی مصلحت میں رات دن سرگرم ہیں۔ نہ سورج چاند کے حدود میں مداخلت کرتا، نہ چاند اپنے وقت سے پہلے ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتا، نہ دن کی یہ تاب کہ وہ اپنے وقت سے پہلے برآمد ہو جائے اور نہ رات کی یہ مجال کہ وہ دن کو اس کی ڈیوٹی پوری کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دے:’لَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۴۰) (نہ سورج کے لیے روا کہ وہ چاند کو جا لے اور نہ رات ہی دن سے سبقت کرنے والی بن سکتی)۔ ان اضداد کی یہ باہمی سازگاری ہی ہے جس پر اس کائنات کے بقاء کا انحصار ہے۔ اگر اس سازگاری و فرماں برداری کے بجائے ان کے اندر طغیان و سرکشی پیدا ہو جائے تو یہ عالم چشم زدن میں درہم برہم ہو جائے۔ اس وجہ سے خالق کائنات نے ان کو ان کے حدود کا پابند کر رکھا ہے اور یہ اپنے وجود سے زمین پر بسنے والوں کو یہ درس دیتے ہیں کہ وہ بھی خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کریں۔ اگر وہ اس کی خلاف ورزی کریں گے تو زمین میں فساد برپا کریں گے اور زمین کا خداوند ان لوگوں کو گوارا نہیں کرے گا جو اس کے ملک میں فساد برپا کریں گے۔  
    اور شاہد ہے آسمان اور جیسا کچھ اس کو اٹھایا۔
    آسمان و زمین کی ساخت میں انسان کے لیے سبق: یہ آسمان اور زمین کی ساخت، ان کی عظمت اور ان کی فیض بخشی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی اپنے بنانے والے کی عظیم قدرت، بے نہایت حکمت اور غیر محدود ربوبیت کی شہادت دیتے ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے ناممکن نہیں ہے، اس کی حکمت اتھاہ اور اس کی رحمت و ربوبیت ہمہ گیر ہے۔ اس کی اس قدرت، حکمت اور ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو اس میں شتر بے مہار بنا کے نہ چھوڑے بلکہ دیکھے کہ جن کے لیے اس نے یہ سب کچھ بنایا وہ اس میں کیا بنا رہے ہیں اور پھر ان کے رویہ کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کی یہ تمام قدرت و حکمت اور یہ ساری ربوبیت و رحمت بے معنی اور یہ سارا کارخانہ ایک کارعبث بن کے رہ جائے گا۔ ’ما‘ موصولہ اور ’ما‘ مصدریہ: ’وَمَا بَنَاہَا‘ اور ’وَمَا طَحَاہَا‘ میں ’مَا‘ سے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مصدریہ ہے یا موصولہ؟ ہمارے نزدیک یہ مصدریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو موصول مانیے تو اس سے خدا کو مراد لینا پڑے گا درآنحالیکہ یہ قَسمیں خدا کی نہیں بلکہ اس کی آیات قدرت و حکمت کی ہیں اور خاص طور پر ان کے ان پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو انسان کے اندر اس عبرت نگاہی کو پیدا کریں جو اس تعلیم کے قبول کرنے کے لیے راہ کھولے جو سورہ میں دی گئی ہے۔ اوپر کی قسمیں سورج، چاند، دن اور رات کی ہیں اور ان کے ساتھ ’اِذَا تَلَاہَا‘۔ ’اِذَا جَلَّاہَا‘۔ ’اِذَا یَغْشَاہَا‘ وغیرہ کی قیدیں نگاہ کے زاویہ کو ٹھیک رکھنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ اس سیاق میں اگر یہ بات کہی جائے کہ ’اور میں قسم کھاتا ہوں آسمان کی اور اس اللہ کی جس نے اس کو بنایا، تو اس قَسم کی نوعیت اوپر کی قَسموں سے بالکل مختلف ہو جائے گی۔ اس کا ایک ٹکڑا تو شہادت کے مفہوم میں اور دوسرا تعظیم و تقدیس کے مفہوم میں لینا پڑے گا جس کا یہاں کوئی محل نہیں ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کی شہادت پیش کی ہے، اپنی ذات کی شہادت نہیں پیش کی ہے۔ علاوہ ازیں ’مَا‘ اللہ تعالیٰ کے لیے موزوں بھی نہیں ہے۔ ’مَا‘ مصدریہ کے متعلق یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ یہ فعل کو صرف مصدر کے معنی میں کر دینے ہی کے لیے نہیں آتا بلکہ اس فعل میں جو قدرت، جو شان، جو حکمت، جو فیض بخشی، جو ندرت اور جو حیرت انگیز صنعت گری مضمر یا ظاہر ہوتی ہے ان سب کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ مثلاً آسمان کے ساتھ ’وَمَا بَنَاہَا‘ جو فرمایا تو اس کے معنی ہوں گے: ’اور شاہد ہے آسمان اور اس کی حیرت انگیز ساخت، اور اس کے اندر آسمان کے وہ تمام عجائب اور کرشمے مضمر ہوں گے جن کی طرف قرآن نے گوناگوں اسلوبوں سے توجہ دلائی اور اپنے مختلف بنیادی دعاوی پر ان سے دلیل قائم کی ہے۔ ظاہر ہے کہ ’مَا‘ موصولہ کے اندر ان استدلالی پہلوؤں کی طرف توجہ دلانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ’مَا‘ مصدریہ، کی اسی وسعت و جامعیت کے سبب سے اردو میں اس کا ترجمہ نہایت مشکل ہے۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے بعض فاضل مترجموں نے اس کا مفہوم ادا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اردو میں یہ اسلوب موجود نہ ہونے کے سبب سے پورا مفہوم ادا نہیں ہو سکا۔ میں نے بھی اپنے ترجمہ میں اس کی کوشش کی ہے لیکن مجھے اپنی تقصیر کا اعتراف ہے کہ میں بھی اس کا حق ادا نہیں کر سکا۔ ’وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاہَا‘ کو بھی اسی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ سورۂ غاشیہ میں فرمایا ہے: ’وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ‘ (الغاشیہ ۸۸: ۲۰) اور اس کے تحت ہم نے واضح کیا ہے کہ اس اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو قرآن نے دوسرے مقامات میں زمین کے آثار و عجائب سے متعلق بیان فرمائی اور اس سے اپنے مختلف دعاوی پر دلیل قائم کی ہے۔ گویا جن حقائق پر غور کرنے کے لیے سورۂ غاشیہ میں ’کَیْفَ‘ سے ابھارا ہے انہی پر غور کرنے کے لیے یہاں ’مَا مصدریہ‘ سے کام لیا ہے۔ لیکن دونوں کے محل استعمال میں ایک دقیق فرق بھی ہے جس پر گفتگو کا یہاں موقع نہیں ہے۔
    اور زمین اور جیسا کچھ اس کو بچھایا۔
    آسمان و زمین کی ساخت میں انسان کے لیے سبق: یہ آسمان اور زمین کی ساخت، ان کی عظمت اور ان کی فیض بخشی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی اپنے بنانے والے کی عظیم قدرت، بے نہایت حکمت اور غیر محدود ربوبیت کی شہادت دیتے ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے ناممکن نہیں ہے، اس کی حکمت اتھاہ اور اس کی رحمت و ربوبیت ہمہ گیر ہے۔ اس کی اس قدرت، حکمت اور ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو اس میں شتر بے مہار بنا کے نہ چھوڑے بلکہ دیکھے کہ جن کے لیے اس نے یہ سب کچھ بنایا وہ اس میں کیا بنا رہے ہیں اور پھر ان کے رویہ کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کی یہ تمام قدرت و حکمت اور یہ ساری ربوبیت و رحمت بے معنی اور یہ سارا کارخانہ ایک کارعبث بن کے رہ جائے گا۔ ’ما‘ موصولہ اور ’ما‘ مصدریہ: ’وَمَا بَنَاہَا‘ اور ’وَمَا طَحَاہَا‘ میں ’مَا‘ سے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مصدریہ ہے یا موصولہ؟ ہمارے نزدیک یہ مصدریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو موصول مانیے تو اس سے خدا کو مراد لینا پڑے گا درآنحالیکہ یہ قَسمیں خدا کی نہیں بلکہ اس کی آیات قدرت و حکمت کی ہیں اور خاص طور پر ان کے ان پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو انسان کے اندر اس عبرت نگاہی کو پیدا کریں جو اس تعلیم کے قبول کرنے کے لیے راہ کھولے جو سورہ میں دی گئی ہے۔ اوپر کی قسمیں سورج، چاند، دن اور رات کی ہیں اور ان کے ساتھ ’اِذَا تَلَاہَا‘۔ ’اِذَا جَلَّاہَا‘۔ ’اِذَا یَغْشَاہَا‘ وغیرہ کی قیدیں نگاہ کے زاویہ کو ٹھیک رکھنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ اس سیاق میں اگر یہ بات کہی جائے کہ ’اور میں قسم کھاتا ہوں آسمان کی اور اس اللہ کی جس نے اس کو بنایا، تو اس قَسم کی نوعیت اوپر کی قَسموں سے بالکل مختلف ہو جائے گی۔ اس کا ایک ٹکڑا تو شہادت کے مفہوم میں اور دوسرا تعظیم و تقدیس کے مفہوم میں لینا پڑے گا جس کا یہاں کوئی محل نہیں ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کی شہادت پیش کی ہے، اپنی ذات کی شہادت نہیں پیش کی ہے۔ علاوہ ازیں ’مَا‘ اللہ تعالیٰ کے لیے موزوں بھی نہیں ہے۔ ’مَا‘ مصدریہ کے متعلق یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ یہ فعل کو صرف مصدر کے معنی میں کر دینے ہی کے لیے نہیں آتا بلکہ اس فعل میں جو قدرت، جو شان، جو حکمت، جو فیض بخشی، جو ندرت اور جو حیرت انگیز صنعت گری مضمر یا ظاہر ہوتی ہے ان سب کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ مثلاً آسمان کے ساتھ ’وَمَا بَنَاہَا‘ جو فرمایا تو اس کے معنی ہوں گے: ’اور شاہد ہے آسمان اور اس کی حیرت انگیز ساخت، اور اس کے اندر آسمان کے وہ تمام عجائب اور کرشمے مضمر ہوں گے جن کی طرف قرآن نے گوناگوں اسلوبوں سے توجہ دلائی اور اپنے مختلف بنیادی دعاوی پر ان سے دلیل قائم کی ہے۔ ظاہر ہے کہ ’مَا‘ موصولہ کے اندر ان استدلالی پہلوؤں کی طرف توجہ دلانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ’مَا‘ مصدریہ، کی اسی وسعت و جامعیت کے سبب سے اردو میں اس کا ترجمہ نہایت مشکل ہے۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے بعض فاضل مترجموں نے اس کا مفہوم ادا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اردو میں یہ اسلوب موجود نہ ہونے کے سبب سے پورا مفہوم ادا نہیں ہو سکا۔ میں نے بھی اپنے ترجمہ میں اس کی کوشش کی ہے لیکن مجھے اپنی تقصیر کا اعتراف ہے کہ میں بھی اس کا حق ادا نہیں کر سکا۔ ’وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاہَا‘ کو بھی اسی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ سورۂ غاشیہ میں فرمایا ہے: ’وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ‘ (الغاشیہ ۸۸: ۲۰) اور اس کے تحت ہم نے واضح کیا ہے کہ اس اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو قرآن نے دوسرے مقامات میں زمین کے آثار و عجائب سے متعلق بیان فرمائی اور اس سے اپنے مختلف دعاوی پر دلیل قائم کی ہے۔ گویا جن حقائق پر غور کرنے کے لیے سورۂ غاشیہ میں ’کَیْفَ‘ سے ابھارا ہے انہی پر غور کرنے کے لیے یہاں ’مَا مصدریہ‘ سے کام لیا ہے۔ لیکن دونوں کے محل استعمال میں ایک دقیق فرق بھی ہے جس پر گفتگو کا یہاں موقع نہیں ہے۔
    اور نفس اور جیسا کچھ اس کو سنوارا۔
    آفاقی شہادت کے بعد نفسیاتی شہادت: آفاقی شہادتوں کے بعد یہ نفسیاتی شہادت کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اگر خود اپنے نفس پر غور کرے تو یہ حقیقت واضح ہو گی کہ خالق نے اس کی تشکیل اس طرح فرمائی ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں کا شعور ودیعت کر دیا ہے۔ یہ شعور ظاہر ہے کہ اسی لیے ودیعت ہوا ہے کہ انسان ان میں سے نیکی کو اختیار کرے اور بدی سے اپنے کو بچائے۔ اور اس سے یہ بات بھی بدیہی نتیجہ کے طور پر نکلی کہ فلاح وہی پائے گا جو اپنے کو بدی سے پاک رکھے گا اور وہ نامراد ہو گا جو اس کو گناہوں سے آلودہ کرے گا۔ اس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہوئے کہ اپنے آپ کو غیرمسؤل اور شتر بے مہار سمجھنے کا تصور انسان کے خود اپنے نفس کی شہادت کے خلاف ہے۔ ’نَفْسٍ‘ کی تنکیر تقلیل، تکثیر اور تفخیم سب کے لیے ہو سکتی ہے لیکن میرے نزدیک یہاں یہ تفخیم شان کے لیے ہے، پیچھے قسموں ہی کے سلسلہ میں اس کی نہایت واضح مثالیں گزر چکی ہیں۔ مثلاً سورۂ بروج میں فرمایا ہے: ’وَشَاھِدٍ وَّمَشْھُوْدٍ‘ (۳) سورۂ بلد میں ہے: ’وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ‘۔ ان کی وضاحت متعلق سورتوں میں ہو چکی ہے۔ اسی طرح یہاں ’وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا‘ ہے جس سے نفس انسانی کی حیرت انگیز حکیمانہ تشکیل اور اس کی نہایت اعلیٰ ظاہری و باطنی صلاحیتوں کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔ ’وَّمَا سَوّٰھَا‘ میں بھی ’مَا‘ مصدریہ ہے اور یہ، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی، نفس انسانی کی اس حکیمانہ تشکیل و تقویم کی طرف توجہ دلا رہا ہے جس کی وضاحت قرآن نے جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے فرمائی اور اس سے استدلال کیا ہے کہ قدرت ان اعلیٰ صلاحیتوں کی چیز محض ایک کارعبث اور کھلونے کے طور پر نہیں بنا سکتی اس وجہ سے لازم ہے کہ ایک دن یہ اپنی صلاحیتوں اور نعمتوں سے متعلق اپنے خالق کے آگے جواب دہ ہو۔ لفظ ’تَسْوِیَۃٌ‘ پر ہم مختلف مقامات میں بحث کر چکے ہیں کہ کسی چیز کی تخلیق میں جو تکمیلی مرحلہ ہوتا ہے یہ اس کی تعبیر کے لیے بھی آتا ہے، جیسے فرمایا ہے: ’اَلَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی‘ (لاعلیٰ ۸۷: ۲) (جس نے خاکہ بنایا پھر اس کے نوک پلک سنوارے) اس سے معلوم ہوا کہ یہاں قسم میں نفس انسانی کی تخلیق کا صرف ابتدائی مرحلہ پیش نظر نہیں ہے بلکہ وہ تکمیلی مرحلہ بھی مدنظر ہے جب وہ قدرت کے ایک شاہ کار کی حیثیت سے نمایاں ہوا اور خود اپنے وجود سے اس حقیقت کا شاہد بن گیا کہ وہ اس دنیا میں ذمہ داریوں کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں وہ خدا کا خلیفہ اور اس کے آگے مسؤل ہے۔  
    پس اس کو سمجھ دی اس کی بدی اور نیکی کی۔
    ’فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا‘۔ یہ عمل تسویہ کی تفصیل ہے۔ انسان کی تخلیق کا تکمیلی مرحلہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر ایک نور یزدانی ودیعت فرمایا جس سے اس کے اندر یہ شعور بیدار ہوا کہ کیا چیز اس کے لیے نیکی اور خیر ہے اور کیا چیز بدی اور شر۔ سابق سورہ میں اسی حقیقت کی طرف ’وَھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘ (البلد ۹۰: ۱۰) کے الفاظ سے اشارہ گزر چکا ہے اور اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ مزید تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ قیامہ اور سورۂ دہر کی تفسیر میں اس کے ہر پہلو پر جامع بحث ملے گی۔
    کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا۔
    ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا ہ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘۔ یہ الہام خیر و شر کا لازمی اور بدیہی تقاضا بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں امتیاز بخشا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ خیر کو اختیار اور شر سے اجتناب کرے۔ یہی طریقہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں فلاح و کامرانی کی راہ کھولے گا۔ اگر اس کے برعکس اس نے شر و فساد کی راہ اختیار کی تو یہ چیز اس کی بدبختی و نامرادی کا سبب بنے گی۔ ’دَسّٰھَا‘ دراصل ’دَسَّھَا‘ ’دَسَسٌ‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی چیز کو خاک میں ڈھانک دینے اور مٹی میں ملا دینے کے ہیں۔ یہی لفظ بدل کر ’دَسّٰھَا‘ ہو گیا ہے اور اس تبدیلی سے اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے، یعنی اس کو بالکل خاک میں ملا دیا۔ عربی میں اس طرح کے تغیر کی مثالیں موجود ہیں مثلاً ’تظنَّنَ‘ سے ’تَظَنّٰی‘۔ ہم نے اس کو الہام خیر و شر کا بدیہی تقاضا اس وجہ سے قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو نعمت بھی بندے کو عطا فرماتا ہے اس کا حق واجب یہ ہے کہ بندہ اس کو اس کے صحیح مصرف میں استعمال کرے۔ اسی میں اس کی بہبود اور درحقیقت یہی اس نعمت کا شکر ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو گویا خود اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں گراتا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جس کو خدا نے دو آنکھیں بخشی ہیں اس پر واجب ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر راہ کے عقبات اور نشیب و فراز دیکھتا ہوا چلے۔ اگر وہ آنکھیں موند کر چلے گا تو اس کا کسی کھڈ میں گرنا بعید نہیں اور اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہوگی، کسی دوسرے پر نہیں ہو گی۔ ان قسموں کا مقسم علیہ کیا ہے؟ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قسموں کا مقسم علیہ کیا ہے؟ بعض لوگوں نے ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا ہ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ کو مقسم علیہ قرار دیا ہے لیکن صاحب کشاف کو اس سے انکار ہے۔ ہمارے نزدیک ان کا انکار بے جا نہیں ہے۔ یہاں جو قسمیں مذکور ہیں ان میں سورج، چان، دن اور رات کی قسمیں تو، جیسا کہ ہم نے وضاحت کی، اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ اس کائنات کے تمام عناصر کی باگ ایک قادر و قیوم کے ہاتھ میں ہے جو ان میں سے کسی کو اس کے محور و مدار سے سرمو تجاوز کی اجازت نہیں دیتا ورنہ یہ سارا عالم اپنے اضداد کے تصادم سے درہم برہم ہو جائے۔ اس کے بعد آسمان و زمین کی قسمیں اس عالم کے صانع کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور مقصود ان سے اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ اس کی ان صفات کا لازمی تقاضا ہے کہ اس دنیا میں وہ کسی کو شتر بے مہار بنا کے چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ ہر ایک کے سامنے اس کے محاسبہ کا دن آنا لازمی ہے۔ یہ خدا کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ تیسری قسم نفس انسانی کی تشکیل کی قسم ہے جو ایک انفسی شہادت کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی وضاحت خود قرآن نے یوں فرمائی ہے کہ جب خالق نے خود انسان کی فطرت کے اندر خیر اور شر کا امتیاز ودیعت فرمایا ہے تو لازماً اس کے معنی یہی ہیں کہ جو اپنے کو خیر سے آراستہ کرے گا وہ فلاح پانے والا بنے گا اور جو اپنے اوپر شر کو مسلط کرے گا وہ نامراد ہونے والوں میں سے ہو گا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا ہ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ یہاں مقسم علیہ کے طور پر نہیں بلکہ آخری قسم کے ایک خاص پہلو کی وضاحت کے طور پر ہے۔ مقسم علیہ یہاں ایسا ہونا چاہیے جو تمام قسموں کے لازمی نتیجہ کو اپنے اندر سمو لے اس وجہ سے مجھے صاحب کشاف کی رائے قوی معلوم ہوتی ہے کہ یہاں جواب قسم محذوف ہے۔ اس کے حذف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس آخری ٹکڑے نے مقسم علیہ کی طرف ایک اشارہ کر دیا اس وجہ سے اس کے اظہار کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ مقسم علیہ کے حذف کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری بات مقسم علیہ کی حیثیت سے محذوف مانی جا سکتی ہے جو قسموں سے متبادر ہوتی ہے۔ یہاں اس کو جامع الفاظ میں بیان کرنا تو مشکل ہے لیکن ایک نمایاں پہلو کی تعبیر یوں کی جا سکتی ہے کہ ’خالق کائنات کسی قوم کے طغیان کو برداشت نہیں کرتا بلکہ وہ لازماً اس کو تباہ کر دیتا ہے‘۔ یہاں قرآن کے اس فلسفۂ تاریخ کو ذہن میں رکھیے جس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ جہاں تک قوموں کا تعلق ہے وہ اپنے طغیان کی سزا قومی حیثیت سے اسی دنیا میں پا جاتی ہیں۔ آخرت میں افراد کا محاسبہ ان کی انفرادی حیثیت میں ہو گا اور ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جز ا یا سزا پائے گا۔
    اور نامراد ہوا جس نے اس کو آلودہ کیا۔
    ’وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘۔ یہ الہام خیر و شر کا لازمی اور بدیہی تقاضا بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر میں امتیاز بخشا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ خیر کو اختیار اور شر سے اجتناب کرے۔ یہی طریقہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں فلاح و کامرانی کی راہ کھولے گا۔ اگر اس کے برعکس اس نے شر و فساد کی راہ اختیار کی تو یہ چیز اس کی بدبختی و نامرادی کا سبب بنے گی۔ ’دَسّٰھَا‘ دراصل ’دَسَّھَا‘ ’دَسَسٌ‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی چیز کو خاک میں ڈھانک دینے اور مٹی میں ملا دینے کے ہیں۔ یہی لفظ بدل کر ’دَسّٰھَا‘ ہو گیا ہے اور اس تبدیلی سے اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے، یعنی اس کو بالکل خاک میں ملا دیا۔ عربی میں اس طرح کے تغیر کی مثالیں موجود ہیں مثلاً ’تظنَّنَ‘ سے ’تَظَنّٰی‘۔ ہم نے اس کو الہام خیر و شر کا بدیہی تقاضا اس وجہ سے قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو نعمت بھی بندے کو عطا فرماتا ہے اس کا حق واجب یہ ہے کہ بندہ اس کو اس کے صحیح مصرف میں استعمال کرے۔ اسی میں اس کی بہبود اور درحقیقت یہی اس نعمت کا شکر ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو گویا خود اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں گراتا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جس کو خدا نے دو آنکھیں بخشی ہیں اس پر واجب ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر راہ کے عقبات اور نشیب و فراز دیکھتا ہوا چلے۔ اگر وہ آنکھیں موند کر چلے گا تو اس کا کسی کھڈ میں گرنا بعید نہیں اور اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہوگی، کسی دوسرے پر نہیں ہو گی۔ ان قسموں کا مقسم علیہ کیا ہے؟ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قسموں کا مقسم علیہ کیا ہے؟ بعض لوگوں نے ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا ہ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ کو مقسم علیہ قرار دیا ہے لیکن صاحب کشاف کو اس سے انکار ہے۔ ہمارے نزدیک ان کا انکار بے جا نہیں ہے۔ یہاں جو قسمیں مذکور ہیں ان میں سورج، چان، دن اور رات کی قسمیں تو، جیسا کہ ہم نے وضاحت کی، اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ اس کائنات کے تمام عناصر کی باگ ایک قادر و قیوم کے ہاتھ میں ہے جو ان میں سے کسی کو اس کے محور و مدار سے سرمو تجاوز کی اجازت نہیں دیتا ورنہ یہ سارا عالم اپنے اضداد کے تصادم سے درہم برہم ہو جائے۔ اس کے بعد آسمان و زمین کی قسمیں اس عالم کے صانع کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور مقصود ان سے اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ اس کی ان صفات کا لازمی تقاضا ہے کہ اس دنیا میں وہ کسی کو شتر بے مہار بنا کے چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ ہر ایک کے سامنے اس کے محاسبہ کا دن آنا لازمی ہے۔ یہ خدا کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ تیسری قسم نفس انسانی کی تشکیل کی قسم ہے جو ایک انفسی شہادت کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی وضاحت خود قرآن نے یوں فرمائی ہے کہ جب خالق نے خود انسان کی فطرت کے اندر خیر اور شر کا امتیاز ودیعت فرمایا ہے تو لازماً اس کے معنی یہی ہیں کہ جو اپنے کو خیر سے آراستہ کرے گا وہ فلاح پانے والا بنے گا اور جو اپنے اوپر شر کو مسلط کرے گا وہ نامراد ہونے والوں میں سے ہو گا۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا ہ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا‘ یہاں مقسم علیہ کے طور پر نہیں بلکہ آخری قسم کے ایک خاص پہلو کی وضاحت کے طور پر ہے۔ مقسم علیہ یہاں ایسا ہونا چاہیے جو تمام قسموں کے لازمی نتیجہ کو اپنے اندر سمو لے اس وجہ سے مجھے صاحب کشاف کی رائے قوی معلوم ہوتی ہے کہ یہاں جواب قسم محذوف ہے۔ اس کے حذف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس آخری ٹکڑے نے مقسم علیہ کی طرف ایک اشارہ کر دیا اس وجہ سے اس کے اظہار کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ مقسم علیہ کے حذف کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری بات مقسم علیہ کی حیثیت سے محذوف مانی جا سکتی ہے جو قسموں سے متبادر ہوتی ہے۔ یہاں اس کو جامع الفاظ میں بیان کرنا تو مشکل ہے لیکن ایک نمایاں پہلو کی تعبیر یوں کی جا سکتی ہے کہ ’خالق کائنات کسی قوم کے طغیان کو برداشت نہیں کرتا بلکہ وہ لازماً اس کو تباہ کر دیتا ہے‘۔ یہاں قرآن کے اس فلسفۂ تاریخ کو ذہن میں رکھیے جس کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ جہاں تک قوموں کا تعلق ہے وہ اپنے طغیان کی سزا قومی حیثیت سے اسی دنیا میں پا جاتی ہیں۔ آخرت میں افراد کا محاسبہ ان کی انفرادی حیثیت میں ہو گا اور ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جز ا یا سزا پائے گا۔
    ثمود نے جھٹلایا اپنی سرکشی کے باعث۔
    ایک تاریخی شہادت: آفاقی و انفسی شواہد کے بعد یہ ایک تاریخی شہادت اسی دعوے کی دلیل کے طور پر پیش کی گئی ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ جو قوم طغیان میں مبتلا ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اتمام حجت کے بقدر مہلت دینے کے بعد لازماً تباہ کر دیا کرتا ہے۔ آفاقی و انفسی دلائل کا تعلق غور و فکر سے ہوتا ہے اس وجہ سے عاقلوں کے لیے تو وہ مفید ہوتے ہیں لیکن عام لوگوں پر ان کا وہ اثر نہیں پڑتا جو پڑنا چاہیے۔ اس طرح کے لوگوں پر واقعاتی شہادتیں زیادہ کارگر ہوتی ہیں بشرطیکہ ان کے اندر کچھ صلاحیت ہو۔ اس وجہ سے قرآن نے آفاقی و انفسی دلائل کے پہلو بہ پہلو تاریخی؂۱ شواہد کا بھی التزام رکھا ہے تاکہ اتمام حجت کے پہلو سے دعوت میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ دوسرے مقامات میں تو قرآن نے اس مقصد سے متعدد قوموں کا ذکر کیا ہے لیکن یہاں صرف ایک ہی قوم ۔۔۔ ثمود ۔۔۔ کا ذکر ہے۔ اس کے بعض وجوہ بالکل ظاہر ہیں۔ ثمود کے خاص طور پر ذکر کرنے کے بعض وجوہ: ایک وجہ تو یہ ہے کہ عرب کی اقوام بائدہ میں سے قریش ان کے حالات اور ان کے انجام سے نسبۃً زیادہ واقف تھے۔ استاذ امام مولانا فراہیؒ نے سورۂ شمس کی تفسیر میں ان کے حالات اور قریش سے ان کی مشابہت پر مفصل بحث کی ہے۔ ہم اس کے بعض ضروری حصے نقل کرتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں: ’’اہل عرب جن قوموں سے اچھی طرح واقف تھے انہی کے حالات اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے عبرت کے لیے پیش کیے ہیں۔ یہ خیال کرنا صحیح نہیں ہے کہ ’کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ‘ کے الفاظ سے جیسا کہ دھندلا تصور ہمارے سامنے آتا ہے وہسا ہی قریش کے سامنے بھی آتا ہو گا۔ اس سورہ میں ثمود سے متعلق جو اشارات ہیں وہ قریش کے سامنے ان کی پوری تاریخ رکھ دینے کے لیے کافی تھے۔ یہ عرب بائدہ میں سے ہیں جن کی بستیاں اور جن کی روایات اہل عرب کو وراثت میں ملیں۔ ان سے متعلق ان کی روزمرہ کی گفتگوؤں میں بہت سی مثلیں پھیلی ہوئی تھیں۔ قرآن مجید ہمارے اس دعوے پر خود سب سے بڑی حجت ہے۔‘‘ قرآن کے دلائل نقل کرنے کے بعد مولانا فرماتے ہیں: ’’شعراء نے بھی ان کا ذکر ایک جانی پہچانی ہوئی قوم کی حیثیت سے کیا ہے ۔۔۔ ان کی شوکت و عظمت ضرب المثل تھی۔ خنساء نے کہا ہے: ولاقاہ من الایام یوم کما من قبل لم یخلد قدار (اور اس کو گردش روزگار نے فنا کر دیا جس طرح اس سے پہلے قِدار کو دوام حاصل نہیں ہوا) شعر میں قِدار سے مراد احمر ثمود ہے جو قوم کا سردار تھا اور جس نے اونٹنی کو گزند پہنچایا۔ جس طرح عاد میں قَیل بن عمر گزرا ہے اسی طرح قوم ثمود میں یہ نہایت سرکش اور مطلق العنان سردار تھا۔ مشہور جاہلی شاعر افوہ اددی نے ایک قصیدے میں اپنی قوم کے پاجیوں کو قَیل اور قدار سے تشبیہ دی ہے: فینا معا شر لم یبنوا لقومھم وان بنی قومھم ما افسدوا عادوا (ہم میں کچھ ایسے اشرار ہیں جنھوں نے اپنی قوم کے لیے بنایا توکچھ بھی نہیں اور اگر ان کی قوم نے ان کے بگاڑے ہوئے کو بنایا تو انھوں نے اس کو پھر بگاڑ دیا) لا یرشدون ولن یرعوا لمرشدھم والجھل منہم معا والغی میعاد (نہ خود راہ دیکھتے اور نہ راہ دکھانے والوں کی سنتے، جہالت اور سرکشی، دونوں ان میں ساتھ ساتھ موجود ہیں) اضحوا کقیل بن عمرو فی عشیرتہٗ اذا ھلکت بالذی سدّٰی لھا عاد (وہ اپنی قوم میں قَیل بن عمر کی مثال ہیں جس کی کرتوتوں کی بدولت عاد تباہ ہوئے) او بعدہ کقد ارحین تابعہٗ علی الغوایۃ اقوام فقد بادوا (یا اس کے بعد وہ قِدار کی مثال ہیں جس کی پیروی لوگوں نے گمراہی میں کی اور تباہ ہوئے)‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ثمود کی سرکشی، ان کے لیڈروں کی گمراہی اور ان کے عبرت انگیز انجام کی تفصیل اہل عرب میں اس طرح معلوم و معروف تھی کہ ان کے شعراء بے تکلف اپنے اشعار میں ضرب المثل کی طرح ان کا ذکر کرتے اس وجہ سے قرآن کا یہ اجمالی حوالہ اہل عرب کے لیے اجمالی نہیں تھا بلکہ وہ انہی چند لفظوں سے ان کے طغیان کے برے انجام کی پوری تفصیل سمجھ سکتے تھے۔ ’کَذَّبَتْ ثَمُوۡدُ بِطَغْوَاہَا‘ میں لفظ ’طَغْوٰی‘ پر خاص طور پر نظر رہے۔ اس کے معنی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے کھلم کھلا بغاوت کے ہیں۔ خاص طور پر وہ سرکشی جس کی مرتکب کوئی قوم اس وقت ہوتی ہے جب کہ حق اس پر اچھی طرح واضح ہو چکا ہو۔ اس لفظ پر نگاہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق سورہ کے عمود سے ہے۔ ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں قریش کو یہ آگاہی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں کسی قوم کے طغیان کو پسند نہیں کرتا۔ جو قوم یہ روش اختیار کرتی ہے، ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد، وہ لازماً تباہ کر دی جاتی ہے۔ اس لفظ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ثمود نے اپنے رسول کی تکذیب اس وجہ سے نہیں کی کہ ان پر حق واضح نہیں تھا بلکہ انھوں نے حق کے واضح ہونے کے باوجود محض سرکشی کے سبب سے تکذیب کی۔ _____ ؂۱ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ تاریخی شواہد ہیں تو آفاقی دلائل ہی کا ایک حصہ لیکن ان کی خاص اہمیت کے سبب سے میں نے یہاں ان کا ذکر الگ کیا ہے۔  
    جب کہ اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے بڑا بدبخت۔
    ’إِذِ انْبَعَثَ اَشْقَاہَا‘۔ یہ ان کے طغیان کی تفصیل ہے۔ ’اَشْقٰی‘ سے اشارہ ثمود کے لیڈر قدار کی طرف ہے جس کی شقاوت پوری قوم کی تباہی کا سبب ہوئی۔ ’انبعاث‘ کے معنی اٹھنے اور کمربستہ ہونے کے ہیں اور اس سے مراد اس کا اس جرم کے لیے کمربستہ ہونا ہے جس نے پوری قوم پر قہر الٰہی کے دروازے کھول دیے۔ اس اجمال کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔؂۱ جب قوم ثمود کے پیغمبر ۔۔۔ حضرت صالح ۔۔۔ نے لوگوں کو عذاب سے ڈرایا تو قوم نے سرکشی کے سبب سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کو اس عذاب کی کوئی نشانی دکھا دی جائے ورنہ وہ ان کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے ان کے مطالبہ پر ایک اونٹنی نامزد کر دی کہ یہ عذاب کی نشانی ہے۔ اگر تم نے اس کو کوئی نقصان پہنچایا تو عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا۔ ساتھ ہی ان کے لیے ایک امتحان بھی مقرر کر دیا کہ گھاٹ پر پانی پینے کی باری اس کے لیے مخصوص ہو گی۔ ایک دن یہ پانی پیے گی اور ایک دن تم اپنے جانوروں کو پلاؤ گے۔ بھلا یہ پابندی وہ کب گوارا کرنے والے تھے۔ انھوں نے اپنے لیڈر سے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ جوش میں اٹھا اور اونٹنی کی کونچیں اس نے کاٹ دیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تین دن کی ان کو مہلت دی کہ اب بھی اگر وہ توبہ کرنی چاہیں تو کر لیں لیکن وہ اس مہلت سے اور بھی مغرور ہو گئے بالآخر عذاب نے ان کو بے نام و نشان کر دیا۔ _____ ؂۱ ملاحظہ ہو آیات ۲۷-۲۹ کی تفسیر سورۂ قمر میں۔
    تو اللہ کے رسول نے ان کو آگاہ کیا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری سے خبردار!
    ’فَقَالَ لَہُمْ رَسُوۡلُ اللہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیَاہَا‘۔ جب حضرت صالح علیہ السلام نے دیکھا کہ فی الواقع یہ بدبخت عذاب کی دیوار توڑ دینے پر تل ہی گیا ہے تو انھوں نے آخری تنبیہ فرمائی کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کی پانی پینے کی باری سے خبردار رہیو، ورنہ عذاب الٰہی آ دھمکے گا۔ ’نَاقَۃَ اللّٰہِ‘ کا نصب بربنائے تحذیر ہے۔ یعنی یہاں کوئی فعل محذوف مانیں گے جو آگاہ اور خبردار کر دینے کے معنی میں ہو گا۔ فعل کے حذف کر دینے میں یہ بلاغت ہے کہ سامع کی پوری توجہ اصل بات پر مرکوز کر دی جائے۔ کسی خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے یہ اسلوب ہماری زبان بلکہ ہر زبان میں موجود ہے۔
    تو انھوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کی پاداش میں ان پر اپنا عذاب الٹ دیا اور ان کا ستھراؤ کر دیا۔
    ’فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا‘۔ یعنی انھوں نے جس طرح پہلے عذاب کی دھمکی کو جھٹلایا تھا اسی طرح پیغمبر کی اس آخری وارننگ کی بھی کوئی پروا نہیں کی بلکہ ان کی تکذیب کر دی کہ یہ محض ایک دھونس اور ڈراوا ہے۔ چنانچہ جو کچھ کرنا تھا بے دھڑک کر گزرے۔ ’عقر‘ کے معنی اونٹ کی کونچیں کاٹ دینے کے ہیں۔ اس کے بعد اونٹ لازماً مر جاتا ہے اس وجہ سے لازم معنی کے طور پر قتل کر دینے کے معنی میں بھی یہ آتا ہے لیکن لفظ کا اصل مفہوم وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ قرآن کے فلسفۂ تاریخ کا ایک نکتہ: یہاں ایک بات خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ اونٹنی کے قتل کا ارتکاب قوم کے اندر سے اگرچہ ایک ہی شخص نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا مجرم پوری قوم کو ٹھہرایا اور اس کی سزا بھی پوری قوم کو دی۔ اس سے قرآن کے فلسفۂ تاریخ کا یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے جرم میں پوری قوم کو سزا دیتا ہے اگر قوم اس جرم پر راضی ہو۔ اس کے وبال سے صرف وہی لوگ بچتے ہیں جو اپنی استطاعت کی حد تک اس کی اصلاح کے لیے جو کچھ کر سکتے ہوں کر گزریں اور اگر کچھ نہ کر سکتے ہوں تو ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس سے بیزار اور کنارہ کش رہیں۔ اس سے نیچے نہ ایمان کا کوئی درجہ ہے نہ خدا کی پکڑ سے بچنے کی کوئی سبیل۔ ثمود کے عذاب کی نوعیت: ’فَدَمْدَمَ عَلَیْْہِمْ رَبُّہُمۡ بِذَنۡبِہِمْ‘۔ ’دَمْدَمَۃ‘ کے معنی ہلاک کر دینے کے ہیں لیکن اس کے اندر عذاب کی شدت اور بے پناہی کا مضمون بھی مضمر ہے جو مجرد ’ہلاک کر دینے‘ کے لفظ سے واضح نہیں ہوتا۔ اگر اس کو ٹھیک ٹھیک تعبیر کرنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ تب ان کے خداوند نے ان کے اوپر دھما دھم عذاب برسا دیا۔ قرآن میں’فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ‘ (الفجر ۸۹: ۱۳) (اور ان پر تیرے خداوند نے عذاب کے کوڑے برسا دیے) کا اسلوب بیان بھی استعمال ہوا ہے، وہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ سورۂ قمر کی آیت ۳۷ کے تحت ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان پر جو عذاب آیا وہ سرما کے بادلوں، ژالہ باری، ہولناک کڑک، دمک اور طوفانی ہوا کا مجموعہ تھا۔ اس طرح کے عذاب کے لیے لفظ ’دَمْدَمَ‘ نہایت موزوں ہے۔ اونٹنی عذاب کی نشانی تھی: ’بِذَنۡبِہِمْ‘۔ یعنی یہ عذاب ان کے اوپر ان کے اس جرم کے سبب سے آیا کہ انھوں نے اللہ اور رسول کی تنبیہ کے باوجود اونٹنی کو گزند پہنچانے کی جسارت کی۔ یہ اونٹنی عذاب الٰہی کی نشانی تھی اور، جیسا کہ سورۂ قمر کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے، یہ بطور امتحان مقرر کی گئی تھی کہ اندازہ ہو جائے کہ قوم کا طغیان کس درجے تک پہنچ چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس جرم کے بعد اگر ان کو ڈھیل ملتی تو وہ خود اللہ کے رسول پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت کر گزرتے اور یہ وہ جرم ہے جس کی مہلت اللہ تعالیٰ کسی قوم کو نہیں دیتا بلکہ جب کسی قوم نے رسول کے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ لازماً تباہ کر دی گئی ہے۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ قریش کے مخفی ارادوں کی طرف ایک اشارہ: معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب قریش کے لیڈروں نے دارالندوہ اور اپنی نجی مجلسوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے مشورے شروع کر دیے تھے۔ یہ مشورے چونکہ خفیہ تھے اس وجہ سے قرآن نے بھی علانیہ کی بجائے اشارات کی زبان میں ان کو آگاہی دے دی کہ اگر وہ کوئی ارادۂ بد اپنے دل میں پرورش کر رہے ہیں تو دور تک اس کے نتائج پر نگاہ ڈال لیں۔ ’فَسَوَّاہَا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب برسایا تو ان کا بالکل ستھراؤ کر کے رکھ دیا۔ ضمیر مفعول کا مرجع ثمود اور ارض ثمود دونوں ہو سکتے ہیں۔ نہ نادر بجا ماندو نے نادری!  
    اور وہ نہیں ڈرتا کہ اس کے پیچھے کیا ہو گا۔
    اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کا اندیشہ نہیں: یعنی اللہ تعالیٰ جب اسی طرح کسی قوم کو تباہ کر دیتا ہے تو اپنی اس سنت کے مطابق کرتا ہے جو اس نے اس دنیا کی مصلحت اور بہبود کے لیے اپنے محیط کل علم اور اتھاہ قدرت کے تحت ٹھہرا رکھی ہے اس وجہ سے نہ اس کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ نتیجہ کے اعتبار سے اس کے اس فیصلہ میں کوئی غلطی ہو سکتی ہے اور نہ یہ ڈر ہوتا ہے کہ کوئی اس کو چیلنج کر سکتا ہے۔ وہ کسی کے آگے نہ مسؤل ہے اور نہ کسی کا اس پر زور ہے۔ اس سے ضمناً ان لغویات کی بھی نفی ہو جاتی ہے جو تورات کی کتاب پیدائش میں اس کے راویوں نے ملائے ہیں، مثلاً ’’اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے دل کے تصور اور خیال سدا برے ہیں۔ تب خداوند زمین پر انسان کو پیدا کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کیا۔‘‘ (پیدائش باب ۶: ۵-۶) اسی طرح طوفان نوح کے ذکر کے بعد ہے: ’’اور خداوند نے اپنے دل میں کہا کہ انسان کے سبب سے میں پھر کبھی زمین پر لعنت نہیں بھیجوں گا کیونکہ انسان کے دل کا خیال لڑکپن سے برا ہے اور نہ پھر سب جان داروں کو، جیسا اب کیا ہے، ماروں گا۔‘‘ (پیدائش باب ۸: ۲۱)  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List