Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الاعلی (The Most High, Glory To Your Lord In The Highest)

    19 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ الطارق ۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین صبر و انتظار پر ختم ہوئی ہے۔ آپ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ تمہاری تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے استدراج کے پھندے میں پھنس چکے ہیں، اب ان کے دن گنتی کے ہیں جو وہ پورے کر رہے ہیں۔ ان کو تھوڑی سی مہلت اور دو۔ ان کے طغیان کا انجام ان کے سامنے آیا ہی چاہتا ہے۔ اطمینان رکھو کہ یہ خدا کے قابو سے باہر نہیں جا سکتے۔ وہ ہر طرف سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

    اب اس سورہ میں قریش کے ہٹ دھرموں سے صرف نظر کر کے براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرمایا ہے اور آپ کو یہ بشارت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں ایک ترتیب و تدریج ہے اور یہ ترتیب و تدریج تمام تر اس کی حکمت پر مبنی ہے تو اپنے رب پر بھروسہ رکھو۔ جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ تمہاری سعی بامراد اور اللہ کی نعمت تم پر تمام ہو گی اور راہ کی ساری رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ خطاب کی یہ تبدیلی آگے کی سورتوں میں (کم از کم دس سورتوں تک) نمایاں ہے۔ ان میں مخالفین سے کوئی بات کہی گئی ہے تو ضمناً۔ اصل خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہے اور مختلف اسلوبوں سے آپ کی وہ تمام الجھنیں دور فرمائی گئی ہیں جو دعوت کے اس مرحلے میں پیش آئیں یا جن کے پیش آنے کا امکان تھا۔

  • الاعلی (The Most High, Glory To Your Lord In The Highest)

    19 آیات | مکی
    الاعلٰی - الغاشیۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔اِن میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے اور قریش کے سرداروں سے بھی، اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع انذارقیامت ہے، لیکن دونوں میں اِس کے ساتھ داعی کے لیے تسلی اور مخاطبین کے رویے پر حسرت و افسوس کا مضمون بھی نمایاں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں سورتوں میں اطمینان دلایا گیا ہے کہ تذکیر و نصیحت سے آگے آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اِس کے بعد یہ لوگوں کا کام ہے کہ نصیحت پائیں اور ہمارا کام ہے کہ اُن کی سرکشی پر اُن سے نمٹ لیں۔ آپ کو اِس معاملے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 087 Verse 001 Chapter 087 Verse 002 Chapter 087 Verse 003 Chapter 087 Verse 004 Chapter 087 Verse 005 Chapter 087 Verse 006 Chapter 087 Verse 007 Chapter 087 Verse 008 Chapter 087 Verse 009 Chapter 087 Verse 010 Chapter 087 Verse 011 Chapter 087 Verse 012 Chapter 087 Verse 013 Chapter 087 Verse 014 Chapter 087 Verse 015 Chapter 087 Verse 016 Chapter 087 Verse 017 Chapter 087 Verse 018 Chapter 087 Verse 019
    Click translation to show/hide Commentary
    اپنے خداوند برتر کے نام کی تسبیح کر۔
    اللہ تعالیٰ کی یاد کی اہمیت: ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ لفظ ’تَسْبِیْحٌ‘ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے پاک اور برتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ شان کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا صحیح تصور ہی تمام علم و معرفت اور تمام قوت و اعتماد کا سرچشمہ ہے۔ اگر اس میں کوئی خلل پیدا ہو جائے تو انسان صحیح معرفت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا اور شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ اس کا دل ایمان و توکل کی نعمت، طمانیت و شرح صدر کے نور اور عزیمت و استقامت کی قوت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت اور اس کی یاد ہی ہے جو دل کو پابرجا اور مستقیم و مطمئن رکھتی ہے۔ ’اَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ‘ (الرعد ۱۳: ۲۸) ’تسبیح‘ کی سب سے اعلیٰ اور معیاری شکل تو، جیسا کہ ہم جگہ جگہ بیان کرچکے ہیں، نماز، بالخصوص شب کی نماز ہے لیکن جس طرح سانس انسان کی مادی زندگی کے لیے ہر وقت ضروری ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یاد اس کی روحانی زندگی کے لیے ہر وقت ضروری ہے۔ اس وجہ سے صرف نمازوں کے اوقات ہی میں نہیں بلکہ زندگی کی دوسری سرگرمیوں کے اندر بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے دل کو آباد رکھنا چاہیے تاکہ شیطان کو اس پر غلبہ پانے کا موقع نہ ملے۔ سورۂ مزمل کی آیت ۷ ’إِنَّ لَکَ فِی اَلنَّہَارِ سَبْحًا طَوِیْلاً‘ کے تحت اس حقیقت کی ہم وضاحت کر چکے ہیں۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت صبر و استقامت کے حصول کے لیے فرمائی گئی ہے اس وجہ سے یہ اپنے جامع مفہوم ہی میں ہے۔
    جس نے خاکہ بنایا پھر نوک پلک سنوارے۔
    اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں ایک تدریج ہوتی ہے جو اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے: اب اس آیت اور آگے کی چند آیات میں خدائے برتر کی چند صفات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کے ہر کام میں ایک ترتیب و تدریج ہوتی ہے جو یکسر اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے اس وجہ سے بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل میں صبر و استقامت کے ساتھ لگا رہے اور یہ امید رکھے کہ جس راہ پر چلنے کا اس نے حکم دیا ہے اس کی آخری منزل، اپنی تمام برکتوں کے ساتھ، بالآخر آ کے رہے گی۔ اس میں جو دیر ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہو گی اور جو مشکلیں پیش آئیں گی ان کے اندر بھی دنیا اور آخرت دونوں کی مصلحتیں مضمر ہوں گی۔ خلق: ’خَلَقَ‘ کے معروف معنی تو پیدا کرنے کے ہیں لیکن کسی چیز کا خاکہ یا پتلا بنانے کے معنی میں بھی یہ آیا ہے، مثلاً ’أَنِّیْ أَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْْرِ فَأَنفُخُ فِیْہِ فَیَکُوۡنُ طَیْرًا بِإِذْنِ اللّٰہِ‘ (آل عمران ۳: ۴۹) (میں تمہارے لیے پرندے کی شکل پر ایک پتلا مٹی سے بناؤں گا پھر اس میں پھونک مار دوں گا تو اللہ کے حکم سے وہ سچ مچ پرندہ بن جائے گا) یہاں یہ اسی معنی میں ہے۔ تسویہ: ’تَسْوِیَۃٌ‘ کے معنی کسی شے کو ٹھیک ٹھاک کرنا، اس کو ہموار کرنا، اس کے نوک پلک سنوارنا۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ اسی آخری مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اگر اپنی خِلقت ہی پر غور کرے تو اس کو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو یک بیک نہیں بنا کھڑا کیا ہے بلکہ اس قطرے کو گہر بنانے تک بہت سے مرحلوں سے گزارنا پڑا ہے۔ ایک دور وہ ہوتا ہے جب اس کا ابتدائی خاکہ بنتا ہے پھر آہستہ آہستہ وہ دور آتا ہے جب قدرت اس خاکے میں رنگ بھرتی اور اس کا مُوقلم اس کے نوک پلک سنوارتا ہے۔  
    جس نے مقدر کیا اور ہدایت بخشی۔
    ’قَدَّرَ فَہَدٰی‘ کا وسیع مفہوم: یہی حال اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کے نشوونما اور اس کے مادی و عقلی عروج کمال کا بھی ہے۔ قدرت نے اس کی زندگی کو جن چیزوں کا محتاج بنایا ہے ان کے تقاضے بھی اس کے اندر رکھے مثلاً بچے کو دودھ کا محتاج بنایا ہے تو اس کی ماں کی چھاتی میں دودھ بھی پیدا کیا ہے اور پھر بچے کو یہ رہنمائی دی ہے کہ وہ ماں کی چھاتی کو چوسے اور اس سے اپنی غذا حاصل کرے۔ بعد کے ادوار میں جب اس کی ضروریات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو ہر ضرورت کے لیے زمین میں ذخیرے محفوظ ہیں۔ اور خالق نے انسان کو عقل دی ہے کہ وہ ان ذخائر کا سراغ لگائے ان کے حاصل کرنے کی راہیں کھولے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقے ایجاد کرے۔ اسی طرح اس کی روحانی و اخلاقی ترقی کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر خیر و شر کا شعور ودیعت فرما دیا ہے اور پھر اس کی رہنمائی کے لیے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا کہ وہ بتائیں اور سکھائیں کہ زندگی کا کون سا طریقہ اس کی فطرت کے تقاضوں کے مطابق اور اس کے اختیار کرنے میں اس کی فلاح ہے اور کون سا طریقہ اس کی فطرت سے بے جوڑ اور اس پر چلنے میں اس کی تباہی ہے۔ ولادت سے لے کر موت تک زندگی کے سارے مراحل و مقامات، تمام اطوار و ادوار اور جملہ امتحانات و عقبات بھی اللہ تعالیٰ نے مقدر فرما دیے ہیں جو لازماً پیش آ کے رہتے ہیں۔ پھر ان سے عہدہ برآ ہونے کا طریقہ بھی اس نے بتا دیا ہے۔ اگر انسان وہ طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کا سفینۂ حیات ہر منجدھار سے سلامتی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور اگر وہ اس سے ہٹ کر اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ جاتا ہے تو یہ چیز اس کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے ۔۔۔ ’اَلَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی‘ کے دو لفظوں کے اندر یہ تمام معانی مضمر ہیں اور ان کی تفصیل بہت طویل ہے جس کو سمیٹنا ممکن نہیں ہے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیت ۵۰: ’قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْٓ أَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ہَدٰی‘ کے تحت بھی ہم اسی مضمون کی وضاحت کر چکے ہیں۔
    اور جس نے نباتات اگائیں۔
    ایک ادبی اشکال کا حل: اس ٹکڑے میں ایک ادبی اشکال ہے اس کو پہلے سمجھ لیجیے تب اس کا صحیح موقع و محل واضح ہو گا۔ ’غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے کالا کوڑا یا سیاہ خس و خاشاک کیا ہے لیکن عربی میں لفظ ’غثاء‘ تو بے شک جھاگ اور خس و خاشاک کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن ’اَحْوٰی‘ ہرگز اس سیاہی کے لیے نہیں آتا جو کسی شے میں اس کی کہنگی، بوسیدگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ اس سیاہی مائل سرخی یا سبزی کے لیے آتا ہے جو کسی شے پر اس کی تازگی، شادابی، زرخیزی اور جوش نمو کے سبب سے نمایاں ہوتی ہے۔ یہ نباتات اور باغوں کی صفت کے طور پر بکثرت استعمال ہوا ہے اور بلااستثنا ہر جگہ ان کی سرسبزی کی شدت اور گھنے پن کو ظاہر کرنے ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ پھر یہیں سے بطور استعارہ یہ کڑیل، صحت مند گل تر کی صورت کھلے ہوئے جوان کے لیے بھی استعمال ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن کی صحت بہت اچھی اور ان کے بدن میں خون وافر ہو ان کے ہونٹوں پر سیاہی مائل سرخی نمایاں ہو جاتی ہے چنانچہ مشہور جاہلی شاعر، تابط شرا اپنے ممدوح کی تعریف میں کہتا ہے: ع مسبل فی الحی احوی رفل وَاِذا یغزوا فلیث ابل (یوں قبیلہ کے اندر وہ ایک خوش پوش، سرخ و سپید بانکا چھبیلا بنا رہتا ہے لیکن جب میدان جنگ میں اترتا ہے تو شیر نیستاں بن جاتا ہے) لفظ ’غُثَآءٌ‘ اگرچہ مکھن کے جھاگ اور سیلاب کے خس و خاشاک کے لیے بھی آتا ہے لیکن اس سبزہ کے لیے بھی اس کا استعمال معروف ہے جو زمین کی زرخیزی کے سبب سے اچھی طرح گھنا اور سیاہی مائل ہو گیا ہو۔ استاذ امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’مفردات القرآن‘‘ میں اس کی تائید میں شعرائے جاہلیت کے متعدد اشعار نقل کیے ہیں۔ ہم بقید اختصار صرف قطامی کا ایک شعر، جو اس نے ایک وادی کی تعریف میں کہا ہے، پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے:ع حلوا باخضر قد مالت سرارتہ من ذی غثاء علی الاعراض انضاد (وہ ایک سرسبز و شاداب وادی میں اترے جس کے بیچ گھنے اور شاداب سبزے اس کے کناروں پر باہم دگر گتھم گتھا اور ایک دوسرے پر تہ بہ تہ گرے ہوئے تھے) آیت زیربحث میں چونکہ ’غُثَآءٌ‘ کی صفت ’اَحْوٰی‘ آئی ہے اس وجہ سے لازماً یہ اس دوسرے معنی ہی میں استعمال ہوا ہے ورنہ صفت اور موصوف میں نہایت بھونڈی قسم کی بے ربطی پیدا ہو جائے گی اس لیے کہ ’اَحْوٰی‘ جیسا کہ ہم نے عرض کیا، اس سیاہی کے لیے ہرگز نہیں آتا جو کسی چیز میں اس کی کہنگی، فرسودگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے۔ کلام عرب میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہاں موقع کلام بھی، جیسا کہ آگے وضاحت آ رہی ہے، اس مفہوم سے اباء کر رہا ہے۔ پس ’اَلَّذِیْ أَخْرَجَ الْمَرْعٰی فَجَعَلَہٗ غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا صحیح مطلب یہ ہو گا کہ اس خداوند کی تسبیح کرو جو نباتات کو زمین سے نازک سوئیوں کی شکل میں نکالتا ہے پھر ان کو گھنی اور سیاہی مائل سرسبز و شاداب بناتا ہے۔  
    پھر ان کو گھنی سرسبز و شاداب بنایا۔
    ایک ادبی اشکال کا حل: اس ٹکڑے میں ایک ادبی اشکال ہے اس کو پہلے سمجھ لیجیے تب اس کا صحیح موقع و محل واضح ہو گا۔ ’غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے کالا کوڑا یا سیاہ خس و خاشاک کیا ہے لیکن عربی میں لفظ ’غثاء‘ تو بے شک جھاگ اور خس و خاشاک کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن ’اَحْوٰی‘ ہرگز اس سیاہی کے لیے نہیں آتا جو کسی شے میں اس کی کہنگی، بوسیدگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ اس سیاہی مائل سرخی یا سبزی کے لیے آتا ہے جو کسی شے پر اس کی تازگی، شادابی، زرخیزی اور جوش نمو کے سبب سے نمایاں ہوتی ہے۔ یہ نباتات اور باغوں کی صفت کے طور پر بکثرت استعمال ہوا ہے اور بلااستثنا ہر جگہ ان کی سرسبزی کی شدت اور گھنے پن کو ظاہر کرنے ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ پھر یہیں سے بطور استعارہ یہ کڑیل، صحت مند گل تر کی صورت کھلے ہوئے جوان کے لیے بھی استعمال ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن کی صحت بہت اچھی اور ان کے بدن میں خون وافر ہو ان کے ہونٹوں پر سیاہی مائل سرخی نمایاں ہو جاتی ہے چنانچہ مشہور جاہلی شاعر، تابط شرا اپنے ممدوح کی تعریف میں کہتا ہے: ع مسبل فی الحی احوی رفل وَاِذا یغزوا فلیث ابل (یوں قبیلہ کے اندر وہ ایک خوش پوش، سرخ و سپید بانکا چھبیلا بنا رہتا ہے لیکن جب میدان جنگ میں اترتا ہے تو شیر نیستاں بن جاتا ہے) لفظ ’غُثَآءٌ‘ اگرچہ مکھن کے جھاگ اور سیلاب کے خس و خاشاک کے لیے بھی آتا ہے لیکن اس سبزہ کے لیے بھی اس کا استعمال معروف ہے جو زمین کی زرخیزی کے سبب سے اچھی طرح گھنا اور سیاہی مائل ہو گیا ہو۔ استاذ امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’مفردات القرآن‘‘ میں اس کی تائید میں شعرائے جاہلیت کے متعدد اشعار نقل کیے ہیں۔ ہم بقید اختصار صرف قطامی کا ایک شعر، جو اس نے ایک وادی کی تعریف میں کہا ہے، پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے:ع حلوا باخضر قد مالت سرارتہ من ذی غثاء علی الاعراض انضاد (وہ ایک سرسبز و شاداب وادی میں اترے جس کے بیچ گھنے اور شاداب سبزے اس کے کناروں پر باہم دگر گتھم گتھا اور ایک دوسرے پر تہ بہ تہ گرے ہوئے تھے) آیت زیربحث میں چونکہ ’غُثَآءٌ‘ کی صفت ’اَحْوٰی‘ آئی ہے اس وجہ سے لازماً یہ اس دوسرے معنی ہی میں استعمال ہوا ہے ورنہ صفت اور موصوف میں نہایت بھونڈی قسم کی بے ربطی پیدا ہو جائے گی اس لیے کہ ’اَحْوٰی‘ جیسا کہ ہم نے عرض کیا، اس سیاہی کے لیے ہرگز نہیں آتا جو کسی چیز میں اس کی کہنگی، فرسودگی اور پامالی کے سبب سے پیدا ہوتی ہے۔ کلام عرب میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہاں موقع کلام بھی، جیسا کہ آگے وضاحت آ رہی ہے، اس مفہوم سے اباء کر رہا ہے۔ پس ’اَلَّذِیْ أَخْرَجَ الْمَرْعٰی فَجَعَلَہٗ غُثَآءً اَحْوٰی‘ کا صحیح مطلب یہ ہو گا کہ اس خداوند کی تسبیح کرو جو نباتات کو زمین سے نازک سوئیوں کی شکل میں نکالتا ہے پھر ان کو گھنی اور سیاہی مائل سرسبز و شاداب بناتا ہے۔  
    ہم تمہیں پڑھائیں گے تو تم نہیں بھولو گے۔
    حقیقت جو پیغمبر کو سمجھائی گئی: یہ وہ اصل مدعا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھانے کے لیے اوپر کی تمہید بیان ہوئی ہے یعنی قدرت کا جو قانون تدریج و ترتیب انسان کے خلق اور اس کی تکمیل میں، قوتوں اور صلاحیتوں کو مقدر کرنے اور ان کو بروئے کار لانے میں، سبزے کو اگانے اور اس کو پروان چڑھانے میں کار فرما ہے اسی قانون کے تحت اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی معاملہ کرے گا۔ اس نے تمہیں جس منصب پر سرفراز فرمایا ہے اور جس وحی آسمانی سے نوازا ہے اس کے مرحلے بالتدریج طے ہوں گے اور جلد وہ وقت آئے گا کہ تم دیکھو گے کہ جس راہ پر تمہیں چلنے کا حکم دیا گیا اس کے تمام عقبات طے ہو گئے اور آخری منزل آ گئی۔ وحی الٰہی کے باب میں آنحضرتؐ کو ایک خاص ہدایت: ’سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی‘۔ یہ آیت بالکل اسی محل میں آئی ہے جس میں سورۂ طٰہٰ کی آیت ۱۱۴:’لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗ‘ ( تم قرآن کے لیے اپنی طرف اس کی وحی پوری کیے جانے سے پہلے جلدی نہ کرو۔) یا سورۂ قیامہ کی آیت ۱۶:’لَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ‘ ( تم جلدی کے خیال سے قرآن کے پڑھنے پر اپنی زبان نہ چلاؤ۔) آئی ہیں۔ ہم ان آیات کے تحت نہایت تفصیل سے واضح کر چکے ہیں کہ دعوت کے اس دور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جن مخالفتوں اور مزاحمتوں سے سابقہ تھا ان میں آپ کے لیے واحد سہارا وہ آسمانی کمک ہی تھی جو وحی الٰہی کی صورت میں آپ پر نازل ہوئی۔ اسی سے آپ کو قوت و عزیمت کا زاد راہ ملتا، اسی سے آگے کے لیے رہنمائی حاصل ہوتی، اسی میں مخالفین کے اعتراضات و مطالبات کے جواب ہوتے۔ ان گوناگون وجوہ سے آپ کو ہر وقت وحی کا انتظار رہتا اور جب وہ نازل ہوتی تو اس کے اخذ کرنے میں آپ قدرتاً اس بے قراری اور اضطراب و عجلت کا اظہار کرتے جو ایک بھوکا بچہ اس وقت کرتا ہے جب ماں اس کو چھاتی سے لگاتی ہے۔ فرط شوق میں آپ چاہتے کہ پوری وحی ایک ہی سانس میں آپ کے سینہ میں اتر جائے اور چونکہ یہ خالق کائنات کی ایک عظیم امانت بھی تھی جو آپ کی تحویل میں دی جا رہی تھی اس وجہ سے آپ اس کا حرف حرف اپنی زبان مبارک سے دہراتے بھی کہ مبادا کوئی لفظ حافظہ کی گرفت سے باہر رہ جائے۔ آپؐ کے اس اضطراب و شوق اور اس عجلت و بے قراری پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اس وحی کے لیے تم جلد بازی نہ کرو۔ اس کے اترنے کے لیے جو پروگرام ہم نے مقرر کیا ہے اسی کے مطابق یہ اترے گی اور اسی میں حکمت و مصلحت ہے۔ ساتھ ہی یہ تسلی بھی دے دی کہ اس کی حفاظت کے لیے بھی تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کا ایسا سامان کرے گا کہ تم اس میں سے ایک حرف بھی نہیں بھولو گے۔ سورۂ قیامہ میں یہی بات یوں فرمائی ہے: لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ ط اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ ج فَاِذَا قَرَاْنَہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ ج ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ ہ (القیٰمۃ ۷۵: ۱۶-۱۹) (تم عجلت کے خیال سے اس پر زبان نہ چلاؤ۔ ہمارے ذمہ ہے اس کو جمع کرنا اور اس کو پڑھ کر سنانا تو جب ہم اس کو پڑھ کے سنا دیں تو اس سنائے کی پیروی کرو۔ پھر ہمارے ہی ذمہ ہے اس کی وضاحت)۔  
    مگر وہی جو خدا چاہے گا۔ وہ جانتا ہے علانیہ کو بھی اور اس کو بھی جو چھپا ہوتا ہے۔
    ’اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ‘۔ یعنی اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ چیزیں ہیں جو وقتی اور ہنگامی نوعیت کی ہیں۔ ان کی مدت پوری ہو جانے کے بعد خود اللہ تعالیٰ ہی بتا دے گا کہ ان کی مدت پوری ہو گئی۔ یہ اشارہ ان احکام کی طرف ہے جو وقتی اور عارضی تھے اور جو بعد میں منسوخ ہو گئے۔ صحیح توکل کی تعلیم کے لیے خدا کے محیط کل علم کا حوالہ: ’اِنَّہٗ یَعْلَمُ الْجَھْرَ وَمَا یَخْفٰی‘۔ یعنی یہ گمان نہ کرو کہ تم جن حالات و مسائل سے دوچار ہو تمہارا رب ان سے بے خبر ہے۔ وہ بے خبر نہیں ہے بلکہ ان باتوں کو بھی وہ جانتا ہے جو ظاہر ہیں اور ان باتوں سے بھی آگاہ ہے جو پوشیدہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری پریشانیاں اور دعائیں سبھی اس کے علم میں ہیں اور دشمنوں کی کھلی ہوئی شرارتیں اور ان کی مخفی سازشیں بھی اس کے علم میں ہیں تو جب سب کچھ اس کے علم میں ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت اور اختیار بھی رکھتا ہے تو اطمینان رکھو کہ تمہیں جس قسم کی مدد اور رہنمائی کی ضرورت ہو گی اس سے محروم نہیں رہو گے۔ یہی مضمون سورۂ طٰہٰ میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ فرمایا ہے: لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَمَا بَیۡنَھُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰی ہ وَاِنْ تَجْھَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی ہ (طٰہٰ ۲۰: ۶-۷) ’’اسی کے اختیار میں ہے جو آسمانوں اور زمین میں اور ان کے درمیان اور جو کچھ زیر زمین ہے وہ بھی۔ چاہے تم بلند آواز سے بات کہو یا پوشیدہ طور پر وہ ظاہر، پوشیدہ اور پوشیدہ تر باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح توکل و اعتماد اس کے محیط کل علم اور اس کی ہمہ گیر قدرت کے استحضار ہی سے پیدا ہوتا ہے۔  
    اور ہم تمہیں لے چلیں گے آسان راہ۔
    ’یسر‘ کی منزل کی بشارت: یہ نہایت واضح لفظوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت ہے کہ یہی دن ہمیشہ نہیں رہیں گے بلکہ ہم ان مشکلات سے نکال کر جلد تمہیں آسان راہ پر لے چلیں گے۔ ’یُسْرٰی‘ صفت ہے جس کا موصوف ’طَرِیْقَۃ‘ یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ لفظ ’تیسیر‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے کہ یہ کسی چیز کو کسی برتر مقصد کے لیے تیار کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس سے یہاں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس وقت تم جن مشکلات میں ہو یہ تمہاری تربیت کے لیے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے ان افضال و عنایات کا اہل اور حق دار بنائے جن سے تمہیں مستقبل میں وہ بہرہ مند فرمانے والا ہے۔ اوپر ’قَدَّرَ فَہَدٰی‘ اور ’اَخْرَجَ الْمَرْعٰی ۵ فَجَعَلَہٗ غُثَآءً أَحْوٰی‘ میں اپنی جس سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اسی کا اقتضاء بیان ہوا ہے کہ اس وقت راہ میں جو عقبات حائل ہیں وہ سنت الٰہی کے تحت بغرض امتحان و تربیت ہیں۔ آگے راہ صاف ہے۔ اپنے رب کی رہنمائی پر بھروسہ رکھو۔ یُسر کی منزل عُسر کے بعد ہی آتی ہے۔
    پس تم یاددہانی کرو اگر یاددہانی کچھ نفع پہنچائے۔
    ہدایت اور ضلالت کے باب میں سنت الٰہی: یعنی لوگوں کی مخالفتوں اور ناقدریوں سے بددل اور مایوس نہ ہو۔ لوگوں کے دلوں میں بات اتار دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے کہ ان کے پیچھے پڑو۔ تمہارا فرض صرف تذکیر ہے۔ جب دیکھو کہ سننے کی طرف مائل ہیں تو سناؤ ورنہ ان کو ان کی تقدیر کے حوالہ کرو۔
    فائدہ اٹھا لے گا وہ جس کو ڈر ہو گا۔
    یہ بتایا ہے کہ کون آپ کی بات پر کان دھریں گے اور کس مزاج کے لوگ اس سے گریز کریں گے۔ فرمایا کہ جن کے دلوں میں خدا اور آخرت کا کچھ خوف ہو گا وہ آپ کی بات سنیں گے اور جن کے دل اس خوف سے خالی ہیں ان پر آپ کا انذار بے اثر ہی رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کی دعوت سے بدک رہے ہیں ان کے بدکنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس دعوت میں یا اس کے داعی میں کوئی خرابی ہے بلکہ ان بدکنے والوں کے دلوں میں ہی خرابی ہے۔ وہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ آخرت کا کوئی اندیشہ ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اس بڑی آگ میں پڑیں گے جو ان کے لیے تیار ہے۔ پھر اس میں نہ یہ مریں گے نہ جئیں گے بلکہ اس کے ابدی عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ اس میں وہ موت کی تمنا کریں گے لیکن وہ بھی ان کی پرسان حال نہیں ہو گی۔ یہاں اس سنت الٰہی کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی وضاحت اس کتاب میں بار بار ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت کے اندر جو نور ودیعت فرمایا ہے جو لوگ اس کو باقی رکھتے ہیں ان کو پیغمبرؐ کی دعوت اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ نور کچھ ضعیف بھی ہو چکا ہوتا ہے جب بھی دیر سویر پیغمبر کے جھنجھوڑنے سے وہ جاگ پڑتے ہیں لیکن جن کے اندر یہ نور بالکل بجھ چکا ہوتا ہے وہ مردوں کے حکم میں ہیں، ان کو صور اسرافیل کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں جگا سکتی۔ مذکورہ آیات میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ بعد والی سورہ ۔۔۔ الغاشیۃ ۔۔۔ میں جو اس کی مثنیٰ ہے، زیادہ وضاحت سے آیا ہے۔ فرمایا ہے: فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۵ لَّسْتَ عَلَیْْہِمۡ بِمُصَیْْطِرٍ ۵ إِلَّا مَنۡ تَوَلَٰی وَکَفَرَ ۵ فَیُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ ۵ إِنَّ إِلَیْْنَا إِیَابَہُمْ ۵ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْْنَا حِسَابَہُمْ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱-۲۶) ’’تو یاددہانی کرو، تم تو بس ایک یاددہانی کر دینے والے ہو۔ تم ان پر کوئی داروغہ تو نہیں ہو (جو ایمان لائے گا وہ فلاح پائے گا) رہے جو پیٹھ پھیریں گے اور کفر کریں گے تو اللہ ان کو عذاب دے گا بڑا عذاب۔ ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے۔ پھر ہمارے ہی اوپر ان کا حساب لینا ہے۔‘‘ یہ بات یاد رکھیے کہ یہاں ’اَلْعَذَابَ الْأَکْبَرَ‘ آیا ہے اور آیت زیربحث میں ’اَلنَّارَ الْکُبْرٰی‘ ہے۔ یہ ایک ہی بات دونوں توام سورتوں میں ذرا مختلف الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ اس کی وضاحت، ان شاء اللہ، اگلی سورہ میں آئے گی۔  
    اور گریز کرے گا وہ جو بدبخت ہو گا۔
    یہ بتایا ہے کہ کون آپ کی بات پر کان دھریں گے اور کس مزاج کے لوگ اس سے گریز کریں گے۔ فرمایا کہ جن کے دلوں میں خدا اور آخرت کا کچھ خوف ہو گا وہ آپ کی بات سنیں گے اور جن کے دل اس خوف سے خالی ہیں ان پر آپ کا انذار بے اثر ہی رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کی دعوت سے بدک رہے ہیں ان کے بدکنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس دعوت میں یا اس کے داعی میں کوئی خرابی ہے بلکہ ان بدکنے والوں کے دلوں میں ہی خرابی ہے۔ وہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ آخرت کا کوئی اندیشہ ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اس بڑی آگ میں پڑیں گے جو ان کے لیے تیار ہے۔ پھر اس میں نہ یہ مریں گے نہ جئیں گے بلکہ اس کے ابدی عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ اس میں وہ موت کی تمنا کریں گے لیکن وہ بھی ان کی پرسان حال نہیں ہو گی۔ یہاں اس سنت الٰہی کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی وضاحت اس کتاب میں بار بار ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت کے اندر جو نور ودیعت فرمایا ہے جو لوگ اس کو باقی رکھتے ہیں ان کو پیغمبرؐ کی دعوت اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ نور کچھ ضعیف بھی ہو چکا ہوتا ہے جب بھی دیر سویر پیغمبر کے جھنجھوڑنے سے وہ جاگ پڑتے ہیں لیکن جن کے اندر یہ نور بالکل بجھ چکا ہوتا ہے وہ مردوں کے حکم میں ہیں، ان کو صور اسرافیل کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں جگا سکتی۔ مذکورہ آیات میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ بعد والی سورہ ۔۔۔ الغاشیۃ ۔۔۔ میں جو اس کی مثنیٰ ہے، زیادہ وضاحت سے آیا ہے۔ فرمایا ہے: فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۵ لَّسْتَ عَلَیْْہِمۡ بِمُصَیْْطِرٍ ۵ إِلَّا مَنۡ تَوَلَٰی وَکَفَرَ ۵ فَیُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ ۵ إِنَّ إِلَیْْنَا إِیَابَہُمْ ۵ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْْنَا حِسَابَہُمْ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱-۲۶) ’’تو یاددہانی کرو، تم تو بس ایک یاددہانی کر دینے والے ہو۔ تم ان پر کوئی داروغہ تو نہیں ہو (جو ایمان لائے گا وہ فلاح پائے گا) رہے جو پیٹھ پھیریں گے اور کفر کریں گے تو اللہ ان کو عذاب دے گا بڑا عذاب۔ ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے۔ پھر ہمارے ہی اوپر ان کا حساب لینا ہے۔‘‘ یہ بات یاد رکھیے کہ یہاں ’اَلْعَذَابَ الْأَکْبَرَ‘ آیا ہے اور آیت زیربحث میں ’اَلنَّارَ الْکُبْرٰی‘ ہے۔ یہ ایک ہی بات دونوں توام سورتوں میں ذرا مختلف الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ اس کی وضاحت، ان شاء اللہ، اگلی سورہ میں آئے گی۔  
    وہ پڑے گا بڑی آگ میں۔
    یہ بتایا ہے کہ کون آپ کی بات پر کان دھریں گے اور کس مزاج کے لوگ اس سے گریز کریں گے۔ فرمایا کہ جن کے دلوں میں خدا اور آخرت کا کچھ خوف ہو گا وہ آپ کی بات سنیں گے اور جن کے دل اس خوف سے خالی ہیں ان پر آپ کا انذار بے اثر ہی رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کی دعوت سے بدک رہے ہیں ان کے بدکنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس دعوت میں یا اس کے داعی میں کوئی خرابی ہے بلکہ ان بدکنے والوں کے دلوں میں ہی خرابی ہے۔ وہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ آخرت کا کوئی اندیشہ ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اس بڑی آگ میں پڑیں گے جو ان کے لیے تیار ہے۔ پھر اس میں نہ یہ مریں گے نہ جئیں گے بلکہ اس کے ابدی عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ اس میں وہ موت کی تمنا کریں گے لیکن وہ بھی ان کی پرسان حال نہیں ہو گی۔ یہاں اس سنت الٰہی کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی وضاحت اس کتاب میں بار بار ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت کے اندر جو نور ودیعت فرمایا ہے جو لوگ اس کو باقی رکھتے ہیں ان کو پیغمبرؐ کی دعوت اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ نور کچھ ضعیف بھی ہو چکا ہوتا ہے جب بھی دیر سویر پیغمبر کے جھنجھوڑنے سے وہ جاگ پڑتے ہیں لیکن جن کے اندر یہ نور بالکل بجھ چکا ہوتا ہے وہ مردوں کے حکم میں ہیں، ان کو صور اسرافیل کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں جگا سکتی۔ مذکورہ آیات میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ بعد والی سورہ ۔۔۔ الغاشیۃ ۔۔۔ میں جو اس کی مثنیٰ ہے، زیادہ وضاحت سے آیا ہے۔ فرمایا ہے: فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۵ لَّسْتَ عَلَیْْہِمۡ بِمُصَیْْطِرٍ ۵ إِلَّا مَنۡ تَوَلَٰی وَکَفَرَ ۵ فَیُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ ۵ إِنَّ إِلَیْْنَا إِیَابَہُمْ ۵ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْْنَا حِسَابَہُمْ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱-۲۶) ’’تو یاددہانی کرو، تم تو بس ایک یاددہانی کر دینے والے ہو۔ تم ان پر کوئی داروغہ تو نہیں ہو (جو ایمان لائے گا وہ فلاح پائے گا) رہے جو پیٹھ پھیریں گے اور کفر کریں گے تو اللہ ان کو عذاب دے گا بڑا عذاب۔ ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے۔ پھر ہمارے ہی اوپر ان کا حساب لینا ہے۔‘‘ یہ بات یاد رکھیے کہ یہاں ’اَلْعَذَابَ الْأَکْبَرَ‘ آیا ہے اور آیت زیربحث میں ’اَلنَّارَ الْکُبْرٰی‘ ہے۔ یہ ایک ہی بات دونوں توام سورتوں میں ذرا مختلف الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ اس کی وضاحت، ان شاء اللہ، اگلی سورہ میں آئے گی۔  
    پھر نہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔
    یہ بتایا ہے کہ کون آپ کی بات پر کان دھریں گے اور کس مزاج کے لوگ اس سے گریز کریں گے۔ فرمایا کہ جن کے دلوں میں خدا اور آخرت کا کچھ خوف ہو گا وہ آپ کی بات سنیں گے اور جن کے دل اس خوف سے خالی ہیں ان پر آپ کا انذار بے اثر ہی رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کی دعوت سے بدک رہے ہیں ان کے بدکنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس دعوت میں یا اس کے داعی میں کوئی خرابی ہے بلکہ ان بدکنے والوں کے دلوں میں ہی خرابی ہے۔ وہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ آخرت کا کوئی اندیشہ ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اس بڑی آگ میں پڑیں گے جو ان کے لیے تیار ہے۔ پھر اس میں نہ یہ مریں گے نہ جئیں گے بلکہ اس کے ابدی عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ اس میں وہ موت کی تمنا کریں گے لیکن وہ بھی ان کی پرسان حال نہیں ہو گی۔ یہاں اس سنت الٰہی کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی وضاحت اس کتاب میں بار بار ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت کے اندر جو نور ودیعت فرمایا ہے جو لوگ اس کو باقی رکھتے ہیں ان کو پیغمبرؐ کی دعوت اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ نور کچھ ضعیف بھی ہو چکا ہوتا ہے جب بھی دیر سویر پیغمبر کے جھنجھوڑنے سے وہ جاگ پڑتے ہیں لیکن جن کے اندر یہ نور بالکل بجھ چکا ہوتا ہے وہ مردوں کے حکم میں ہیں، ان کو صور اسرافیل کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں جگا سکتی۔ مذکورہ آیات میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ بعد والی سورہ ۔۔۔ الغاشیۃ ۔۔۔ میں جو اس کی مثنیٰ ہے، زیادہ وضاحت سے آیا ہے۔ فرمایا ہے: فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۵ لَّسْتَ عَلَیْْہِمۡ بِمُصَیْْطِرٍ ۵ إِلَّا مَنۡ تَوَلَٰی وَکَفَرَ ۵ فَیُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ ۵ إِنَّ إِلَیْْنَا إِیَابَہُمْ ۵ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْْنَا حِسَابَہُمْ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱-۲۶) ’’تو یاددہانی کرو، تم تو بس ایک یاددہانی کر دینے والے ہو۔ تم ان پر کوئی داروغہ تو نہیں ہو (جو ایمان لائے گا وہ فلاح پائے گا) رہے جو پیٹھ پھیریں گے اور کفر کریں گے تو اللہ ان کو عذاب دے گا بڑا عذاب۔ ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے۔ پھر ہمارے ہی اوپر ان کا حساب لینا ہے۔‘‘ یہ بات یاد رکھیے کہ یہاں ’اَلْعَذَابَ الْأَکْبَرَ‘ آیا ہے اور آیت زیربحث میں ’اَلنَّارَ الْکُبْرٰی‘ ہے۔ یہ ایک ہی بات دونوں توام سورتوں میں ذرا مختلف الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ اس کی وضاحت، ان شاء اللہ، اگلی سورہ میں آئے گی۔  
    کامیاب ہوا جس نے اپنے کو پاک کیا۔
    ان لوگوں کا انجام جن کے دل زندہ ہیں: اوپر کی آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے گریز اختیار کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا۔ اب یہ ان لوگوں کا انعام بیان ہو رہا ہے جن کا ذکر اوپر ’سَیَذَّکَّرُ مَنْ یَّخْشٰی‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ بے شک ان لوگوں نے فلاح پائی جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تذکیر سے فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلودگی سے پاک کر لیا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی فلاح کے دروازے کھلیں گے اور آخرت میں بھی یہ اپنے رب کی رحمت و رضوان سے نوازے جائیں گے۔
    اور اپنے خداوند کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔
    دین میں نماز کی اہمیت: ’وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی‘۔ یہ اس تزکیہ کی اولین علامت بھی ہے اور اس کا اصل طریقہ بھی۔ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ تمام علم کا سرچشمہ درحقیقت اسمائے الٰہی ہیں۔ انہی سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہمارے رب کی صفات کیا ہیں اور پھر انہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان صفات کی روشنی میں ہمارے عقائد کیا ہونے چاہییں اور وہ عقائد ہمارے اوپر ہمارے رب اور اس کے بندوں سے متعلق کیا حقوق و فرائض عائد کرتے ہیں۔ گویا نماز کا ذکر یہاں ایمان باللہ کے اولین مظہرکی حیثیت سے ہوا ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس نکتہ کی وضاحت کر چکے ہیں کہ ایمان کا اولین مظہر نماز ہے اور پھر یہی چیز تمام شریعت کی اساس بھی ہے اور اس کی محافظ بھی۔ اس نکتہ کی مزید تفصیل مطلوب ہو تو سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات کی تفسیر تدبر قرآن میں پڑھ لیجیے۔
    پر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔
    مخالفین کی مخالفت کی اصل علت: یہ آخر میں مخالفین یعنی قریش کے لیڈروں کو خطاب کر کے ان کے اصل سبب مخالفت سے پردہ اٹھایا دیا کہ تمہاری ساری مخالفت کی علت محض تمہاری دنیا پرستی ہے۔ تم آخرت کو ماننے اور اس کی خاطر اپنے دنیوی مفادات قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہو اس وجہ سے بے بنیاد شبہات ایجاد کرتے اور ان کو پھیلاتے ہو تاکہ اپنے عوام کو یہ فریب دے سکو کہ تمہارے گریز کے لیے فی الواقع کچھ وجوہ ہیں لیکن نادانو، یاد رکھو کہ تم اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی محبت میں پھنس کر ابدی بادشاہی کھو رہے ہو! بہتر اور پائدار چیز آخرت ہے۔ اگر تمہارے اندر سمجھ ہے تو اس کے طالب بنو!
    حالانکہ آخرت بہتر اور پائدار ہے۔
    مخالفین کی مخالفت کی اصل علت: یہ آخر میں مخالفین یعنی قریش کے لیڈروں کو خطاب کر کے ان کے اصل سبب مخالفت سے پردہ اٹھایا دیا کہ تمہاری ساری مخالفت کی علت محض تمہاری دنیا پرستی ہے۔ تم آخرت کو ماننے اور اس کی خاطر اپنے دنیوی مفادات قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہو اس وجہ سے بے بنیاد شبہات ایجاد کرتے اور ان کو پھیلاتے ہو تاکہ اپنے عوام کو یہ فریب دے سکو کہ تمہارے گریز کے لیے فی الواقع کچھ وجوہ ہیں لیکن نادانو، یاد رکھو کہ تم اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی محبت میں پھنس کر ابدی بادشاہی کھو رہے ہو! بہتر اور پائدار چیز آخرت ہے۔ اگر تمہارے اندر سمجھ ہے تو اس کے طالب بنو!
    یہی تعلیم اگلے صحیفوں میں بھی ہے۔
    قرآن کی تعلیم تمام نبیوں کی تعلیم ہے: یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تمہیں بتا رہے ہیں یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے۔ تمام اگلے نبیوں اور رسولوں نے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اور وہاں آدمی کا اپنا ہی عمل کام آئے گا، کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ سورۂ نجم میں یہی حقیقت یوں بیان فرمائی ہے: أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسٰی ۵ وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَٰٓی ۵ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی (النجم ۵۳: ۳۶-۳۸) ’’کیا اس کو اس تعلیم کی خبر نہیں ملی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے اور ابراہیم کے جس نے ہر بات پوری کر دکھائی کہ کوئی جان بھی کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے دوسرے متعدد نبیوں کے صحیفے اسفار تورات کی شکل میں موجود ہیں۔ ان میں اگرچہ بہت سی تحریفیں واقع ہو چکی ہیں اور ان کی حیثیت تاریخ کی کتابوں سے زیادہ نہیں ہے تاہم ان سب میں توحید اور قیامت کی تعلیم نہایت واضح اور مؤثر الفاظ میں اتنی کثرت سے موجود ہے کہ جس صحیفہ کو بھی پڑھیے ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کو جو تعلیم دی اگرچہ وہ صحیفہ کی شکل میں نہیں تھی بلکہ زبانی تعلیم و تلقین کی صورت میں تھی، لیکن ان کی ذریت کی ایک شاخ یعنی بنی اسرائیل نے اس کو اپنے صحیفوں میں بشکل تحریر بھی محفوظ کیا اور ان کے انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے دور میں برابر اس کی یاددہانی بھی کرتے رہے جس کی ناقابل تردید شہادت آج بھی ان کے صحیفوں میں موجود ہے اور قرآن نے بھی جا بجا اس کا حوالہ دیا ہے۔ آپ کی ذریت کی دوسری شاخ ۔۔۔ بنی اسمٰعیل ۔۔۔ نے اس کو تحریری شکل میں محفوظ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ تحریر و کتابت سے ناآشنا امّی تھے۔ انھوں نے روایات کی صورت میں اس کو کچھ مدت تک باقی رکھا لیکن امتداد زمانہ سے اس پر رفتہ رفتہ ذہول کا پردہ پڑ گیا اور بدعات کے غلبہ نے اس کو بالکل ہی نسیاً منسیا کر دیا۔ البتہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اس کی نہ صرف ازسرنو تجدید ہوئی بلکہ اس کی تکمیل بھی ہوئی اور وہی اس دین کامل کی اساس قرار پائی جو اب قیامت تک کے لیے اللہ کا حقیقی دین ہے۔  
    موسیٰ اور ابراہیم کے صحیفوں میں۔
    قرآن کی تعلیم تمام نبیوں کی تعلیم ہے: یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ تمہیں بتا رہے ہیں یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے۔ تمام اگلے نبیوں اور رسولوں نے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اور وہاں آدمی کا اپنا ہی عمل کام آئے گا، کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ سورۂ نجم میں یہی حقیقت یوں بیان فرمائی ہے: أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسٰی ۵ وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَٰٓی ۵ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی (النجم ۵۳: ۳۶-۳۸) ’’کیا اس کو اس تعلیم کی خبر نہیں ملی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے اور ابراہیم کے جس نے ہر بات پوری کر دکھائی کہ کوئی جان بھی کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے دوسرے متعدد نبیوں کے صحیفے اسفار تورات کی شکل میں موجود ہیں۔ ان میں اگرچہ بہت سی تحریفیں واقع ہو چکی ہیں اور ان کی حیثیت تاریخ کی کتابوں سے زیادہ نہیں ہے تاہم ان سب میں توحید اور قیامت کی تعلیم نہایت واضح اور مؤثر الفاظ میں اتنی کثرت سے موجود ہے کہ جس صحیفہ کو بھی پڑھیے ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کو جو تعلیم دی اگرچہ وہ صحیفہ کی شکل میں نہیں تھی بلکہ زبانی تعلیم و تلقین کی صورت میں تھی، لیکن ان کی ذریت کی ایک شاخ یعنی بنی اسرائیل نے اس کو اپنے صحیفوں میں بشکل تحریر بھی محفوظ کیا اور ان کے انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے دور میں برابر اس کی یاددہانی بھی کرتے رہے جس کی ناقابل تردید شہادت آج بھی ان کے صحیفوں میں موجود ہے اور قرآن نے بھی جا بجا اس کا حوالہ دیا ہے۔ آپ کی ذریت کی دوسری شاخ ۔۔۔ بنی اسمٰعیل ۔۔۔ نے اس کو تحریری شکل میں محفوظ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ تحریر و کتابت سے ناآشنا امّی تھے۔ انھوں نے روایات کی صورت میں اس کو کچھ مدت تک باقی رکھا لیکن امتداد زمانہ سے اس پر رفتہ رفتہ ذہول کا پردہ پڑ گیا اور بدعات کے غلبہ نے اس کو بالکل ہی نسیاً منسیا کر دیا۔ البتہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اس کی نہ صرف ازسرنو تجدید ہوئی بلکہ اس کی تکمیل بھی ہوئی اور وہی اس دین کامل کی اساس قرار پائی جو اب قیامت تک کے لیے اللہ کا حقیقی دین ہے۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List