Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الطارق (The Night-Visitant, The Morning Star, The Nightcomer)

    17 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ کی توام ہے۔ دونوں کا عمود بالکل ایک ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال الگ الگ ہیں۔ تمہید اور خاتمہ کے پہلو سے بھی دیکھیے تو دونوں میں حیرت انگیز مشابہت پائی جاتی ہے۔ آفاق و انفس کے شواہد اور خالق کائنات کی صفات کی روشنی میں یہ حقیقت ان میں مبرہن فرمائی گئی ہے کہ قرآن جس روز جزا و سزا سے ڈرا رہا ہے اس کو ہنسی مسخری نہ سمجھو۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس کے ظہور میں جو دیر ہو رہی ہے تو اس کو تکذیب کا بہانہ نہ بناؤ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے ڈھیل ہے کہ اس کی حجت تمام ہو جائے اور تم اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لو۔ خدا کی تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے اس وجہ سے وہ سرکشوں کو پکڑنے میں عجلت نہیں کرتا۔ لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی اس کے پنجۂ عذاب سے چھوٹ نہیں سکتا۔

  • الطارق (The Night-Visitant, The Morning Star, The Nightcomer)

    17 آیات | مکی
    البروج - الطارق

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں بناے استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے ناقابل تردید حقائق ہیں۔ دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت سے متعلق قریش کے شبہات کی تردید اور اُنھیں تہدید ہے کہ اہل ایمان پر اُن کا ظلم و ستم اور پیغمبر کے مقابلے میں اُن کی چالیں اب اپنے انجام تک پہنچنے کو ہیں۔ استدراج کا جو دام اُن کے لیے بچھایا گیا ہے، اُس سے وہ نکل نہ سکیں گے۔ اُن کا وقت اب قریب آ لگا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 086 Verse 001 Chapter 086 Verse 002 Chapter 086 Verse 003 Chapter 086 Verse 004 Chapter 086 Verse 005 Chapter 086 Verse 006 Chapter 086 Verse 007 Chapter 086 Verse 008 Chapter 086 Verse 009 Chapter 086 Verse 010 Chapter 086 Verse 011 Chapter 086 Verse 012 Chapter 086 Verse 013 Chapter 086 Verse 014 Chapter 086 Verse 015 Chapter 086 Verse 016 Chapter 086 Verse 017
    Click translation to show/hide Commentary
    شاہد ہیں آسمان اور رات میں نمودار ہونے والے۔
    آسمان اور ستاروں کی قسم: جس طرح سابق سورہ میں برجوں والے آسمان کی قسم کھائی ہے اسی طرح اس سورہ میں آسمان اور اس کے دمکتے ستاروں کی قسم کھائی ہے اور یہ قسم، جیسا کہ وضاحت ہو چکی ہے، بطور شہادت اس دعوے پر دلیل پیش کرنے کے لیے کھائی ہے جو آگے آ رہا ہے۔ ’طَارِقٌ‘ کے لغوی معنی تو شب میں آنے والے کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد شب میں نمودار ہونے والے ستارے ہیں۔ اس کی وضاحت خود قرآن ہی نے ’اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ‘ کے الفاظ سے کر دی ہے۔
    اور تم کیا سمجھے کہ کیا ہیں رات میں نمودار ہونے والے!
    ’وَمَآ اَدْرٰکَ‘ کا سوال اس شہادت کی عظمت و اہمیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس شہادت کو معمولی شہادت نہ گمان کرے۔ یہ بہت بڑی شہادت ہے بشرطیکہ غور کرنے والے اس پر غور کریں اور سمجھیں، اس کو مذاق بنانے کی کوشش نہ کریں۔
    دمکتے ستارے!
    ’اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ‘ سے کوئی خاص ستارہ مراد نہیں ہے بلکہ جس طرح ’وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ‘ (النحل ۱۶: ۱۶) اور بعض دوسری آیات میں یہ لفظ جنس کے مفہوم میں آیا ہے اسی طرح یہاں بھی یہ جنس ہی کے مفہوم میں ہے۔ البتہ ’ثَاقِبٌ‘ کی صفت سے یہ اشارہ فرما دیا ہے کہ اس سے مراد وہی ستارے ہیں جن کی روشنی ازخود ہم تک پہنچتی ہے اور جن کی جستجو کے لیے ہمیں ترقی یافتہ دوربینوں کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ ہر دیکھنے والا ان کو دیکھ اور ان سے وہ سبق حاصل کر سکتا ہے جو قرآن یہاں دینا چاہتا ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ ستارے صرف اتنے ہی نہیں ہیں جتنے ہمیں نظر آتے ہیں۔ یہ تو مشتے نمونہ از خردارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کون جان سکتا ہے کہ کتنے جہان اور کتنے ستارے ہیں!
    کہ کوئی جان نہیں کہ اس پر نگہبان نہیں۔
    ستاروں کی شہادت اس دعوے پر کہ ہر جان پر خدا کے نگران ہیں: یہ مقسم علیہ یا اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا قسم کھائی گئی ہے۔ ’لَمَّا‘ کا استعمال یہاں ذرا نادر ہے اس وجہ سے اس کی توجیہ میں اہل نحو نے اختلاف کیا ہے۔ ہم اس کی تحقیق سورۂ ہود آیت ۱۱۱ اور سورۂ زخرف آیت ۳۵ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔ ستاروں کی شہادت اس دعوے پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جان پر نگران مقرر کر رکھے ہیں ایک تو اس پہلو سے ہے کہ انسان سوچے کہ جس خدا کی مقرر کی ہوئی اتنی ان گنت آنکھیں رات بھر جاگتی اور ٹکٹکی لگائے زمین والوں کو گھورتی رہتی ہیں کس کی مجال ہے کہ اس کے دام سے بچ کے نکل سکے۔ سائنس کی ایجاد کردہ بڑی سے بڑی دوربینوں کے اندر بھی وہ طاقت نہیں ہے جو آسمان کے معمولی سے معمولی ستاروں کے اندر ہے جن کی روشنی تہ بہ تہ فضاؤں کو چیرتی ہوئی زمین تک پہنچ جاتی ہے۔ جو خدا اپنی قدرت کی یہ شان ہر شب میں ہمیں دکھا رہا ہے اس کے متعلق یہ تصور کہ اس کی نگاہوں سے کوئی چیز بھی اوجھل رہ سکتی ہے صرف اس شخص کے اندر پیدا ہو سکتا ہے جو عقل سے بالکل عاری ہو۔ دوسرا پہلو اس کا وہی ہے جس کی طرف ہم سابق سورہ میں بھی اشارہ کر چکے ہیں اور جو قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے کہ انہی ستاروں کے اندر خدا نے ایسے برج بنائے ہیں جہاں سے ان شیاطین پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے جو خدا کے ممنوعہ حدود میں دراندازی کی جسارت کرتے ہیں۔ قدرت کا یہ انتظام اس بات پر شاہد ہے کہ یہ دنیا بے راعی کا گلہ نہیں ہے بلکہ اس کے چپہ چپہ پر خدا نے اپنے پہرہ دار بٹھا رکھے ہیں جو شب و روز ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں اس وجہ سے لازماً اس کے بعد ایک یوم الحساب آنا ہے جس کے احتساب سے کوئی بھی اپنے کو بچا نہ سکے گا۔
    انسان غور کرے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے!
    انسان کا وجود خود شاہد ہے کہ خدا اس کو دوبارہ اٹھا سکتا ہے: یہ اس احساس ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہر اس انسان کے اندر پیدا ہونا چاہیے جو اس حقیقت کو پا گیا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کا خالق ایک ایک چیز پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور جب وہ نگاہ رکھے ہوئے ہے تو لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں نیکوں کے سامنے ان کی نیکی اور بدوں کے سامنے ان کی بدی اپنے حقیقی نتائج کی صورت میں بے نقاب ہو۔ ’فَلْیَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ‘۔ یہ انسان کو خود اس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اپنی ہی خلقت پر غور کرے تو خدا کی قدرت، حکمت اور اس کی صفت گری کی ایسی شانیں ظاہر ہوں گی کہ وہ پکار اٹھے گا کہ جو خدا پانی کی ایک حقیر بوند سے اس کو ان اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کر سکتا ہے وہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ اٹھا سکنے پر بھی قادر ہے۔ جزا و سزا کے منکرین کا سب سے بڑا شبہ یہی تھا کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کو بعید از امکان تصور کرتے تھے۔ ان کے اس شبہ کو دور کرنے کے لیے قرآن نے جگہ جگہ ان کو خود ان کی خلقت پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ سورۂ عبس میں اسی طرح کے لوگوں کو ان الفاظ میں تنبیہ فرمائی ہے: قُتِلَ الْإِنۡسَانُ مَا أَکْفَرَہٗ ۵ مِنْ أَیِّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ ۵ مِنۡ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ۵ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ ۵ ثُمَّ أَمَاتَہٗ فَأَقْبَرَہٗ ۵ ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنۡشَرَہٗ (عبس ۸۰: ۱۷-۲۲) ’’انسان غارت ہو، کتنا ناشکرا ہے! اس کو خدا نے کس چیز سے پیدا کیا؟ پانی کی ایک بوند سے! اس کو پیدا کیا، پھر اس کے لیے ایک اندازہ ٹھہرایا، پھر اس کے لیے راہ آسان کی؛ پھر اس کو موت دی اور اس کو قبر میں رکھوایا۔ پھر جب چاہے گا اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔‘‘
    وہ پیدا کیا گیا ہے ذرا سے اچھلتے پانی سے۔
    ’خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۵ یَخْرُجُ مِنۡ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ‘۔ یہ اس پانی کی نوعیت، اس کے خروج کی صورت اور اس کی جگہ کے حدود اربعہ کی وضاحت فرما دی تاکہ انسان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ پانی نہ کوئی جوہر نایاب ہے اور نہ یہ کسی ایسی ولایت سے آتا ہے جو خدا کی خدائی کے حدود سے باہر ہو بلکہ انسان ہی کی ریڑھ اور اس کی چھاتیوں کے بیچ سے اچھلتا ہے اور قدرت اسی کو اپنے سانچے میں جس شکل و صورت پر چاہتی ہے ڈھالتی ہے اور پھر اس کو بطن مادر سے باہر لاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی اس عظیم قدرت و حکمت کا مشاہدہ ہر شخص خود اپنے وجود کے اندر کر رہا ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ زندہ کرنا ناممکن ہو جائے گا! اسی حقیقت کی طرف سورۂ انفطار میں یوں توجہ دلائی ہے: یٰٓاَیُّہَا الْإِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۵ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَ ۵ فِیْ أَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ۵ کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیْنِ (الانفطار ۸۲: ۶-۹) ’’اے انسان، تجھے تیرے اس رب کریم کے باب میں کس چیز نے مغالطے میں ڈال رکھا ہے؟ جس نے تیرا خاکہ بنایا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے۔ اور تجھے بالکل ٹھیک ٹھاک کیا اور جس شکل پر چاہا تجھے مشکّل کر دیا! (اس خدا کی قدرت کے باب میں کسی شک کی گنجائش) ہر گز نہیں ہے لیکن تم جزا و سزا کو جھٹلانا چاہتے ہو (اس وجہ سے اس قسم کے شبہات ایجاد کر رہے ہو)۔‘‘  
    جو نکلتا ہے ریڑھ اور پسلیوں کے بیچ سے۔
    ’خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍ ۵ یَخْرُجُ مِنۡ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ‘۔ یہ اس پانی کی نوعیت، اس کے خروج کی صورت اور اس کی جگہ کے حدود اربعہ کی وضاحت فرما دی تاکہ انسان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ پانی نہ کوئی جوہر نایاب ہے اور نہ یہ کسی ایسی ولایت سے آتا ہے جو خدا کی خدائی کے حدود سے باہر ہو بلکہ انسان ہی کی ریڑھ اور اس کی چھاتیوں کے بیچ سے اچھلتا ہے اور قدرت اسی کو اپنے سانچے میں جس شکل و صورت پر چاہتی ہے ڈھالتی ہے اور پھر اس کو بطن مادر سے باہر لاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی اس عظیم قدرت و حکمت کا مشاہدہ ہر شخص خود اپنے وجود کے اندر کر رہا ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ زندہ کرنا ناممکن ہو جائے گا! اسی حقیقت کی طرف سورۂ انفطار میں یوں توجہ دلائی ہے: یٰٓاَیُّہَا الْإِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۵ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَ ۵ فِیْ أَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ۵ کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیْنِ (الانفطار ۸۲: ۶-۹) ’’اے انسان، تجھے تیرے اس رب کریم کے باب میں کس چیز نے مغالطے میں ڈال رکھا ہے؟ جس نے تیرا خاکہ بنایا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے۔ اور تجھے بالکل ٹھیک ٹھاک کیا اور جس شکل پر چاہا تجھے مشکّل کر دیا! (اس خدا کی قدرت کے باب میں کسی شک کی گنجائش) ہر گز نہیں ہے لیکن تم جزا و سزا کو جھٹلانا چاہتے ہو (اس وجہ سے اس قسم کے شبہات ایجاد کر رہے ہو)۔‘‘  
    بے شک وہ اس کے لوٹا سکنے پر پوری طرح قادر ہے۔
    یہ اس پانی کی نوعیت، اس کے خروج کی صورت اور اس کی جگہ کے حدود اربعہ کی وضاحت فرما دی تاکہ انسان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ پانی نہ کوئی جوہر نایاب ہے اور نہ یہ کسی ایسی ولایت سے آتا ہے جو خدا کی خدائی کے حدود سے باہر ہو بلکہ انسان ہی کی ریڑھ اور اس کی چھاتیوں کے بیچ سے اچھلتا ہے اور قدرت اسی کو اپنے سانچے میں جس شکل و صورت پر چاہتی ہے ڈھالتی ہے اور پھر اس کو بطن مادر سے باہر لاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی اس عظیم قدرت و حکمت کا مشاہدہ ہر شخص خود اپنے وجود کے اندر کر رہا ہے کیا اس کے لیے اس کو دوبارہ زندہ کرنا ناممکن ہو جائے گا! اسی حقیقت کی طرف سورۂ انفطار میں یوں توجہ دلائی ہے: یٰٓاَیُّہَا الْإِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۵ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَ ۵ فِیْ أَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ ۵ کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیْنِ (الانفطار ۸۲: ۶-۹) ’’اے انسان، تجھے تیرے اس رب کریم کے باب میں کس چیز نے مغالطے میں ڈال رکھا ہے؟ جس نے تیرا خاکہ بنایا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے۔ اور تجھے بالکل ٹھیک ٹھاک کیا اور جس شکل پر چاہا تجھے مشکّل کر دیا! (اس خدا کی قدرت کے باب میں کسی شک کی گنجائش) ہر گز نہیں ہے لیکن تم جزا و سزا کو جھٹلانا چاہتے ہو (اس وجہ سے اس قسم کے شبہات ایجاد کر رہے ہو)۔‘‘ ’اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ‘۔ یعنی جس خدا نے انسان کو پیدا کرنے میں اپنی قدرت و حکمت کی یہ شانیں دکھائی ہیں وہ اس کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی ضرور قادر ہے۔ ’رَجْعِہٖ‘ میں ضمیر کا مرجع انسان ہے جس کو آیت ’فَلْیَنۡظُرِ الْإِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَ‘ (۵) میں غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ اگرچہ لفظ عام استعمال ہوا ہے لیکن اصل روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے جو اس قسم کے لاطائل شبہات پیدا کر کے قرآن کے انذار کو غیر مؤثر بنا دینا چاہتے تھے۔  
    اس دن ساری چھپی باتیں پرکھی جائیں گی۔
    آخرت کے احتساب کی نوعیت: اس دن جس طرح کے احتساب سے لوگوں کو سابقہ پیش آئے گا یہ اس کا بیان ہے۔ فرمایا کہ اس دن مخفی باتیں بھی جانچی اور پرکھی جائیں گی۔ یعنی صرف ظاہری اقوال و اعمال ہی زیربحث نہیں آئیں گے بلکہ مخفی اعمال، دلوں کے کھوٹ اور نیتوں کے فساد بھی پرکھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ایسے آلات ہیں جو مخفی سے مخفی گوشوں میں کیے ہوئے اعمال و اقوال کا بھی کھوج لگا لیں گے، اور ہر عمل کو پرکھ کر بتا دیں گے کہ کس کے اندر کتنا کھوٹ ہے اور کتنا اخلاص۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دن آدمی کے اعضاء و جوارح بھی ان تمام اعمال کی گواہی دیں گے جو انسان نے کیے ہوں گے۔ تو جب اعضاء و جوارح بھی گواہ بن کر اٹھ کھڑے ہوں گے تو کسی راز کے راز رہنے کا کیا امکان باقی رہا۔
    تو اس وقت اس کے پاس کچھ زور نہ ہو گا اور نہ کوئی مددگار۔
    اس دن آدمی کے پاس نہ اس کی اپنی ذاتی قوت ہو گی جس سے وہ مدافعت کر سکے اور نہ اس کے اعوان و انصار اور شرکاء و شفعاء میں سے کوئی اس کی حمایت کے لیے اٹھے گا۔ ہر ایک کا ظاہر و باطن کھلی کتاب کی طرح سامنے ہو گا اور صرف خدائے علیم و خبیر ہی کا فیصلہ بے چون و چرا نافذ ہو گا۔
    شاہد ہے آسمان، پُر از باراں۔
    حیات بعد الموت پر آفاقی شہادت: اوپر حیات بعد الموت اور روز جزا پر انسان کی خلقت سے شہادت پیش کی ہے۔ اب اسی دعوے پر ایک آفاقی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ’رَجْعٌ‘ کی تشریح اہل لغت نے ’المطر بعد المطر‘ سے کی ہے۔ یعنی وہ بارش جو یکے بعد دیگرے ہوتی اور زمین کو زندگی و شادابی بخشتی ہے۔
    اور زمین، پرشگاف۔
    ’صَدْعٌ‘ کے معنی پھٹنے کے ہیں۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو زمین کے مسامات کھل جاتے ہیں اور وہ پانی جذب کر کے پھول جاتی اور دیکھتے دیکھتے لہلہا اٹھتی ہے۔ اگرچہ یہاں لہلہا اٹھنے کا ذکر لفظوں میں نہیں ہے لیکن قرینہ اس پر دلیل ہے۔ اسلوب قسمیہ ہے اس وجہ سے بات اشاروں میں کہہ دی گئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں مختلف اسلوبوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو ازسرنو زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ جو لوگ اس بات میں شک کر رہے تھے ان کو ملامت کی گئی ہے کہ تم ایک ایسی بات میں شک کر رہے ہو جس کا مشاہدہ آئے دن تمہیں ہوتا رہتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اسی طرح کے شکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) ’’کیا جنھوں نے قیامت کا انکار کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں پس ہم ان کو کھول دیتے ہیں اور ہم نے پانی سے ہر چیز کو زندہ کیا۔‘‘ اس آیت کی تفسیر اس کے محل میں دیکھ لیجیے۔ آسمان و زمین کے بند ہونے سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ نہ آسمان سے پانی برستا نہ زمین سبزہ اگاتی لیکن جب اللہ تعالیٰ آسمان کے دریچے کھول کر پانی برسا دیتا ہے تو زمین بھی اپنے خزانوں کے دروازے کھول دیتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جب چاہے گا زمین سے ان سارے لوگوں کو زندہ اٹھا کھڑا کرے گا جو اس میں دفن ہیں۔  
    کہ یہ دوٹوک بات ہے۔
    مکذبین قیامت کو تنبیہ: جس طرح سابق سورہ کے آخر میں مکذبین قیامت کو متنبہ فرمایا ہے کہ قرآن کے اس انذار کا مذاق نہ اڑاؤ، یہ لوح محفوظ سے اترا ہوا نہایت برتر کلام ہے، اسی طرح اس سورہ کے آخر میں بھی ایک نئے اسلوب سے آگاہ فرمایا کہ یہ قرآن جس روز حساب سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ ایک امرقطعی اور اٹل ہے جس سے تمہیں لازماً سابقہ پیش آنا ہے تو اس کو مذاق کا موضوع نہ بناؤ بلکہ دانش مندی اور عاقبت بینی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو توجہ سے سنو، سمجھو اور آنے والے دن کی تیاری کرو۔
    اور یہ کوئی ہنسی مسخری نہیں۔
    مکذبین قیامت کو تنبیہ: جس طرح سابق سورہ کے آخر میں مکذبین قیامت کو متنبہ فرمایا ہے کہ قرآن کے اس انذار کا مذاق نہ اڑاؤ، یہ لوح محفوظ سے اترا ہوا نہایت برتر کلام ہے، اسی طرح اس سورہ کے آخر میں بھی ایک نئے اسلوب سے آگاہ فرمایا کہ یہ قرآن جس روز حساب سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ ایک امرقطعی اور اٹل ہے جس سے تمہیں لازماً سابقہ پیش آنا ہے تو اس کو مذاق کا موضوع نہ بناؤ بلکہ دانش مندی اور عاقبت بینی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو توجہ سے سنو، سمجھو اور آنے والے دن کی تیاری کرو۔
    وہ چل رہے ہیں ایک چال۔
    پیغمبر صلعم کو تسلی: یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہارے انذار کا مذاق اڑانے کے لیے لوگ جو سخن سازیاں کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے دل میں فی الواقع کچھ شبہات ہیں جو کسی جواب یا کوئی معجزہ دکھا دینے سے دور ہو جائیں گے۔ یہ شبہات محض حقیقت سے فرار کے لیے گھڑے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ نہ یہ خود تمہاری بات مانیں نہ اپنے عوام کو ماننے دیں تاکہ ان کی سیادت قائم رہے اور اپنی جن خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں بدستور ان کی پیروی کرتے رہیں۔
    اور میں بھی کر رہا ہوں ایک داؤ۔
    ’وَأَکِیْدُ کَیْدًا‘۔ فرمایا کہ ان کی اس چال کے توڑ کے لیے میں بھی ایک چال چل رہا ہوں۔ وہ یہ کہ ان کو پکڑنے میں جلدی کرنے کے بجائے ان کو ڈھیل دے رہا ہوں تاکہ یہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں اور جب پکڑے جائیں تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ یہ نادان اس ڈھیل کو اپنی کامیابی گمان کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں یہ خدا کے استدراج کے پھندے میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ جتنی ہی ان کی رسی دراز ہو رہی ہے اتنی ہی اس کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔ یہ گویا اسی بات کی دوسرے الفاظ میں وضاحت ہے جو سابق سورہ میں ’وَاللہُ مِنۡ وَرَآئِہِمۡ مُّحِیْطٌ‘ (البروج ۸۵: ۲۰) کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔
    تو ان کافروں کو مہلت دے، ان کو چھوڑ ذرا دیر کو۔
    یعنی جب یہ ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کے گھیرے میں ہیں تو خواہ ان کو کتنی ہی ڈھیل ملے اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ یہ خدا کی گرفت سے باہر نکل جائیں گے، تو تم بھی ان کو ڈھیل ہی دو۔ یعنی ان کے طعنوں اور مطالبات سے تنگ آ کر یہ تمنا نہ کرو کہ اب ان کو کوئی نشانئ عذاب دکھا ہی دی جائے یا سرے سے ان کا قصہ ہی پاک کر دیا جائے۔ ’اَمْہِلْہُمْ رُوَیْدًا‘۔ یہ اوپر کے ٹکڑے ہی کی وضاحت ہے کہ اس ڈھیل سے یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی غیر محدود مدت کے لیے ان کو ڈھیل دی جائے بلکہ بس ذرا سی ان کی رسی دراز کر دی جائے تاکہ جو کلیلیں یہ کرنی چاہتے ہیں کر لیں بالآخر تو ان کو اپنے انجام سے دوچار ہونا ہی ہے۔ یہاں کلام کا یہ پہلو خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ڈھیل دینے کی ہدایت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمائی جا رہی ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اب ان کی قسمت کی باگ دراصل پیغمبر ہی کے ہاتھ میں خدا نے دے دی ہے۔ البتہ وہ پسند یہ فرماتا ہے کہ پیغمبر ان کو ذرا سی ڈھیل مزید دے دیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List