Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانشقاق (The Rending Asunder, The Sundering, Splitting Open)

    25 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ اور سابق سورہ ۔۔۔ المطففین۔۔۔ میں نہایت واضح معنوی مشابہت موجود ہے۔ جزا و سزا کے منکروں کو جس طرح اس میں متنبہ کیا گیا ہے اسی طرح اس سورہ میں بھی اسی گروہ کو جھنجھوڑا گیا ہے۔ اس میں بیان فرمایا ہے کہ ایک ایسا دن لازماً آنا ہے جس میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ایمان اور عمل کی بنیاد پر الگ الگ گروہوں میں تقسیم کرے گا، جو خدا کے فرماں بردار و نیکو کار ہوں گے وہ ابدی بادشاہی میں داخل ہوں گے اور جو نافرمان و نابکار ہوں گے وہ ابدی ذلت سے دوچار ہوں گے۔ اس سورہ میں بھی لوگوں کا دو گروہوں میں تقسیم ہونا بیان ہوا ہے۔ ایک وہ جن کو ان کے اعمال نامے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور وہ ابدی کامیابی حاصل کریں گے دوسرے وہ جن کے اعمال نامے ان کے پیچھے ہی سے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑا دیے جائیں گے اور وہ ابدی ذلت سے دوچار ہوں گے۔

    دونوں میں اصل مخاطب وہ مترفین و ارباب تنعم ہیں جو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اول تو جزا و سزا کا کوئی دن آنے والا ہے نہیں اور ہے بھی تو ان کو جو عزت و سرفرازی یہاں حاصل ہے وہ وہاں بھی حاصل رہے گی۔ ان کو بتایا گیا ہے کہ انسان کی فطرت عدل کے شعور سے عاری نہیں ہے اور خالق نے یہ دنیا اندھیر نگری نہیں بنائی ہے، اس وجہ سے لازم ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں نیکوں اور بدوں کے درمیان امتیاز ہو۔ اس دن وہ لوگ ہلاک ہوں گے جو اس بدیہی حقیقت کو پس پشت ڈال کر زندگی گزاریں گے۔

    استدلال کی بنیاد سابق سورہ میں، جیسا کہ وضاحت ہو چکی ہے، انسانی فطرت پر ہے اور اس سورہ میں، جیسا کہ آگے وضاحت ہو گی، آفاق کے بعض شواہد پر۔

  • الانشقاق (The Rending Asunder, The Sundering, Splitting Open)

    25 آیات | مکی
    المطففین - الانشقاق

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔پہلی سورہ میں انسان کی فطرت میں خیر و شر کے شعور سے اور دوسری میں آفاق کے آثار و شواہد سے استدلال کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ اُنھیں ہر حال میں اپنے پروردگار کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھنا ہے اور اپنے اعمال کے لحاظ سے لازماً الگ الگ انجام کو پہنچنا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 084 Verse 001 Chapter 084 Verse 002 Chapter 084 Verse 003 Chapter 084 Verse 004 Chapter 084 Verse 005 Chapter 084 Verse 006 Chapter 084 Verse 007 Chapter 084 Verse 008 Chapter 084 Verse 009 Chapter 084 Verse 010 Chapter 084 Verse 011 Chapter 084 Verse 012 Chapter 084 Verse 013 Chapter 084 Verse 014 Chapter 084 Verse 015 Chapter 084 Verse 016 Chapter 084 Verse 017 Chapter 084 Verse 018 Chapter 084 Verse 019 Chapter 084 Verse 020 Chapter 084 Verse 021 Chapter 084 Verse 022 Chapter 084 Verse 023 Chapter 084 Verse 024 Chapter 084 Verse 025
    Click translation to show/hide Commentary
    جب کہ آسمان پھٹ جائے گا۔
    قیامت کے دن کی ہلچل: قیامت کے بعد جو جہان نو وجود میں آئے گا وہ نئے نوامیس و قوانین کے تحت وجود میں آئے گا اس وجہ سے اس میں یہ آسمان و زمین جو آج موجود ہیں، ختم ہو جائیں گے اور ان کی جگہ، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، دوسرے آسمان و زمین نمودار ہو جائیں گے۔ ’اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ‘ کے الفاظ سے یہاں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو سورۂ انفطار میں ’اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ‘ (۱) کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ کائنات کے اس سب سے بڑے حادثہ کا آج کوئی اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ قرآن نے اس ہلچل کا ذکر ان نادانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کیا ہے جو اپنے قلعوں اور محلوں پر بہت نازاں تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی تھی کہ بھلا ان میں کوئی دراڑ کہاں سے پڑ جائے گی؟ ان کو آگاہ فرمایا کہ قلعے اور گڑھیاں، ایوان اور محل تو درکنار سرے سے یہ آسمان و زمین ہی پاش پاش ہو جائیں گے جن کے اندر یہ گھروندے تم نے بنائے ہیں۔
    اور اپنے خداوند کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے یہی زیبا ہے۔
    ’وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ‘۔ ’اَذِنَ لَہ‘ کے معنی ہیں ’اِسْتَمِعَ لَہ‘ اس نے اس کی بات مان لی، اس کے حکم کی تعمیل کی، اس کے آگے سر جھکا دیا۔ ’حُقَّ لَہ‘ کے معنی ہیں کہ اس کے لیے واجب ہے کہ وہ ایسا کرے، اس کے لیے یہی زیبا ہے کہ وہ یہ کام کرے۔ مطلب یہ ہے کہ اس جہالت میں نہ پھنسے رہو کہ بھلا آسمان و زمین جیسی چیزوں پر کس کا زور چل سکتا ہے کہ وہ ان کو پاش پاش کر کے رکھ دے۔ اس دن اپنے رب کے حکم سے یہ بھی پاش پاش ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے گا اور بے چون و چرا وہ اس کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ ’وَحُقَّتْ‘۔ یعنی اس کے لیے یہی کرنا واجب ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا ہے تواس کے لیے یہ کس طرح زیبا ہے کہ وہ اپنے خالق کی نافرمانی کرے! ایک برسرموقع تبنیہ: یہ فقرہ یہاں ان مغروروں کی تنبیہ و تعلیم کے لیے آیا ہے جو بات بات پر اللہ اور رسول کے خلاف محاذ قائم کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ برسر موقع ان کو توجہ دلا دی گئی کہ آسمان تو اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں پاش پاش ہو جائے گا اور یہی اس کے لیے زیبا ہے۔ اب وہ نادان جن کی حیثیت اس آسمان کے نیچے بالکل ایک ذرۂ بے مقدار کی ہے سوچ لیں کہ ان کا یہ رویہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے لڑنے اٹھیں اور اس زعم میں مبتلا ہوں کہ کوئی ان کو ان کی جگہ سے ہلا نہیں سکتا!
    اور جب کہ زمین تان دی جائے گی۔
    قیامت کے دن زمین کا حال: آسمان کے بعد یہ زمین پر جو کچھ گزرے گی اس کا حال بیان ہو رہا ہے کہ زمین تان دی جائے گی۔ یعنی آج تو زمین میں بہت سی شکنیں اور سلوٹیں ہیں، نشیب و فراز ہیں، وادیاں اور کہسار ہیں، دریا اور پہاڑ ہیں۔ اس کی اونچ نیچ اور اس کی تہوں میں بے شمار چیزیں چھپی ہوئی ہیں جو نظر نہیں آ رہی ہیں لیکن اس دن یہ ایک چادر کی طرح تان دی جائے گی اور جو کچھ اس کی سلوٹوں میں ہے وہ اس کو باہر نکال کر فارغ ہو جائے گی۔ یہ اشارہ اگرچہ خاص طور پر مُردوں کے اٹھائے جانے کی طرف ہے لیکن اسلوب بیان عام ہے۔ وہ ساری چیزیں اس میں داخل ہیں جو زمین میں دفن ہیں۔ یعنی ان سرمایہ داروں کے خزانے بھی جو اس سورہ میں خاص طور پر مخاطب ہیں۔
    اور وہ اپنے اندر کی چیزیں باہر ڈال کر فارغ ہو جائے گی۔
    ’وَاَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَتَخَلَّتْ‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ زمین ان چیزوں کے بوجھ سے اسی طرح بوجھل ہے جس طرح ایک حاملہ اپنے حمل سے بوجھل ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اس بوجھ سے فارغ ہونے میں وہی راحت و فراغت محسوس کرے گی جو ایک حاملہ حمل کے بعد محسوس کرتی ہے۔
    اور وہ اپنے خداوند کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کو یہی چاہیے۔
    ’وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ‘۔ اس آیت کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان اور زمین دونوں اس دن اپنے رب کے حکم کی اطاعت کریں گے اور یہ اطاعت ہی ان کے لیے زیبا ہے اور یہ بالکل رضامندانہ ہوگی۔ قرآن میں دوسری جگہ آسمان و زمین کی اس رضامندانہ اطاعت کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے: ’فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائۡتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیۡنَ‘ (حٰم السجدہ ۴۱: ۱۱) (پس اس نے آسمان اور زمین دونوں کو حکم دیا کہ حاضر ہو، رضامندانہ خواہ مجبورانہ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں رضامندانہ)۔  
    اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے خداوند ہی کی طرف جا رہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے۔
    دنیا کے فریب خواروں کو تنبیہ: خطاب باعتبار الفاظ اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر انہی مغروروں کی طرف ہے جو اپنے عیش دنیا میں مگن اور آخرت سے بالکل نچنت تھے۔ فرمایا کہ اے انسان تو بھی کشاں کشاں جا اپنے رب ہی کی طرف رہا ہے اور بالآخر اسی کے حضور تیری پیشی ہونی ہے؛ تجھے اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ دنیا کے پرستار اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں اپنی اصل منزل ہمیشہ بھولے رہتے ہیں۔ انھیں کامیابیوں کے بعد کامیابیاں اور فتوحات کے بعد جو فتوحات حاصل ہوتی ہیں ان میں وہ اس طرح کھو جاتے ہیں کہ ان سے باہر ہو کر وہ کسی چیز پر غور ہی نہیں کر سکتے۔ ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری کامیابی کے حصول کی بھاگ دوڑ میں انھیں کبھی اس سوال پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی کہ ان کی اصلی منزل ہے کیا؟ وہ اسی دنیا کی کسی کامیابی کو اپنی آخری منزل سمجھتے ہیں حالانکہ آخری منزل آخرت ہے جس کی طرف سب، خدا کے قانون کی زنجیر میں بندھے، نہایت بے بسی کے ساتھ، کشاں کشاں چلے جا رہے ہیں۔ اگر ان کی نظرزندگی کے اس پہلو پر بھی ہوتی تو وہ جادۂ مستقیم سے منحرف نہ ہوتے بلکہ کھلی آنکھوں سے دیکھتے کہ جتنی تیز روی کے ساتھ وہ اپنی مرغوبات دنیا کی راہ میں بڑھ رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ ان کی زندگی محاسبۂ اعمال کے لیے خدا کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہر انسان کشاں کشاں خدا کی طرف جا رہا ہے: ’إِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘۔ ’کَدْحٌ‘ کے معنی کسی کام میں پوری مشقت کے ساتھ کوشش کرنے کے ہیں۔ یہ نہایت بلیغ تعبیر ہے اس حقیقت کی کہ انسان جس دن سے وجود میں آتا ہے اسی دن سے اس کا سفر خدا کی ٹھہرائی ہوئی منزل یعنی موت کی راہ میں شروع ہو جاتا ہے اور یہ سفر بلا کسی توقف کے جاری رہتا ہے۔ موسم سخت ہو یا نرم، آدمی مریض ہو یا صحت مند، حالات مساعد ہوں یا نامساعد، کسی حال میں بھی یہ منقطع نہیں ہوتا۔ ولادت سے لے کر موت تک بچپن، مراہقہ، جوانی، ادھیڑ پن، پیری اور ناتوانی کے مختلف مراحل آتے ہیں لیکن اس میں ایک منٹ بلکہ سیکنڈ کے لیے بھی وقفہ نہیں ہوتا۔ انسان قانون قدرت کی زنجیروں میں ایسا جکڑا ہوا ہے کہ وہ اس راہ میں نہ بھی چلنا چاہے جب بھی اس کو چلنا پڑے گا اور اس بے بسی میں شاہ اور گدا، شریف اور وضیع، امیر اور مامور، نیک اور بد، سب یکساں ہیں۔ ’فَمُلَاقِیْہِ‘۔ یہ اس سفر کی غایت بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ انسان اس دنیا میں شتر بے مہار نہیں ہے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ سب کشاں کشاں اپنے خالق کے حضور میں پہنچیں اور اس کے آگے پیش ہوں۔ اس پیشی کا مقصد ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد سے ان کو دنیا میں پیدا کیا اس سے متعلق ان سے سوال ہو کہ وہ انھوں نے پورا کیا یا نہیں، چنانچہ آگے اس کی تفصیل آ رہی ہے۔
    تو جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے دہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔
    یہ اوپر کے اجمال کی تفصیل ہے۔ فرمایا کہ اس دن جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے وہ تو سستے چھوٹیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال ناموں کا ان کے دہنے ہاتھ میں دیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہو گا کہ وہ نجات کے حق دار ہیں، ان کی نیکیاں ان کی بدیوں پر غالب اور وہ عفو و صفح کے حق دار ہیں۔ معلوم ہوا کہ جہاں تک حساب کا تعلق ہے وہ تو ان کا بھی ہو گا لیکن ان کے نیک اعمال کا وزن زیادہ ہو گا اس وجہ سے ان کی معمولی غلطیوں سے درگزر کی جائے گی۔ برعکس اس کے جن کے برے اعمال کا وزن زیادہ ہو گا ان کی ایک ایک غلطی پر گرفت ہو گی اور وہ اس کی سزا بھگتیں گے۔
    اس کا حساب تو نہایت سہج ہو گا۔
    یہ اوپر کے اجمال کی تفصیل ہے۔ فرمایا کہ اس دن جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے وہ تو سستے چھوٹیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال ناموں کا ان کے دہنے ہاتھ میں دیا جانا ہی اس بات کا ضامن ہو گا کہ وہ نجات کے حق دار ہیں، ان کی نیکیاں ان کی بدیوں پر غالب اور وہ عفو و صفح کے حق دار ہیں۔ معلوم ہوا کہ جہاں تک حساب کا تعلق ہے وہ تو ان کا بھی ہو گا لیکن ان کے نیک اعمال کا وزن زیادہ ہو گا اس وجہ سے ان کی معمولی غلطیوں سے درگزر کی جائے گی۔ برعکس اس کے جن کے برے اعمال کا وزن زیادہ ہو گا ان کی ایک ایک غلطی پر گرفت ہو گی اور وہ اس کی سزا بھگتیں گے۔
    اور وہ اپنے لوگوں کے پاس نہایت شاد مند لوٹے گا۔
    ایک جامع اسلوب اور اس کے مضمرات: یہ ایک جامع اسلوب میں ان کا صلہ بیان ہوا ہے کہ اس دن وہ اپنے اہل و عیال میں خوش خوش لوٹیں گے۔ اس اسلوب بیان میں کئی باتیں سمٹ آئی ہیں جو خود بخود ظاہر ہیں، مثلاً ۔۔۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے باایمان اہل و عیال کو ان کے ساتھ جنت میں جمع کر دے گا اگرچہ اہل و عیال اس درجۂ بلند کے مستحق نہ ہوں جس کے وہ مستحق ہوئے تاکہ جنت کی کامیابیوں سے یک جا مسرور و شاد مند ہوں۔ سورۂ طور آیت ۲۱ میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ اس یک جائی کے لیے اللہ تعالیٰ ان کے درجے کو نیچا نہیں کرے گا بلکہ ان کے اہل و عیال کے درجے بلند کر دے گا۔ ۔۔۔ یہ کہ انھوں نے اپنے اہل و عیال کے اندر ان کی عاقبت سے بے فکر رہ کر زندگی نہیں گزاری بلکہ دنیا سے زیادہ ان کی اخروی کامیابیوں کی فکر رکھی۔ فکر آخرت سے غافلوں کا رویہ تو سابق سورہ میں یہ بیان ہوا ہے کہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں ہوتے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ بھلا اس ہرے بھرے باغ پر خزاں کدھر سے آ سکتی ہے: ’وَإِذَا انقَلَبُوْا إِلَی أَہْلِہِمُ انقَلَبُوْا فَکِہِیْنَ‘ (المطففین ۸۳: ۳۱) اس کے برعکس آخرت پر ایمان رکھنے والوں سے متعلق سورۂ طور آیات ۲۶-۲۷ میں یہ بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن جب وہ اپنے اہل و عیال کی یکجائی سے مسرور ہوں گے تو کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی فضل ہوا کہ ہم ان کی اخروی فلاح سے غافل نہیں بلکہ اس کے لیے برابر فکرمند رہے جس کا صلہ ہمیں یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی ہمارے ساتھ جمع کر دیا۔ ’قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا فِیْٓ اَھْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ۵ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَاَ وَوَقٰنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ‘۔ ۔۔۔ یہ کہ جو شخص اپنے اہل و عیال سے محبت رکھتا ہے اس کی اس محبت کا اصلی تقاضا یہ ہے کہ وہ ان کی عاقبت سنوارنے کے لیے خود بھی فکرمند رہے اوران کو بھی فکرمند رکھنے کی کوشش کرے۔ اسی فکرمندی سے آخرت میں یکجائی اور محبت کا اصلی سرور حاصل ہو گا۔ اگر آخرت کو نظر انداز کر کے اسی دنیا کے لیے محبت کی گئی تو وہ محبت بالآخر دونوں فریق کے لیے موجب وبال و خسران ہو گی اور قیامت میں دونوں باہم دگر مسرور ہونے کے بجائے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔
    رہا وہ جس کا اعمال نامہ اس کے پیچھے ہی سے پکڑا دیا جائے گا۔
    آخرت سے غافلوں کا انجام: یہ دوسرے گروہ یعنی ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جنھوں نے آخرت سے بالکل بے پروا رہ کر زندگی گزاری۔ فرمایا کہ ان کے اعمال نامے ان کے پیچھے ہی سے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑا دیے جائیں گے۔ اگرچہ الفاظ میں بائیں ہاتھ کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن قرینہ اس پر دلیل ہے۔ جب پہلے گروہ سے متعلق یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ اس کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے تاکہ ان کی اور ان کے اعمال نامے کی نامبارکی اس برتاؤ ہی سے واضح ہو جائے۔ علاوہ ازیں سورۂ حاقہ آیت ۲۵ میں واضح لفظوں میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ اس گروہ کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ فرمایا ہے: ’وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہ بِشِمَالِہ۵ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتٰبِیَہْ‘ (رہا وہ جس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا، اے کاش! مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ گیا ہوتا)۔ زیربحث آیت سورۂ حاقہ کی مذکورہ آیت کی روشنی میں دیکھیے تو اس سے مضمون میں یہ اضافہ ہو جائے گا کہ اس گروہ کو بیک وقت دو فضیحتوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ ایک یہ کہ اس کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ دوسری یہ کہ یہ کام بھی اس طرح ہو گا کہ سامنے سے دیے جانے کے بجائے پیچھے ہی سے ان کو پکڑا دیے جائیں گے۔ مزید غور کیجیے تو یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ ان کے دونوں ہاتھ مجرموں کی طرح پیچھے کی طرف بندھے ہوں گے۔  
    تو وہ موت کی دہائی دے گا۔
    اوپر اہل ایمان کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کی طرف خوش خوش لوٹیں گے، اس کے ٹھیک مقابل میں ایک دوسرے گروہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ موت اور ہلاکت کی دہائی دیں گے۔ یعنی جس دوزخ میں وہ داخل ہوں گے اس سے نجات کی واحد شکل ان کو صرف یہ نظر آئے گی کہ موت آ کر ان کا خاتمہ کرے لیکن وہ بھی ان کی پرسان حال نہ بنے گی۔ اگرچہ ’یَدْعُوْا ثُبُوْرًا‘ کو بظاہر ’یَصْلٰی سَعِیْرًا‘ کے بعد آنا چاہیے لیکن بہ تقاضائے بلاغت مسبب کو سبب پر مقدم کر دیا ہے تاکہ سابق گروہ کی شادمانی اور اس دوسرے گروہ کی بدبختی و حرماں نصیبی دونوں کا ذکر ایک دوسرے کے بالمقابل ہو۔
    اور دوزخ میں پڑے گا۔
    اوپر اہل ایمان کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کی طرف خوش خوش لوٹیں گے، اس کے ٹھیک مقابل میں ایک دوسرے گروہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ موت اور ہلاکت کی دہائی دیں گے۔ یعنی جس دوزخ میں وہ داخل ہوں گے اس سے نجات کی واحد شکل ان کو صرف یہ نظر آئے گی کہ موت آ کر ان کا خاتمہ کرے لیکن وہ بھی ان کی پرسان حال نہ بنے گی۔ اگرچہ ’یَدْعُوْا ثُبُوْرًا‘ کو بظاہر ’یَصْلٰی سَعِیْرًا‘ کے بعد آنا چاہیے لیکن بہ تقاضائے بلاغت مسبب کو سبب پر مقدم کر دیا ہے تاکہ سابق گروہ کی شادمانی اور اس دوسرے گروہ کی بدبختی و حرماں نصیبی دونوں کا ذکر ایک دوسرے کے بالمقابل ہو۔
    وہ اپنے لوگوں میں مگن رہا۔
    ’إِنَّہُ کَانَ فِیْ أَہْلِہِ مَسْرُوۡرًا‘۔ یعنی یہ اہل و عیال کے ساتھ یکجائی کے سرور سے اس وجہ سے محروم رہیں گے کہ ان کو جتنا اس سے حظ اٹھانا تھا دنیا میں اٹھا چکے۔ جب دنیا میں نہ اپنی عاقبت کے لیے وہ فکرمند ہوئے نہ ان کی عاقبت کے لیے تو آخرت میں وہ کس طرح حق دار ہوں گے کہ جنت میں ان کی یکجائی کے سرور سے محظوظ ہوں۔ آخرت میں ہر نعمت سے بہرہ مند ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دنیا میں اس کی خاطر قربانی دی گئی ہو۔
    اس نے گمان رکھا کہ اس کو کبھی لوٹنا نہیں ہو گا۔
    یعنی وہ اس گمان میں رہے کہ مرنے کے بعد نہ انھیں جینا ہے نہ کسی کی طرف لوٹنا ہے تو آخر وہ اپنا یا اپنے متعلقین کا عیش کیوں مکدر کرتے؟ انھوں نے زندگی اور اس کے وسائل سے جو حظ اٹھانا تھا اٹھا لیا۔ نہ آخرت کے لیے انھوں نے کوئی فکر ہی کی اور نہ اس میں ان کا کوئی حصہ ہی ہے۔
    ہاں، کیوں نہیں! اس کا رب تو اس کو اچھی طرح دیکھ رہا تھا۔
    ایک برسر موقع استدراک: یہ ان کے اس ظن پر، جس کا اوپر حوالہ ہے، برسر موقع استدراک ہے کہ انھوں نے یہ گمان جو کیا تو بالکل غلط کیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کا رب ان کو دیکھ رہا تھا، تو جب دیکھ رہا تھا تو آخر یہ کس طرح روا تھا کہ وہ اپنے حضور میں پیشی کے لیے نہ بلاتا؟ یہ بات تو اس کی قدرت، حکمت، عدل اور رحمت سب کے منافی ہوتی! قیامت اور جزا و سزا کے حق میں یہ دلیل قرآن میں جگہ جگہ بیان ہو چکی ہے۔
    پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی۔
    اوپر کے دعوے پر بطریق قسم شہادت: اب آخر میں تین چیزوں کو بصورت قسم شہادت میں پیش کر کے اسی دعوے کو ثابت کیا ہے جو اوپر آیت ۶ میں گزر چکا ہے کہ ’اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب ہی کی طرف جا رہا ہے اور تجھے اس کے آگے پیش ہونا ہے‘۔ ان قسموں کا مقسم علیہ ’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘ ہے، جس سے یہ بات نکلی کہ تیرا خدا کے آگے پیش ہونا ہے تو ایک امر شدنی لیکن یہ کام ایک ترتیب و تدریج کے ساتھ ہو گا اس لیے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت جاری ہے کہ ہر چیز اپنی غایت و نہایت کو ایک تدریج کے ساتھ پہنچتی ہے۔ اس خلاصۂ بحث کو سامنے رکھ کر اب اجزائے کلام پر غور کیجیے۔ ’فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۵ وَاللَّیْْلِ وَمَا وَسَقَ‘۔ قسم سے پہلے یہاں ’لَا‘ اسی طرح آیا ہے جس طرح ’لَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘ اور متعدد دوسری قسموں سے پہلے آیا ہے۔ ہم اس کی وضاحت بار بار کر چکے ہیں کہ نہ یہ زائد ہوتا ہے اور نہ قسم کی نفی کے لیے بلکہ یہ قسم سے پہلے مخاطب کے اس زعم باطل کی پیشگی نفی کے لیے آتا ہے جس کی تردید قسم سے مقصود ہوتی ہے۔ اس اسلوب میں یہ بلاغت ہے کہ متکلم مخاطب کے زعم باطل کی تردید میں اتنا توقف بھی گوارا کرنے پر تیار نہیں ہے کہ دلیل بیان کرنے کے بعد اس کی تردید کرے بلکہ کلام کا آغاز ہی اس کی تردید سے کرتا ہے۔ یہ اسلوب ایک فطری اسلوب ہے اور ہر قابل ذکر زبان میں موجود ہے۔ رات اور اس کے تضمنات کی قسم: یہاں پہلے ’شَفَق‘ کی قسم کھائی ہے، پھر رات اور اس کے تضمنات کی۔ ’شَفَق‘ اس سرخی کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے معاً بعد افق پر نمودار ہوتی ہے۔ یہی سرخی رات کی تمہید ہوتی ہے۔ جب تک یہ باقی رہتی ہے اس وقت تک سرشام ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ غائب ہوتی اور رات دنیا پر اپنا قبضہ جما لیتی ہے۔ ’وَمَا وَسَقَ‘۔ رات کے بعد یہ ان چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کو رات اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اس کی تشریح اہل لغت نے ’مَا جَمَعَ وَضَمَّ اِلَیْہِ‘ سے کی ہے، یعنی وہ چیزیں جن کو رات اپنے اندر جمع کر لیتی ہے۔ ہمارے مفسرین نے اس سے عام طور پر حیوانات وغیرہ کو مراد لیا ہے اس لیے کہ رات میں وہ آرام کے لیے اس کے دامن میں پناہ گیر ہو جاتے ہیں۔ بعض نے اس سے دریاؤں، پہاڑوں اور درختوں وغیرہ کو مراد لیا ہے کہ رات ان سب پر اپنی چادر اڑھا دیتی ہے۔ لیکن ان چیزوں کا تعلق اس مقسم علیہ سے سمجھ میں نہیں آتا جو اوپر مذکور ہوا درآنحالیکہ قسم کھائی جاتی ہی ہے مقسم علیہ کو ثابت کرنے کے لیے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس سے وہ کواکب و نجوم مراد ہیں جو رات میں نمودار ہوتے اور جن سے اس کی بزم آراستہ ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اول تو رات ہی کے مخصوصات میں سے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے ’وَمَا وَسَقَ‘ کی تعبیر نہایت موزوں ہے۔ دوسرے قرآن نے جگہ جگہ ان کے طلوع و غروب، ان کے عروج و محاق اور ان کے سجود و رکوع کو اس حقیقت کی شہادت میں پیش کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں مسخر ہیں، اسی کے حکم سے طلوع ہوتی ہیں، پھر ایک معین راستہ پر ایک خاص تدریج کے ساتھ ان کا ارتقاء ہوتا ہے، پھر بالتدریج ان کا زوال شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ بالآخر وہ اپنے اسی خالق کی طرف لوٹ جاتی ہیں جس کے حکم سے وہ نمودار ہوتی ہیں۔ گویا ان کے اندر اس قانون الٰہی کی بے پناہ گرفت کی نہایت واضح شہادت موجود ہے جس سے انسان کو ’اِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘ کے الفاظ سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔
    اور رات کی اور ان چیزوں کی جن کو وہ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔
    اوپر کے دعوے پر بطریق قسم شہادت: اب آخر میں تین چیزوں کو بصورت قسم شہادت میں پیش کر کے اسی دعوے کو ثابت کیا ہے جو اوپر آیت ۶ میں گزر چکا ہے کہ ’اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب ہی کی طرف جا رہا ہے اور تجھے اس کے آگے پیش ہونا ہے‘۔ ان قسموں کا مقسم علیہ ’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘ ہے، جس سے یہ بات نکلی کہ تیرا خدا کے آگے پیش ہونا ہے تو ایک امر شدنی لیکن یہ کام ایک ترتیب و تدریج کے ساتھ ہو گا اس لیے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت جاری ہے کہ ہر چیز اپنی غایت و نہایت کو ایک تدریج کے ساتھ پہنچتی ہے۔ اس خلاصۂ بحث کو سامنے رکھ کر اب اجزائے کلام پر غور کیجیے۔ ’فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۵ وَاللَّیْْلِ وَمَا وَسَقَ‘۔ قسم سے پہلے یہاں ’لَا‘ اسی طرح آیا ہے جس طرح ’لَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘ اور متعدد دوسری قسموں سے پہلے آیا ہے۔ ہم اس کی وضاحت بار بار کر چکے ہیں کہ نہ یہ زائد ہوتا ہے اور نہ قسم کی نفی کے لیے بلکہ یہ قسم سے پہلے مخاطب کے اس زعم باطل کی پیشگی نفی کے لیے آتا ہے جس کی تردید قسم سے مقصود ہوتی ہے۔ اس اسلوب میں یہ بلاغت ہے کہ متکلم مخاطب کے زعم باطل کی تردید میں اتنا توقف بھی گوارا کرنے پر تیار نہیں ہے کہ دلیل بیان کرنے کے بعد اس کی تردید کرے بلکہ کلام کا آغاز ہی اس کی تردید سے کرتا ہے۔ یہ اسلوب ایک فطری اسلوب ہے اور ہر قابل ذکر زبان میں موجود ہے۔ رات اور اس کے تضمنات کی قسم: یہاں پہلے ’شَفَق‘ کی قسم کھائی ہے، پھر رات اور اس کے تضمنات کی۔ ’شَفَق‘ اس سرخی کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے معاً بعد افق پر نمودار ہوتی ہے۔ یہی سرخی رات کی تمہید ہوتی ہے۔ جب تک یہ باقی رہتی ہے اس وقت تک سرشام ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ غائب ہوتی اور رات دنیا پر اپنا قبضہ جما لیتی ہے۔ ’وَمَا وَسَقَ‘۔ رات کے بعد یہ ان چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کو رات اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اس کی تشریح اہل لغت نے ’مَا جَمَعَ وَضَمَّ اِلَیْہِ‘ سے کی ہے، یعنی وہ چیزیں جن کو رات اپنے اندر جمع کر لیتی ہے۔ ہمارے مفسرین نے اس سے عام طور پر حیوانات وغیرہ کو مراد لیا ہے اس لیے کہ رات میں وہ آرام کے لیے اس کے دامن میں پناہ گیر ہو جاتے ہیں۔ بعض نے اس سے دریاؤں، پہاڑوں اور درختوں وغیرہ کو مراد لیا ہے کہ رات ان سب پر اپنی چادر اڑھا دیتی ہے۔ لیکن ان چیزوں کا تعلق اس مقسم علیہ سے سمجھ میں نہیں آتا جو اوپر مذکور ہوا درآنحالیکہ قسم کھائی جاتی ہی ہے مقسم علیہ کو ثابت کرنے کے لیے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس سے وہ کواکب و نجوم مراد ہیں جو رات میں نمودار ہوتے اور جن سے اس کی بزم آراستہ ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اول تو رات ہی کے مخصوصات میں سے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے ’وَمَا وَسَقَ‘ کی تعبیر نہایت موزوں ہے۔ دوسرے قرآن نے جگہ جگہ ان کے طلوع و غروب، ان کے عروج و محاق اور ان کے سجود و رکوع کو اس حقیقت کی شہادت میں پیش کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں مسخر ہیں، اسی کے حکم سے طلوع ہوتی ہیں، پھر ایک معین راستہ پر ایک خاص تدریج کے ساتھ ان کا ارتقاء ہوتا ہے، پھر بالتدریج ان کا زوال شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ بالآخر وہ اپنے اسی خالق کی طرف لوٹ جاتی ہیں جس کے حکم سے وہ نمودار ہوتی ہیں۔ گویا ان کے اندر اس قانون الٰہی کی بے پناہ گرفت کی نہایت واضح شہادت موجود ہے جس سے انسان کو ’اِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘ کے الفاظ سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔
    اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے۔
    ’وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ‘۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ ’وَمَا وَسَقَ‘ تو تمام کواکب و نجوم اور تمام ثابت و سیارات پر مشتمل ہے لیکن قمر کو ان کے خاص فرد یا گل سرسبد کی حیثیت سے منتخب کر کے اس کے عروج و محاق اور کمال و زوال کو خاص طور پر نمایاں فرمایا اس لیے کہ ’یَا أَیُّہَا الْإِنۡسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘ (۶) اور ’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘ کی حقیقت کا مظاہرہ جس طرح اس کے کمال و زوال میں ہوتا ہے اس طرح کسی دوسری چیز میں نمایاں ہو کر سامنے نہیں آتا۔ چنانچہ قرآن نے دوسرے مقام میں اس کے اس پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ فرمایا بھی ہے: ’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَٰی عَادَ کَالْعُرْجُوۡنِ الْقَدِیْمِ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۳۹) (اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرا رکھی ہیں، وہ ان کے طے کر نے میں ایسا ہو جاتا ہے جس طرح کھجور کی پرانی ٹہنی ہو)۔ ’إِذَا اتَّسَقَ‘ کے معنی ہیں جب کہ وہ پورا ہو جاتا ہے۔ یہاں اشارہ اس کے پورے ہونے کی طرف فرمایا ہے کہ دیکھو کس طرح درجہ بدرجہ اس کو چڑھانی چڑھنی پڑتی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ اس سے سرمو انحراف کر سکے اور اس نقطۂ کمال پر پہنچ کر اس کے اختیار میں یہ نہیں ہے کہ وہیں ٹک جائے بلکہ اسی طرح منزل کے بعد منزل طے کرتے ہوئے اسے اترنا بھی پڑتا ہے اور اس سے بھی اس کو مفر نہیں ہے۔  
    کہ تم کو لازماً چڑھنا ہے درجہ بدرجہ۔
    ’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘۔ یہ ان قسموں کا مقسم علیہ ہے۔ فرمایا کہ جس طرح یہ چیزیں خدا کے قانون میں بندھی ہوئی سب اسی کی طرف رواں دواں ہیں اسی طرح بھی ایک مرحلہ کے بعد دوسرا مرحلہ طے کرتا ہوا کشاں کشاں جاتا خدا ہی کی طرف ہے۔ نہ یہ ممکن ہے کہ اپنی جگہ ہی پر ٹکا رہ جائے اور نہ اس کا امکان ہے کہ کسی اور سمت میں نکل جائے، البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کی اسی سنت کے مطابق، جو اس پوری کائنات میں جاری ہے، درجہ بدرجہ اور مرحلہ بہ مرحلہ ہو گا اس وجہ سے نہ اس کو عجلت کرنی چاہیے اور نہ کسی حقیقت کی اس بنا پر تکذیب کرنی چاہیے کہ وہ اس کی طلب پر اس کو دکھائی نہیں گئی۔
    تو انھیں کیا ہو گیا ہے کہ ایمان نہیں لا رہے ہیں۔
    یہ ان لوگوں کی حالت پر اظہار تعجب ہے کہ اتنے واضح شواہد کے بعد بھی آخر ان کی کیا مت ماری ہوئی ہے کہ یہ آخرت اور جزا و سزا پر ایمان نہیں لا رہے ہیں!
    اور جب انھیں قرآن سنایا جاتا ہے تو سجدے میں نہیں گر پڑتے!
    انسان کی ناسپاسی پر اظہار تعجب: یعنی حق تو یہ تھا کہ جب قرآن ان کو ایسی عظیم حقیقت سے آگاہ کر رہا ہے تو جب وہ ان کو سنایا جاتا تو وہ اس کی عظمت کے اعتراف اور اس کی بیان کردہ حقیقت کی تصدیق کے لیے بطور شکر اپنے رب کے آگے سجدہ میں گر پڑتے، لیکن ان کا رویہ اس کے بالکل برعکس یہ ہے کہ اکڑتے اور اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہاں عرب اور اہل مصر کی یہ روایت پیش نظر رہے کہ جب وہ کسی کی بات کی عظمت اور صداقت کا سچے جوش و جذبہ کے ساتھ اعتراف کرنا چاہتے تو اس کو دیکھتے یا سنتے ہی بے تحاشا سجدے میں گر پڑتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لیے فرعون نے جن ساحروں کو اکٹھا کیا تھا انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صداقت اور ان کے معجزات کی عظمت کا اعتراف اسی طرح کیا۔ مشہور شاعر لبید کے قصیدے کے ایک شعر پر بھی وقت کے مشہور شعرائے عرب نے سجدہ کیا جس کی بنا پر ان کا قصیدہ خانہ کعبہ میں آویزاں کیا گیا اور وہ وقت کے ملک الشعراء قرار پائے۔ ظاہر ہے کہ قرآن اپنی بلاغت و صداقت میں ان چیزوں سے بدرجہا بلند ہے لیکن جو لوگ اس کی قدر و قیمت سے ناآشنا تھے وہ سجدہ کرنے کے بجائے اکڑتے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
    بلکہ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلا رہے ہیں۔
    یہ اس صورت حال کا بیان ہے جو عملاً تھی۔ یعنی سجدہ کرنا تو درکنار، جو قیامت کے منکر ہیں وہ قرآن کی تکذیب کر رہے ہیں کہ یہ محض پیش کرنے والے کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہے جو قیامت کے ڈراوے سنا کر ہمیں مرعوب کرنا چاہتا ہے۔
    اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ جمع کر رہے ہیں۔
    یعنی اس گہر کو پھینک کر جو پشیز اور خزف ریزے یہ لوگ جمع کر نے میں لگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کے نقد عاجل نے ان کو قرآن کی تکذیب پر آمادہ کیا لیکن یہ جو کچھ جمع کر رہے ہیں اس کی اصل حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ اس کی حقیقت سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے۔ جس دن ان کا اندوختہ اپنی اصل صورت میں ان کے سامنے آئے گا تب انھیں پتہ چلے گا کہ انھوں نے کس چیز کو پھینکا اور کس چیز کے انبار جمع کیے! ’بِمَا یُوْعُوْنَ‘ کے اجمال میں ان کی دولت بھی داخل ہے، ان کے اعمال بھی شامل ہیں اور ان کے وہ نتائج اعمال بھی جو لازماً ظہور میں آنے والے ہیں لیکن ان کا حقیقی علم اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ہو گا۔
    تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔
    یعنی اگر یہ محبت دنیا میں پھنس کر، قرآن کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو ان کو اس دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو جس کے تمام اسباب انھوں نے فراہم کر لیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ نجات کی خوش خبری سننے پر آمادہ نہیں ہیں تو عذاب کی خوش خبری تو انھیں سنا ہی دو ۔۔۔ اس عذاب سے صرف وہی محفوظ رہیں گے جو ایمان اور عمل صالح کی وہ راہ اختیار کر لیں گے جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک دائمی اجر ہو گا!
    ہاں، جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے دائمی انعام ہے۔
    یعنی اگر یہ محبت دنیا میں پھنس کر، قرآن کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو ان کو اس دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو جس کے تمام اسباب انھوں نے فراہم کر لیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ نجات کی خوش خبری سننے پر آمادہ نہیں ہیں تو عذاب کی خوش خبری تو انھیں سنا ہی دو ۔۔۔ اس عذاب سے صرف وہی محفوظ رہیں گے جو ایمان اور عمل صالح کی وہ راہ اختیار کر لیں گے جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک دائمی اجر ہو گا!


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List