Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المطففین (The Dealers in Fraud, Defrauding, The Cheats, Cheating)

    36 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الانفطار ۔۔۔ کا تکملہ و تتمہ ہے۔ دونوں کا عمود بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔ سورۂ انفطار کے آخر میں ابرار اور فجار کی جو تقسیم ہے اس سورہ میں اسی کی تفصیل ہے۔ صرف استدلال کی بنیاد دونوں میں الگ الگ ہے۔ سابق سورہ میں استدلال اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے ہے جو خود انسان کی خِلقت کے اندر نمایاں ہیں۔ اس سورہ میں استدلال اس فطرت سے ہے جو فاطر نے انسان کے اندر ودیعت فرمائی ہے۔

    اس استدلال کی تقریر بالاجمال یوں ہے کہ انسان بالطبع عدل اور خیر کو پسند کرنے والا اور ظلم و شر سے نفرت کرنے والا ہے۔ اس کی یہ پسند اور ناپسند اس بات کی شہادت ہے کہ فاطر فطرت عدل اور ظلم یا بالفاظ دیگر عادل اور ظالم میں فرق و امتیاز کرنے والا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ نیک اور بد دونوں اس کے نزدیک یکساں ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ انسان کی فطرت میں نیک اور بد میں یہ امتیاز کیوں رکھتا؟

    رہا یہ سوال کہ انسان جب طبعاً نیکی پسند ہے تو وہ بدی کیوں کر گزرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بدی اس وجہ سے نہیں کرتا کہ یہی اس کو طبعاً مرغوب ہے۔ طبعاً تو اس کو مرغوب نیکی ہی ہے لیکن بسا اوقات نفس کے دوسرے داعیات سے وہ مغلوب ہو کر، اپنی فطرت کے خلاف بدی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ اگر بدی اور نا انصافی اس کو طبعاً مرغوب ہوتی تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ کوئی اس کے ساتھ نا انصافی کرتا تو وہ اس پر بھی راضی رہتا لیکن ہر شخص دیکھتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہی شخص جو دوسروں کے لیے ناپ اور تول میں بے ایمانی کرتا ہے جب دوسرے اس کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں تو وہ چیختا اور فریاد کرتا ہے۔

    قرآن نے اس سورہ میں انسان کی اسی فطرت کو شہادت میں پیش کر کے یہ تذکیر فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود عادل ہے اور اس نے اپنے بندوں کے اندر بھی عدل اور خیر کی محبت ودیعت فرمائی ہے اس وجہ سے لازمی ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں ان لوگوں کو بھرپور انعام دے جو اپنی فطرت کے اس نور کی قدر کریں اور ان لوگوں کو سزا دے جو اس کی بے حرمتی کریں۔

    قیامت کے حق میں یہ طریق استدلال قرآن نے جگہ جگہ اختیار کیا ہے اور ہم برابر اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر سورۂ قیامہ میں ’نفس لوامہ‘ کی قسم اور

    ’بَلِ الْإِنسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ ۵ وَلَوْ أَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ‘ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵)

    (بلکہ انسان خود اپنے اوپر حجت ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے)

    کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔

  • المطففین (The Dealers in Fraud, Defrauding, The Cheats, Cheating)

    36 آیات | مکی
    المطففین - الانشقاق

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں انسان کی فطرت میں خیر و شر کے شعور سے اور دوسری میں آفاق کے آثار و شواہد سے استدلال کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کے بارے میں وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ اُنھیں ہر حال میں اپنے پروردگار کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھنا ہے اور اپنے اعمال کے لحاظ سے لازماً الگ الگ انجام کو پہنچنا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 083 Verse 001 Chapter 083 Verse 002 Chapter 083 Verse 003 Chapter 083 Verse 004 Chapter 083 Verse 005 Chapter 083 Verse 006 Chapter 083 Verse 007 Chapter 083 Verse 008 Chapter 083 Verse 009 Chapter 083 Verse 010 Chapter 083 Verse 011 Chapter 083 Verse 012 Chapter 083 Verse 013 Chapter 083 Verse 014 Chapter 083 Verse 015 Chapter 083 Verse 016 Chapter 083 Verse 017 Chapter 083 Verse 018 Chapter 083 Verse 019 Chapter 083 Verse 020 Chapter 083 Verse 021 Chapter 083 Verse 022 Chapter 083 Verse 023 Chapter 083 Verse 024 Chapter 083 Verse 025 Chapter 083 Verse 026 Chapter 083 Verse 027 Chapter 083 Verse 028 Chapter 083 Verse 029 Chapter 083 Verse 030 Chapter 083 Verse 031 Chapter 083 Verse 032 Chapter 083 Verse 033 Chapter 083 Verse 034 Chapter 083 Verse 035 Chapter 083 Verse 036
    Click translation to show/hide Commentary
    برا ہو، ناپ تول میں کمی کرنے والوں کا!
    ان لوگوں پر لعنت جن کے لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ اور ہیں: یہ جملہ صرف خبریہ نہیں ہے بلکہ اس کے اندر لعنت اور پھٹکار کا مضمون بھی مضمر ہے۔ ’تطفیف‘ کے معنی ناپ تول میں کمی کرنے کے ہیں یعنی جو لوگ ناپ اور تول میں کمی کرنے والے ہیں ان کے لیے تباہی اور ان پر خدا کی مار اور پھٹکار ہے۔
    جو دوسروں سے نپوائیں تو پورا نپوائیں۔
    یہ ان کمی کرنے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہاں مجرد ناپنے اور تولنے میں کمی کرنا زیربحث نہیں ہے بلکہ ایک خاص کردار زیربحث ہے۔ وہ یہ کہ آدمی دوسروں سے اپنے لیے نپواںے اور تولوانے میں تو بڑا چوکس اور حساس ہو، ہرگز نہ چاہے کہ جو چیز اس کے لیے ناپی یا تولی جائے اس میں رتی برابر بھی کمی ہو لیکن وہی شخص جب دوسروں کے لیے ناپے اور تولے تو اس میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کرے۔ یہ کردار اس امر پر شاہد ہے کہ انسان عدل کے تصور اور اس کے واجب ہونے کے شعور سے عاری نہیں ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ الگ الگ نہیں ہونے چاہییں بلکہ ان کا ایک ہونا ضروری ہے۔ نیز وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ جو چیز اسے اپنے لیے پسند نہیں ہے وہ اسے دوسروں کے لیے بھی پسند نہیں کرنی چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی فطرت کے خلاف محض اپنی خود غرضی سے مغلوب ہو کر کرتا ہے اور یہ ایک کھلی ہوئی ناانصافی بھی ہے اور ایک سخت قسم کی دناء ت بھی۔ عدل سے محبت کے باوجود ارتکاب ظلم کی وجہ: اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر فاطر فطرت نے عدل اور ظلم کے درمیان امتیاز کے لیے ایک کسوٹی بھی رکھی ہے اور عدل کے ساتھ محبت اور ظلم سے نفرت بھی ودیعت فرمائی ہے۔ اس کے باوجود وہ ظلم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عدل اور ظلم میں امتیاز سے وہ قاصر ہے یا ظلم کا ظلم ہونا اس پر واضح نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، محض یہ ہے کہ وہ اپنی کسی خواہش یا کسی جذبہ سے مغلوب ہو کر اپنے نفس کے توازن کو قائم نہیں رکھ پاتا۔ ایک چور جو دوسروں کے گھروں میں نقب لگاتا ہے وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے گھر میں نقب لگائے، ایک قاتل جو دوسروں کو قتل کرتا ہے یہ نہیں پسند کرتا کہ کوئی اس کی یا اس کے کسی عزیز و قریب کی جان کے درپے ہو، کوئی زانی جو دوسروں کے عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ کوئی اس کے عزت و ناموس پر حملہ آور ہو۔ بلکہ انہی چوروں، انہی قاتلوں اور انہی زانیوں سے اگر ان کی غیرجانبدارانہ رائے معلوم کرنے کی کوئی شکل ہو تو وہ اس حقیقت کا بھی اعتراف کریں گے کہ چوروں، قاتلوں، زانیوں اور اس قبیل کے دوسرے مجرموں کے لیے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ معاشرے میں جگہ انہی کے لیے ہونی چاہیے جو جان و مال اور ان کے عزت و ناموس کے اسی طرح حفاظت کرنے والے ہوں جس طرح وہ اپنی جان اور اپنی عزت کی حفاظت چاہنے والے ہیں۔ انسان کی فطرت سے ایک روز جزا پر استدلال: انسان کا یہ طرز عمل اور اس کی فطرت کا یہ پہلو اس بات کی بدیہی شہادت ہے کہ نہ وہ نیک اور بد کو یکساں سمجھتا اور نہ اس بات پر راضی ہے کہ دونوں قسم کے لوگوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ کیا جائے بلکہ اس کا غیر جانبدارانہ فیصلہ یہی ہے کہ دونوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ ہونا چاہیے۔ یہ چیز اس بات کو بھی مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا دن لائے جس میں نیکوں اور بدوں کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق معاملہ کرے۔ اگر ایک ایسا دن نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دنیا کے خالق کے نزدیک نیک اور بد دونوں یکساں ہیں درآنحالیکہ یہ چیز اس فطرت کے منافی ہے جو فاطر نے انسان کے اندر ودیعت فرمائی ہے۔ یہاں انسان کی اسی فطرت سے ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر دلیل اور ان منکرین قیامت پر حجت قائم فرمائی ہے جو اپنی فطرت کی اس شہادت سے تو انکار نہیں کر سکتے تھے لیکن قرآن کے انذار قیامت کی تکذیب پر تلے ہوئے تھے۔ ایک ضعیف شان نزول: اس آیت کے تحت مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے کہ انصار میں ناپ تول میں کمی کی خرابی موجود تھی اس وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکن اول تو یہ سورہ مکی ہے، مدنی نہیں ہے؛ پھر انصار میں یہ خرابی رہی بھی ہو گی تو اتنی ہی رہی ہو گی جتنی اہل مکہ میں رہی ہو گی بلکہ اہل مکہ کے اندر اس کے پائے جانے کے زیادہ امکان تھے اس لیے کہ وہ بالعموم تجارت پیشہ تھے جبکہ انصار کا اصل پیشہ زراعت تھا۔ پھر سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آیت ناپ تول میں کمی کرنے کی مذمت کے سیاق میں نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس حقیقت کے بیان میں ہے کہ انسان عدل و ظلم میں امتیاز سے قاصر نہیں ہے۔ وہ برائی کرتا ہے تو اپنی فطرت کی شہادت کے خلاف محض اپنے نفس کی کسی خواہش کی پاس داری میں کرتا ہے۔ انسان کی یہ فطرت لازم کرتی ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں نیکوں اور بدوں کے درمیان کامل امتیاز ہو۔ اگر وہ ایک ایسے دن کے آنے سے انکار کرتا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ جزا و سزا کے مواجہہ سے گریز کرنا چاہتا ہے حالانکہ یہ چیز اس کی اپنی فطرت کا مطالبہ ہے۔
    اور جب ان کے لیے ناپیں یا تولیں تو اس میں کمی کریں۔
    یہ ان کمی کرنے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہاں مجرد ناپنے اور تولنے میں کمی کرنا زیربحث نہیں ہے بلکہ ایک خاص کردار زیربحث ہے۔ وہ یہ کہ آدمی دوسروں سے اپنے لیے نپواںے اور تولوانے میں تو بڑا چوکس اور حساس ہو، ہرگز نہ چاہے کہ جو چیز اس کے لیے ناپی یا تولی جائے اس میں رتی برابر بھی کمی ہو لیکن وہی شخص جب دوسروں کے لیے ناپے اور تولے تو اس میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کرے۔ یہ کردار اس امر پر شاہد ہے کہ انسان عدل کے تصور اور اس کے واجب ہونے کے شعور سے عاری نہیں ہے، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ لینے کے باٹ اور دینے کے باٹ الگ الگ نہیں ہونے چاہییں بلکہ ان کا ایک ہونا ضروری ہے۔ نیز وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ جو چیز اسے اپنے لیے پسند نہیں ہے وہ اسے دوسروں کے لیے بھی پسند نہیں کرنی چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنی فطرت کے خلاف محض اپنی خود غرضی سے مغلوب ہو کر کرتا ہے اور یہ ایک کھلی ہوئی ناانصافی بھی ہے اور ایک سخت قسم کی دناء ت بھی۔ عدل سے محبت کے باوجود ارتکاب ظلم کی وجہ: اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے اندر فاطر فطرت نے عدل اور ظلم کے درمیان امتیاز کے لیے ایک کسوٹی بھی رکھی ہے اور عدل کے ساتھ محبت اور ظلم سے نفرت بھی ودیعت فرمائی ہے۔ اس کے باوجود وہ ظلم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عدل اور ظلم میں امتیاز سے وہ قاصر ہے یا ظلم کا ظلم ہونا اس پر واضح نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، محض یہ ہے کہ وہ اپنی کسی خواہش یا کسی جذبہ سے مغلوب ہو کر اپنے نفس کے توازن کو قائم نہیں رکھ پاتا۔ ایک چور جو دوسروں کے گھروں میں نقب لگاتا ہے وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے گھر میں نقب لگائے، ایک قاتل جو دوسروں کو قتل کرتا ہے یہ نہیں پسند کرتا کہ کوئی اس کی یا اس کے کسی عزیز و قریب کی جان کے درپے ہو، کوئی زانی جو دوسروں کے عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ کوئی اس کے عزت و ناموس پر حملہ آور ہو۔ بلکہ انہی چوروں، انہی قاتلوں اور انہی زانیوں سے اگر ان کی غیرجانبدارانہ رائے معلوم کرنے کی کوئی شکل ہو تو وہ اس حقیقت کا بھی اعتراف کریں گے کہ چوروں، قاتلوں، زانیوں اور اس قبیل کے دوسرے مجرموں کے لیے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ معاشرے میں جگہ انہی کے لیے ہونی چاہیے جو جان و مال اور ان کے عزت و ناموس کے اسی طرح حفاظت کرنے والے ہوں جس طرح وہ اپنی جان اور اپنی عزت کی حفاظت چاہنے والے ہیں۔ انسان کی فطرت سے ایک روز جزا پر استدلال: انسان کا یہ طرز عمل اور اس کی فطرت کا یہ پہلو اس بات کی بدیہی شہادت ہے کہ نہ وہ نیک اور بد کو یکساں سمجھتا اور نہ اس بات پر راضی ہے کہ دونوں قسم کے لوگوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ کیا جائے بلکہ اس کا غیر جانبدارانہ فیصلہ یہی ہے کہ دونوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ ہونا چاہیے۔ یہ چیز اس بات کو بھی مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا دن لائے جس میں نیکوں اور بدوں کے ساتھ ان کے اعمال کے مطابق معاملہ کرے۔ اگر ایک ایسا دن نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دنیا کے خالق کے نزدیک نیک اور بد دونوں یکساں ہیں درآنحالیکہ یہ چیز اس فطرت کے منافی ہے جو فاطر نے انسان کے اندر ودیعت فرمائی ہے۔ یہاں انسان کی اسی فطرت سے ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر دلیل اور ان منکرین قیامت پر حجت قائم فرمائی ہے جو اپنی فطرت کی اس شہادت سے تو انکار نہیں کر سکتے تھے لیکن قرآن کے انذار قیامت کی تکذیب پر تلے ہوئے تھے۔ ایک ضعیف شان نزول: اس آیت کے تحت مفسرین نے ایک روایت نقل کی ہے کہ انصار میں ناپ تول میں کمی کی خرابی موجود تھی اس وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکن اول تو یہ سورہ مکی ہے، مدنی نہیں ہے؛ پھر انصار میں یہ خرابی رہی بھی ہو گی تو اتنی ہی رہی ہو گی جتنی اہل مکہ میں رہی ہو گی بلکہ اہل مکہ کے اندر اس کے پائے جانے کے زیادہ امکان تھے اس لیے کہ وہ بالعموم تجارت پیشہ تھے جبکہ انصار کا اصل پیشہ زراعت تھا۔ پھر سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ آیت ناپ تول میں کمی کرنے کی مذمت کے سیاق میں نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اس حقیقت کے بیان میں ہے کہ انسان عدل و ظلم میں امتیاز سے قاصر نہیں ہے۔ وہ برائی کرتا ہے تو اپنی فطرت کی شہادت کے خلاف محض اپنے نفس کی کسی خواہش کی پاس داری میں کرتا ہے۔ انسان کی یہ فطرت لازم کرتی ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں نیکوں اور بدوں کے درمیان کامل امتیاز ہو۔ اگر وہ ایک ایسے دن کے آنے سے انکار کرتا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ جزا و سزا کے مواجہہ سے گریز کرنا چاہتا ہے حالانکہ یہ چیز اس کی اپنی فطرت کا مطالبہ ہے۔
    کیا یہ لوگ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک دن وہ اٹھائے جانے والے ہیں۔
    ان لوگوں کو ملامت جو اپنی فطرت کی شہادت سے کان بند کیے ہوئے ہیں: یہ اس طرح کے لوگوں کے حال پر اظہار تعجب بھی ہے اور ان کو سرزنش بھی کہ کیا یہ لوگ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک ایسا عظیم دن آنے والا ہے جس میں لوگ اپنے رب کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھائے جائیں گے؟ یعنی ایک ایسے دن کے ظہور کا اندیشہ ہر شخص کے دل کے اندر ہونا چاہیے اس لیے کہ اس کی شہادت ہر شخص کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ اگر کسی کا دل اس اندیشہ سے خالی ہے تو وہ خود اپنی فطرت کی آواز سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہے حالانکہ وہ دن کوئی معمولی دن نہیں ہو گا بلکہ ایک نہایت ہی عظیم دن ہو گا۔ اس دن لوگ اس لیے اٹھیں گے کہ خداوند کائنات کے سامنے پیش ہوں۔ اور ان سے پرسش ہو کہ انھوں نے کیا بنایا اور کیا بگاڑا، پھر اپنے اعمال کے مطابق وہ جزا یا سزا پائیں۔
    ایک عظیم دن کی حاضری کے لیے۔
    ان لوگوں کو ملامت جو اپنی فطرت کی شہادت سے کان بند کیے ہوئے ہیں: یہ اس طرح کے لوگوں کے حال پر اظہار تعجب بھی ہے اور ان کو سرزنش بھی کہ کیا یہ لوگ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک ایسا عظیم دن آنے والا ہے جس میں لوگ اپنے رب کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھائے جائیں گے؟ یعنی ایک ایسے دن کے ظہور کا اندیشہ ہر شخص کے دل کے اندر ہونا چاہیے اس لیے کہ اس کی شہادت ہر شخص کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ اگر کسی کا دل اس اندیشہ سے خالی ہے تو وہ خود اپنی فطرت کی آواز سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہے حالانکہ وہ دن کوئی معمولی دن نہیں ہو گا بلکہ ایک نہایت ہی عظیم دن ہو گا۔ اس دن لوگ اس لیے اٹھیں گے کہ خداوند کائنات کے سامنے پیش ہوں۔ اور ان سے پرسش ہو کہ انھوں نے کیا بنایا اور کیا بگاڑا، پھر اپنے اعمال کے مطابق وہ جزا یا سزا پائیں۔
    جس دن لوگ اٹھیں گے خداوند عالم کے حضور پیشی کے لیے۔
    ان لوگوں کو ملامت جو اپنی فطرت کی شہادت سے کان بند کیے ہوئے ہیں: یہ اس طرح کے لوگوں کے حال پر اظہار تعجب بھی ہے اور ان کو سرزنش بھی کہ کیا یہ لوگ یہ گمان نہیں رکھتے کہ ایک ایسا عظیم دن آنے والا ہے جس میں لوگ اپنے رب کے حضور میں پیشی کے لیے اٹھائے جائیں گے؟ یعنی ایک ایسے دن کے ظہور کا اندیشہ ہر شخص کے دل کے اندر ہونا چاہیے اس لیے کہ اس کی شہادت ہر شخص کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ اگر کسی کا دل اس اندیشہ سے خالی ہے تو وہ خود اپنی فطرت کی آواز سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہے حالانکہ وہ دن کوئی معمولی دن نہیں ہو گا بلکہ ایک نہایت ہی عظیم دن ہو گا۔ اس دن لوگ اس لیے اٹھیں گے کہ خداوند کائنات کے سامنے پیش ہوں۔ اور ان سے پرسش ہو کہ انھوں نے کیا بنایا اور کیا بگاڑا، پھر اپنے اعمال کے مطابق وہ جزا یا سزا پائیں۔ ’رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ کے اندر اس دن کی عظمت، ضرورت اور اس کے فیصلوں کے ناطق ہونے کی جو دلیلیں مضمر ہیں ان کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہو چکی ہے۔ ان کو ذہن میں تازہ کر لیجیے تب ان کا اصلی زور سمجھ میں آئے گا۔
    ہرگز نہیں، فاجروں کے اعمال نامے سجّین میں ہوں گے۔
    مخاطبوں کے زعم کی تردید: ’کَلَّا‘ مخاطبوں کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے بطور زجر آیا ہے جس کا اشارہ اوپر والی آیت میں موجود ہے۔ یعنی وہ اس فکر سے بالکل نچنت ہیں کہ ان کے سامنے حساب کتاب اور جزا و سزا کا کوئی مرحلہ آنے والا ہے جس میں نیکوں اور بدوں کے درمیان اللہ تعالیٰ فرق کرے گا بلکہ وہ یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اول تو کوئی دن آنا نہیں ہے اور آیا بھی تو وہ اپنی خاندانی وجاہت اور اپنے دیوتاؤں کی بدولت وہاں بھی اس سے زیادہ عیش لوٹیں گے جو عیش یہاں لوٹ رہے ہیں۔ ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہرگز نہیں، اس قسم کے طفلانہ خیالات میں اپنی عاقبت برباد نہ کرو۔ اس دن ابرار اور فجار میں مشرق و مغرب کی دوری ہو گی۔ ’فُجَّار‘ کے اعمال نامے ’سجین‘ میں ہوں گے اور ابرار کا ذکر آگے آ رہا ہے کہ ان کے اعمال نامے ’عِلّییّن‘ میں ہوں گے۔
    اور تم کیا جانو کہ سجّین کیا ہے!
    ’سِجِّیْنٌ‘ کی تحقیق: لفظ ’سِجِّیْنٌ‘ اوپر والی آیت میں لغوی مفہوم میں نہیں بلکہ بطور ایک نام کے آیا ہے اس وجہ سے قرآن نے خود ہی اس کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔ اس طرح کے نام قرآن میں متعدد آئے ہیں اور ہر جگہ ان کی وضاحت بھی فرما دی گئی ہے۔ سورۂ دہر میں ان کی بعض مثالیں گزر چکی ہیں۔ آگے اس سورہ میں بھی ’عِلِّیُّوْنَ‘ اور ’تَسْنِیْمٌ‘ کے الفاظ اسی نوعیت سے آئے ہیں۔ اس قسم کے الفاظ میں اصل اہمیت ان کے لغوی مفہوم کی نہیں بلکہ ان کے اصطلاحی مفہوم یا ان کے تسمیہ کی ہوتی ہے۔ ’وَمَا أَدْرَاکَ مَا سِجِّیْنٌ‘۔ یہ اسلوب بیان ’سِجِّیْنٌ‘ کے ہول کو ظاہر کرنے کے لیے اختیار فرمایا گیا ہے کہ تم کیا سمجھے کہ ’سِجِّیْنٌ‘ کیا ہے! اس کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھو! وہ تباہ ہوا جس کا نام یا جس کے اعمال اس میں درج ہوئے! ’کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ‘۔ وہ لکھا ہوا دفتر ہے۔ یعنی اس میں تمام مجرمین کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر محفوظ کیا جاتا ہے۔ ’بشکل تحریر‘ کی قید سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ نہ اس میں کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان ہے اور نہ اس کے حجت ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش۔ معلوم ہوا کہ ’سِجِّیْنٌ‘ اس دفتر کا نام ہے جس میں مجرموں کے اعمال کا سارا ریکارڈ تحریری صورت میں محفوظ کیا جا رہا ہے اور جس کی بنیاد پر قیامت کے دن فیصلہ ہو گا کہ کون دوزخ کے کس درجے میں داخل کیے جانے کا سزاوار ہے۔ ’سِجِّیْنٌ‘ کا مادہ ’سجن‘ ہے جس کے معنی قید یا قید خانہ کے ہیں۔ اس مناسبت سے مستحقین سزا کے ریکارڈ آفس کا نام ’سِجِّیْنٌ‘ رکھا گیا ہے۔
    لکھا ہوا دفتر!
    ’کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ‘۔ وہ لکھا ہوا دفتر ہے۔ یعنی اس میں تمام مجرمین کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر محفوظ کیا جاتا ہے۔ ’بشکل تحریر‘ کی قید سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ نہ اس میں کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان ہے اور نہ اس کے حجت ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش۔ معلوم ہوا کہ ’سِجِّیْنٌ‘ اس دفتر کا نام ہے جس میں مجرموں کے اعمال کا سارا ریکارڈ تحریری صورت میں محفوظ کیا جا رہا ہے اور جس کی بنیاد پر قیامت کے دن فیصلہ ہو گا کہ کون دوزخ کے کس درجے میں داخل کیے جانے کا سزاوار ہے۔ ’سِجِّیْنٌ‘ کا مادہ ’سجن‘ ہے جس کے معنی قید یا قید خانہ کے ہیں۔ اس مناسبت سے مستحقین سزا کے ریکارڈ آفس کا نام ’سِجِّیْنٌ‘ رکھا گیا ہے۔
    اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کی!
    یعنی اس گمان میں نہ رہو کہ جس طرح آج چھوٹے پھر رہے ہو اسی طرح برابر چھوٹے ہی پھرو گے، بلکہ جب وہ جزا و سزا کا دن ظہور میں آئے گا تو ان لوگوں کی شامت آ جائے گی جو اس کو جھٹلاتے رہے ہیں۔ اس دن وہ دیکھ لیں گے کہ ان کا کوئی قول و عمل نہ ریکارڈ ہونے سے رہ گیا ہے اور نہ اب اس کے وبال سے بچنے بچانے کی کوئی صورت ہی باقی رہی۔ مجرم اس کو دیکھ کر پکار اٹھیں گے: مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَلَا کَبِیْرَۃً إِلَّا أَحْصَاہَا (الکہف ۱۸: ۴۹) ’’عجیب ہے یہ کتاب کہ اس نے نہ کوئی چھوٹی بات لکھنے سے چھوڑی ہے نہ کوئی بڑی بات!‘‘  
    جو روز جزا کو جھٹلا رہے ہیں۔
    یعنی اس گمان میں نہ رہو کہ جس طرح آج چھوٹے پھر رہے ہو اسی طرح برابر چھوٹے ہی پھرو گے، بلکہ جب وہ جزا و سزا کا دن ظہور میں آئے گا تو ان لوگوں کی شامت آ جائے گی جو اس کو جھٹلاتے رہے ہیں۔ اس دن وہ دیکھ لیں گے کہ ان کا کوئی قول و عمل نہ ریکارڈ ہونے سے رہ گیا ہے اور نہ اب اس کے وبال سے بچنے بچانے کی کوئی صورت ہی باقی رہی۔ مجرم اس کو دیکھ کر پکار اٹھیں گے: مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَلَا کَبِیْرَۃً إِلَّا أَحْصَاہَا (الکہف ۱۸: ۴۹) ’’عجیب ہے یہ کتاب کہ اس نے نہ کوئی چھوٹی بات لکھنے سے چھوڑی ہے نہ کوئی بڑی بات!‘‘  
    اس کو تو وہی جھٹلاتے ہیں جو تعدی اور حق تلفی کرنے والے ہوتے ہیں۔
    ان لوگوں کی نشان دہی جو تکذیب جزا میں پیش پیش ہیں: اب یہ ان لوگوں کا سراغ دے دیا جو جزا و سزا کے دن کو جھٹلانے میں پیش پیش ہیں۔ فرمایا کہ اس کی تکذیب وہی لوگ کر رہے ہیں جو حدود سے تجاوز کرنے اور حق تلفی کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی تکذیب کرنے کی جرأت کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا جس کے اندر عدل اور رحم کی ادنیٰ رمق بھی ہو۔ اس کی شہادت ہر انسان کی فطرت کے اندر موجود ہے اس وجہ سے کسی خارجی دلیل کی اس کے لیے کوئی حاجت نہیں۔ ہر شخص اس کو اپنے دل کے آئینہ میں دیکھ سکتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو یہ چیز نظر نہیں آتی جن کے دلوں پر تعدی اور حق تلفی کا رنگ چڑھ چکا ہو۔ ’عدوان‘ اور ’اثم‘ کی حقیقت پر ہم اس کے محل میں گفتگو کر چکے ہیں۔ ’عدوان‘ اور ’اعتداء‘ یہ ہے کہ کوئی دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرے اور ’اثم‘ یہ ہے کہ دوسروں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں ان کو دبا بیٹھے۔ دوسروں کے حقوق غصب کرنے یا دبا بیٹھنے کی جن کو چاٹ لگ جاتی ہے وہ جزا و سزا سے فرار کے لیے کوئی نہ کوئی راہ نکالنے کی ضرور کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کا ضمیر ان کی تعدیوں اور حق تلفیوں سے کوئی خلش نہ محسوس کرے۔ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ کسی حقیقت سے فرار انسان محض اس وجہ سے نہیں اختیار کرتا کہ اس کے حق میں اس کو کوئی دلیل نہیں ملی بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کو تسلیم کرنے سے اس کی خواہشوں اور عادتوں پر زد پڑتی ہے۔ جب ایک بات وہ ماننا نہیں چاہتا تو اپنے لیے کچھ عذرات تراشنے کی کوشش کرتا ہے اگرچہ وہ کتنے ہی لنگ ہوں۔ سورۂ قیامہ میں اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہِ بَصِیْرَۃٌ (14) وَلَوْ أَلْقَی مَعَاذِیْرَہُ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵) ’’بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے۔‘‘  
    جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔
    یہ اس طرح کے مکذبین کے طریقۂ تکذیب کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ لوگ ایک واضح حقیقت کی تکذیب اپنے ضمیر کے بالکل خلاف کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی جگہ محض اپنی ہٹ دھرمی اور مکابرت کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا کہ جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں: چلو ہٹو، سن لیا، اس میں ہے کیا، یہ تو محض اگلوں کے فسانے ہیں! ’اٰیٰتٌ‘ سے مراد وہ دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قیامت اور جزا و سزا کے حق میں ان کو قرآن کے ذریعہ سے سنائی گئیں۔ ان دلیلوں کا بیان پچھلی سورتوں میں بھی ہوا ہے اور آگے کی سورتوں میں بھی آ رہا ہے۔ ساتھ ہی ان میں ان قوموں کی تاریخ کا بھی حوالہ ہے جو انذار قیامت کی تکذیب کے نتیجہ میں تباہ ہوئیں۔ ان چیزوں کو سن کر وہ بس ایک ہی فقرے میں ان کی تکذیب کر دیتے کہ یہ سب اگلوں کے فسانے اور پچھلوں کے قصے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو لائق اعتناء ہو۔
    ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔
    تکذیب کی اصل علت: یہ قرآن نے اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان بددماغوں کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ یہ اگلوں کے فسانے ہیں۔ یہ ہیں تو حقائق جن کے حق میں آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے ناقابل انکار دلائل موجود ہیں لیکن ان کے اعمال کا زنگ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے کہ اب حق کی کوئی کرن ان کے اندر نفوذ ہی نہیں کرتی۔ ’مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘ سے ان کے اسی طرح کے اعمال کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اوپر عدوان اور اثم کے تحت ہم کر چکے ہیں اور جن کے متعلق قرآن کی شہادت یہ ہے کہ جو ان کے مرتکب ہوتے ہیں وہ جزا و سزا کی تکذیب کا کوئی بہانہ ضرور ڈھونڈھتے ہیں۔ ’بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ‘ میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت کے اندر جو دلائل ودیعت فرمائے ہیں اور عقل و دل کے اندر سوچنے سمجھنے کی جو صلاحیت بخشی ہے یہ چیزیں کام اسی صورت میں آتی ہیں جب انسان ان کی قدر کرے اور ان سے فائدہ اٹھائے۔ اگر ان سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ ان کے مقابل میں نفس کی خواہشوں ہی کو اپنا رہنما بنا لے اور ان اعلیٰ صلاحیتوں کو ٹھکرا دے تو آہستہ آہستہ آدمی کی بدعملیوں کا زنگ ان پر چڑھنا شروع ہوتا ہے اور بالتدریج اس طرح ان کا احاطہ کر لیتا ہے کہ ان کے اندر کسی صحیح چیز کے داخل ہونے کی کوئی گنجائش سرے سے باقی ہی نہیں رہ جاتی۔
    ہرگز نہیں بلکہ اس دن وہ اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔
    یعنی یہ لوگ اپنے دلوں میں یہ ارمان لیے جو بیٹھے ہیں کہ آخرت ہوئی تو جس طرح دنیا میں ان کو عزت وشرف حاصل ہے اسی طرح وہاں بھی ان کو اعلیٰ مدارج حاصل ہوں گے، ان کے یہ ارمان پورے ہونے والے نہیں ہیں بلکہ اپنے عقل و دل کے دیدے انہوں نے جو پھوڑ لیے ہیں اس کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ وہ اپنے رب سے اس دن اوٹ میں ہوں گے۔ اوٹ میں ہونے سے یہ مراد ہے کہ یہ اس کے قرب، اس کی نظر عنایت، اس کے افضال وعنایات اور اس کے انوار و تجلیات کے مشاہدے سے بالکل محروم رہیں گے۔ ان کو اتنا موقع بھی نہیں ملے گا کہ اپنے رب سے کچھ عرض معروض ہی کر لیں۔
    پھر وہ جہنم میں پڑنے والے بنیں گے۔
    پھر وہ جہنم میں پڑیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کو تم جھٹلاتے رہے تھے۔ ’ثُمَّ‘ کی تکرار سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ بات ان سے خاص اہتمام کے ساتھ کہی جائے گی اور مقصود اس سے ان کی تفضیح ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی میں جس چیز کی پورے شد و مد سے مخالفت کی اب اس کو دیکھ لو اور اس کا مزا چکھو!
    تب کہا جائے گا، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔
    پھر وہ جہنم میں پڑیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کو تم جھٹلاتے رہے تھے۔ ’ثُمَّ‘ کی تکرار سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ بات ان سے خاص اہتمام کے ساتھ کہی جائے گی اور مقصود اس سے ان کی تفضیح ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی میں جس چیز کی پورے شد و مد سے مخالفت کی اب اس کو دیکھ لو اور اس کا مزا چکھو!
    ہرگز نہیں، بے شک اچھوں کے اعمال نامے عِلّییّن میں ہوں گے۔
    ’عِلِّیُّوْنَ‘ کی تحقیق: ’کَلَّا‘ یہاں بھی اسی طرح مکذبین قیامت کے زعم باطل کی تردید کے لیے ہے جس طرح آیت ۷ میں ہے۔ یعنی نیک و بد ہرگز یکساں نہیں ہوں گے بلکہ بدکاروں کے لیے جس طرح الگ رجسٹر اور الگ دفتر ہو گا اسی طرح نیکو کاروں اور وفاداروں کے لیے الگ رجسٹر اور الگ دفتر ہو گا۔ان کے اعمال نامے ’عِلِّیِّیْنَ‘ میں ہوں گے۔
    اور تم کیا سمجھے کہ عِلّییّن کیا ہے!
    جس طرح اوپر اسی اسلوب بیان میں ’سِجِّیْنٌ‘ کا ذکر اس کے ہول کے اظہار کے لیے ہوا ہے اسی طرح یہاں اسی اسلوب میں ’عِلِّیُّوْنَ‘ کا ذکر اس کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے ہوا ہے۔ یعنی اس کی عظمت و شان کا بھلا اس دنیا میں کوئی کیا اندازہ کر سکتا ہے! وہ عالی مقاموں کا دفتر ہے جس میں ان کے کارنامے درج ہوں گے۔
    لکھا ہوا دفتر۔
    لفظ ’عِلِّیُّوْنَ‘ چونکہ اپنے خاص لغوی مفہوم سے الگ ایک خاص اصطلاحی مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس وجہ سے اس کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ یہ ایک دفتر ہے جس کی ہر چیز ضبط تحریر میں آئی ہوئی ہے اور جس کی نگرانی بھی اللہ تعالیٰ کے خاص مقرب فرشتے کرتے ہیں۔
    مقربوں کی نگرانی میں۔
    ’یَشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ‘ کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دفتر چونکہ مقربین کے ریکارڈ کے لیے خاص ہو گا اس وجہ سے اس میں انہی کی آمد وشد ہو گی، دوسروں کی یہاں رسائی نہ ہو گی۔ آگے آیت ۲۸ میں مقربین کا ذکر ہے۔
    بے شک نیک بندے عیش میں ہوں گے۔
    ابرار کا انعام: یہ ان نعمتوں کا ذکر آ رہا ہے جو ابرار کو حاصل ہوں گی۔ ’فِیْ نَعِیْمٍ‘ کے اسلوب بیان کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں کہ اس انذار میں جب بات کہی جاتی ہے تو مقصود یہ ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ وہ ہر جانب سے نعمتوں میں گھرے ہوں گے، ان کی نگاہیں جدھر اٹھیں گی، نعمت ہی نعمت ان کو نظر آئے گی۔
    تختوں پر بیٹھے سیر دیکھتے۔
    ’عَلَی الْأَرَائِکِ یَنۡظُرُوْنَ‘۔ اوپر فجار سے متعلق تو فرمایا ہے: ’کَلَّا إِنَّہُمْ عَنۡ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوۡبُوْنَ‘ (۱۵) اس کے بالکل برعکس ابرار کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنے تختوں پر بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ کے افضال و عنایات اور اس کی شانیں اور جلوے دیکھ رہے ہوں گے۔ آگے یہ وضاحت بھی ہوئی ہے کہ تختوں پر بیٹھے بیٹھے ہی ان کو دشمنوں کا انجام بھی دکھایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ کیوں، کافروں کو ان کے کیے کا بدلہ مل گیا نا! ’عَلَی الْأَرَائِکِ یَنۡظُرُوۡنَ ۵ ہَلْ ثُوِّبَ الْکُفَّارُ مَا کَانُوۡا یَفْعَلُوۡنَ‘ (۳۶-۳۵)
    ان کے چہروں پر آسائش کی بشاشت جھلک رہی ہو گی۔
    ’نَضْرَۃٌ‘ اس تازگی و بشاشت کو کہتے ہیں جو نعمتوں میں گھرے ہوئے لوگوں کے چہروں پر جھلکتی ہے۔ فرمایا کہ جو بھی دیکھے گا ان کے چہروں پر نعمت کی تازگی اور بشاشت پائے گا۔
    سر بہ مہر شراب خالص ان کو پینے کو ملے گی۔
    ان نعمتوں میں سے یہ ایک نعمت کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ ان کو شراب خالص کے جام پلائے جائیں گے۔ یہ شراب سر بہ مہر ہو گی جو اول اول انہی کے لیے کھولی جائے گی اور یہ مہر مشک کی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ یہ چند صفات محض اس کا ایک اجمالی تصور دینے کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ رہیں اس کی اصل صفات و کیفیات تو ان کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو گا جو اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ البتہ یہ فرما دیا کہ چاہنے کی چیز ہے تو یہ ہے جس کے لیے حوصلہ کرنے والوں کو حوصلہ کرنا چاہیے! یہ اہل ایمان کے لیے تشویق و ترغیب بھی ہے اور اس میں ان سگان دنیا پر طنز بھی ہے جو حیات چند روزہ کی حقیر و فانی لذتوں کے حصول کی جدوجہد میں اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں اور چاہنے کی جو چیزیں ہیں ان کا چاہنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔
    جس پر مشک کی مہر ہو گی۔ یہ چیز ہے جس کی طلب میں طالبوں کو سرگرم ہونا چاہیے!
    ان نعمتوں میں سے یہ ایک نعمت کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ ان کو شراب خالص کے جام پلائے جائیں گے۔ یہ شراب سر بہ مہر ہو گی جو اول اول انہی کے لیے کھولی جائے گی اور یہ مہر مشک کی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ یہ چند صفات محض اس کا ایک اجمالی تصور دینے کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ رہیں اس کی اصل صفات و کیفیات تو ان کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو گا جو اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ البتہ یہ فرما دیا کہ چاہنے کی چیز ہے تو یہ ہے جس کے لیے حوصلہ کرنے والوں کو حوصلہ کرنا چاہیے! یہ اہل ایمان کے لیے تشویق و ترغیب بھی ہے اور اس میں ان سگان دنیا پر طنز بھی ہے جو حیات چند روزہ کی حقیر و فانی لذتوں کے حصول کی جدوجہد میں اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں اور چاہنے کی جو چیزیں ہیں ان کا چاہنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔
    اور اس میں تسنیم کی ملونی ہو گی۔
    ’مِزَاجٌ‘ سے مراد وہ ملونی ہے جو پینے والے پیتے وقت شراب میں اس کے کیف میں اضافہ یااس کے اندر اعتدال پیدا کرنے کے لیے ملا لیتے ہیں۔ فرمایا کہ اس شراب میں ملونی تسنیم کی ہو گی۔ پھر تسنیم کی وضاحت فرما دی کہ یہ ایک چشمہ ہے جس کے کنارے بیٹھ کر مقربین اس شراب سے لطف اندوز ہوں گے۔
    ایک خاص چشمہ جس پر مقربین بیٹھ کر پئیں گے۔
    ’عَیْنًا‘ کا نصب علیٰ سبیل الاختصاص ہے اور ’بِہَا‘ میں ’ب‘ میرے نزدیک ظرفیہ ہے۔ اس کی وضاحت ’عَیْنًا یَشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللہِ یُفَجِّرُوۡنَہَا تَفْجِیْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۶) کے تحت کر چکا ہوں۔ مے نوشی کے لوازم میں سے ایک چیز اس کا لب جو ہونا بھی ہے۔ اس دنیا میں اس خانہ خراب کے رسیا تو جہاں پائیں اور جس طرح بھی پائیں پی لیتے ہیں، یہاں تک کہ پیالہ نہیں ملتا تو چُلو ہی سے پی لیتے ہیں، لیکن یہ مقربین کی بزم مے نوشی ہے اس وجہ سے اس کے آداب اور ہیں۔ ہمارے مفسرین اور مترجمین پر اس ’ب‘ کی نوعیت واضح نہیں ہوئی ہے اس وجہ سے وہ یا تو اس سے کترا گئے ہیں یا اس کی غلط توجیہہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ مترجمین نے عام طور پر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ’اس سے پیتے ہیں‘۔ لیکن یہ ترجمہ بالکل بے معنی ہے۔ اس کا مطلب اگر یہ سمجھا جائے کہ اس چشمہ میں سے پیتے ہیں تو یہ بات ’مِزَاجُہٗ مِنۡ تَسْنِیْمٍ‘ سے پوری ہو گئی اور نہایت واضح طور پر پوری ہو گئی پھر اس بات کو ایک بالکل مبہم انداز سے دہرانے کا فائدہ! یہ بات واضح رہے کہ ظرفیت کے لیے ’ب‘ کا استعمال اعلیٰ عربی میں معروف ہے، بالخصوص اس طرح کے مواقع میں تو ظرفیت کے سوا اور کوئی معنی لینے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔
    جو مجرم رہے ہیں وہ ان لوگوں کے حال پر ہنستے رہے ہیں جو ایمان والے تھے۔
    نتائج اعمال کے ظہور کے بعد انقلاب حال: یہ اس انقلاب حال کی تصویر ہے جو نیکوں اور بدوں کے درمیان اس وقت نمایاں ہو گا جب دونوں کے نتائج اعمال سامنے آ جائیں گے۔ پہلے اس صورت حال کی تصویر کھینچی ہے جس سے اہل ایمان بالخصوص غریب مسلمان مغرور دولت مندوں کے ہاتھوں اس دنیا کی زندگی میں دوچار رہے۔ فرمایا کہ یہ مجرمین جہاں ان کو پاتے اپنی فقرہ بازیوں اور پھبتیوں کا ہدف بنا لیتے۔
    اور جب ان کے پاس سے گزرتے تو کَن انکھیوں سے اشارے کرتے۔
    اور جب کبھی پاس سے گزرتے تو کَن انکھیوں سے اشارہ کرتے۔ ’مَرُّوۡا بِہِمْ‘ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا کہ جب کبھی مسلمان ان کے پاس سے گزرتے اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جب کبھی ان فراعنہ کا گزر مسلمانوں کی طرف ہوتا تو کَن انکھیوں کے اشاروں سے ان کے دلوں پر چرکے لگاتے۔ یہ امر واضح رہے کہ آنکھ کے اشاروں کے گھاؤ تیر اور تلوار کے گھاؤ سے بھی گہرے ہوتے ہیں اور تذلیل و تحقیر کا تو یہ خاص ہتھیار ہے۔ ان شاء اللہ سورۂ ہمزہ کی تفسیر میں اس کے بعض خاص پہلو زیربحث آئیں گے۔
    اور اپنے لوگوں میں لوٹتے تو مگن ہو کر لوٹتے۔
    یعنی اہل ایمان کے ساتھ یہ بدتمیزیاں کر کے جب اپنے گھر والوں میں لوٹتے تو بہت مگن لوٹتے گویا کوئی بڑا میدان جیت کر لوٹے ہیں۔ یہ اشارہ ان کے سفلہ پن کی طرف ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کو اپنی ان حرکتوں پر کچھ ندامت ہو وہ ان کا ذکر بڑے فخر سے اپنے گھر والوں میں کرتے کہ انھوں نے فلاں کے اس طرح لتے لیے اور فلاں کو یوں لتاڑا۔ سورۂ قیامہ میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے: ’وَلٰکِنۡ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی ۵ ثُمَّ ذَہَبَ إِلٰی أَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی‘ (القیامہ ۷۵: ۳۲-۳۳) یہاں وہ بات یاد رکھیے جو قرآن میں اہل ایمان کے کردار سے متعلق مذکور ہوئی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اہل اور متعلقین کے اندر ایک محتاط آدمی کی طرح زندگی گزارتے ہیں کہ ان کے کسی رویہ سے ان کو کوئی غلط سبق نہ ملے جو قیامت کے دن اُن کے لیے تباہی اور اِن کے لیے رسوائی کا باعث ہو۔ اس کے برعکس ان اشرار کا یہ کردار بیان ہوا ہے کہ یہ باہر اہل ایمان کے ساتھ جو گنڈہ گردی کر کے لوٹتے ہیں اس کی داستان فخر کے ساتھ گھر والوں کو بھی سناتے ہیں تاکہ ان کی پوری نسل گنڈوں کی نسل بن جائے۔
    اور جب ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ بالکل گمراہ ہیں۔
    اور ان کی یہ کوشش بھی ہوتی کہ ان اہل ایمان سے متعلق کسی کے اندر کسی نوعیت کا کوئی حسن ظن نہ پیدا ہونے پائے۔ چنانچہ جب بھی وہ ان کو دیکھتے ان کے بارے میں لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ یہ پکے گمراہ ہیں اس لیے کہ یہ دین آبائی کے دشمن ہیں اور اپنے سوا سب کو جہنم کا ایندھن سمجھتے ہیں۔ یہ امر یہاں پیش نظر رہے کہ مسلمانوں کے ذکر و فکر آخرت کو دیکھ کر بہت سے لوگوں کے ذہن متاثر ہونے لگے تو قریش کے لیڈروں نے ان کا یہ توڑ نکالا کہ ان کو گمراہ اور بے دین ثابت کرنا شروع کیا۔ اس کے لیے جو دلیلیں انھوں نے ایجاد کیں ان کی تفصیلات اپنے محل میں گزر چکی ہیں۔
    یہ ان پر کوئی نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں!
    عام طور پر تو لوگوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ یہ کفار ان مسلمانوں پر کوئی نگران اور اتالیق تو نہیں مقرر کیے گئے تھے کہ ان کو ضال و مضل ٹھہرائیں اور ان کے اعمال و عقائد پر نکیر کریں، لیکن میرے نزدیک یہ کفار ہی کے قول کا ایک حصہ نقل ہوا ہے۔ یعنی پوری بات یوں ہے کہ جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ پکے گمراہ ہیں، یہ ہمارے اعمال و عقائد کو کفر و شرک قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ ہمارے اوپر داروغہ مقرر کر کے نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہماری ہر چیز پر اعتراض اٹھائیں اور ہماری اصلاح کے مدعی بن کر کھڑے ہوں۔
    پس آج ایمان والے کفار کے حال پر ہنسیں گے۔
    کفار کے رویہ کی تفصیل کے بعد اب یہ اس انقلاب حال کا ذکر ہے جو قیامت کے دن واقع ہو گا۔ فرمایا کہ اب تک تو کفار مسلمانوں کے حال پر ہنستے رہے لیکن اب اہل ایمان کفار کے حال پر ہنسیں گے۔ اہل ایمان کا یہ ہنسنا بالکل جائز ہو گا۔ جب انھوں نے کفار پر حجت تمام کر دی اور انھوں نے کوئی اصلاح قبول کرنے کے بجائے الٹے انہی کو مجرم ٹھہرایا تو وہ اسی کے سزاوار ہوں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو کوئی ہمدردی نہ ہو۔
    تختوں پر بیٹھے، سیر دیکھتے۔
    یعنی وہ جس طرح اپنے تختوں پر بیٹھے بیٹھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے جلوے دیکھتے ہوں گے اسی طرح اپنے تختوں پر بیٹھے ہی بیٹھے جب چاہیں گے جھانک کے دوزخ میں کفار کے حال بھی دیکھ لیں گے بلکہ ان سے سوال و جواب بھی کر لیں گے، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے۔
    کیوں پایا نا کفار نے اپنے کیے کا بدلہ!!
    یہ سب کچھ دکھا لینے کے بعد اہل ایمان سے بطور طلب تصدیق یہ سوال ہو گا کہ کیوں کفار کو اپنے کیے کا پورا پورا بدلہ مل گیا نا! ’مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ‘ میں کفار کی وہ بدتمیزیاں بھی شامل ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List