Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانفطار (The Cleaving Asunder, Bursting Apart)

    19 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ التکویر ۔۔۔ کی توام ہے۔ دونوں کے ظاہر و باطن اور اسلوب و معنی میں نہایت واضح مشابہت ہے۔ جس طرح سابق میں پہلے اس ہلچل کی تصویر کھینچی گئی ہے جو ظہور قیامت کے وقت آسمانوں اور زمین میں برپا ہو گی اسی طرح اس کا آغاز بھی اسی ہول کے ذکر سے ہوا ہے۔ دونوں میں اصل مدعا بھی تقریباً ایک ہی طرح کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ پہلی سورہ میں ہول قیامت کی تصویر کے بعد فرمایا ہے:

    عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ‘ (۱۴)

    (اس دن ہر جان اس چیز کو دیکھ لے گی جو اس نے پیش کی)

    اسی طرح اس سورہ میں، ٹھیک اسی محل میں، فرمایا کہ

    عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ‘ (۵)

    (اس دن ہر جان دیکھ لے گی جو اس نے آگے بڑھایا اور جو پیچھے چھوڑا)۔

    سلف سے بھی یہ بات منقول ہوئی ہے کہ جس کو ہول قیامت کی تصویر دیکھنی ہو وہ ان سورتوں میں دیکھے۔ دونوں میں اصل مخاطب وہ اغنیاء و مستکبرین ہیں جو قرآن کے انذار کو اس وجہ سے خاطر میں نہیں لا رہے تھے کہ ان کو اپنے قلعوں اور حصاروں میں دراڑ پڑنے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔

    البتہ بنائے استدلال دونوں میں الگ الگ ہے۔ پہلی سورہ میں استدلال کی بنیاد قرآن کی صداقت و حقانیت پر رکھی گئی ہے۔ یعنی یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کا منبع، اس کے نزول کا واسطہ اور اس کا حامل سب طاہر و مطہر اور نورٌ علیٰ نورٍ ہیں۔ جو لوگ اس کا جوڑ کاہنوں اور منجموں کی اٹکل پچو باتوں سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ شب دیجور اور صبح صادق کے درمیان امتیاز سے قاصر ہیں۔

    اس سورہ میں استدلال خالق کائنات کی صفات خلق، قدرت، حکمت، عدل اور رحمت سے ہے۔ یعنی انسان کی خِلقت کے اندر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کی جو نشانیاں ظاہر ہیں ان کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ ایک روز جزا و سزا بھی لائے جس میں اپنے نیکو کار و وفادار بندوں کو انعام اور نافرمانوں اور سرکشوں کو سزا دے۔ ایک ایسے دن کا آنا لازمی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کام ذرا بھی دشوار نہیں۔ جب اس نے پہلی بار پیدا کیا اور اس میں اس کو کوئی مشکل نہیں پیش آئی تو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیوں مشکل ہو جائے گا؟ اگر اس دنیا میں وہ مجرموں کے جرائم سے چشم پوشی کر رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ نیکی اور بدی کے معاملے میں بے حس ہے۔ بلکہ یہ محض اس کی کریمی ہے کہ وہ بندوں کو مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنے رویے کی اصلاح کر لیں، اگر چاہیں اور اصلاح نہ کریں تو ان پر اس کی حجت پوری ہو جائے اور قیامت کے دن وہ کوئی عذر نہ کر سکیں۔ اس تاخیر سے کسی کو یہ مغالطہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ سے کسی کا کوئی قول و عمل مخفی ہے۔ اس نے ہر شخص پر اپنے معزز فرشتے مامور کر رکھے ہیں جو اس کی ہر بات نوٹ کر رہے ہیں۔

  • الانفطار (The Cleaving Asunder, Bursting Apart)

    19 آیات | مکی
    التکویر - الانفطار

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قرآن کی حقانیت سے اور دوسری سورہ میں انسان کی خلقت میں خدا کی آیات سے استدلال کیا گیا ہے۔ روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں کا موضوع قیامت کی ہلچل کے حوالے سے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے کہ ہنگامۂ محشر برپا ہو گا تو اِسی لیے برپا ہو گا کہ تم میں سے ہر شخص یہ جان لے کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 082 Verse 001 Chapter 082 Verse 002 Chapter 082 Verse 003 Chapter 082 Verse 004 Chapter 082 Verse 005 Chapter 082 Verse 006 Chapter 082 Verse 007 Chapter 082 Verse 008 Chapter 082 Verse 009 Chapter 082 Verse 010 Chapter 082 Verse 011 Chapter 082 Verse 012 Chapter 082 Verse 013 Chapter 082 Verse 014 Chapter 082 Verse 015 Chapter 082 Verse 016 Chapter 082 Verse 017 Chapter 082 Verse 018 Chapter 082 Verse 019
    Click translation to show/hide Commentary
    جب کہ آسمان پھٹ جائے گا۔
    ’اِنْفَطَارٌ‘ کے معنی پھٹ جانے اور شق ہو جانے کے ہیں۔ ظہور قیامت کے وقت آسمان پھٹ جانے کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ سورۂ انشقاق کی پہلی ہی آیت میں یہی مضمون ’اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ‘ کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ سورۂ رحمٰن کی آیت ۳۷ میں بھی لفظ ’اِنْشِقَاقٌ‘ استعمال ہوا ہے اور ’اِنْفَطَارٌ‘ و ’اِنْشِقَاقٌ‘ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ ایک نیا عالم نئے نوامیس کے ساتھ: قیامت کے بعد ایک بالکل نیا عالم، نئے نوامیس و قوانین کے تحت ظہور میں آئے گا اس وجہ سے اس عالم کہن کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس ٹوٹ پھوٹ کی شکل کیا ہو گی؟ اس کا صحیح تصور آج نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کی یاددہانی اس لیے فرمائی گئی ہے کہ جو اغنیاء و مستکبرین اپنے قلعوں اور گڑھیوں کے اعتماد پر بالکل نچنت ہیں، سمجھتے ہیں کہ انھوں نے جو کچھ بنا رکھا ہے وہ ان کو ہر خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہے، ان کو جھنجھوڑا جائے کہ قیامت کی ہلچل ایسی ہو گی کہ تمہارے بنائے ہوئے گھروندوں کا تو کیا ذکر اس پورے عالم کی یہ محکم چھت جس میں تم ڈھونڈھے سے بھی کوئی رخنہ نہیں پا سکتے، بالکل رخنہ ہی رخنہ اور شگاف ہی شگاف بن کر رہ جائے گی۔ یہاں اس الجھن میں اپنے دماغ کو نہ ڈالیے کہ یہ آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے یہ محض ایک خلا ہے یا کوئی ٹھوس چیز ہے بلکہ اس امر پر یقین رکھیے کہ جس طرح آج اس کا مشاہدہ آپ ایک محکم چھت کی شکل میں کر رہے ہیں جس میں کسی رخنہ کی نشان دہی نہیں کی جا سکتی اسی طرح قیامت کی ہلچل کے وقت اس میں شگاف ہی شگاف نظر آئیں گے۔
    اور جب کہ ستارے بکھر جائیں گے۔
    ستاروں کا نظام درہم برہم: ’اِنْتِثَارٌ‘ کے معنی بکھر جانے اور منتشر و پراگندہ ہو جانے کے ہیں۔ یعنی آج تو ستارے ایک غیر مرئی شیرازے میں پروئے ہوئے آسمان کی چھت میں قمقموں کی طرح ٹنکے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن اس دن یہ شیرازہ بکھر جائے گا اور وہ ٹوٹ ٹوٹ کر ادھر ادھر پراگندہ ہو جائیں گے۔ سابق سورہ میں ان کے بے نور ہو جانے کا ذکر ہوا ہے اس لیے کہ سورج کی بساط لپیٹ دیے جانے کے باعث نظام شمسی سے ان کا تعلق ختم ہو جائے گا، اس سورہ میں ان کے انتشار کا ذکر ہوا اس لیے کہ وہ شامیانہ ہی باقی نہیں رہے گا جس کی آرائش کے لیے ان کو آویزاں کیا گیا تھا۔
    اور جب کہ سمندر پھٹ پڑیں گے۔
    زمین کے سمندروں اور اس کی قبروں کا حال: آسمان اور اس کے ستاروں کا حال بیان کرنے کے بعد یہ زمین کی بھی دو چیزوں ۔۔۔ سمندروں اور قبروں ۔۔۔ کا حال بطور مثال بیان فرما دیا کہ اس دن سمندر اپنی حدوں کو توڑ کر بہ نکلیں گے اور قبروں میں جو دفن ہیں وہ بھی ان سے اگلوا لیے جائیں گے۔ سابق سورہ میں ’وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ‘ (۶) کے الفاظ آئے ہیں، یہاں وہی بات ’فُجِّرَتْ‘ کے لفظ سے بیان ہوئی ہے۔ دونوں میں بس یہ فرق ہے کہ پہلے لفظ سے سمندروں کا جوش و ہیجان نمایاں ہو رہا ہے اور دوسرے سے ان کی آزادی و بے قیدی۔ یعنی وہ موجودہ حد بندیوں سے بے قید ہو کر ہر طرف پھوٹ بہیں اور ہر نشیب و فراز پر چھا جائیں گے۔ سورۂ دہر کی آیت ’یُفَجِّرُونَہَا تَفْجِیْرًا‘ (۶) کے تحت اس لفظ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
    اور جب کہ قبریں اگلوائی جائیں گی۔
    ’وَإِذَا الْقُبُوۡرُ بُعْثِرَتْ‘۔ ’بعثر إلشئ‘ کے معنی ہوں گے، کسی شے کو پراگندہ و منتشر کر دیا، اس کو ادھیڑ ڈالا، اس کو کھول کر جو کچھ اس میں تھا برآمد کر لیا۔ اگرچہ یہاں خاص طور پر قبروں ہی کا ذکر ہے اس لیے کہ مقصد انذار کے پہلو سے زیادہ اہمیت انہی کے کھولے اور ان کے اندر سے لوگوں کے نکالے جانے کی تھی لیکن قرآن کے دوسرے مقامات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اس دن زمین اپنا سارا بار بوجھ نکال پھینکے گی۔ سورۂ زلزال میں ہے: ’وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَہَا‘ (۲) (اور زمین اپنے بار بوجھ نکال پھینکے گی) اسی طرح سورۂ انشقاق میں ہے: ’وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۵ وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ‘ (۳-۴) (اور جب کہ زمین تان دی جائے گی اور جو کچھ اس میں ہے وہ اس کو نکال پھینکے گی اور خالی ہو جائے گی)۔  
    تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔
    یہ وہ اصل بات بیان ہوئی ہے جو اس دن سب کے سامنے آئے گی۔ یعنی جب اس کائنات میں یہ عظیم ہلچل برپا ہو گی جس کے بعض آثار مذکور ہوئے تب ہر شخص کو پتہ چلے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ پیغمبر کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ یہی دن ہمیشہ رہیں گے بلکہ اس دن کی عظیم ہلچل کو سامنے رکھ کر اپنے انجام پر غور کریں جس سے سابقہ پیش آنے والا ہے اور جس سے کسی کو بھی پناہ نہیں ملنی ہے، نہ کسی چھوٹے کو نہ کسی بڑے کو۔ ’قدّم‘ اور ’اخَّر‘ کی تاویل: ’مَا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ‘ کی تاویل اگر ان مستکبرین کو سامنے رکھ کر کی جائے جو سورہ کے اول مخاطب ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جو ناکردنی کام اللہ و رسول کے خلاف انھوں نے کیے ان کا انجام بھی وہ دیکھیں گے اور جو کرنے کے کام انھوں نے نظرانداز کیے ان کی حسرت بھی چکھیں گے۔ سورۂ جمعہ میں یہود کے متعلق فرمایا ہے کہ ’وَلَا یَتَمَنَّوْنَہٗ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَیْْدِیْہِمْ‘ (۷) (اور وہ ہرگز موت کی تمنا کرنے والے نہیں ہیں بوجہ اپنی کرتوتوں کے جو وہ کر گزرے ہیں)۔ یعنی جو زاد راہ آخرت کے لیے انھوں نے بھیجا ہے وہ اس سے اچھی طرح واقف ہیں اس وجہ سے یہ خدا کو منہ دکھانے کا حوصلہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ کفار قیامت کے دن نہایت حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کاش، آخرت کی زندگی کے لیے انھوں نے کچھ کر لیا ہوتا۔ سورۂ فجر میں ان کا قول نقل ہوا ہے: ’یَقُوْلُ یٰلَیْْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ‘ (۲۴) (وہ کہے گا، اے کاش! میں نے اپنی اُخروی زندگی کے لیے دنیا کی زندگی میں کچھ کر لیا ہوتا) اسی طرح سورۂ مومنون میں ہے: ’حَتّٰی إِذَا جَآءَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ۵ لَعَلِّیْ أَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ‘ (۹۹-۱۰۰) (یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آ دھمکے گی وہ کہے گا اے رب، مجھے پھر واپس بھیج کہ جو مال و متاع میں دنیا میں چھوڑ کر آیا ہوں اس میں کچھ نیکی کی کمائی کر لوں)۔ اگرچہ ان حوالوں کی روشنی میں ’قَدَّم‘ اور ’اَخَّر‘ دونوں کا صحیح محل متعین ہو جاتا ہے لیکن بعض لوگوں نے اس کا یہ مفہوم بھی لیا ہے کہ ’ما قدم من الخیر والشر وما لم یقدمہ‘ (یعنی جو نیکی اور بدی اس نے کی اور جو چھوڑی)۔ اسی طرح بعض دوسروں نے یہ مطلب لیا کہ ’ما قدم من ما لھا وَمَا اخّر للوارثین‘ (جو اس نے اپنے مال میں سے اپنی اخروی زندگی کے لیے بھیجا اور جو وارثوں کے لیے چھوڑا)۔ اگرچہ آیت کے عموم میں یہ باتیں بھی داخل ہیں لیکن اس کے موقع و محل کے پہلو سے اس تاویل کو ہمارے نزدیک ترجیح حاصل ہے جو ہم نے اوپر بیان کی۔  
    اے انسان! تجھے تیرے رب کریم کے باب میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے!
    خدا کی کریمی سے مہلک مغالطہ: ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں روئے سخن انہی مکذبین قیامت کی طرف ہے جن کو اس سورہ میں انذار کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ آگے والی آیت میں ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا ہے: ’کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیْنِ‘ (ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ جزا و سزا کو جھٹلا رہے ہو)۔ خاص مخاطب کو عام لفظ سے خطاب کرنے میں جو بلاغت ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں۔ ’مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ میں استفہامیہ اسلوب اظہار تعجب کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے رب کی اس کریمی نے تم کو جزاو سزا سے نچنت کیا کہ وہ تمہاری سرکشیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا اور برابر ڈھیل پر ڈھیل دیے جا رہا ہے تو تم نے اس کریمی سے بہت سخت دھوکا کھایا۔ ہونا تو یہ تھا کہ تم اس کے لطف و کرم کی قدر کرتے، اس کے شکرگزار بندے بنتے اور اپنے آپ کو اس کی مزید عنایات کا حق دار بناتے لیکن ہوا یہ کہ تم اس کے آگے بالکل ڈھیٹ بن گئے۔ اس کے انذار کا مذاق اڑانے لگے، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ جو رفاہیت تمہیں حاصل ہے یہ تمہارا پیدائشی حق ہے اور رسول جس قیامت سے آگاہ کر رہا ہے یہ محض ایک ہوّا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔  
    جس نے تیرا خاکہ بنایا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے اور تجھے بالکل موزوں کیا!
    اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا حوالہ جو جزا پر دلیل ہیں: یہ رب کریم نے اپنی بعض ان صفات کا حوالہ دیا ہے جو خود انسان کی خِلقت کے اندر ظاہر ہیں اور جو دلیل ہیں کہ جس رب نے انسان کے پیدا کرنے میں اپنی کاریگری، حکمت، قدرت اور اہتمام خاص کی شانیں دکھائی ہیں اس نے اس کو عبث نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ شتر بے مہار کی طرح چھوٹا پھرے۔ بلکہ ایک دن وہ لازماً اس کو اپنے حضور میں بلائے گا، اس کا محاسبہ فرمائے گا، پھر جن کو وہ اپنا فرماں بردار پائے ان کو ابدی رحمتوں سے نوازے گا اور جو اس کے باغی ہوں گے ان کو جہنم میں جھونک دے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ سارا اہتمام بالکل بے معنی و بے مقصد ہو جاتا ہے جو انسان کے پیدا کرنے پر اس نے کیا اور اس کی اس قدرت و حکمت کی بھی نفی ہو جاتی ہے جو اس کے ہر فعل میں نمایاں ہے۔ ’الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ‘۔ ’خلق‘ کے معنی ہیں کسی چیز کا خاکہ بنانا اور اس کو پیدا کرنا اور ’تَسویۃ‘ کے معنی اس کی نوک پلک سنوارنے کے ہیں۔ گویا یہاں انسان کی پیدائش کے ابتدائی اور انتہائی دونوں مرحلوں کی طرف اشارہ فرما دیا کہ اسی رب کریم نے تمہارا خاکہ بنایا اور اسی نے تمہارے نوک پلک سنوارے۔ ’فَعَدَلَکَ‘ اور اس طرح اس نے تمہیں ایک متوازن مخلوق بنایا۔ انسان کی خلقت میں حکمت کا پایا جانا دلیل ہے کہ وہ کھلونا نہیں ہے: مقصود اس بیان سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس اہتمام و عنایت کی طرف توجہ دلانا ہے جو انسان کی تخلیق میں نمایاں ہے۔ یہ اہتمام و عنایت اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کوئی کھلونا نہیں ہے جس کو قدرت نے اپنا جی بہلانے کے لیے وقتی طور پر بنا لیا ہو اور پھر جب چاہے اس کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے۔ جس چیز پر جتنا ہی اہتمام صرف ہوتا ہے اس کے اندر اتنی ہی مقصدیت ہوتی ہے اور اسی اعتبار سے اس کو قدرت کے نظام میں اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ انسان برسات میں پیدا ہونے والے پتنگوں کی مانند نہیں ہے کہ پیدا ہو اور فنا ہو جائے بلکہ وہ قدرت کی بہترین صناعی کا مظہر ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ وہ امتحانوں سے گزرتا ہوا اس مقام تک پہنچے جو اس کے لیے مقدر ہے اور اگر وہ اس کا حوصلہ نہ کرے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی پست حوصلگی کی سزا بھگتے۔ ’فَعَدَلَکَ‘ میں اس اعتدال و توازن کی طرف اشارہ ہے جو ’لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنۡسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ‘ (التین ۹۵: ۴) والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ انسان اپنی ظاہری شکل و صورت اور اپنی روحانی و معنوی صلاحیتوں کے اعتبار سے عالم کی تمام مخلوقات میں بالکل نقطۂ وسط پر ہے اس وجہ سے وہ اس بات کا اہل ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس کو زمین میں اپنا خلیفہ بنائے، اس کو امت وسط کے منصب پر سرفراز فرمائے اور اگر وہ زمین میں خدا کی خلافت کا حق ادا کرے تو آسمان کی ابدی بادشاہی کا بھی حق دار ٹھہرائے۔
    جس شکل پر چاہا تجھے مشکّل کر دیا!
    ’فِیْ أَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ‘۔ یعنی ایک طرف تو اپنے رب کے اس اہتمام اور اس کی اس عنایت پر نظر کرو کہ اس نے ہر آدمی کے لیے الگ الگ شکل و صورت تجویز کی اور اپنے کمال قدرت سے جس کے لیے جو صورت پسند فرمائی اسی پر اس کو پیدا کر دیا۔ اس میں ذرا بھی اس کو مشکل پیش نہیں آئی۔ مجال نہیں کہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کے اندر سے بھی کوئی دو آدمی ایسے نکالے جا سکیں جو بالکل ایک ہی شکل و صورت کے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی قدرت و عنایت کا یہ حال ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک دن وہ تمہارے نیکوں اور بدوں میں امتیاز کرے اور اس کام کے لیے تمہیں وہ مرنے کے بعد اٹھائے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
    ہرگز نہیں، بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہو۔
    مکذبین قیامت کو زجر: ’کَلَّا‘ یہاں مکذبین کے ان شبہات و اعتراضات کی نفی کے لیے ہے جو وہ قیامت کے خلاف پیش کرتے تھے اور جن کی تردید اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے فرمائی گئی ہے جو خود انسان کی خِلقت کے اندر موجود ہیں۔ ان کو پیش کرنے کے بعد ان دلیل بازوں کو زجر فرمایا ہے کہ ’کَلَّا‘ یعنی تمہارے ان تمام شبہات و اعتراضات کی ہرگز کوئی بنیاد نہیں ہے، یہ ساری باتیں بناوٹی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ تم جزا و سزا کو ماننا نہیں چاہتے اس وجہ سے لا یعنی شبہات پیش کر رہے ہو کہ بھلا مر کھپ جانے کے بعد وہ لوگ دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے؟ حالانکہ اگر جزا و سزا عقل، عدل، فطرت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و حکمت کی رو سے واجب ہے تو اس کے لیے انسانوں کو قبروں سے اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ بعض اوقات انسان جھٹلانا تو کسی چیز کو چاہتا ہے لیکن اس کے خلاف کچھ کہنے کی گنجائش نہیں پاتا اس وجہ سے بعض غیر متعلق سوالات چھیڑتا ہے تاکہ اس کے باب میں کچھ شبہات پیدا کرنے کی راہ کھولے۔ قریش کے منکرین اسی طرح کی الجھن میں گرفتار تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جزا و سزا کو جھٹلانا ایک امر بدیہی کو جھٹلانا ہے لیکن اس کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے بعض بناوٹی شبہات کی آڑ لے کر یہ نمائش کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ گویا ان کے پاس کچھ دلائل ہیں جن کی بنا پر وہ قرآن کے انذار کو نہیں مان رہے ہیں۔
    حالانکہ تم پر نگران مامور ہیں۔
    اوپر والی آیت میں جو جھڑکی ہے اس سے بھی اس کا تعلق ہے اور مکذبین قیامت کے اس شبہ پر، جو وہ آخرت کے حساب کتاب سے متعلق محض مصنوعی طور پر اٹھاتے تھے اس میں تنبیہ بھی ہے۔ اعمال کا ریکارڈ رکھنے والوں کی ذمہ داری: فرمایا کہ اس مغالطے میں نہ رہو کہ تمہاری جلوت و خلوت کی ساری باتوں سے کون باخبر ہو سکتا ہے کہ ایک دن ان کا محاسبہ کرنے بیٹھے۔ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک کے اوپر اپنے نگران بٹھا رکھے ہیں جو تمہارے ہر قول کو نوٹ کر رہے ہیں۔ جو کچھ بھی تم کہتے ہو یا کرتے ہو اس کو سنتے اور جانتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ نہایت معزز ہیں۔
    دبیرانِ گرامی۔
    ان فرشتوں کی صفت ’کِرام‘ سے مقصود اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ یہ جس ڈیوٹی پر مامور ہیں اس کو نہایت فرض شناسی، پورے احساس ذمہ داری اور کامل غیرجانب داری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ نہ کام چوروں کی طرح یہ اپنے فرض میں کوئی غفلت برتتے، نہ احساس ذمہ داری سے محروم لوگوں کی طرح کبھی دفع الوقتی اور مداہنت سے کام لیتے اور نہ کسی کے دباؤ یا اس کی خوشامد میں آنے والے ہیں کہ کسی کے ساتھ جانب داری برتیں۔
    وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔
    ’یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ‘۔ یعنی جو کچھ تم کرتے ہو اور جہاں کہیں بھی کرتے ہو وہ سب ان پر واضح ہوتا ہے۔ یہاں صرف افعال کے جاننے کا ذکر ہے لیکن سورۂ قٓ میں فرمایا ہے کہ’مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ‘ (ق ۵۰: ۱۸) (نہیں بولتا ہے وہ کوئی بات مگر ایک مستعد نگران اس کے پاس موجود ہوتا ہے)۔ سورۂ ق میں یہ وضاحت بھی ہے کہ یہ فرشتے دو ہوتے ہیں اور دائیں بائیں دونوں طرف سے نگرانی کرتے ہیں۔ احادیث سے یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ ان میں تقسیم کار ہوتی ہے۔ ایک نیکیاں لکھنے پر مامور ہوتا ہے دوسرا بدیاں۔
    بے شک نیکوکار عیش میں ہوں گے۔
    نتیجہ اس اہتمام و انتظام کا جو اوپر مذکور ہوا: یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے اس اہتمام و انتظام کا جو اوپر مذکور ہوا کہ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا بلکہ وہ نیکوں کو جنت میں داخل کرے گا اور بدوں کو دوزخ میں۔ جو نادان یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد نہ موت ہے نہ زندگی یا یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ اگر مرنے کے بعد زندگی ہوئی تو وہاں بھی وہ اپنے شرکاء کی سفارش سے اس سے اچھی زندگی حاصل کر لیں گے جو یہاں حاصل ہے، تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائیں۔ اس کائنات کا خالق نیکی و بدی کے معاملے میں بے حس اور غیر جانبدار نہیں ہے کہ سب کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ کرے، بلکہ وہ لازماً دونوں میں فرق کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ العیاذ باللہ نیک اور بد دونوں اس کی نگاہ میں یکساں ہیں اور اس کی دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس میں حق و عدل کا کوئی تصور نہیں ہے۔
    اور نابکار دوزخ میں (ہوں گے)۔
    نتیجہ اس اہتمام و انتظام کا جو اوپر مذکور ہوا: یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے اس اہتمام و انتظام کا جو اوپر مذکور ہوا کہ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں اور بدکاروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا بلکہ وہ نیکوں کو جنت میں داخل کرے گا اور بدوں کو دوزخ میں۔ جو نادان یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، اس کے بعد نہ موت ہے نہ زندگی یا یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ اگر مرنے کے بعد زندگی ہوئی تو وہاں بھی وہ اپنے شرکاء کی سفارش سے اس سے اچھی زندگی حاصل کر لیں گے جو یہاں حاصل ہے، تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائیں۔ اس کائنات کا خالق نیکی و بدی کے معاملے میں بے حس اور غیر جانبدار نہیں ہے کہ سب کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ کرے، بلکہ وہ لازماً دونوں میں فرق کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ العیاذ باللہ نیک اور بد دونوں اس کی نگاہ میں یکساں ہیں اور اس کی دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس میں حق و عدل کا کوئی تصور نہیں ہے۔
    وہ جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے۔
    اصل حقیقت کا مواجہہ: یعنی اس طرح کے لذیذ خوابوں میں زندگی گزارنے کے بجائے بہتر ہے کہ لوگ اصل حقیقت کا مواجہہ کریں۔ جزا کے دن تمام نابکار جہنم میں داخل ہوں گے اور پھر ان کو وہاں سے ایک پل کے لیے بھی اوجھل ہونا نصیب نہ ہو گا۔
    اور پھر اس سے وہ اوجھل ہونے والے نہیں۔
    ’وَمَا ہُمْ عَنْہَا بِغَائِبِیْنَ‘ کا اصل مدعا وہی ہے جو دوسرے مقامات میں ’خَالِدِیْنَ فِیْھَا اَبَدًا‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ جگہ پسند نہ آئی تو وہاں سے فرار کی کوئی راہ ڈھونڈ لیں گے وہ یہ خیال دل سے نکال دیں۔ اس میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکلنے کے تمام راستے بند ہو جائیں گے۔
    اور تم کیا سمجھے جزا کے دن کو!
    یہ سوال اس جزا کے دن کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لیے ہے اور اس کی تکرار نے اس کو مزید پرہول بنا دیا ہے۔ ’اَدْرٰکَ‘ میں واحد کا خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے بلکہ انہی لوگوں سے ہے جن سے ’مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ اور اس کے بعد کی دوسری آیات میں ہے۔ جمع کو واحد کے صیغہ سے خطاب میں جو بلاغت ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔
    بولو، کیا سمجھے جزا کے دن کو!
    یہ سوال اس جزا کے دن کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لیے ہے اور اس کی تکرار نے اس کو مزید پرہول بنا دیا ہے۔ ’اَدْرٰکَ‘ میں واحد کا خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے بلکہ انہی لوگوں سے ہے جن سے ’مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ اور اس کے بعد کی دوسری آیات میں ہے۔ جمع کو واحد کے صیغہ سے خطاب میں جو بلاغت ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہو چکی ہے۔
    اس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے لیے کچھ نہ کر سکے گی۔ معاملہ اس دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہو گا!!
    سوال چونکہ جواب کے لیے نہیں بلکہ صرف اس دن کے ہول کا تصور پیدا کرنے کے لیے تھا اس وجہ سے جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی جواب دے دیا کہ اس دن کوئی جان کسی دوسرے کے کام آنے والی نہیں بنے گی۔ سارا اختیار و اقتدار اس دن صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی کے ہاتھ میں ہو گا۔ اس دن کوئی کسی کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ جن کو خدا کا شریک و شفیع سمجھا گیا اور اس امید پر ان کی عبادت کی گئی کہ وہ اپنے پوجنے والوں کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے وہ سب اس دن ہوا ہو جائیں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List