Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • عبس (He Frowned)

    42 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ النّٰزعٰت ۔۔۔ کے جوڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ اسلوب بیان اور مواد استدلال میں بھی دونوں کے اندر نہایت واضح یکسانی ہے۔ مطالب کی ترتیب میں البتہ تبدیلی ہوئی ہے جس سے ایک نیا حسن اس میں پیدا ہو گیا ہے اور دراصل یہی واحد چیز ہے جو اس سورہ کو سابق سورہ سے ممتاز کرنے والی ہے۔ آپ دونوں کو سامنے رکھ کر آسانی سے ان کے مابہ الاشتراک اور مابہ الاختلاف کو معین کر سکتے ہیں۔

    سابق سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے یہ جو فرمایا ہے کہ

    إِنَّمَا أَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ یَخْشَاہَا‘ (۴۵)

    (تم تو بس انہی لوگوں کو قیامت سے ڈرا سکتے ہو جو اس سے ڈرنے والے ہوں)

    اسی مضمون سے اس سورہ کی تمہید استوار فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بانداز عتاب قریش کے ان متمردین کے پیچھے وقت ضائع کرنے سے روک دیا ہے جو ایمان نہ لانے کے روز روز نئے نئے بہانے تلاش کرتے اور نازک مزاجی میں اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ آپ سے مطالبہ کرتے تھے کہ جب تک آپ اپنے غریب ساتھیوں کو اپنے پاس سے ہٹا نہیں دیں گے اس وقت تک وہ آپ کی مجلس میں بیٹھنے کے روادار نہیں ہوں گے۔ اس پوری سورہ میں انہی متمردین پر نہایت شدت سے عتاب ہے۔ اگرچہ خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن عتاب کا رخ تمام تر قریش کے فراعنہ ہی کی طرف ہے۔

  • عبس (He Frowned)

    42 آیات | مکی
    النٰزعٰت - عبس

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قریش کی قیادت کو اُس کے جس رویے پر تنبیہ ہے، دوسری میں اُسی پر ایک خاص واقعے کے پس منظر میں اِس شدت سے عتاب ہے کہ سورہ کی ہر آیت سے گویا ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

    دوسری سورہ میں خطاب اگرچہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے، لیکن روے سخن اگر غور کیجیے تو دونوں سورتوں میں فراعنۂ قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ میں استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے حقائق سے ہے۔

    دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات،اُس کے حوالے سے قریش کو انذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ہے۔

    دوسری سورہ میں یہ تنبیہ، البتہ نہایت سخت عتاب کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 080 Verse 001 Chapter 080 Verse 002 Chapter 080 Verse 003 Chapter 080 Verse 004 Chapter 080 Verse 005 Chapter 080 Verse 006 Chapter 080 Verse 007 Chapter 080 Verse 008 Chapter 080 Verse 009 Chapter 080 Verse 010 Chapter 080 Verse 011 Chapter 080 Verse 012 Chapter 080 Verse 013 Chapter 080 Verse 014 Chapter 080 Verse 015 Chapter 080 Verse 016 Chapter 080 Verse 017 Chapter 080 Verse 018 Chapter 080 Verse 019 Chapter 080 Verse 020 Chapter 080 Verse 021 Chapter 080 Verse 022 Chapter 080 Verse 023 Chapter 080 Verse 024 Chapter 080 Verse 025 Chapter 080 Verse 026 Chapter 080 Verse 027 Chapter 080 Verse 028 Chapter 080 Verse 029 Chapter 080 Verse 030 Chapter 080 Verse 031 Chapter 080 Verse 032 Chapter 080 Verse 033 Chapter 080 Verse 034 Chapter 080 Verse 035 Chapter 080 Verse 036 Chapter 080 Verse 037 Chapter 080 Verse 038 Chapter 080 Verse 039 Chapter 080 Verse 040 Chapter 080 Verse 041 Chapter 080 Verse 042
    Click translation to show/hide Commentary
    اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا۔
    عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ کی نوعیت: ’عَبَسَ‘ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ فاعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’اَعْمٰی‘ سے یہاں اشارہ، تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن ام مکتومؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک وفادار اور نابینا صحابی تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے لیڈروں میں سے کسی سے یا ان کی کسی جماعت سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا اور وہ اپنے اعتراضات و شکوک پیش کر رہے ہوں گے کہ اسی اثناء میں عبداللہ بن ام مکتومؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بے موقع آ جانا حضورؐ کو ناگوار گزرا۔ اس ناگواری کی وجہ العیاذ باللہ یہ تو نہیں ہو سکتی کہ وہ نادار یا نابینا تھے، ناداروں اور نابیناؤں کی قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون کر سکتا تھا، البتہ حضورؐ کو اندیشہ ہوا ہو گا کہ ان وحشیوں کو ذرا مانوس کرنے کا جو موقع میسر آیا ہے عبداللہ بن ام مکتومؓ کے آ جانے سے وہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ بدک جائیں گے اور کہیں گے کہ جب تم نے اس طرح کے مفلسوں اور قلاشوں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کیا ہے تو تمہاری مجلس میں بیٹھ کر کون اپنی عزت گنوائے گا۔ قریش کے لیڈروں کی نازک مزاجی: یہ امر واضح رہے کہ قریش کے فراعنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اعتراضات تھے ان میں ایک بڑا اہم اعتراض یہی تھا کہ آپ کے ساتھی قلاش اور مفلس لوگ ہیں۔ اس چیز کو وہ آپ کی نبوت کے خلاف ایک دلیل بنائے بیٹھے تھے۔ علاوہ ازیں آپ کے لیے یہ خیال بھی باعث تردد ہوا ہو گا کہ ممکن ہے یہ اپنی بڑائی کے نشہ میں آپ کے ایک محبوب صحابی کی کوئی توہین یا دل آزاری کر بیٹھیں جس سے مزید بدمزگی پیدا ہو۔ اسی واقعہ کو، جو بالکل اتفاق سے پیش آ گیا، اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تعلیم دینے کا ذریعہ بنا لیا کہ آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز اپنے ان صحابہ کو بنائیں جوا پنی اصلاح و تربیت کے طالب اور شوق و ذوق سے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، ان لوگوں کے درپے زیادہ نہ ہوں جو بے نیاز ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نازبرداری کریں۔ مغروروں کو نظرانداز کرنے کی ہدایت: پچھلی سورتوں میں یہ بات جگہ جگہ واضح ہو چکی ہے کہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لیڈروں کو دعوت دینے کا خاص اہتمام تھا۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ آپ کو اول اول، جیسا کہ آیت ’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ‘‘ (الشعراء ۲۶: ۲۱۴) سے واضح ہے، انہی کو خطاب کرنے کا حکم ہوا تھا۔ دوسری یہ کہ ان لوگوں کو پورے عرب کی سیادت و قیادت حاصل تھی۔ توقع تھی کہ اگر یہ دعوت قبول کر لیں گے تو پورے عرب میں دعوت کی کامیابی کی راہ کھل جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصے تک حضور نے اپنا سارا زور انھی پر صرف فرمایا اور ان کی طرف سے انتہائی رعونت اور توہین و دل آزاری کے اظہار کے باوجود آپ ان کو دعوت دینے میں لگے رہے لیکن جب ان کی رعونت بہت بڑھ گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ یہ ہٹ دھرم نہ صرف یہ کہ کوئی اصلاح قبول کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے جو وقت ضائع ہو رہا ہے اس سے ان غریب مسلمانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور جو اپنی تعلیم و تربیت کے لیے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توجہ کے ان ناقدروں سے زیادہ مستحق ہیں تو آپ کو ان کے زیادہ درپے ہونے سے روک دیا گیا اور اس کے لیے عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ نے ایک نہایت مناسب موقع تقریب پیدا کر دی۔
    کہ آیا اس کے پاس نابینا۔
    عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ کی نوعیت: ’عَبَسَ‘ کا فاعل یہاں مذکور نہیں ہے لیکن آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ فاعل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ’اَعْمٰی‘ سے یہاں اشارہ، تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ عبداللہ بن ام مکتومؓ کی طرف ہے۔ یہ ایک وفادار اور نابینا صحابی تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے لیڈروں میں سے کسی سے یا ان کی کسی جماعت سے باتیں کر رہے تھے۔ آپ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تھا اور وہ اپنے اعتراضات و شکوک پیش کر رہے ہوں گے کہ اسی اثناء میں عبداللہ بن ام مکتومؓ تشریف لائے اور موقع کی نزاکت کا اندازہ نہ کر سکنے کے باعث وہ بھی مجلس میں پہنچ گئے۔ ان کا یہ بے موقع آ جانا حضورؐ کو ناگوار گزرا۔ اس ناگواری کی وجہ العیاذ باللہ یہ تو نہیں ہو سکتی کہ وہ نادار یا نابینا تھے، ناداروں اور نابیناؤں کی قدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون کر سکتا تھا، البتہ حضورؐ کو اندیشہ ہوا ہو گا کہ ان وحشیوں کو ذرا مانوس کرنے کا جو موقع میسر آیا ہے عبداللہ بن ام مکتومؓ کے آ جانے سے وہ ضائع ہو جائے گا۔ یہ بدک جائیں گے اور کہیں گے کہ جب تم نے اس طرح کے مفلسوں اور قلاشوں کو اپنے ارد گرد اکٹھا کیا ہے تو تمہاری مجلس میں بیٹھ کر کون اپنی عزت گنوائے گا۔ قریش کے لیڈروں کی نازک مزاجی: یہ امر واضح رہے کہ قریش کے فراعنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اعتراضات تھے ان میں ایک بڑا اہم اعتراض یہی تھا کہ آپ کے ساتھی قلاش اور مفلس لوگ ہیں۔ اس چیز کو وہ آپ کی نبوت کے خلاف ایک دلیل بنائے بیٹھے تھے۔ علاوہ ازیں آپ کے لیے یہ خیال بھی باعث تردد ہوا ہو گا کہ ممکن ہے یہ اپنی بڑائی کے نشہ میں آپ کے ایک محبوب صحابی کی کوئی توہین یا دل آزاری کر بیٹھیں جس سے مزید بدمزگی پیدا ہو۔ اسی واقعہ کو، جو بالکل اتفاق سے پیش آ گیا، اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تعلیم دینے کا ذریعہ بنا لیا کہ آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز اپنے ان صحابہ کو بنائیں جوا پنی اصلاح و تربیت کے طالب اور شوق و ذوق سے آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں، ان لوگوں کے درپے زیادہ نہ ہوں جو بے نیاز ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ان کی نازبرداری کریں۔ مغروروں کو نظرانداز کرنے کی ہدایت: پچھلی سورتوں میں یہ بات جگہ جگہ واضح ہو چکی ہے کہ ابتدا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کے لیڈروں کو دعوت دینے کا خاص اہتمام تھا۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ آپ کو اول اول، جیسا کہ آیت ’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ‘‘ (الشعراء ۲۶: ۲۱۴) سے واضح ہے، انہی کو خطاب کرنے کا حکم ہوا تھا۔ دوسری یہ کہ ان لوگوں کو پورے عرب کی سیادت و قیادت حاصل تھی۔ توقع تھی کہ اگر یہ دعوت قبول کر لیں گے تو پورے عرب میں دعوت کی کامیابی کی راہ کھل جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصے تک حضور نے اپنا سارا زور انھی پر صرف فرمایا اور ان کی طرف سے انتہائی رعونت اور توہین و دل آزاری کے اظہار کے باوجود آپ ان کو دعوت دینے میں لگے رہے لیکن جب ان کی رعونت بہت بڑھ گئی اور یہ واضح ہو گیا کہ یہ ہٹ دھرم نہ صرف یہ کہ کوئی اصلاح قبول کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے جو وقت ضائع ہو رہا ہے اس سے ان غریب مسلمانوں کی حق تلفی ہو رہی ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور جو اپنی تعلیم و تربیت کے لیے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی توجہ کے ان ناقدروں سے زیادہ مستحق ہیں تو آپ کو ان کے زیادہ درپے ہونے سے روک دیا گیا اور اس کے لیے عبداللہ بن ام مکتوم کے واقعہ نے ایک نہایت مناسب موقع تقریب پیدا کر دی۔
    اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ اپنی اصلاح کرتا۔
    آنحضرت صلعم کو تنبیہ کی نوعیت: اوپر کی آیات سے صرف ایک واقعہ کی خبر سامنے آئی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کس کا ہے اور نہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے ذکر سے مقصود کیا ہے لیکن یہاں ’یُدْرِیْکَ‘ کے خطاب سے یہ بات نکلتی ہے کہ واقعہ کا تعلق حضورؐ سے ہے اور آپ کو اس بات پر متنبہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں بعض اوقات اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ گلے کی بھیڑوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔ پہلے ٹکڑے میں خطاب کے نہ ہونے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ معلوم کرے کہ کس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے لیکن چونکہ مخاطب واضح نہیں ہے اس وجہ سے اس کو اپنی ذات سے متعلق کوئی پریشانی پیدا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ حضورؐ کے اندر بھی واقعہ سے متعلق سوال تو فوراً پیدا ہوا ہو گا لیکن خطاب چونکہ براہ راست نہیں تھا اس وجہ سے کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئی ہو گی۔ برعکس اس کے اگر خطاب معین ہوتا تو یہ عتاب بہت سخت ہو جاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں یہ بات متعین ہو جاتی کہ آپ پر عتاب ہوا اور وجہ عتاب یہ ہے کہ آپ نے ایک نابینا کے آنے پر ترش رویہ اختیار فرمایا درآنحالیکہ واقعہ، جیسا کہ اوپر واضح ہوا اور آگے آ رہا ہے، یہ نہیں ہے۔ حضرات انبیاؑء کی لغزش کی نوعیت: آیات زیربحث میں خطاب اس لیے واضح فرمایا ہے کہ یہاں وہ بات بھی بیان فرما دی گئی ہے جس پرعتاب ہوا ہے۔ یہ بات کسی فرض میں کوتاہی کی نوعیت کی نہیں بلکہ ادائے فرض میں حد مطلوب سے تجاوز کی نوعیت کی ہے۔ ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ نفس کی خواہشوں کی پاسداری کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہ اپنے رب کی رضاطلبی کے جوش میں اس حد سے آگے نکل جایا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شریعت دینے کے لیے طور پر بلایا تو اس کے لیے ایک خاص تاریخ بھی مقرر فرما دی لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرط شوق میں مقررہ تاریخ کا انتظار نہ کر سکے بلکہ اس سے پہلے ہی طور پر پہنچ گئے۔ ان کی اس عجلت پر گرفت ہوئی تو انھوں نے یہ معذرت پیش کی کہ اے رب، میں تیری رضا طلبی کے شوق میں جلدی چلا آیا ہوں۔ اس طرح کی لغزش ظاہر ہے کہ نہایت اعلیٰ جذبہ سے ہوتی ہے، لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام حق و عدل کی کامل میزان ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی لغزشوں پر بھی گرفت فرماتا ہے تاکہ میزان ہر پہلو سے درست رہے۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس لغزش پر گرفت فرمائی گئی ہے وہ بھی اسی نوعیت کی ہے۔ سادات قریش کے ایمان لانے سے چونکہ آپؐ پورے عرب کے لیے دعوت کی راہ کھلنے کی توقع رکھتے تھے اس وجہ سے اس کام میں آپ کا انہماک اس قدر بڑھ گیا کہ نہ آپ کو اپنے ذاتی آرام کی کوئی فکر رہی، نہ اس امر کا کوئی خیال رہا کہ یہ لوگ آپ کی ذات اور آپ کی دعوت کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس انہماک سے یہ اندیشہ بھی پیدا ہو گیا کہ جو غریب مسلمان ایمان لا چکے ہیں ان کی تربیت کی جو ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے اس کو ادا کرنے کے لیے بھی آپ مشکل ہی سے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس صورت حال پر قرآن نے جگہ جگہ آپ کو نہایت محبت آمیز انداز میں ٹوکا اور آگاہ فرمایا ہے کہ آپ نے قریش کے معاملے میں اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ نے آپ پرڈالی ہے۔ آپ ان کے پیچھے اتنے ہلکان نہ ہوں۔ آپ پر اللہ کی بات پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی وہ آپ نے پہنچا دی، اب مزید ان کی نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ انہی حالات کے اندر عبداللہ بن ام مکتومؓ کا یہ واقعہ پیش آیا جس نے گویا اس بات میں ایک بالکل فیصلہ کن سورہ نازل کر دی۔ اس تمہید کی روشنی میں آیات زیربحث اور آگے کی آیات پر غور کیجیے۔ ’وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘۔ یعنی تم پر اس نابینا کا آنا اس اندیشہ سے گراں گزرا کہ شاید اس کے آ جانے سے ان سادات کے پندار کو چوٹ لگے اور وہ بدک جائیں حالانکہ ہو سکتا ہے کہ تم ان کی نازبرداری میں ایک سچے طالب کو نظر انداز کر دو لیکن یہ پھر بھی نہ سنیں تو ایسے ناقدروں کے پیچھے اپنے ایک سزاوار تربیت ساتھی کی حق تلفی کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔ رسول کے توجہ کے اصلی مستحق: اس سے معلوم ہوا کہ رسول کا اصل مقصد لوگوں کا تزکیہ ہے۔ جو لوگ اس کے پاس تزکیہ کے طالب بن کر آئیں اس کی توجہ و دلداری کے اصل حق دار وہی ہیں۔ دوسرے لوگ، خواہ بظاہر کتنی ہی اہمیت رکھنے والے ہوں، ان میں اگر اصلاح و تربیت کی طلب نہیں ہے تو رسول کے مقصد کے اعتبار سے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سچے طالب کی دو صفتیں: یہاں ایک سچے طالب کی دو صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ طالب تزکیہ ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ یاددہانی سے فائدہ اٹھانے والا ہوتا ہے۔ یہ درحقیقت تربیت گاہ نبوی کے سچے شرکاء کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ ان میں بالعموم دو طرح کے لوگ ہوتے۔ ایک وہ جن کے سامنے اپنی اصلاح و تربیت سے متعلق کوئی سوال ہوتا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے آتے، دوسرے وہ جن کے سامنے اگرچہ کوئی خاص سوال تو نہ ہوتا لیکن وہ مجلس میں حاضر ہوتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطور خود یا کسی سائل کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمائیں اس سے بہرہ مند ہوں۔ یہاں ’لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘ سے پہلی قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور ’یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْرٰی‘ کے الفاظ سے دوسری قسم کے لوگوں کی طرف۔ یہ دونوں ہی راہیں طلب علم کی ہیں اور مقصود ان دونوں کا حوالہ دینے سے یہ ہے کہ جس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آنا ہو وہ انہی میں سے کسی ایک مقصد کو سامنے رکھ کر آئے اور وہی پیغمبرؐ کے التفات کے حق دار ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی نازبرداری کے خواہاں ہیں ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور اپنے انجام کا انتظار کریں۔
    یا نصیحت سنتا تو نصیحت اس کو نفع پہنچاتی!
    آنحضرت صلعم کو تنبیہ کی نوعیت: اوپر کی آیات سے صرف ایک واقعہ کی خبر سامنے آئی ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کس کا ہے اور نہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے ذکر سے مقصود کیا ہے لیکن یہاں ’یُدْرِیْکَ‘ کے خطاب سے یہ بات نکلتی ہے کہ واقعہ کا تعلق حضورؐ سے ہے اور آپ کو اس بات پر متنبہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں بعض اوقات اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ گلے کی بھیڑوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہو جاتی ہے۔ پہلے ٹکڑے میں خطاب کے نہ ہونے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ معلوم کرے کہ کس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے لیکن چونکہ مخاطب واضح نہیں ہے اس وجہ سے اس کو اپنی ذات سے متعلق کوئی پریشانی پیدا ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ حضورؐ کے اندر بھی واقعہ سے متعلق سوال تو فوراً پیدا ہوا ہو گا لیکن خطاب چونکہ براہ راست نہیں تھا اس وجہ سے کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئی ہو گی۔ برعکس اس کے اگر خطاب معین ہوتا تو یہ عتاب بہت سخت ہو جاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں یہ بات متعین ہو جاتی کہ آپ پر عتاب ہوا اور وجہ عتاب یہ ہے کہ آپ نے ایک نابینا کے آنے پر ترش رویہ اختیار فرمایا درآنحالیکہ واقعہ، جیسا کہ اوپر واضح ہوا اور آگے آ رہا ہے، یہ نہیں ہے۔ حضرات انبیاؑء کی لغزش کی نوعیت: آیات زیربحث میں خطاب اس لیے واضح فرمایا ہے کہ یہاں وہ بات بھی بیان فرما دی گئی ہے جس پرعتاب ہوا ہے۔ یہ بات کسی فرض میں کوتاہی کی نوعیت کی نہیں بلکہ ادائے فرض میں حد مطلوب سے تجاوز کی نوعیت کی ہے۔ ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام سے کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ نفس کی خواہشوں کی پاسداری کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہ اپنے رب کی رضاطلبی کے جوش میں اس حد سے آگے نکل جایا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شریعت دینے کے لیے طور پر بلایا تو اس کے لیے ایک خاص تاریخ بھی مقرر فرما دی لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرط شوق میں مقررہ تاریخ کا انتظار نہ کر سکے بلکہ اس سے پہلے ہی طور پر پہنچ گئے۔ ان کی اس عجلت پر گرفت ہوئی تو انھوں نے یہ معذرت پیش کی کہ اے رب، میں تیری رضا طلبی کے شوق میں جلدی چلا آیا ہوں۔ اس طرح کی لغزش ظاہر ہے کہ نہایت اعلیٰ جذبہ سے ہوتی ہے، لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام حق و عدل کی کامل میزان ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی لغزشوں پر بھی گرفت فرماتا ہے تاکہ میزان ہر پہلو سے درست رہے۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس لغزش پر گرفت فرمائی گئی ہے وہ بھی اسی نوعیت کی ہے۔ سادات قریش کے ایمان لانے سے چونکہ آپؐ پورے عرب کے لیے دعوت کی راہ کھلنے کی توقع رکھتے تھے اس وجہ سے اس کام میں آپ کا انہماک اس قدر بڑھ گیا کہ نہ آپ کو اپنے ذاتی آرام کی کوئی فکر رہی، نہ اس امر کا کوئی خیال رہا کہ یہ لوگ آپ کی ذات اور آپ کی دعوت کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اس انہماک سے یہ اندیشہ بھی پیدا ہو گیا کہ جو غریب مسلمان ایمان لا چکے ہیں ان کی تربیت کی جو ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے اس کو ادا کرنے کے لیے بھی آپ مشکل ہی سے کچھ وقت نکال سکیں گے۔ اس صورت حال پر قرآن نے جگہ جگہ آپ کو نہایت محبت آمیز انداز میں ٹوکا اور آگاہ فرمایا ہے کہ آپ نے قریش کے معاملے میں اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ نے آپ پرڈالی ہے۔ آپ ان کے پیچھے اتنے ہلکان نہ ہوں۔ آپ پر اللہ کی بات پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی وہ آپ نے پہنچا دی، اب مزید ان کی نازبرداری کی ضرورت نہیں ہے۔ انہی حالات کے اندر عبداللہ بن ام مکتومؓ کا یہ واقعہ پیش آیا جس نے گویا اس بات میں ایک بالکل فیصلہ کن سورہ نازل کر دی۔ اس تمہید کی روشنی میں آیات زیربحث اور آگے کی آیات پر غور کیجیے۔ ’وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘۔ یعنی تم پر اس نابینا کا آنا اس اندیشہ سے گراں گزرا کہ شاید اس کے آ جانے سے ان سادات کے پندار کو چوٹ لگے اور وہ بدک جائیں حالانکہ ہو سکتا ہے کہ تم ان کی نازبرداری میں ایک سچے طالب کو نظر انداز کر دو لیکن یہ پھر بھی نہ سنیں تو ایسے ناقدروں کے پیچھے اپنے ایک سزاوار تربیت ساتھی کی حق تلفی کس طرح جائز ہو سکتی ہے۔ رسول کے توجہ کے اصلی مستحق: اس سے معلوم ہوا کہ رسول کا اصل مقصد لوگوں کا تزکیہ ہے۔ جو لوگ اس کے پاس تزکیہ کے طالب بن کر آئیں اس کی توجہ و دلداری کے اصل حق دار وہی ہیں۔ دوسرے لوگ، خواہ بظاہر کتنی ہی اہمیت رکھنے والے ہوں، ان میں اگر اصلاح و تربیت کی طلب نہیں ہے تو رسول کے مقصد کے اعتبار سے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سچے طالب کی دو صفتیں: یہاں ایک سچے طالب کی دو صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ طالب تزکیہ ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ یاددہانی سے فائدہ اٹھانے والا ہوتا ہے۔ یہ درحقیقت تربیت گاہ نبوی کے سچے شرکاء کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ ان میں بالعموم دو طرح کے لوگ ہوتے۔ ایک وہ جن کے سامنے اپنی اصلاح و تربیت سے متعلق کوئی سوال ہوتا اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے آتے، دوسرے وہ جن کے سامنے اگرچہ کوئی خاص سوال تو نہ ہوتا لیکن وہ مجلس میں حاضر ہوتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطور خود یا کسی سائل کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمائیں اس سے بہرہ مند ہوں۔ یہاں ’لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ‘ سے پہلی قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور ’یَذَّکَّرُ فَتَنْفَعَہُ الذِّکْرٰی‘ کے الفاظ سے دوسری قسم کے لوگوں کی طرف۔ یہ دونوں ہی راہیں طلب علم کی ہیں اور مقصود ان دونوں کا حوالہ دینے سے یہ ہے کہ جس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آنا ہو وہ انہی میں سے کسی ایک مقصد کو سامنے رکھ کر آئے اور وہی پیغمبرؐ کے التفات کے حق دار ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی نازبرداری کے خواہاں ہیں ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھیں اور اپنے انجام کا انتظار کریں۔
    جو بے پروائی برتتا ہے۔
    اصل تنبیہ: یہ وہ اصل تنبیہ ہے جو اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمائی گئی کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جو اپنی اصلاح کے طالب بن کر آئیں اور ان کے اندر خدا کے حضور پیشی کا خوف ہو وہ آپ کی توجہ کے اصل مستحق قرار پائیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جو بے پروا و بے نیاز ہیں آپ ان کو دعوت دینے کے لیے تو اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہیں حالانکہ وہ اگر اپنی اصلاح نہیں چاہتے تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔ آپ پر اصل ذمہ داری ان لوگوں کی ہے جو ذوق و شوق سے آپ کے پاس آتے ہیں لیکن آپ ان سے غفلت برتتے ہیں۔ چند باتوں کی وضاحت: ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔ دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳) (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔ تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘  
    اس کے تو تم پیچھے پڑتے ہو۔
    ’تَصَدّٰی‘ دراصل ’تَتَصَدَّدُ‘ ہے جو ’صَدد‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی متوازی اور مقابل کے ہیں۔ اس میں جو تغیر ہوا ہے وہ عربیت کے قاعدے کے مطابق ہوا ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو بے نیازی برتتے ہیں ان سے تو آپ معترض ہوتے اور ان کو پرچانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ بوجھ اللہ تعالیٰ نے آپ پر نہیں ڈالا ہے۔ چند باتوں کی وضاحت: ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔ دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳) (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔ تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘  
    حالانکہ تم پر کوئی ذمہ داری نہیں اگر وہ اپنی اصلاح نہ کرے۔
    ’وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّٰی‘۔ یعنی آپ پر اصل ذمہ داری انذار و بلاغ کی تھی، وہ کر چکنے کے بعد آپ ان سے بری الذمہ ہوئے۔ یہ ذمہ داری آپ پر نہیں ہے کہ آپ انھیں لازماً مومن و مسلم بھی بنا دیں۔ یہ مضمون پیچھے کی سورتوں میں مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور ہر جگہ اس کا مقصود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ آپ اپنی ذمہ داری سے زیادہ بوجھ اپنے اوپر نہ اٹھائیں اور اپنے کو غیرضروری مشقت میں نہ ڈالیں۔ اگر یہ محروم القسمت لوگ اپنی اصلاح نہیں چاہتے تو ان کو ان کی تقدیر کے حوالہ کریں۔ چند باتوں کی وضاحت: ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔ دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳) (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔ تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘  
    اور جو تمہارے پاس شوق سے آتا ہے۔
    ’جَآءَ کَ یَسْعٰی‘۔ ’سَعْیٌ‘ کا اصل مفہوم کسی کام کو ذوق و شوق اور سرگرمی و مستعدی سے کرنا ہے۔ دوڑنا اس کے لیے لازم نہیں ہے۔ ’فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ‘ کے معنی ہوں گے پس اللہ کے ذکر کی طرف سرگرمی اور مستعدی سے لپکو۔ آیت میں یہ لفظ اسی مفہوم میں آیا ہے یعنی جو لوگ آپ کے پاس نہایت ذوق و شوق سے اس طرح آتے ہیں جس طرح تشنہ چشمہ کی طرف بڑھتا ہے۔ چند باتوں کی وضاحت: ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔ دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳) (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔ تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘  
    اور وہ خدا سے ڈرتا بھی ہے۔
    ’وَھُوَ یَخْشٰی‘۔ یہ مقابل میں ہے ’اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی‘ کے۔ یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی مطلوبات و مرغوبات میں اس طرح کھوئے ہوئے ہیں کہ انھیں کبھی یہ فکر ستاتی ہی نہیں کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہے اور اس کے لیے بھی کوئی تیاری ضروری ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو اپنے اندر آخرت کی پیشی کا خوف رکھتے ہیں۔ اسی گروہ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ آپ کی باتیں سنے اور ان کو حرز جاں بنائے نہ کہ پہلے گروہ سے، لیکن آپ کا حال یہ ہے کہ آپ پتھروں میں جونک لگانے کے لیے تو رات دن سرگرم ہیں لیکن جن کے اندر اثرپذیری کی صلاحیت ہے ان کی طرف پوری توجہ کرنے کی فرصت آپ کو نہیں ملتی۔ چند باتوں کی وضاحت: ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔ دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳) (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔ تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘  
    تو تم اس سے بے پروائی برتتے ہو۔
    یعنی ایک تو وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی مطلوبات و مرغوبات میں اس طرح کھوئے ہوئے ہیں کہ انھیں کبھی یہ فکر ستاتی ہی نہیں کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہے اوراس کے لیے بھی کوئی تیاری ضروری ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو اپنے اندر آخرت کی پیشی کا خوف رکھتے ہیں۔ اسی گروہ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ وہ آپ کی باتیں سنے اور ان کو حرز جاں بنائے نہ کہ پہلے گروہ سے، لیکن آپ کا حال یہ ہے کہ آپ پتھروں میں جونک لگانے کے لیے تو رات دن سرگرم ہیں لیکن جن کے اندر اثرپذیری کی صلاحیت ہے ان کی طرف پوری توجہ کرنے کی فرصت آپ کو نہیں ملتی۔ چند باتوں کی وضاحت: ایک یہ کہ ان میں بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عتاب ہے اس کا اصل رخ آپ کی طرف نہیں بلکہ قریش کے ان نااہل لیڈروں کی طرف ہے جن سے کسی خیر کی امید باقی نہیں رہی تھی۔ اس وجہ سے ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ان سے صرف نظر کر کے اپنی ساری توجہ کا مرکز ان غریبوں کو بنائیں جو اسلام لا چکے تھے اور آپ کی تعلیم و تربیت کے اصل حق دار تھے۔ دوسری یہ کہ حضورؐ کو کسی فرض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی پر نہیں ٹوکا گیا ہے بلکہ اس بات پر ٹوکا گیا ہے کہ آپ نے اس سے زیادہ ذمہ داری اپنے اوپر اٹھا لی ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے آپ پر ڈالی ہے۔ گویا یہ اسی طرح کا پرمحبت و جاں نواز عتاب ہے جو’لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۳) (معلوم ہوتا ہے تم اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر کے رہو گے کہ وہ مومن نہیں بن رہے ہیں۔) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں گزر چکا ہے۔ تیسری یہ کہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ اسلام کی اصل دولت وہ غریب ہیں جن کے اندر خدا کی خشیت ہے نہ کہ وہ امیر جن کے سینے خدا کی خشیت سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے آپ اپنی توجہ کا اصل مرکز انہی کو بنائیں جو اہل ہیں۔ ان کے پیچھے اپنا وقت نہ ضائع کریں جن کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ہے۔ اس عتاب کی ایک حقیقت افروز تمثیل: استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں اس عتاب کے رخ کو ایک تمثیل سے سمجھایا ہے جو نہایت حقیقت افروز ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ’’اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ فرض کرو ایک نہایت مستعد اور فرض شناس چرواہا ہے۔ اس کے گلے کی کوئی فربہ بھیڑ گلے سے الگ ہو کر کھو جاتی ہے۔ چرواہا اس کی تلاش میں نکلتا ہے ہر قدم پر اس کی کُھر کے نشانات ملتے جا رہے ہیں۔ جنگل کے کسی گوشے سے اس کی آواز بھی آ رہی ہے۔ اس طرح وہ کامیابی کی امید میں دور تک نکل جاتا ہے اور اپنے اصل گلے سے کچھ دیر کے لیے غافل ہو جاتا ہے۔ جب وہ واپس لوٹتا ہے تو آقا اس کو ملامت کرتا ہے کہ تم پورے گلے کو چھوڑ کر ناحق ایک دیوانی بھیڑ کے پیچھے ہلکان ہوئے۔ اس کو چھوڑ دیتے، بھیڑیا کھا جاتا، وہ اسی کے لائق تھی۔ بتاؤ، اس میں عتاب کس پر ہوا؟ چرواہے پر یا کھوئی ہوئی بھیڑ پر۔ بالکل یہی صورت معاملہ یہاں بھی ہے۔ عتاب کا رخ بظاہر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضرور ہے لیکن غصہ کا سارا زور منکرین و مخالفین پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو اس عتاب کے اندر نہایت دل نواز شفقتیں مضمر ہیں۔‘‘  
    ہرگز نہیں، یہ تو ایک یاد دہانی ہے۔
    پیغمبر کی اصل ذمہ داری: ’کَلَّا‘ یعنی اس طرح کے ناقدروں سے اس طرح چمٹنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ قرآن بس ایک یاد دہانی ہے۔ جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جس کا جی نہ چاہے وہ اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہے جس سے یہ لوگوں کو آگاہ کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر پر ذمہ داری لوگوں تک اس یاددہانی کو پہنچا دینے کی ہے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اس کو اتار بھی دے۔ اس پر ذمہ داری انذار کی ہے نہ کہ ایک ایک کی نازبرداری کی! ’اِنَّھَا‘ میں ضمیر کا مرجع ’ذِکْرٰی‘ ہے جو آیت ۴ میں ہے۔ اور ’ذَکَرَہ‘ میں بھی مرجع وہی ہے لیکن یہاں لحاظ معنی کا ہے اس وجہ سے ضمیر مذکر آئی۔ چونکہ ’ذِکْرٰی‘ اور ’تَذْکِرَۃٌ‘ دونوں سے مراد قرآن ہی ہے اس وجہ سے یہاں ضمیر مذکر لا کر ان کے اصل مفہوم پر روشنی ڈال دی۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس سے وہ حقیقت واضح ہو گئی جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ یہاں اگر حضور پر کوئی عتاب ہے بھی تو اس کی نوعیت عتاب محبت کی ہے کہ آپ نے اپنے اوپر وہ بوجھ کیوں اٹھا لیا ہے جو آپ کے رب نے آپ پر نہیں ڈالا۔
    تو جو چاہے یاد دہانی حاصل کرے۔
    ’فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ‘ کے بعد کلام کا ایک حصہ حذف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی کہ ’جس کا جی چاہے اس یاددہانی سے فائدہ اٹھائے، جس کا جی چاہے وہ بہرا بنا رہے‘۔ دوسرے مقام پر یہی بات یوں فرمائی ہے: ’فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ‘ (الکہف ۱۸: ۲۹) (پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے)۔  
    لائق تعظیم، (بلند اور پاکیزہ) صحیفوں میں۔
    کلام کی عظمت کا بیان: اوپر کی آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مستکبرین سے اعراض اور بے پروائی برتنے کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے یہ اسی کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہارے شایان شان بات یہ نہیں ہے کہ ان مغروروں کے آگے تم اپنے آپ کو زیادہ جھکاؤ اسی طرح یہ کلام بھی، جو تم ان کو سنا رہے ہو، ایسی چیز نہیں ہے جو منت و سماجت کے ساتھ پیش کی جائے بلکہ یہ نہایت ہی اشرف، نہایت ہی بلند اور نہایت ہی پاکیزہ و برتر چیز ہے۔ یہ کوئی ناقص جنس نہیں ہے کہ تمہیں یہ فکر کرنی پڑے کہ کسی نہ کسی طرح یہ بک ہی جائے اگرچہ اس کی خاطر تمہیں خریداروں کی خوشامد ہی کرنی پڑے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خزانۂ محفوظ کے لعل و گہر ہیں جو تم مفت لٹا رہے ہو۔ اگر یہ لوگ اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں بلکہ اپنے ہی کو ابدی خسارے میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ’فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ‘۔ یہ اس کلام کی عالی نسبی اور عالی مقامی کی تعریف ہے۔ ’فِیْ صُحُفٍ‘ دراصل ’ھُوَ فِیْ صُحُفٍ‘ ہے۔ یہاں مبتداء کو حذف کر دیا ہے۔ صفات مابعد کے بیان میں مبتدا کا حذف عربیت میں معروف ہے۔ ’صَحِیْفَۃٌ‘ لکھے ہوئے ورق کو کہتے ہیں۔ جمع کی صورت میں یہ بعض اوقات کتاب کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اس سے اشارہ لوح محفوظ کی طرف ہے۔ ’مُّکَرَّمَۃٍ‘۔ یعنی وہ ایک عزیز، گراں مایہ اور قیمتی خزانہ ہے جس کی حفاظت اللہ کے فرشتے نہایت اہتمام سے کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نہ اس تک ہر ایک کی رسائی ہے اور نہ ہر ایک اس کا اہل ہے کہ اس میں سے کچھ لے یا پا سکے بلکہ یہ اللہ ہی ہے کہ اس میں سے جس کو چاہتا ہے کچھ بخشتا ہے اور اسی نے تمہیں اس خزانے سے بخشا ہے تو اس نعمت سے انہی کو بہرہ مند کرو جو اس کے اہل ہیں۔ نااہلوں کے آگے ان موتیوں کو نہ ڈالو۔ یہ بات انجیل میں بھی نہایت مؤثر تمثیل کی صورت میں آئی ہے اور ہم کسی موزوں مقام میں اس کو نقل کر آئے ہیں۔
    بلند اور پاکیزہ (صحیفوں میں)۔
    ’مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ‘۔ یہ دونوں صفتیں بھی اس کے مکرم ہونے کے پہلو ہی کی وضاحت کے لیے آئی ہیں۔ صفت ’مَرْفُوْعَۃٍ‘ معنی اور درجہ دونوں قسم کی بلندیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے، دوسرے مقام میں اس کی وضاحت یوں آئی ہے: ’وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ‘ (الزخرف ۴۳: ۴) (اور یہ اصل کتاب ہمارے پاس ہے، نہایت بلند اور پر حکمت)۔ ’مُطَھَّرَۃٍ‘ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ قرآن مجید شیاطین اور ارواح خبیثہ کی دسترس سے بالکل محفوظ ہے۔ مثلاً فرمایا ہے: ’فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ‘ (الواقعہ ۵۶: ۷۸-۷۹) (وہ ایک محفوظ کتاب میں ہے جس تک صرف پاکیزہ ہاتھوں ہی کی رسائی ہے)۔  
    (معزز) باوفا (کاتبوں کے) ہاتھوں میں۔
    اس کلام کے حاملین کی صفات: ’بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کِرَامٍ م بَرَرَۃٍ‘ ۔ یہ ان ملائکہ کی صفت بیان ہو رہی ہے جن کی امانت میں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز کو محفوظ فرمایا ہے۔ اوپر ’لَّا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ‘ والی آیت کا ہم نے حوالہ دیا ہے۔ اس میں جو بات منفی پہلو سے فرمائی گئی ہے وہی بات یہاں مثبت پہلو سے فرمائی گئی ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ اس کتاب عزیز تک ارواح خبیثہ کی رسائی نہیں ہے بلکہ یہ ان پاک فرشتوں کی تحویل میں ہے جو نہایت باعزت اور نہایت باوفا ہیں۔ ’سَفَرَۃٌ‘ جمع ہے ’سَافِرٌ‘ کی جس کے معنی قاری و کاتب کے ہیں۔ ’سفر‘ پڑھنے اور لکھنے دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ اس کے اشتقاق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اصل معنی ہیں تو لکھنے کے لیکن پڑھنے اور بیان کرنے کے مفہوم میں یہ وسیع ہو گیا ہے۔
    معزز (باوفا) کاتبوں کے ہاتھوں میں۔
    لفظ ’کِرَامٍ‘ میں ان کی عالی مقامی اور بلند کرداری کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایسے بلند مرتبہ اور معزز ہیں کہ ان سے کسی خیانت کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ نہ وہ اس میں خود کمی بیشی کر سکتے، نہ یہ امکان ہے کہ جنات و شیاطین کو اس تک رسائی کا کوئی موقع دیں۔ ’بَرَرَۃٍ‘ جمع ہے ’بَارٌّ‘ کی۔ ’بَارٌّ‘ کہتے ہیں فرماں بردار، باوفا اور اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے کو۔ یہ صفت ان کی امانت داری کے وصف کو مزید نمایاں کرنے کے لیے آئی ہے مثلاً فرمایا ہے: ’نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ‘ (الشعراء ۲۶: ۱۹۳) (یہ کلام جبریل امین کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے)۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہے: ’اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ‘ (التکویر ۸۱: ۱۹-۲۱) (یہ کلام ایک باعزت رسول کے واسطہ سے القاء ہوا ہے۔ وہ بڑی قوت والا اور عرش والے کے حضور میں نہایت مقرب ہے۔ اس کی بات مانی جاتی ہے۔ مزید برآں وہ نہایت معتمد ہے)۔ قرآن اور اس کے محافظین کی ان صفات کے ذکر سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے منت و سماجت کے ساتھ پیش کی جائے بلکہ جس عظمت و شان کا وہ کلام ہے اسی وقار و خودداری کے ساتھ اس کی دعوت دی جائے اور جس طرح کے باوقار ملائکہ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اور اس کو نازل کرنے پر مامور فرمایا ہے چاہیے کہ اللہ کا رسول اور اس کے ساتھی بھی اس کی دعوت و تبلیغ میں اسی کردار کا مظاہرہ کریں۔ یہیں سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ وحی الٰہی کے اخذ و تلقّی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس ذات کا انتخاب فرمایا اور پھر جن لوگوں پر اس کی حفاظت و صیانت اور تحریر و کتابت کی ذمہ داری ڈالی وہ کس کردار اور کن صفات کے لوگ تھے اور انھوں نے کس دیانت و امانت کے ساتھ اپنے اس فرض کو انجام دیا۔ گویا جن صفات کے ملائکہ کو اس خدمت پر آسمانوں میں مامور فرمایا گیا انہی صفات کے انسانوں کو اس زمین پر اس کے حمل و نقل کے لیے منتخب فرمایا گیا۔  
    برا ہو آدمی کا، یہ کتنا ناشکرا ہے!
    انسان کی بددماغی پر اظہار افسوس: اگرچہ لفظ ’اَلْإِنسَانُ‘ عام ہے لیکن کلام کا رخ انہی مستکبرین کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ ہم پیچھے مناسب مواقع پر زبان کے اس اسلوب کی طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ بعض مرتبہ کلام کا رخ ہوتا تو کسی خاص شخص یا کسی مخصوص گروہ ہی کی طرف ہے لیکن بات ان سے منہ پھیر کر عام صیغے سے کہہ دی جاتی ہے جس سے متکلم کی بے زاری کا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ فرمایا کہ یہ انسان بھی عجیب مخلوق ہے! غارت ہو! کتنا ناشکرا بن کے رہ گیا ہے! اس کی بددماغی کا حال یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کو اللہ کا کلام اور پیغام بھی سنایا جائے تو اس کے آگے جھک کر اور نیاز مند بن کر سنایا جائے! دراز دستئ ایں کو تہ آستیناں بین! ’مَا أَکْفَرَہٗ‘ کا اسلوب اظہار تعجب اور اظہار نفرت دونوں کا حامل ہے۔  
    اسے کس چیز سے پیدا کیا؟
    یہ ان مغروروں کے کبر و غرور پر ضرب لگائی ہے لیکن مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں انسان کی خِلقت، مادۂ خِلقت، مراحل خِلقت، وسائل معیشت غرض زندگی، موت، قبر سے لے کر حشر و نشر تک ساری باتوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے تاکہ ان پر اپنے غرور کی بے ثباتی بھی واضح ہو جائے اور وہ خود اپنی زندگی کے آئینہ میں اس جزا و سزا کو بھی دیکھ لیں جس کی خبر قرآن ان کو دے رہا ہے۔ ’مِنْ أَیِّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ‘۔ یہ سوال تحقیر کے لیے بھی ہے اور زندگی بعد الموت کی طرف توجہ دلانے کے لیے بھی۔ ان متمردین کو زعم تھا کہ جس طرح اس دنیا میں وہ باعزت اور صاحب سیادت و قیادت ہیں اسی طرح آخرت ہوئی تو وہاں بھی ان کے لیے شایان شان مراتب ہوں گے۔ اس زعم کے سبب سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انداز ان کے دلوں پر بڑا شاق گزرتا تھا کہ یہ ہم کو تو جہنم میں جھونکے جانے کے ڈراوے سنا رہے ہیں اور ان فتو فقیروں کو جنت اور ابدی بادشاہی کی بشارت دے رہے ہیں جو ہمیشہ سے ہماری جوتیاں سیدھی کرتے آئے ہیں اور جن کو اپنے پہلو میں بٹھانا بھی ہم نے گوارا نہ کیا۔ ان کے اس زعم پر قرآن نے ان الفاظ میں ضرب لگائی ہے: فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا قِبَلَکَ مُہْطِعِیْنَ ۵ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ ۵ أَیَطْمَعُ کُلُّ امْرِءٍ مِّنْہُمْ أَن یُدْخَلَ جَنَّۃَ نَعِیْمٍ ۵ کَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاہُم مِّمَّا یَعْلَمُوۡنَ (المعارج ۷۰: ۳۶-۳۹) ’’پس ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ تمہارے اوپر پلے پڑ رہے ہیں، داہنے بائیں سے ٹولیاں بنا بنا کر! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ نعمت کے باغ میں داخل کر دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں، ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں!‘‘ ان آیات کا سیاق و سباق اور اس کی تفسیر تدبر قرآن کی روشنی میں سمجھ لیجیے۔ یعنی نجس پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوئی مخلوق کو اپنی برتری اور پاک دامنی کا یہ غرّہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے آپ کو پیدائشی حق دار جنت سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح قرآن نے جگہ جگہ انسان کی خِلقت اور اس کے مادۂ خِلقت سے قیامت پر اس پہلو سے استدلال کیا ہے کہ جو خدا پانی کی ایک حقیر بوند کو انسان بنا سکتا ہے اس کے لیے اس کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے! یہ مضمون، مختلف اسلوبوں سے باربار بیان ہوا ہے، ہم صرف چند جامع آیات یہاں نقل کرتے ہیں: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنۡسَانَ مِنۡ سُلَالَۃٍ مِّنۡ طِیْنٍ ۵ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ۵ ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ۵ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تُبْعَثُوْنَ (المومنون ۲۳: ۱۲-۱۶) ’’اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند کی شکل میں ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ پھر ہم نے بوند کو ایک جنین کی شکل دی پھر اس جنین کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا اور اس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا پھر اس کو ایک بالکل ہی دوسری شکل دے دی۔ پس بڑا ہی بافیض و بابرکت ہے اللہ، بہترین خالق! پھر اس کے بعد لازماً تم مرنے والے ہو پھر تم قیامت کے دن اٹھائے بھی جاؤ گے۔‘‘  
    پانی کی ایک بوند سے! اس کو پیدا کیا۔ پھر اس کے لیے ایک اندازہ ٹھہرایا۔
    ’مِنْ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہُ فَقَدَّرَہ‘۔ سوال کا جواب چونکہ بالکل واضح تھا جس سے کسی کے لیے بھی انکار کی گنجائش نہیں تھی اس وجہ سے جواب خود ہی دے دیا کہ پانی کی ایک بوند سے انسان کو پیدا کیا۔ اس پانی کی صفت قرآن کے دوسرے مقام میں ’مھین‘ آئی ہے جس کے معنی حقیر و ذلیل کے ہیں۔ یعنی نہ اپنی کمیت کے اعتبار سے کوئی بڑی چیز نہ قدر و قیمت کے اعتبار سے کوئی گوہر گراں مایہ! تو ایسے نجس قطرے سے وجود میں آنے والے انسان کو زیادہ اترانا کس طرح زیب دیتا ہے! انسان کی خلقت میں تدبیر و حکمت کا پہلو: ’خَلَقَہُ فَقَدَّرَہٗ‘۔ تحقیر کے مضمون کے بعد کلام کا رخ اس تقدیر، تدبیر اور تیسیر کے بیان کی طرف مڑ گیا ہے جو انسان کی خلقت اور اس کی زندگی کے اطوار و مراحل میں نمایاں ہے اور جو اس بات کی ناقابل انکار شہادت ہے کہ قدرت جس قطرے کو گہر بنانے پر اپنے عجائب تصرف کی اتنی شانیں دکھاتی ہے وہ کوئی عبث اور بے مقصد چیز نہیں ہو سکتی بلکہ لازم ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں وہ اس کی قدر و قیمت کو پرکھے، اس کے خیر و شر کو تولے اور پھر جس کو اپنی میزان میں باوزن پائے اس کو چھانٹ لے اور جس کو ناکارہ اور بے قیمت پائے اس کو خس و خاشاک کی طرح تنور میں جھونک دے۔ ’فَقَدَّرَہٗ‘ میں اشارہ ان منازل و مراحل کی طرف ہے جو انسان کی تدریجی تشکیل میں نمایاں ہیں۔ جس طرح چاند کے عروج و محاق کی منازل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ لفظ آیا ہے، مثلاً ’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۳۹) (اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرا دی ہیں) اسی طرح انسان کے تدریجی نشوونما اور اس کے بچپن، جوانی اور پھر زوال و فنا کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ لفظ یہاں استعمال ہوا ہے۔ اوپر سورۂ مومنون کی آیات کا حوالہ گزرا ہے اس میں بھی یہ مضمون ہے اور یہاں آگے کی آیات میں بھی اس کے بعض پہلو واضح فرمائے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تدریج و تقدیر خدا کی قدرت و حکمت اور اس اہتمام پر دلیل ہے جو انسان کی تخلیق میں نمایاں ہے اور یہ قدرت اور یہ اہتمام اس امر کی دلیل ہے کہ انسان کوئی عبث چیز نہیں ہے بلکہ اس کی خِلقت ایک عظیم غایت کے لیے ہے جس کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے، اس کا حساب ہو، اس کو جزا یا سزا ملے۔ ساتھ ہی انسان کی تخلیق میں خدا کی جو قدرت نمایاں ہے وہ اس بات کی ناقابل تردید دلیل ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ذرا بھی مستبعد نہیں ہے۔  
    پھر اس کے لیے راہ آسان کر دی۔
    تیسیر اپنے وسیع مفہوم میں: ’ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ‘۔ مفسرین نے عام طور پر اس تیسیر سے وہ تدبیر مراد لی ہے جو قدرت نے بچے کے بطن مادر سے برآمد ہونے کے لیے خود عورت اور بچہ کے نظام جسم میں ودیعت فرما دی ہے اور جو دونوں کی مدد کے لیے عین وقت پر نمودار ہوتی ہے۔ یہ بات غلط نہیں ہے۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ یہ قدرتی انتظام نہ ہو تو کوئی دوسری تدبیر اس کا بدل نہیں ہے بلکہ زچہ و بچہ دونوں کے گھٹ کر مر جانے کا اندیشہ ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک تیسری کے مفہوم کو اس قدر محدود کر دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بچہ جس طرح بطن مادر کے اندر قدرت ہی کی تدبیر و تیسیر سے نشوونما پاتا ہے اسی طرح مہد سے لحد تک قدرت ہی کی تیسیر اور رہنمائی سے وہ زندگی کے تمام نشیب و فراز طے کرتا ہے۔ یہ خدا ہی کی تیسیر ہے کہ بچہ کے پیدا ہونے کے بعد اس کی ماں کی چھاتیوں میں اس کے تغذیہ کے لیے دودھ اترتا ہے اور اس کو قدرت کی طرف سے جبلی طور پر یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ماں کی چھاتیوں کو چوسے۔ اسی طرح جوانی کے دور میں، وہ زندگی کے مختلف میدانوں میں جو سرگرمیاں دکھاتا اور جو فتوحات حاصل کرتا ہے ان میں بھی وہ خدا ہی کے بخشے ہوئے اعضاء و اسلحہ، خدا ہی کی عطا کردہ عقل اور خدا ہی کی بخشی ہوئی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ سورۂ اعلیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شان یہ بتائی ہے کہ ’الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ۵ وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی‘ (الاعلیٰ ۸۷: ۲-۳) (جس نے خاکہ بنایا اور اس کے نوک پلک سنوارے اور جس نے صلاحیتیں ودیعت کیں اور پھر ان کے استعمال کی راہ دکھائی)۔ یہی حال انفسی اور اخلاقی عالم میں بھی ہے۔ سورۂ شمس میں فرمایا ہے: ’وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا ۵ فَأَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقْوَاہَا ۵ قَدْ أَفْلَحَ مَنۡ زَکَّاہَا ۵ وَقَدْ خَابَ مَنۡ دَسَّاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۷-۱۰) (شاہد ہے نفس اور اس کی ترکیب، پس اس کو الہام کی اس کی بدی اور نیکی تو جس نے اس کو پاک رکھا اس نے فلاح پائی اور جس نے گندا کیا وہ نامراد ہوا)۔ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں خواہ وہ روحانی ہو یا مادی اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کی راہ ہموار کی۔ اگر وہ اس راہ پر چلے تو وہ کبھی ٹھوکر نہ کھائے لیکن اپنے اختیار کے سوء استعمال سے وہ سیدھی راہ کے بجائے ٹیڑھی راہ اختیار کر لیتا ہے جو اس کو کسی ہلاکت کے کھڈ میں لے جا پھینکتی ہے۔  
    پھر اس کو موت دی پھر اس کو دفن کرایا۔
    ’ثُمَّ أَمَاتَہُ فَاَقْبَرَہٗ‘۔ یہ زندگی کے آخری مرحلہ کی طرف اشارہ ہے کہ بالآخر وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو موت دیتا اور دفن کراتا ہے۔ ہر پیدا ہونے والے کے لیے پیدا ہونے کے بعد سب سے زیادہ یقینی چیز موت ہی ہے۔ قدرت نے اس کو ایسے ضابطوں کے اندر جکڑ رکھا ہے کہ موت سے کسی کے لیے بھی مفر نہیں ہے۔ اس کی کمند بالکل بے خطا ہے۔ آخری مرحلہ: ’اَقْبَرَہٗ‘ کے معنی کسی کو قبر میں رکھوانا یا دفن کرنا ہے۔ اس لفظ میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ جو مرتا ہے وہ فنا نہیں ہو جاتا بلکہ قدرت اس کو زمین کی تحویل میں دے دیتی ہے۔ جو شے تحویل میں دی جاتی ہے وہ لازماً ایک دن واپس لی جاتی ہے چنانچہ جب وقت آئے گا اللہ تعالیٰ اس امانت کو زمین سے واپس لے گا۔
    پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا۔
    ’ثُمَّ إِذَا شَآءَ اَنشَرَہٗ‘۔ ’اِنْشَارٌ‘ کے معنی کھولنے، پھیلانے، چھینٹنے اور ازسرنو اٹھا کھڑا کرنے کے ہیں۔ یعنی جب وہ چاہے گا اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کام میں اس کو ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ جب پانی کی ایک بوند کو رحم مادر کے اندر اس نے ایک انسان کی شکل دے دی اور اس کام میں اس کو کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو اسی انسان کو زمین میں دفن کرانے کے بعد اس سے ازسرنو برآمد کر لینا کیوں محال ہو جائے گا!
    ہرگز نہیں، اس نے اس حکم کی تعمیل اب تک نہ کی جو اس کے رب نے اسے دیا۔
    یہ آیت اوپر والی آیت ’قُتِلَ الْإِنۡسَانُ مَا أَکْفَرَہٗ‘ کے بالکل متوازی آیت ہے جس طرح اس میں ہٹ دھرموں کی ہٹ دھرمی پر اظہار تعجب اور پھر ان کے اپنے وجود سے اس قیامت پر دلیل ہے جس کو وہ ناممکن سمجھ رہے تھے اسی طرح اس آیت میں ان کی کج فہمی پر بانداز زجر ملامت اور اس کے بعد قیامت اور جزا و سزا پر اس اہتمام ربوبیت سے دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے گرد و پیش میں پھیلا رکھا ہے اور جو زبان حال سے یہ شہادت دے رہا ہے کہ جس انسان کے لیے رب کریم نے یہ خوان نعمت بچھایا ہے وہ غیرمسؤل نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اس کے لیے لازماً ایک روز حساب آنے والا ہے۔ ’لَمَّا یَقْضِ مَا أَمَرَہٗ‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ جہاں تک سمجھانے اور دلائل پیش کرنے کا تعلق ہے اس میں اب کوئی کسر نہیں رہ گئی ہے لیکن ان ضدیوں کی ضد اور مکابرت کا وہی حال ہے جو پہلے تھا۔ جس دن کے لیے تیاری کی ان کو ہدایت کی جا رہی ہے اب بھی وہ اس سے بے پروا ہیں۔ ’مَا أَمَرَہٗ‘ میں وہ تمام احکام و اوامر بھی داخل ہیں جو فطرت کی بدیہیات میں سے ہیں اور وہ احکام بھی جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے۔ بدیہیات فطرت کے امر الٰہی ہونے کی وضاحت ہم آیت ’فَأْتُوہُنَّ مِنْ حَیْْثُ أَمَرَکُمُ اللّٰہُ‘ (البقرہ ۲: ۲۲۲) کے تحت کر چکے ہیں۔
    پس انسان اپنی غذا پر دھیان کرے۔
    غور کرنے والے کے لیے دلائل کی کمی نہیں ہے: یعنی اگر وہ دلیل ان کی سمجھ میں نہیں آئی جو بیان ہوئی تو دلیلوں کی کمی نہیں ہے۔ انسان اپنی غذا ہی کے مسئلہ پر ذرا غور کی نگاہ ڈالے جس پر اس کی زندگی کا انحصار ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرتا پھر کس وسعت، کس تنوع اور ضروریات کی نوعیت کے لحاظ سے کتنی گوناگوں شکلوں میں اس کو پھیلا دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس پر غور کرے گا تو ضد کی بات اور ہے لیکن اس کی عقل میں فتور نہیں ہے تو وہ نہایت آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے لوگوں کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ جو بارش اس کی غذا کا ذریعہ ہے وہی برابر اس کا مشاہدہ کراتی رہتی ہے۔ ساتھ ہی یہ نکتہ بھی اس کی سمجھ میں آ جائے گا کہ ربوبیت کا یہ وسیع انتظام مستلزم ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے آگے جواب دہ ہو۔ ایک دن لازماً اس سے پرسش ہونی ہے کہ اس نے ان نعمتوں کا حق ادا کیا یا نہیں۔ ہر حق کے ساتھ ذمہ داری کا لزوم ایک امر فطری ہے۔
    کہ ہم نے برسایا پانی اچھی طرح۔
    غور کرنے کا طریقہ: صرف غور کرنے کی دعوت ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ غور کی لائن بھی معین کر دی کہ یوں غور کرے۔ فرمایا کہ یہ ہماری ہی قدرت و عنایت کا کرشمہ ہے کہ ہم اچھی طرح مینہ برساتے اور پھر زمین کے مسامات کو اس مینہ سے سیراب ہونے کے لیے اچھی طرح کھول دیتے ہیں۔ نہ آسمان سے پانی برسانا کسی کے بس میں ہے اور نہ زمین کے مسامات کو کھولنا کسی کے امکان میں، درآنحالیکہ انہی دونوں چیزوں پر زمین کی تمام فیض بخشی کا انحصار ہے۔ یہی مضمون سورۂ انبیاء میں یوں بیان ہوا ہے: ’اِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا‘ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) (آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں پس ہم ان کو کھول دیتے ہیں)۔ اوپر کے پیرے میں انسان کی خِلقت کی جو نوعیت بیان ہوئی ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے غور کیجیے تو دونوں دلیلوں کی مشابہت واضح ہو گی۔ وہاں بیان دلیل کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ بات اثبات امکان قیامت سے چلی پھر ربوبیت، مسؤلیت اور جزا و سزا تک پہنچتی ہے۔ یہاں بھی آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ استدلال کی ترتیب وہی ہے۔ پہلے ایک جامع بات نے امکان معاد کی تمہید استوار کر دی۔ اس کے بعد ربوبیت کے آثار کی طرف توجہ دلائی گئی اور پھر مسؤلیت اور جزا و سزا کو ایک بدیہی نتیجہ کے طور پر سامنے رکھ دیا گیا ہے۔  
    پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح۔
    غور کرنے کا طریقہ: صرف غور کرنے کی دعوت ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ غور کی لائن بھی معین کر دی کہ یوں غور کرے۔ فرمایا کہ یہ ہماری ہی قدرت و عنایت کا کرشمہ ہے کہ ہم اچھی طرح مینہ برساتے اور پھر زمین کے مسامات کو اس مینہ سے سیراب ہونے کے لیے اچھی طرح کھول دیتے ہیں۔ نہ آسمان سے پانی برسانا کسی کے بس میں ہے اور نہ زمین کے مسامات کو کھولنا کسی کے امکان میں، درآنحالیکہ انہی دونوں چیزوں پر زمین کی تمام فیض بخشی کا انحصار ہے۔ یہی مضمون سورۂ انبیاء میں یوں بیان ہوا ہے: ’اِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا‘ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) (آسمان اور زمین دونوں بند ہوتے ہیں پس ہم ان کو کھول دیتے ہیں)۔ اوپر کے پیرے میں انسان کی خِلقت کی جو نوعیت بیان ہوئی ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے غور کیجیے تو دونوں دلیلوں کی مشابہت واضح ہو گی۔ وہاں بیان دلیل کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ بات اثبات امکان قیامت سے چلی پھر ربوبیت، مسؤلیت اور جزا و سزا تک پہنچتی ہے۔ یہاں بھی آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ استدلال کی ترتیب وہی ہے۔ پہلے ایک جامع بات نے امکان معاد کی تمہید استوار کر دی۔ اس کے بعد ربوبیت کے آثار کی طرف توجہ دلائی گئی اور پھر مسؤلیت اور جزا و سزا کو ایک بدیہی نتیجہ کے طور پر سامنے رکھ دیا گیا ہے۔  
    پھر اُگائے اس میں غلّے۔
    زمین کی بعض برکتیں: آسمان و زمین یا بالفاظ دیگر بارش اور زمین کے باہمی تفاعل سے اللہ تعالیٰ کی پروردگاری کی جو برکتیں اہل زمین کے لیے ظہور میں آتی ہیں یہ ان میں بعض ایسی نمایاں چیزوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن سے قرآن کے اول مخاطب واقف بھی تھے اور جو انسان کی غذائی ضروریات میں بنیادی اہمیت رکھنے والی بھی ہیں۔ سب سے پہلے بعض ان چیزوں کی طرف توجہ دلائی جو زمین سے لگی ہوئی یا اس پر بچھی ہوئی پیدا ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نظر اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی، مثلاً غلّہ، انگور اور ترکاریاں۔ غلّہ غذائی چیزوں میں بنیادی اہمیت رکھنے والا ہے۔ دوسری ساری چیزیں اس کے تحت ہیں۔ اس وجہ سے اس کا ذکر سب سے پہلے کیا، غلّہ کے بعد غذائی چیزوں میں دوسری اہمیت رکھنے والی چیز پھل ہے اور پھلوں میں راس الاثمار کی حیثیت انگور کو حاصل ہے اس پہلو سے بطور نمونہ اس کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ترکاریوں کا ذکر فرمایا جو زمین پر پھیلی ہوئی پیدا ہوتی اور غلہ کے ساتھ سالن کے طور پر کام آتی ہیں، بعض کچی حالت میں اور بعض پکا کر۔ لفظ ’قضب‘ کا غالب استعمال اگرچہ انہی سبزیوں اور ترکاریوں کے لیے ہے جو کچی کھائی جاتی اور تیار سالن کے حکم میں داخل ہیں لیکن عام سبزیوں اور ترکاریوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے بعد بعض ان نعمتوں کا ذکر ہے جو فضا میں ابھرے ہوئے درختوں سے حاصل ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نگاہ اٹھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ بطور مثال ان میں سے زیتون اور کھجور کا ذکر فرمایا۔ زیتون کو روغن پیدا کرنے والی چیزوں میں جو اہمیت حاصل ہے وہ معلوم ہے۔ قرآن میں اس کے روغن کی غذائی اہمیت کا بھی ذکر ہے اور سورۂ نور میں اس سے جلنے والے روشن چراغوں کی تمثیل بھی بیان ہوئی ہے۔ پھر کھجور کا ذکر ہے۔ کھجور اہل عرب کے لیے بیک وقت گوناگوں فوائد و برکات کا مجموعہ ہے۔ یہ ان کے لیے غذا سے بھرپور میوہ بھی ہے اور ذخیرہ کیے جانے کے قابل نہایت پرمنفعت غلہ بھی۔ علاوہ ازیں اس سے وہ نہایت لذیذ مشروب بھی حاصل کرتے۔
    (پھر اُگائے اس میں) انگور، ترکاریاں۔
    زمین کی بعض برکتیں: آسمان و زمین یا بالفاظ دیگر بارش اور زمین کے باہمی تفاعل سے اللہ تعالیٰ کی پروردگاری کی جو برکتیں اہل زمین کے لیے ظہور میں آتی ہیں یہ ان میں بعض ایسی نمایاں چیزوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن سے قرآن کے اول مخاطب واقف بھی تھے اور جو انسان کی غذائی ضروریات میں بنیادی اہمیت رکھنے والی بھی ہیں۔ سب سے پہلے بعض ان چیزوں کی طرف توجہ دلائی جو زمین سے لگی ہوئی یا اس پر بچھی ہوئی پیدا ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نظر اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی، مثلاً غلّہ، انگور اور ترکاریاں۔ غلّہ غذائی چیزوں میں بنیادی اہمیت رکھنے والا ہے۔ دوسری ساری چیزیں اس کے تحت ہیں۔ اس وجہ سے اس کا ذکر سب سے پہلے کیا، غلّہ کے بعد غذائی چیزوں میں دوسری اہمیت رکھنے والی چیز پھل ہے اور پھلوں میں راس الاثمار کی حیثیت انگور کو حاصل ہے اس پہلو سے بطور نمونہ اس کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ترکاریوں کا ذکر فرمایا جو زمین پر پھیلی ہوئی پیدا ہوتی اور غلہ کے ساتھ سالن کے طور پر کام آتی ہیں، بعض کچی حالت میں اور بعض پکا کر۔ لفظ ’قضب‘ کا غالب استعمال اگرچہ انہی سبزیوں اور ترکاریوں کے لیے ہے جو کچی کھائی جاتی اور تیار سالن کے حکم میں داخل ہیں لیکن عام سبزیوں اور ترکاریوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے بعد بعض ان نعمتوں کا ذکر ہے جو فضا میں ابھرے ہوئے درختوں سے حاصل ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نگاہ اٹھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ بطور مثال ان میں سے زیتون اور کھجور کا ذکر فرمایا۔ زیتون کو روغن پیدا کرنے والی چیزوں میں جو اہمیت حاصل ہے وہ معلوم ہے۔ قرآن میں اس کے روغن کی غذائی اہمیت کا بھی ذکر ہے اور سورۂ نور میں اس سے جلنے والے روشن چراغوں کی تمثیل بھی بیان ہوئی ہے۔ پھر کھجور کا ذکر ہے۔ کھجور اہل عرب کے لیے بیک وقت گوناگوں فوائد و برکات کا مجموعہ ہے۔ یہ ان کے لیے غذا سے بھرپور میوہ بھی ہے اور ذخیرہ کیے جانے کے قابل نہایت پرمنفعت غلہ بھی۔ علاوہ ازیں اس سے وہ نہایت لذیذ مشروب بھی حاصل کرتے۔
    (پھر اُگائے اس میں) زیتون، کھجور۔
    زمین کی بعض برکتیں: آسمان و زمین یا بالفاظ دیگر بارش اور زمین کے باہمی تفاعل سے اللہ تعالیٰ کی پروردگاری کی جو برکتیں اہل زمین کے لیے ظہور میں آتی ہیں یہ ان میں بعض ایسی نمایاں چیزوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن سے قرآن کے اول مخاطب واقف بھی تھے اور جو انسان کی غذائی ضروریات میں بنیادی اہمیت رکھنے والی بھی ہیں۔ سب سے پہلے بعض ان چیزوں کی طرف توجہ دلائی جو زمین سے لگی ہوئی یا اس پر بچھی ہوئی پیدا ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نظر اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی، مثلاً غلّہ، انگور اور ترکاریاں۔ غلّہ غذائی چیزوں میں بنیادی اہمیت رکھنے والا ہے۔ دوسری ساری چیزیں اس کے تحت ہیں۔ اس وجہ سے اس کا ذکر سب سے پہلے کیا، غلّہ کے بعد غذائی چیزوں میں دوسری اہمیت رکھنے والی چیز پھل ہے اور پھلوں میں راس الاثمار کی حیثیت انگور کو حاصل ہے اس پہلو سے بطور نمونہ اس کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد ترکاریوں کا ذکر فرمایا جو زمین پر پھیلی ہوئی پیدا ہوتی اور غلہ کے ساتھ سالن کے طور پر کام آتی ہیں، بعض کچی حالت میں اور بعض پکا کر۔ لفظ ’قضب‘ کا غالب استعمال اگرچہ انہی سبزیوں اور ترکاریوں کے لیے ہے جو کچی کھائی جاتی اور تیار سالن کے حکم میں داخل ہیں لیکن عام سبزیوں اور ترکاریوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کے بعد بعض ان نعمتوں کا ذکر ہے جو فضا میں ابھرے ہوئے درختوں سے حاصل ہوتی ہیں اور جن کو دیکھنے کے لیے نگاہ اٹھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ بطور مثال ان میں سے زیتون اور کھجور کا ذکر فرمایا۔ زیتون کو روغن پیدا کرنے والی چیزوں میں جو اہمیت حاصل ہے وہ معلوم ہے۔ قرآن میں اس کے روغن کی غذائی اہمیت کا بھی ذکر ہے اور سورۂ نور میں اس سے جلنے والے روشن چراغوں کی تمثیل بھی بیان ہوئی ہے۔ پھر کھجور کا ذکر ہے۔ کھجور اہل عرب کے لیے بیک وقت گوناگوں فوائد و برکات کا مجموعہ ہے۔ یہ ان کے لیے غذا سے بھرپور میوہ بھی ہے اور ذخیرہ کیے جانے کے قابل نہایت پرمنفعت غلہ بھی۔ علاوہ ازیں اس سے وہ نہایت لذیذ مشروب بھی حاصل کرتے۔
    (پھر اُگائے اس میں) گھنے باغ۔
    ’وَحَدَائِقَ غُلْبًا‘۔ خاص خاص چیزوں کے ذکر کے بعد یہ عام باغوں کی طرف اشارہ فرما دیا۔ ’حَدِیْقَۃ‘ گھرے ہوئے باغ کو کہتے ہیں۔ ’غُلْبٌ‘ جمع ہے ’اغلب‘ کی جس کے معنی موٹی گردن والے کے ہیں۔ لیکن جب یہ باغ کی صفت کے طور پر آئے تو اس سے مقصود درختوں کی شادابی کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ باغ شاداب ہو گا تو لازماً درختوں کا گھیراؤ بڑھ جائے گا اور ان کے اوپر کے حصے باہم دگر مل کر گھنے ہو جائیں گے۔
    (پھر اُگائے اس میں) میوے اور سبزہ۔
    ’وَفَاکِہَۃً وَاَبًّا‘۔ یہ اس عام کو عام تر کر دیا تا کہ قدرت کے اس خوان کرم کا دائرہ انسانوں کے ساتھ ان حیوانات تک وسیع ہو جائے جو بلاواسطہ یا بالواسطہ اس کے کام آتے ہیں۔ اوپر میووں میں سے صرف خاص خاص کا ذکر نام کی تصریح کے ساتھ ہوا تھا، یہاں لفظ ’فَاکِہَۃٌ‘ استعمال کر کے تمام میووں کی طرف اشارہ فرما دیا، خواہ عرب میں پیدا ہوتے ہوں یا عجم میں، خواہ وہ اعلیٰ درجے کے ہوں یا ادنیٰ درجے کے اور خواہ وہ پرندوں ہی کے لیے مخصوص ہوں یا انسان بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ علاوہ ازیں اوپر صرف انہی نعمتوں کا ذکر ہے جو انسانوں کو حاصل ہیں، درآنحالیکہ انسانوں کے ساتھ ان کی خدمت کرنے والے چوپائے بھی ہیں جن کا انسان محتاج بھی ہے اور جو اسی طرح پرورش کے حاجت مند ہیں جس طرح انسان ہے، لیکن خاص ان کے لیے کسی چیز کا ذکر نہیں ہوا تھا۔ وہ کمی یہاں لفظ ’اَبٌّ‘ کا اضافہ کر کے پوری کر دی۔ ’اَبٌّ‘ کے معنی نباتات اور شاداب گھاس کے ہیں۔ چوپایوں کے کام آنے والی چیز تو وہ بھُس بھی ہے جو غلہ سے الگ کیا جاتا ہے لیکن وہ عام اور معمولی چیز ہے جب کہ یہاں موقع کسی ایسی چیز کے ذکر کا تھا جو ان کے لیے وہی درجہ رکھتی ہو جو درجہ انسانوں کے لیے ’فواکہ‘ کا ہے۔ تازہ اور شاداب گھاس ان کے لیے عام بھی ہے اور ساتھ ہی ان کے وہ تمام میووں، سبزیوں اور ترکاریوں کا بہترین بدل بھی ہے جو انسان کو حاصل ہیں۔ لفظ ’اَبٌّ‘ پر استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں مفصل بحث کر کے ثابت کیا ہے کہ یہ لفظ عربی کے معروف الفاظ میں سے ہے اس وجہ سے بعض روایات میں یہ بات جو نقل ہوئی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کو اس کے معنی کا علم نہیں تھا، کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ میرے نزدیک استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق نہایت تشفی بخش ہے۔ اگر کسی کو اس کے بارے میں کوئی خلش ہو تو وہ مولانا کی تفسیر سورۂ عبس کی مراجعت کرے۔
    تمہاری اور تمہارے مویشیوں کی نفع رسانی کے لیے۔
    فرمایا کہ یہ چیزیں ہم نے تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے برتنے کے لیے پیدا کی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا تمہاری نفع رسانی کے لیے ہونا تو بالکل واضح ہے اور اس امر میں بھی کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ سب نعمتیں تمہارے پروردگار کے فضل سے حاصل ہوتی ہیں تو اب تم سوچو کہ ان انعامات کے بعد تمہارے اوپر خدا کی طرف سے کوئی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے یا نہیں؟ یہ آخری بات اگرچہ لفظوں میں مذکور نہیں ہے لیکن سیاق کلام سے یہ خود واضح ہے، اس لیے کہ اوپر سے اصل بحث ہی یہی چلی آ رہی ہے کہ یہ ضدی اور مغرور لوگ اپنے رب کی ناشکری اس وجہ سے نہیں کر رہے ہیں کہ ان پر خدا کے حقوق واضح نہیں ہیں یا یہ اپنی ذمہ داریوں کے شعور سے نابلد ہیں بلکہ یہ جان بوجھ کر محض اکڑ اور ضد کے سبب سے پیغمبر کی کوئی بات اپنی خواہشوں کے خلاف سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    پس جب وہ کانوں کو بہرا کر دینے والی آواز آئے گی! (تب وہ شدنی ظاہر ہو گی)۔
    قیامت کی یاددہانی: ’صَآخَّۃٌ‘ کے معنی بہری کر دینے والی کڑک یا چیخ کے ہیں۔ جس طرح سورۂ نازعات میں لفظ ’طَآمَّۃٌ‘ آیا ہے اسی طرح اس سورہ میں لفظ ’صَآخَّۃٌ‘ آیا ہے۔ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ صور قیامت کی پہلی کڑک ہی ایسی ہولناک ہو گی کہ کانوں کو بہرا کر دے گی۔ ’اِذَا‘ کا جواب، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیات ۳۰-۳۵ کے تحت بیان ہو چکا ہے بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ پیغمبر کے انذار سے اپنے کان بند کیے ہوئے ہیں لیکن اس دن کیا کریں گے جس دن خدا کا منادی اتنے قریب سے ان کو پکارے گا کہ اس کی آواز سب کے کانوں کے پردے پھاڑ دے گی!
    اس دن آدمی اپنے بھائی، (ماں باپ اور اپنی بیوی اور بیٹوں) سے بھاگے گا۔
    یہ تفصیل ہے اس دن کی ہولناکی کی۔ ’یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ‘ ’اِذَا‘ کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو عربیت کے قاعدے سے اسلوب بیان اور ہوتا۔ جواب تو، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیت ’یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی‘ (النازعات ۷۹: ۳۵) کے تحت گزر چکا ہے، محذوف ہے البتہ اس سے محذوف جواب پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج پیغمبرؐ کے انذار سے انھوں نے اپنے کان جو بند کر رکھے ہیں تو اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کو اپنی خاندانی اور قبائلی قوت و عصبیت پر بڑا ناز ہے۔ اس زعم نے ان کو اندھا کر رکھا ہے کہ بھلا ان کو ان کے مقام سے کون ہلا سکا ہے یا ہلا سکے گا لیکن اس بہری کر دینے والی چیخ کے بعد جو دن آئے گا وہ ایسا ہولناک ہو گا کہ ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی۔ نہ بھائی اپنے بھائی کی فریاد سنے گا، نہ بیٹا اپنے ماں باپ کی دہائی پر کان دھرے گا اور نہ کوئی اپنی بیوی اور بیٹوں کی مصیبت میں ان کا شریک بننے کا حوصلہ کرے گا۔ اس دن ہر ایک کو اپنی ہی ایسی پڑی ہو گی کہ کسی دوسرے کی نبیڑنے کا وہ کوئی تصور ہی نہ کر سکے گا اگرچہ وہ کتنا ہی قریبی عزیز ہو۔ یہی مضمون سورۂ معارج میں بدیں الفاظ میں گزر چکا ہے: وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ہ یُّبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤۡیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ.(المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴) (اور اس دن کوئی سرگرم سے سرگرم دوست بھی اپنے دوست کا پرسان حال نہ ہو گا۔ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے لیکن مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی، اپنے خاندان کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے کو بچا لے۔) ان دونوں آیتوں میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ آیت زیربحث میں رشتہ داروں کی ترتیب اَبعد سے اَقرب کی طرف سے اور اس آیت میں اَقرب سے اَبعد کی طرف اور یہ دونوں اسلوب بلاغت کلام کے تقاضے سے اختیار کیے گئے ہیں اور یہ بلاغت بالکل واضح ہے۔  
    (اس دن آدمی اپنے بھائی)، ماں باپ (اور اپنی بیوی اور بیٹوں) سے بھاگے گا۔
    یہ تفصیل ہے اس دن کی ہولناکی کی۔ ’یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ‘ ’اِذَا‘ کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو عربیت کے قاعدے سے اسلوب بیان اور ہوتا۔ جواب تو، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیت ’یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی‘ (النازعات ۷۹: ۳۵) کے تحت گزر چکا ہے، محذوف ہے البتہ اس سے محذوف جواب پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج پیغمبرؐ کے انذار سے انھوں نے اپنے کان جو بند کر رکھے ہیں تو اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کو اپنی خاندانی اور قبائلی قوت و عصبیت پر بڑا ناز ہے۔ اس زعم نے ان کو اندھا کر رکھا ہے کہ بھلا ان کو ان کے مقام سے کون ہلا سکا ہے یا ہلا سکے گا لیکن اس بہری کر دینے والی چیخ کے بعد جو دن آئے گا وہ ایسا ہولناک ہو گا کہ ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی۔ نہ بھائی اپنے بھائی کی فریاد سنے گا، نہ بیٹا اپنے ماں باپ کی دہائی پر کان دھرے گا اور نہ کوئی اپنی بیوی اور بیٹوں کی مصیبت میں ان کا شریک بننے کا حوصلہ کرے گا۔ اس دن ہر ایک کو اپنی ہی ایسی پڑی ہو گی کہ کسی دوسرے کی نبیڑنے کا وہ کوئی تصور ہی نہ کر سکے گا اگرچہ وہ کتنا ہی قریبی عزیز ہو۔ یہی مضمون سورۂ معارج میں بدیں الفاظ میں گزر چکا ہے: وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ہ یُّبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤۡیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ.(المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴) (اور اس دن کوئی سرگرم سے سرگرم دوست بھی اپنے دوست کا پرسان حال نہ ہو گا۔ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے لیکن مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی، اپنے خاندان کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے کو بچا لے۔) ان دونوں آیتوں میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ آیت زیربحث میں رشتہ داروں کی ترتیب اَبعد سے اَقرب کی طرف سے اور اس آیت میں اَقرب سے اَبعد کی طرف اور یہ دونوں اسلوب بلاغت کلام کے تقاضے سے اختیار کیے گئے ہیں اور یہ بلاغت بالکل واضح ہے۔  
    (اس دن آدمی اپنے بھائی، ماں باپ) اور اپنی بیوی اور بیٹوں سے بھاگے گا۔
    یہ تفصیل ہے اس دن کی ہولناکی کی۔ ’یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ‘ ’اِذَا‘ کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو عربیت کے قاعدے سے اسلوب بیان اور ہوتا۔ جواب تو، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیت ’یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی‘ (النازعات ۷۹: ۳۵) کے تحت گزر چکا ہے، محذوف ہے البتہ اس سے محذوف جواب پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج پیغمبرؐ کے انذار سے انھوں نے اپنے کان جو بند کر رکھے ہیں تو اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کو اپنی خاندانی اور قبائلی قوت و عصبیت پر بڑا ناز ہے۔ اس زعم نے ان کو اندھا کر رکھا ہے کہ بھلا ان کو ان کے مقام سے کون ہلا سکا ہے یا ہلا سکے گا لیکن اس بہری کر دینے والی چیخ کے بعد جو دن آئے گا وہ ایسا ہولناک ہو گا کہ ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی۔ نہ بھائی اپنے بھائی کی فریاد سنے گا، نہ بیٹا اپنے ماں باپ کی دہائی پر کان دھرے گا اور نہ کوئی اپنی بیوی اور بیٹوں کی مصیبت میں ان کا شریک بننے کا حوصلہ کرے گا۔ اس دن ہر ایک کو اپنی ہی ایسی پڑی ہو گی کہ کسی دوسرے کی نبیڑنے کا وہ کوئی تصور ہی نہ کر سکے گا اگرچہ وہ کتنا ہی قریبی عزیز ہو۔ یہی مضمون سورۂ معارج میں بدیں الفاظ میں گزر چکا ہے: وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ہ یُّبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤۡیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ.(المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴) (اور اس دن کوئی سرگرم سے سرگرم دوست بھی اپنے دوست کا پرسان حال نہ ہو گا۔ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے لیکن مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی، اپنے خاندان کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے کو بچا لے۔) ان دونوں آیتوں میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ آیت زیربحث میں رشتہ داروں کی ترتیب اَبعد سے اَقرب کی طرف سے اور اس آیت میں اَقرب سے اَبعد کی طرف اور یہ دونوں اسلوب بلاغت کلام کے تقاضے سے اختیار کیے گئے ہیں اور یہ بلاغت بالکل واضح ہے۔  
    اس دن ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو گی۔
    یہ تفصیل ہے اس دن کی ہولناکی کی۔ ’یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ‘ ’اِذَا‘ کا جواب نہیں ہے۔ اگر جواب ہوتا تو عربیت کے قاعدے سے اسلوب بیان اور ہوتا۔ جواب تو، جیسا کہ سورۂ نازعات کی آیت ’یَوْمَ یَتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰی‘ (النازعات ۷۹: ۳۵) کے تحت گزر چکا ہے، محذوف ہے البتہ اس سے محذوف جواب پر روشنی ضرور پڑتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج پیغمبرؐ کے انذار سے انھوں نے اپنے کان جو بند کر رکھے ہیں تو اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کو اپنی خاندانی اور قبائلی قوت و عصبیت پر بڑا ناز ہے۔ اس زعم نے ان کو اندھا کر رکھا ہے کہ بھلا ان کو ان کے مقام سے کون ہلا سکا ہے یا ہلا سکے گا لیکن اس بہری کر دینے والی چیخ کے بعد جو دن آئے گا وہ ایسا ہولناک ہو گا کہ ہر ایک پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی۔ نہ بھائی اپنے بھائی کی فریاد سنے گا، نہ بیٹا اپنے ماں باپ کی دہائی پر کان دھرے گا اور نہ کوئی اپنی بیوی اور بیٹوں کی مصیبت میں ان کا شریک بننے کا حوصلہ کرے گا۔ اس دن ہر ایک کو اپنی ہی ایسی پڑی ہو گی کہ کسی دوسرے کی نبیڑنے کا وہ کوئی تصور ہی نہ کر سکے گا اگرچہ وہ کتنا ہی قریبی عزیز ہو۔ یہی مضمون سورۂ معارج میں بدیں الفاظ میں گزر چکا ہے: وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا ہ یُّبَصَّرُوْنَہُمْ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤۡیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ.(المعارج ۷۰: ۱۰-۱۴) (اور اس دن کوئی سرگرم سے سرگرم دوست بھی اپنے دوست کا پرسان حال نہ ہو گا۔ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے لیکن مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی، اپنے خاندان کو جو اس کو پناہ دیتا رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے کو بچا لے۔) ان دونوں آیتوں میں اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ آیت زیربحث میں رشتہ داروں کی ترتیب اَبعد سے اَقرب کی طرف سے اور اس آیت میں اَقرب سے اَبعد کی طرف اور یہ دونوں اسلوب بلاغت کلام کے تقاضے سے اختیار کیے گئے ہیں اور یہ بلاغت بالکل واضح ہے۔  
    کتنے چہرے اس دن روشن ہوں گے۔
    اس دن اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان جو فرق ان کے چہروں سے نمایاں ہو گا، یہ آخر میں بالاجمال اس کی طرف اشارہ کر دیا تاکہ ان کے اس ظاہر سے ان کے باطن کا کچھ اندازہ ہو سکے کہ اہل ایمان کے دل اس دن کن امیدوں اور حوصلوں سے معمور ہوں گے اور اہل کفر کے دلوں پر اس دن کیا گزر رہی ہو گی۔ ’مُّسْفِرَۃٌ‘ کے معنی روشن اور تابناک کے ہیں۔ یہ ’اسفر الصبح‘ کے محاورے سے ماخوذ ہے۔ مسرت کی پہلی چمک جو اہل جنت کے چہروں پر ظاہر ہو گی یہ لفظ اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
    (کتنے چہرے اس دن) ہشاش بشاش (ہوں گے)!
    اس دن اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان جو فرق ان کے چہروں سے نمایاں ہو گا، یہ آخر میں بالاجمال اس کی طرف اشارہ کر دیا تاکہ ان کے اس ظاہر سے ان کے باطن کا کچھ اندازہ ہو سکے کہ اہل ایمان کے دل اس دن کن امیدوں اور حوصلوں سے معمور ہوں گے اور اہل کفر کے دلوں پر اس دن کیا گزر رہی ہو گی۔ ’ضَاحِکَۃٌ‘ بھی مسرت اور خوشی کی تعبیر ہے یعنی ان کے چہرے ہسنتے ہوئے ہوں گے۔ ’مُّسْتَبْشِرَۃٌ‘۔ یعنی ہشاش بشاش ہوں گے۔
    اور کتنے چہروں پر اس دن خاک اڑتی (اور سیاہی چھائی) ہو گی۔
    اس دن اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان جو فرق ان کے چہروں سے نمایاں ہو گا، یہ آخر میں بالاجمال اس کی طرف اشارہ کر دیا تاکہ ان کے اس ظاہر سے ان کے باطن کا کچھ اندازہ ہو سکے کہ اہل ایمان کے دل اس دن کن امیدوں اور حوصلوں سے معمور ہوں گے اور اہل کفر کے دلوں پر اس دن کیا گزر رہی ہو گی۔ اہل کفر کے چہروں کا جو حال ہو گا اس کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ ’وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ‘ کہ ان پر خاک اڑ رہی اور سیاہی چھائی ہوئی ہو گی۔ اس لیے کہ ان پر امید کے تمام دروازے بند ہو چکے ہوں گے۔
    (اور کتنے چہروں پر اس دن خاک اڑتی) اور سیاہی چھائی ہو گی۔
    اس دن اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان جو فرق ان کے چہروں سے نمایاں ہو گا، یہ آخر میں بالاجمال اس کی طرف اشارہ کر دیا تاکہ ان کے اس ظاہر سے ان کے باطن کا کچھ اندازہ ہو سکے کہ اہل ایمان کے دل اس دن کن امیدوں اور حوصلوں سے معمور ہوں گے اور اہل کفر کے دلوں پر اس دن کیا گزر رہی ہو گی۔ اہل کفر کے چہروں کا جو حال ہو گا اس کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ ’وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ تَرْھَقُھَا قَتَرَۃٌ‘ کہ ان پر خاک اڑ رہی اور سیاہی چھائی ہوئی ہو گی۔ اس لیے کہ ان پر امید کے تمام دروازے بند ہو چکے ہوں گے۔
    یہی کافر و نابکار ہوں گے!
    اس دن اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان جو فرق ان کے چہروں سے نمایاں ہو گا، یہ آخر میں بالاجمال اس کی طرف اشارہ کر دیا تاکہ ان کے اس ظاہر سے ان کے باطن کا کچھ اندازہ ہو سکے کہ اہل ایمان کے دل اس دن کن امیدوں اور حوصلوں سے معمور ہوں گے اور اہل کفر کے دلوں پر اس دن کیا گزر رہی ہو گی۔ ’اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ‘۔ یہ آخر میں ان کی فرد قرار داد جرم کی طرف اجمالی اشارہ ہے کہ ان کا یہ حشر اس وجہ سے ہو گا کہ یہ خدا کے ناشکرے اور اس کے باغی و نافرمان رہے ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List