Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النازعات (Those Who Tear Out, Those Who Drag Forth, Soul-snatchers)

    46 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    اس سورہ میں بھی قریش کے متمردین کو انذار ہے جو عذاب اور قیامت کو بالکل بعید از امکان، محض ایک دھمکی خیال کرتے تھے۔ ہواؤں اور بادلوں کے عجائب تصرفات شہادت میں پیش کر کے ان کو آگاہ فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے محفوظ نہ سمجھو اور رسول کو جھٹلانے کی جسارت نہ کرو۔ تم اسی وقت تک محفوظ ہو جب تک خدا نے تم کو مہلت دے رکھی ہے۔ جونہی یہ مہلت ختم ہوئی خدا کی پکڑ میں آ جاؤ گے اور اس کے لیے خدا کو کوئی اہتمام نہیں کرنا پڑے گا۔ یہی ہوائیں اور یہی بادل جو ہر جگہ موجود اور تمہاری زندگی کے لیے ناگزیر ہیں، قہر الٰہی کی شکل اختیار کر لیں گے اور تمہیں جڑ پیڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

    تمہید اور مطالب کے اعتبار سے یہ سورہ، سورۂ ذاریات اور سورۂ مرسلات سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ دنیا میں خدا کی پکڑ اور اس کی قدرت و ربوبیت کی جو شانیں بالکل نمایاں ہیں وہ اس امر کی نہایت واضح دلیل ہیں کہ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ان سرکشوں کو سزا دے گا جنھوں نے اس کے حکموں سے سرتابی کی اور ان لوگوں کو اپنی ابدی رحمت سے نوازے گا جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے اور اپنی خواہشوں کو لگام لگاتے رہے۔

  • النازعات (Those Who Tear Out, Those Who Drag Forth, Soul-snatchers)

    46 آیات | مکی
    النٰزعٰت - عبس

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قریش کی قیادت کو اُس کے جس رویے پر تنبیہ ہے، دوسری میں اُسی پر ایک خاص واقعے کے پس منظر میں اِس شدت سے عتاب ہے کہ سورہ کی ہر آیت سے گویا ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

    دوسری سورہ میں خطاب اگرچہ بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے، لیکن روے سخن اگر غور کیجیے تو دونوں سورتوں میں فراعنۂ قریش کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ میں استدلال آفاق کے آثار و شواہد اور تاریخ کے حقائق سے ہے۔

    دوسری سورہ میں آفاقی دلائل کے ساتھ انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات،اُس کے حوالے سے قریش کو انذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ہے۔

    دوسری سورہ میں یہ تنبیہ، البتہ نہایت سخت عتاب کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 079 Verse 001 Chapter 079 Verse 002 Chapter 079 Verse 003 Chapter 079 Verse 004 Chapter 079 Verse 005 Chapter 079 Verse 006 Chapter 079 Verse 007 Chapter 079 Verse 008 Chapter 079 Verse 009 Chapter 079 Verse 010 Chapter 079 Verse 011 Chapter 079 Verse 012 Chapter 079 Verse 013 Chapter 079 Verse 014 Chapter 079 Verse 015 Chapter 079 Verse 016 Chapter 079 Verse 017 Chapter 079 Verse 018 Chapter 079 Verse 019 Chapter 079 Verse 020 Chapter 079 Verse 021 Chapter 079 Verse 022 Chapter 079 Verse 023 Chapter 079 Verse 024 Chapter 079 Verse 025 Chapter 079 Verse 026 Chapter 079 Verse 027 Chapter 079 Verse 028 Chapter 079 Verse 029 Chapter 079 Verse 030 Chapter 079 Verse 031 Chapter 079 Verse 032 Chapter 079 Verse 033 Chapter 079 Verse 034 Chapter 079 Verse 035 Chapter 079 Verse 036 Chapter 079 Verse 037 Chapter 079 Verse 038 Chapter 079 Verse 039 Chapter 079 Verse 040 Chapter 079 Verse 041 Chapter 079 Verse 042 Chapter 079 Verse 043 Chapter 079 Verse 044 Chapter 079 Verse 045 Chapter 079 Verse 046
    Click translation to show/hide Commentary
    شاہد ہیں جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے والی ہوائیں۔
    ’نَازِعَاتٌ‘ سے مراد: ’نَازِعَاتٌ‘ اور ’نَاشِطَاتٌ‘ کی تاویل میں یوں تو متعدد اقوال منقول ہیں لیکن غالب رائے یہ ہے کہ ان سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی جانیں سختی سے اور اہل ایمان کی جانیں نہایت نرمی سے نکالتے ہیں۔ اگرچہ اس قول کو شہرت حاصل ہے لیکن اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس باب میں جو روایات ہیں وہ بالکل تفسیری نوعیت کی ہیں۔ جن کا یہ درجہ نہیں ہے کہ ان کی بنیاد پر کوئی بات اعتماد کے ساتھ کہی جا سکے۔ قرآن میں بھی کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے اس قول کے حق میں کوئی تائید نکلتی ہو۔ اہل کفر اور اہل ایمان کی جانوں کے نکالنے کا معاملہ تمام تر ایک روحانی و باطنی کیفیت سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے، وہ کوئی ایسی عام مشاہدے میں آنے والی چیز نہیں ہے کہ اس کو کسی دعوے پر بطور حجت پیش کیا جا سکے درآنحالیکہ یہ قسمیں یہاں بطور شہادت کھائی گئی ہیں۔ مفسرین کے نزدیک چونکہ ضروری ہے کہ قسم کسی مبارک و مقدس چیز کی ہو اس وجہ سے انھیں ان الفاظ سے فرشتوں کو مراد لینے کا تکلف کرنا پڑا لیکن ہم برابر واضح کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں قسمیں بالعموم کسی دعوے پر بطور شہادت آئی ہیں۔ ان کے اندر نمایاں پہلو دعوے پر دلیل کا ہوتا ہے۔ اس سے کچھ بحث نہیں کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے وہ کوئی مقدس چیز ہے یا غیر مقدس۔ ہمارے نزدیک ’نازعات‘ سے مراد وہ تند ہوائیں ہیں جو درختوں، مکانوں اور گڑی ہوئی چیزوں کو اپنے زور سے اکھاڑ پھینکتی ہیں۔ اس طرح کی ہواؤں کی صفت کے طور پر ’ذاریات‘، ’مرسلات‘ اور ’عاصفات‘ وغیرہ الفاظ بھی قرآن میں استعمال ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ ’ذَرْوًا‘، ’عُرْفًا‘ اور ’عَصْفًا‘ کے الفاظ بطور تاکید آئے ہیں۔ اسی طرح یہاں لفظ ’نازعات‘ ان تند ہواؤں کے لیے استعمال ہوا ہے جو درختوں اور مکانوں کو اکھاڑ پھینکتی ہیں۔ اس کے ساتھ لفظ ’غَرْقًا‘ معنی کی شدت کے اظہار کے لیے بطور تاکید ہے۔ قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے بادتند کا جو عذاب مسلط فرمایا اس کی تصویر سورۂ قمر میں یوں کھینچی گئی ہے: إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ ۵ تَنْزِعُ النَّاسَ کَأَنَّہُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ (القمر ۵۴: ۱۹-۲۰) ’’ہم نے ان پر ایک طویل نحوست کے زمانے میں باد صرصر مسلط کر دی جو لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی گویا وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے ہوں۔‘‘ یہاں فعل ’تَنْزِعُ‘ استعمال ہوا ہے اسی سے اس سورہ میں ’نازعات‘ بطور صفت استعمال ہوا ہے۔  
    اور شاہد ہیں آہستہ چلنے والی ہوائیں۔
    ’نَاشِطَاتٌ‘ سے مراد: ’نَاشِطَاتٌ‘ ’نشط‘ کے مادہ سے ہے جس کے معنی کسی کام کو نرمی سے کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی رسی کی گرہ یا کسی جانور کے بندھن کو چرنے چگنے کے لیے چھوڑ دینے کے معنی میں بھی۔ یہاں قرینہ بتا رہا ہے کہ یہ نرم رو اس آہستہ خرام ہواؤں کے لیے آیا ہے جس طرح سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ تند اور نرم رو ہواؤں کے عمل کی ظاہری نوعیت اگرچہ الگ تھلگ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے عجائبات تصرف کی شانیں دونوں کے اندر نمایاں ہیں۔ سورۂ ذاریات میں سیاق کلام اور ہے اس وجہ سے ہوا کی نرم روی کا ذکر بارش کے مقدمہ کے طور پر آیا ہے۔ یہاں اس کا ذکر مستقلاً ہوا ہے اس وجہ سے یہ رحمت اور نقمت دونوں کو محتمل ہے۔ رحمت کے لیے اس کا محتمل ہونا تو بالکل واضح ہے کہ ہوا کی مروجہ جنبانی ہی زندگی اور راحت و نشاط کا ذریعہ ہے لیکن اس کا رحمت یا نقمت بننا کلیۃً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہتا ہے تو بعض اوقات اس کی نرم رَوی کو بھی عذاب بنا دیتا ہے۔ چنانچہ آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی سرگزشت بیان ہوئی ہے جس سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے تند پوربی ہوا کے تصرف سے نجات دی اور اسی ہوا کے سکون کو فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کا ذریعہ بنا دیا۔
    اور شاہد ہیں فضاؤں میں تیرنے والے بادل۔
    ’سٰبِحٰتٌ‘ ’سَبْحٌ‘ سے ہے جس کے معنی تیرنے کے بھی آتے ہیں۔ قرینہ اشارہ کر رہا ہے کہ یہاں یہ بادلوں کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ اول تو ہواؤں اور بادلوں کا تعلق ہے ہی کچھ لازم و ملزوم سی چیز لیکن ایک واضح قرینہ یہاں یہ ہے کہ اس کے بعد اس کی دو صفتیں جو مذکور ہوئی ہیں وہ ’ف‘ کے ساتھ مذکور ہوئی ہیں جو عربیت کے قاعدے سے اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ صفتیں ’سٰبِحٰتٌ‘ ہی کی ہیں اور ان میں باہم دگر ترتیب بھی ہے۔ اس قاعدے کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔
    پھر ایک دوسرے پر سبقت کرنے والے۔
    یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ۵ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں بادنیٰ تغیر الفاظ وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا ۵ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ میں اور سورۂ مرسلات میں ’فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ۵ فَالْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًا‘ کے لفظوں میں فرمائی گئی ہے۔ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ بادلوں سے لدی ہوئی ان ہواؤں کی صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس سرزمین کی طرف چلتی ہیں جس کے لیے حکم ہوتا ہے اور پھر وہاں وہ امر الٰہی کی تقسیم کرتی ہیں یعنی جن کے لیے حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتی ہیں۔ کسی علاقے پر وہ رحمت بن کر برستی ہیں اور کسی کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ کسی جگہ جل تھل کر دیتی ہیں اور کسی جگہ خشک یا تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ گویا جو بات سورۂ ذاریات میں ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے وہی بات یہاں ’فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے۔ اس سے پہلے ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا‘ کے الفاظ بادلوں کی اس بھاگ دوڑ کی تصویر پیش کر رہے ہیں جو فضا میں اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ان کے مختلف دستے ایک دوسرے پر سبقت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب اپنے غیبی حاکم کے حکم کی تعمیل میں سرگرم تگاپو ہیں اور ہر ایک اس بات کا آرزومند ہے کہ امتثال امر میں اول نمبر اسی کا رہے۔ مقسم علیہ محذوف ہے: ان قسموں کا مقسم علیہ یہاں لفظوں میں مذکور نہیں ہے بلکہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ کے محذوف ہونے کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ سورۂ صٓ، سورۂ قٓ اور سورۂ قیامہ سب میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مقسم علیہ حذف کر دیا گیا ہے۔ جہاں ذکر کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو وہاں حذف ہی اولیٰ ہوتا ہے۔ یہاں چونکہ قیامت کی ہلچل کا ذکر آگے تفصیل سے موجود ہے، جو مقسم علیہ کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے، اس وجہ سے اس کے ذکر کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ اس محذوف کو کھولنا چاہیں تو سورۂ مرسلات کی روشنی میں ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ کے الفاظ یہاں محذوف مان سکتے ہیں۔ گویا تند اور نرم ہواؤں اور بادلوں کے عجائب تصرفات کو شہادت میں پیش کر کے قریش کے متمردین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ جب اس کو لانا چاہے گا تو اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اس کو نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کی ہواؤں اور اس کے بادلوں کے تصرفات کی جو تاریخ موجود ہے اور جو تمہیں سنائی بھی جا چکی ہے اگر اسی سے سبق حاصل کرو تو وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ تم سے کہیں زیادہ طاقت ور قومیں اس زمین پر بسی ہیں جن کو خدا نے اپنی ہواؤں ہی کے ذریعہ سے خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔
    اور خدا کے حکم نازل کرنے والے (کہ جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ شدنی ہے)۔
    یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ۵ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں بادنیٰ تغیر الفاظ وہی بات فرمائی گئی ہے جو سورۂ ذاریات میں ’فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًا ۵ فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ میں اور سورۂ مرسلات میں ’فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ۵ فَالْمُلْقِیَاتِ ذِکْرًا‘ کے لفظوں میں فرمائی گئی ہے۔ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ بادلوں سے لدی ہوئی ان ہواؤں کی صفت ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس سرزمین کی طرف چلتی ہیں جس کے لیے حکم ہوتا ہے اور پھر وہاں وہ امر الٰہی کی تقسیم کرتی ہیں یعنی جن کے لیے حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتی ہیں۔ کسی علاقے پر وہ رحمت بن کر برستی ہیں اور کسی کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ کسی جگہ جل تھل کر دیتی ہیں اور کسی جگہ خشک یا تشنہ چھوڑ جاتی ہیں۔ گویا جو بات سورۂ ذاریات میں ’فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا‘ کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے وہی بات یہاں ’فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا‘ کے الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے۔ اس سے پہلے ’فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا‘ کے الفاظ بادلوں کی اس بھاگ دوڑ کی تصویر پیش کر رہے ہیں جو فضا میں اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ان کے مختلف دستے ایک دوسرے پر سبقت کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب اپنے غیبی حاکم کے حکم کی تعمیل میں سرگرم تگاپو ہیں اور ہر ایک اس بات کا آرزومند ہے کہ امتثال امر میں اول نمبر اسی کا رہے۔ مقسم علیہ محذوف ہے: ان قسموں کا مقسم علیہ یہاں لفظوں میں مذکور نہیں ہے بلکہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ کے محذوف ہونے کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ سورۂ صٓ، سورۂ قٓ اور سورۂ قیامہ سب میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مقسم علیہ حذف کر دیا گیا ہے۔ جہاں ذکر کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو وہاں حذف ہی اولیٰ ہوتا ہے۔ یہاں چونکہ قیامت کی ہلچل کا ذکر آگے تفصیل سے موجود ہے، جو مقسم علیہ کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے، اس وجہ سے اس کے ذکر کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ اس محذوف کو کھولنا چاہیں تو سورۂ مرسلات کی روشنی میں ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ‘ کے الفاظ یہاں محذوف مان سکتے ہیں۔ گویا تند اور نرم ہواؤں اور بادلوں کے عجائب تصرفات کو شہادت میں پیش کر کے قریش کے متمردین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ اللہ تعالیٰ جب اس کو لانا چاہے گا تو اس کے لیے کوئی خاص اہتمام اس کو نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کی ہواؤں اور اس کے بادلوں کے تصرفات کی جو تاریخ موجود ہے اور جو تمہیں سنائی بھی جا چکی ہے اگر اسی سے سبق حاصل کرو تو وہی تمہارے لیے کافی ہے۔ تم سے کہیں زیادہ طاقت ور قومیں اس زمین پر بسی ہیں جن کو خدا نے اپنی ہواؤں ہی کے ذریعہ سے خس و خاشاک کی طرح اڑا دیا۔
    اس دن سے ڈرو جس دن کپکپی پڑے گی۔
    یہ مقسم علیہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن اس عذاب سے سابقہ پیش آئے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک اس عذاب سے جس سے قیامت کے دن دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسرے اس عذاب سے جس سے اسی دنیا میں قوم کو سابقہ پیش آتا ہے اگر وہ اپنے رسول کی تکذیب کر دیتی ہے۔ قیامت کے دن کی یاددہانی: پہلے آیات ۶-۱۴ میں عذاب قیامت کی تصویر ہے اس کے بعد آیات ۱۶-۱۷ میں اس عذاب کی تاریخی شہادت پیش کی گئی ہے جو تکذیب رسول کے نتیجہ میں اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ عذاب قیامت کا ذکر یہاں اس لیے مقدم کر دیا ہے کہ اصل عذاب وہی ہے جس سے ہر ایک کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ وہ دائمی اور ابدی ہے۔ اس کے ہوتے دنیا کا عذاب نہ بھی ہو جب بھی کسی کے لیے کوئی اطمینان کا پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید اہتمام ہے کہ وہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر اس دنیا میں بھی عذاب نازل کرتا ہے۔ یہاں ’یوم‘ سے پہلے فعل محذوف ہے۔ یعنی اس دن کو یاد رکھو یا اس کے ہم معنی کوئی فعل۔ ’رَاجِفَۃٌ‘ کے معنی کپکپی اور زلزلہ کے ہیں اور ’رَادِفَۃٌ‘ کے معنی پہلے جھٹکے کے بعد دوسرے جھٹکے کے۔ قیامت کی ہلچل، جیسا کہ دوسرے مقامات میں وضاحت ہو چکی ہے، صور کی دو پھونکوں میں مکمل ہو گی۔ یہاں انہی دونوں پھونکوں کے اثرات کی طرف اشارہ ہے۔ مقصود اس سے مکذبین قیامت پر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قیامت کے ظہور کو بہت مستبعد اور ناممکن نہ سمجھو۔ بس دو جھٹکوں میں یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
    اس کے پیچھے ایک دوسرا جھٹکا آئے گا۔
    یہ مقسم علیہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن اس عذاب سے سابقہ پیش آئے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک اس عذاب سے جس سے قیامت کے دن دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسرے اس عذاب سے جس سے اسی دنیا میں قوم کو سابقہ پیش آتا ہے اگر وہ اپنے رسول کی تکذیب کر دیتی ہے۔ قیامت کے دن کی یاددہانی: پہلے آیات ۶-۱۴ میں عذاب قیامت کی تصویر ہے اس کے بعد آیات ۱۶-۱۷ میں اس عذاب کی تاریخی شہادت پیش کی گئی ہے جو تکذیب رسول کے نتیجہ میں اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ عذاب قیامت کا ذکر یہاں اس لیے مقدم کر دیا ہے کہ اصل عذاب وہی ہے جس سے ہر ایک کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ وہ دائمی اور ابدی ہے۔ اس کے ہوتے دنیا کا عذاب نہ بھی ہو جب بھی کسی کے لیے کوئی اطمینان کا پہلو نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید اہتمام ہے کہ وہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر اس دنیا میں بھی عذاب نازل کرتا ہے۔ یہاں ’یوم‘ سے پہلے فعل محذوف ہے۔ یعنی اس دن کو یاد رکھو یا اس کے ہم معنی کوئی فعل۔ ’رَاجِفَۃٌ‘ کے معنی کپکپی اور زلزلہ کے ہیں اور ’رَادِفَۃٌ‘ کے معنی پہلے جھٹکے کے بعد دوسرے جھٹکے کے۔ قیامت کی ہلچل، جیسا کہ دوسرے مقامات میں وضاحت ہو چکی ہے، صور کی دو پھونکوں میں مکمل ہو گی۔ یہاں انہی دونوں پھونکوں کے اثرات کی طرف اشارہ ہے۔ مقصود اس سے مکذبین قیامت پر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قیامت کے ظہور کو بہت مستبعد اور ناممکن نہ سمجھو۔ بس دو جھٹکوں میں یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
    کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔
    اس دن کا اثر لوگوں کے دلوں پر: اوپر کی آیات میں اس دن کی ہلچل کے وہ اثرات بیان ہوئے ہیں جو اس کائنات میں نمودار ہوں گے۔ ان آیات میں اس کے ان اثرات کی طرف اشارہ ہے جو ارواح و قلوب پر طاری ہوں گے۔ فرمایا کہ اس دن کتنے دل ہوں گے جو دھڑک رہے ہوں گے اور ان کی نگاہیں سراسیمگی کے سبب سے جھکی ہوئی ہوں گی۔ یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اس دن سے نچنت رہے اور جب انھیں اس سے ڈرایا جاتا تو نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے۔ رہے وہ لوگ جو اس دنیا میں، اس عذاب کو دیکھے بغیر، اس سے ڈرتے رہے وہ، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، اس دن کی گھبراہٹ سے بالکل محفوظ ہوں گے۔
    ان کی نگاہیں پست ہوں گی۔
    ’اَبْصَارُہَا‘ میں ضمیر کا مرجع ’قُلُوْبٌ‘ ہے۔ آدمی کے اندر دل ہی وہ چیز ہے جس سے اس کی شخصیت عبارت ہے اور جس کی کیفیات کی ترجمانی اس کے بدن کا رواں رواں کرتا ہے۔ خاص طور پر اس کی آنکھ تو وہ چیز ہے جس کے آئینہ میں اس کے دل کی مخفی سے مخفی کیفیت بھی جھلکتی ہے۔ دل کے ساتھ آنکھوں کے اس تعلق کے سبب سے ان کی اضافت دل کی طرف کر دی ہے۔
    پوچھتے ہیں کیا ہم پھر پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے!
    کفار کے استہزاء کی تصویر: یہ تصویر ہے ان کے اس مذاق کی جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا ذکر سن کر وہ نہایت بے باکی سے کرتے۔ ’حَافِرَۃٌ‘ کے اصل معنی نقش قدم کے ہیں لیکن محاورے میں اگر کہیں کہ ’فلان رجع علی حافرتہٖ اوفی حافرتہٖ‘ تو اس کے معنی ہوں گے کہ فلاں شخص جس حال میں تھا اس سے نکل کر پھر الٹے پاؤں اسی میں واپس آ گیا۔ یعنی جب انھیں ڈرایا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد حساب کتاب کے لیے زندہ کیے جاؤ گے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور ایک دوسرے سے بانداز استہزاء پوچھتے ہیں کہ کیوں جی! کیا مر جانے اور بوسیدہ ہڈیاں ہو جانے کے بعد پھر ہم زندگی کی حالت میں لوٹائے جائیں گے!
    کیا جب کہ ہم کھنکھناتی ہڈیاں ہو چکیں گے!
    ’ءَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا نَّخِرَۃً‘ میں استفہام کا اعادہ ان کی افزونی حیرت کو ظاہر کرتا ہے کہ اول تو مرنے کے بعد ازسرنو زندہ کیے جانے کا تصور ہی عجیب ہے لیکن اس سے بھی عجب تر ماجرا یہ ہے کہ جب ہڈیاں بھی بوسیدہ ہو کر خاک میں مل جائیں گی تب لوگ زندہ کیے جائیں گے! ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ بھلا ایسی بعید از عقل و قیاس بات کون مان سکتا ہے!
    کہتے ہیں، یہ لوٹایا جانا تو بڑے ہی خسارے کا ہو گا!!
    ’قَالُوْا تِلْکَ إِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ‘۔ یعنی مذاق اڑانے کے بعد ذرا سنجیدہ موڈ بنا کر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ بات جو یہ ملّا کہتے ہیں سچی نکلی تب تو یہ بڑی ہی نامرادی اور بڑے خسارے کا لوٹنا ہو گا! اگرچہ یہ بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے وہ مذاق ہی کے طور پر لیکن یہ ان کے باطن کی غمازی بھی کرتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا۔ وہ اس کے دلائل کے وزن کو محسوس کرتے اور اس کے انکار کے عواقب سے ڈرتے لیکن زندگی کی لذتوں کو طلاق دے کر ان کی طبیعت ادھر آنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی اس وجہ سے اس خطرے کو ہنسی میں ٹالنے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ قیامت ہوئی تو ہے تو یہ بہت بڑا خطرہ لیکن جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا، ابھی سے اس کی فکر میں اپنے اوپر نیند حرام کیوں کی جائے! یہ امر یہاں واضح رہے کہ بے فکروں کا اصلی فلسفہ یہی ہے جس پر وہ زندگی گزارتے ہیں حالانکہ آخرت کا گمان اگر کسی درجے میں بھی ہے تو پھر دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی اس کو پیش نظر رکھ کر ہی زندگی گزارے۔
    وہ تو بس ایک ہی ڈانٹ ہو گی۔
    یعنی جو سخن سازیاں یہ کرنی چاہتے ہیں کر لیں اور جتنے محالات پیدا کر سکتے ہیں کر لیں لیکن یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ جب ان کو اٹھانا چاہے گا تو نہ اس کو کوئی اہتمام کرنا پڑے گا، نہ اس میں ایک لمحہ کی تاخیر واقع ہو گی۔ صرف ایک ہی ڈانٹ میں یہ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں موجود ہوں گے۔
    کہ دفعۃً وہ میدان میں آ موجود ہوں گے۔
    ’سَاہِرَۃٌ‘ ہموار زمین اور کھلے میدان کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے میدان حشر مراد ہے۔ ’ایک ڈانٹ‘ سے اشارہ یہاں صور کے دوسرے نفخہ کی طرف ہے۔ اس کی وضاحت سورۂ زمر میں یوں فرمائی ہے: ’ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ أُخْرَی فَإِذَا ہُم قِیَامٌ یَنظُرُونَ‘ (الزمر ۳۹: ۶۸) (پھر اس صور میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو وہ دفعۃً اٹھ کر تاکنے لگیں گے)۔  
    کیا موسیٰ کی سرگزشت تمہیں پہنچی ہے؟
    تکذیب رسول کے نتیجہ میں جو عذاب آتا ہے اس کی شہادت: اوپر کے پیرے میں عذاب قیامت کی تصویر تھی۔ اب یہ اس عذاب کی تاریخی شہادت کا حوالہ ہے جس سے رسولوں کے جھٹلانے والوں کو اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے۔ اس کے لیے حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی سرگزشت کا انتخاب فرمایا ہے جو سب سے زیادہ مشہور و معروف شہادت ہے۔ ’ہَلْ اَتٰکَ‘ کا سوال محض سرگزشت کی عبرتوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے اور واحد کا خطاب ضروری نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہو بلکہ ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ یہ خطاب عام بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ سرگزشت کے آخر میں فرمایا بھی ہے کہ ’إِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَخْشٰی‘ (بے شک اس سرگزشت کے اندر ان لوگوں کے لیے بڑا درس عبرت ہے جو خدا کی گرفت سے ڈرنے والے ہیں)۔  
    جب کہ اس کے رب نے وادئ مقدس ۔۔۔ طویٰ ۔۔۔ میں اس کو پکارا۔
    یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگزشت حیات کے اس ماجرے کی طرف اشارہ ہے جب وہ مدین سے واپس ہوتے ہوئے طور کے دامن میں پہنچے ہیں اور آگ کی چمک دیکھ کر آگ لینے یا راستہ معلوم کرنے کے لیے رات کے اندھیرے میں، وادئ طویٰ کی طرف گئے ہیں اور وہاں ان کو ایک درخت سے آواز آئی ہے کہ اے موسیٰ، میں تمہارا رب ہوں۔ میں نے تمہیں ایک کار عظیم کے لیے منتخب کیا تو تم فرعون کے پاس میرے رسول کی حیثیت سے جاؤ اور اس کو میرا پیغام پہنچاؤ۔ یہ سرگزشت یہاں چھوٹی چھوٹی کل بارہ آیتوں میں بیان ہوئی ہے لیکن قرآن کے ایجاز بیان کا اعجاز ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رسول ہونے سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک کے سارے مراحل اس میں اس طرح بیان ہو گئے ہیں کہ کوئی ایسا پہلو چھوٹنے نہیں پایا ہے جو مخاطبوں کی سبق آموزی کے لیے ضروری ہو۔
    کہ تم فرعون کے پاس جاؤ، اس نے بہت سر اٹھایا ہے۔
    یہ وہ پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ فرمایا کہ فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت سر اٹھایا ہے۔ ’طَغٰی‘ سے مراد یہاں اس کے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ اور بنی اسرائیلیوں کے ساتھ جبارانہ رویہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں کسی کا یہ دعویٰ کہ وہ لوگوں کا رب اعلیٰ ہے سب سے بڑی بغاوت ہے۔ اس بغاوت کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی خاص سند کے ساتھ اس کے پاس بھیجا کہ وہ پہلے اس کو نرمی کے ساتھ راہ راست اختیار کرنے کی دعوت دیں، اگر سمجھ جائے تو فبہا ورنہ اس کے انجام سے اس کو آگاہ کر دیں۔
    اس سے کہو کہ کیا تم میں کچھ اپنے کو سدھارنے کا جذبہ ہے؟
    ’فَقُلْ ہَل لَّکَ إِلٰی أَنۡ تَزَکّٰی‘۔ یعنی اس سے کہو کہ کیا تم میں کچھ رغبت پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہے کہ میں تمہیں اس کا طریقہ بتانے کی کوشش کروں؟ اس فقرے پر غور فرمائیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں بیک وقت انتہائی درجے کی ناصحانہ شفقت بھی ہے اور ساتھ ہی وہ عظمت و جلالت بھی جو اللہ تعالیٰ یا اس کے سفیر کے کلام میں ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک تمہاری جو روش رہی ہے وہ تو یہی بتاتی ہے کہ تم سے کسی خیر کی توقع نہ رکھی جائے لیکن اللہ تعالیٰ بڑا کریم ہے۔ اب بھی گنجائش ہے کہ اگر تم سلامت روی کی زندگی اختیار کرنے کی رغبت ظاہر کرو تو یہ رستہ تم کو دکھانے کی کوشش کی جائے۔ فرعون کو حصول تزکیہ کی دعوت: لفظ ’تَزَکّٰی‘ یہاں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی خودسری، انانیت اور ظلم اور جور سے پاک زندگی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بندے کی ہوتی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل مقصد لوگوں کے نفوس کا تزکیہ ہی رہا ہے۔ یہ کام انھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی آیات کے ذریعہ سے انجام دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق ارشاد ہے کہ ’ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّیْنَ رَسُوۡلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوۡا عَلَیْْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیْہِمْ‘ (الجمعۃ ۶۲: ۲) (وہی ہے جس نے بھیجا امّیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو سناتا ہے اس کی آیات اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے) اپنے اسی مقصد کا اظہار حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے سامنے فرمایا کہ اگر تم خدائی کے پندار سے ذرا الگ ہو کر اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو تو میں تم کو اللہ کی کچھ باتیں سناؤں۔
    کیا میں تمہیں تمہارے رب کی راہ دکھاؤں کہ تم اس سے ڈرنے والے بنو؟
    ’وَأَہْدِیَکَ إِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی‘۔ یعنی اس وقت تو تمہارے اوپر اپنی خدائی کا بھوت سوار ہے اس وجہ سے بالکل بگٹٹ چل رہے ہو لیکن بات سننے اور سمجھنے کا کچھ شوق ہو تو میں بتاؤں کہ تمہارا اور تمام جہان کا رب کون ہے جس سے سب کو ڈرنا چاہیے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ پاکیزہ زندگی خدا کی خشیت سے اور خدا کی خشیت اس کی صحیح معرفت سے پیدا ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان دو فقروں میں فرعون کو اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔
    پس اس کو ایک بڑی نشانی دکھائی۔
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ باتیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے فرمائیں اور ساتھ ہی فرعون کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے پاس خدا کے رسول ہونے کی سند بھی رکھتے ہیں تو فرعون نے کہا کہ میں تو اپنے سوا کسی اور رب سے واقف نہیں، اگر تمہارے پاس خدا کے رسول ہونے کی کوئی سند ہے تو وہ دکھاؤ۔ اس کے اس مطالبے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو بڑی نشانی دکھائی۔ ’بڑی نشانی‘ سے اشارہ عصا کی نشانی کی طرف ہے۔ اس کو بڑی نشانی سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ ید بیضاء کے سوا ان کے سارے معجزات درحقیقت اسی کے اندر مضمر تھے اور اسی کے ذریعہ سے ظاہر ہوئے۔
    تو اس نے جھٹلایا اور بات نہ مانی۔
    فرعون کی سرگزشت: یعنی اس معجزہ کو دیکھنے کے بعد بھی فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا کا رسول تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کو ساحر اور مفتری ٹھہرایا اور ان کی تکذیب کر دی۔ ’وَعَصٰی‘ یعنی اس دعوت کو جو اوپر آیات ۱۸-۱۹ میں مذکور ہوئی ماننے سے انکار کر دیا۔
    پھر پلٹا اپنی سرگرمیوں کو تیز کرتے ہوئے۔
    یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی باتیں سن کر ہٹا تو ان کو شکست دینے کی سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں ان سرگرمیوں کی تفصیل موجود ہے۔ اس نے چاہا کہ جادوگروں سے مقابلہ کرا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو شکست دی جائے لیکن درباریوں سے مشورہ کیا تو انھوں نے یہ رائے دی کہ یہ دونوں (موسیٰ اور ہارون علیہما السلام) بڑے ماہر جادوگر ہیں، عام جادوگروں سے ان کا مقابلہ کرانا شکست اور جگ ہنسائی کا سبب ہو سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مملکت کے تمام اطراف کے ماہر جادوگروں کو دعوت دی جائے اور ایک کھلے میدان میں ان دونوں سے ان کا مقابلہ کرایا جائے۔ چنانچہ اس مشورے پر عمل کیا گیا لیکن اس کا نتیجہ شدید ناکامی کی صورت میں نکلا۔
    پس جمع کیا اور اعلان کیا۔
    یہ فرعون کی اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے سب سے آخر میں اختیار کی ہے۔ سورۂ زخرف سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ بلا ٹل جائے، اگر ان کی دعا سے یہ بلا ٹل گئی تو وہ ان کا مطالبہ ضرور تسلم کر لے گا لیکن جب وہ بلا ٹل جاتی تو وہ پھر اپنے وعدے سے مکر جاتا۔ اس کی بار بار کی اس روش کا اثر یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی کا اثر خود قبطیوں میں بہت بڑھنے لگا۔ اس سے گھبرا کر فرعون نے قوم کے تمام بااثر افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر بحال کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر اس نے جو تقریر کی اسی کی طرف یہاں اجمالی اشارہ ہے۔ اس کی تفصیل سورۂ زخرف میں ہے: وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہِ قَالَ یَا قَوْمِ أَلَیْْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَہَذِہِ الْأَنْہَارُ تَجْرِیْ مِن تَحْتِیْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ۵ أَمْ أَنَا خَیْْرٌ مِّنْ ہَذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ وَلَا یَکَادُ یُبِیْنُ ۵ فَلَوْلَا أُلْقِیَ عَلَیْْہِ أَسْوِرَۃٌ مِّن ذَہَبٍ أَوْ جَاء مَعَہُ الْمَلَاءِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۵ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہُ فَأَطَاعُوہُ إِنَّہُمْ کَانُوا قَوْماً فَاسِقِیْنَ ۵ فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَأَغْرَقْنَاہُمْ أَجْمَعِیْنَ (الزخرف ۴۳: ۵۱-۵۵) ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکارا کہ کیا مصر کی بادشاہی اور یہ نہریں جو میرے نیچے جاری ہیں، میرے لیے نہیں ہیں؟ کیا تم لوگ دیکھ نہیں رہے ہو؟ تو یہ بہتر ہوا یا میں اس سے بہتر ہوں جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات کھل کر کہہ نہیں سکتا؟ (اگر یہ خدا کا رسول ہے) تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس پر سونے کے کنگن اتارے جاتے یا اس کے ساتھ فرشتے پرے باندھ کر آتے؟ ان باتوں سے اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنا لیا اور وہ تھے ہی نافرمان لوگ۔ تو جب انھوں نے ہم کو غصہ دلا دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا پس ان سب کو غرق کر دیا۔‘‘  
    کہ تمہارا رب اعلیٰ تو میں ہوں۔
    یہ فرعون کی اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے سب سے آخر میں اختیار کی ہے۔ سورۂ زخرف سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مصر پر کوئی آفت آتی تو وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کرتا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ یہ بلا ٹل جائے، اگر ان کی دعا سے یہ بلا ٹل گئی تو وہ ان کا مطالبہ ضرور تسلم کر لے گا لیکن جب وہ بلا ٹل جاتی تو وہ پھر اپنے وعدے سے مکر جاتا۔ اس کی بار بار کی اس روش کا اثر یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی کا اثر خود قبطیوں میں بہت بڑھنے لگا۔ اس سے گھبرا کر فرعون نے قوم کے تمام بااثر افراد کو جمع کیا اور ان کے اندر اپنا اثر بحال کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر اس نے جو تقریر کی اسی کی طرف یہاں اجمالی اشارہ ہے۔ اس کی تفصیل سورۂ زخرف میں ہے: وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہِ قَالَ یَا قَوْمِ أَلَیْْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَہَذِہِ الْأَنْہَارُ تَجْرِیْ مِن تَحْتِیْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ۵ أَمْ أَنَا خَیْْرٌ مِّنْ ہَذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌ وَلَا یَکَادُ یُبِیْنُ ۵ فَلَوْلَا أُلْقِیَ عَلَیْْہِ أَسْوِرَۃٌ مِّن ذَہَبٍ أَوْ جَاء مَعَہُ الْمَلَاءِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ۵ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہُ فَأَطَاعُوہُ إِنَّہُمْ کَانُوا قَوْماً فَاسِقِیْنَ ۵ فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَأَغْرَقْنَاہُمْ أَجْمَعِیْنَ (الزخرف ۴۳: ۵۱-۵۵) ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکارا کہ کیا مصر کی بادشاہی اور یہ نہریں جو میرے نیچے جاری ہیں، میرے لیے نہیں ہیں؟ کیا تم لوگ دیکھ نہیں رہے ہو؟ تو یہ بہتر ہوا یا میں اس سے بہتر ہوں جو ایک حقیر آدمی ہے اور اپنی بات کھل کر کہہ نہیں سکتا؟ (اگر یہ خدا کا رسول ہے) تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس پر سونے کے کنگن اتارے جاتے یا اس کے ساتھ فرشتے پرے باندھ کر آتے؟ ان باتوں سے اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنا لیا اور وہ تھے ہی نافرمان لوگ۔ تو جب انھوں نے ہم کو غصہ دلا دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا پس ان سب کو غرق کر دیا۔‘‘  
    پس اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑا۔
    ’نَکَالٌ‘ کے معنی عبرت انگیز عذاب کے ہیں۔ یعنی جب اس نے سب کچھ دیکھ اور سن لینے کے بعد بھی اپنی سرکشی ہی پر اصرار کیا تو اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا دونوں کے عذاب میں پکڑا۔ دنیا میں وہ سمندر کی موجوں کے حوالہ ہوا اور آخرت میں جہنم کے عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔
    بے شک اس میں سبق ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈر رکھنے والے ہیں۔
    یہ وہ مقصد بیان ہوا ہے جس کے لیے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ فرمایا کہ اس میں ان لوگوں کے لیے بڑا درس عبرت ہے جو خدا کی پکڑ سے ڈرنے والے ہوں۔ بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے لیکن اشارہ خاص طور پر قریش کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے اندر کچھ خوف خدا ہے تو وہ اس سے سبق حاصل کریں اور دانش مند وہی ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے نہ کہ خود اپنے اوپر سیلاب بلا گزر جانے کا انتظار کرے۔
    کیا تمہارا بنانا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا؟
    آسمان و زمین کی نشانیوں سے استدلال: اب آگے کی سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو آسمان و زمین کے ہر گوشے میں پھیلی ہوئی ہیں اور اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اس دنیا کا خالق ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے مشکل نہیں ہے۔ جب وہ آسمان جیسی عظیم چیز کو پیدا کر سکتا ہے تو لوگوں کے مرکھپ جانے کے بعد ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اس کے لیے کیا دشوار ہے؟ اسی طرح آسمان سے لے کر زمین تک اپنی ربوبیت کا جو اہتمام اس نے پھیلا رکھا ہے وہ اس بات کا شاہد ہے کہ وہ لوگوں کو غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا بلکہ ایک دن لازماً سب کو اکٹھا کرے گا اور یہ دیکھے گا کہ کس نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور کس نے ناشکری کی اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے گا۔ گویا منکرین قیامت کے جس شبہے کا آیات ۱۰-۱۲ میں حوالہ دیا گیا ہے اس کا جواب بھی دے دیا گیا اور ساتھ ہی قیامت کی ضرورت اور حکمت بھی واضح فرما دی گئی ہے۔ ’ءَ اَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَآءُ بَنَاہَا‘۔ فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ مرنے اور ہڈیوں کے بوسیدہ ہو جانے کے بعد تم دوبارہ کس طرح زندہ کیے جا سکتے ہو تو سوچو کہ یہ عظیم آسمان جو تمہارے سروں پر پھیلا ہوا ہے، اس کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا تمہارا پیدا کیا جانا؟ اگر اس کائنات کا خالق اس آسمان کے بنانے پر قادر ہو سکتا ہے تو دوسرا کون سا کام ہے جو اس سے زیادہ مشکل ہے کہ وہ اس پر قادر نہ ہو سکے گا!
    اس کو اٹھایا، اس کے گنبد کو بلند کیا، پس اس کو ٹھیک ٹھاک کیا۔
    یہ آسمان کے اندر خدا کی عظیم قدرت و حکمت کے بعض پہلوؤں کی طرف اشارہ ہے تاکہ جو لوگ دوبارہ پیدا کیے جانے کو بعید از امکان سمجھ رہے ہیں وہ غور کریں کہ جس خدا کی قدرت کی یہ شانیں وہ ہر وقت دیکھ رہے ہیں اس کے لیے کسی کام کے ناممکن ہونے کا کیا سوال؟ ’سَمْکٌ‘ کے معنی چھت کے ہیں۔ فرمایا کہ اس نے آسمان کو بنایا، اس کی چھت کو بلند کیا اور پھر اس کو اس طرح ہموار کیا کہ کسی کے امکان میں نہیں کہ اس کے کسی کونے میں کسی خلل کی نشان دہی کر سکے۔
    اس کی رات ڈھانک دی اور اس کے دن کو بے نقاب کیا۔
    ’وَأَغْطَشَ لَیْْلَہَا وَأَخْرَجَ ضُحَاہَا‘۔ یعنی پہلے اس کے اندر رات ہی رات تھی۔ وہ، جیسا کہ سورۂ حٰم السجدہ میں اشارہ ہے، دھوئیں کی شکل میں تھا۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی رات ڈھانک دی۔ اس کے حصہ کی روشنی نمودار کی، رات اور دن دونوں کو ایک نظام کا پابند بنا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ جو خدا اس جہان پر رات طاری کر دینے پر قادر ہے، کیا اس کے لیے دنیا کے مرکھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنا ناممکن ہوجائے گا؟ زیادہ مشکل پہلا کام ہے یا دوسرا؟
    اور زمین کو اس کے بعد ہموار کیا۔
    آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور مقصود اس سے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کی قدرت اور اس کی پروردگاری کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس خدا نے زمین کو ہمارے لیے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اس کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کو گاڑا، کیا تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ جب اس نے یہ سارے کام کیے اور اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو ایک ہی پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں دشوار ہو جائے گا! ایک سوال اور اس کا جواب: ’وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحَاہَا‘ کے الفاظ سے ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زمین کی خلقت آسمان کے بعد ہوئی ہے؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ حٰم السجدہ کی آیت ۱۱ میں زمین اور اس کی بعض اہم نشانیوں کی تخلیق کے بعد فرمایا ہے کہ ’ثُمَّ اسْتَوٰٓی إِلَی السَّمَآءِ وَہِیَ دُخَانٌ‘ (پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا) جس سے یہ گمان گزرتا ہے کہ آسمان کی تخلیق زمین کے بعد ہوئی ہے ۔۔۔ اس سوال کا جواب ہم حٰم السجدہ کی مذکورہ آیت کے تحت دے چکے ہیں۔ براہ کرم اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں اجمالاً صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ قرآن نے آسمان اور زمین کی تعمیر سے متعلق جو تصور دیا ہے وہ ایک مکان کی صورت میں دیا ہے جس میں آسمان کی حیثیت چھت کی اور زمین کی حیثیت فرش کی ہے۔ کسی مکان کا نقشہ جب بنایا جاتا ہے تو اس میں چھت اور فرش دونوں بیک وقت مدنظر ہوتے ہیں اور دونوں کا خاکہ ایک ہی ساتھ تیار کر لیا جاتا ہے لیکن تعمیر کے مختلف مراحل میں کبھی فرش اور اس کے متعلقات پر کام ہوتا ہے اور کبھی چھت اور اس کے اطراف پر۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین۔ سورۂ حٰم السجدہ میں اگرچہ باوّلِ وہلہ ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پہلے زمین کی تخلیق ہوئی لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جب خالق نے آسمان کی تعمیر کا قصد فرمایا تو وہ دھوئیں (یا سائنس دانوں کی اصطلاح میں سحابیے) کی شکل میں موجود تھا۔ اسی طرح یہاں زیربحث آیت میں اگرچہ متبادر یہی ہوتا ہے کہ آسمان پہلے وجود میں آیا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ ایک خاص مرحلۂ تعمیر کی بات ہو جس کے بعد زمین کی تعمیر کا آخری مرحلہ (یعنی اس کا بچھایا جانا) عمل میں آیا ہو۔ اس عظیم اور ناپیداکنار کائنات کی تعمیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے جو ہماری محدود عقل کی گرفت میں آ سکے۔ اس کے تمام مراحل کا احاطہ اللہ تعالیٰ کا محیط کل علم ہی کر سکتا ہے۔
    نکالا اس سے اس کا پانی اور چارہ۔
    آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور مقصود اس سے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کی قدرت اور اس کی پروردگاری کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس خدا نے زمین کو ہمارے لیے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اس کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کو گاڑا، کیا تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ جب اس نے یہ سارے کام کیے اور اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو ایک ہی پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں دشوار ہو جائے گا! یہاں اجمالاً صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ قرآن نے آسمان اور زمین کی تعمیر سے متعلق جو تصور دیا ہے وہ ایک مکان کی صورت میں دیا ہے جس میں آسمان کی حیثیت چھت کی اور زمین کی حیثیت فرش کی ہے۔ کسی مکان کا نقشہ جب بنایا جاتا ہے تو اس میں چھت اور فرش دونوں بیک وقت مدنظر ہوتے ہیں اور دونوں کا خاکہ ایک ہی ساتھ تیار کر لیا جاتا ہے لیکن تعمیر کے مختلف مراحل میں کبھی فرش اور اس کے متعلقات پر کام ہوتا ہے اور کبھی چھت اور اس کے اطراف پر۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین۔ سورۂ حٰم السجدہ میں اگرچہ باوّلِ وہلہ ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پہلے زمین کی تخلیق ہوئی لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جب خالق نے آسمان کی تعمیر کا قصد فرمایا تو وہ دھوئیں (یا سائنس دانوں کی اصطلاح میں سحابیے) کی شکل میں موجود تھا۔ اسی طرح یہاں زیربحث آیت میں اگرچہ متبادر یہی ہوتا ہے کہ آسمان پہلے وجود میں آیا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ ایک خاص مرحلۂ تعمیر کی بات ہو جس کے بعد زمین کی تعمیر کا آخری مرحلہ (یعنی اس کا بچھایا جانا) عمل میں آیا ہو۔ اس عظیم اور ناپیداکنار کائنات کی تعمیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے جو ہماری محدود عقل کی گرفت میں آ سکے۔ اس کے تمام مراحل کا احاطہ اللہ تعالیٰ کا محیط کل علم ہی کر سکتا ہے۔
    اور پہاڑوں کو اس میں گاڑا۔
    آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور مقصود اس سے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کی قدرت اور اس کی پروردگاری کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس خدا نے زمین کو ہمارے لیے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اس کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کو گاڑا، کیا تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ جب اس نے یہ سارے کام کیے اور اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو ایک ہی پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں دشوار ہو جائے گا! یہاں اجمالاً صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ قرآن نے آسمان اور زمین کی تعمیر سے متعلق جو تصور دیا ہے وہ ایک مکان کی صورت میں دیا ہے جس میں آسمان کی حیثیت چھت کی اور زمین کی حیثیت فرش کی ہے۔ کسی مکان کا نقشہ جب بنایا جاتا ہے تو اس میں چھت اور فرش دونوں بیک وقت مدنظر ہوتے ہیں اور دونوں کا خاکہ ایک ہی ساتھ تیار کر لیا جاتا ہے لیکن تعمیر کے مختلف مراحل میں کبھی فرش اور اس کے متعلقات پر کام ہوتا ہے اور کبھی چھت اور اس کے اطراف پر۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین۔ سورۂ حٰم السجدہ میں اگرچہ باوّلِ وہلہ ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پہلے زمین کی تخلیق ہوئی لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جب خالق نے آسمان کی تعمیر کا قصد فرمایا تو وہ دھوئیں (یا سائنس دانوں کی اصطلاح میں سحابیے) کی شکل میں موجود تھا۔ اسی طرح یہاں زیربحث آیت میں اگرچہ متبادر یہی ہوتا ہے کہ آسمان پہلے وجود میں آیا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ ایک خاص مرحلۂ تعمیر کی بات ہو جس کے بعد زمین کی تعمیر کا آخری مرحلہ (یعنی اس کا بچھایا جانا) عمل میں آیا ہو۔ اس عظیم اور ناپیداکنار کائنات کی تعمیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے جو ہماری محدود عقل کی گرفت میں آ سکے۔ اس کے تمام مراحل کا احاطہ اللہ تعالیٰ کا محیط کل علم ہی کر سکتا ہے۔
    تمہاری اور تمہارے مویشیوں کی نفع رسانی کے لیے۔
    آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور مقصود اس سے بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، خدا کی قدرت اور اس کی پروردگاری کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جس خدا نے زمین کو ہمارے لیے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اس کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اس کے اندر پہاڑوں کو گاڑا، کیا تم کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا؟ جب اس نے یہ سارے کام کیے اور اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو ایک ہی پیدا کی ہوئی مخلوق کو دوبارہ پیدا کر دینا کیوں دشوار ہو جائے گا! ’مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِأَنْعَامِکُمْ‘۔ یہ اس ربوبیت کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس زمین کے چپہ چپہ پر نمایاں ہے۔ فرمایا کہ دیکھو تو معلوم ہو گا کہ تمہارے رب نے صرف تمہاری ہی ضرورت کا سامان نہیں کیا ہے بلکہ تمہاری خدمت کے لیے چوپائے پیدا کیے ہیں، ان کی مایحتاج کا بھی پورا انتظام فرمایا ہے۔ اب غور کرو کہ جس پروردگار نے تمہاری پرورش کے لیے آسمان سے لے کر زمین تک یہ اہتمام فرمایا ہے کیا اس نے تمہیں محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ کچھ عرصہ تک اس زمین میں کھاؤ پیو اور ایک دن ختم ہو جاؤ؟ ا س سے اس کو کچھ بحث نہیں کہ تم میں سے کس نے نیکی کی زندگی بسر کی اور کس نے بدی کی؟ کس نے اپنے رب کی نعمتوں کا حق پہچانا اور کس نے اندھے بہرے پن کی زندگی گزاری؟ غور کرو تو معلوم ہو گا کہ یہ مفروضہ بالکل باطل ہے۔ یہ مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا محض ایک بازیچۂ اطفال ہے۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ العیاذ باللہ اس کا خالق حکیم نہیں، بلکہ ایک کھلنڈرا ہے جس کے نزدیک نیکی اور بدی میں کوئی امتیاز سرے سے ہے ہی نہیں ۔۔۔ غور کیجیے کہ کیا اس کائنات کے عظیم خالق کے متعلق ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور کیا جا سکتا ہے! یہاں اجمالاً صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ قرآن نے آسمان اور زمین کی تعمیر سے متعلق جو تصور دیا ہے وہ ایک مکان کی صورت میں دیا ہے جس میں آسمان کی حیثیت چھت کی اور زمین کی حیثیت فرش کی ہے۔ کسی مکان کا نقشہ جب بنایا جاتا ہے تو اس میں چھت اور فرش دونوں بیک وقت مدنظر ہوتے ہیں اور دونوں کا خاکہ ایک ہی ساتھ تیار کر لیا جاتا ہے لیکن تعمیر کے مختلف مراحل میں کبھی فرش اور اس کے متعلقات پر کام ہوتا ہے اور کبھی چھت اور اس کے اطراف پر۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین۔ سورۂ حٰم السجدہ میں اگرچہ باوّلِ وہلہ ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پہلے زمین کی تخلیق ہوئی لیکن ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جب خالق نے آسمان کی تعمیر کا قصد فرمایا تو وہ دھوئیں (یا سائنس دانوں کی اصطلاح میں سحابیے) کی شکل میں موجود تھا۔ اسی طرح یہاں زیربحث آیت میں اگرچہ متبادر یہی ہوتا ہے کہ آسمان پہلے وجود میں آیا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ ایک خاص مرحلۂ تعمیر کی بات ہو جس کے بعد زمین کی تعمیر کا آخری مرحلہ (یعنی اس کا بچھایا جانا) عمل میں آیا ہو۔ اس عظیم اور ناپیداکنار کائنات کی تعمیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے جو ہماری محدود عقل کی گرفت میں آ سکے۔ اس کے تمام مراحل کا احاطہ اللہ تعالیٰ کا محیط کل علم ہی کر سکتا ہے۔
    پس جب وہ بڑا ہنگامہ برپا ہو گا (تو یہ سب کچھ درہم برہم ہو جائے گا)۔
    ’اَلطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی‘ کے معنی بڑی ہلچل اور بڑے ہنگامہ کے ہیں۔ مراد اس سے قیامت ہے۔ اس کے بعد اس شرط کا جواب بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ اس طرح کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور اس کی بلاغت بھی ہم واضح کر چکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ بڑا ہنگامہ برپا ہو گا تو یہ آسمان و زمین سب درہم برہم ہو جائیں گے۔
    اس دن انسان اپنے کیے کو یاد کرے گا۔
    یہ ’یَوْمَ‘ جواب شرط محذوف کا ظرف ہے جس طرح آیت ۶ میں ’یَوْمَ‘ مقسم علیہ محذوف کا ظرف ہے۔ یعنی اس دن انسان اپنے کیے کو یاد کرے گا۔ آج تو اس کو غفلت کی سرمستی میں کچھ ہوش نہیں کہ وہ کیا بنا رہا ہے، جب اس کو اس دن سے ڈرایا جاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے، لیکن اس دن اس کو ہوش آئے گا اور وہ دیکھے گا کہ وہ دنیا میں کیا کمائی کر کے آیا ہے۔
    اور دوزخ ان لوگوں کے لیے بے نقاب کر دی جائے گی جن کو اس سے دوچار ہونا ہے۔
    جہنم تیار ہے صرف پردہ اٹھنے کی دیر ہے: آج تو اسے آخرت اور جہنم بہت بعید از امکان نظر آتی ہے لیکن اس دن جہنم ان لوگوں کے لیے بے نقاب کر دی جائے گی جن کو اس سے دوچار ہونا ہے۔ ’بے نقاب کر دی جائے گی‘ یعنی وہ بالکل تیار ہے۔ بس پردہ اٹھنے کی دیر ہے۔ پردہ اٹھتے ہی وہ ان سب کے سامنے ہو گی جو اس کو آنکھوں دیکھے بغیر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ’لِمَنْ یَّرٰی‘ یعنی جن کے لیے، ان کے اعمال کی پاداش میں، اس کا دیکھنا مقدر ہے وہ اس کو دیکھیں گے۔ رہے اللہ کے وہ بندے جو بن دیکھے ہی اس سے لرزاں و ترساں رہے ہیں۔ اللہ ان کو اس سے دور رکھے گا۔ وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے۔
    تو جس نے سرکشی کی۔
    فرمایا کہ جس نے اس دنیا میں سرکشی کی ہو گی اور دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہو گی اس دن اس کا ٹھکانا بس جہنم ہی بنے گا جس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو گا۔ پیچھے آیت ۱۷ میں فرعون کے طغیان کا ذکر گزر چکا ہے۔
    اور آخرت کے بالمقابل دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔
    یہاں ’اٰثَرَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا‘ سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اس طغیان میں وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جو آخرت کو نظر انداز کر کے اسی دنیا کے پجاری بن جاتے ہیں، اس سے الگ ہو کر وہ کسی چیز کو سونچنے اور ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔
    اس کا ٹھکانا تو بس جہنم ہی بنے گی۔
    ’فَإِنَّ الْجَحِیْمَ ہِیَ الْمَأْوٰی‘ میں حصر کا مضمون ہے یعنی پھر ان کے لیے جہنم ہی جہنم ہے، کوئی اور راہ ان کے لیے کھلنے والی نہیں ہے۔
    اور وہ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرا اور جس نے اپنے نفس کو خواہش کی پیروی سے روکا۔
    البتہ وہ لوگ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے رہے اور دنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے جنھوں نے اپنے نفس کو خواہشوں کی پیروی سے روکا تو ان کا ٹھکانہ بس جنت ہی ہو گی وہ اس سے کبھی محروم نہ ہوں گے۔ ’مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ‘ سے مراد خدا کے حضور پیشی سے ڈرنا ہے۔ سورۂ مطففین میں اس کی وضاحت یوں آئی ہے: أَلَا یَظُنُّ أُولٰٓئِکَ أَنَّہُمۡ مَّبْعُوْثُوْنَ ۵ لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ ۵ یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (المطففین ۸۳: ۴-۶) ’’کیا وہ یہ گمان نہیں رکھتے کہ وہ ایک بھاری دن کی حاضری کے لیے اٹھائے جانے والے ہیں؟ جس دن لوگ خداوند عالم کے حضور پیشی کے لیے اٹھیں گے!‘‘ اسی پیشی کا ڈر ہے جو انسان کو خواہشوں کی پیروی سے روکتا ہے۔ یہ ڈر نہ ہو تو نفس کو خواہشوں کے پیچھے بھاگنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔  
    تو اس کا ٹھکانا لاریب جنت ہے۔
    البتہ وہ لوگ جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے رہے اور دنیا کے پیچھے بھاگنے کے بجائے جنھوں نے اپنے نفس کو خواہشوں کی پیروی سے روکا تو ان کا ٹھکانہ بس جنت ہی ہو گی وہ اس سے کبھی محروم نہ ہوں گے۔
    وہ قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب کھڑی ہو گی؟
    نبی صلعم کو تسلی: یہ اور اس کے بعد خاتمۂ سورہ کی آیات ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی پروا نہ کرو جو تمہیں زچ کرنے کے لیے قیامت کے ظہور کا وقت پوچھتے ہیں۔ تمہارا کام اس سے لوگوں کو آگاہ کر دینا ہے تاکہ جو متنبہ ہونا چاہیں وہ متنبہ ہو جائیں۔ رہے وہ جو اس کو دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں اور اس کے ظہور کا وقت معلوم کرنے کے درپے ہیں ان کو مطمئن کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ انھوں نے محض اس کی تکذیب کے لیے ایک بہانہ بنایا ہے۔ ’اَیَّانَ مُرْسَاہَا‘۔ یعنی یہ اس کے ظہور کے وقت سے متعلق سوال کرتے ہیں۔ ’اَیَّانَ‘ وقت مستقبل سے متعلق سوال کے لیے آتا ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ میرے نزدیک ’کہاں‘ صحیح نہیں ہو گا بلکہ ’کب‘ ہونا چاہیے۔ ’مُرْسٰی‘ کے معنی لنگرانداز ہونے کے ہیں۔ اس لفظ میں یہاں ایک قسم کا طنز مضمر ہے۔ یعنی یہ منکرین پوچھتے ہیں کہ ہم کب سے یہ خبر سن رہے ہیں کہ بس قیامت آیا ہی چاہتی ہے لیکن اس کو نہ آنا تھا نہ آئی۔ آخر اس کا سفینہ ہمارے ساحل میں کب لنگرانداز ہو گا! اس کے انتظار میں تو ہماری آنکھیں پتھرا گئیں!
    تم اس بحث میں کہاں پڑے ہو!
    فرمایا کہ تمہیں اس بحث سے کیا تعلق؟ اس کا سرا تو صرف تمہارے رب کے پاس ہے۔ تم ان لوگوں کو یہ بتانے نہیں آئے ہو کہ قیامت کس دن آئے گی۔ اس کا علم تمہارے رب کے سوا اور کسی کے پاس نہیں ہے تو جو سوال سرے سے تم سے معلق ہے ہی نہیں تمہیں اس سے کیا واسطہ اور تم اس کی کھوج کرید میں کیوں پڑو! اس کو اللہ کے حوالہ کرو جو اس کا حقیقی علم رکھنے والا ہے۔
    یہ معاملہ تو تیرے رب کے حوالہ ہے۔
    فرمایا کہ تمہیں اس بحث سے کیا تعلق؟ اس کا سرا تو صرف تمہارے رب کے پاس ہے۔ تم ان لوگوں کو یہ بتانے نہیں آئے ہو کہ قیامت کس دن آئے گی۔ اس کا علم تمہارے رب کے سوا اور کسی کے پاس نہیں ہے تو جو سوال سرے سے تم سے معلق ہے ہی نہیں تمہیں اس سے کیا واسطہ اور تم اس کی کھوج کرید میں کیوں پڑو! اس کو اللہ کے حوالہ کرو جو اس کا حقیقی علم رکھنے والا ہے۔
    تم تو بس ان لوگوں کو اس سے آگاہ کرنے والے ہو جو اس سے ڈریں۔
    جو لوگ قیامت کو دیکھ کر اس کو ماننا چاہتے ہیں ان کی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ تمہارا انذار صرف انہی پر کارگر ہو گا جو دلائل کی روشنی میں اس کو بن دیکھے ماننے اور اس سے ڈرنے کے لیے تیار ہوں۔
    جس روز وہ اس کو دیکھیں گے تو گویا انھیں ایک شام یا اس کی صبح سے زیادہ وقفہ نہیں گزرا۔
    یعنی آج اگر ان کو یہ دکھائی نہیں جاتی یا اس کی تاریخ نہیں مقرر کی جاتی تو اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ وہ اتنی دور ہے کہ اس کے لیے انھیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس دن اس کو دیکھیں گے اس دن کا احساس یہ ہو گا کہ گویا دنیا میں وہ ایک دن کے پچھلے یا اس کے پہلے پہر سے زیادہ نہیں رہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List