Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النبا (The Great News, Tidings, The Announcement)

    40 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ المرسلٰت ۔۔۔ کی توام سورہ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ جس طرح اس میں آفاقی، تاریخی اور انفسی دلائل سے یہ حقیقت ثابت کی گئی ہے کہ اس دنیا کے بامقصد و باغایت ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ یہ ایک دن ختم ہو اور اس کے بعد ایک ایسا فیصلہ کا دن آئے جس میں نیکوکاروں کو ان کی نیکیوں کا صلہ ملے اور جو مجرم ہوں وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں اسی طرح اس سورہ میں بھی ایک یوم الفصل کا اثبات فرمایا ہے جس میں خدا کے باغی اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں گے اور خدا ترس اپنی خدا ترسی کا انعام پائیں گے۔ استدلال اس میں خدا کی ربوبیت کے آثار و شواہد سے ہے جس سے آسمان و زمین کا چپہ چپہ معمور ہے۔

    لب و لہجہ دونوں سورتوں کا بالکل ایک ہی ہے۔ کلام استفہام اقراری کے انداز میں شروع ہوا ہے جو ان مستکبرین و مکذبین کو خطاب کرنے کے لیے مخصوص ہے جو بالکل بدیہی حقائق کو جھٹلانے کے درپے ہوں۔ دلائل کے پہلو بہ پہلو زجر و ملامت اور تہدید و توبیخ ہر آیت میں نمایاں ہے۔ اہل ایمان کے لیے جو بشارت ہے وہ بھی گویا ان مکذبین کی تہدید ہی کے پہلو سے آئی ہے کہ وہ اس کو سامنے رکھ کر اپنے انجام بد کا موازنہ کر لیں۔

  • النبا (The Great News, Tidings, The Announcement)

    40 آیات | مکی
    المرسلات - النبا

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ آفاق کے آثار و شواہد، تاریخ کے حقائق اور انسان کی خلقت میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں سے قیامت کو ثابت کرتی ہے، دوسری میں یہی دعویٰ آفاق میں بالخصوص خدا کی ربوبیت کے آثار و شواہد سے ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں دلائل کے پہلو بہ پہلو زجر و توبیخ اور تہدید و ملامت، ہر آیت سے نمایاں ہے۔

    روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا موضوع قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 078 Verse 001 Chapter 078 Verse 002 Chapter 078 Verse 003 Chapter 078 Verse 004 Chapter 078 Verse 005 Chapter 078 Verse 006 Chapter 078 Verse 007 Chapter 078 Verse 008 Chapter 078 Verse 009 Chapter 078 Verse 010 Chapter 078 Verse 011 Chapter 078 Verse 012 Chapter 078 Verse 013 Chapter 078 Verse 014 Chapter 078 Verse 015 Chapter 078 Verse 016 Chapter 078 Verse 017 Chapter 078 Verse 018 Chapter 078 Verse 019 Chapter 078 Verse 020 Chapter 078 Verse 021 Chapter 078 Verse 022 Chapter 078 Verse 023 Chapter 078 Verse 024 Chapter 078 Verse 025 Chapter 078 Verse 026 Chapter 078 Verse 027 Chapter 078 Verse 028 Chapter 078 Verse 029 Chapter 078 Verse 030 Chapter 078 Verse 031 Chapter 078 Verse 032 Chapter 078 Verse 033 Chapter 078 Verse 034 Chapter 078 Verse 035 Chapter 078 Verse 036 Chapter 078 Verse 037 Chapter 078 Verse 038 Chapter 078 Verse 039 Chapter 078 Verse 040
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ لوگ کس چیز کے بارے میں چہ میگوئیاں کر رہے ہیں؟
    ’عَمَّ‘ دراصل ہے تو ’عَمَّا‘ لیکن عام استعمال میں جس طرح بعض حروف کی آواز دب جاتی ہے اسی طرح ’عَمَّا‘ سے بھی ’الف‘ ساقط ہو گیا ہے اور یہ اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ منکرین قیامت کا استہزاء: ’تَسَاءُ لٌ‘ کے معنی آپس میں کسی چیز سے متعلق پوچھ گچھ کرنے کے ہیں۔ پوچھ گچھ دریافت حال اور تحقیق کے لیے بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات محض سخن گستری اور استہزاء کے لیے بھی۔ یہاں یہ استہزاء کے مفہوم میں ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جب انذار قیامت پر مشتمل سورتیں سنائیں تو لب و لہجہ کی حرارت، انداز بیان کی سطوت و ہیبت اور دلائل کی قطعیت نے ان کا چرچا بہت جلد ہر حلقہ میں پھیلا دیا۔ قریش نے اپنے عوام کو اس کے اثر سے بچانے کے لیے جہاں بہت سی احمقانہ تدبیریں اختیار کیں وہاں یہ اوچھی تدبیر بھی اختیار کی کہ اپنی مجالس میں اس کو اپنے مذاق اور طبع آزمائی کا موضوع بنا لیا تاکہ لوگوں پر یہ اثر ڈالیں کہ یہ چیز کسی سنجیدہ غور و فکر کے لائق نہیں ہے بلکہ محض خیالی ہوّا ہے جس سے متاثر ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بعض نے کہا کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ جب لوگ مر کر سڑ گل جائیں گے تو وہ ازسرنو زندہ کیے جائیں! بعض نے اس پر گرہ لگائی کہ کیا بھلا ہمارے اگلے بھی اٹھائے جائیں گے جو نہیں معلوم کب پیوند زمین ہوئے اور ان کی قبروں کا کوئی نشان بھی باقی نہیں رہا! تیسرے نے پرزور لہجہ میں اس کی تائید کی کہ ناممکن، ناممکن، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، یہ سب محض خیالی باتیں ہیں۔ دوزخ اور اس کی آگ کا یوں مذاق اڑاتے کہ خوب ہو گی وہ آگ جس میں پانی بھی ہو گا اور درخت بھی! دوسرا اس نکتہ پر اس کو داد دیتا کہ بھلا یہ باتیں کسی کی عقل میں سمانے والی ہیں۔ جب قرآن نے ان کو آگاہ کیا کہ دوزخ پر انیس سرہنگ مامور ہوں گے تو اس کو انھوں نے اپنی طبع آزمائی کا موضوع بنا لیا۔ کوئی بولا کہ اگر اتنے ہی ہوں گے تو ان میں سے اتنوں سے تو میں تنہا نمٹ لینے کے لیے کافی ہوں۔ دوسرے نے ڈینگ ہانکی کہ پھر کوئی اندیشہ کی بات نہیں ہے، باقی سے نمٹنے کے لیے میں کمزور نہیں ہوں! غرض قیامت اور اس کے احوال سے متعلق جو باتیں بھی ان کو سنائی گئیں ان سے سبق لینے کے بجائے انھوں نے ان کو مذاق میں اڑا دینے کی کوشش کی تاکہ ان کے عوام ان سے متاثر نہ ہونے پائیں ان کی اسی طرح کی باتوں کو یہاں ’تَسَاءُ لٌ‘ سے تعبیر فرمایا ہے اور نہایت تیز و تند انداز میں پوچھا ہے کہ یہ لوگ کس چیز کے بارے میں چہ میگوئیاں کر رہے ہیں۔ اس سوال سے اس سورہ کا آغاز اس کے مزاج کا پتہ دے رہا ہے کہ اس میں ان کو بتایا جائے گا کہ جس چیز کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہ مذاق اڑانے اور ہنسی دل لگی کی چیز نہیں بلکہ وہ سوچیں تو ان کے لیے سر پیٹنے اور خون کے آنسو بہانے کی چیز ہے۔
    اس بڑی خبر کے بارے میں۔
    زبان کا ایک اسلوب: ’نبا‘ کسی بڑے واقعہ یا اہم خبر کو کہتے ہیں۔ اس آیت سے پہلے اگرچہ حرف استفہام لفظاً مذکور نہیں ہے لیکن معناً یہ بھی اسی استفہام کے تحت ہے جو پہلے آیا ہے۔ اس کی نہایت واضح مثال سورۂ انشراح میں موجود ہے۔ فرمایا ہے: ’اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۵ وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ‘ (الانشراح ۹۴: ۱-۲) (کیا ہم نے تمہارے سینہ کو کھول نہیں دیا اور تمہارے بوجھ کو اتار نہیں دیا؟) یہاں ’وَوَضَعْنَا عَنۡکَ وِزْرَکَ‘ کا ٹکڑا دیکھ لیجیے لفظاً استفہام کے تحت نہیں ہے بلکہ بالکل سادہ خبریہ اسلوب میں ہے لیکن معناً یہ اسی کے تحت ہے۔ اس کی مثالیں قرآن میں بہت ہیں۔ اس سورہ میں بھی آگے اس کی مثالیں آ رہی ہیں۔ مترجمین عام طور پر اس اسلوب زبان سے نا آشنا ہیں اس وجہ سے وہ اس طرح کے انشائیہ جملوں کا ترجمہ خبریہ اسلوب میں کر دیتے ہیں جس سے کلام کا اصل زور واضح نہیں ہوتا اس لیے کہ انشاء اور خبر میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اس بے دردی اور جسارت سے اس عظیم خبر کا مذاق اڑا رہے ہیں جو قیامت اور روز جزا و سزا سے متعلق ان کو سنائی جا رہی ہے؟ یہ خبر تو ایسی ہے کہ حق تھا کہ اس کی فکر خواب و خور کی لذت سے ان کو محروم کر دیتی لیکن یہ ایسے شامت زدہ ہیں کہ اس سے ڈرنے اور اس کے لیے تیاری کرنے کے بجائے اس کو اپنے طنز و مذاق کا موضوع بنائے ہوئے ہیں۔  
    جس میں کوئی کچھ کہہ رہا ہے کوئی کچھ!
    منکرین قیامت کا تناقض فکر: ’اَلَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوۡنَ‘۔ لفظ ’اختلاف‘ بیک وقت دو معنوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک اختلاف رائے کو دوسرے تناقض فکر کو اور یہ دونوں معانی غور کیجیے تو معلوم ہو گا لازم و ملزوم ہیں۔ اختلاف رائے تناقض فکر ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ مشرکین عرب سے متعلق ہم جگہ جگہ اس حقیقت کا اظہار کر چکے ہیں کہ قیامت کے باب میں وہ نہایت شدید قسم کے تناقض فکر میں مبتلا تھے۔؂۱ ایک گروہ ان کے اندر اس کا کھلم کھلا انکار کرتا تھا اور دوسرا، جس کی تعداد زیادہ تھی، صریح انکار کے بجائے اس پر مختلف قسم کے شبہات وارد کرتا تھا۔ ان کا گمان تھا کہ اول تو اس کا ہونا ہی بہت مستبعد اور بعید از قیاس ہے اور ہوئی بھی تو اس کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا ٹوٹنا ہمارے دیوتاؤں کی طرف ہو گا جو ہمیں خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے اور اگر خدا سے سابقہ پڑا بھی تو اتنی بے شمار مخلوق کے سارے اعمال و اقوال کو کون جان سکتا ہے کہ وہ ان کا حساب کرنے بیٹھے۔ یہ اس خبط میں بھی مبتلا تھے کہ جب اس دنیا میں ان کا حال اچھا ہے، جو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی نظروں میں اچھے ہیں، تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جو عزت و سرفرازی اس نے ان کو اس دنیا میں دے رکھی ہے قیامت میں ان کو اس سے محروم کر دے۔ ان غلط خیالات کے ساتھ ساتھ وہ بہت سے ایسے صحیح عقائد کا اقرار بھی کرتے تھے جن سے ان باطل خیالات کی نفی ہوتی تھی لیکن قیامت اور جزا و سزا کو ماننا ان کی خواہش کے خلاف تھا اس وجہ سے وہ قرآن کی بار بار کی تذکیر کے بعد بھی اپنے فکری تناقض کا جائزہ لینے اور اس کو دور کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے حالانکہ عقل اور فطرت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ انسان کو زندگی کے کسی ایسے معاملے میں اگر ذہنی یکسوئی حاصل نہ ہو جس میں اس کی ابدی فلاح یا ابدی ہلاکت کا راز مضمر ہے تو ان لوگوں کی بات توجہ سے سنے جو اس کے تضاد فکر سے اس کو آگاہ کر رہے ہوں تاکہ ہلاکت سے محفوظ رہے۔ یہ درحقیقت اس کی اپنی ضرورت ہے نہ کہ یاددہانی کرنے والوں کی۔ قرآن نے یہاں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قرآن ان کو جس عظیم واقعہ کی خبر دے رہا ہے اس کے بارے میں ان کا فکری تناقض اور کسی ذہنی الجھن میں مبتلا رہنا کسی طرح ان کے لیے خوش انجام نہیں ہے۔ یہ ابدی ہلاکت یا ابدی سعادت کا معاملہ ہے۔ قرآن کا یہ بڑا احسان ہے کہ اس نے اس تضاد و اختلاف سے نکلنے کی ان کو راہ دکھائی ہے۔ حق تھا کہ وہ اس کی قدر کرتے لیکن انھوں نے اپنی بدبختی سے اس کو تفریح طبع کا موضوع بنا لیا ہے۔ _____ ؂۱ مثلاً ملاحظہ ہو تفسیر سورۂ نمل (۲۷) آیت ۶۶۔
    ہرگز نہیں، وہ عنقریب جان لیں گے۔
    منکرین کو تنبیہ: یہ نہایت زوردار الفاظ میں ان کو تنبیہ ہے کہ جو لذیذ خواب وہ دیکھ رہے ہیں یہ ہرگز پورے ہونے والے نہیں ہیں۔ قرآن جس انجام سے ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کے سامنے آ کے رہے گا۔ یہاں جملہ کی تکرار محض دعوے کو مؤکد کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت کے لیے ہے۔ اللہ کے رسولوں نے، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں لکھ چکے ہیں، اپنی قوموں کو بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ اول اس عذاب سے جو سنت الٰہی کے مطابق ہر اس قوم پر لازماً آیا ہے جس نے رسول کی تکذیب کر دی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جس میں وہ قیامت کے دن مبتلا ہو گی۔ ان دونوں عذابوں کو سامنے رکھ کر اس تنبیہی کلمہ کو دو بار دہرایا ہے۔
    پھر ہرگز نہیں، وہ جلد جان لیں گے!!
    منکرین کو تنبیہ: یہ نہایت زوردار الفاظ میں ان کو تنبیہ ہے کہ جو لذیذ خواب وہ دیکھ رہے ہیں یہ ہرگز پورے ہونے والے نہیں ہیں۔ قرآن جس انجام سے ان کو آگاہ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کے سامنے آ کے رہے گا۔ یہاں جملہ کی تکرار محض دعوے کو مؤکد کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت کے لیے ہے۔ اللہ کے رسولوں نے، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں لکھ چکے ہیں، اپنی قوموں کو بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ اول اس عذاب سے جو سنت الٰہی کے مطابق ہر اس قوم پر لازماً آیا ہے جس نے رسول کی تکذیب کر دی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جس میں وہ قیامت کے دن مبتلا ہو گی۔ ان دونوں عذابوں کو سامنے رکھ کر اس تنبیہی کلمہ کو دو بار دہرایا ہے۔
    کیا ہم نے زمین کو گہوارہ (اور پہاڑوں کو میخیں) نہیں بنایا؟
    آثار ربوبیت سے استدلال: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے ان آثار کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت، توحید، قیامت اور ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر ایسی واضح حجت ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ آخر میں یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ ’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘ جو شخص بھی ان نشانیوں پر غور کرے گا وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گا کہ اس کے بعد ایک فیصلہ کا دن ضرور آئے گا اور اس کا وقت اس کائنات کے خالق کے نزدیک معین ہے۔ ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا‘۔ سب سے پہلے زمین اور اس کے پہاڑوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان اگر روز جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے تو کیا وہ ربوبیت کے اس اہتمام پر غور نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے، بغیر کسی استحقاق کے، کر رکھا ہے کہ زمین کو اس کے لیے گہوارے کی طرح قرار و سکون کی جگہ بنایا ہے اور اس میں پہاڑوں کی میخیں ٹھونکی ہیں تاکہ یہ اپنی جگہ پر برقرار رہے، کوئی تزلزل اس میں نہ پیدا ہونے پائے۔ زمین کے اندر پہاڑوں کے لنگرانداز کرنے کی مختلف حکمتوں کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کیے ہیں۔ سابق سورہ میں بھی اس کی ایک عظیم مصلحت کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مقامات میں اس کی یہ حکمت بھی بتائی ہے کہ زمین میں پہاڑ اس لیے گاڑے کہ وہ تمہارے سمیت کسی طرف لڑھک نہ جائے۔  ’وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ‘ (النحل ۱۶: ۱۵) (اور زمین میں اس نے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت لڑھک جائے)۔ یہاں اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اگر غور کرے تو یہ سمجھنے سے وہ قاصر نہیں رہے گا کہ جو رب اس زمین کے گہوارے میں اس اہتمام سے اس کی پرورش کر رہا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسا دن نہ لائے جس میں ان لوگوں کو انعام دے جنھوں نے اس کی ربوبیت کا حق پہچانا اور اس کو ادا کیا ہو اور ان لوگوں کو سزا دے جنھوں نے اس کی ناشکری اور نافرمانی کی ہو۔ ربوبیت کے ساتھ مسؤلیت لازمی ہے۔ ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کائنات کے خالق کے نزدیک شکرگزار اور نابکار دونوں برابر ہیں۔ یہ ایسی بھونڈی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے متعلق اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔  
    (کیا ہم نے زمین کو گہوارہ) اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا؟
    آثار ربوبیت سے استدلال: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے ان آثار کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس کی قدرت، حکمت، رحمت، ربوبیت، توحید، قیامت اور ایک روز جزا و سزا کے لازمی ہونے پر ایسی واضح حجت ہیں کہ کوئی سلیم الفطرت ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ آخر میں یہ نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ ’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘ جو شخص بھی ان نشانیوں پر غور کرے گا وہ اس اعتراف پر مجبور ہو گا کہ اس کے بعد ایک فیصلہ کا دن ضرور آئے گا اور اس کا وقت اس کائنات کے خالق کے نزدیک معین ہے۔ ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا‘۔ سب سے پہلے زمین اور اس کے پہاڑوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان اگر روز جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے تو کیا وہ ربوبیت کے اس اہتمام پر غور نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے، بغیر کسی استحقاق کے، کر رکھا ہے کہ زمین کو اس کے لیے گہوارے کی طرح قرار و سکون کی جگہ بنایا ہے اور اس میں پہاڑوں کی میخیں ٹھونکی ہیں تاکہ یہ اپنی جگہ پر برقرار رہے، کوئی تزلزل اس میں نہ پیدا ہونے پائے۔ زمین کے اندر پہاڑوں کے لنگرانداز کرنے کی مختلف حکمتوں کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کیے ہیں۔ سابق سورہ میں بھی اس کی ایک عظیم مصلحت کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مقامات میں اس کی یہ حکمت بھی بتائی ہے کہ زمین میں پہاڑ اس لیے گاڑے کہ وہ تمہارے سمیت کسی طرف لڑھک نہ جائے۔  ’وَاَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ‘ (النحل ۱۶: ۱۵) (اور زمین میں اس نے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت لڑھک جائے)۔ یہاں اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اگر غور کرے تو یہ سمجھنے سے وہ قاصر نہیں رہے گا کہ جو رب اس زمین کے گہوارے میں اس اہتمام سے اس کی پرورش کر رہا ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسا دن نہ لائے جس میں ان لوگوں کو انعام دے جنھوں نے اس کی ربوبیت کا حق پہچانا اور اس کو ادا کیا ہو اور ان لوگوں کو سزا دے جنھوں نے اس کی ناشکری اور نافرمانی کی ہو۔ ربوبیت کے ساتھ مسؤلیت لازمی ہے۔ ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کائنات کے خالق کے نزدیک شکرگزار اور نابکار دونوں برابر ہیں۔ یہ ایسی بھونڈی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے متعلق اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔  
    تم کو جوڑے جوڑے نہیں پیدا کیا؟
    ’وَّخَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجًا‘۔ اگرچہ اسلوب کلام باعتبار الفاط خبریہ ہو گیا ہے لیکن معناً یہ ’اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا‘ ہی پر معطوف ہے۔ اس کی وضاحت اوپر آیات ۱-۲ کے تحت ہو چکی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس سب سے بڑے سامان تسلی کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں آدمی کے لیے مہیا کیا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں تنہا نہیں پیدا کیا بلکہ تمہارے ساتھ تمہاری ہی جنس سے تمہارا جوڑا بھی بنایا تاکہ وہ تمہارے لیے طمانیت اور سکینت کا ذریعہ بنے۔ یہ امر واضح رہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑا جوڑا بنائی ہے اور یہ جوڑے آپس میں ایسی گہری وابستگی رکھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی تنہا اپنے مقصد تخلیق کو پورا نہیں کر سکتا۔ ان میں بظاہر تو نسبت ضدین کی ہے لیکن قدرت نے ان کے اندر ایسے ظاہری و باطنی داعیات رکھے ہیں کہ وہ باہم مل کر رہنے ہی میں سکون و راحت پاتے اور ایک برتر مقصد کو پورا کرتے ہیں۔ یہ خصوصیت جس طرح اس دنیا کے تمام اضداد میں ہے اسی طرح میاں اور بیوی کے درمیان بھی ہے۔ اس چیز کی طرف قرآن نے سورۂ روم (۳۰) آیت ۲۱ میں یوں اشارہ فرمایا ہے: ’اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً‘ (اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان اس نے محبت اور غم گساری رکھی)۔ اضداد کے اندر اس توافق و سازگاری کو قرآن نے توحید اور قیامت کی دلیل کی حیثیت سے جگہ جگہ پیش کیا ہے جس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔  
    تمہاری نیند کو دافع کلفت نہیں بنایا؟
    ’وَّجَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا‘۔ ’سبت‘ اور ’سبات‘ کے اصل معنی تو کانٹے کے ہیں لیکن یہاں یہ دفع کلفت اور راحت و سکون کے معنی میں ہے۔ نیند کو ’سبات‘ اس وجہ سے کہا کہ یہ حرکت و عمل کے تسلسل کو منقطع کر کے کلفت سے نجات دیتی اور راحت و سکون حاصل کرنے کا موقع بہم پہنچاتی ہے جس سے قویٰ تازہ دم ہو جاتے ہیں۔
    رات کو تمہارے لیے پردہ (اور دن کو وقت معاش) نہیں بنایا؟
    ’وَّجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا‘۔ رات کو تمہارے لیے لباس بنایا۔ رات کے لباس ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح لباس آدمی کو اپنے اندر چھپا لیتا اور سکون و اطمینان بخشتا ہے اسی طرح شب کی چادر بھی اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے جس سے وہ خلل انداز ہونے والی چیزوں سے محفوظ ہو کر سکون حاصل کرتا اور ازسرنو میدان عمل میں اترنے کے لیے صلاحیت بہم پہنچاتا ہے۔
    (رات کو تمہارے لیے پردہ) اور دن کو وقت معاش نہیں بنایا؟
    ’وَّجَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا‘ اور دن کو حصول معاش کی سرگرمیوں کا وقت بنایا۔ ان نشانیوں کی طرف توجہ دلانے سے مقصود یہ ہے کہ جو شخص بھی ان پر غور کرے گا اس میں بصیرت ہو گی تو وہ لازماً اس نتیجے پر پہنچے گا کہ یہ رات اور دن نہ ازخود چکر کر رہے ہیں اور نہ ان کا یہ چکر بالکل بے غایت و بے مقصد ہے بلکہ ایک حکیم و قدیر پروردگار اپنی خدمت کے لیے ان کو اس سرگرمی کے ساتھ مصروف کیے ہوئے ہے تاکہ لوگ ان کی خدمت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے اس رب کے شکرگزار رہیں جس نے ان کی معاش و معیشت اور راحت و آسائش کے لیے یہ عظیم اہتمام فرمایا ہے۔ ساتھ ہی یاد رکھیں کہ ربوبیت کا یہ اہتمام مستلزم ہے کہ ایک ایسا دن بھی آئے جس میں وہ دیکھے کہ کس نے اس دنیا میں آنکھیں کھول کر زندگی گزاری اور کون اندھے بہرے بنے رہے اور پھر دونوں کے ساتھ ان کے رویے کے مطابق معاملہ کرے۔
    تمہارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے؟
    ’وَبَنَیْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعًا شِدَادًا‘۔ زمین کی نشانیوں کے بعد آسمان کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا اب اوپر دیکھو ہم نے تمہارے اوپر سات محکم آسمان بنائے۔ آسمان کا ذکر اگرچہ یہاں الفاظ میں نہیں ہے لیکن جو صفات مذکور ہیں وہ خود دلیل ہیں کہ مراد آسمان ہی ہے۔ ’شداد‘ سے مراد وہی بات ہے جو سورۂ ملک میں یوں فرمائی گئی ہے: خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِءًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ.(الملک ۶۷: ۳-۴) ’’جس نے پیدا کیے ساتھ آسمان تہ بہ تہ۔ تم خدائے رحمان کی کاری گری میں کوئی خلل نہیں پا سکتے۔ تو نگاہ دوڑاؤ کہیں اس میں کوئی شگاف دیکھتے ہو! پھر نگاہ دوڑاؤ دوبارہ۔ نگاہ ناکام ہو کر تمہاری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہو گی۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ تم اس ناپیداکنار چھت کو جہاں تک دیکھو گے اس کو محکم اور بالکل بے خلل پاؤ گے کسی گوشے میں کسی ادنیٰ نقص کی بھی نشان دہی نہیں کر سکتے۔  
    اور اس کے اندر ایک روشن چراغ نہیں رکھا؟
    ’وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّھَّاجًا‘۔ اور آسمان میں ہم نے ایک روشن چراغ رکھا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد سورج ہے۔ یہی سورج اس دنیا میں روشنی، حرارت اور قوت کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ ہو تو یہ سارا عالم تیرہ و تار ہو جائے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ آسمان اور زمین میں الگ الگ دیوتاؤں کی حکمرانی نہیں ہے بلکہ دونوں میں ایک ہی خدائے قادر و قیوم کی حکومت ہے ورنہ ان میں یہ سازگاری کس طرح وجود میں آئی کہ آسمان کا سورج زمین والوں کی اس طرح خدمت گزاری کرتا۔
    اور کیا ہم نے پانی سے لبریز بدلیوں سے موسلا دھار پانی نہیں برسایا؟
    ’وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا‘۔ ’مُعْصِرٰتِ‘ بادلوں کی صفت کے لیے معروف ہے۔ یہ صفت پانی سے لبریز بادلوں کے لیے بھی آتی ہے اور پانی نچوڑنے والی بدلیوں کے لیے بھی۔ دونوں صورتوں میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہو گا۔ ’مَآءٌ ثَجَّاجٌ‘۔ زور دار، کثیر اور موسلادھار بارش کو کہتے ہیں۔ بارش سے قرآن نے اپنے تمام بنیادی دعاوی پر دلیل قائم کی ہے جس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ یہاں اگرچہ آسمان و زمین کے توافق کے پہلو سے توحید کی دلیل بھی اس میں موجود ہے لیکن خاص طور پر ربوبیت کا پہلو زیادہ نمایاں ہے جو مسؤلیت اور جزا و سزا کی نہایت اہم دلیلوں میں سے ہے۔
    کہ اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ اور نباتات (اور گھنے باغ)؟
    ’لِّنُخْرِجَ بِہ حَبًّا وَّنَبَاتًا وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا‘۔ فرمایا کہ آسمانوں سے یہ بارش ہم اس لیے برساتے ہیں کہ اس سے تمہارے لیے غلے اور تمہارے مویشیوں کے لیے گھاس اور سبزے اگائیں اور مزید برآں گھنے باغ۔
    (کہ اس کے ذریعہ سے اگائیں غلہ اور نباتات) اور گھنے باغ؟
    ’لِّنُخْرِجَ بِہ حَبًّا وَّنَبَاتًا وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا‘۔ فرمایا کہ آسمانوں سے یہ بارش ہم اس لیے برساتے ہیں کہ اس سے تمہارے لیے غلے اور تمہارے مویشیوں کے لیے گھاس اور سبزے اگائیں اور مزید برآں گھنے باغ۔
    بے شک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے!
    ’اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا‘۔ یہ اوپر کی ساری بحث و تفصیل کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ اہتمام ربوبیت اور آسمان سے لے کر زمین تک یہ انتظام پرورش صاف گواہی دے رہا ہے کہ جس پروردگار نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ انسان کو غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا بلکہ لازماً ایک فیصلہ کا دن اس نے مقرر کر رکھا ہے جس میں وہ سب کو جمع کر کے فیصلہ کرے گا کہ کس نے اس کی ربوبیت کا حق پہچانا اور کس نے اس کی ناقدری کی۔ پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ یہاں یہ آیت اس طرح آئی ہے گویا یہ یوم الفصل اس کائنات کے نظام کے اندر سے خود اپنی منادی کر رہا ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس کو سن نہیں رہے ہیں۔ سعدیؒ نے کیا خوب بات کہی ہے:ع ابر و باد و مہ و خورشید و فلک درکارند تاتو نانے بکف آری و بغفلت نہ خوری  
    جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم آؤ گے فوج در فوج۔
    قیامت کی ہلچل کی تصویر: اوپر کی آیات میں یوم الفصل کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب ان آیات میں اس ہلچل کی تصویر کھینچی گئی ہے جو اس دن اس پوری کائنات میں برپا ہو گی اور ساتھ ہی وہ انجام بھی سامنے رکھ دیا گیا ہے جس سے سرکشوں اور نافرمانوں کو سابقہ پیش آئے گا۔ ’یَوْمَ یُنفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَأْتُوْنَ أَفْوَاجًا‘۔ فرمایا کہ اس یوم الفصل کے لیے اللہ تعالیٰ تمہیں جمع کرنا چاہے گا تو اس کام میں اس کو ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بس ایک صور پھونکا جائے گا اور تم فوج در فوج قبروں سے نکل کر اللہ کے داعی کی طرف چل کھڑے ہو گے۔ دوسرے مقام میں یہ تصریح بھی ہے کہ لوگ قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈیاں نکلتی ہیں اور داعی کی طرف اس طرح بھاگیں گے کہ ذرا بھی راہ سے منحرف نہیں ہوں گے۔
    اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہی دروازے ہو جائیں گے۔
    ’وَفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ أَبْوَابًا‘۔ اور یہ آسمان جو آج نہایت محکم اور ایک گنبد بے در کی شکل میں نظر آتا ہے اس دن اس طرح کھول دیا جائے گا کہ اس میں ہر طرف دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔
    اور پہاڑ چلا دیے جائیں گے تو وہ بالکل سراب بن کر رہ جائیں گے۔
    ’وَسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًا‘۔ اور یہ پہاڑ جو آج زمین میں گڑے ہوئے ہیں اس دن اکھاڑ کر چلا دیے جائیں گے، نیز آج وہ ٹھوس پتھر ہیں لیکن اس دن یہ ریت کے تودوں کی طرح پھُس پھُسے ہو جائیں گے۔
    بے شک جہنم گھات میں ہے۔
    ’اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ہ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا‘۔ اس ہلچل کے بعد جہنم اچانک اس طرح نمودار ہو جائے گی گویا وہ سرکشوں کا ٹھکانا بننے کے لیے اس ہلچل کی آڑ میں گھات ہی میں بیٹھی ہوئی تھی، نہ اس کے لیے کوئی تیاری کرنی پڑے گی اور نہ سرکشوں کو اس کی تیاری کے انتظار میں کوئی مہلت ملے گی۔
    سرکشوں کا ٹھکانا۔
    ’اِنَّ جَھَنَّمَ کَانَتْ مِرْصَادًا ہ لِّلطَّاغِیْنَ مَاٰبًا‘۔ اس ہلچل کے بعد جہنم اچانک اس طرح نمودار ہو جائے گی گویا وہ سرکشوں کا ٹھکانا بننے کے لیے اس ہلچل کی آڑ میں گھات ہی میں بیٹھی ہوئی تھی، نہ اس کے لیے کوئی تیاری کرنی پڑے گی اور نہ سرکشوں کو اس کی تیاری کے انتظار میں کوئی مہلت ملے گی۔
    اس میں رہیں گے مدت ہائے دراز۔
    ’لّٰبِثِیْنَ فِیْھَآ اَحْقَابًا‘۔ ’اَحْقَابٌ‘ کے معنی قرنوں کے ہیں۔ اس کی وضاحت قرآن میں جگہ جگہ ’خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا‘ کے الفاظ سے ہو گئی ہے یعنی وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ بعض لوگوں نے اس سے طویل مدت مراد لے کر یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ جہنم بالآخر ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن یہ رائے غلط ہے۔ زبان کے سمجھنے کا طریقہ یہ ہے کہ مجمل کی شرح مفصل کی روشنی میں کرتے ہیں نہ کہ مفصل کی شرح مجمل کی روشنی میں۔ ’خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا‘ کے الفاظ ظاہر ہے کہ مفصل ہیں اور لفظ ’احقاب‘ مجمل۔ اس مجمل کو مفصل کی روشنی میں سمجھیں گے نہ کہ اس کے برعکس۔ علاوہ ازیں یہاں انجام باغیوں اور سرکشوں کا بیان ہوا ہے جس کے لیے قرآن کے دوسرے مقامات میں یہ تصریح ہے کہ ان کو جہنم سے کبھی نکلنا نصیب نہ ہو گا۔
    نہ اس میں کوئی ٹھنڈک نصیب ہو گی، نہ (گرم پانی اور پیپ کے سوا) کوئی پینے کی چیز۔
    ’لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا ہ اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا‘۔ اس جہنم میں نہ ان کو کہیں ذرا ٹھنڈ نصیب ہو گی نہ کوئی پینے کی چیز۔ پینے کو ملے گا گرم کھولتا یا گندہ پانی۔ لفظ ’غَسَّاقٌ‘ کی تشریح اہل لغت نے پیپ اور لہو سے بھی کی ہے اور گندے پانی سے بھی۔ ٹھنڈک کی یہاں مطلق نفی کی ہے۔ سورۂ مرسلات میں سایہ ’ظل‘ کا لفظ بھی ہے تو وہ دھوئیں کا سایہ ہے جس کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ نہ اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ شعلوں سے بچانے والا ہو گا۔
    (نہ اس میں کوئی ٹھنڈک نصیب ہو گی)، نہ گرم پانی اور پیپ کے سوا (کوئی پینے کی چیز)۔
    ’لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا ہ اِلَّا حَمِیْمًا وَّ غَسَّاقًا‘۔ اس جہنم میں نہ ان کو کہیں ذرا ٹھنڈ نصیب ہو گی نہ کوئی پینے کی چیز۔ پینے کو ملے گا گرم کھولتا یا گندہ پانی۔ لفظ ’غَسَّاقٌ‘ کی تشریح اہل لغت نے پیپ اور لہو سے بھی کی ہے اور گندے پانی سے بھی۔ ٹھنڈک کی یہاں مطلق نفی کی ہے۔ سورۂ مرسلات میں سایہ ’ظل‘ کا لفظ بھی ہے تو وہ دھوئیں کا سایہ ہے جس کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ نہ اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ شعلوں سے بچانے والا ہو گا۔
    بدلہ ان کے عمل کے موافق۔
    ’جَزَآءً وِّفَاقًا‘۔ یعنی یہ جو کچھ انھیں ملے گا ٹھیک ان کے اعمال ہی کا پورا پورا بدلہ ہو گا۔ دنیا میں جو کمائی انھوں نے کی اس کا انجام ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ آخرت میں ہر نیکی اور بدی اپنی فطرت کے لحاظ سے پھل لائے گی اور وہی انسان کے سامنے آئے گا۔
    یہ لوگ محاسبہ کا گمان نہیں رکھتے تھے!
    ’اِنَّھُمْ کَانُوْا لَایَرْجُوْنَ حِسَابًا ہ وَّکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا‘۔ یعنی ان لوگوں کو کسی حساب کتاب کا اندیشہ نہیں تھا اس وجہ سے بالکل نچنت رہے اور نہایت بے دردی سے ہماری آیات کو، جو اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے سنائی گئیں جھٹلاتے رہے۔ ’کِذَّابًا‘ مصدر ہے جو تاکید فعل کے لیے آیا ہے۔ اگرچہ اس کا وزن مختلف ہے لیکن معنی میں یہ تکذیب ہی کے ہے۔ تاکید کے مضمون کو ظاہر کرنے کے لیے اگر ترجمہ یوں کیجیے کہ ’نہایت بے دردی یا نہایت بے باکی سے‘ جھٹلایا تو اس کا صحیح مفہوم ادا ہو جائے گا۔
    اور انھوں نے ہماری آیتوں کی بے دریغ تکذیب کی۔
    ’اِنَّھُمْ کَانُوْا لَایَرْجُوْنَ حِسَابًا ہ وَّکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کِذَّابًا‘۔ یعنی ان لوگوں کو کسی حساب کتاب کا اندیشہ نہیں تھا اس وجہ سے بالکل نچنت رہے اور نہایت بے دردی سے ہماری آیات کو، جو اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے سنائی گئیں جھٹلاتے رہے۔ ’کِذَّابًا‘ مصدر ہے جو تاکید فعل کے لیے آیا ہے۔ اگرچہ اس کا وزن مختلف ہے لیکن معنی میں یہ تکذیب ہی کے ہے۔ تاکید کے مضمون کو ظاہر کرنے کے لیے اگر ترجمہ یوں کیجیے کہ ’نہایت بے دردی یا نہایت بے باکی سے‘ جھٹلایا تو اس کا صحیح مفہوم ادا ہو جائے گا۔
    اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے۔
    ’وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰہُ کِتٰبًا‘۔ یعنی وہ تو اس گمان میں رہے کہ نہ کوئی حساب ہے نہ کوئی سزا۔ لیکن ہم نے ان کی ایک ایک بات لکھ کر شمار کر رکھی تھی۔ لکھ کر شمار کرنا پورے اہتمام کی دلیل ہے۔ یعنی اس میں کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان نہیں ہے۔
    تو چکھو، اب تمہارے عذاب ہی میں ہم اضافہ کریں گے۔
    ’فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِیْدَکُمْ اِلَّا عَذَابًا‘۔ یہ مستقبل کے ماجرے کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے حاضر کے اسلوب میں بدل دیا ہے۔ فرمایا کہ تم تو اس انجام سے بے فکر رہے لیکن یہ لو، اپنے اعمال کا مزا چکھو۔ ساتھ ہی مستقبل سے ان کو بالکل مایوس کر دینے کے لیے یہ آگاہی بھی سنا دی کہ اب آگے تمہارے عذاب ہی عذاب ہے۔ اس میں کسی کمی بیشی کی امید نہ رکھو۔ اب جو تبدیلی بھی تمہارے حال میں ہو گی اس کی نوعیت عذاب میں اضافے ہی کی ہو گی۔
    بے شک خدا ترسوں کے لیے فائز المرامی ہے۔
    قیامت سے ڈرنے والوں کا صلہ: سرکشوں اور باغیوں کے انجام کے بعد یہ متقیوں کا صلہ بیان ہوا ہے تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آ جائے۔ فرمایا بے شک ان لوگوں کے لیے اس دن بڑی فیروز مندی و کامیابی ہے جنھوں نے روز جزا و سزا سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری۔ یہ حقیقت یہاں ملحوظ رہے کہ زندگی کو جادۂ مستقیم پر استوار رکھنے والی چیز خوف آخرت ہی ہے۔ جس کے اندر یہ ہے وہ متقی ہے اور جس کا سینہ اس خوف سے خالی ہے اس کے اندر شیطان اپنا مسکن بنا لیتا ہے اور وہ خدا کی نافرمانی بالکل بے خوف ہو کر کرتا ہے۔
    باغ اور انگور۔
    ’حَدَآئِقَ وَاَعْنَابًا‘۔ یہ اس کامیابی کی تفصیل ہے کہ ان کے لیے باغ ہوں گے اور انگور۔ ’حَدَآئِقَ‘ معروف تو کھجور کے باغوں کے لیے ہے لیکن کھجور کے باغوں کے لیے عمدہ طریقہ یہ تھا کہ کنارے کنارے کھجوروں کی باڑھ ہو اور بیچ میں انگوروں اور دوسرے پھلوں اور سبزیوں کے قطعات۔ یہاں ’حَدَآئِقَ‘ کے بعد ’اَعْنَابٌ‘ کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کے طور پر ہے اور اس سے اگر انگورستان مراد لیں تو یہ بھی مراد لے سکتے ہیں۔
    اٹھتی جوانیوں والی ہم سِنیں۔
    ’وَّکَوَاعِبَ اَتْرَابًا‘۔ یہ حوروں کا ذکر ہے۔ ان کی تعریف میں فرمایا کہ یہ اٹھتی ہوئی جوانیوں والی اور باہم دگر بالکل ہم سِن ہوں گی۔ ہم سِنی آپس کی بے تکلفی، دل چسپی اور ہم طرحی و ہم مذاقی کے لیے ضروری چیز ہے۔
    اور چھلکتے جام۔
    ’وَّکَاْسًا دِھَاقًا ہ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلَا کِذّٰبًا‘۔ یعنی ان کے لیے شراب خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات اور لاف زنیوں سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر آدمی یاوہ گوئی اور دروغ بافی پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو خاندانوں اور قبیلوں میں مستقل عناد کا سبب بن جاتی ہیں۔ جن سوسائٹیوں میں غیرت کا احساس مردہ ہو جاتا ہے ان کے اندر تو اس طرح کی باتیں لوگ پی جاتے ہیں لیکن اہل عرب نہایت حساس و غیور تھے۔ شراب کی بدمستی میں بھی اگر کوئی زبان سے ایسا کلمہ نکال دے جس سے دوسرے کے ناموس پر حرف آتا ہو تو اس کے نتائج اتنے دور رس ہوتے کہ ان کی تلافی ناممکن ہو جاتی۔ یہاں قرآن نے لفظ ’کِذّٰبٌ‘ سے اسی طرح کی باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
    نہ اس میں بک بک سنیں گے نہ بہتان طرازی۔
    ’وَّکَاْسًا دِھَاقًا ہ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْھَا لَغْوًا وَّلَا کِذّٰبًا‘۔ یعنی ان کے لیے شراب خالص کے چھلکتے جام ہوں گے لیکن یہ شراب ان لغویات اور لاف زنیوں سے بالکل پاک ہو گی جو اس دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہیں۔ کیف و سرور میں وہ سب سے بڑھ کر ہو گی لیکن عقل و ہوش کو ماؤف نہیں کرے گی کہ ترنگ میں آ کر آدمی یاوہ گوئی اور دروغ بافی پر اتر آئے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شراب کی بدمستی میں بسا اوقات شرابی ایسی بے ہودہ تہمتیں بک دیتے ہیں جو خاندانوں اور قبیلوں میں مستقل عناد کا سبب بن جاتی ہیں۔ جن سوسائٹیوں میں غیرت کا احساس مردہ ہو جاتا ہے ان کے اندر تو اس طرح کی باتیں لوگ پی جاتے ہیں لیکن اہل عرب نہایت حساس و غیور تھے۔ شراب کی بدمستی میں بھی اگر کوئی زبان سے ایسا کلمہ نکال دے جس سے دوسرے کے ناموس پر حرف آتا ہو تو اس کے نتائج اتنے دور رس ہوتے کہ ان کی تلافی ناممکن ہو جاتی۔ یہاں قرآن نے لفظ ’کِذّٰبٌ‘ سے اسی طرح کی باتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
    یہ تیرے رب کی طرف سے صلہ ہو گا، بالکل ان کے عمل کے حساب سے۔
    ’جَزَآءً مِّنْ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا‘۔ جس طرح اوپر کفار کے بارے میں فرمایا ہے: ’جَزَآءً وِّفَاقًا‘ ان کو ان کے اعمال کے بالکل ہم وزن اور ٹھیک ٹھیک ان کے موافق سزا ملے گی اسی طرح یہ اہل جنت کے باب میں فرمایا کہ ان کو ان کی نیکیوں کا پورے حساب سے صلہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اور اہل ایمان کے لیے فضل کا جو وعدہ ہے وہ مزید برآں ہے۔
    آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین کی ساری چیزوں کے رب رحمان کی طرف سے، جس کی طرف سے یہ کوئی بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں گے۔
    فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ صلہ (جو مذکور ہوا) اس خدائے رحمان کی طرف سے ہو گا جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری ہی چیزوں کا خداوند ہے، کوئی دوسرا کسی چیز میں اس کا شریک و سہیم نہیں ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکے۔ مزعومہ سفارش کی نفی: ’لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا‘۔ یہ کفار اور ان کے مزعومہ معبودوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کے معبودوں کو خدا کے ہاں بڑی رسائی ہو گی۔ یہ جو چاہیں گے خدا سے کہہ سکیں گے اور جو چاہیں گے منوا سکیں گے، یہ خیال بالکل باطل ہے۔ کوئی بھی مجاز نہ ہو گا کہ اس سے کوئی عرض معروض کر سکے۔ اس کے سامنے وہی زبان کھولیں گے جن کو اس کی طرف سے اجازت مرحمت ہو گی اور وہی بات منہ سے نکالیں گے جو بالکل حق ہو گی۔
    جس دن جبریل اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی بات نہیں کرے گا مگر جس کو رب رحمان اجازت دے اور وہ بالکل ٹھیک بات کہے گا۔
    مشرکین کو سب سے زیادہ اعتماد فرشتوں کی سفارش پر تھا جن کو وہ اپنے زعم کے مطابق خدا کی بیٹیاں فرض کر کے پوجتے تھے۔ فرمایا کہ اس دن ان کا حال یہ ہو گا کہ جبریلؑ اور دوسرے ملائکہ رب العزت کے سامنے اس طرح صف بستہ حاضر ہوں گے جس طرح خدام اپنے آقا کے حضور میں حاضر ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی زبان کھولنے میں پہل نہیں کرے گا بلکہ وہی بات کرنے کی جرأت کریں گے جن کو خدائے رحمان کی طرف سے اجازت مرحمت ہو گی اور وہی بات کہیں گے جو بالکل ٹھیک ہو گی ۔۔۔ یعنی اگر مشرکین اس خبط میں مبتلا ہیں کہ ان کے دیوی دیوتا خدا سے جو بات چاہیں گے ناز و تدلل سے منوا لیں گے اور ان کے حق میں جو سفارش چاہیں گے کر دیں گے تویہ محض ان کی طمع خام ہے۔ یہاں ’روح‘ سے مراد حضرت جبریلؑ ہیں۔ ان کے لیے قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ ملائکہ کے گل سرسبد وہی ہیں اس وجہ سے ان کا ذکر سب سے پہلے ہوا تاکہ واضح ہو جائے کہ جب اس دن جبریلؑ کا یہ حال ہو گا تو تابہ دیگراں چہ رسد! بعض لوگوں نے اس کو عام ارواح انسانی کے مفہوم میں لیا ہے لیکن اس کا یہاں کوئی قرینہ نہیں ہے۔
    یہ دن شدنی ہے تو جو چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانا بنا لے۔
    یہ براء ت ذمہ کا اعلان ہے کہ لوگوں کو اس دن کی آمد سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ سو یہ کام کر دیا گیا۔ اب لوگوں کی ذمہ داری اپنی ہے۔ فرمایا کہ جس دن کی آمد سے یہ ڈرایا جا رہا ہے وہ ایک امر شدنی ہے۔ وہ آ کے رہے گا۔ نہ کوئی اس کو ٹال سکتا، نہ کوئی اس دن کسی کے کام آنے والا بنے گا تو جو اپنی خیر چاہے وہ اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانا بنا لے۔ ’فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ إِلٰی رَبِّہِ مَآبًا‘ سے ایک بات تو یہ نکلی کہ اس معاملہ میں اللہ اور رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اس دن سے آگاہ کر دیا جائے۔ یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کا خوف اتار بھی دیا جائے۔ دوسری بات یہ نکلی کہ اس دن پناہ صرف اللہ تعالیٰ ہی بنے گا، کسی اور کی پناہ اس دن کسی کو حاصل ہونے والی نہیں ہے۔ تیسری بات یہ نکلی کہ اللہ کو پناہ بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اس کی بتائی ہوئی راہ اختیار کی جائے۔ جس نے یہاں اس کی راہ نہیں اختیار کی وہ آخرت میں اس کی پناہ نہیں حاصل کر سکے گا۔
    ہم نے تم کو ایک قریب آ جانے والے عذاب سے آگاہ کر دیا ہے، جس دن آدمی اپنی اس کمائی کو دیکھے گا جو اس نے آگے کے لیے کی ہو گی اور کافر کہے گا کاش، میں مٹی ہوتا!
    یہ آخری تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ایک ایسے عذاب سے آگاہ کر دیا ہے جو بالکل قریب آ چکا ہے۔ یعنی رسول کی بعثت کے بعد قوم کا فیصلہ ہونا تو سنت الٰہی کے مطابق قطعی ہے اور یہ عذاب منکروں کے لیے عذاب قیامت کا پیش خیمہ ہو گا۔ یوں بھی عذاب قیامت کو دور خیال کرنا نادانی ہے۔ اس لیے کہ یہ زندگی چند روزہ ہے اور جو مرا اس کی قیامت اس کے سامنے ہے۔ من مات فقد قامت قیامۃ۔ ’وَیَقُوْلُ الْکَافِرُ یَالَیْتَنِیْ کُنۡتُ تُرَابًا‘۔ یعنی اس دن ہر شخص کے اعمال اس کے سامنے آئیں گے اور جنھوں نے اس دن کے لیے کوئی تیاری نہ کی ہو گی وہ اپنی محرومی اور بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ کاش ہم مٹی ہی رہے ہوتے، ہمارا وجود ہی نہ ہوا ہوتا!!


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List