Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المزمل (The Enfolded One, The Enshrouded One, Bundled Up)

    20 آیات | مکی
    سورہ کا زمانۂ نزول اور عمود

    یہ سورہ اور بعد کی سورہ ۔۔۔ المدّثّر ۔۔۔ دونوں بالکل ہم رنگ و ہم مزاج اور توام ہیں۔ عام مفسرین نے ان کو بالکل ابتدائی سورتوں میں سے شمار کیا ہے لیکن ان کے مطالب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب قریش کے امراء و اغنیاء کی طرف سے دعوت کی مخالفت اتنی شدت اختیار کر چکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس صورت حال سے نہایت مغموم و متفکر رہنے لگے ہیں۔

    ایک انسان جب اپنے ماحول میں ہر شخص کی مخالفت اور اس کے طعن و طنز کا ہدف بن کر رہ جائے درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ اس ماحول ہی کی اصلاح پر مامور ہو تو اس کے غم و الم کا جو حال ہو گا اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ اس صورت حال سے قدرتاً اس پر خلوت پسندی اور خلق سے بے تکلفی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ وہ اٹھتا ہے تو اپنی چادر لپیٹ کر، چلتا ہے تو اس میں لپٹ کر، بیٹھتا ہے تو اس میں گوشہ گیر ہو کر اور لیٹتا ہے تو اس میں چھپ کر؛ اس لیے کہ تنہا اس کی چادر ہی ہوتی ہے جس کے دامن میں فی الجملہ اس کو اپنے باطن میں غوطہ زن ہونے اور اپنے خالق سے تعلق و توصل کے لیے سکون و اطمینان ملتا ہے۔

    اس کا تھوڑا بہت تجربہ تو ہر اس شخص کو ہوتا ہے جو خلق و خالق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کااحساس رکھنے والا ہو لیکن انبیاء علیہم السلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ وہ خلق کے لیے سراپا رحمت و شفقت اور اپنے رب کی ڈالی ہوئی ذمہ داریوں کے معاملے میں نہایت حساس ہوتے ہیں۔ وہ اپنی جان توڑ مساعی و اصلاح کے باوجود جب دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی مخاصمت بڑھتی جا رہی ہے تو ان کو گمان گزرتا ہے کہ مبادا اس میں انہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ یہ چیز ان کے غم و فکر کو اور زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو مطعون کر کے اپنے دل کو تسلی دینے کے بجائے خود اپنے اندر خلوت گزیں ہو کر صورت حال کا صحیح حل ڈھونڈھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس ذہنی کیفیت میں ان کو اپنی سب سے بڑی غم گسار اپنی چادر ہی محسوس ہوتی ہے جس میں چھپ کر گویا وہ اپنے ماحول سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

    چادر میں لپیٹنے والے کو عربی میں ’’مزّمّل‘‘ کہتے ہیں۔ اس لفظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے آپ کی اسی فکرمندی کا سراغ دیا ہے۔ یہ نہایت پیار کا خطاب ہے۔ اس دلنواز خطاب سے مخاطب کر کے آپ کو وہ طریقہ بتایا گیا ہے جو اس غم و الم کو دور کر کے آپ کے اندر وہ قوت و عزیمت پیدا کرے گا جو موجودہ اور آئندہ پیش آنے والے حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری ہے۔ گویا اس سورہ میں حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے آپ کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور ساتھ ہی وہ نسخہ بھی بتایا گیا ہے جو حوصلہ کو بلند اور کمر ہمت کو مضبوط رکھنے کے لیے نہایت کیمیا اثر ہے۔

  • المزمل (The Enfolded One, The Enshrouded One, Bundled Up)

    20 آیات | مکی

    مرحلۂ انذار عام

    المزمل - الم نشرح

    ۷۳ - ۹۴

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انذار عام کے لیے تیاری کی ہدایت — اِس انذارکا حکم، اِس کے حدود، تقاضے اور اِس کی ابتدا ۷۳۔۷۴

    قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ۷۵۔۷۶

    قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار ۷۷۔۷۸

    قیامت کا اثبات، اُس کے حوالے سے قریش کوانذار اور اُس کے بارے میں اُن کے رویے پر اُنھیں تنبیہ ۷۹۔۸۰

    قیامت کی ہلچل اور اُس میں جزا و سزا کے حوالے سے قریش کو تنبیہ ۸۱۔۸۲

    قیامت کی جزا و سزا کے حوالے سے تنبیہ ۸۳۔۸۴

    قیامت سے متعلق قریش کے شبہات کی تردید اور اہل ایمان پر اُن کے ظلم و ستم اور پیغمبر اور اُس کی دعوت کے مقابلے میں اُن کی چالوں پر اُنھیں عذاب کی وعید ۸۵۔۸۶

    انذار قیامت اور نذیر کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ۸۷۔۸۸

    انذار قیامت اور قریش کے سرداروں کو اُن کی سرکشی اور طغیان پر تنبیہ ۸۹۔۹۰

    انذار قیامت، سرکشی پر تنبیہ اور خاتمۂ کلام کے طور پر اُن کے لیے فلاح اور خسران کے راستوں کی وضاحت ۹۱۔۹۲

    نذیر کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور آیندہ ایک بڑی کامیابی کی بشارت ۹۳۔۹۴

    المزمل - المدثر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیاریوں کی ہدایت کرتی ہے، دوسری میں آپ کے لیے اُس ذمہ داری کی وضاحت کی گئی ہے کہ انذار کے بعد اب آپ اپنی قوم کو انذارعام کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

    دونوں سورتوں میں خطاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے اور آپ کے مخاطب قریش کے سرداروں سے بھی۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مرحلۂ انذار عام اِنھی دو سورتوں سے شروع ہوا ہے۔

    پہلی سورہ — المزمل — کا موضوع قوم کے ردعمل پر غم کی حالت سے نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیاریوں کی ہدایت اور قریش کے لیڈروں کوتنبیہ ہے کہ اُن کی مہلت تھوڑی رہ گئی، وہ اگر اپنے رویوں کی اصلاح نہیں کرتے تو اِس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

    دوسری سورہ — المدثر — کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اِس ذمہ داری کی وضاحت، اُس کے تقاضوں اور حدود سے آگاہی اور آپ کے مخاطبین کو تنبیہ و تہدید ہے کہ جس قیامت سے کھلم کھلا خبردار کرنے کا حکم ہم نے پیغمبر کو دیا ہے، اُسے کوئی معمولی چیز نہ سمجھو۔ وہ ایک ایسا دن ہے جو منکروں کے لیے آسان نہ ہو گا اور ایک ایسی حقیقت ہے جو نہ جھٹلائی جا سکتی ہے اور نہ اُس سے بچنے کے لیے کوئی سفارش کسی کے کام آ سکتی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Click translation to show/hide Commentary


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List