Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الجن (The Spirits, The Jinn, The Demons)

    28 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ نوح ۔۔۔ کی توام سورہ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قوم نوح کے لیڈروں نے جس ضد و مکابرت کا مظاہرہ کیا، پیغمبر کی دعوت سے جس طرح انھوں نے اپنے کان بند کر لیے اور پھر اس کا جو انجام ان کے سامنے آیا اس کی نہایت ہی مؤثر اور عبرت انگیز تصویر قریش کے لیڈروں کے سامنے سورۂ نوح میں رکھ دی گئی ہے۔ اب اس سورہ میں ان کو یہ دکھایا جا رہا ہے کہ جس قرآن سے وہ اس درجہ بیزار ہیں کہ اس کو سن کر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے، منہ نوچ لینے کو جھپٹتے اور دامن جھاڑ کے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اسی کو سن کر جنوں کی ایک جماعت اس قدر اثر پذیر ہوتی ہے کہ وہ فوراً اپنی قوم کے اندر اس کی دعوت پھیلانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ جنوں کے جس واقعہ کا حوالہ یہاں ہے اس کا ذکر سورۂ احقاف کی آیات ۲۹-۳۲ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس کو سنانے سے مقصود ایک تو قریش کو غیرت دلانا ہے کہ جنات، جو قرآن کے براہ راست مخاطب بھی نہیں ان کا حال تو یہ ہے کہ کبھی سر راہے بھی ان کے کانوں میں اس کی بھنک پڑ گئی ہے تو وہ اس کو سن کر تڑپ اٹھے اور ایک تم ہو کہ خاص تمہارے ہی لیے یہ اترا اور تمہی کو اس کی دعوت دینے کے لیے اللہ کا رسول اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہے لیکن تم ایسے بدقسمت ہو کہ اس کی کسی بات کا تمہارے دلوں میں اترنا تو درکنار تم اس کے سنانے والوں کے جانی دشمن بن گئے ہو۔ دوسرا مقصد اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ اگر آپ کی قوم کے اشرار اس قرآن کی ناقدری کر رہے ہیں تو آپ اس سے آزردہ خاطر نہ ہوں۔ جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں وہ اس سے فیض یاب نہیں ہوں گے، خواہ آپ کتنے ہی جتن کریں۔ البتہ جن کے اندر کچھ صلاحیت ہو گی ان کے کانوں میں اگر اتفاق سے بھی اس کے کچھ کلمات پڑ جائیں گے تو وہ ان کے اندر گھر کر لیں گے، خواہ وہ اس کے مخاطب ہوں یا نہ ہوں اور خواہ ان کو سنانے کے لیے کوئی اہتمام کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔

    جنوں کے جس تاثر کا اس سورہ میں حوالہ دیا گیا ہے اس سے اگرچہ وہ لوگ متاثر نہیں ہوں گے جو صرف محسوسات کے غلام ہیں اور جو ان چیزوں کے سرے سے وجود ہی کے منکر ہیں جو ان کے محسوسات کے دائرہ سے باہر ہیں لیکن اس طرح کے لوگ یہاں مخاطب بھی نہیں ہیں۔ یہاں مخاطب مشرکین قریش ہیں جو اتنے بلید نہیں تھے کہ صرف انہی چیزوں کو مانیں جنھیں چھوتے اور دیکھتے ہوں۔ وہ جنوں کو نہ صرف مانتے تھے بلکہ ان سے رابطہ رکھنے کے لیے انھوں نے کہانت کا پورا نظام قائم کر رکھا تھا اس وجہ سے قرآن نے ایک اہم واقعہ کی حیثیت سے ان کو جنوں کے یہ تاثرات سنائے کہ وہ چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھائیں۔ کاہنوں کے واسطے سے وہ جنوں کے اشرار کی القاء کی ہوئی جھوٹی خبریں سنتے تھے۔ قرآن نے ان کے سامنے ان کے اخیار کی ایک سچی رپورٹ رکھی تاکہ جن کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی کچھ صلاحیت ہے وہ اس سے ایمان کی طرف رہبری حاصل کریں۔ قرآن نے غیب کے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ اسی مقصد سے بیان کیے ہیں کہ حق کے طالب ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگرچہ محسوسات پرست اس کو واہمہ کی خلاقی قرار دیں گے لیکن نااہلوں کی ناقدری کے سبب سے قدرت خلق کو اپنی فیض بخشی سے محروم نہیں کرتی۔

  • الجن (The Spirits, The Jinn, The Demons)

    28 آیات | مکی
    نوح - الجن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ قوم نوح کی سرگذشت کے آئینے میں قرآن کے انذار اور اُس کے نتائج کی جو تصویر دکھاتی ہے، دوسری اُسی کے اثبات میں جنوں کی شہادت پیش کرتی اور قریش کو اِس کے بارے میں اپنے رویے پر نظرثانی کی دعوت دیتی ہے۔

    اِس لحاظ سے دیکھیے تو سورۂ حاقہ میں جو مضمون اِس سے پہلے ’مَا تُبْصِرُوْنَ‘ اور ’مَا لَا تُبْصِرُوْنَ‘ کے الفاظ میں بالاجمال بیان ہوا ہے، یہ دونوں سورتیں بالترتیب اُسی کی تفصیل ہیں۔

    دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — نوح — کا موضوع قریش کے لیے رسولوں کی دعوت اور اُس کے مختلف مراحل کی وضاحت کرنا اور اُس کے اُن نتائج سے اُنھیں خبردار کرنا ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اُسے نہ ماننے والوں کے لیے لازماً نکلتے ہیں۔

    دوسری سورہ — الجن — کا موضوع جنوں کی شہادت سے قرآن مجید اور اُس کی حقانیت قریش پر ثابت کرنا اور اُنھیں یہ سمجھانا ہے کہ جس عذاب کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، اُس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ خدا کے پیغمبر عذاب کا وقت بتانے کے لیے نہیں، خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔ وہ خدا سے عذاب نہیں، بلکہ اُس کی رحمت چاہیں۔ اِس کے لیے پیغمبر کے مقابلے میں سرکشی اور تمرد کا رویہ چھوڑ کر اُس کی دعوت پر لبیک کہیں اور خدا کے گھر میں خدا ہی کی عبادت کریں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 002 Verse 072 Chapter 003 Verse 072 Chapter 004 Verse 072 Chapter 005 Verse 072 Chapter 006 Verse 072 Chapter 007 Verse 072 Chapter 008 Verse 072 Chapter 009 Verse 072 Chapter 010 Verse 072 Chapter 011 Verse 072 Chapter 012 Verse 072 Chapter 015 Verse 072 Chapter 016 Verse 072 Chapter 017 Verse 072 Chapter 018 Verse 072 Chapter 019 Verse 072 Chapter 020 Verse 072 Chapter 021 Verse 072 Chapter 022 Verse 072 Chapter 023 Verse 072 Chapter 025 Verse 072 Chapter 026 Verse 072 Chapter 027 Verse 072 Chapter 028 Verse 072 Chapter 033 Verse 072 Chapter 036 Verse 072 Chapter 037 Verse 072 Chapter 038 Verse 072 Chapter 039 Verse 072 Chapter 040 Verse 072 Chapter 043 Verse 072 Chapter 055 Verse 072 Chapter 056 Verse 072 Chapter 072 Verse 001 Chapter 072 Verse 002 Chapter 072 Verse 003 Chapter 072 Verse 004 Chapter 072 Verse 005 Chapter 072 Verse 006 Chapter 072 Verse 007 Chapter 072 Verse 008 Chapter 072 Verse 009 Chapter 072 Verse 010 Chapter 072 Verse 011 Chapter 072 Verse 012 Chapter 072 Verse 013 Chapter 072 Verse 014 Chapter 072 Verse 015 Chapter 072 Verse 016 Chapter 072 Verse 017
    Click translation to show/hide Commentary
    اور یاد کرو جب کہ تم نے ایک نفس کو قتل کر دیا، پھر اس کے بارے میں ایک دوسرے پر الزام بازی کی، حالانکہ اللہ وہ سب کچھ ظاہر کرنے والا ہے جو تم چھپاتے رہے ہو۔
    دَرَءٌ کے معنی دفع کرنے اور پھینکنے کے ہیں۔ اسی سے تدارأ تم ہے جو ادغام کے قاعدے سے اِدَّارَءۡ تُمۡ ہو گیا ہے۔ اس کے معنی آپس میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کے ہیں۔ وَٱللهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنۡتُمْ تَكْتُمُوۡنَ: اور اللہ ظاہر کرنے والا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ یہاں بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ اس کے بعد کا ٹکڑا فَقُلْنَا اضْرِبُوۡهُ بِبَعْضِهَا (پس ہم نے کہا کہ اس کو اس کے بعض سے مارو) فادرء تم فیھا سے لگتا ہوا ہے۔ اس جملہ معترضہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو قتل کر کے تم دنیا میں ایک دوسرے پر الزام بازی کر کے اس کو چھپانے کی کوشش کر سکتے ہو لیکن یاد رکھو کہ اگر کوئی چیز تم نے دنیا میں چھپا لی تو وہ ہمیشہ چھپی نہیں رہ جائے گی بلکہ ایک دن اللہ تعالیٰ وہ سب کچھ ظاہر کر کے رہے گا جو تم چھپا رہے ہو۔ یہوَاِذْ قَتَلْتُمْ سے گائے کے ذبح کرنے کے حکم کا اصل مقصد بیان ہو رہا ہے۔ اوپر یہ واضح کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل جو آج خدائی شریعت کے واحد اجارہ دار بنے بیٹھے ہیں ان کی ذہنیت اس شریعت کے قبول کرنے کے معاملے میں کیا کر رہی ہے۔ وہ کس طرح قدم قدم پر اس کے قبول کرنے کے معاملہ میں طرح طرح کی حجتیں کرتے رہے ہیں۔ اب وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا سے آگے کے حصہ میں یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ گائے کے ذبح کا یہ حکم کس مقصد سے دیا گیا تھا اور اس معاملہ میں انہوں نے کیا روش اختیار کی۔
    اور اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے کہ مسلمانوں پر جو چیز نازل کی گئی ہے اس پر صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو اس کا انکار کر دیا کرو تا کہ وہ بھی اس سے برگشتہ ہوں۔
    اہل کتاب کی اس سازش کا ذکر کرتے ہوئے قرآن نے اس بات کی تصریح فرما دی ہے کہ یہ ان کے ایک مخصوص گروہ کی سازش ہے یہ تصریح اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اپنے مخالفین کے جرائم بیان کرتے ہوئے بھی حق و انصاف کے حدود سے سرمو تجاوز نہیں کرتا۔ اگر ایک جرم مخالف گروہ کی کسی مخصوص پارٹی ہی کا جرم ہے تو وہ اس کی ذمہ داری اسی پارٹی پر ڈالتا ہے، یہ نہیں کرتا کہ چند کی شرارت کی ذمہ داری مخالف کے جوش میں پوری قوم پر اڑھا دے۔ یہ انصاف پسندی صداقت کے عام نصب العین سے قطع نظر دعوتِ حق کے نقطۂ نظر سے بھی نہایت با برکت اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ آگے اس کی بعض نہایت موثر مثالیں آ رہی ہیں۔ منافقانہ شرارت کی ایک خاص قسم: یہاں جس شرارت کا ذکر ہے وہ منافقانہ شرارت کی ایک مخصوص قسم ہے۔ وہ یہ کہ اپنے حریف کے سامنے اپنے آپ کو اس کا دوست اور ساتھی ظاہر کر کے اندر سے اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ یہود نے اپنے اس منصوبے کے تحت جو مختلف قسم کی چالیں چلیں، ان میں سے ایک چال یہ بھی تھی کہ ان کے لیڈروں نے اپنے کچھ آدمیوں کو اس بات کے لیے تیار کیا کہ وہ پہلے اپنے ایمان و اسلام کا اظہار و اعلان کر کے مسلمانوں کے اندر شامل ہوں، پھر اسلام کی کچھ خرابیوں کا اظہار کر کے اس سے علیحدگی اختیار کر لیا کریں۔ اس کا فائدہ انھوں نے ایک تو یہ سوچا ہو گا کہ اس طرح بہت سے جدید العہد مسلمانوں کا اعتماد اسلام پر سے متزلزل ہو جائے گا، وہ یہ سوچنے لگیں گے کہ فی الواقع اسلام میں کوئی خرابی ہے جس کے سبب سے یہ پڑھے لکھے لوگ اسلام کے قریب آ کر اس سے بدک جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس تدبیر سے وہ خود اپنی قوم کے عوام کو اسلام کے اثر سے بچا لے جائیں گے، جب وہ یہ دیکھیں گے کہ ان کی اپنی قوم کے کچھ پڑھے لکھے لوگ اسلام کو آزما کر چھوڑ چکے ہیں تو ان کی وہ رغبت کمزور ہو جائے گی جو اسلام اور مسلمانوں کی کشش کے سبب سے ان کے اندر اسلام میں داخل ہونے کے لیے پیدا ہوتی تھی۔ اس سازش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہود نے جب بھی کسی ملت کو اپنا نشانہ بنایا ہے اس کے لیے تدبیر یہی اختیار کی ہے کہ اس کے اندر گھس کے اس کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دین مسیحی کو بگاڑنے کے لیے پال نے جو کامیاب کوشش کی وہ مذاہب کی تاریخ کی ایک نہایت درد انگیز داستان ہے۔ پھر مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو مسخ کرنے کے لیے یہود و نصاریٰ دونوں نے جو فتنے خود ہمارے کتب خانوں میں بیٹھ کر ہمدردانہ بھیس میں اٹھائے ہیں، وہ بھی کوئی مخفی چیز نہیں ہے۔ اگر طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہاں بعض حقائق کی طرف اشارہ کرتے۔
    اور تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، پس اگر تم کو کوئی گزند پہنچ جائے تو کہتے ہیں کہ مجھ پر اللہ نے فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ شریک نہ ہوا۔
    ’بَطَّا یُبَطّیُ‘ کا مفہوم: ’بَطَّا یُبَطّیُ‘ کے معنی ڈھیلے پڑنے، سست پڑنے اور پیچھے رہ جانے کے بھی ہیں اور دوسروں کو سست کرنے کے بھی۔ لسان العرب میں ہے ’بطأَ فلان بفلان اذا ثبطہ‘ فلاں نے فلاں کو سست اور پست ہمت کر دیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ ’مَنْ بطأَ بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ‘ (جس کا عمل اس کو پیچھے کر دے گا اس کا نسب اس کو آگے نہ بڑھا سکے گا)
    بے شک ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا تو یہی مسیح ابن مریم ہے اور حال یہ ہے کہ مسیح نے کہا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ جو کوئی اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہو گا۔
    نصاریٰ کا جرم: یہود کے بعد اب یہ نصاریٰ کے کفر و شرک کا بیان ہوا تاکہ ان کی حقیقت بھی واضح ہو جائے کہ دین کے پلڑے میں ان کا کیا وزن ہے۔ ان کا ذکر آلِ عمران ۳۳۔۶۲ اور نساء ۱۷۱۔۱۷۳ میں بھی ہو چکا ہے۔ وہاں بہت سی باتوں کی وضاحت ہو چکی ہے۔ نساء کی متعلقہ آیات کے تحت ہم نے واضح کیا ہے کہ نصاریٰ حلول اور تثلیث دونوں ہی کے قائل تھے اور یہ دونوں ہی باتیں کفر ہیں۔ یہاں حلول کا کفر ہونا بیان فرمایا ہے، آگے والی آیت میں عقیدۂ تثلیث کے کفر ہونے کی تصریح ہے ’اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ‘ پر انجیلوں کے حوالے، دوسرے مقام میں، نقل ہو چکے ہیں ’اِنَّهٗ مَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ الایۃ‘ حضرت مسیحؑ کے کلام کا جزو نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصاریٰ کو تنبیہ ہے۔
    اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی ہے جس کے حضور تم سب اکٹھے کیے جاؤ گے۔
    ’وَاَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّقُوْہُ ط وَھُوَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ‘ یہ ’اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ کے تحت اور اسی کی عملی تصویر ہے لیکن اسلوب غائب سے بدل کر حاضر کر دیا گیا ہے جس سے اس کے اندر براہ راست خطاب کا زور پیدا ہو گیا ہے۔ نماز کا ذکر یہاں اس اسلام کے اولین عملی مظہر کی حیثیت سے ہوا ہے جس کا ذکر ’وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘ میں ہے۔ ’تقویٰ‘ یہاں ان تمام حدود کی پابندی کے مفہوم میں ہے جن کی پابندی کا خدا نے حکم دیا ہے۔ ’وَاِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ‘ میں آخرت اور توحید دونوں چیزیں جمع کر دی گئی ہیں اور یہ اوپر والے احکام کی دلیل ہے کہ نماز کا قیام اور حدود الٰہی کا احترام اس لیے لازم ہے کہ ایک دن خدا کے آگے حاضر ہونا ہے اور صرف اسی کے آگے حاضر ہونا ہے۔ اس دن کوئی اور مرجع و مولیٰ نہیں ہو گا۔
    پس ہم نے اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے اپنے فضل سے نجات دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور یہ ایمان لانے والے لوگ نہیں تھے۔
    ’فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَمَا کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘۔ یہ اس سنت الٰہی کا بیان ہے جو رسول کے ذریعے سے قوم پر حجت کے تمام کر دینے کے بعد لازماً ظاہر ہوتی ہے اللہ تعالیٰ رسول اور اس کے ساتھیوں کو اپنے فضل خاص سے، اپنی حفاظت میں لے کر علاقۂ عذاب سے نکال دیتا ہے اور رسول کے تمام جھٹلانے والوں کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ کن عذاب ہوتا ہے جو اس وقت نازل ہوتا ہے جب مخاطب قوم اپنی ہٹ اور ضد سے یہ ثابت کر دیتی ہے کہ اس کے اندر صلاحیت ایمان کی کوئی رمق بھی باقی نہیں رہی ہے۔ ’وَمَا کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ‘ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
    وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی یہی لوگ باہم دگر ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لائے لیکن انھوں نے ہجرت نہیں کی تمھارا ان سے کوئی رشتۂ ولایت نہیں تا آنکہ وہ ہجرت کریں۔ اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے طالب مدد ہوں تو تم پر مدد واجب ہے الا آنکہ یہ مدد کسی ایسی قوم کے مقابلے میں ہو جن کے ساتھ تمھارا معاہدہ ہو۔ اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔
    اسلام میں حمایت و نصرت کی بنیاد ایمان پر ہے: اسلام سے پہلے باہمی حمایت ونصرت کی بنیاد خاندانی و قبائلی عصبیت پر تھی۔ کوئی شخص یا خاندان کسی خطرے یا کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا تو اس کا خاندان یا قبیلہ اس کی حمایت و مدافعت میں سر بکف ہوتا۔ اسلام نے مدینہ میں جو نیا معاشرہ قائم کیا اس میں حمایت و نصرت کی بنیاد ایمان اور ہجرت پر رکھی۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے، جنھوں نے ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے ان مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی مدد کی، یہ باہم دگر ایک دوسرے کے یاور، ناصر اور حامی و مددگار ہیں۔ ’اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا‘ سے ظاہر ہے کہ مہاجرین مراد ہیں اور ’اٰوَوْا وَّنَصَرُوْآ‘ سے انصار۔ ان دونوں گروہوں کا ذکر ان کے اسماء و اعلام کے بجائے ان کی صفات اور ان کی دینی خدمات سے کیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس نئی سوسائٹی میں خاندان و نسب کی عصبیت کے بجائے اعتبار صرف ایمان و اسلام اور ہجرت و جہاد کا ہو گا۔ یہ ایک دوسرے کے ولی یعنی حامی و ناصر ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ حمایت و نصرت اہل کفر کے مقابل میں ہے۔ یہ بات اگرچہ بیان واقعہ کے اسلوب میں ہوئی ہے لیکن اس کے اندر امر کا مضمون بھی مضمر ہے یعنی یہ حکم ہے کہ اہل کفر کے مقابل میں اہل ایمان ایک دوسرے کے حامی و مددگار بن کر کھڑے ہوں اور جب ضرورت پیش آئے ایک دوسرے کی حمایت و مدافعت کریں۔ ہجرت کے بعض وقتی مصالح: ’وَالَّذِِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُھَاجِرُوْا مَالَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا‘ ان لوگوں کو جو اسلام تو لا چکے تھے لیکن ابھی انھوں نے دارالکفر سے دارالاسلام مدینہ کو ہجرت نہیں کی تھی اس رشتۂ ولایت سے الگ رکھا یعنی دارالاسلام والوں پر ان کی حمایت و نصرت اور حفاظت و مدافعت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس ذمہ داری کے نہ اٹھانے کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہے کہ عملاً یہ ناممکن بھی تھا اور اس سے بہت سی بین الاقوامی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی تھیں۔ علاوہ ازیں اس وقت مصلحت بھی تھی اور حکم بھی یہی تھا کہ تمام وہ لوگ جو اسلام لا چکے ہیں دارالکفر کے علاقوں سے نکل کر مدینہ میں مجتمع ہوں تاکہ اہل کفر سے نمٹنے اور بیت اللہ کی آزادی کے لیے منظم جدوجہد عمل میں آ سکے۔ معاہدہ کا احترام: ’وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍ م بَیۡنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ‘ یعنی ہر چند دارالالسلام والوں پر ان مسلمانوں کی حمایت و مدافعت کی ذمہ داری نہیں ہے جنھوں نے دارالکفر سے ہجرت نہیں کی ہے تاہم اگر وہ دین کے معاملے میں طالب مدد ہوں تو ان کو ممکن مدد بہم پہنچائی جائے بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسی قوم کے مقابل میں نہ ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو۔ معاہدہ کا احترام مقدم ہے۔ ’وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ‘ یہ معاہدہ کے احترام کو مؤکد کرنے کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ معاہدہ کے احترام کے منافی خفیہ یہ علانیہ جو قدم بھی تم اٹھاؤ گے خدا اس سے بے خبر نہیں رہے گا۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
    مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ کا وعدہ ایسے باغوں کے لیے ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور پاکیزہ مکانوں کے لیے ابد کے باغوں میں اور اللہ کی خوشنودی بھی جو سب سے بڑھ کر ہے بڑی کامیابی یہ ہے۔
    مومنین اور مومنات کے لیے اللہ کا وعدہ: ’وَعَدَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ .....الایۃ‘ یہ آیت اوپر کی آیت ۶۸ کے مقابل میں ہے۔ اس میں وعید منافقین اور منافقات کے لیے مذکور ہوئی۔ اس میں اللہ کا وعدہ مومنین اور مومنات کے لیے بیان ہوا ہے۔ لفظ ’رضوان‘ اور لفظ ’عدن‘ پر دوسرے مقام میں بحث گزر چکی ہے۔ یہاں یہ اس لعنت کے مقابل میں ہے جو اوپر منافقین کے لیے مذکور ہے۔ جس طرح لعنت تمام نقمتوں اور ابدی محرومیوں کی ایک جامع تعبیر ہے، اسی طرح ’رضوان‘ تمام رحمتوں اور لازوال و بے پایاں نعمتوں اور مسرتوں کی ایک جامع تعبیر ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ بہت بڑی چیز اور بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے اوپر ’اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ‘ کے ٹکڑے کو پیش نظر رکھیے۔ تقابل نظم کو کھولنے اور حقائق کی توضیح میں بہت معین ہوتا ہے۔
    پس اگر تم اعراض کرو گے تو میں نے تم سے کوئی اجر نہیں مانگا ہے۔ میرا اجر تو بس اللہ ہی پر ہے اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے بنوں۔
    یعنی اگر تم غور و فکر کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچے کہ اس روش اعراض پر جمے رہنا ہے تو مجھے اب تمھاری کوئی پروا نہیں ہے۔ میں تمھیں جو تبلیغ و تذکیر کر رہا تھا اس کا میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں لے رہا تھا کہ اس سے محروم ہو جانے کا غم ہو۔ میری محنت کا اجر تو اللہ کے ذمے ہے۔ وہ مجھے محروم نہیں فرمائے گا۔ مجھ پر یہ ذمہ داری بھی نہیں ڈالی گئی تھی کہ لازماً تم کو مومن و مسلم ہی بنا لوں۔ مجھے تو یہ حکم ملا تھا کہ میں اپنے رب کے فرماں برداروں میں بنوں۔ سو میں اسی کا فرماں بردار ہوں۔
    وہ بولی کہ ہائے شامت! کیا اب میں بچہ جنوں گی جب میں خود بھی ایک بڑھیا ہوں اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں! یہ تو ایک نہایت ہی عجیب بات ہو گی!
    ’قَالَتْ یٰوَیْلَتٰٓی ..... الایۃ‘ یہ حضرت سارہ کے اظہار تعجب کی تفصیل ہے جس کی طرف اوپر ’فَضَحِکَتْ‘ کے لفظ سے اشارہ فرمایا تھا۔ وہ خالص نسوانی انداز میں بولیں، ہائے شامت! کیا اب میں بچہ جنوں گی جب کہ بڑھیا بانجھ ہو چکی ہوں اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہو چکے ہیں؟ یہ تو نہایت ہی عجیب بات ہو گی!! بظاہر یہ فقرہ اظہار تعجب کا ہے لیکن اس کے لفظ لفظ کے اندر سے جو باطنی خوشی جھلک رہی ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے۔ حضرت سارہ کے اظہار تعجب کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس بشارت کے ظہور کی راہ میں جو ظاہری رکاوٹیں ہیں ان کا ذکر کر کے یہ اطمیان حاصل کر لیں کہ ان کے باوجود یہ پوری ہو کے رہے گی۔
    انھوں نے کہا ہم شاہی پیمانہ نہیں پا رہے ہیں۔ اور جو اس کو لائے گا اس کے لیے ایک بارشتر غلہ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں۔
    بھائی کو روکنے کے لیے حضرت یوسفؑ کی تدبیر: جب ان کا سارا سامان ٹھیک ٹھاک کرا دیا تو پانی پینے کا کٹورا، جو غلہ ناپنے کے لیے شاہی پیمانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا، وہ حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھوا دیا۔ پھر ایک منادی نے پکارا کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ وہ جھپٹ کے ان کی طرف مڑے اور پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوئی گئی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ شاہی پیمانہ کھویا گیا ہے تو جو اس کو لائے گا اس کو ایک شتر غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں۔ انھوں نے قسم کھا کر جواب دیا کہ آپ لوگوں کو اچھی طرح علم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد برپا کرنے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ اگر تم لوگ جھوٹے ثابت ہوئے تو اس کی کیا سزا ہے؟ انھوں نے کہا کہ جس کے سامان میں کٹورا ملے وہی اس کے بدلہ میں روک لیا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت یوسفؑ نے ان کے سامان کی تلاشی لی اور تلاشی کا آغاز اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے کیا اور آخر میں اپنے بھائی کے تھیلے سے پیمانہ کو برآمد کر لیا۔ حضرت یوسفؑ کی اس تدبیر کی بابت اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ یہ تدبیر یوسفؑ کے لیے ہم نے کی۔ بادشاہ کے قانون کی رو سے وہ اپنے بھائی کو روکنے کے مجاز نہ تھے الاآنکہ اللہ چاہے۔ فرمایا کہ ہم ہی جس کے چاہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں اور ہر صاحب علم سے بڑھ کر ایک علم والا ہے۔ حضرت یوسفؑ کے طرزعمل پر شبہات کا ازالہ: مذکورہ بالا آیات کا یہ خلاصۂ مطلب ہے جو ہم نے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔ اب ہم ایک ترتیب کے ساتھ چند اصولی باتیں عرض کریں گے تاکہ حضرت یوسفؑ کے اس طرزعمل سے متعلق جو شبہات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں وہ صاف ہو جائیں۔ ۱۔ پہلی بات یہ ہے کہ حضرت یوسفؑ ابھی اس مرحلے میں اپنے آپ کو اپنے بھائیوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کو اچھی طرح ٹٹول کر یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اتنا بڑا ظلم کر گزرنے کے بعد، جو انھوں نے ان کے ساتھ کیا، ان کے باطن میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا ابھی ان کے سوچنے کا انداز وہی ہے جو پہلے تھا۔ ۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت یوسفؑ اپنے بھائی بنیامین کو پا جانے کے بعد اب کسی قیمت پر یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس کو ان ظالم لوگوں کے حوالہ کریں۔ انھوں نے خیال فرمایا ہو گا کہ لانے کو تو وہ اس طمع میں اس کو لائے کہ ان کو معلوم تھا کہ اس کے بغیر ان کو غلہ ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن اب واپسی میں ایسے لوگوں سے کیا بعید ہے کہ اس طرح کا کوئی اقدام اس کے ساتھ بھی کر گزریں جس طرح کا اقدام وہ خود ان کے ساتھ کرچکے ہیں۔ آخر حسد کا وہ جذبہ جو ان کے پہلے اقدام کا محرک ہوا وہ تو اس بھائی کے معاملے میں بھی موجود ہے۔ ۳۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان کو بہرحال ملک کے قانون کا رکھ رکھاؤ بھی مدنظر تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ بادشاہ کی غیرمعمولی عقیدت کی وجہ سے حضرت یوسفؑ کو، جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے، ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے، لیکن ان کے شایان شان بات یہی تھی کہ وہ جو قدم بھی اٹھائیں وہ قانون ملک کے مطابق ہو۔ بالخصوص جب کہ وہ قانون مبنی بر عدل بھی ہو۔ ۴۔ چوتھی بات یہ کہ ان گوناگوں حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اگر کوئی طریقہ کارگر ہو سکتا تھا تو توریہ کا طریقہ ہی ہو سکتا تھا۔ توریہ اگر کسی باطل مقصد کے لیے ہو اور اس میں جھوٹ کی بھی ملاوٹ ہو تو وہ توریہ بلاشبہ حرام ہے لیکن اگر یہ کسی مقصد حق کے لیے ہو اور اس میں جھوٹ اور فریب کی آمیزش نہ ہو تو اس توریہ میں نہ صرف یہ کہ کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس کا اختیار کرنا، بالخصوص دشمن کے مقابل میں، مصلحت حق کی خاطر ضروری ہو جاتا ہے۔ اس کی بعض نہایت لطیف اور پاکیزہ مثالیں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ملتی ہیں۔ اس قسم کے توریہ میں جو بات کہی یا کی جاتی ہے وہ بجائے خود سچی اور صحیح ہوتی ہے لیکن اس کے کہنے یا کرنے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ مخاطب اس سے مغالطہ میں پڑ جاتا ہے۔ ۵۔ حضرت یوسفؑ نے بھائی کے تھیلے میں پیمانہ رکھ کر یا رکھوا کر ایک منادی سے یہ اعلان جو کرایا کہ ’اے قافلہ والو تم چور ہو‘ تو منادی نے یہ اعلان حضرت یوسفؑ کے حکم کی تعمیل میں کیا اور حضرت یوسفؑ نے یہ اعلان کراتے ہوئے جو بات پیش نظر رکھی وہ یہ نہیں تھی کہ اہل قافلہ نے شاہی پیمانہ چرایا ہے بلکہ انھوں نے خود اپنے واقعہ کو مدنظر رکھا کہ ان کو سیر و تفریح کے بہانے گھر سے لائے اور ایک کنوئیں میں پھینک کر شام کو جب گھر واپس ہوئے تو بوڑھے باپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ چنانچہ دیکھ لیجیے کہ منادی کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ ’اے قافلہ والو تم نے شاہی پیمانہ چرایا ہے‘ بلکہ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ’اے قافلہ والو تم چور ہو‘۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بجائے خود بالکل صحیح تھی البتہ اس سے اس موقع پر یہ مغالطہ ضرور پیدا ہو سکتا تھا کہ کسی خاص چیز کی چوری کو اس اعلان کی وجہ قرار دے لیں۔ ۶۔اس اعلان کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسفؑ کے سارے عملہ میں یہ بات پھیل گئی کہ شاہی پیمانہ گم ہے۔ یہ شاہی پیمانہ چونکہ پہلے پانی پینے کا شاہی کٹورا تھا اس وجہ سے لازماً قیمتی رہا ہو گا اس وجہ سے اس کا چرایا جانا بعید از قیاس نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے کسی پہلو سے خود حضرت یوسفؑ نے اس موقع پر شاہی پیمانے کا ذکر چھیڑا ہو اور ان کے عملہ نے از خود رائے قائم کر لی ہو کہ قافلہ والوں پر جس چوری کا الزام ہے وہ شاہی پیمانہ ہی کی چوری ہے۔ ۷۔ جب اہل قافلہ نے مڑ کر حضرت یوسفؑ کے آدمیوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوئی گئی ہے تو انھوں نے اپنے علم کے مطابق یہ جواب دیا کہ ہمارا شاہی پیمانہ کھویا گیا ہے اور ساتھ ہی ان میں سے ایک نے یہ بھی کہا کہ جو شخص پیمانہ لائے گا اس کو ایک بارشتر غلہ انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن بنتا ہوں۔ یہ آخری بات ظاہر ہے کہ حضرت یوسفؑ کے ایما پر کہی گئی ہو گی اور اغلب ہے یہ بات اسی آدمی نے کہی جس نے یہ منادی کی تھی کہ اے قافلہ والو تم چور ہو۔ ۸۔ قافلہ والوں نے پہلے تو قسم کھا کے اپنی صفائی پیش کی کہ ہم اس ملک میں فساد برپا کرنے نہیں آئے تھے اور نہ ہم چوری کرنے والے لوگ ہیں، پھر جب ان سے یہ سوال ہوا کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو چور کی کیا سزا؟ انھوں نے تھوڑے سے تردد کے ساتھ یہ جواب دیا کہ جس کے کجاوے سے چیز نکلے وہی اس کے بدلہ میں پکڑا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کے ساتھ یہی معاملہ کرتے ہیں۔ ۹۔ اس کے بعد حضرت یوسفؑ نے خود تلاشی لی اور تلاشی کا آغاز بن یامین کے بجائے دوسروں سے کیا تاکہ ان کو کوئی شبہ نہ ہو اور آخر میں بنیامین کے تھیلے سے شاہی پیمانہ برآمد کر لیا۔ اس طرح گویا اپنے بھائی کو روک لینے کے وہ ملک کے قانون کی رو سے بھی مجاز ہو گئے اور اپنے بھائیوں کے اقرار کی رو سے بھی۔ ۱۰۔ اس تدبیر کو اللہ تعالیٰ نے ’کید‘ سے تعبیر اور اس ’کید‘ کو خود اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ ’کید‘ مخفی تدبیر کو کہتے ہیں۔ یہ مخفی تدبیر اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کو سجھائی جس کی بدولت وہ اس قابل ہوئے کہ اپنے بھائی کو بھی خطرے سے بچا سکیں اور ملک کے قانون کا احترام بھی باقی رہے۔ اس پوری تفصیل پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس ساری کارروائی میں نہ حضرت یوسفؑ کسی جھوٹ میں ملوث ہوئے ہیں نہ ان کے آدمی۔ البتہ وقتی طور پر بن یامین پر ایک الزام کا دھبہ لگا لیکن اول تو وہ اس سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، پہلے سے آگاہ کر دیے گئے تھے ثانیاً یہ جو کچھ کیا گیا انہی کو سوتیلے بھائیوں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کیا گیا۔
    تیری جان کی قسم یہ لوگ اپنی سرمستی میں اندھے ہوئے ہیں۔
    اتمام حجت اور عذاب: جب معاملہ اس حد کو پہنچ گیا کہ حضرت لوطؑ کا یہ آخری حربہ بھی ان بدمستوں پر کارگر نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت پیار کے انداز میں تسلی دی کہ تمہاری جان کی قسم ۱؂ یہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے ہو رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ اب یہ راہ پر آنے والے لوگ نہیں ہیں تو تم ان کے پیچھے ہلکان نہ ہو۔ اب خدا کا عذاب ہی ان کا فیصلہ کرے گا۔ _____ ۱؂ قرآنی قسموں پر استاذ امام مولانا فراہیؒ کا رسالہ اقسام القرآن ملاحظہ فرمائیے۔
    اور اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا، تو کیا یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔
    بیوی بچوں کی نعمت خدا ہی سے ملی ہے: یعنی رزق و فضل کی طرح بیوی بچوں کی نعمت بھی تمہیں خدا ہی سے ملی ہے۔ اسی نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اور ان سے بیٹوں اور پوتوں کا سلسلہ جاری کیا اور پاکیزہ چیزیں کھانے اور برتنے کو دیں۔ ان نعمتوں کا حق تو یہ تھا کہ لوگ خدا ہی کا شکر کرتے اور اسی پر ایمان لاتے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل معبودوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور اصل منعم کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔
    اور جو اس دنیا میں اندھا بنا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا اور گمراہ تر ہو گا۔
    اصحاب الشمال کا انجام: اصحاب الیمین کے بعد یہ اصحاب الشمال کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ چونکہ یہ لوگ دنیا میں اندھے بنے رہے اس وجہ سے یہ آخرت میں بھی اندھے ہی اٹھیں گے اور اصل منزل سے جو دوری آج ان کو ہے وہ دوری آج کی نسبت کہیں زیادہ ہو جائے گی اس لیے کہ آخرت کے ظہور کے بعد ان کے لیے صراط مستقیم کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جائے گا۔ اس آیت سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اصحاب الیمین کو جو مرتبہ و مقام حاصل ہو گا وہ اس بنا پر حاصل ہو گا کہ انھوں نے دنیا میں آنکھیں بند کر کے زندگی نہیں گزاری بلکہ ہمیشہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور اللہ کی ایک ایک نشانی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔
    اس نے کہا، میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے!
    خضرؑ نے حضرت موسیٰ ؑ کو اپنی بات یاد دلائی کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے! حضرت موسیٰ ؑ نے فوراً معذرت کی کہ بھول ہوئی معاف کیجیے، میرے معاملہ میں زیادہ سخت گیری سے کام نہ لیجیے۔
    پھر ہم ان لوگوں کو نجات بخشیں گے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا ہو گا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کو اسی میں اکڑوں بیٹھے چھوڑ دیں گے۔
    اہل تقویٰ کے ساتھ معاملہ: ’ثُمَّ‘ ترتیب کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ پہلے ظالموں سے نمٹے گا، ان کو واصل جہنم کرنے کے بعد ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو گا جو اس سے ڈرتے رہے۔ فرمایا کہ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جو ہم سے ڈرتے رہے اور ظالموں کو اسی جہنم میں اکڑوں بیٹھے چھوڑ دیں گے۔ ’نجات دیں گے‘ سے مراد یہ نہیں ہے کہ جہنم سے نجات دیں گے۔ جہنم کی تو اہل تقویٰ کو، جیسا کہ اوپر گزرا، ہوا بھی نہیں لگنے پائےگی۔ یہاں ’نجات دینے‘ سے مراد ان تمام ہموم و افکار اور اس تشویش و انتظار سے نجات دینا ہے جن سے بہرحال منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے تک اہل حق کو بھی سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک شبہ کا ازالہ: ’وَنَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡھَا جِثِیًّا‘ میں لفظ ’جِثیّ‘ کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ ’جِثیّ‘ ان کو کہتے ہیں جو مجرموں کی طرح اپنی قسمت کے فیصلے کے انتظار میں دوزانو بیٹھے ہوئے ہوں۔ اوپر والی آیت میں تو اس کا محل استعمال بالکل واضح ہے لیکن یہاں اس کا استعمال کھٹکتا ہے اس لیے کہ ’فِیۡھَا‘ کا قرینہ دلیل ہے کہ یہ ان کی جہنم کے اندر کی حالت بیان ہو رہی ہے لیکن اس کے اندر تو ان کے رونے چلانے کا ذکر ہونا چاہیے، جیسا کہ دوسرے مقامات میں ہے، نہ کہ اکڑوں بیٹھنے کا، اس مشکل سے بچنے کے لیے اس کا مفہوم ہمارے مفسرین اور مترجموں نے بدل دیا ہے لیکن یہ تبدیلی نعمت سے تجاوز کی نوعیت کی ہے اس وجہ سے ہم کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ حالت بیان تو ہوئی ہے جہنم کے اندر ہی کی لیکن یہ بالکل ابتدائی مرحلہ کی بات ہے جب کہ وہ فیصلۂ الٰہی کے بعد جہنم کے داروغوں کے حوالہ کیے جائیں گے اور اکڑوں بیٹھے عذاب کے دروازے کے کھلنے کے منتظر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کے داروغوں کے حوالہ کر کے اسی حالت میں چھوڑ کر ان سے بے التفات ہو جائے گا اور اس کے بعد ان کے لیے عذاب کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔
    انھوں نے جواب دیا کہ ہم ان روشن دلائل پر جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، تم کو ہرگز ترجیح دینے والے نہیں ہیں تو تمھیں جو کچھ کرنا ہے کر گزرو۔ تم جو کچھ کر سکتے ہو بس اس دنیاوی زندگی کا کر سکتے ہو!
    ایمان کا کرشمہ! فرعون نے دھمکی تو بڑی سخت سنائی اور اسے توقع رہی ہو گی کہ وہ اس دھمکی سے ساحروں کو مرعوب کر لے گا لیکن اب اس کا سابقہ پیشہ ور جادوگروں سے نہیں بلکہ راسخ الایمان مومنوں سے تھا۔ انھوں نے فرعون کی یہ دھمکی سن کر کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر صاف سنا دیا کہ تمہیں جو کچھ کرنا ہے کر گزرو اب ہم ان روشن نشانیوں پر جو ہمارے مشاہدے میں آ چکی ہیں اور اپنے اس خالق پر جس نے ہمیں وجود بخشا ہے تمہیں ترجیح دینے والے نہیں ہیں۔ تم اگر کچھ کر سکتے ہو تو اسی دنیا کی زندگی کا کر سکتے ہو اور ہمیں اس دنیا کی زندگی کی کوئی پروا نہیں ہے ۔۔۔ دیکھا آپ نے ایمان کا کرشمہ! یہ وہی جادوگر ہیں جن کا حال قرآن میں دوسری جگہ یہ بیان ہوا ہے کہ جب وہ مقابلہ کے لیے بلائے گئے تو انھوں نے بڑی لجاجت کے ساتھ فرعون سے اپنی کامیابی کی صورت میں انعام کی درخواست کی یا اب ایمان کے نور نے ان کے دلوں کو اس طرح منور کر دیا کہ خدا اور آخرت کے سوا اس دنیا کی کسی چیز کی ان کی نگاہوں میں کوئی وقعت باقی نہیں رہی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کی راہ میں اپنی زندگی بھی قربان کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔
    اور ہم نے اس کو اسحاق اور مزید برآں یعقوب عطا کیے اور ہم نے ہر ایک کو نیک بخت بنایا۔
    حضرت ابراہیمؑ پر اللہ کا انعام: یہ اللہ تعالیٰ نے وہ انعام بیان فرمایا ہے جو ہجرت کے بعد اس نے حضرت ابراہیمؑ پر یکے بعد دیگرے کیا۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کی خاطر اپنی قوم اور عزیزوں کو چھوڑا تھا تو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بیٹے پوتے عطا فرمائے۔ انھوں نے جن کو چھوڑا تھا وہ نابکار و ناہنجار تھے اور اللہ نے ان کی جگہ ان کو جو دیے وہ سب ایک سے بڑھ کر صالحین و اخیار میں سے تھے۔ ’نَافِلَۃً‘ سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کو حضرت اسماعیلؑ تو ان کی دعا کے صلہ میں ملے مزید برآں اللہ تعالیٰ نے ان کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ بھی عطا فرمائے اور اس کے بعد نبوت کا ایک سلسلہ قائم ہو گیا۔ ؂۱ _____ ؂۱ سورۂ صافات کی آیات ۱۰۰-۱۱۲ کے تحت انشاء اللہ یہ بحث آئے گی کہ حضرت ابراہیمؑ کو حضرت اسماعیلؑ دعا کے صلہ میں ملے ہیں اور حضرت اسحاقؑ حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کے صلہ میں۔ اس تاریخی حقیقت کو یہود نے جس طرح مسخ کیا ہے اس کی تفصیل استاذ امامؒ کے رسالۂ ذبیح میں دیکھیے۔
    اور جب ہماری واضح آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو تم ان کافروں کے چہروں پر ناگواری پاتے ہو۔ گویا یہ ان لوگوں پر حملہ کر بیٹھیں گے جو ان کو ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ ان سے کہو کہ کیا میں تمہیں اس سے بڑھ کر ناگوار چیز کی خبر نہ سناؤں؟ وہ ہے دوزخ! اس کا اللہ نے ان لوگوں کے لیے وعدہ کر رکھا ہے جنھوں نے کفر کیا ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے!
    ’سطا یسطو‘ کے معنی حملہ کر دینے اور پل پڑنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان معبودوں کے حق میں کوئی دلیل ان کے پاس اگرچہ نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے لیے ان کی حمیت کا حال یہ ہے کہ جب توحید کے حق میں ان کو نہایت واضح اور مدلل آیات سنائی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، ان کے چہرے بگڑ جاتے اور بھویں تن جاتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی آیتیں سنانے والوں پر پل پڑیں گے۔ فرمایا کہ اگر اللہ کی آیات اور ان کے سنانے والوں سے یہ ایسے ہی چراغ پا ہوتے ہیں تو ان سے کہو کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز کی خبر دوں جو ان چیزوں سے کہیں زیادہ تمہارے چہروں کو بگاڑنے والی ہو گی اور اس سے لازماً تمہیں سابقہ پیش آنا ہے! وہ ہے دوزخ کی آگ!! اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
    کیا تم ان سے کوئی معاوضہ طلب کر رہے ہو! تمہارے رب کا صلہ تمہارے لیے بہتر ہے اور وہ بہترین روزی بخشنے والا ہے!
    نبی کا زاد و راحلہ اس کے ساتھ ہوتا ہے: اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور آپؐ کے مخالفین کے لیے ملامت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان کے آگے جو کچھ پیش کر رہے ہو اس کا کوئی معاوضہ تو طلب کر نہیں رہے ہو کہ یہ اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں۔ تم نے تو مفت پایا ہے، مفت بانٹ رہے ہو۔ اگر انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو اس میں ان کی اپنی ہی محرومی ہے۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے تمہاری دعوت قبول نہ کی تو اس سے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں گے تو بالکل غلط سمجھتے ہیں۔ تمہارے لیے تمہارے رب کا بخشا ہوا اجر ہی بہتر ہے اور وہ بہترین فضل فرمانے والا ہے۔ خدا کا رسول کوئی تاجر یا دکان دار نہیں ہوتا بلکہ ایک داعی حق ہوتا ہے۔ اس کی دعوت اپنا زاد و راحلہ خود اپنے ساتھ رکھتی ہے اور یہی شان ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو نبیوں کے طریقے پر کام کرتے ہیں۔
    اور جو کسی باطل میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی بے ہودہ چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
    لغویات سے احتراز: ’زُوْرٌ‘ کذب و باطل کو کہتے ہیں اور ’لَغْوٌ‘ سے مراد وہ باتیں اور کام ہیں جو ثقہ و سنجیدہ لوگوں کے شایان شان نہ ہوں۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے کسی باطل کام میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی لغو چیز کے پاس سے گزرنا ہی پڑ جائے تو نہایت وقار و شرافت سے وہاں سے گزر جاتے ہیں جس طرح ایک گندی جگہ سے ایک صفائی پسند آدمی گزر جاتا ہے۔ سورۂ قصص آیت ۵۵ میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے: ’وَاِذَا سَمِعُوا الَّلغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ‘ (اور جب وہ لغو باتیں سنتے ہیں تو ان سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے ساتھ تمہارے اعمال، ہمارا سلام لو، ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے)  
    اس نے کہا، کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو پکارتے ہو۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کی بے حقیقتی واضح کرنے کے لیے سوال کیا کہ جب تم ان سے دعا و فریاد کرتے ہو تو کیا یہ تمہاری دعا و فریاد سنتے ہیں یا تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں یا پہنچا سکتے ہیں تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم ان کی پرستش کرتے ہو! قوم کے لوگوں نے جواب دیا کہ یہ باتیں ہم نہیں جانتے۔ بس ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے، سو ہم اسی طرح کرتے رہیں گے۔ اپنے آباء و اجداد کے طریقے کو ہم تمہارے کہنے سے نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کے اس دور کی باتیں نقل ہو رہی ہیں۔ جب وہ تمام عقلی و نقلی اور آفاقی و انفسی دلائل سے اپنی قوم پر حجت تمام کر چکے ہیں۔ آگے کی آیات سے واضح ہو جائے گا کہ اس کے بعد انھوں نے قوم سے اعلان براء ت کر کے ہجرت فرمائی ہے۔ اس مرحلے میں ظاہر ہے کہ نبی کی دعوت کا انداز بدل جاتا ہے اور قوم کے جواب کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔ پیغمبر جو کچھ کہتا ہے اس کی نوعیت قوم کی عقل اور اس کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی آخری کوشش کی ہوتی ہے اور قوم جو کچھ جواب دیتی ہے اس کی نوعیت آخری ضد اور ہٹ دھرمی کے مظاہرے کی۔ یہ دونوں ہی باتیں یہاں سوال و جواب سے واضح ہو رہی ہیں۔
    کہہ دو کہ بہت ممکن ہے کہ جس چیز کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو۔
    ’قُلْ عَسٰٓی اَنْ ......الآیۃ‘ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ عجب نہیں کہ جس چیز کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو اس کا کوئی حصہ تمھارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو۔ ’اَلَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ‘ سے قیامت مراد ہے جس کے لیے جلدی مچانے کا ذکر اوپر آیت ۶۸ میں بھی گزر چکا ہے اور آیت ۷۱ میں بھی۔ ’بَعض‘ سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کا لازمی نتیجہ ہے۔ فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اب تو اس کا ظہور تمھارے رویے پر منحصر ہے۔ اگر تم ایمان نہ لائے تو قیامت کی عدالت کبریٰ کا ایک نمونہ تمھارے لیے ظاہر ہو کے رہے گا۔ یہ چیز رسول کی بعثت ہی کے اندر مضمر ہے۔ یہاں اس بات کو ’عَسٰی‘ کے لفظ سے کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بہرحال عذاب کے ظہور کا انحصار قوم کے رویے پر تھا۔ وہ ایمان لا کر اس سے محفوظ بھی رہ سکتی تھی۔ چنانچہ ہوا بھی یہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی اکثریت ایمان لائی اس وجہ سے اس پر اس قسم کا کوئی عذاب نہیں آیا جس قسم کا عذاب پچھلی قوموں پر آیا۔
    کہو، تم لوگ بتاؤ، اگر تم پر دن ہی کو ہمیشہ کے لیے، تاقیامت مسلط رکھے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے رات کو لائے گا جس میں تم سکون پاتے ہو۔ تو کیا تم لوگ دیکھتے نہیں!
    مخاطب کے مسلمات سے استدلال: ’قُلْ‘ یہاں سوال کرنے اور پوچھنے کے معنی میں ہے۔ جب سوال بالکل بدیہی نوعیت کا ہو، جس کے جواب میں مخاطب کے لیے کسی اختلاف کی گنجائش نہ ہو تو اتمام حجت کے پہلو سے یہی لفظ زیادہ موزوں رہتا ہے۔ یہ بات مشرکین عرب کو بھی تسلیم تھی کہ آسمان و زمین اور روز و شب کا خالق خدا ہی ہے وہ ان کے اسی مسلمہ کو بنیاد بنا کر سوال فرمایا کہ بھلا بتاؤ تو سہی کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ہمیشہ کے لیے رات ہی کو مسلط کر دے تو تمہارے معبودوں میں سے کوئی ہے جو تمہارے لیے دن کی روشنی نمودار کر سکے! اسی طرح بتاؤ کہ اگر وہ تمہارے اوپر قیامت تک کے لیے دن ہی کو مسلط کر دے تو کیا تمہارے معبودوں میں سے کسی کے اندر یہ بوتا ہے کہ وہ رات کو لا سکے جس میں تم دن کے تھکے ماندے سکون حاصل کرتے ہو! مطلب یہ ہے کہ جب اس کائنات کے ان تصرفات میں، جن پر تمام مخلوقات کے بقاء کا انحصار ہے، تمہارے ان دیویوں دیوتاؤں کو کوئی دخل نہیں ہے تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم نے ان کو خدا کی خدائی میں شریک بنا رکھا ہے! اسلوب بیان کی بلاغت: یہاں اسلوب بیان کی یہ بلاغت بھی قابل توجہ ہے کہ شب کے ذکر کے بعد تو فرمایا کہ ’أَفَلَا تَسْمَعُوۡنَ‘ (کیا تم لوگ سنتے نہیں) اور دن کے ذکر کے ساتھ فرمایا کہ ’أَفَلَا تُبْصِرُوۡنَ‘ (کیا تم لوگ دیکھتے نہیں) یہ اسلوب تصویر حال کے لیے ہے۔ گویا پہلی بات شب کے اندھیرے میں فرمائی جا رہی ہے کہ اگر رات کے اندھیرے میں تمہیں سجھائی نہیں دے رہا ہے تو کیا سنائی بھی نہیں دے رہا ہے تو آخر اس بات کو سنتے کیوں نہیں! اسی طرح دوسری بات گویا دن کی روشنی میں فرمائی جا رہی ہے کہ اس وقت تو پورے دن کی روشنی موجود ہے تو کیا اس روشنی میں بھی تمہیں یہ بدیہی حقیقت نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس میں یہ بلاغت بھی ہے کہ معقولات کو محسوسات کی حیثیت دے دی گئی ہے جس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بدیہیات ہیں جن کو سمجھنے کے لیے زیادہ تامل و فکر کی ضرورت نہیں ہے، یہ کافی ہے کہ آدمی کے کان اور اس کی آنکھیں کھلی ہوں۔ لیکن تمہارا حال تو یہ ہے کہ نہ شب کے سکون میں تمہیں کچھ سنائی دیتا نہ دن کے اجالے میں کچھ دکھائی دیتا۔ ایک چیز ان آیات میں اور بھی قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ رات کے ساتھ اس کی صفت ’تَسْکُنُوۡنَ فِیْہِ‘ تو مذکور ہوئی لیکن دن کے ساتھ اس کی کسی صفت کا ذکر نہیں ہوا۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے جگہ جگہ اشارہ کیا ہے کہ بعض مرتبہ کلام کے متقابل اجزاء بتقاضائے ایجاز و بلاغت، حذف کر دیے جاتے ہیں۔ یہاں دن کا فائدہ چونکہ بالکل واضح تھا اس وجہ سے اس کو حذف کر دیا۔ آگے والی آیت میں اس حذف کی وضاحت ہو گئی ہے۔
    اور ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈرے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظلم کرنے والا اور جذباب سے مغلوب ہو جانے والا ہے۔
    انسان کا اصلی شرف: اب یہ انسان کا اصلی شرف واضح فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عہد اطاعت کا امین ہے۔ یہ عہد، اختیار و ارادہ کی آزادی پر مبنی ہے اس وجہ سے وہی اس کا سزاوار ٹھہرا۔ اس لیے کہ عہد کا اہل وہی ہوتا ہے جس کو اختیار و ارادہ کی آزادی حاصل ہو۔ جو مخلوقات مجبور و مقہور ہیں ان سے کسی عہد و میثاق کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے تمام ذریت آدم سے لیا ہے اور یہی عہد اس خلافت کی بنیاد ہے جو اس زمین میں آدمؑ اور ذریت آدم کو حاصل ہوئی اور اسی خلافت کے مقتضیات کو بروئے کار لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے اپنی ہدایت اور کتاب و شریعت نازل کرنے کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرمائی کہ جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے وہ جنت کے وارث ٹھہریں گے اور جو اس کی خلاف ورزی کریں گے وہ سب جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی وعدے کو پورا کرنے کے لیے اپنے نبی و رسول بھیجے جنھوں نے اپنی اپنی امتوں سے اس عہد اطاعت و بندگی کی تجدید کرائی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس کے نتائج سے آگاہ کیا۔ اس عہد کی بنیاد چونکہ انسان کے ارادہ کی آزادی پر ہے اس وجہ سے اس کی حیثیت شمشیر دودَم کی ہے۔ اگر انسان اپنے ارادہ کی آزادی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی کے عہد کو پورا کرے تو اللہ کے نزدیک اس سے کوئی اونچا نہیں، اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خدا کی بخشی ہوئی سب سے بڑی عزت کو اپنے لیے سب سے بڑی ذلت بنا لیا۔ ہر عہد ایک امانت ہے اور ہر امانت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اس کی بابت امانت رکھنے والا ایک دن پرسش کرے کہ اس کی امانت کا حق ادا کر دیا گیا ہے یا اس میں خیانت کی گئی ہے۔ یہ چیز ایک روز جزا و سزا کو مستلزم ہوئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک دن سب کو اکٹھا کرے گا اور ان کے اعمال کے ریکارڈ ان کے سامنے رکھ کر فیصلہ فرمائے گا کہ کون کافر و منافق ہیں جو دوزخ کے سزاوار ہیں اور کون مومن و مخلص ہیں جو جنت کے حق دار ہیں۔ ’إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَۃَ عَلَی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْْنَ أَن یَحْمِلْنَہَا وَأَشْفَقْنَ مِنْہَا‘۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اطاعت بالاختیار کی یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے بھی پیش کی تھی لیکن وہ اس عظیم ذمہ داری کے اٹھانے سے ڈرے اور اپنی معذرت پیش کر دی کہ ان کو اس بارگراں سے معاف رکھا جائے۔ آسمانوں و زمین اور پہاڑوں کی یہ معذرت زبان حال سے بھی ہو سکتی ہے اور زبان قال سے بھی۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی زبان حال و قال دونوں سمجھتا ہے۔ قرآن میں اس بات کی تصریح ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ان کی تسبیح کو صرف اللہ تعالیٰ ہی سمجھتا ہے، دوسرے اس کو نہیں سمجھتے۔ اسی طرح ہر ذمہ داری کے تحمل کے لیے ایک خاص صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اگر وہ صلاحیت موجود نہ ہو تو اس کا تحمل ممکن نہیں ہے۔ آپ ہر زمین میں ہر چیز کی کاشت نہیں کر سکتے۔ زمین کا ایک معمولی ٹکڑا آپ کے تخم کا امین بن جاتا ہے اور وہ آپ کی امانت کو نہ صرف محفوظ رکھتا ہے بلکہ اس کو نشوونما اور فروغ دیتا ہے۔ لیکن وہی تخم اگر آپ ایک وسیع سمندر، ایک عظیم پہاڑ یا ایک لق و دق صحرا میں ڈال دیں تو وہ اس کو نشوونما نہیں دے سکتے بلکہ وہ تخم ضائع جائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی چیز کے اندر ایک چیز کے قبول کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ اس سے لازماً اباء کرے گی۔ مثلاً ہماری آنکھ ایک خاص درجے کی روشنی کا تحمل کر سکتی ہے، اگر روشنی کی مقدار اس سے بڑھ جائے تو نگاہ خیرہ ہو جائے گی۔ اسی طرح ہمارا جسم ایک خاص درجے کی حرارت یا برودت برداشت کر سکتا ہے، اگر حرارت یا برودت اس سے زیادہ ہو جائے تو ہمارا جسم اس کو قبول کرنے سے اباء بھی کرے گا اور اس سے ڈرے گا بھی۔ ہمارے معدے میں خاص طرح کی چیزوں کے قبول کرنے کی صلاحیت ہے، اگر ہم ان کے سوا کوئی دوسری چیز اس میں ڈالنے کی کوشش کریں تو، خواہ بجائے خود وہ کتنی ہی قیمتی چیز ہو، معدہ اس کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ یہی حال آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کا، اس امانت کے معاملے میں، ہوا۔ ان کے اندر اس کے اٹھانے کا ظرف نہیں تھا اس وجہ سے انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا۔ ’وَحَمَلَہَا الْإِنۡسَانُ‘۔ یہ انسان کا شرف بیان ہوا ہے کہ جس بارامانت کو آسمان و زمین، دریا اور پہاڑ نہ اٹھا سکے اس کو انسان نے اٹھا لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اگرچہ اپنے وجود مادی کے اعتبار سے اس کائنات کی ایک نہایت حقیر ہستی ہے لیکن اپنی معنوی صلاحیتوں کے اعتبار سے آسمانوں سے اونچا، زمین سے وسیع اور پہاڑوں سے زیادہ مضبوط و سربلند ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز اس کے لیے مسخر کی گئی لیکن وہ کسی کے لیے بھی مسخر نہیں کیا گیا، بلکہ رب کائنات کے سوا کسی کے آگے اس کا جھکنا اس کے لیے باعث ننگ قرار پایا۔ ’إِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمۡا جَہُوۡلاً‘ یہ انسان کی اس صلاحیت کی طرف اشارہ ہے جس کی بنا پر وہ اس امانت کا اہل قرار پایا۔ وہ یہ ہے کہ یہ امانت مقتضی تھی کہ انسان کے اندر متضاد داعیے موجود ہوں تاکہ اس کی آزمائش ہو سکے کہ وہ ان متضاد داعیوں کی کشاکش کے اندر اپنے رب کی اطاعت بالاختیار کے عہد کو کس طرح نباہتا اور اس کی ذمہ داریوں سے کس طرح عہدہ برآ ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ ’ظلوم‘ و ’جہول‘ بنایا گیا۔ ’ظلم‘ عدل و حق کا ضد ہے اور ’جہل‘ ’علم‘ اور ’حِلم‘ کا ضد ہے۔ ’ظلوم‘ اس کو کہیں گے جو عدل و حق کا شعور رکھتے ہوئے ظلم کا مرتکب ہونے والا ہو۔ اسی طرح ’جہول‘ اس کو کہیں گے جو علم و حلم کی صلاحیت کے باوصف جہل اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والا ہو۔ یہی کشاکش انسان کی آزمائش ہے اور یہی اس کے تمام شرف کی بنیاد ہے۔ اگر وہ ظلم کی راہ اختیار کرنے کی آزادی رکھنے کے باوجود محض اپنے رب کی رضا کی خاطر عدل کی راہ پر استوار رہتا ہے اور اپنے سفلی جذبات کے اتباع کی آزادی کے باوجود، محض اپنے رب کے خوف سے، اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے تو لاریب اس کا مرتبہ فرشتوں سے بھی اونچا ہوا اس لیے کہ ان کو خدا کی بندگی کی راہ میں کسی کشمکش سے دوچار ہونا نہیں پڑتا۔ ان کا راستہ بالکل ہموار اور ان کا مزاج ظلم و جہل کے دواعی سے بالکل ناآشنا ہے لیکن انسان اگر بندگی کرتا ہے تو ہر قدم پر وہ اپنے نفس اور شیطان سے لڑ کر کرتا ہے اس وجہ سے اس کی بندگی فرشتوں کی بندگی سے اونچی ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس انسان اپنے اس اختیار کے سبب سے جس طرح سب سے زیادہ اونچا ہے اسی طرح وہ سب سے زیادہ نیچا بھی ہو جائے گا اگر وہ اپنے اس اختیار کی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہ کر سکے۔ یہی حقیقت سورۂ تین میں اس طرح واضح فرمائی گئی ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۵ ثُمَّ رَدَدْنَاہُ أَسْفَلَ سَافِلِیْنَ ۵ إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ (۴-۶) ’’اور ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اس کو اسفل سافلین میں گرا دیا البتہ وہ لوگ اس سے محفوظ رہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘  
    اور ہم نے ان کو ان کا مطیع بنا دیا، پس ان میں سے بعض پر وہ سوار ہوتے ہیں اور بعض سے وہ غذا حاصل کرتے ہیں۔
    ’وَذَلَّلْنَاہَا لَہُمْ الاٰیۃ‘۔ یعنی یہ محض خدا کی ربوبیت و رحمت ہے کہ اس نے ان چوپایوں کو انسان کی معاشی ضروریات کے لیے سازگار بنایا اور پھر ان کو اس طرح انسان کا مطیع بنا دیا ہے کہ وہ جس طرح چاہے ان کو استعمال کرتا ہے۔ اگر خدا نہ چاہتا تو یہ چوپائے نہ تو انسان کی ضروریات کے لیے سازگار ہوتے اور نہ وہ ان کو اپنا مطیع بنا سکتا۔ آخر دنیا میں کتنے جانور ایسے ہیں جو نہ تو انسان کی ضروریات کے لیے کارآمد ہیں اور نہ وہ ان کو چوپایوں کی طرح اپنا غلام ہی بنا سکتا ہے۔ اگر وہ ان کو مسخر بھی کر لے جب بھی وہ ایک بوجھ تو اس کے لیے بن سکتے ہیں لیکن اس کا کوئی بوجھ اٹھانے والے نہیں بن سکتے۔ فرمایا کہ ان چوپایوں ہی میں سے بعض وہ ہیں جن سے وہ سواری کا کام لیتا ہے اور بعض وہ ہیں جن سے وہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔
    اور ہم نے ان میں اپنے منذر بھیجے۔
    ’قَبْلَہُمْ‘ میں ضمیر کا مرجع قریش ہیں۔ اب یہاں سے کلام کا رخ تاریخی دلائل کی طرف مڑ رہا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح کی گمراہی میں یہ (قریش) مبتلا ہیں اسی طرح کی گمراہی میں ان سے پہلے اکثر قومیں مبتلا ہو کر کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کا ذکر تفصیل سے پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے اور وہ اس سورہ میں بھی آگے آ رہا ہے۔ فرمایا کہ ان کی اصلاح کے لیے ہم نے ان کے اندر اپنے منذر بھیجے کہ وہ ان کی غلط روش کے انجام سے ان کو آگاہ کر دیں لیکن انھوں نے انہی کی طرح باپ دادا کی تقلید کے جنون میں ان منذروں کی بات رد کر دی بالآخر ان کے سامنے وہی انجام آیا جو انذار کے بعد لازماً ہر قوم کے سامنے آتا ہے۔ صرف اللہ کے وہی بندے اس سے محفوظ رہے جن کو اللہ نے اپنی رحمت کے لیے خاص کر لیا ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ یہی کچھ ان کے سامنے بھی آنے والا ہے تو تم صبر کے ساتھ اپنا کام کیے جاؤ اور ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔
    تو جب میں اس کو درست کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک لوں تو اس کے آگے سجدے میں گر جائیو۔
    استکبار کا شجرۂ نسب: یہ حضرت آدم علیہ السلام کا وہ ماجرا بیان ہو رہا ہے جو پیچھے متعدد سورتوں میں جستہ جستہ بیان ہوا ہے اور ہم اس کے تمام پہلوؤں پر مفصل بحث کر چکے ہیں۔ خاص طور پر سورۂ بقرہ کی تفسیر میں اس کی اچھی طرح وضاحت ہو چکی ہے۔ یہاں اس ماجرے کا حوالہ اس استکبار کا شجرۂ نسب بیان کرنے کے لیے آیا ہے جس کا ذکر اس سورہ کی ابتدا میں ’بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا فِیْ عِزَّۃٍ وَشِقَاقٍ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے اور جس پر اس سورہ میں ضرب لگائی گئی ہے۔ گویا قریش کو اس آئینہ میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جس گھمنڈ اور استکبار میں مبتلا ہو کر قرآن کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں یہ صالحین کی نہیں بلکہ ابلیس کی وراثت ہے۔ اسی میں مبتلا ہو کر اس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جس کی پاداش میں وہ ملعون ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اسی کی سنت زندہ کرنا چاہتے ہیں تو اس انجام کے لیے بھی تیار رہیں جو ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کا ہو گا۔
    کہا جائے گا، جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کا!
    ان کے اس جواب کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اور یہ داخل ہونا ابدی ہے۔ ’فَبِئۡسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ‘۔ ’مُتَکَبِّرِیْنَ‘ سے ظاہر ہے کہ وہی لوگ مراد ہیں جن کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ اس صفت سے ان کے اصل سبب اعراض و انکار پر روشنی پڑتی ہے کہ انھوں نے محض بربنائے تکبر حق سے اعراض کیا اور اس ٹھکانے کے سزاوار ٹھہرے جو متکبرین کے لیے خاص ہے۔
    وہ گرم پانی میں (گھسیٹے جائیں گے) پھر آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔
    ’وَالسَّلَاسِلُ‘ کے بعد ’فِیْ اَرْجُلِھِمْ‘ کے الفاظ میرے نزدیک محذوف ہیں۔ ترجمہ میں ان کو میں نے کھول دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انھوں نے استکبار کی بنا پر اللہ کی آیات کی تکذیب کی اس وجہ سے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ان کے پاؤں میں زنجیریں پہنائی جائیں گی۔ اس کے بعد وہ گرم پانی میں گھسیٹے جائیں گے پھر دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے۔ ’سَجْر التنّور‘ کے معنی ہیں ’تنور کو ایندھن سے بھر دیا‘۔
    اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے اپنے اعمال کے صلے میں۔
    جنت مجرد انعام کے طور پر نہیں بلکہ حق کے طور پر ملے گی: اوپر والی بشارت سے بھی بڑی بشارت اللہ تعالیٰ اہل جنت کو یہ دے گا کہ یہ جنت تمہارے اعمال کے صلہ میں تم کو عطا ہوئی ہے۔ یعنی یہ محض تم پر انعام نہیں بلکہ یہ تمہارا حق بھی ہے۔ اگر کوئی عزت افزائی بلا استحقاق ہو تو دل کو اس سے سچی خوشی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کے اس پہلو کو بھی ملحوظ رکھا ہے اس وجہ سے اس نے جنت کو مجرد فضل و احسان کے بجائے اہل جنت کا حق اور ان کی ان محنتوں کا ثمرہ قرار دیا ہے جو حق کی راہ میں انھوں نے دنیا کے اندر جھیلی ہیں۔
    حوریں، خیموں میں رہنے والیاں۔
    ’خَیْْرَاتٌ حِسَانٌ‘ کے معنی ہیں پاکیزہ سیرت اور پاکیزہ صورت۔ ’حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامِ‘ میں خاص عربی ذوق نمایاں ہے۔ خیموں کی رہائش اہل عرب کی پسندیدہ رہائش رہی ہے۔ امرائے عرب کے خیمے اور شامیانے شان دار محلوں کے لیے بھی قابل رشک ہوتے تھے اور یہاں تو ذکر جنت کے خیموں کا ہے۔ اوپر کی جنت میں شرمیلی نازنینوں کا ذکر ہے اور ان کو یاقوت و مرجان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ دونوں جگہ صفات کا جو فرق ہے وہ نگاہ میں رہے۔ ہر صفت کے بیان کے بعد آیت ترجیع بھی آئی ہے اور اس کا موقع و محل واضح ہے۔
    کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کے درخت کو یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں!
    پانی کے بعد آگ کی طرف اشارہ: پانی کے بعد آگ کی بھی، ضروریات زندگی میں، بڑی اہمیت ہے۔ بالخصوص ان قوموں کے لیے جن کو بڑے بڑے صحرائی سفر کرنے پڑتے تھے۔ جہاں نہ تو راہ میں آبادیاں ہوتیں جہاں سے ضرورت کے وقت بآسانی آگ دست یاب ہو سکے، نہ آگ چیز ہی ایسی ہے جس کو آدمی اپنے سامان میں باندھ کے ساتھ لے سکے اور نہ اس وقت تک دیا سلائی ہی کے قسم کی کوئی چیز ایجاد ہوئی تھی جس سے یہ ضرورت پوری کی جا سکے۔ اس قسم کے ضرورت مندوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی یاددہانی کے لیے بعض خاص قسم کے پتھر بھی پیدا کیے جن کو رگڑ کر آگ پیدا کی جا سکتی تھی اور اس سے عجیب تر اپنی قدرت و حکمت کی یہ شان دکھائی کہ دو ایسے درخت بھی پیدا کیے جن کی ٹہنیوں کو ایک دوسری سے رگڑ کر آگ بھڑکائی جا سکتی تھی۔ ان کو مرخ اور عفار کہتے تھے۔ سورۂ یٰسٓ میں بھی اس درخت کا ذکر ہو چکا ہے۔ فرمایا کہ اس چیز پر بھی غور کرو کہ زندگی کی اتنی بڑی ضرورت کو مہیا کرنے والے تم ہو یا ہم ہیں!
    کہہ دو، مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کو سنا تو انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ ہم نے ایک نہایت دل پذیر قرآن سنا۔
    جنوں کے تاثرات کی اطلاع پیغمبرؐ کو وحی کے ذریعہ ہوئی: ’قُلْ اُوْحِیَ‘ کے الفاظ سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ جنوں کے جو تاثرات اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست جنوں کی زبانی نہیں بلکہ وحی الٰہی کے ذریعہ معلوم ہوئے۔ ان کی ایک جماعت نے سرِ راہے کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پڑھتے سنا جس کی کشش نے ان کے دلوں کو اس طرح موہ لیا کہ وہ اس کے سننے میں ہمہ تن محو ہو گئے اور پھر اس دل پذیر کلام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ پلٹے تو اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوئے۔ واقعہ کو سنانے کا مقصد: یہ کس موقع کا ذکر ہے؟ اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ اسی واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی ذکر سورۂ احقاف میں ہوا ہے۔ وہاں روایات کی روشنی میں اس کے موقع و محل کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ جنوں کے ان تاثرات کی آپ کو اس لیے اطلاع دی گئی کہ اپنی قوم کو آپ سنا دیں کہ جس کلام بلاغت نظام کے ساتھ تمہارا سلوک یہ ہے کہ اس کو سن کر تم کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور اس کے سنانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہو درآنحالیکہ یہ کلام تمہارے ہی لیے اترا ہے، اس کلام کو سن کر ذی صلاحیت جنات اس طرح اس کے عاشق ہو جاتے ہیں کہ اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ وہ براہ راست اس کے مخاطب بھی نہیں۔ لفظ ’قُلْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جنوں کے ان تاثرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقصد سے آگاہ فرمایا گیا کہ آپ قریش کے لیڈروں کو یہ سنا دیں کہ ان کو کچھ غیرت آئے۔ ضمناً اس میں آپ کے لیے تسلی بھی ہے کہ نااہلوں کی ناقدری سے آپ آزردہ نہ ہوں۔ اگر یہ لوگ اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس میں قصور نہ اس کلام کا ہے نہ آپ کا بلکہ یہ خود ان لوگوں کے اپنے دلوں کے فساد کا نتیجہ ہے۔ جنوں کی دعوت اپنی قوم کو: ’فَقَالُوْا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا‘۔ یہ وہ دعوت ہے جو انھوں نے اس کلام کو سننے کے بعد اپنی قوم کو دی۔ یعنی اس کو سن کر وہ صرف واہ واہ کر کے نہیں رہ گئے بلکہ انھوں نے حق کی قدردانی اور اپنی قوم کی خیرخواہی کا یہ لازمی تقاضا سمجھا کہ جس نعمت آسمانی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند فرمایا اس سے وہ اپنی قوم کو بھی بہرہ مند کریں۔ ’عَجَبٌ‘ مصدر ہے اس وجہ سے ’عجیب‘ کے مقابل میں اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ لفظ انھوں نے اس کلام کی دل پذیری، اثر انگیزی اور حکمت آفرینی کے پہلو سے استعمال کیا۔ عربی میں یہ لفظ صرف کسی شے کے انوکھے پن کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ اس کی دل پذیری اور اثر انگیزی کے پہلو کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ اسی پہلو سے آیا ہے۔ سورۂ احقاف میں یہی بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: قَالُوْا یَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا کِتَابًا أُنۡزِلَ مِنۡ بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَہْدِیْ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ (الاحقاف ۴۶: ۳۰) ’’اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اپنے پہلے کی پیشین گوئیوں کی مصداق بنا کر نازل کی گئی ہے جو حق اور ایک بالکل سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔‘‘ اس سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جنات صرف اپنی ہی زبان نہیں بلکہ جس علاقہ سے وہ تعلق رکھتے ہیں اس علاقہ کے انسانوں کی زبان بھی سمجھتے ہیں اور ان کے اندر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس زبان کے حسن و قبح کے اچھی طرح پرکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔  
    جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
    قرآن کی دعوت رُشد: یہ قرآن کی اسی دل پذیری کی وضاحت ہے جس کی طرف لفظ ’عجیب‘ اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی یہ کتاب اس حق و ہدایت کی طرف رہنمائی کر رہی ہے جس کو ہر سلیم الفطرت کا دل قبول کرتا ہے۔ سورۂ احقاف کی مذکورہ بالا آیت میں ’یَہْدِیْ إِلَی الْحَقِّ وَإِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں اسی مضمون کے لیے جامع لفظ ’رُشْدٌ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ ان تمام بنیادی عقائد اور نیکیوں پر حاوی ہے جو انسانی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ انسان اپنے اختیار کے سوء اعمال سے اپنی فطرت بگاڑ نہ لے تو یہ اس کی رہنمائی صحیح سمت میں کرتی ہے اور اگر غفلت کے سبب سے ان پر کبھی حجاب بھی آ جاتا ہے تو وہ معمولی تذکیر و تنبیہ سے دور ہو جاتا ہے بشرطیکہ انسان نفس کی خواہشوں کی پیروی میں اس کی ناقدری نہ کرے۔ اس ’رُشْدٌ‘ میں سب سے اونچا مقام توحید کا ہے۔ تمام بنیادی عقائد و اعمال کا منبع بھی وہی ہے اور اسی پر ان کی صحت کا مدار بھی ہے۔ رشد کا حق: ’فَاٰمَنَّا بِہٖ‘۔ یہ انھوں نے اس ’رُشْدٌ‘ کا حق بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت سے ہمیں آگاہ فرمایا تو ہم نے اس کا یہ فطری حق سمجھا کہ ہم اس پر ایمان لائیں، چنانچہ ہم نے اس کو صدق دل سے قبول کر لیا۔ رشد کا سرچشمہ: ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘۔ تمام رشد کا سرنامہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، توحید ہی ہے چنانچہ انھوں نے اس رشد پر ایمان کا تقاضا یہ بیان کیا کہ اب ہمارے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ ہم کسی کو اپنے رب کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ تمام بنیادی عقائد اور نیکیاں نہ صرف انسانوں اور جنوں کے درمیان مشترک ہیں بلکہ قرآن میں یہ وضاحت ہے کہ یہ تمام کائنات میں مشترک ہیں۔ ہمارے اور جنوں کے درمیان فرق ہے تو معاشرتی احکام میں ہے۔ توحید، معاد، جزا و سزا اور فضائل و رذائل میں فرق کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ انہی چیزوں کا یہاں ذکر آیا ہے اور قرآن نے مکی زندگی کے ابتدائی دور میں انسانی فطرت کے انہی ابتدائی مطالبات کی لوگوں کو دعوت بھی دی۔
    اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے نہ کوئی اولاد۔
    یہ انھوں نے اپنے قول ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘ کی مزید وضاحت کر دی کہ اب ہم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ہمارے رب کی شان بیوی بچوں کی نسبتوں سے بالکل پاک اور نہایت ارفع ہے۔ نادان ہیں وہ لوگ جو اس طرح کی چیزیں اس سے منسوب کرتے ہیں۔ اس نے نہ اپنے لیے کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی اولاد۔ ’جد‘ کے معنی عظمت، شان اور رتبہ کے ہیں۔ یعنی اس کی ذات اتنی بلند ہے کہ کوئی چیز اس کی شریک و سہیم اور ہمہ رتبہ نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنی ذات میں بالکل یکتا، بے نیاز اور ہر چیز سے مستغنی ہے۔ کسی کا یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہم سر ہو سکے۔ یہ قول اگرچہ جنات ہی کا ہے اس وجہ سے اس کو ’فَقَالُوْا اِنَّا سَمِعْنَا‘ کے تحت ہی ہونا چاہیے تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں براہ راست نہیں بلکہ وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوئیں اس وجہ سے اس کو ’قُلْ اُوْحِیَ إِلَیَّ أَنَّہٗ‘ کے تحت کر دیا گیا اور آگے جنات کے سارے اقوال اسی کے تحت آئیں گے۔
    اور یہ کہ ہمارا بے وقوف (سردار) اللہ کے بارے میں حق سے بالکل ہٹی ہوئی باتیں کہتا رہا ہے۔
    سفیہ لیڈروں کی پیروی سے اجتناب کی دعوت: ’سَفِیْہٌ‘ کے معنی بے وقوف کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ جنوں نے اپنے سردار کے لیے استعمال کیا ہے اس لیے کہ قرآن سن لینے کے بعد اپنے سردار کی سفاہت ان پر واضح ہو گئی۔ ’شَطَطٌ‘ حق و عدل سے نہایت دور ہٹی ہوئی بات کو کہتے ہیں۔ جنوں پر جب توحید کی حقیقت واضح ہو گئی تو انھوں نے اپنی قوم کو آگاہ کیا کہ ہمارا بدھو سردار اللہ تعالیٰ جل شانہٗ پر حق سے نہایت دور ہٹی ہوئی یہ تہمتیں جڑتا رہا ہے کہ اس کے بیوی بھی ہے اور اولاد بھی ہے، فلاں اور فلاں اس کے بیٹے اور فلاں اور فلاں اس کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ہم نے جو قرآن سنا ہے اس سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ہمارے احمق سردار کی یہ باتیں بالکل بے بنیاد تھیں۔ چنانچہ ہم نے ان خرافات سے توبہ کر لی اور ہم قوم کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ لوگ اس طرح کی باتوں سے توبہ کریں اور اس سفیہ کے چکمے میں نہ آئیں۔ اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ جنات عوام کے طبقہ سے تھے۔ ان کے سردار جس ڈگر پر ان کو چلاتے رہے اس پر وہ چلتے رہے لیکن جب ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی تو انھوں نے پوری ایمانی جرأت سے ان کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردنوں سے نکال پھینکا اور اللہ کی بنائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے قریش کے عوام کو یہ باتیں اس لیے سنائی گئیں کہ ان کے اندر بھی اپنے احمق لیڈروں کے پھندے سے نکلنے اور اپنی عقل و بصیرت پر اعتماد کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔
    اور یہ کہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن خدا پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتے۔
    مغالطہ پر تنبیہ: یہ اس مغالطہ کی طرف اشارہ ہے جس کے سبب سے وہ اپنے ان سرداروں کے چکر میں پھنسے رہے۔ کہا کہ ہم نے گمان کیا کہ بھلا انسان اور جنات اللہ تعالیٰ پر یہ تہمت باندھنے کی جسارت کس طرح کر سکتے ہیں کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا اور ان کو مستحق عبادت ٹھہرایا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ جسارت کی اور ہم اپنی سادگی کے سبب سے ان کے چکموں میں آ گئے۔ یہ ان کی طرف سے اپنی قوم کے عوام کو آگاہی ہے کہ اپنے ان پروہتوں کے تقدس کے فریب میں مبتلا ہو کر اپنی عقل کو معطل نہ رکھ چھوڑو بلکہ اپنی سمجھ سے کام لو۔ ایسا نہ ہو کہ مچھلی کے نام سے یہ تمہیں سانپ پکڑا دیں۔
    اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو جنوں میں سے بعض کی دہائی دیتے رہے ہیں تو انھوں نے ان کی شامت ہی میں اضافہ کیا۔
    انسانوں کی بعض حماقتوں کی طرف اشارہ: اسی سلسلہ میں انھوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنا یہ انکشاف بھی بیان کیا کہ اس قرآن سے ہمیں یہ علم بھی ہوا کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ افراد کی دہائی دیتے رہے ہیں لیکن اس سے ان کو کچھ نفع پہنچنے کے بجائے ان کی شامت اور بدبختی ہی میں اضافہ ہوا۔ ’رَہَقٌ‘ کے اصل معنی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کے ہیں۔ یہیں سے اس کا استعمال زیادتی، گناہ، حق تلفی اور تعدی کے معنی میں وسیع ہو گیا۔ چنانچہ آگے آیت ۱۳ میں یہ لفظ تعدی کے معنی میں آیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے آیت کے معنی یہ لیے ہیں کہ کچھ بے وقوف انسانوں نے جنوں کی دہائی دے کر ان کے دماغ کو عرش پر پہنچا دیا ہے، لیکن یہ تاویل صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اول تو اس کلام کا کچھ فائدہ سمجھ میں نہیں آتا ثانیاً لفظ ’رَہَقٌ‘ کے اصل مفہوم سے اس میں تجاوز بھی ہے۔ میرے نزدیک ’زَادُوْا‘ کا فاعل ’رِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ‘ اور ’ہم‘ کا مرجع ’رِجَالٌ مِّنَ الْإِنۡسِ‘ ہے یعنی بے وقوف انسانوں نے تو جنوں کی پناہ اس لیے ڈھونڈی کہ وہ ان کی آفتوں سے اپنے کو بچائیں لیکن جنوں نے جب دیکھا کہ کچھ انسان ان کے جال میں پھنسے ہیں تو انھوں نے اپنے شر سے محفوظ رکھنے کے بجائے ان کو اور تگنی کا ناچ نچایا۔ عرب کے مشرکین میں جنات سے متعلق یہ وہم تھا کہ وہ غیب کی خبریں معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں چنانچہ اسی چیز نے ان کے ہاں کہانت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا جس کی بنیاد تمام تر، جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، جھوٹ اور فریب پر تھی۔ کاہن اپنے جال میں پھنسے ہوئے بے وقوفوں میں سے جس کو ڈرا دیتے کہ فلاں خطرناک جن تم پر بہت برہم ہے، اگر تم نے اس کے لیے فلاں چیز کی قربانی یا اتنی نذر نہ گزرانی تو وہ آفت میں مبتلا کر دے گا تو وہ لازماً ان کے حکم کی تعمیل کرتا۔ یہاں تک کہ انہی کاہنوں کے حکم سے بعض بے وقوف لوگ جنوں کو راضی کرنے کے لیے اپنی اولاد تک کو، جیسا کہ سورۂ انعام میں ذکر ہے، قربان کر دیتے۔ اسی نوع کا ایک دوسرا وہم یہ پایا جاتا تھا کہ ہر وادی اور ہر پہاڑی جنوں کے کسی خاص گروہ کا مسکن ہوتی ہے۔ اگر اس وادی میں رات گزارنے کی نوبت آئے تو ضروری ہے کہ اس کے سردار جن کی پناہ حاصل کر لی جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ کسی آفت میں مبتلا کر دے۔ چنانچہ دور جاہلیت میں اہل عرب جب کسی وادی میں شب گزارتے تو اس وادی کے سردار جن کی دہائی دے کر، اپنے گمان کے مطابق، اس کی پناہ حاصل کر لیتے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک خواہ مخواہ کی مصیبت تھی جس میں جنوں کے وہم نے ان کو مبتلا کر رکھا تھا۔ اسی طرح کی باتوں کی طرف ان مومن جنوں نے اشارہ کیا ہے اور ان کا مقصود یہ دکھانا ہے کہ توحید کے شعور سے محرومی کے باعث بے وقوف اور شریر جنوں میں کس طرح گٹھ جوڑ رہا ہے اور اس سے کیا کیا روحانی و مادی مفاسد ظہور میں آ رہے تھے جن کے سدباب کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ کتاب نازل فرمائی ہے۔ لفظ ’رِجَالٌ‘ کی تنکیر تحقیر اور تفخیم دونوں پر دلیل ہو سکتی ہے۔ آپ یہ معنی بھی لے سکتے ہیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ بے وقوف ہمارے اندر کے کچھ بے وقوفوں کی دہائی دیتے تھے اور یہ معنی بھی لے سکتے ہیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ شریر ہمارے اندر کے کچھ شریروں کی دہائی دیتے تھے بلکہ یہ معنی بھی اگر لیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ احمق ہمارے اندر کے کچھ شریروں کی دہائی دیتے ہیں تو یہ بھی عربیت کے خلاف نہیں ہو گا۔
    اور یہ کہ انھوں نے بھی تمہاری ہی طرح یہ گمان کیا کہ اللہ کسی کو مرنے کے بعد زندہ کرنے والا نہیں ہے۔
    توحید کے بعد قیامت کا حوالہ: توحید کے بعد یہ قیامت کے باب میں انھوں نے دونوں گروہوں کی غلط فہمی کی طرف اشارہ کیا کہ جس طرح تم اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو زندہ نہیں کرے گا اسی طرح انسان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن لوگوں کی اس غلط فہمی کو بھی دور کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ جس طرح تمہارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر بھیجنے والا نہیں ہے اسی طرح انسانوں کے اندر یہ بھی غلط فہمی موجود تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے نزول نے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا۔ اگرچہ آیت کے الفاظ کے اندر یہ معنی لینے کی گنجائش موجود ہے لیکن یہ بات کھٹکتی ہے کہ قرآن کے اولین مخاطبوں میں، خواہ بنی اسماعیل ہوں یا بنی اسرائیل، پچھلی پیشین گوئیوں کی بنا پر ایک رسول کی بعثت کا انتظار تھا۔ اگرچہ اہل کتاب نے ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کا انکار نہ کر سکے۔ بنی اسماعیل کے اندر، ان کی امیت کے سبب سے، اس رسول کا تصور کچھ واضح نہیں تھا لیکن قطعیت کے ساتھ انکار انھوں نے بھی نہیں کیا۔ چنانچہ قرآن کے بعض مقامات میں ان کو ملامت فرمائی گئی ہے کہ رسول کی بعثت سے پہلے پہلے تو تم بڑھ چڑھ کر دعویٰ کرتے تھے کہ تمہارے اندر اللہ نے کوئی رسول بھیجا تو تم اس کی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرنے والے اور اس کی ہدایت پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے بنو گے لیکن جب اللہ نے اس نعمت سے تمہیں نوازا تو تم اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    اور ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا۔
    ایک نئے تجربے کا حوالہ: یہ انھوں نے اپنے ایک خاص تجربہ کا حوالہ دیا جو اس کتاب کے نزول کے دور میں بالکل پہلی بار اس کائنات کے نظام میں ان کو ہوا۔ انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ اس دوران میں ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ آسمان زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے جو بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی اب اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان فرمائی گئی ہے کہ شیاطین جن عالم غیب کی باتیں اچکنے کے لیے جب گھات لگاتے ہیں تو ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ جنوں کے اس ذاتی تجربہ سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے اور مزید برآں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے تو گھات لگانے کی کچھ گنجائش تھی لیکن جس دور کا وہ یہ تجربہ بیان کر رہے ہیں اس دور میں آسمان کا ہر گوشہ پہرہ داروں اور شہابوں سے اس طرح بھر دیا گیا تھا کہ جنوں کے لیے دراندازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ جنوں نے کائنات میں اس اہم تغیر کا ذکر تو کیا لیکن قوم کے سامنے اس کا کوئی سبب وہ نہیں بتا سکے۔ اس کی وجہ آگے کی آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس اہم تبدیلی کی حکمت ان پر اچھی طرح واضح نہیں تھی۔ تاہم نزول قرآن کے واقعہ کے ساتھ اس واقعہ کو ملا کر انھوں نے لوگوں کو یہ تاثر دے دیا کہ آسمان کے نظام میں یہ تبدیلی بھی قرآن کے نزول ہی سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔ ہمارے نزدیک ان کا یہ قیاس صحیح تھا۔ قران کے متعدد مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسمان میں جو پہرا اس کو شیاطین کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے وہ نزول وحی کے زمانے میں نہایت سخت کر دیا گیا تھا تاکہ ان کو وحی میں کسی دراندازی کی راہ نہ ملے۔ یوں تو یہ پہرا ہمیشہ ہی رہا ہے۔ نزول قرآن سے پہلے بھی شیاطین پر شہابوں کی مار پڑتی رہی ہے لیکن جس طرح حکومتیں اس شاہراہ کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دیتی ہیں جس پر سے شاہی خزانہ لے جایا جانے والا ہو یا بادشاہ کی سواری گزرنے والی ہو اسی طرح وحی کے نزول اور جبریل امینؑ کی آمد و شد کے دور میں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دی گئی تھی تاکہ اچکوں کی ہر راہ مسدود ہو جائے۔ جنوں کی اس اطلاع کا ذکر قرآن نے یہاں مشرکین عرب کے سامنے اس لیے کیا ہے کہ وہ قرآن پر یہ الزام جو لگاتے ہیں کہ یہ کاہنوں کے طرز کا کلام ہے جو نعوذ باللہ کوئی جن پیغمبرؐ پر القاء کرتا ہے۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کی تردید کے لیے خود جنوں کا یہ بیان کافی ہے کہ اس دور میں آسمان سے کوئی خبر لانا تو درکنار اس کے اندر ان کے جو ٹھکانے تھے اب ان تک پہنچنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
    اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں کچھ سن گن لینے کو بیٹھا کرتے تھے پر اب جو بیٹھے گا تو وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔
    ایک نئے تجربے کا حوالہ: یہ انھوں نے اپنے ایک خاص تجربہ کا حوالہ دیا جو اس کتاب کے نزول کے دور میں بالکل پہلی بار اس کائنات کے نظام میں ان کو ہوا۔ انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ اس دوران میں ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ آسمان زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے جو بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی اب اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان فرمائی گئی ہے کہ شیاطین جن عالم غیب کی باتیں اچکنے کے لیے جب گھات لگاتے ہیں تو ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ جنوں کے اس ذاتی تجربہ سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے اور مزید برآں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے تو گھات لگانے کی کچھ گنجائش تھی لیکن جس دور کا وہ یہ تجربہ بیان کر رہے ہیں اس دور میں آسمان کا ہر گوشہ پہرہ داروں اور شہابوں سے اس طرح بھر دیا گیا تھا کہ جنوں کے لیے دراندازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ جنوں نے کائنات میں اس اہم تغیر کا ذکر تو کیا لیکن قوم کے سامنے اس کا کوئی سبب وہ نہیں بتا سکے۔ اس کی وجہ آگے کی آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس اہم تبدیلی کی حکمت ان پر اچھی طرح واضح نہیں تھی۔ تاہم نزول قرآن کے واقعہ کے ساتھ اس واقعہ کو ملا کر انھوں نے لوگوں کو یہ تاثر دے دیا کہ آسمان کے نظام میں یہ تبدیلی بھی قرآن کے نزول ہی سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔ ہمارے نزدیک ان کا یہ قیاس صحیح تھا۔ قران کے متعدد مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسمان میں جو پہرا اس کو شیاطین کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے وہ نزول وحی کے زمانے میں نہایت سخت کر دیا گیا تھا تاکہ ان کو وحی میں کسی دراندازی کی راہ نہ ملے۔ یوں تو یہ پہرا ہمیشہ ہی رہا ہے۔ نزول قرآن سے پہلے بھی شیاطین پر شہابوں کی مار پڑتی رہی ہے لیکن جس طرح حکومتیں اس شاہراہ کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دیتی ہیں جس پر سے شاہی خزانہ لے جایا جانے والا ہو یا بادشاہ کی سواری گزرنے والی ہو اسی طرح وحی کے نزول اور جبریل امینؑ کی آمد و شد کے دور میں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دی گئی تھی تاکہ اچکوں کی ہر راہ مسدود ہو جائے۔ جنوں کی اس اطلاع کا ذکر قرآن نے یہاں مشرکین عرب کے سامنے اس لیے کیا ہے کہ وہ قرآن پر یہ الزام جو لگاتے ہیں کہ یہ کاہنوں کے طرز کا کلام ہے جو نعوذ باللہ کوئی جن پیغمبرؐ پر القاء کرتا ہے۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کی تردید کے لیے خود جنوں کا یہ بیان کافی ہے کہ اس دور میں آسمان سے کوئی خبر لانا تو درکنار اس کے اندر ان کے جو ٹھکانے تھے اب ان تک پہنچنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
    اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ زمین والوں کے لیے کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے۔
    اہل زمین کے لیے ایک مبارک قِران کی طرف اشارہ: ان جنوں پر نظام کائنات میں اس اہم تبدیلی کی اصل علت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اچھی طرح واضح نہیں تھی اس وجہ سے انھوں نے اس کی کوئی قطعی وجہ بیان کرنے کے بجائے اس پر صرف اپنے تردد کا اظہار کیا کہ اگرچہ اس کا سبب ہم پر واضح نہیں ہے تاہم یہ زمین میں کسی اہم انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ انقلاب اہل زمین کے لیے سبب شر ہو گا یا اس میں ان کے رب کی طرف سے کوئی بڑا خیر مضمر ہے تو اس کا فیصلہ مستقبل کرے گا۔ اگرچہ انھوں نے بربنائے احتیاط اپنی رائے واضح نہیں کی لیکن اسلوب کلام شاہد ہے کہ اہل زمین کے لیے انھوں نے اس کو ایک فال نیک سمجھا۔ چنانچہ شر کا ذکر تو انھوں نے مجہول کے اسلوب میں کیا لیکن رشد و ہدایت کی توقع کا ذکر بصیغۂ معروف ’اَمْ أَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا‘ کے الفاظ سے کیا۔ ان دونوں اسلوبوں میں اللہ تعالیٰ کے لیے ادب و احترام کے پہلو سے جو فرق ہے اس کی وضاحت سورۂ کہف کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔ یہاں خاص طور پر جو بات نگاہ میں رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کا ظن غالب یہ نہ ہوتا کہ اس میں اہل زمین کے لیے خیر ہے تو اس دوسرے فقرے کو بھی پہلے فقرے کی طرح مجہول کے مبہم اسلوب ہی میں کہتے۔ لیکن قرآن اور اس تبدیلی کو پہلو بہ پہلو دیکھ کر ان کا ذہن اسی طرف گیا کہ یہ دونوں واقعے اہل زمین کے لیے ایک ہی نوع کے ہیں اور یہ قِرانُ السعدین کی حیثیت رکھتے ہیں۔
    اور یہ کہ ہم میں بھی نیک اور اس سے مختلف قسم کے لوگ ہیں، ہماری راہیں الگ الگ ہیں۔
    وصل و فصل کی بنیاد ایمان و عمل پر ہونی چاہیے: یعنی اب تک تو نیکی اور بدی کے درمیان ہماری نگاہوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ برے اور بھلے دونوں ہماری نظروں میں یکساں تھے لیکن اس قرآن نے ہمارا یہ مغالطہ دور کر دیا ہے اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ہم میں سب ایک ہی راہ پر چلنے والے نہیں ہیں بلکہ ہمارے طریقے اور راہیں الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ ہم اس فرق کو ملحوظ رکھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان وصل و فصل کی بنیاد ایمان اور کفر کو ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو ہماری قوم اور قبیلہ کا ہے وہ ہمارا ہے، خواہ وہ کافر ہو یا مومن، نیک ہے یا بد۔ یہ گویا انھوں نے اپنی قوم کے ان لوگوں سے اعلان براء ت کیا ہے جو ان کی اس دعوت ایمان کے بعد بھی اپنے کفر و شرک پر اڑے رہنے کے لیے ضد کریں۔ اس طرح کا اعلان تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوموں کے سامنے کیا اور ہر دور کے مصلحین نے بھی انبیاء علیہم السلام کی اس سنت کی پیروی کی جس کی ایک واضح مثال اصحاب کہف کا رویہ ہے جو سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے۔ ’طَرَائِقُ‘ کے معنی راستے اور مسلک و مذہب کے ہیں اور ’قِدَدٌ‘ کے معنی متفرق کے۔
    اور یہ کہ ہم نے مان لیا کہ ہم اللہ کے قابو سے نہ زمین میں کہیں جا کر نکل سکتے اور نہ آسمان میں کہیں بھاگ کر۔
    انسان ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہے: دعوت کے بعد یہ انھوں نے اپنی قوم کو انذار کیا کہ ہم پر یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی ہے کہ ہر وقت ہم خدا کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ وہ جب چاہے ہمیں پکڑ سکتا ہے۔ نہ ہم زمین میں کہیں چھپ کر اس کی گرفت سے بچ سکتے اور نہ آسمانوں میں کہیں بھاگ کر اس کے قابو سے نکل سکتے۔ اس آیت میں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق، بعض مقابل الفاظ محذوف ہیں جو قرینہ سے سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً پہلے ٹکڑے میں ’فِی الْأَرْضِ‘ ظاہر کیا گیا تو دوسرے ٹکڑے میں ’فِی السَّمَآءِ‘ حذف کر دیا گیا۔ اسی طرح دوسرے میں ’ہَرَبًا‘ کا لفظ آیا تو پہلے ٹکڑے میں اس کا مدمقابل حذف ہو گیا۔ ترجمے میں یہ محذوفات ہم نے کھول دیے ہیں۔ اردو میں یہ اسلوب غیر معروف ہے اس وجہ سے محذوفات کھولے بغیر مطلب ادا نہیں ہوتا۔
    اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کی بات سنی ہم اس پر ایمان لائے۔ پس جو اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہو گا نہ کسی زیادتی کا۔
    ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی: یہ قوم کے سامنے انھوں نے اپنی مثال پیش کی ہے کہ جب یہ ہدایت بخش دعوت ہمارے کانوں میں پڑی تو ہم نے اپنے اوپر یہ واجب سمجھا کہ اس کی قدر کریں چنانچہ ہم اس پر ایمان لائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہی روش ان تمام لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے جن کے اندر حق و ہدایت کے لیے احترام موجود ہے جو لوگ اس سے بھاگیں گے ان کا اعراض گواہی دے گا کہ وہ اپنی عقل کے بجائے اپنی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ ’فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَہَقًا‘۔ ’بَخْسٌ‘ کے معنی کمی کرنے اور ’رَہَقٌ‘ کے معنی، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی ہے، زیادتی کرنے کے ہیں۔ یہی مضمون معمولی تغیر کے ساتھ ’فَلَا یَخَافُ ظُلْمًا وَلَا ہَضْمًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۱۲) کے الفاظ میں بھی ادا ہوا ہے۔ یہ انھوں نے دعوت ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں گے وہ اطمینان رکھیں کہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کا بھرپور صلہ دے گا، نہ ان کو کسی حق تلفی کا اندیشہ ہو گا نہ کسی تعدی کا۔ جو کچھ جس نے کیا ہو گا وہی اس کے سامنے آئے گا۔ ’فَمَنۡ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْرًا یَرَہٗ ۵ وَمَنۡ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ‘ (الزلزال ۹۹: ۷-۸)
    اور یہ کہ ہم میں فرماں بردار بھی ہیں اور بے راہ بھی تو جنھوں نے فرماں برداری کی روش اختیار کی انھوں نے ہدایت کی راہ ڈھونڈی۔
    خیر اور شر میں امتیاز کا بدیہی نتیجہ: یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت بھی ہمارے اندر ودیعت فرمائی ہے، اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے خیر اور شر دونوں کو اچھی طرح اجاگر بھی کر دیا ہے اور ایک امر واقعی کی حیثیت سے ہم اس صورت حال کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے اندر خدا کے فرماں بردار اور نافرمان دونوں قسم کے لوگ ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ دونوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ نہ کرے بلکہ جو اس کی اطاعت کی راہ اختیار کرنے والے ہوں وہ تو اس کے صلے میں جنت کے حق دار ٹھہریں اور جو حق سے منحرف ہوں وہ جہنم کے ایندھن بنیں۔ حق و باطل میں یہ امتیاز اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کا لازمی تقاضا ہے۔ ورنہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس کے خلق کے نزدیک معاذ اللہ نیکی اور بدی دونوں یکساں ہیں۔
    اور جو بے راہ ہوئے تو وہ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔
    خیر اور شر میں امتیاز کا بدیہی نتیجہ: یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت بھی ہمارے اندر ودیعت فرمائی ہے، اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے خیر اور شر دونوں کو اچھی طرح اجاگر بھی کر دیا ہے اور ایک امر واقعی کی حیثیت سے ہم اس صورت حال کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے اندر خدا کے فرماں بردار اور نافرمان دونوں قسم کے لوگ ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ دونوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ نہ کرے بلکہ جو اس کی اطاعت کی راہ اختیار کرنے والے ہوں وہ تو اس کے صلے میں جنت کے حق دار ٹھہریں اور جو حق سے منحرف ہوں وہ جہنم کے ایندھن بنیں۔ حق و باطل میں یہ امتیاز اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کا لازمی تقاضا ہے۔ ورنہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس کے خلق کے نزدیک معاذ اللہ نیکی اور بدی دونوں یکساں ہیں۔
    اور مجھے وحی آئی ہے کہ اگر یہ (قریش) سیدھی راہ پر گامزن رہتے تو ہم ان کو خوب خوب سیراب کرتے۔
    کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف: جنوں کے تاثرات و اقوال کا حوالہ دینے کے بعد یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ گیا۔ پہلی آیت میں لفظ ’قُلْ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ قرآن اور اس کی دعوت کے متعلق جنوں کی یہ باتیں آپ قریش کے ناقدروں اور مغروروں کو پہنچا دیں۔ اس کے بعد اب براہ راست قریش کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ صراط مستقیم پر استوار رہتے تو یہ خسارے کا سودا نہیں تھا بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی راہ یہی ہے۔ ہم اس کے صلے میں ان پر اپنی رحمت کی گھٹائیں برساتے۔ ’مَآءٌ غَدَقٌ‘ کے لغوی معنی تو وافر پانی کے ہیں لیکن عربی میں یہ تعبیر ہے رزق و فضل کے بہتات کی۔ اس کی مثالیں پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہیں۔ سابق سورہ میں فرمایا ہے: اِسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ۵ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْْکُمۡ مِّدْرَارًا ۵ وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ وَیَجْعَل لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَل لَّکُمْ أَنْہَارًا (نوح ۷۱: ۱-۱۲) ’’اپنے رب سے مغفرت مانگو۔ وہ نہایت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر اپنے ابرکرم کے دونگڑے برسائے گا اور مال و اولاد سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تمہارے لیے باغ بھی پیدا کرے گا اور نہریں بھی جاری کرے گا۔‘‘ یہ قریش کے اس وہم کا ازالہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خوش حالی کو اپنے بتوں کا فیض سمجھتے اور ڈرتے ہیں کہ اگر قرآن کی دعوت انھوں نے قبول کر لی تو مال و اولاد کی جس فراوانی سے وہ بہرہ مند ہیں اس سے محروم ہو جائیں گے۔ فرمایا کہ یہ ان کی نادانی ہے کہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو انھوں نے اپنے فرضی دیوتاؤں سے منسوب کر رکھا ہے۔ یہ نعمتیں سب اللہ کی عنایت کردہ ہیں اور اس نے ان کی ناشکریوں کے باوجود جب ان سے ان کو بہرہ مند کیا تو شکرگزاری کی روش اختیار کرنے کے بعد بدرجۂ اولیٰ نہ صرف ان کو باقی رکھے گا بلکہ اس میں افزونی فرمائے گا۔ توحید کی راہ ایک جانی پہچانی راہ ہے: ’عَلَی الطَّرِیْقَۃِ‘ سے مراد توحید کی صراط مستقیم ہے۔ اس کا ذکر اس طرح فرمایا ہے کہ گویا یہ ایک جانی پہچانی راہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اس لیے کہ انسان کی فطرت اس کی گواہ ہے۔ عقل اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے، آفاق و انفس اس کی گواہی دے رہے اور اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں نے اسی راہ کی دعوت دی ہے۔  
    کہ ہم اس میں ان کو آزمائیں اور جو اپنے رب کی یاددہانی سے منہ موڑیں گے تو وہ ان کو چڑھتے عذاب میں داخل کرے گا۔
    ایک برسر موقع تنبیہ: یہ برسر موقع ایک تنبیہ ہے کہ اس دنیا میں ہم رزق و فضل سے کسی کو جو بہرہ مند کرتے ہیں تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ وہ خدا کا منظور نظر ہے بلکہ اس سے مقصود اس کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں پا کر اس کا شکرگزار اور فرماں بردار رہتا ہے یا ناشکرا اور مغرور و متکبر بن جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کے یہ مغرور لیڈر اس واضح حقیقت کو فراموش کر بیٹھے۔ انھوں نے ان نعمتوں کو اپنا موروثی حق جانا اور اس غرور کے نشہ میں انھوں نے اس یاددہانی سے منہ موڑا جو اللہ نے ان کو راہ راست دکھانے کے لیے نازل فرمائی۔ ’وَمَنْ یُعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا‘۔ یہ اسی کے ساتھ کی دوسری تنبیہ ہے کہ اس دنیا کے غرور میں مبتلا ہو کر جو لوگ اپنے رب کی یاددہانی سے منہ موڑیں گے وہ یاد رکھیں کہ اللہ ان کو ایک ایسے عذاب میں داخل کرے گا جو برابر ترقی ہی کرتا رہے گا۔ ’ذِکْرٌ‘ سے مراد یہاں قرآن ہے جس کی ناقدری پر قریش کو اوپر کی آیات میں ملامت کی گئی ہے۔ یہ لفظ قرآن کے لیے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ ’عَذَابًا صَعَدًا‘ کے معنی لوگوں نے عام طور پر، ’عذاب شدید‘ کے لیے ہیں لیکن لفظ ’صَعَدٌ‘ کا اصل مفہوم ترقی کرنا ہے۔ اس وجہ سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس میں اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اپنی کتاب کی تکذیب کی پاداش میں جن کو پکڑتا ہے ان کی سزا وقتی اور ہنگامی نہیں ہوتی بلکہ اس میں برابر ترقی ہی ہوتی رہتی ہے۔ اس دنیا میں جس عذاب سے وہ دوچار ہوتے ہیں اس سے بڑے عذاب سے ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا اور پھر آگے ان کے عذاب کی شدت میں ترقی ہی ہوتی رہے گی۔ اس کے ختم یا اس میں بالتدریج کمی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List