Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الجن (The Spirits, The Jinn, The Demons)

    28 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ نوح ۔۔۔ کی توام سورہ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قوم نوح کے لیڈروں نے جس ضد و مکابرت کا مظاہرہ کیا، پیغمبر کی دعوت سے جس طرح انھوں نے اپنے کان بند کر لیے اور پھر اس کا جو انجام ان کے سامنے آیا اس کی نہایت ہی مؤثر اور عبرت انگیز تصویر قریش کے لیڈروں کے سامنے سورۂ نوح میں رکھ دی گئی ہے۔ اب اس سورہ میں ان کو یہ دکھایا جا رہا ہے کہ جس قرآن سے وہ اس درجہ بیزار ہیں کہ اس کو سن کر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے، منہ نوچ لینے کو جھپٹتے اور دامن جھاڑ کے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اسی کو سن کر جنوں کی ایک جماعت اس قدر اثر پذیر ہوتی ہے کہ وہ فوراً اپنی قوم کے اندر اس کی دعوت پھیلانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ جنوں کے جس واقعہ کا حوالہ یہاں ہے اس کا ذکر سورۂ احقاف کی آیات ۲۹-۳۲ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے ذکر کیا ہے کہ اس کو سنانے سے مقصود ایک تو قریش کو غیرت دلانا ہے کہ جنات، جو قرآن کے براہ راست مخاطب بھی نہیں ان کا حال تو یہ ہے کہ کبھی سر راہے بھی ان کے کانوں میں اس کی بھنک پڑ گئی ہے تو وہ اس کو سن کر تڑپ اٹھے اور ایک تم ہو کہ خاص تمہارے ہی لیے یہ اترا اور تمہی کو اس کی دعوت دینے کے لیے اللہ کا رسول اپنے رات دن ایک کیے ہوئے ہے لیکن تم ایسے بدقسمت ہو کہ اس کی کسی بات کا تمہارے دلوں میں اترنا تو درکنار تم اس کے سنانے والوں کے جانی دشمن بن گئے ہو۔ دوسرا مقصد اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ اگر آپ کی قوم کے اشرار اس قرآن کی ناقدری کر رہے ہیں تو آپ اس سے آزردہ خاطر نہ ہوں۔ جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں وہ اس سے فیض یاب نہیں ہوں گے، خواہ آپ کتنے ہی جتن کریں۔ البتہ جن کے اندر کچھ صلاحیت ہو گی ان کے کانوں میں اگر اتفاق سے بھی اس کے کچھ کلمات پڑ جائیں گے تو وہ ان کے اندر گھر کر لیں گے، خواہ وہ اس کے مخاطب ہوں یا نہ ہوں اور خواہ ان کو سنانے کے لیے کوئی اہتمام کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔

    جنوں کے جس تاثر کا اس سورہ میں حوالہ دیا گیا ہے اس سے اگرچہ وہ لوگ متاثر نہیں ہوں گے جو صرف محسوسات کے غلام ہیں اور جو ان چیزوں کے سرے سے وجود ہی کے منکر ہیں جو ان کے محسوسات کے دائرہ سے باہر ہیں لیکن اس طرح کے لوگ یہاں مخاطب بھی نہیں ہیں۔ یہاں مخاطب مشرکین قریش ہیں جو اتنے بلید نہیں تھے کہ صرف انہی چیزوں کو مانیں جنھیں چھوتے اور دیکھتے ہوں۔ وہ جنوں کو نہ صرف مانتے تھے بلکہ ان سے رابطہ رکھنے کے لیے انھوں نے کہانت کا پورا نظام قائم کر رکھا تھا اس وجہ سے قرآن نے ایک اہم واقعہ کی حیثیت سے ان کو جنوں کے یہ تاثرات سنائے کہ وہ چاہیں تو اس سے فائدہ اٹھائیں۔ کاہنوں کے واسطے سے وہ جنوں کے اشرار کی القاء کی ہوئی جھوٹی خبریں سنتے تھے۔ قرآن نے ان کے سامنے ان کے اخیار کی ایک سچی رپورٹ رکھی تاکہ جن کے اندر خیر و شر میں امتیاز کی کچھ صلاحیت ہے وہ اس سے ایمان کی طرف رہبری حاصل کریں۔ قرآن نے غیب کے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ اسی مقصد سے بیان کیے ہیں کہ حق کے طالب ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگرچہ محسوسات پرست اس کو واہمہ کی خلاقی قرار دیں گے لیکن نااہلوں کی ناقدری کے سبب سے قدرت خلق کو اپنی فیض بخشی سے محروم نہیں کرتی۔

  • الجن (The Spirits, The Jinn, The Demons)

    28 آیات | مکی
    نوح - الجن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ قوم نوح کی سرگذشت کے آئینے میں قرآن کے انذار اور اُس کے نتائج کی جو تصویر دکھاتی ہے، دوسری اُسی کے اثبات میں جنوں کی شہادت پیش کرتی اور قریش کو اِس کے بارے میں اپنے رویے پر نظرثانی کی دعوت دیتی ہے۔

    اِس لحاظ سے دیکھیے تو سورۂ حاقہ میں جو مضمون اِس سے پہلے ’مَا تُبْصِرُوْنَ‘ اور ’مَا لَا تُبْصِرُوْنَ‘ کے الفاظ میں بالاجمال بیان ہوا ہے، یہ دونوں سورتیں بالترتیب اُسی کی تفصیل ہیں۔

    دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — نوح — کا موضوع قریش کے لیے رسولوں کی دعوت اور اُس کے مختلف مراحل کی وضاحت کرنا اور اُس کے اُن نتائج سے اُنھیں خبردار کرنا ہے جو سنت الٰہی کے مطابق اُسے نہ ماننے والوں کے لیے لازماً نکلتے ہیں۔

    دوسری سورہ — الجن — کا موضوع جنوں کی شہادت سے قرآن مجید اور اُس کی حقانیت قریش پر ثابت کرنا اور اُنھیں یہ سمجھانا ہے کہ جس عذاب کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں، اُس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ خدا کے پیغمبر عذاب کا وقت بتانے کے لیے نہیں، خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔ وہ خدا سے عذاب نہیں، بلکہ اُس کی رحمت چاہیں۔ اِس کے لیے پیغمبر کے مقابلے میں سرکشی اور تمرد کا رویہ چھوڑ کر اُس کی دعوت پر لبیک کہیں اور خدا کے گھر میں خدا ہی کی عبادت کریں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 072 Verse 001 Chapter 072 Verse 002 Chapter 072 Verse 003 Chapter 072 Verse 004 Chapter 072 Verse 005 Chapter 072 Verse 006 Chapter 072 Verse 007 Chapter 072 Verse 008 Chapter 072 Verse 009 Chapter 072 Verse 010 Chapter 072 Verse 011 Chapter 072 Verse 012 Chapter 072 Verse 013 Chapter 072 Verse 014 Chapter 072 Verse 015 Chapter 072 Verse 016 Chapter 072 Verse 017 Chapter 072 Verse 018 Chapter 072 Verse 019 Chapter 072 Verse 020 Chapter 072 Verse 021 Chapter 072 Verse 022 Chapter 072 Verse 023 Chapter 072 Verse 024 Chapter 072 Verse 025 Chapter 072 Verse 026 Chapter 072 Verse 027 Chapter 072 Verse 028
    Click translation to show/hide Commentary
    کہہ دو، مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کو سنا تو انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ ہم نے ایک نہایت دل پذیر قرآن سنا۔
    جنوں کے تاثرات کی اطلاع پیغمبرؐ کو وحی کے ذریعہ ہوئی: ’قُلْ اُوْحِیَ‘ کے الفاظ سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ جنوں کے جو تاثرات اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست جنوں کی زبانی نہیں بلکہ وحی الٰہی کے ذریعہ معلوم ہوئے۔ ان کی ایک جماعت نے سرِ راہے کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پڑھتے سنا جس کی کشش نے ان کے دلوں کو اس طرح موہ لیا کہ وہ اس کے سننے میں ہمہ تن محو ہو گئے اور پھر اس دل پذیر کلام سے اس قدر متاثر ہوئے کہ پلٹے تو اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوئے۔ واقعہ کو سنانے کا مقصد: یہ کس موقع کا ذکر ہے؟ اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ اسی واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی ذکر سورۂ احقاف میں ہوا ہے۔ وہاں روایات کی روشنی میں اس کے موقع و محل کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ جنوں کے ان تاثرات کی آپ کو اس لیے اطلاع دی گئی کہ اپنی قوم کو آپ سنا دیں کہ جس کلام بلاغت نظام کے ساتھ تمہارا سلوک یہ ہے کہ اس کو سن کر تم کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور اس کے سنانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہو درآنحالیکہ یہ کلام تمہارے ہی لیے اترا ہے، اس کلام کو سن کر ذی صلاحیت جنات اس طرح اس کے عاشق ہو جاتے ہیں کہ اپنی قوم کو اس کی دعوت دینے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ وہ براہ راست اس کے مخاطب بھی نہیں۔ لفظ ’قُلْ‘ اس بات پر دلیل ہے کہ جنوں کے ان تاثرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقصد سے آگاہ فرمایا گیا کہ آپ قریش کے لیڈروں کو یہ سنا دیں کہ ان کو کچھ غیرت آئے۔ ضمناً اس میں آپ کے لیے تسلی بھی ہے کہ نااہلوں کی ناقدری سے آپ آزردہ نہ ہوں۔ اگر یہ لوگ اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس میں قصور نہ اس کلام کا ہے نہ آپ کا بلکہ یہ خود ان لوگوں کے اپنے دلوں کے فساد کا نتیجہ ہے۔ جنوں کی دعوت اپنی قوم کو: ’فَقَالُوْا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا‘۔ یہ وہ دعوت ہے جو انھوں نے اس کلام کو سننے کے بعد اپنی قوم کو دی۔ یعنی اس کو سن کر وہ صرف واہ واہ کر کے نہیں رہ گئے بلکہ انھوں نے حق کی قدردانی اور اپنی قوم کی خیرخواہی کا یہ لازمی تقاضا سمجھا کہ جس نعمت آسمانی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند فرمایا اس سے وہ اپنی قوم کو بھی بہرہ مند کریں۔ ’عَجَبٌ‘ مصدر ہے اس وجہ سے ’عجیب‘ کے مقابل میں اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ لفظ انھوں نے اس کلام کی دل پذیری، اثر انگیزی اور حکمت آفرینی کے پہلو سے استعمال کیا۔ عربی میں یہ لفظ صرف کسی شے کے انوکھے پن کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ اس کی دل پذیری اور اثر انگیزی کے پہلو کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ اسی پہلو سے آیا ہے۔ سورۂ احقاف میں یہی بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: قَالُوْا یَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا کِتَابًا أُنۡزِلَ مِنۡ بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَہْدِیْ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ (الاحقاف ۴۶: ۳۰) ’’اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اپنے پہلے کی پیشین گوئیوں کی مصداق بنا کر نازل کی گئی ہے جو حق اور ایک بالکل سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔‘‘ اس سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جنات صرف اپنی ہی زبان نہیں بلکہ جس علاقہ سے وہ تعلق رکھتے ہیں اس علاقہ کے انسانوں کی زبان بھی سمجھتے ہیں اور ان کے اندر ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس زبان کے حسن و قبح کے اچھی طرح پرکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔  
    جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور اب ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔
    قرآن کی دعوت رُشد: یہ قرآن کی اسی دل پذیری کی وضاحت ہے جس کی طرف لفظ ’عجیب‘ اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی یہ کتاب اس حق و ہدایت کی طرف رہنمائی کر رہی ہے جس کو ہر سلیم الفطرت کا دل قبول کرتا ہے۔ سورۂ احقاف کی مذکورہ بالا آیت میں ’یَہْدِیْ إِلَی الْحَقِّ وَإِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں اسی مضمون کے لیے جامع لفظ ’رُشْدٌ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ ان تمام بنیادی عقائد اور نیکیوں پر حاوی ہے جو انسانی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔ انسان اپنے اختیار کے سوء اعمال سے اپنی فطرت بگاڑ نہ لے تو یہ اس کی رہنمائی صحیح سمت میں کرتی ہے اور اگر غفلت کے سبب سے ان پر کبھی حجاب بھی آ جاتا ہے تو وہ معمولی تذکیر و تنبیہ سے دور ہو جاتا ہے بشرطیکہ انسان نفس کی خواہشوں کی پیروی میں اس کی ناقدری نہ کرے۔ اس ’رُشْدٌ‘ میں سب سے اونچا مقام توحید کا ہے۔ تمام بنیادی عقائد و اعمال کا منبع بھی وہی ہے اور اسی پر ان کی صحت کا مدار بھی ہے۔ رشد کا حق: ’فَاٰمَنَّا بِہٖ‘۔ یہ انھوں نے اس ’رُشْدٌ‘ کا حق بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت سے ہمیں آگاہ فرمایا تو ہم نے اس کا یہ فطری حق سمجھا کہ ہم اس پر ایمان لائیں، چنانچہ ہم نے اس کو صدق دل سے قبول کر لیا۔ رشد کا سرچشمہ: ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘۔ تمام رشد کا سرنامہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، توحید ہی ہے چنانچہ انھوں نے اس رشد پر ایمان کا تقاضا یہ بیان کیا کہ اب ہمارے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ ہم کسی کو اپنے رب کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ تمام بنیادی عقائد اور نیکیاں نہ صرف انسانوں اور جنوں کے درمیان مشترک ہیں بلکہ قرآن میں یہ وضاحت ہے کہ یہ تمام کائنات میں مشترک ہیں۔ ہمارے اور جنوں کے درمیان فرق ہے تو معاشرتی احکام میں ہے۔ توحید، معاد، جزا و سزا اور فضائل و رذائل میں فرق کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ چنانچہ انہی چیزوں کا یہاں ذکر آیا ہے اور قرآن نے مکی زندگی کے ابتدائی دور میں انسانی فطرت کے انہی ابتدائی مطالبات کی لوگوں کو دعوت بھی دی۔
    اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے، اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے نہ کوئی اولاد۔
    یہ انھوں نے اپنے قول ’وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‘ کی مزید وضاحت کر دی کہ اب ہم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی کہ ہمارے رب کی شان بیوی بچوں کی نسبتوں سے بالکل پاک اور نہایت ارفع ہے۔ نادان ہیں وہ لوگ جو اس طرح کی چیزیں اس سے منسوب کرتے ہیں۔ اس نے نہ اپنے لیے کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی اولاد۔ ’جد‘ کے معنی عظمت، شان اور رتبہ کے ہیں۔ یعنی اس کی ذات اتنی بلند ہے کہ کوئی چیز اس کی شریک و سہیم اور ہمہ رتبہ نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنی ذات میں بالکل یکتا، بے نیاز اور ہر چیز سے مستغنی ہے۔ کسی کا یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہم سر ہو سکے۔ یہ قول اگرچہ جنات ہی کا ہے اس وجہ سے اس کو ’فَقَالُوْا اِنَّا سَمِعْنَا‘ کے تحت ہی ہونا چاہیے تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں براہ راست نہیں بلکہ وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوئیں اس وجہ سے اس کو ’قُلْ اُوْحِیَ إِلَیَّ أَنَّہٗ‘ کے تحت کر دیا گیا اور آگے جنات کے سارے اقوال اسی کے تحت آئیں گے۔
    اور یہ کہ ہمارا بے وقوف (سردار) اللہ کے بارے میں حق سے بالکل ہٹی ہوئی باتیں کہتا رہا ہے۔
    سفیہ لیڈروں کی پیروی سے اجتناب کی دعوت: ’سَفِیْہٌ‘ کے معنی بے وقوف کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ جنوں نے اپنے سردار کے لیے استعمال کیا ہے اس لیے کہ قرآن سن لینے کے بعد اپنے سردار کی سفاہت ان پر واضح ہو گئی۔ ’شَطَطٌ‘ حق و عدل سے نہایت دور ہٹی ہوئی بات کو کہتے ہیں۔ جنوں پر جب توحید کی حقیقت واضح ہو گئی تو انھوں نے اپنی قوم کو آگاہ کیا کہ ہمارا بدھو سردار اللہ تعالیٰ جل شانہٗ پر حق سے نہایت دور ہٹی ہوئی یہ تہمتیں جڑتا رہا ہے کہ اس کے بیوی بھی ہے اور اولاد بھی ہے، فلاں اور فلاں اس کے بیٹے اور فلاں اور فلاں اس کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ہم نے جو قرآن سنا ہے اس سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ہمارے احمق سردار کی یہ باتیں بالکل بے بنیاد تھیں۔ چنانچہ ہم نے ان خرافات سے توبہ کر لی اور ہم قوم کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ لوگ اس طرح کی باتوں سے توبہ کریں اور اس سفیہ کے چکمے میں نہ آئیں۔ اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ جنات عوام کے طبقہ سے تھے۔ ان کے سردار جس ڈگر پر ان کو چلاتے رہے اس پر وہ چلتے رہے لیکن جب ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی تو انھوں نے پوری ایمانی جرأت سے ان کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردنوں سے نکال پھینکا اور اللہ کی بنائی ہوئی صراط مستقیم پر چل پڑے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے قریش کے عوام کو یہ باتیں اس لیے سنائی گئیں کہ ان کے اندر بھی اپنے احمق لیڈروں کے پھندے سے نکلنے اور اپنی عقل و بصیرت پر اعتماد کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔
    اور یہ کہ ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن خدا پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھ سکتے۔
    مغالطہ پر تنبیہ: یہ اس مغالطہ کی طرف اشارہ ہے جس کے سبب سے وہ اپنے ان سرداروں کے چکر میں پھنسے رہے۔ کہا کہ ہم نے گمان کیا کہ بھلا انسان اور جنات اللہ تعالیٰ پر یہ تہمت باندھنے کی جسارت کس طرح کر سکتے ہیں کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا اور ان کو مستحق عبادت ٹھہرایا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ جسارت کی اور ہم اپنی سادگی کے سبب سے ان کے چکموں میں آ گئے۔ یہ ان کی طرف سے اپنی قوم کے عوام کو آگاہی ہے کہ اپنے ان پروہتوں کے تقدس کے فریب میں مبتلا ہو کر اپنی عقل کو معطل نہ رکھ چھوڑو بلکہ اپنی سمجھ سے کام لو۔ ایسا نہ ہو کہ مچھلی کے نام سے یہ تمہیں سانپ پکڑا دیں۔
    اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو جنوں میں سے بعض کی دہائی دیتے رہے ہیں تو انھوں نے ان کی شامت ہی میں اضافہ کیا۔
    انسانوں کی بعض حماقتوں کی طرف اشارہ: اسی سلسلہ میں انھوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنا یہ انکشاف بھی بیان کیا کہ اس قرآن سے ہمیں یہ علم بھی ہوا کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ افراد کی دہائی دیتے رہے ہیں لیکن اس سے ان کو کچھ نفع پہنچنے کے بجائے ان کی شامت اور بدبختی ہی میں اضافہ ہوا۔ ’رَہَقٌ‘ کے اصل معنی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کے ہیں۔ یہیں سے اس کا استعمال زیادتی، گناہ، حق تلفی اور تعدی کے معنی میں وسیع ہو گیا۔ چنانچہ آگے آیت ۱۳ میں یہ لفظ تعدی کے معنی میں آیا ہے۔ عام طور پر لوگوں نے آیت کے معنی یہ لیے ہیں کہ کچھ بے وقوف انسانوں نے جنوں کی دہائی دے کر ان کے دماغ کو عرش پر پہنچا دیا ہے، لیکن یہ تاویل صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ اول تو اس کلام کا کچھ فائدہ سمجھ میں نہیں آتا ثانیاً لفظ ’رَہَقٌ‘ کے اصل مفہوم سے اس میں تجاوز بھی ہے۔ میرے نزدیک ’زَادُوْا‘ کا فاعل ’رِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ‘ اور ’ہم‘ کا مرجع ’رِجَالٌ مِّنَ الْإِنۡسِ‘ ہے یعنی بے وقوف انسانوں نے تو جنوں کی پناہ اس لیے ڈھونڈی کہ وہ ان کی آفتوں سے اپنے کو بچائیں لیکن جنوں نے جب دیکھا کہ کچھ انسان ان کے جال میں پھنسے ہیں تو انھوں نے اپنے شر سے محفوظ رکھنے کے بجائے ان کو اور تگنی کا ناچ نچایا۔ عرب کے مشرکین میں جنات سے متعلق یہ وہم تھا کہ وہ غیب کی خبریں معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں چنانچہ اسی چیز نے ان کے ہاں کہانت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا جس کی بنیاد تمام تر، جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، جھوٹ اور فریب پر تھی۔ کاہن اپنے جال میں پھنسے ہوئے بے وقوفوں میں سے جس کو ڈرا دیتے کہ فلاں خطرناک جن تم پر بہت برہم ہے، اگر تم نے اس کے لیے فلاں چیز کی قربانی یا اتنی نذر نہ گزرانی تو وہ آفت میں مبتلا کر دے گا تو وہ لازماً ان کے حکم کی تعمیل کرتا۔ یہاں تک کہ انہی کاہنوں کے حکم سے بعض بے وقوف لوگ جنوں کو راضی کرنے کے لیے اپنی اولاد تک کو، جیسا کہ سورۂ انعام میں ذکر ہے، قربان کر دیتے۔ اسی نوع کا ایک دوسرا وہم یہ پایا جاتا تھا کہ ہر وادی اور ہر پہاڑی جنوں کے کسی خاص گروہ کا مسکن ہوتی ہے۔ اگر اس وادی میں رات گزارنے کی نوبت آئے تو ضروری ہے کہ اس کے سردار جن کی پناہ حاصل کر لی جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ کسی آفت میں مبتلا کر دے۔ چنانچہ دور جاہلیت میں اہل عرب جب کسی وادی میں شب گزارتے تو اس وادی کے سردار جن کی دہائی دے کر، اپنے گمان کے مطابق، اس کی پناہ حاصل کر لیتے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی ایک خواہ مخواہ کی مصیبت تھی جس میں جنوں کے وہم نے ان کو مبتلا کر رکھا تھا۔ اسی طرح کی باتوں کی طرف ان مومن جنوں نے اشارہ کیا ہے اور ان کا مقصود یہ دکھانا ہے کہ توحید کے شعور سے محرومی کے باعث بے وقوف اور شریر جنوں میں کس طرح گٹھ جوڑ رہا ہے اور اس سے کیا کیا روحانی و مادی مفاسد ظہور میں آ رہے تھے جن کے سدباب کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ کتاب نازل فرمائی ہے۔ لفظ ’رِجَالٌ‘ کی تنکیر تحقیر اور تفخیم دونوں پر دلیل ہو سکتی ہے۔ آپ یہ معنی بھی لے سکتے ہیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ بے وقوف ہمارے اندر کے کچھ بے وقوفوں کی دہائی دیتے تھے اور یہ معنی بھی لے سکتے ہیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ شریر ہمارے اندر کے کچھ شریروں کی دہائی دیتے تھے بلکہ یہ معنی بھی اگر لیں کہ انسانوں کے اندر کے کچھ احمق ہمارے اندر کے کچھ شریروں کی دہائی دیتے ہیں تو یہ بھی عربیت کے خلاف نہیں ہو گا۔
    اور یہ کہ انھوں نے بھی تمہاری ہی طرح یہ گمان کیا کہ اللہ کسی کو مرنے کے بعد زندہ کرنے والا نہیں ہے۔
    توحید کے بعد قیامت کا حوالہ: توحید کے بعد یہ قیامت کے باب میں انھوں نے دونوں گروہوں کی غلط فہمی کی طرف اشارہ کیا کہ جس طرح تم اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو زندہ نہیں کرے گا اسی طرح انسان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن لوگوں کی اس غلط فہمی کو بھی دور کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ جس طرح تمہارے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنا کر بھیجنے والا نہیں ہے اسی طرح انسانوں کے اندر یہ بھی غلط فہمی موجود تھی۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کے نزول نے اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کیا۔ اگرچہ آیت کے الفاظ کے اندر یہ معنی لینے کی گنجائش موجود ہے لیکن یہ بات کھٹکتی ہے کہ قرآن کے اولین مخاطبوں میں، خواہ بنی اسماعیل ہوں یا بنی اسرائیل، پچھلی پیشین گوئیوں کی بنا پر ایک رسول کی بعثت کا انتظار تھا۔ اگرچہ اہل کتاب نے ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کا انکار نہ کر سکے۔ بنی اسماعیل کے اندر، ان کی امیت کے سبب سے، اس رسول کا تصور کچھ واضح نہیں تھا لیکن قطعیت کے ساتھ انکار انھوں نے بھی نہیں کیا۔ چنانچہ قرآن کے بعض مقامات میں ان کو ملامت فرمائی گئی ہے کہ رسول کی بعثت سے پہلے پہلے تو تم بڑھ چڑھ کر دعویٰ کرتے تھے کہ تمہارے اندر اللہ نے کوئی رسول بھیجا تو تم اس کی دعوت کو سب سے پہلے قبول کرنے والے اور اس کی ہدایت پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے بنو گے لیکن جب اللہ نے اس نعمت سے تمہیں نوازا تو تم اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    اور ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا۔
    ایک نئے تجربے کا حوالہ: یہ انھوں نے اپنے ایک خاص تجربہ کا حوالہ دیا جو اس کتاب کے نزول کے دور میں بالکل پہلی بار اس کائنات کے نظام میں ان کو ہوا۔ انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ اس دوران میں ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ آسمان زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے جو بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی اب اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان فرمائی گئی ہے کہ شیاطین جن عالم غیب کی باتیں اچکنے کے لیے جب گھات لگاتے ہیں تو ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ جنوں کے اس ذاتی تجربہ سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے اور مزید برآں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے تو گھات لگانے کی کچھ گنجائش تھی لیکن جس دور کا وہ یہ تجربہ بیان کر رہے ہیں اس دور میں آسمان کا ہر گوشہ پہرہ داروں اور شہابوں سے اس طرح بھر دیا گیا تھا کہ جنوں کے لیے دراندازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ جنوں نے کائنات میں اس اہم تغیر کا ذکر تو کیا لیکن قوم کے سامنے اس کا کوئی سبب وہ نہیں بتا سکے۔ اس کی وجہ آگے کی آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس اہم تبدیلی کی حکمت ان پر اچھی طرح واضح نہیں تھی۔ تاہم نزول قرآن کے واقعہ کے ساتھ اس واقعہ کو ملا کر انھوں نے لوگوں کو یہ تاثر دے دیا کہ آسمان کے نظام میں یہ تبدیلی بھی قرآن کے نزول ہی سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔ ہمارے نزدیک ان کا یہ قیاس صحیح تھا۔ قران کے متعدد مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسمان میں جو پہرا اس کو شیاطین کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے وہ نزول وحی کے زمانے میں نہایت سخت کر دیا گیا تھا تاکہ ان کو وحی میں کسی دراندازی کی راہ نہ ملے۔ یوں تو یہ پہرا ہمیشہ ہی رہا ہے۔ نزول قرآن سے پہلے بھی شیاطین پر شہابوں کی مار پڑتی رہی ہے لیکن جس طرح حکومتیں اس شاہراہ کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دیتی ہیں جس پر سے شاہی خزانہ لے جایا جانے والا ہو یا بادشاہ کی سواری گزرنے والی ہو اسی طرح وحی کے نزول اور جبریل امینؑ کی آمد و شد کے دور میں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دی گئی تھی تاکہ اچکوں کی ہر راہ مسدود ہو جائے۔ جنوں کی اس اطلاع کا ذکر قرآن نے یہاں مشرکین عرب کے سامنے اس لیے کیا ہے کہ وہ قرآن پر یہ الزام جو لگاتے ہیں کہ یہ کاہنوں کے طرز کا کلام ہے جو نعوذ باللہ کوئی جن پیغمبرؐ پر القاء کرتا ہے۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کی تردید کے لیے خود جنوں کا یہ بیان کافی ہے کہ اس دور میں آسمان سے کوئی خبر لانا تو درکنار اس کے اندر ان کے جو ٹھکانے تھے اب ان تک پہنچنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
    اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں کچھ سن گن لینے کو بیٹھا کرتے تھے پر اب جو بیٹھے گا تو وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔
    ایک نئے تجربے کا حوالہ: یہ انھوں نے اپنے ایک خاص تجربہ کا حوالہ دیا جو اس کتاب کے نزول کے دور میں بالکل پہلی بار اس کائنات کے نظام میں ان کو ہوا۔ انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ اس دوران میں ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ آسمان زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے جو بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی اب اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان فرمائی گئی ہے کہ شیاطین جن عالم غیب کی باتیں اچکنے کے لیے جب گھات لگاتے ہیں تو ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ جنوں کے اس ذاتی تجربہ سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے اور مزید برآں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے تو گھات لگانے کی کچھ گنجائش تھی لیکن جس دور کا وہ یہ تجربہ بیان کر رہے ہیں اس دور میں آسمان کا ہر گوشہ پہرہ داروں اور شہابوں سے اس طرح بھر دیا گیا تھا کہ جنوں کے لیے دراندازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی۔ جنوں نے کائنات میں اس اہم تغیر کا ذکر تو کیا لیکن قوم کے سامنے اس کا کوئی سبب وہ نہیں بتا سکے۔ اس کی وجہ آگے کی آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس اہم تبدیلی کی حکمت ان پر اچھی طرح واضح نہیں تھی۔ تاہم نزول قرآن کے واقعہ کے ساتھ اس واقعہ کو ملا کر انھوں نے لوگوں کو یہ تاثر دے دیا کہ آسمان کے نظام میں یہ تبدیلی بھی قرآن کے نزول ہی سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔ ہمارے نزدیک ان کا یہ قیاس صحیح تھا۔ قران کے متعدد مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آسمان میں جو پہرا اس کو شیاطین کی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قائم کر رکھا ہے وہ نزول وحی کے زمانے میں نہایت سخت کر دیا گیا تھا تاکہ ان کو وحی میں کسی دراندازی کی راہ نہ ملے۔ یوں تو یہ پہرا ہمیشہ ہی رہا ہے۔ نزول قرآن سے پہلے بھی شیاطین پر شہابوں کی مار پڑتی رہی ہے لیکن جس طرح حکومتیں اس شاہراہ کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دیتی ہیں جس پر سے شاہی خزانہ لے جایا جانے والا ہو یا بادشاہ کی سواری گزرنے والی ہو اسی طرح وحی کے نزول اور جبریل امینؑ کی آمد و شد کے دور میں معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دی گئی تھی تاکہ اچکوں کی ہر راہ مسدود ہو جائے۔ جنوں کی اس اطلاع کا ذکر قرآن نے یہاں مشرکین عرب کے سامنے اس لیے کیا ہے کہ وہ قرآن پر یہ الزام جو لگاتے ہیں کہ یہ کاہنوں کے طرز کا کلام ہے جو نعوذ باللہ کوئی جن پیغمبرؐ پر القاء کرتا ہے۔ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ اس کی تردید کے لیے خود جنوں کا یہ بیان کافی ہے کہ اس دور میں آسمان سے کوئی خبر لانا تو درکنار اس کے اندر ان کے جو ٹھکانے تھے اب ان تک پہنچنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
    اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ زمین والوں کے لیے کوئی برائی چاہی گئی ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے۔
    اہل زمین کے لیے ایک مبارک قِران کی طرف اشارہ: ان جنوں پر نظام کائنات میں اس اہم تبدیلی کی اصل علت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اچھی طرح واضح نہیں تھی اس وجہ سے انھوں نے اس کی کوئی قطعی وجہ بیان کرنے کے بجائے اس پر صرف اپنے تردد کا اظہار کیا کہ اگرچہ اس کا سبب ہم پر واضح نہیں ہے تاہم یہ زمین میں کسی اہم انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ انقلاب اہل زمین کے لیے سبب شر ہو گا یا اس میں ان کے رب کی طرف سے کوئی بڑا خیر مضمر ہے تو اس کا فیصلہ مستقبل کرے گا۔ اگرچہ انھوں نے بربنائے احتیاط اپنی رائے واضح نہیں کی لیکن اسلوب کلام شاہد ہے کہ اہل زمین کے لیے انھوں نے اس کو ایک فال نیک سمجھا۔ چنانچہ شر کا ذکر تو انھوں نے مجہول کے اسلوب میں کیا لیکن رشد و ہدایت کی توقع کا ذکر بصیغۂ معروف ’اَمْ أَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا‘ کے الفاظ سے کیا۔ ان دونوں اسلوبوں میں اللہ تعالیٰ کے لیے ادب و احترام کے پہلو سے جو فرق ہے اس کی وضاحت سورۂ کہف کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔ یہاں خاص طور پر جو بات نگاہ میں رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کا ظن غالب یہ نہ ہوتا کہ اس میں اہل زمین کے لیے خیر ہے تو اس دوسرے فقرے کو بھی پہلے فقرے کی طرح مجہول کے مبہم اسلوب ہی میں کہتے۔ لیکن قرآن اور اس تبدیلی کو پہلو بہ پہلو دیکھ کر ان کا ذہن اسی طرف گیا کہ یہ دونوں واقعے اہل زمین کے لیے ایک ہی نوع کے ہیں اور یہ قِرانُ السعدین کی حیثیت رکھتے ہیں۔
    اور یہ کہ ہم میں بھی نیک اور اس سے مختلف قسم کے لوگ ہیں، ہماری راہیں الگ الگ ہیں۔
    وصل و فصل کی بنیاد ایمان و عمل پر ہونی چاہیے: یعنی اب تک تو نیکی اور بدی کے درمیان ہماری نگاہوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ برے اور بھلے دونوں ہماری نظروں میں یکساں تھے لیکن اس قرآن نے ہمارا یہ مغالطہ دور کر دیا ہے اور یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ہم میں سب ایک ہی راہ پر چلنے والے نہیں ہیں بلکہ ہمارے طریقے اور راہیں الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ ہم اس فرق کو ملحوظ رکھ کر لوگوں کے ساتھ معاملہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان وصل و فصل کی بنیاد ایمان اور کفر کو ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو ہماری قوم اور قبیلہ کا ہے وہ ہمارا ہے، خواہ وہ کافر ہو یا مومن، نیک ہے یا بد۔ یہ گویا انھوں نے اپنی قوم کے ان لوگوں سے اعلان براء ت کیا ہے جو ان کی اس دعوت ایمان کے بعد بھی اپنے کفر و شرک پر اڑے رہنے کے لیے ضد کریں۔ اس طرح کا اعلان تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوموں کے سامنے کیا اور ہر دور کے مصلحین نے بھی انبیاء علیہم السلام کی اس سنت کی پیروی کی جس کی ایک واضح مثال اصحاب کہف کا رویہ ہے جو سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے۔ ’طَرَائِقُ‘ کے معنی راستے اور مسلک و مذہب کے ہیں اور ’قِدَدٌ‘ کے معنی متفرق کے۔
    اور یہ کہ ہم نے مان لیا کہ ہم اللہ کے قابو سے نہ زمین میں کہیں جا کر نکل سکتے اور نہ آسمان میں کہیں بھاگ کر۔
    انسان ہر وقت خدا کی مٹھی میں ہے: دعوت کے بعد یہ انھوں نے اپنی قوم کو انذار کیا کہ ہم پر یہ حقیقت بھی واضح ہو گئی ہے کہ ہر وقت ہم خدا کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ وہ جب چاہے ہمیں پکڑ سکتا ہے۔ نہ ہم زمین میں کہیں چھپ کر اس کی گرفت سے بچ سکتے اور نہ آسمانوں میں کہیں بھاگ کر اس کے قابو سے نکل سکتے۔ اس آیت میں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق، بعض مقابل الفاظ محذوف ہیں جو قرینہ سے سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً پہلے ٹکڑے میں ’فِی الْأَرْضِ‘ ظاہر کیا گیا تو دوسرے ٹکڑے میں ’فِی السَّمَآءِ‘ حذف کر دیا گیا۔ اسی طرح دوسرے میں ’ہَرَبًا‘ کا لفظ آیا تو پہلے ٹکڑے میں اس کا مدمقابل حذف ہو گیا۔ ترجمے میں یہ محذوفات ہم نے کھول دیے ہیں۔ اردو میں یہ اسلوب غیر معروف ہے اس وجہ سے محذوفات کھولے بغیر مطلب ادا نہیں ہوتا۔
    اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کی بات سنی ہم اس پر ایمان لائے۔ پس جو اپنے رب پر ایمان لائے گا تو اس کو نہ کسی حق تلفی کا اندیشہ ہو گا نہ کسی زیادتی کا۔
    ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی: یہ قوم کے سامنے انھوں نے اپنی مثال پیش کی ہے کہ جب یہ ہدایت بخش دعوت ہمارے کانوں میں پڑی تو ہم نے اپنے اوپر یہ واجب سمجھا کہ اس کی قدر کریں چنانچہ ہم اس پر ایمان لائے۔ مطلب یہ ہے کہ یہی روش ان تمام لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے جن کے اندر حق و ہدایت کے لیے احترام موجود ہے جو لوگ اس سے بھاگیں گے ان کا اعراض گواہی دے گا کہ وہ اپنی عقل کے بجائے اپنی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ ’فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَہَقًا‘۔ ’بَخْسٌ‘ کے معنی کمی کرنے اور ’رَہَقٌ‘ کے معنی، جیسا کہ اوپر وضاحت ہو چکی ہے، زیادتی کرنے کے ہیں۔ یہی مضمون معمولی تغیر کے ساتھ ’فَلَا یَخَافُ ظُلْمًا وَلَا ہَضْمًا‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۱۲) کے الفاظ میں بھی ادا ہوا ہے۔ یہ انھوں نے دعوت ایمان قبول کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں گے وہ اطمینان رکھیں کہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کا بھرپور صلہ دے گا، نہ ان کو کسی حق تلفی کا اندیشہ ہو گا نہ کسی تعدی کا۔ جو کچھ جس نے کیا ہو گا وہی اس کے سامنے آئے گا۔ ’فَمَنۡ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْْرًا یَرَہٗ ۵ وَمَنۡ یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ‘ (الزلزال ۹۹: ۷-۸)
    اور یہ کہ ہم میں فرماں بردار بھی ہیں اور بے راہ بھی تو جنھوں نے فرماں برداری کی روش اختیار کی انھوں نے ہدایت کی راہ ڈھونڈی۔
    خیر اور شر میں امتیاز کا بدیہی نتیجہ: یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت بھی ہمارے اندر ودیعت فرمائی ہے، اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے خیر اور شر دونوں کو اچھی طرح اجاگر بھی کر دیا ہے اور ایک امر واقعی کی حیثیت سے ہم اس صورت حال کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے اندر خدا کے فرماں بردار اور نافرمان دونوں قسم کے لوگ ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ دونوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ نہ کرے بلکہ جو اس کی اطاعت کی راہ اختیار کرنے والے ہوں وہ تو اس کے صلے میں جنت کے حق دار ٹھہریں اور جو حق سے منحرف ہوں وہ جہنم کے ایندھن بنیں۔ حق و باطل میں یہ امتیاز اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کا لازمی تقاضا ہے۔ ورنہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس کے خلق کے نزدیک معاذ اللہ نیکی اور بدی دونوں یکساں ہیں۔
    اور جو بے راہ ہوئے تو وہ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔
    خیر اور شر میں امتیاز کا بدیہی نتیجہ: یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت بھی ہمارے اندر ودیعت فرمائی ہے، اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے خیر اور شر دونوں کو اچھی طرح اجاگر بھی کر دیا ہے اور ایک امر واقعی کی حیثیت سے ہم اس صورت حال کا بھی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے اندر خدا کے فرماں بردار اور نافرمان دونوں قسم کے لوگ ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ وہ دونوں سے ایک ہی طرح کا معاملہ نہ کرے بلکہ جو اس کی اطاعت کی راہ اختیار کرنے والے ہوں وہ تو اس کے صلے میں جنت کے حق دار ٹھہریں اور جو حق سے منحرف ہوں وہ جہنم کے ایندھن بنیں۔ حق و باطل میں یہ امتیاز اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کا لازمی تقاضا ہے۔ ورنہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے جس کے خلق کے نزدیک معاذ اللہ نیکی اور بدی دونوں یکساں ہیں۔
    اور مجھے وحی آئی ہے کہ اگر یہ (قریش) سیدھی راہ پر گامزن رہتے تو ہم ان کو خوب خوب سیراب کرتے۔
    کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف: جنوں کے تاثرات و اقوال کا حوالہ دینے کے بعد یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ گیا۔ پہلی آیت میں لفظ ’قُلْ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ قرآن اور اس کی دعوت کے متعلق جنوں کی یہ باتیں آپ قریش کے ناقدروں اور مغروروں کو پہنچا دیں۔ اس کے بعد اب براہ راست قریش کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ صراط مستقیم پر استوار رہتے تو یہ خسارے کا سودا نہیں تھا بلکہ دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کی راہ یہی ہے۔ ہم اس کے صلے میں ان پر اپنی رحمت کی گھٹائیں برساتے۔ ’مَآءٌ غَدَقٌ‘ کے لغوی معنی تو وافر پانی کے ہیں لیکن عربی میں یہ تعبیر ہے رزق و فضل کے بہتات کی۔ اس کی مثالیں پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہیں۔ سابق سورہ میں فرمایا ہے: اِسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا ۵ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْْکُمۡ مِّدْرَارًا ۵ وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِیْنَ وَیَجْعَل لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَل لَّکُمْ أَنْہَارًا (نوح ۷۱: ۱-۱۲) ’’اپنے رب سے مغفرت مانگو۔ وہ نہایت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر اپنے ابرکرم کے دونگڑے برسائے گا اور مال و اولاد سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تمہارے لیے باغ بھی پیدا کرے گا اور نہریں بھی جاری کرے گا۔‘‘ یہ قریش کے اس وہم کا ازالہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خوش حالی کو اپنے بتوں کا فیض سمجھتے اور ڈرتے ہیں کہ اگر قرآن کی دعوت انھوں نے قبول کر لی تو مال و اولاد کی جس فراوانی سے وہ بہرہ مند ہیں اس سے محروم ہو جائیں گے۔ فرمایا کہ یہ ان کی نادانی ہے کہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو انھوں نے اپنے فرضی دیوتاؤں سے منسوب کر رکھا ہے۔ یہ نعمتیں سب اللہ کی عنایت کردہ ہیں اور اس نے ان کی ناشکریوں کے باوجود جب ان سے ان کو بہرہ مند کیا تو شکرگزاری کی روش اختیار کرنے کے بعد بدرجۂ اولیٰ نہ صرف ان کو باقی رکھے گا بلکہ اس میں افزونی فرمائے گا۔ توحید کی راہ ایک جانی پہچانی راہ ہے: ’عَلَی الطَّرِیْقَۃِ‘ سے مراد توحید کی صراط مستقیم ہے۔ اس کا ذکر اس طرح فرمایا ہے کہ گویا یہ ایک جانی پہچانی راہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اس لیے کہ انسان کی فطرت اس کی گواہ ہے۔ عقل اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے، آفاق و انفس اس کی گواہی دے رہے اور اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں نے اسی راہ کی دعوت دی ہے۔  
    کہ ہم اس میں ان کو آزمائیں اور جو اپنے رب کی یاددہانی سے منہ موڑیں گے تو وہ ان کو چڑھتے عذاب میں داخل کرے گا۔
    ایک برسر موقع تنبیہ: یہ برسر موقع ایک تنبیہ ہے کہ اس دنیا میں ہم رزق و فضل سے کسی کو جو بہرہ مند کرتے ہیں تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ وہ خدا کا منظور نظر ہے بلکہ اس سے مقصود اس کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں پا کر اس کا شکرگزار اور فرماں بردار رہتا ہے یا ناشکرا اور مغرور و متکبر بن جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کے یہ مغرور لیڈر اس واضح حقیقت کو فراموش کر بیٹھے۔ انھوں نے ان نعمتوں کو اپنا موروثی حق جانا اور اس غرور کے نشہ میں انھوں نے اس یاددہانی سے منہ موڑا جو اللہ نے ان کو راہ راست دکھانے کے لیے نازل فرمائی۔ ’وَمَنْ یُعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا‘۔ یہ اسی کے ساتھ کی دوسری تنبیہ ہے کہ اس دنیا کے غرور میں مبتلا ہو کر جو لوگ اپنے رب کی یاددہانی سے منہ موڑیں گے وہ یاد رکھیں کہ اللہ ان کو ایک ایسے عذاب میں داخل کرے گا جو برابر ترقی ہی کرتا رہے گا۔ ’ذِکْرٌ‘ سے مراد یہاں قرآن ہے جس کی ناقدری پر قریش کو اوپر کی آیات میں ملامت کی گئی ہے۔ یہ لفظ قرآن کے لیے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ ’عَذَابًا صَعَدًا‘ کے معنی لوگوں نے عام طور پر، ’عذاب شدید‘ کے لیے ہیں لیکن لفظ ’صَعَدٌ‘ کا اصل مفہوم ترقی کرنا ہے۔ اس وجہ سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ اس میں اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اپنی کتاب کی تکذیب کی پاداش میں جن کو پکڑتا ہے ان کی سزا وقتی اور ہنگامی نہیں ہوتی بلکہ اس میں برابر ترقی ہی ہوتی رہتی ہے۔ اس دنیا میں جس عذاب سے وہ دوچار ہوتے ہیں اس سے بڑے عذاب سے ان کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا اور پھر آگے ان کے عذاب کی شدت میں ترقی ہی ہوتی رہے گی۔ اس کے ختم یا اس میں بالتدریج کمی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
    اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی عبادت کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
    سجدہ گاہ صرف اللہ ہی کے لیے ہو سکتی ہے: اوپر والی آیت میں کلام غائب کے اسلوب میں تھا۔ اس آیت میں براہ راست خطاب کر کے متنبہ فرمایا کہ مسجدیں صرف اللہ کی عبادت کے لیے خاص ہوتی ہیں ان میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو اس کا شریک عبادت نہ بناؤ۔ یہ توحید کا مضمون اس انذار ہی کا حصہ ہے جو اوپر والے ٹکڑے میں مضمر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جب اعراض کرنے والوں کو پکڑے گا تو اس کی پکڑ سے یہ فرضی دیوی دیوتا بچانے والے نہیں بنیں گے تو اللہ کی مساجد کو ان کی پوجا سے آلودہ نہ کرو۔ عبادت کا سزاوار چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے، کوئی دوسرا سزاوار عبادت نہیں ہے اس وجہ سے ہر مسجد اپنے مقصد تعمیر ہی سے اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہوتی ہے۔ نہ اس کے سوا کسی اور کے لیے مسجد تعمیر ہو سکتی، نہ کسی مسجد میں غیر اللہ کی عبادت ہو سکتی۔ لفظ ’مساجد‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں خطاب قریش سے ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس کا مصداق اول بیت اللہ ہے۔ اس کو جمع کے لفظ سے تعبیر کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہی تمام مساجد کا قبلہ اور ان کا شیرازہ ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جمع سے تعبیر کرنے کے سبب سے یہ حکم بالکل عام ہو گیا ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت ۱۷ ’مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَنۡ یَعْمُرُوْا مَسَاجِدَ اللّٰہِ‘ میں بھی یہی اسلوب بیان ہے۔ وہاں بھی ’مَسَاجِدَ اللّٰہِ‘ کا مصداق اول بیت اللہ ہی ہے لیکن حکم کو عام کرنے کے لیے اس کو تعبیر جمع کے لفظ سے فرمایا ہے۔
    اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ صرف اللہ ہی کو پکارتا کھڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس پر پل پڑیں گے۔
    سب سے زیادہ مانوس چیز اجنبی بن کر رہ گئی ہے: یعنی ہونا تو یہ تھا کہ بیت اللہ میں غیر اللہ کا نام بھی سنا نہ جا سکتا لیکن اس کے بالکل برعکس صورت حال یہ ہے کہ جب اللہ کا بندہ صرف اپنے رب ہی کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو مخالفین اس کو ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ ’لِبَدٌ‘ جمع ہے ’لِبْدَۃٌ‘ کی، جس کے معنی کسی تہ بہ تہ اور گتھم گتھا شے کے ہیں۔ یہ تصویر ہے اس بات کی کہ جو گھر خالص اللہ واحد کی عبادت کے لیے تعمیر ہوا اب اس میں بھی توحید ایک ایسی نامانوس چیز بن کے رہ گئی ہے کہ جب اللہ کا رسول اپنے رب کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور توحید خالص کی تعلیم پر مشتمل سورتوں کی تلاوت کرتا ہے تو لوگ اس کو ایک اعجوبہ یا دیوانہ سمجھ کر ہر سمت سے گھیر لیتے ہیں۔ بعینہٖ یہی صورت اس وقت بھی پیش آتی جب آپ دعوت کے لیے نکلتے اور لوگوں کو توحید کی سورتیں سناتے۔ اس وقت بھی شریر افراد آپ کو گھیر لیتے اور آپ کی توہین کرنے اور ایذا پہنچانے کی کوشش کرتے۔ ’عَبْدُ اللّٰہِ‘ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس لفظ میں آپ کے لیے پیار بھی ہے اور اس حقیقت کا اظہار بھی کہ اللہ کے بندے کے لیے سب سے زیادہ معقول اور فطری کام کوئی ہو سکتا ہے تو یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اللہ ہی کو پکارے لیکن دنیا کا ضمیر اس طرح بگڑ چکا ہے کہ یہی سب سے زیادہ صحیح اور اعلیٰ کام لوگوں کے لیے ایک نہایت انوکھا اور ناگوار کام بن کے رہ گیا ہے۔
    کہہ دو کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراؤں گا۔
    پیغمبر صلعم کی طرف سے فیصلہ کن اعلان: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہوئی کہ خواہ یہ لوگ کتنے ہی کان کھڑے کریں اور کتنا ہی برا مانیں لیکن تم ان کی مطلق پروا نہ کرو بلکہ ان کو صاف صاف سنا دو کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کو پکاروں گا، کسی کو بھی اس کا ساجھی نہیں ٹھہراؤں گا، خواہ تم نے ان کو کتنا ہی بڑا خدا کا شریک کیوں نہ سمجھ رکھا ہو۔
    کہہ دو، میں نہ تمہارے لیے کسی ضرر پر کوئی اختیار رکھتا نہ کسی نفع پر۔
    فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر تم میری دعوت سے نفور ہو، میری بات سننے کے لیے تیار نہیں تو اس کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔ میں داعی بنا کر بھیجا گیا ہوں، تم پر داروغہ مقرر نہیں ہوا ہوں۔ نہ تمہارا نفع و ضرر میرے اختیار میں ہے نہ تمہاری ہدایت و ضلالت۔ میں صرف اللہ کی بات پہنچانے پر مامور ہوں سو یہ کام کر رہا ہوں۔ اس سے زیادہ میرے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہاں اسلوب کی یہ ندرت ملحوظ رہے کہ ’ضَرًّا‘ کے بعد ’نَفْعًا‘ اور ’رَشَدًا‘ کے مقابل ’غَیًّا‘ کو حذف کر دیا ہے اس لیے کہ تقابل خود اس پر دلیل ہے۔
    کہہ دو، مجھے اللہ سے کوئی پناہ دینے والا نہیں بنے گا اور نہ میں اس کے سوا کوئی ملجا پا سکوں گا۔
    یہ اوپر والی بات ہی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر میں تمہاری نازبرداری میں یا تم سے مرعوب ہو کر کسی کو خدا کا شریک مان لوں تو یہ اپنے رب پر ایسے افتراء کا ارتکاب کروں گا جو سب سے بڑا جرم ہے اور جس کی سزا سے نہ مجھے کوئی دوسرا پناہ دینے والا بنے گا اور نہ میں ہی اپنے لیے کوئی ملجا و ماویٰ اس کے مقابل میں پا سکوں گا۔
    بس اللہ کی طرف سے پہنچا دینا اور اس کے پیغاموں کی ادائیگی ہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے تو ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
    اس آیت کا تعلق اوپر والی آیت ’لَا أَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا‘ سے ہے۔ یعنی میں نہ تمہارے مطالبہ پر تمہیں عذاب دکھا سکتا اور نہ تمہارے دلوں میں ہدایت اتار سکتا۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے وہ بے کم و کاست میں تمہیں پہنچا دوں اور اس کے حکموں سے تمہیں آگاہ کر دوں۔ ’رِسَلٰتِہٖ‘ کا عطف ’بَلٰغًا‘ پر ہے۔ ’بَلَاغٌ‘ کے بعد اس لفظ کے اضافہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ میرا فریضۂ منصبی صرف بے کم و کاست پہنچا دینا ہے۔ نہ بلاغ کے سوا تمہاری ہدایت و ضلالت سے متعلق مجھ پر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ مجھے یہ اختیار حاصل ہے کہ تمہاری خاطر خدا کے احکام میں سرمو کوئی رد و بدل کر سکوں۔ ’وَمَنْ یَعْصِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَإِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَدًا‘۔ یعنی یہ فرض بلاغ ادا کر دینے کے بعد میں بری الذمہ ہو جاؤں گا۔ جو لوگ اس کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر اڑے رہیں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
    یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے اس چیز کو جس سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے تب وہ جانیں گے کہ مددگاروں کے اعتبار سے سب سے زیادہ کمزور اور تعداد کے لحاظ سے سب سے حقیر کون ہے!
    یعنی آج تو ان لوگوں کو اپنی قوت و جمعیت پر بڑا ناز ہے لیکن جب اس عذاب کو دیکھیں گے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے تو وہ اچھی طرح جان لیں گے کہ قوت اور جمعیت کے اعتبار سے کمزور و ناتواں کون ہے؟ وہ، یا اللہ کا رسول جس کے انذار کو انھوں نے حقیر جانا؟ ’مَا یُوْعَدُوْنَ‘ کے مفہوم میں وہ عذاب بھی داخل ہے جو رسول کی تکذیب کی پاداش میں لازماً اس کی قوم پر اس دنیا میں آیا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے قیامت میں سابقہ پیش آئے گا۔ سورۂ نوح کی آیت ۲۵ میں یہ مضمون گزر چکا ہے۔
    کہہ دو، مجھے کچھ نہیں پتا کہ جس چیز سے تمہیں آگاہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہی ہے یا میرا رب ابھی اس کو کچھ مدت اور ٹالنے والا ہے۔
    یعنی جو لوگ عذاب یا قیامت کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں اور تمہیں زچ کرنے کو پوچھتے ہیں کہ اس کا ظہور کب ہو گا ان کو جواب دے دو کہ خدا نے مجھے اس سے صرف آگاہ کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ سو میں نے اس سے آگاہ کر دیا۔ رہی یہ بات کہ اس کا ظہور کب ہو گا تو اس کی کوئی خبر مجھے نہیں ہے۔ ممکن ہے وہ بالکل قریب آ لگا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ میرا رب کچھ مدت کے لیے اس کو ابھی اور ٹالے۔
    غیب کا جاننے والا وہی ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔
    یعنی حقیقی عالم غیب وہی ہے۔ اس نے جس غیب کے علم کو اپنے لیے خاص کر رکھا ہے اس کو کسی پر بھی ظاہر نہیں کرتا۔ ’عَلٰی غَیْبِہٖ‘ میں ہر غیب مراد نہیں بلکہ وہ غیب مراد ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ہی لیے خاص کر رکھا ہے، مثلاً عذاب و قیامت کے وقت مقررہ کا علم۔ اس طرح کی باتوں کا علم اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ اور رسولوں پر بھی ظاہر نہیں کرتا۔
    رہے وہ جن کو وہ رسول کی حیثیت سے انتخاب فرماتا ہے تو وہ ان کے آگے اور پیچھے پہرہ رکھتا ہے۔
    رہے اللہ کے رسول جن کو وہ منصب رسالت کے لیے انتخاب فرماتا ہے تو ان کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں تمام اسرار غیب سے آگاہ کر دے۔ فریضۂ رسالت کے ادا کرنے کے لیے ان کا غیب دان ہونا ضروری نہیں ہے البتہ ان کے آگے اور پیچھے وہ اپنا پہرہ رکھتا ہے تاکہ وہ دیکھتا رہے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغام و احکام بے کم و کاست پہنچا دیے یا نہیں؟ یہ استثناء عام معنی میں استثناء نہیں ہے بلکہ یہ اس طرح کا استثناء ہے جس طرح کا سورۂ غاشیہ میں ہے۔ فرمایا ہے: فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۵ لَّسْتَ عَلَیْْہِمۡ بِمُصَیْْطِرٍ ۵ إِلَّا مَنۡ تَوَلَٰی وَکَفَرَ ۵ فَیُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱-۲۴) ’’پس تم ان کو یاددہانی کر دو۔ تم تو بس ایک یاددہانی کرنے والے ہو۔ تم ان کے اوپر داروغہ نہیں مقرر ہوئے ہو۔ رہا وہ جو پیٹھ پھیرے اور کفر کرے گا تو اللہ اس کو عذاب اکبر کا مزا چکھائے گا۔‘‘ اسی طرح ’اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی‘ ہے۔ اہل نحو اس کو استثنائے منقطع کہتے ہیں۔ یعنی یہ سابق سے الگ بات ہوتی ہے جس کی وضاحت اس خبر سے ہوتی ہے جو اس کے بعد آتی ہے۔  
    کہ دیکھے کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے اور وہ ان کے گرد و پیش کا احاطہ کیے اور ہر چیز کو شمار میں رکھے ہوتا ہے۔
    ’یَعْلَم‘ یہاں اسی مفہوم میں آیا ہے جس مفہوم میں ’حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنۡکُمْ‘ (محمد ۴۷: ۳۱) اور اس مفہوم کی دوسری آیتوں میں آیا ہے۔ اسی مفہوم میں ’لِنَنْظُرَ کَیْْفَ تَعْمَلُوْنَ‘ (یونس ۱۰: ۱۴) میں لفظ ’نَنْظُرَ‘ بھی آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یوں تو جانتا سب کچھ ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ جس کے باطن میں جو کچھ ہے وہ باہر آئے اور وہ اچھی طرح اس کا امتحان کر لے۔ ’وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْْہِمْ وَأَحْصٰی کُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا‘۔ یعنی وہ رسول کی تحویل میں جو امانت اپنے دین اور اپنی وحی کی دیتا ہے اس کو پوری طرح اپنی نگرانی میں رکھتا ہے۔ ایک ایک چیز کو گنے ہوئے ہوتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کے شمار سے رہ جائے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List