Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المعارج (The Ways of Ascent, The Ascending Stairways)

    44 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔الحآقۃ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے، دونوں کے عمود میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ انذار عذاب و قیامت جس طرح سابق سورہ کا موضوع ہے اسی طرح اس کا بھی موضوع ہے۔ دونوں کے ظاہری اسلوب میں بھی بڑی مشابہت ہے جس طرح سابق سورہ میں اثبات جزا و سزا پر، وسط سورہ میں، قسم کھائی گئی ہے اسی طرح اس سورہ کے وسط میں بھی اسی نوعیت کی قسم ہے۔ خاص پہلو اس کا یہ ہے کہ اس میں ان متمردین کو تنبیہ فرمائی ہے جو عذاب و قیامت کا مذاق اڑاتے اور اس کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ ان کے رویہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ یہ بہت ہی تنک ظرف اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔ اس وقت خدا نے ان کو جو ڈھیل دی ہے تو ان کے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے ہیں۔ ذرا گرفت میں آ جائیں تو ساری شیخی بھول جائیں گے۔ ان سے چندے درگزر کرو۔ ان کے فیصلہ کا وقت آیا ہی چاہتا ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تب انھیں اندازہ ہو گا کہ جس چیز کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے وہ کیسی ہولناک چیز نکلی۔

  • المعارج (The Ways of Ascent, The Ascending Stairways)

    44 آیات | مکی
    الحاقۃ - المعارج

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ دنیا اور آخرت میں جس عذاب سے قریش کو متنبہ کرتی ہے،دوسری میں اُسی کا مذاق اڑانے اور اُس کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الحاقۃ—- کا موضوع قیامت میں جزا و سزا کا اثبات، اُس کے حقائق کا بیان اور اُس کے بارے میں قرآن کے انذار کو جھٹلانے کے نتائج سے اپنے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے۔

    دوسری سورہ—- المعارج—- کا موضوع اِنھی نتائج کو استہزا کا نشانہ بنانے اور اِن کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کرنا، پیغمبر کو اُن کے مقابلے میں صبر کی تلقین کرنا اور اُنھیں یہ بتانا ہے کہ جنت حسن عمل کی جزا ہے۔ اِس سے محروم کوئی شخص، خواہ عرب و عجم کے صنادید میں سے کیوں نہ ہو، خدا کی اِس ابدی بادشاہی میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 070 Verse 001 Chapter 070 Verse 002 Chapter 070 Verse 003 Chapter 070 Verse 004 Chapter 070 Verse 005 Chapter 070 Verse 006 Chapter 070 Verse 007 Chapter 070 Verse 008 Chapter 070 Verse 009 Chapter 070 Verse 010 Chapter 070 Verse 011 Chapter 070 Verse 012 Chapter 070 Verse 013 Chapter 070 Verse 014 Chapter 070 Verse 015 Chapter 070 Verse 016 Chapter 070 Verse 017 Chapter 070 Verse 018 Chapter 070 Verse 019 Chapter 070 Verse 020 Chapter 070 Verse 021 Chapter 070 Verse 022 Chapter 070 Verse 023 Chapter 070 Verse 024 Chapter 070 Verse 025 Chapter 070 Verse 026 Chapter 070 Verse 027 Chapter 070 Verse 028 Chapter 070 Verse 029 Chapter 070 Verse 030 Chapter 070 Verse 031 Chapter 070 Verse 032 Chapter 070 Verse 033 Chapter 070 Verse 034 Chapter 070 Verse 035 Chapter 070 Verse 036 Chapter 070 Verse 037 Chapter 070 Verse 038 Chapter 070 Verse 039 Chapter 070 Verse 040 Chapter 070 Verse 041 Chapter 070 Verse 042 Chapter 070 Verse 043 Chapter 070 Verse 044
    Click translation to show/hide Commentary
    جلدی مچائی جلدی مچانے والے نے (کافروں کے لیے) واقع ہونے والے عذاب کی۔
    سوال بانداز استعجال: ’سوال‘ کے مختلف معانی پر اس کے محل میں بحث ہو چکی ہے یہاں اس کا صلہ ’ب‘ کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ استعجال یا استہزاء کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یعنی ایک سوال کرنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کی جلدی مچائی یا اس کا مذاق اڑایا۔ قریش کے متمردین کو جب عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ پوچھتے کہ وہ عذاب کہاں ہے؟ عذاب آنا ہے تو آ کیوں نہیں جاتا؟ ہم کب سے اس کے ڈراوے سن رہے ہیں وہ چلا تو راہ میں کہاں لنگر انداز ہو گیا کہ اب تک وہ نہیں پہنچا؟ اس طرح کے سوالات ظاہر ہے تحقیق کے لیے نہیں بلکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے اور عذاب کا مذاق اڑانے کے لیے کیے جاتے تھے۔ ان سوالوں کے اندر جلد بازی اور استہزاء دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ اس جلد بازی کا مقصد ہی مذاق اڑانا ہوتا تھا۔ ’ب‘ کے صلہ نے ’سوال‘ کے اس مضمر مضمون کو واضح کر دیا اس لیے استعجال اور استہزا دونوں کا صلہ ’ب‘ سے آتا ہے، مثلاً ’یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ‘ (العنکبوت ۲۹: ۵۴) اسی طرح ’اِسْتِھْزَآءٌ‘ کا صلہ بھی ’ب‘ ہی آتا ہے۔
    (جلدی مچائی جلدی مچانے والے نے) کافروں کے لیے (واقع ہونے والے عذاب کی)۔ اس کا کوئی دفع کرنے والا نہیں بنے گا۔
    عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کی حماقت: ’لِّلْکَافِریْنَ‘ کا تعلق ’وَاقِعٍ‘ سے بھی ہو سکتا ہے، یعنی اس عذاب کا مذاق اڑاتے ہیں جو کافروں کے لیے واقع ہونے والا ہے اور اس کو مستقل جملہ بھی قرار دے سکتے ہیں، یعنی وہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ کافروں ہی کے لیے ہو گا اور کوئی اس کو دفع کرنے والا نہیں بنے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی شامت ہی ہے جو اتنی ڈھٹائی سے اس کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ وہ سیلاب فنا آیا تو آخر کس کے گھر جائے گا؟ انہی کے گھر تو جائے گا! اس کے مقابلہ کا کیا سامان انھوں نے کر رکھا ہے کہ اس طرح چیلنج کر رہے ہیں! اس کو دفع کرنے کا برتا تو کسی میں بھی نہیں ہو گا، نہ ان کے اندر اور نہ ان کے مزعومہ معبودوں کے اندر؛ تو کس برتے پر ان کو دعوت دے رہے ہیں!
    وہ مدارج والے خداوند کی طرف سے ہو گا۔
    اللہ تعالیٰ کے دنوں کو اپنے دنوں پر قیاس نہ کرو: یعنی وہ عذاب آئے گا تو ضرور۔ جس خدا نے اس کی دھمکی دی ہے اس کا ہر وعدہ اور اس کی ہر وعید شدنی ہے لیکن اس کی بارگاہ بہت بلند ہے۔ وہ بڑی بلندیوں، بڑے مدارج اور زینوں والا ہے۔ اس کے دربار سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہ اس کے اپنے پروگرام کے مطابق ہوتے ہیں اور ان سالوں اور دنوں کے اعتبار سے بنتے ہیں جو اس کے ہاں معتبر ہیں۔ اس کے ہاں کا ایک دن انسانی تقویم کے حساب سے ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے دنوں اور سالوں کو لوگ اپنے محدود پیمانوں سے نہ ناپیں۔ انسان کی یہی تنگ نظری اس کو خدا کے فیصلوں کے بارے میں بے صبرا اور جلد باز بنا دیتی ہے۔ وہ ہر معاملے میں ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش کرتا اور اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الگ الگ عالم بنائے ہیں اور ہر ایک کا مدار اور نظام الگ الگ ہے۔ ہم نہ تو اس کی کائنات کے سارے بھیدوں کو جان سکتے اور نہ اپنے دنوں اور اپنی گھڑیوں سے اس کے دنوں کا حساب کر سکتے۔ سورۂ حج میں اسی حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے: وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ وَلَنۡ یُخْلِفَ اللہُ وَعْدَہٗ وَإِنَّ یَوْمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَأَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (الحج ۲۲: ۴۷) ’’وہ تم سے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرنے والا نہیں ہے۔ اور واضح رہے کہ تمہارے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار سالوں کے برابر ہوتا ہے۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ تمہارے پیمانے بہت چھوٹے ہیں۔ تم ہر وعدے اور ہر وعید کو اپنے دنوں کے حساب سے جانچتے ہو اس وجہ سے تمہیں محسوس ہوتا ہے کہ فلاں وعدے پر بڑی طویل مدت گزر گئی اور وہ پورا نہیں ہوا حالانکہ خدائی دنوں کے حساب سے ابھی اس پر سیکنڈ یا منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا ہوتا۔  
    اس کی طرف فرشتے اور جبریل صعود کرتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔
    اللہ تعالیٰ کے ’ذِی الْمَعَارِجِ‘ ہونے کا مفہوم: یہ اللہ تعالیٰ کے ’ذِی الْمَعَارِجِ‘ ہونے کی وضاحت ہے کہ اس کی بارگاہ بلند تک پہنچنے کے لیے فرشتوں اور جبریلؑ کو بھی پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے۔ ’معارج‘ کے معنی زینوں اور سیڑھیوں کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ وراء الوراء اور وراء الوراء ہے۔ اس تک رسائی کے لیے دوسروں کا تو کیا ذکر ملائکہ اور جبریلؑ تک کا یہ حال ہے کہ اس راہ کے مراحل طے کرنے کے لیے انھیں پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے۔ یہ باتیں متشابہات کی نوعیت کی ہیں۔ ان کی اصل حقیقت کا ادراک ہمارے لیے ناممکن ہے۔ مقصود ان سے صرف یہ تصور دینا ہے کہ خدا کے معاملات کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو۔ اس کے ہاں کا ایک دن تمہارے ایک ہزار سال کے برابر کا ہوتا ہے اور بعض کاموں کے لیے اس نے پچاس ہزار سال کے برابر کے دن بھی رکھے ہیں۔ آیت زیربحث میں اسی خاص دن کی طرف اشارہ ہے۔ ’روح‘ سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ان کی عظمت شان کے پہلو سے ہے اس لیے کہ وہ تمام ملائکہ کے سرخیل ہیں۔ یہ لفظ قرآن میں حضرت جبریل علیہ السلام کے لیے آیا ہے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ بعض لوگوں نے اس دن قیامت کے دن کو لیا ہے اور اس کا یہ طول ان کے نزدیک اس کے ہول اور شدت کی تعبیر ہے۔ ہمارے نزدیک یہ رائے موقع و محل کے بھی خلاف ہے اور عربیت کے بھی۔ یہاں مقصود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی بلندی کا اظہار ہے نہ کہ روز قیامت کی شدت کا۔ روز قیامت کی شدت اور اس کے ہول کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ہر چند خدا کی بارگاہ بہت بلند ہے، وہ تمام خلق سے وراء الوراء ہے لیکن وہ ساتھ ہی ہر شخص کی شہ رگ سے بھی قریب ہے۔ وہ سب کو دیکھتا، سب کی سنتا اور سب کی نگرانی کر رہا ہے۔ ہم اگرچہ اس کو دیکھنے سے قاصر ہیں لیکن وہ ہم کو ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ ہماری نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں لیکن وہ ہماری نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ’لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ‘ (الانعام ۶: ۱۰۴) اس وجہ سے نہ تو اس سے کسی کو بے خوف ہونا جائز ہے نہ مایوس۔ یہی حال فرشتوں کا ہے۔ ان کو اگرچہ اس تک صعود کے لیے پچاس ہزار سال کے برابر کا دن لگتا ہے لیکن اس کے باوجود تمام ملائکہ ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہیں۔ وہ جب چاہے ان کو حکم دے سکتا ہے اور جب چاہے ان کو پکڑ لے سکتا ہے۔
    تو تم خوبصورتی سے صبر کرو۔
    پیغمبر صلعم کو صبر جمیل کی ہدایت: عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے مقابلہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رویہ اختیار کرنا چاہیے یہ اس کا بیان ہے۔ فرمایا کہ ان کی جلد بازی اور ان کے استہزاء پر خوبصورتی اور وقار کے ساتھ صبر کرو۔ ’خوبصورتی کے ساتھ‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے رویہ سے نہ تو دل شکستہ اور مایوس ہو نہ ان کے جواب میں کوئی عاجلانہ قدم اٹھاؤ اور نہ اپنے موقف میں کوئی کمزوری پیدا ہونے دو۔ مختلف صورتوں میں صبر کی ہدایت کے ساتھ ان باتوں کی طرف اشارے بھی فرما دیے گئے ہیں جو صبر کو صبر جمیل بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
    وہ اس کو بہت دور خیال کر رہے ہیں۔
    اہل بصیرت قیامت کو دور نہیں سمجھتے: ’إِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا ۵ وَنَرَاہُ قَرِیْبًا‘۔ یعنی ان لوگوں کی نظر بہت محدود ہے اس وجہ سے یہ اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے بہت دور خیال کر رہے ہیں حالانکہ ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں اور اصل دیکھنا ہمارا دیکھنا ہے۔ اگر ان کے اندر بھی بصیرت ہوتی تو یہ بھی اس کو قریب ہی دیکھتے لیکن ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اس وجہ سے انھیں قریب کی چیز دور دکھائی دے رہی ہے۔ وہ دن آئے گا تو یہ پٹی کھل جائے گی اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ جس چیز کو وہ بہت دور سمجھا تھا وہ نہایت قریب نکلی۔’فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۲۲) (پس آج تو تیری نگاہ بہت تیز ہے) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جن کی نگاہوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت ہوتی ہے وہ اس مغالطہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ صاحب بصیرت اللہ کی روشنی سے دیکھتا ہے اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ اس دن کو قریب سے دیکھتا ہے اسی طرح مومن بھی اس کو قریب ہی دیکھتا ہے۔
    اور ہم اس کو نہایت قریب دیکھ رہے ہیں۔
    اہل بصیرت قیامت کو دور نہیں سمجھتے: ’إِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا ۵ وَنَرَاہُ قَرِیْبًا‘۔ یعنی ان لوگوں کی نظر بہت محدود ہے اس وجہ سے یہ اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے بہت دور خیال کر رہے ہیں حالانکہ ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں اور اصل دیکھنا ہمارا دیکھنا ہے۔ اگر ان کے اندر بھی بصیرت ہوتی تو یہ بھی اس کو قریب ہی دیکھتے لیکن ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اس وجہ سے انھیں قریب کی چیز دور دکھائی دے رہی ہے۔ وہ دن آئے گا تو یہ پٹی کھل جائے گی اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ جس چیز کو وہ بہت دور سمجھا تھا وہ نہایت قریب نکلی۔’فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۲۲) (پس آج تو تیری نگاہ بہت تیز ہے) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جن کی نگاہوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت ہوتی ہے وہ اس مغالطہ میں مبتلا نہیں ہوتے۔ صاحب بصیرت اللہ کی روشنی سے دیکھتا ہے اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ اس دن کو قریب سے دیکھتا ہے اسی طرح مومن بھی اس کو قریب ہی دیکھتا ہے۔
    جس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا۔
    قیامت کے ہول کی تصویر: یہ قیامت کی ہلچل اور اس کے ہول کی تصویر ہے تاکہ جو لوگ اس کو بصیرت کی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں وہ اس تصویر کو دیکھ کر اس سے کچھ عبرت پکڑیں۔ فرمایا کہ اس دن آسمان تیل کی تلچھٹ کے مانند ہو جائے گا اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند۔ لفظ ’مُہْلٌ‘ مختلف معانی میں آتا ہے۔ سورۂ کہف میں یہ لفظ گزر چکا ہے وہاں مناسب موقع معنی کی وضاحت ہم نے کر دی۔ یہ تیل اور تیل کی تلچھٹ کے معنی میں بھی آیا ہے۔ یہ معنی لیجیے تو مقصود آسمان کی رنگت کو تیل کی سرخ سیاہی مائل تلچھٹ سے تشبیہ دینا ہو گا۔ سورۂ رحمان میں بھی آسمان کی سرخی کا ذکر آیا ہے:’فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ‘ (الرحمٰن ۵۵: ۳۷) (وہ کھال کی مانند سرخ ہو گا)  
    اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند۔
    ’وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ‘۔ لفظ ’عِہْنٌ‘ کے معنی اون کے ہیں اور اس سے مراد یہاں دھنی ہوئی اون ہے، جیسا کہ سورۂ قارعہ میں فرمایا ہے:’وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِہْنِ الْمَنفُوْشِ‘ (القارعہ ۱۰۱: ۵) (اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے)۔ یہ احوال قیامت سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں جو ازقبیل متشابہات ہیں۔ ان کی اصل حقیقت یہاں سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ لیکن ذہن اس طرف جاتا ہے کہ آسمان کی سرخی نتیجہ ہو گی جہنم کے شعلوں کے بھڑکنے کا اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کے مانند پراگندہ کر دیے جائیں گے تاکہ جو لوگ پہاڑوں کو لازوال سمجھتے رہے ہیں وہ ان کی بے ثباتی کا مشاہدہ کر لیں۔ ظاہر ہے کہ جب پہاڑوں کا یہ حال ہو گا تو دوسری چیزوں کا کیا ذکر! یہ باتیں ان نادانوں کی تنبیہ کے لیے سنائی گئی ہیں جن کو اپنی قوت و جمعیت اور اپنے قلعوں اور گڑھیوں پر بڑا ناز تھا ۔۔۔ معلوم ہوا کہ اس دن سارا شیرازہ درہم برہم ہو جائے گا اور ایک نیا عالم بالکل نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ظہور میں آئے گا۔  
    اور کوئی دوست بھی کسی دوست کو نہ پوچھے گا۔
    اس دن کی نفسی نفسی کی تصویر: یعنی اس دن ہر شخص پر ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی کہ جو عمر بھر اس دنیا میں باہم دگر جگری دوست بنے رہے اور جنھوں نے ایک دوسرے کی خاطر جان اور اپنے مال سب کچھ قربان کیے اس دن اس طرح آنکھیں پھیر لیں گے کہ کوئی کسی کا حال پوچھنے کا بھی روادار نہ ہو گا۔
    وہ ان کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں، (اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کی پناہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے)۔
    یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔ ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔
    (مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں)، اپنی بیوی، اپنے بھائی (اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کی پناہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے)۔
    یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔ ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔
    (مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی) اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کی پناہ رہا ہے (اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے)۔
    یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔ ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔
    (مجرم تمنا کرے گا کہ کاش! اس دن کے عذاب سے چھوٹنے کے لیے اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس کنبہ کو جو اس کی پناہ رہا ہے) اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے۔
    یعنی اس دن وہ ایک دوسرے سے اوجھل نہیں ہوں گے کہ ان کے اندر حمیت و حمایت کا جذبہ نہ ابھرے۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور یہ ساری مصیبت ان پر ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے گزرے گی لیکن وقت ایسی نفسی نفسی کا ہو گا کہ کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ سورۂ عبس آیت ۳۴ میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ وہاں، ان شاء اللہ، اس کی پوری وضاحت ہو جائے گی۔ ’یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍ بِبَنِیْہِ ۵ وَصَاحِبَتِہِ وَأَخِیْہِ ۵ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ ۵ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنۡجِیْہِ‘۔ اس دن کا عذاب ایسا ہولناک ہو گا کہ گنہگار متمنی ہوں گے کہ کاش! اپنے محبوب سے محبوب عزیزوں کو فدیہ میں دے کر اس سے اپنے کو چھڑا سکیں تو چھڑا لیں۔ باپ اپنے بیٹوں کو فدیہ میں دے دینا چاہیں گے، شوہر اپنی بیوی، بھائی اپنے بھائی، صاحب کنبہ اپنے کنبہ و خاندان بلکہ زمین کی ساری مخلوق کو چاہے گا کہ فدیہ میں دے کر اس عذاب سے اپنی جان بچا لے جائے۔ لیکن یہ تمنا تمنا ہی رہے گی۔ اس دن نہ کسی کے پاس کوئی چیز فدیہ میں دینے کے لیے ہو گی اور نہ کسی کا کوئی فدیہ قبول ہو گا بلکہ ہر ایک کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں وہ تمام رشتے مذکور ہوئے ہیں جن کے لیے آدمی میں فطری محبت اور حمایت و مدافعت کی گہری حمیت ہوتی ہے۔ کنبہ و خاندان کے ذکر کے ساتھ خاص طور پر اس کی صفت ’تُؤِْیْہِ‘ آئی ہے یعنی جو خاندان زندگی بھر اس کا ملجا و مامن رہا، جس نے دشمنوں سے اس کی حفاظت کی اور جس کی مدافعت میں وہ خود عمر بھر سربکف رہا، اس کو بھی وہ فدیہ میں دے کر اپنے کو بچانے کی تمنا کرے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ بدویانہ دور زندگی میں خاندان اور قبیلہ کی حفاظت و مدافعت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جو شخص قبیلہ و خاندان کی مدافعت میں سربکف رہتا وہ ہیرو سمجھا جاتا اور جو قبیلہ کے مفاد کو اپنے مفاد پر قربان کرتا یا کسی خطرے کے وقت اس کی مدافعت سے جی چراتا نہ وہ خود کہیں منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ س کی آئندہ نسلیں۔
    ہرگز نہیں! وہ ایسی آگ ہو گی۔ (جس کی لپٹ چمڑی ادھیڑ لے گی۔)
    اس دن کسی کے لیے کوئی مفر نہ ہو گا: یعنی اس عذاب سے بچنے کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اس کے شعلے دور ہی سے مجرم کی چمڑی ادھیڑ لیں گے۔ ’کَلَّا‘ ان مجرموں کی تمنا کی تردید کے لیے ہے جو مذکور ہوئی۔ یعنی ان کی عذاب سے بچنے کی یہ تمنا ہرگز پوری نہ ہو گی۔ ’اِنَّہَا لَظٰی‘۔ ’اِنَّہَا‘ میں ضمیر کا مرجع وہی عذاب ہے جو مذکور ہوا۔ اس سے مراد چونکہ عذاب نار ہے اس وجہ سے ضمیر مؤنث آئی۔ ’لَظٰی‘ کے معنی شعلے کے ہیں۔ ’شوی‘ سر اور اطراف بدن کی کھال کے لیے آتا ہے۔ یعنی اس آگ کے شعلوں کی لپٹ ایسی ہو گی کہ دور ہی سے مجرموں کی کھلڑی کھینچ لے گی۔ ’نَزَّاعَۃً‘ کو خبر کے بعد دوسری خبر بھی مان سکتے ہیں اور حال بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں کوئی قابل لحاظ فرق معنی میں پیدا نہیں ہو گا۔
    (ہرگز نہیں! وہ ایسی آگ ہو گی۔) جس کی لپٹ چمڑی ادھیڑ لے گی۔
    اس دن کسی کے لیے کوئی مفر نہ ہو گا: یعنی اس عذاب سے بچنے کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اس کے شعلے دور ہی سے مجرم کی چمڑی ادھیڑ لیں گے۔ ’کَلَّا‘ ان مجرموں کی تمنا کی تردید کے لیے ہے جو مذکور ہوئی۔ یعنی ان کی عذاب سے بچنے کی یہ تمنا ہرگز پوری نہ ہو گی۔ ’اِنَّہَا لَظٰی‘۔ ’اِنَّہَا‘ میں ضمیر کا مرجع وہی عذاب ہے جو مذکور ہوا۔ اس سے مراد چونکہ عذاب نار ہے اس وجہ سے ضمیر مؤنث آئی۔ ’لَظٰی‘ کے معنی شعلے کے ہیں۔ ’شوی‘ سر اور اطراف بدن کی کھال کے لیے آتا ہے۔ یعنی اس آگ کے شعلوں کی لپٹ ایسی ہو گی کہ دور ہی سے مجرموں کی کھلڑی کھینچ لے گی۔ ’نَزَّاعَۃً‘ کو خبر کے بعد دوسری خبر بھی مان سکتے ہیں اور حال بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں کوئی قابل لحاظ فرق معنی میں پیدا نہیں ہو گا۔
    وہ ان سب کو کھینچ بلائے گی جنھوں نے پیٹھ پھیری اور اعراض کیا۔
    یعنی آج تو اللہ کی بندگی، اس کے عذاب سے بچنے اور اس کی راہ میں انفاق کی دعوت دی جاتی ہے تو لوگ پیٹھ پھیرتے اور اعراض کرتے ہیں لیکن اس دن جہنم کے عذاب سے پیٹھ پھیرنے اور اعراض کرنے کا کوئی امکان نہ ہو گا۔ جہنم سارے اعراض و انکار کرنے والوں کو کھینچ بلائے گی۔ لفظ ’تَدْعُوْا‘ یہاں نہایت بلیغ ہے۔ یعنی پیغمبرؐ کی پرمحبت دعوت جن کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہے وہ یاد رکھیں کہ ان سنگ دلوں کو ایک دن جہنم بلائے گی اور اس طرح بلائے گی کہ کسی کے لیے بھی کوئی راہ فرار باقی نہیں رہے گی۔
    مال جمع کیا اور اس کو سینت سینت کر رکھا۔
    بخیلوں کا انجام: یہ خاص طور پر بخیلوں کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ ایمان بالآخرت اور انفاق کی دعوت سب سے شاق انہی کے دلوں پر گزرتی ہے۔ آخرت کی فلاح کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنا مال اس دنیا کی تجوریوں میں بند رکھنے کے بجائے خدا کے بنک میں جمع کرے۔ بخیل اس کو خسارے کا سودا سمجھتا ہے۔ نہ وہ جزا و سزا پر اعتقاد ہی رکھتا اور نہ آخرت کے نسیہ کی خاطر اپنا نقد مال قربان کرنے کا وہ حوصلہ ہی اپنے اندر پاتا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی مخالفت میں بخیل سب سے پیش پیش رہے ہیں۔ بخالت اور جزا و سزا کی تکذیب دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہے:’أَرَأَیْْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ۵ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۳) (دیکھا اس کو جو جزا کو جھٹلاتا ہے! وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے پر لوگوں کو نہیں ابھارتا)۔ ’جَمَعَ‘ کے ساتھ ’فَاَوْعٰی‘ کے لانے سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ انھوں نے آنکھیں بند کر کے، حرام و حلال ہر راہ سے، مال جمع بھی کیا اور پھر اس کو نہایت اہتمام سے گن گن کر محفوظ بھی کیا۔ دوسرے مقام میں بخیلوں کی اسی خصلت کو ’جَمَعَ مَالاً وَعَدَّدَہُ‘ (الھمزۃ ۱۰۴: ۲) (مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا) سے تعبیر کیا ہے ۔۔۔ فرمایا کہ اس طرح کے بخیلوں کو بھی جنھوں نے جزا پر ایمان نہ رکھنے کے سبب سے پیغمبر کی دعوت انفاق سے اعراض کیا اس دن جہنم کی آگ کھینچ بلائے گی۔  
    انسان بے صبرا پیدا کیا گیا ہے۔
    ’ھَلوع‘ کے معنی جلد باز، بے صبرے اور تھڑدلے کے ہیں۔ عام لفظ سے خاص گروہ کی طرف اشارہ: لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے اشارہ انہی انسانوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ اللہ نے ان کو مہلت دی تو اس کی قدر کرنے کے بجائے عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں اور ابھی پکڑ میں آ جائیں گے تو واویلا کرنا شروع کر دیں گے۔ خدا نے مال دیا ہے تو اس سے آخرت کی کمائی کرنے کے بجائے اس پر مار گنج بن کر بیٹھ گئے ہیں، اس کو اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ اور اپنے استحقاق کا کرشمہ سمجھ رہے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ انھیں حاصل ہے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کے منظور نظر ہیں اس وجہ سے انھیں یہ برابر حاصل رہے گا اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں اس سے بھی زیادہ ان کے لیے محفوظ ہے۔ لیکن ابھی کوئی افتاد پیش آ جائے تو فوراً مایوس اور دل شکستہ ہو کر واویلا شروع کر دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی شیخی اور اکڑ کی پروا نہ کرو۔ یہ نہایت اوچھے اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔ کسی خاص جماعت کو جب اس طرح کسی عام لفظ سے ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، بے اعتنائی بلکہ اس کی تحقیر کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا متکلم نے اس کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اس کو مخاطب کرے یا اس کی طرف اشارہ بھی کرے۔ یہ اسلوب بیان ہماری اپنی زبان میں بھی معروف ہے۔ داعیات میں عدم توازن: ’اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا‘ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح سورۂ انبیاء آیت ۳۷ میں ’خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ‘ یا سورۂ بنی اسرائیل آیت ۱۱ میں ’وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا‘ آیا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر جس طرح شہوت، غضب، حرص اور اس قبیل کے دوسرے داعیات کا ایک مقام ہے اسی طرح عجلت کا بھی ایک موقع و محل ہے۔ یہ شے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بے محل یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو متضاد داعیات کی کشمکش میں پیدا کر کے اس سے یہ چاہا ہے کہ وہ خدا کے احکام کے مطابق، جن کی تعلیم اس کو نبیوں کے ذریعہ سے دی گئی ہے، ان کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور اس کے قوانین کا تابع بنائے۔ اس امتحان میں کامیابی ہی پر انسان کی تمام اخروی سعادت کا انحصار ہے۔ اختیار کا شرف بھی اس کو اس امتحان کے لیے عطا ہوا ہے۔ یہ امتحان مقصود نہ ہوتا تو انسان کو اختیار سے مشرف کرنے کے کوئی معنی بھی نہ ہوتے اور اس کو دوسری مخلوقات پر برتری حاصل کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ ہوتی۔ آیت میں جس چیز کو ’ھلع‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہ بھی جلد بازی اور بے صبری ہی کی ایک شکل ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہو جائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہو جائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق گویا اسی عنصر سے ہوئی ہے۔ ہانڈی میں نمک ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہو جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہانڈی نمک ہی سے تیار ہوئی ہے۔
    جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جانے والا ہے۔
    ’ھَلوع‘ کے معنی جلد باز، بے صبرے اور تھڑدلے کے ہیں۔ عام لفظ سے خاص گروہ کی طرف اشارہ: لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے اشارہ انہی انسانوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ اللہ نے ان کو مہلت دی تو اس کی قدر کرنے کے بجائے عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں اور ابھی پکڑ میں آ جائیں گے تو واویلا کرنا شروع کر دیں گے۔ خدا نے مال دیا ہے تو اس سے آخرت کی کمائی کرنے کے بجائے اس پر مار گنج بن کر بیٹھ گئے ہیں، اس کو اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ اور اپنے استحقاق کا کرشمہ سمجھ رہے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ انھیں حاصل ہے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کے منظور نظر ہیں اس وجہ سے انھیں یہ برابر حاصل رہے گا اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں اس سے بھی زیادہ ان کے لیے محفوظ ہے۔ لیکن ابھی کوئی افتاد پیش آ جائے تو فوراً مایوس اور دل شکستہ ہو کر واویلا شروع کر دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی شیخی اور اکڑ کی پروا نہ کرو۔ یہ نہایت اوچھے اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔ کسی خاص جماعت کو جب اس طرح کسی عام لفظ سے ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، بے اعتنائی بلکہ اس کی تحقیر کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا متکلم نے اس کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اس کو مخاطب کرے یا اس کی طرف اشارہ بھی کرے۔ یہ اسلوب بیان ہماری اپنی زبان میں بھی معروف ہے۔ داعیات میں عدم توازن: ’اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا‘ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح سورۂ انبیاء آیت ۳۷ میں ’خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ‘ یا سورۂ بنی اسرائیل آیت ۱۱ میں ’وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا‘ آیا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر جس طرح شہوت، غضب، حرص اور اس قبیل کے دوسرے داعیات کا ایک مقام ہے اسی طرح عجلت کا بھی ایک موقع و محل ہے۔ یہ شے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بے محل یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو متضاد داعیات کی کشمکش میں پیدا کر کے اس سے یہ چاہا ہے کہ وہ خدا کے احکام کے مطابق، جن کی تعلیم اس کو نبیوں کے ذریعہ سے دی گئی ہے، ان کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور اس کے قوانین کا تابع بنائے۔ اس امتحان میں کامیابی ہی پر انسان کی تمام اخروی سعادت کا انحصار ہے۔ اختیار کا شرف بھی اس کو اس امتحان کے لیے عطا ہوا ہے۔ یہ امتحان مقصود نہ ہوتا تو انسان کو اختیار سے مشرف کرنے کے کوئی معنی بھی نہ ہوتے اور اس کو دوسری مخلوقات پر برتری حاصل کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ ہوتی۔ آیت میں جس چیز کو ’ھلع‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہ بھی جلد بازی اور بے صبری ہی کی ایک شکل ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہو جائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہو جائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق گویا اسی عنصر سے ہوئی ہے۔ ہانڈی میں نمک ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہو جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہانڈی نمک ہی سے تیار ہوئی ہے۔
    اور جب اس کو کشادگی حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے۔
    ’ھَلوع‘ کے معنی جلد باز، بے صبرے اور تھڑدلے کے ہیں۔ عام لفظ سے خاص گروہ کی طرف اشارہ: لفظ ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس سے اشارہ انہی انسانوں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ اللہ نے ان کو مہلت دی تو اس کی قدر کرنے کے بجائے عذاب کی جلدی مچائے ہوئے ہیں اور ابھی پکڑ میں آ جائیں گے تو واویلا کرنا شروع کر دیں گے۔ خدا نے مال دیا ہے تو اس سے آخرت کی کمائی کرنے کے بجائے اس پر مار گنج بن کر بیٹھ گئے ہیں، اس کو اپنی قابلیت و ذہانت کا ثمرہ اور اپنے استحقاق کا کرشمہ سمجھ رہے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ یہ جو کچھ انھیں حاصل ہے اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کے منظور نظر ہیں اس وجہ سے انھیں یہ برابر حاصل رہے گا اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں اس سے بھی زیادہ ان کے لیے محفوظ ہے۔ لیکن ابھی کوئی افتاد پیش آ جائے تو فوراً مایوس اور دل شکستہ ہو کر واویلا شروع کر دیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی شیخی اور اکڑ کی پروا نہ کرو۔ یہ نہایت اوچھے اور تھڑ دلے لوگ ہیں۔ کسی خاص جماعت کو جب اس طرح کسی عام لفظ سے ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مقصود، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں، بے اعتنائی بلکہ اس کی تحقیر کا اظہار ہوتا ہے۔ گویا متکلم نے اس کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اس کو مخاطب کرے یا اس کی طرف اشارہ بھی کرے۔ یہ اسلوب بیان ہماری اپنی زبان میں بھی معروف ہے۔ داعیات میں عدم توازن: ’اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا‘ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح سورۂ انبیاء آیت ۳۷ میں ’خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ‘ یا سورۂ بنی اسرائیل آیت ۱۱ میں ’وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا‘ آیا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر جس طرح شہوت، غضب، حرص اور اس قبیل کے دوسرے داعیات کا ایک مقام ہے اسی طرح عجلت کا بھی ایک موقع و محل ہے۔ یہ شے بجائے خود مذموم نہیں ہے۔ مذموم اگر ہے تو اس کا بے محل یا غیر معتدل ظہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو متضاد داعیات کی کشمکش میں پیدا کر کے اس سے یہ چاہا ہے کہ وہ خدا کے احکام کے مطابق، جن کی تعلیم اس کو نبیوں کے ذریعہ سے دی گئی ہے، ان کے اندر توازن و ہم آہنگی پیدا کرے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور اس کے قوانین کا تابع بنائے۔ اس امتحان میں کامیابی ہی پر انسان کی تمام اخروی سعادت کا انحصار ہے۔ اختیار کا شرف بھی اس کو اس امتحان کے لیے عطا ہوا ہے۔ یہ امتحان مقصود نہ ہوتا تو انسان کو اختیار سے مشرف کرنے کے کوئی معنی بھی نہ ہوتے اور اس کو دوسری مخلوقات پر برتری حاصل کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ ہوتی۔ آیت میں جس چیز کو ’ھلع‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہ بھی جلد بازی اور بے صبری ہی کی ایک شکل ہے۔ اگر یہ چیز انسان پر اس طرح غالب ہو جائے کہ دوسرے مقابل داعیات اس کے آگے مغلوب ہو جائیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا بالکل مطابق حال ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق گویا اسی عنصر سے ہوئی ہے۔ ہانڈی میں نمک ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہو جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہانڈی نمک ہی سے تیار ہوئی ہے۔
    صرف نمازی اس سے مستثنیٰ ہیں۔
    عدم توازن سے پاک گروہ: یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس عدم توازن یا بے راہ روی سے پاک ہیں جس کا ذکر اوپر ہوا۔ فرمایا کہ نمازی اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفس کے متضاد داعیات میں صحیح توازن اور نقطۂ اعتدال پیدا کرنے میں اولین عامل کی حیثیت نماز کو حاصل ہے۔ جو شخص اپنی تربیت اس طرح کرنا چاہے کہ شیطان اس کو کسی بے راہ روی میں مبتلا نہ کرنے پائے اس کے لیے سب سے اول شے نماز کا اہتمام ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص اس مقصد میں کامیابی نہیں حاصل کر سکتا۔ نماز صحیح توازن پیدا کرتی ہے: رہا یہ سوال کہ نماز میں وہ کیا چیز ہے جس کے سبب سے اس مقصد تربیت میں اس کو اولیت حاصل ہے تو یہاں اس کے تفصیلی جواب کا محل نہیں ہے۔ اس کے جواب میں ہم نے ’حقیقت نماز‘ کے عنوان سے ایک رسالہ لکھا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کا مطالعہ کریں۔ یہاں ہم اس کے صرف انہی پہلوؤں کو زیربحث لائیں گے جن کی طرف قرآن نے اس مقام میں اشارہ کیا ہے۔
    وہ جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں۔
    عمل کے اندر روح مداومت سے پیدا ہوتی ہے: ’الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَآئِمُوْنَ‘۔ فرمایا کہ اس مقصد کے لیے انہی نمازیوں کی نماز کارآمد ہے جو اپنی نمازوں کی مداومت رکھتے ہیں۔ یہ ایک نہایت اہم تنبیہ ہے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کا بھی، مختلف پیرایوں سے ذکر ہوا ہے، جن کا حال یہ ہے کہ یوں تو ان کو کبھی ذکر الٰہی یا سجدہ کی توفیق نہیں ہوتی لیکن ان پر کوئی مصیبت آ جائے تو بڑے نمازی اور بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے والے بن جاتے ہیں۔ پھر جونہی وہ مرحلہ گزر جائے وہ کان جھاڑ کے اس طرح اس سے الگ ہو جاتے ہیں گویا خدا سے نہ کبھی ان کو کوئی سابقہ پڑا ہے اور نہ اب آئندہ کبھی پڑنے والا ہی ہے۔ اس طرح کی نماز چونکہ اسی عدم توازن کا ایک مظہر ہے جس کا یہاں علاج بتایا جا رہا ہے اس وجہ سے یہ نماز ان کی تربیت میں کچھ نافع نہیں ہوتی۔ نافع وہ نماز ہوتی ہے جس کی مداومت کی جائے اور گرم و سرد ہر طرح کے حالات میں اس کی پابندی قائم رہے۔ پابندی کے ساتھ تھوڑا عمل اس عمل سے کہیں زیادہ بابرکت ہے جو اگرچہ مقدار میں زیادہ ہو لیکن وہ محض وقتی اور ہنگامی ہو۔ ایک زور کا دونگڑا برس کر اگر ابر طویل عرصے کے لیے غائب ہو جائے تو فصلیں سوکھ کر تباہ ہو جاتی ہیں، برعکس اس کے تھوڑی بارش بھی جھڑی کی شکل میں قائم و دائم رہے تو وہ کھیتوں کو شاداب رکھتی اور فصلوں کو بارآور کرتی ہے۔ یہی حال نماز کا بھی ہے۔ دین کا جو عام مطالبہ ایک مسلمان سے ہے اگر وہ اسی کو پابندی اور تسلسل کے ساتھ پورا کرے تو اس کے عمل میں جو برکت ہو گی وہ ان لوگوں کے عمل میں نہیں ہو گی جو گاہ گاہ تو بڑے نمازی بن جاتے ہیں لیکن پھر اس طرح بھول جاتے ہیں کہ مسجد کی صورت بھی نہیں دیکھتے۔ حضرت عائشہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو جھڑی سے تشبیہ دی ہے۔ یعنی آپ جو عمل کرتے اس کی مداومت فرماتے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہو۔ عمل کی یہی مداومت اس کے اندر قوت، روح اور زندگی پیدا کرتی ہے۔
    اور وہ جن کے مالوں میں ایک معین حق ہوتا ہے۔
    نماز کے بعد انفاق دین کا دوسرا بازو ہے: یہ دین کے دوسرے بازو یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں انفاق کا بیان ہے۔ ہم جگہ جگہ یہ واضح کر چکے ہیں کہ دین کے اعمال میں نماز اور انفاق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ نماز بندے کو خدا سے جوڑتی ہے اور انفاق سے اس کا تعلق بنی نوع آدم سے صحیح بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ ’حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ‘ کے الفاظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اس سے زکوٰۃ ہی مراد ہو۔ زکوٰۃ کا سسٹم ایک معین شرح نصاب کے ساتھ تو مدنی دور میں نافذ ہوا اور یہ سورہ مکی ہے، بلکہ اس سے مراد اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کا انفاق محض رسمی طور پر چھدا اتارنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک حق واجب کی حیثیت سے، ایک معلوم مقدار میں، اپنے مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیتے ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں زکوٰۃ کا تصور: یہ امر یہاں واضح رہے کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی لوگ زکوٰۃ اور انفاق سے نا آشنا نہیں تھے۔ سورۂ انعام سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین بھی خدا کا حق اپنے مال میں سے نکالتے تھے لیکن اپنے مشرکانہ مزعومات کے تحت اس میں انھوں نے اپنے معبودوں کو بھی شریک کر رکھا تھا۔ حنیفیت کے پیرو تو خالص موحد تھے اس وجہ سے وہ جو کچھ بھی نکالتے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے حق کی حیثیت سے نکالتے۔ ان کے درمیان حضرت اسماعیل علیہ السلام سے متعلق یہ روایت موجود تھی کہ’وَکَانَ یَاْمُرْ اَھْلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ‘ (مریم ۱۹: ۵۵) (اور وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے)۔ اس وجہ سے یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے اہل عرب انفاق فی سبیل اللہ کی کسی معین شکل سے بالکل نا آشنا تھے۔ مدنی دور میں زکوٰۃ کی جو شرح معین ہوئی وہ اس شرح سے مختلف تو ہو سکتی ہے جو لوگوں میں پہلے رائج رہی ہو لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زمانۂ جاہلیت کے نیکوں کے اندر بھی زکوٰۃ کی ایک معینہ شکل معروف تھی۔ چنانچہ اسی وجہ سے مکی سورتوں میں بھی زکوٰۃ کا لفظ بار بار آیا ہے۔ ملت ابراہیم کی دوسری تعلیمات کی طرح یہ زکوٰۃ بھی بدعات کے حجاب میں گم تھی لیکن اس کا نام باقی تھا۔ اسلام نے اس کو اجاگر اور ازسر نو اس کی کامل صورت میں اسلامی معاشرے کے اندر نافذ کیا۔
    سائلوں اور محروموں کا۔
    ’سائل‘ اور محروم: ’لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‘۔ ’سَائِلٌ‘ سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کے آگے دست سوال پھیلاتا ہے۔ اس کا یہ عمل ہی گواہ ہے کہ وہ محتاج ہے اس وجہ سے مدد کا مستحق ہے۔ ایسے سائلوں کے متعلق زیادہ تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ آدمی جو کچھ دے سکے وہ دے دے، نہ دے سکے تو شائستہ طریق سے معذرت پیش کر دے۔ ان کو جھڑکنا یا ملامت کرنا جائز نہیں ہے۔ قران و حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ یہاں سچے نمازیوں کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ ان کے مال میں سائلوں کا ایک معین حق ہوتا ہے۔ ’مَحْرُوْمٌِ‘ سے مراد تو ظاہر ہے کہ وہ شخص ہے جو وسائل معاش سے محروم ہو لیکن یہاں یہ لفظ چونکہ ’سَائِل‘ کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ وہ محروم ہونے کے باوجود لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنے کا ننگ گوارا نہ کرتا ہو۔ بعض نادار ایسے خوددار ہوتے ہیں جو فاقے کرتے ہیں لیکن سوال کی ذلت گوارا نہیں کرتے۔ خاص طور پر وہ مصیبت زدہ جو پہلے صاحب حیثیت رہے ہوں پھر گردش روزگار کے ہاتھوں نان شبینہ کے محتاج ہو گئے ہوں۔ اس طرح کے خوددار لفظ ’محروم‘ کے اصلی مصداق ہیں۔ ان کی مدد ان کو تلاش کر کے بلکہ ان کے آگے، جیسا کہ بعض آیات سے اشارہ نکلتا ہے، جھک کے کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے کہ ان کی بلند ہمتی کسی کے آگے جھکنا گوارا نہیں کرتی۔ع ہمت نہ خورد نیشتر لا و نعم را  
    اور جو تصدیق کرتے ہیں جزا کے دن کی۔
    انفاق کا اصلی محرک: یہ ان کے اس انفاق کے محرک کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ چونکہ یہ لوگ روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں اس وجہ سے انھوں نے اپنے مال میں غریبوں اور محتاجوں کا ایک حق معین کر رکھا ہے۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے لیے غریبوں اور محتاجوں کا حق پہچاننا نہایت مشکل ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’اَرَءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ ہ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۲) (بھلا دیکھا تم نے اس کو جو روزجزا کا جھٹلاتا ہے، وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے)۔  
    اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہنے والے ہیں۔
    ’وَالَّذِیْنَ ھُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ‘۔ یہ اسی تصدیق بیوم الدین کی وضاحت ہے کہ وہ جزا و سزا پر ایمان رکھتے ہیں اس وجہ سے اپنے رب کے عذاب سے برابر لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ ان کے اس باطن پر سورۂ دہر میں یوں روشنی ڈالی گئی ہے: ’یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیْرًا ہ وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ہ اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا ہ اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۷-۱۰) (اور وہ اپنی نذریں پوری کرتے اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہمہ گیر ہو گی اور مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں، اس کی کمیابی اور اس کے ضرورت مند ہونے کے باوجود۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تمہیں صرف رضائے الٰہی کے لیے کھلاتے ہیں، تم سے کسی بدلے یا شکرگزاری کے خواہاں نہیں ہیں۔ ہم اپنے رب کی طرف سے ایک سخت منحوس قسم کے دن کا اندیشہ رکھتے ہیں)۔ انفاق کا یہی محرک فطری، بے ریا، بے غرض اور پاکیزہ محرک ہے اس وجہ سے قرآن نے اسی کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے سوا جو دوسرے محرکات ہیں یا جو مصنوعی طور پر پیدا کیے جاتے ہیں وہ تمام تر کاروباری محرکات ہیں جن سے نہ تو نفس کی کوئی اصلاح ہوتی ہے اور نہ ان کے تحت کیا ہوا انفاق خدا کے ہاں مقبول ہے۔ اس نکتہ کی وضاحت پیچھے بھی ہو چکی ہے اور آگے بھی اس کے بعض اہم پہلو ’ان شاء اللہ‘ روشنی میں آئیں گے۔  
    بے شک ان کے رب کا عذاب بے خوف ہونے کی چیز نہیں ہے۔
    یہ اوپر والے ٹکڑے پر نہایت بلیغ استدراک ہے کہ جو لوگ اپنے رب کے عذاب سے اس طرح لرزاں و ترساں ہیں وہ بڑے ہی دانش مند ہیں۔ ان کے رب کا عذاب چیز ہی ایسی ہے کہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے بے خوف نہ رہا جائے۔ نہیں معلوم وہ کس وقت آ دھمکے اور جب بھی آ دھمکے کوئی نہیں ہے جو اس کو ٹال سکے یا تھوڑی دیر کے لیے اس کے رخ ہی کو موڑ سکے ۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی سب سے موثر تدبیر کوئی ہے تو وہ غریبوں مسکینوں کو کھلانا پہنانا ہے۔
    اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    طہارت اخلاق: نماز، انفاق اور خشیت الٰہی کے بعد یہ ان کے اخلاق کی طہارت کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ وہ سانڈ بن کر تمام حدود الٰہی کو توڑ تاڑ کر رکھ دیں۔ وہ اپنی جنسی خواہشوں کواپنی بیویوں اور لونڈیوں؂۱ تک محدود رکھتے ہیں۔ اس حد سے تجاوز کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔ اور جو لوگ اس سے تجاوز کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ حدود الٰہی سے تجاوز کی سزا بھگتیں گے اس لیے کہ خدا اپنے حدود کی بے حرمتی کرنے والوں سے ضرور انتقام لے گا۔ _____ ؂۱ لونڈیوں اور غلاموں کے مسئلہ پر سورۂ نور کی تفسیر میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔
    بجز اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے حد تک، سو اس باب میں ان کو کوئی ملامت نہیں۔
    طہارت اخلاق: نماز، انفاق اور خشیت الٰہی کے بعد یہ ان کے اخلاق کی طہارت کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ وہ سانڈ بن کر تمام حدود الٰہی کو توڑ تاڑ کر رکھ دیں۔ وہ اپنی جنسی خواہشوں کواپنی بیویوں اور لونڈیوں؂۱ تک محدود رکھتے ہیں۔ اس حد سے تجاوز کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔ اور جو لوگ اس سے تجاوز کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ حدود الٰہی سے تجاوز کی سزا بھگتیں گے اس لیے کہ خدا اپنے حدود کی بے حرمتی کرنے والوں سے ضرور انتقام لے گا۔ _____ ؂۱ لونڈیوں اور غلاموں کے مسئلہ پر سورۂ نور کی تفسیر میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔
    ہاں، جس نے اس سے آگے بڑھ کر چاہا تو وہی لوگ حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔
    طہارت اخلاق: نماز، انفاق اور خشیت الٰہی کے بعد یہ ان کے اخلاق کی طہارت کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ وہ سانڈ بن کر تمام حدود الٰہی کو توڑ تاڑ کر رکھ دیں۔ وہ اپنی جنسی خواہشوں کواپنی بیویوں اور لونڈیوں؂۱ تک محدود رکھتے ہیں۔ اس حد سے تجاوز کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔ اور جو لوگ اس سے تجاوز کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ حدود الٰہی سے تجاوز کی سزا بھگتیں گے اس لیے کہ خدا اپنے حدود کی بے حرمتی کرنے والوں سے ضرور انتقام لے گا۔ _____ ؂۱ لونڈیوں اور غلاموں کے مسئلہ پر سورۂ نور کی تفسیر میں مفصل بحث گزر چکی ہے۔
    اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔
    ایک ہی بات جو نیکیوں کا شیرازہ ہے: ایک ہی جامع بات بہت سی نیکیوں کا شیرازہ ہے۔ فرمایا کہ ’اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں‘۔ لفظ ’امانت‘ محدود معنی میں نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ انسان کی جتنی قوتیں اور صلاحیتیں ہیں اور جن اسباب و وسائل سے بھی اللہ تعالیٰ نے اس کو بہرہ مند فرمایا ہے، وہ سب اس کی تحویل میں امانت ہیں اور ایک دن ان میں سے ایک ایک کی بابت اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ ان کے استعمال میں کوئی خیانت تو نہیں کی گئی ہے؟ قرآن میں تصریح ہے کہ سمع و بصر اور عقل و دل کی تمام صلاحیتوں سے متعلق ایک دن پرسش ہونی ہے اور جس نے بھی کوئی خیانت کی ہو گی وہ اس کی سزا بھگتے گا۔ اسی طرح یہ بھی تصریح ہے کہ قیامت کے دن ہر نعمت سے متعلق سوال ہو گا۔ اسی طرح لفظ ’عھد‘ بھی یہاں وسیع معنوں میں ہے۔ وہ عہد بھی اس میں شامل ہے جو باہمی قول و قرار سے ہمارے اندر وجود میں آتا ہے، وہ عہد بھی اس میں شامل ہے جو اگرچہ قول و قرار سے وجود میں نہیں آتا لیکن ہر اچھے معاشرے میں وہ مسلم اور معروف ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہماری فطرت سے جو عہد لیا ہے وہ بھی اس میں شامل ہے اور سب سے زیادہ اہم حصہ اس کا وہ عہد و میثاق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے ہم سے لیا ہے اور جس کی دفعات نہایت وضاحت سے شریعت میں مرقوم ہیں۔
    اور وہ جو اپنی شہادتوں کو ادا کرنے والے ہیں۔
    شہادت وسیع معنوں میں: جس طرح اوپر والی آیت میں امانت اور عہد کے الفاظ وسیع معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اسی طرح لفظ ’شہادت‘ اس آیت میں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ہر شخص چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی اس شہادت کے ادا کرنے کا ذمہ دار ہے جس کا بار اس نے اپنے سر لیا ہے اور اس شہادت کبریٰ کے ادا کرنے کا بھی ذمہ دار ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ’لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا‘ (البقرہ ۲: ۱۴۳) (تاکہ تم لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے) والی آیت میں مامور فرمایا ہے۔
    اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔
    نماز ہی دین کے لیے حصار ہے: اب یہ آخر میں نماز کا پھر ذکر فرمایا۔ آیات ۲۲-۲۳ میں نماز ہی سے ان صفات کے بیان کا آغاز فرمایا تھا اور اب اسی پر اس باب کو ختم کیا جس سے یہ بات بالبداہت نکلتی ہے کہ نماز ہی ان تمام نیکیوں کا منبع بھی اور وہی ان کی محافظ بھی ہے۔ گویا تمام دین و اخلاق کے لیے نماز کی حیثیت حصار کی ہے۔ جس نے اس حصار کو محفوظ رکھا وہ اپنے دین کو محفوظ رکھے گا اور جس نے اس حصار کو توڑ دیا وہ اپنے سارے دین کو ضائع کر بیٹھے گا۔ اس حقیقت کی وضاحت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یوں فرمائی ہے کہ ’جو نماز کو ضائع کر دے گا وہ باقی دین کو بدرجۂ اولیٰ ضائع کر بیٹھے گا‘۔ یہاں اس پہلو پر بھی نگاہ رہے کہ اوپر والی آیت میں نماز کی مداومت کا ذکر ہے اور اس آخری آیت میں اس کی محافظت کی تاکید ہے۔ محافظت سے مراد نماز کو ان آفات و خطرات سے محفوظ رکھنا ہے جو اس کی افادیت کو برباد کر دینے والے ہیں۔ مثلاً یہ کہ نماز پڑھی تو جائے لیکن اوقات کی پابندی یا جماعت کی حاضری کا اہتمام نہ رکھا جائے، یا نماز کے ساتھ ایسے افعال کا ارتکاب کیا جائے جو اس کے مقاصد کے منافی ہوں۔ ان خطرات و آفات کی پوری وضاحت ہم نے اپنے رسالہ ’حقیقت نماز‘ میں بھی کی ہے اور اپنی کتاب ’تزکیۂ نفس‘ میں بھی۔ جن کو تفصیل مطلوب ہو ان کی مراجعت کریں۔؂۱ _____ ؂۱ معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یہ آیتیں سورۂ مومنون کے شروع میں بھی گزر چکی ہیں۔ وہاں ان کے ہر جزو پر ہم نے تفصیل سے بحث کی ہے۔
    یہی لوگ جنتوں میں، عزت کے ساتھ، رہنے والے ہوں گے۔
    فرمایا کہ یہ لوگ جو مذکورہ اوصاف کے حامل ہوں گے جنت کے باغوں میں، عزت و اکرام کے ساتھ براجمان ہوں گے۔ قریش کے مغروروں کو تنبیہ: اس میں قریش کے ان مغروروں پر تعریض ہے جو اپنی موروثی سیادت کے پندار میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی منظور نظر سمجھے بیٹھے تھے۔ ان کا زعم یہ تھا کہ آخرت ہوئی تو جس طرح اس دنیا میں وہ نعمتوں کے مستحق قرار پائے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی مدارج عالیہ کے مستحق ٹھہریں گے اور جو لوگ یہاں مفلوک الحال ہیں وہ وہاں بھی اسی طرح مفلوک الحال رہیں گے۔ ان لوگوں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ جنت وراثت میں منتقل ہونے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آدمی کے کردار و اعمال سے ہے۔ جو لوگ وہ کردار اپنائیں گے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں وہ جنت میں جائیں گے، خواہ امیر ہوں یا غریب، اور جو اس کردار سے محروم رہیں گے وہ اس کی بو بھی نہ سونگھیں گے، خواہ وہ عرب کے صنادید میں سے ہوں یا عجم کے صنادید میں سے۔
    تو ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے (کہ دہنے بائیں سے)، تم پر پلے پڑ رہے ہیں (گروہ در گروہ)!
    قرآن کا یہ فیصلہ سن کر قریش کے مغروروں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ یہ کس طرح سن سکتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور تمام عزتوں اور عظمتوں کے وارث و مورث، سادات قریش دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ اس غصہ میں وہ ٹولیاں؂۱ بنا بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تردید و توہین کے لیے دہنے بائیں سے آپؐ پر پل پڑتے۔؂۲ ان آیات میں اسی صورت حال کی تصویر اور ان مغروروں کی خرد باختگی پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا کہ ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہر طرف سے تمہارے اوپر ٹولیاں بنا بنا کر پلے پڑ رہے ہیں! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ جنت میں جا براجے گا!! یعنی اگر اس طمع خام میں یہ مبتلا ہیں تو ان کی یہ توقع کبھی پوری ہونے والی نہیں ہے۔ ان برخود غلط اغنیاء کی اس طمع خام کا ذکر قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ حٰمٓ السجدہ میں ہے: ’وَمَآ أَظُنُّ السَّاعَۃَ قَائِمَۃً وَلَئِنۡ رُّجِعْتُ إِلٰٓی رَبِّیْ إِنَّ لِیْ عِنۡدَہُ لَلْحُسْنٰی‘ (۵۰) (اور میں اول تو یہ گمان ہی نہیں رکھتا کہ قیامت ہونے والی ہے اور اگر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہی ہوا تو میرے لیے اس کے پاس اچھا ہی صلہ ہے)۔ سورۂ قلم میں انہی مغروروں کی تردید ان الفاظ میں فرمائی گئی ہے: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۵ مَا لَکُمْ کَیْْفَ تَحْکُمُوۡنَ ۵ اَمْ لَکُمْ کِتَابٌ فِیْہِ تَدْرُسُوۡنَ ۵ إِنَّ لَکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوۡنَ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۸) ’’کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کی طرح بنا دیں گے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے! تم کیسے فیصلے کرتے ہو! کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟ اس میں تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو پسند کرتے ہو!‘‘ _____ ؂۱ قرآن میں لفظ ’عزین‘ آیا ہے جو ’عزۃ‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی گروہ اور موالی کے ہیں۔ ؂۲ لفظ ’اھطاع‘ کے معنی کسی طرف تیزی سے بڑھنے اور لپکنے کے ہیں۔
    (تو ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے) کہ دہنے بائیں سے، (تم پر پلے پڑ رہے ہیں) گروہ در گروہ!
    قرآن کا یہ فیصلہ سن کر قریش کے مغروروں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ یہ کس طرح سن سکتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور تمام عزتوں اور عظمتوں کے وارث و مورث، سادات قریش دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ اس غصہ میں وہ ٹولیاں؂۱ بنا بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تردید و توہین کے لیے دہنے بائیں سے آپؐ پر پل پڑتے۔؂۲ ان آیات میں اسی صورت حال کی تصویر اور ان مغروروں کی خرد باختگی پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا کہ ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہر طرف سے تمہارے اوپر ٹولیاں بنا بنا کر پلے پڑ رہے ہیں! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ جنت میں جا براجے گا!! یعنی اگر اس طمع خام میں یہ مبتلا ہیں تو ان کی یہ توقع کبھی پوری ہونے والی نہیں ہے۔ ان برخود غلط اغنیاء کی اس طمع خام کا ذکر قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ حٰمٓ السجدہ میں ہے: ’وَمَآ أَظُنُّ السَّاعَۃَ قَائِمَۃً وَلَئِنۡ رُّجِعْتُ إِلٰٓی رَبِّیْ إِنَّ لِیْ عِنۡدَہُ لَلْحُسْنٰی‘ (۵۰) (اور میں اول تو یہ گمان ہی نہیں رکھتا کہ قیامت ہونے والی ہے اور اگر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہی ہوا تو میرے لیے اس کے پاس اچھا ہی صلہ ہے)۔ سورۂ قلم میں انہی مغروروں کی تردید ان الفاظ میں فرمائی گئی ہے: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۵ مَا لَکُمْ کَیْْفَ تَحْکُمُوۡنَ ۵ اَمْ لَکُمْ کِتَابٌ فِیْہِ تَدْرُسُوۡنَ ۵ إِنَّ لَکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوۡنَ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۸) ’’کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کی طرح بنا دیں گے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے! تم کیسے فیصلے کرتے ہو! کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟ اس میں تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو پسند کرتے ہو!‘‘ _____ ؂۱ قرآن میں لفظ ’عزین‘ آیا ہے جو ’عزۃ‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی گروہ اور موالی کے ہیں۔ ؂۲ لفظ ’اھطاع‘ کے معنی کسی طرف تیزی سے بڑھنے اور لپکنے کے ہیں۔
    کیا ان میں سے ہر ایک یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ جنت نعیم میں داخل کر لیا جائے گا!
    قرآن کا یہ فیصلہ سن کر قریش کے مغروروں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ یہ کس طرح سن سکتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے نادار و مفلوک الحال ساتھی تو جنت میں براجمان ہوں گے اور تمام عزتوں اور عظمتوں کے وارث و مورث، سادات قریش دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ اس غصہ میں وہ ٹولیاں؂۱ بنا بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تردید و توہین کے لیے دہنے بائیں سے آپؐ پر پل پڑتے۔؂۲ ان آیات میں اسی صورت حال کی تصویر اور ان مغروروں کی خرد باختگی پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا کہ ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہر طرف سے تمہارے اوپر ٹولیاں بنا بنا کر پلے پڑ رہے ہیں! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ جنت میں جا براجے گا!! یعنی اگر اس طمع خام میں یہ مبتلا ہیں تو ان کی یہ توقع کبھی پوری ہونے والی نہیں ہے۔ ان برخود غلط اغنیاء کی اس طمع خام کا ذکر قرآن مجید میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ حٰمٓ السجدہ میں ہے: ’وَمَآ أَظُنُّ السَّاعَۃَ قَائِمَۃً وَلَئِنۡ رُّجِعْتُ إِلٰٓی رَبِّیْ إِنَّ لِیْ عِنۡدَہُ لَلْحُسْنٰی‘ (۵۰) (اور میں اول تو یہ گمان ہی نہیں رکھتا کہ قیامت ہونے والی ہے اور اگر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہی ہوا تو میرے لیے اس کے پاس اچھا ہی صلہ ہے)۔ سورۂ قلم میں انہی مغروروں کی تردید ان الفاظ میں فرمائی گئی ہے: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۵ مَا لَکُمْ کَیْْفَ تَحْکُمُوۡنَ ۵ اَمْ لَکُمْ کِتَابٌ فِیْہِ تَدْرُسُوۡنَ ۵ إِنَّ لَکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوۡنَ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۸) ’’کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کی طرح بنا دیں گے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے! تم کیسے فیصلے کرتے ہو! کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟ اس میں تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو پسند کرتے ہو!‘‘ _____ ؂۱ قرآن میں لفظ ’عزین‘ آیا ہے جو ’عزۃ‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی گروہ اور موالی کے ہیں۔ ؂۲ لفظ ’اھطاع‘ کے معنی کسی طرف تیزی سے بڑھنے اور لپکنے کے ہیں۔
    ہرگز نہیں! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں!
    یہ ان مغروروں کے اس زعم باطل پر ضرب لگائی ہے کہ یہ اپنے تقدس اور بزرگی کی حکایت زیادہ نہ بڑھائیں۔ ان کا یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر ہونے والا نہیں ہے۔ ہم نے ان کو جس چیز سے پیدا کیا ہے وہ ان سے مخفی نہیں ہے۔ اس کو بھول نہ جائیں۔ یعنی پانی، کیچڑ، مٹی اور مٹی سے پیدا ہونے والی مخلوق کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ وہ شرافت حسب و نسب کے غرور میں اپنے آپ کو جنت کا موروثی حق دار سمجھ بیٹھے! مجرد خِلقت کے اعتبار سے کسی کو بھی کوئی شرف حاصل نہیں ہے۔ شرف اور استحقاق حاصل ہو سکتا ہے تو ان اعمال کی بنا پر حاصل ہو سکتا ہے جو اللہ کو پسند ہیں۔ اگر یہ متاع کسی کے پاس نہیں ہے تو اجزائے خلقت کے اعتبار سے تو نہ صرف تمام انسان بلکہ ناپاک سے ناپاک حیوانات بھی اس کے مساوی ہیں۔ یہی مضمون سورۂ نجم میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے: ہُوَ أَعْلَمُ بِکُمْ إِذْ أَنشَأَکُمۡ مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنۡتُمْ أَجِنَّۃٌ فِیْ بُطُوۡنِ أُمَّہَاتِکُمْ فَلَا تُزَکُّوۡا أَنفُسَکُمْ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی (النجم ۵۳: ۳۲) ’’وہ تم کو خوب جانتا ہے جب کہ اس نے زمین سے تم کو پیدا کیا اور جب کہ تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بشکل جنین رہے تو اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہراؤ۔ وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جنھوں نے پرہیزگاری اختیار کی۔‘‘ سورۂ نجم کی تفسیر میں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ یہ آیت صوفیوں کے عقیدۂ وحدت الوجود پر بھی ایک ضرب کاری ہے۔  
    پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے خداوند کی کہ ہم قادر ہیں۔
    عربیت کا ایک خاص اسلوب: یہ اسی طرح کی قسم ہے جس طرح کی قسم پچھلی سورہ کی آیات ۳۸-۳۹ میں گزر چکی ہے۔ قسم سے پہلے جو ’لَا‘ ہے اس کی وضاحت سابق سورہ میں ہو چکی ہے۔ ’مشارق‘ اور ’مغارب‘ کے الفاظ اپنے مقام پر زیربحث آ چکے ہیں۔ قرآن میں یہ الفاظ واحد، مثنیٰ اور جمع تینوں شکلوں میں استعمال ہوئے ہیں اور تینوں ہی صورتوں میں معنی کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ عربی زبان میں بعض مرتبہ مثنیٰ کسی شے کے دونوں اطراف کی طرف اشارہ کے لیے آتا ہے جس طرح سورۂ کہف میں ’بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ‘ آیا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات جمع محض کسی شے کی وسعت اطراف کو ظاہر کرنے کے لیے آتی ہے جس کی وضاحت ہم نے سورۂ اعراف کی تفسیر میں کی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم تمام مشرق و مغرب کے خداوند ہونے کی حیثیت سے کھا کر اپنی اس غیر محدود قدرت کا اثبات فرمایا ہے کہ وہ جب چاہے گا لوگوں کو ان کے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو زندہ کر دے گا اور کوئی مشکل بھی اس کے ارادے میں آڑے نہیں آئے گی۔ اس قسم میں شہادت کا پہلو، جو قسم کا اصل مدعا ہوتا ہے، بالکل واضح ہے۔ اس کائنات میں ہم روز یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ سورج، چاند اور کروڑوں اربوں کواکب و نجوم کائنات کے خداوند کے حکم سے طلوع اور غروب ہوتے ہیں تو کیا جس خدائے قادر و قیوم کے اختیار میں ان کو روز غائب کر دینے کے بعد پھر نمودار کر دینا بھی ہے اس کے لیے لوگوں کو ان کے مر کھپ جانے کے بعد ازسرنو زندہ کر دینا مشکل ہو جائے گا؟ پہلا کام زیادہ مشکل ہے یا دوسرا؟ جو پہلے پر قادر ہوا تو وہ دوسرے سے کیوں قاصر رہ جائے گا! سورۂ نازعات میں یہی دلیل زیادہ جامع اسلوب میں بیان ہوئی ہے: ءَ اَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقاً أَمِ السَّمَآءُ بَنَاہَا ۵ رَفَعَ سَمْکَہَا فَسَوَّاہَا ۵ وَأَغْطَشَ لَیْْلَہَا وَأَخْرَجَ ضُحَاہَا ۵ وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحَاہَا ۵ أَخْرَجَ مِنْہَا مَآءَ ہَا وَمَرْعَاہَا ۵ وَالْجِبَالَ أَرْسَاہَا۔ (النازعات ۷۹: ۲۷-۳۲) ’’کیا تمہارا دوبارہ پیدا کیا جانا زیادہ کٹھن ہے یا آسمان کا؟ اس کو بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا اور اس کو ہموار کیا۔ اور اس کی رات کو ڈھانک دیا اور اس کے دن کو بے نقاب کیا اور زمین کو اس کے بعد بچھایا اور اس سے اس کا پانی اور چارہ برآمد کیا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔‘‘  
    اس بات پر کہ ہم ان کو بدل دیں ان سے بہتر سے اور ہم اس سے عاجز رہنے والے نہیں ہیں۔
    وہ بات جس پر قسم کھائی گئی ہے: ’عَلٰی أَن نُّبَدِّلَ خَیْْرًا مِّنْہُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِیْنَ‘۔ یعنی ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر مخلوق لائیں جو اللہ کے دین کو ماننے والی ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان کو دوبارہ اس سے بہتر صورت میں پیدا کر دیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ہم اس سے بہتر صورت میں پیدا کر دینے پر بھی قادر ہیں تو بعینہٖ انہی کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ہمارے لیے اور بھی آسان ہے۔ عام طور پر لوگوں نے پہلے مطلب ہی کو اختیار کیا ہے اور زبان کے پہلو سے اس میں کوئی خرابی بھی نہیں ہے لیکن میرا رجحان دوسرے مطلب کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورہ میں اصل زیربحث موضوع وقوع قیامت ہے جس کو مستبعد سمجھنے کی بڑی وجہ منکرین کے لیے یہی تھی کہ مر کھپ جانے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو وہ خارج از امکان قرار دیتے تھے۔ آگے کی آیات سے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔
    پس ان کو چھوڑو یہ سخن گستری اور ہنسی مسخری کر لیں یہاں تک کہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے۔
    یہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور منکرین کے لیے وعید ہے کہ اگر یہ لوگ نہیں سمجھتے تو ان کو چھوڑو۔ یہ جن سخن سازیوں اور دلچسپیوں میں لگے ہوئے ہیں ان میں لگے رہیں یہاں تک کہ وہ دن ان کے آگے آ جائے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اور وہ اس سے نچنت ہیں۔
    جس دن نکلیں گے قبروں سے سرعت کے ساتھ گویا کہ وہ نشانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
    لفظ ’نُصُبٌ‘ جمع ہے ’نَصِیْبٌ‘ کی جس کے ایک معنی گاڑے ہوئے پتھر کے ہیں۔ گاڑے ہوئے پتھر سے مراد وہ پتھر بھی ہو سکتے ہیں جو مشرکین اپنی نذریں اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے گاڑتے تھے اور وہ پتھر بھی ہو سکتے ہیں جو دوڑ وغیرہ کے مقابلہ کے لیے نشان کے طور پر گاڑ دیے جاتے ہیں۔ ابن عباسؓ، مجاہدؒ اور ضحاکؒ اس سے مراد لیتے ہیں جس کو دوڑ لگانے کے لیے ایک نشان کے طور پر گاڑا جائے۔ ابوالعالیہؒ اور یحییٰ بن کثیرؒ اس سے ’غایت‘ (یعنی گول کا نشان) مراد لیتے ہیں جس کو نشان ٹھہرا کر اس کی طرف مقابلہ کی دوڑ لگائی جائے۔ ’ایفاض‘ کے معنی ’اسراع‘ یعنی تیزی سے چلنے یا بھاگنے کے ہیں۔ میرے نزدیک لفظ ’نُصُبٌ‘ یہاں نشان اور عَلم ہی کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ متمردین اللہ کے داعی سے اکڑتے اور اس کی بتائی ہوئی راہ سے منحرف ہو کر دوسری راہوں پر چل رہے ہیں لیکن وہ دن بھی آنے والا ہے جب قیامت کا داعی اپنا صور پھونکے گا اور یہ قبروں سے نکل کر تیزی سے اس طرح اس کی طرف لپکیں گے گویا وہ دوڑ کے معین نشانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن ان کے سارے کَس بل نکل جائیں گے اور یہ کج روی ان کی ختم ہو جائے گی۔ قیامت کے داعی کی پکار پر جس طرح لوگ اس طرف بھاگیں گے اس کی تصویر قرآن میں یوں کھینچی گئی ہے:’یَوْمَئِذٍ یَتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ‘ (طٰہٰ ۲۰: ۱۰۸) (جس دن وہ داعی کی پکار کی پیروی بغیر کسی کجی کے کریں گے)۔ یعنی جس طرح تیر سیدھا اپنے معین ہدف کی طرف جاتا ہے اسی طرح یہ داعی کی طرف لپکیں گے۔ عام طور پر لوگوں نے ’نُصُبٌ‘ سے معبودوں کے تھان اور استھان مراد لیے ہیں لیکن اول تو یہ اس لفظ کا ضمنی مفہوم ہے دوسرے تھان یا استھان کی طرف دوڑنے کا کوئی مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ مشرکین کے متعلق اس قسم کی کوئی روایت بھی میرے علم میں نہیں ہے۔
    ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہو گی۔ یہ ہے وہ دن جس سے وہ ڈرائے جاتے رہے ہیں۔
    یعنی آج تو اللہ کا رسول اس دن سے ان کو ڈراتا ہے تو اس کا منہ نوچنے کو دوڑتے ہیں لیکن جب قیامت کا داعی ان کو پکارے گا تو یہ اس کی طرف اس طرح لپکیں گے کہ خوف سے ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی ۔۔۔ فرمایا کہ یہ وہ دن ہو گا جس کی ان کو وعید سنائی جاتی رہی ہے۔ یہاں اس سوال کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جو پہلی آیت میں ’سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ‘ کے الفاظ سے نقل ہوا ہے۔ اس کے ضروری پہلوؤں پر بحث اور اس کی تصویر کے بعد یہ آخری آیت میں اس کا جواب دے دیا کہ یہ ہے وہ عذاب کا دن جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا لیکن وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس طرح شروع سے آخر تک تمام کلام مربوط ہو گیا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List