Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الحاقۃ (The Sure Reality)

    52 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور نظام

    اس سورہ پر تدبر کی نظر ڈالیے تو اس میں اور سابق گروپ کی سورۂ واقعہ میں مختلف پہلوؤں سے بڑی گہری مشابہت نظر آئے گی، مثلاً

    ۔۔۔ دونوں میں قیامت کا اثبات اور اس کے ہول کی تصویر ہے۔

    ۔۔۔ دونوں میں اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کے انجام کی تفصیل ہے۔

    ۔۔۔ دونوں میں قرآن مجید کی صداقت و حقانیت پر قسم کھائی گئی ہے۔

    سابق سورہ ۔۔۔ القلم ۔۔۔ سے بھی اس کو بڑی گہری مناسبت ہے۔ اس کا عمود وہی ہے جو سابق سورہ کا ہے یعنی اثبات عذاب و قیامت۔ البتہ نہج استدلال دونوں میں الگ الگ ہے۔ قرآن کی عظمت و صداقت جس طرح سابق سورہ میں واضح کی گئی ہے اور اس کی تکذیب کے نتائج سے ڈرایا گیا ہے اسی طرح اس سورہ میں بھی یہی مضمون زیربحث آیا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ سابق سورہ میں یہ مضمون تمہید کی حیثیت سے ہے اور اس سورہ میں خاتمہ کے طور پر اور تذکیر و تعلیم کے پہلو سے ان دونوں اسلوبوں کی اہمیت الگ الگ ہے۔

  • الحاقۃ (The Sure Reality)

    52 آیات | مکی
    الحاقۃ - المعارج

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ دنیا اور آخرت میں جس عذاب سے قریش کو متنبہ کرتی ہے،دوسری میں اُسی کا مذاق اڑانے اور اُس کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔ دونوں میں روے سخن قریش کے سرداروں کی طرف ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ پچھلی سورتوں کی طرح یہ بھی ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحاقۃ — کا موضوع قیامت میں جزا و سزا کا اثبات، اُس کے حقائق کا بیان اور اُس کے بارے میں قرآن کے انذار کو جھٹلانے کے نتائج سے اپنے مخاطبین کو متنبہ کرنا ہے۔

    دوسری سورہ — المعارج — کا موضوع اِنھی نتائج کو استہزا کا نشانہ بنانے اور اِن کے لیے جلدی مچانے والوں کو اُن کے انجام سے خبردار کرنا، پیغمبر کو اُن کے مقابلے میں صبر کی تلقین کرنا اور اُنھیں یہ بتانا ہے کہ جنت حسن عمل کی جزا ہے۔ اِس سے محروم کوئی شخص، خواہ عرب و عجم کے صنادید میں سے کیوں نہ ہو، خدا کی اِس ابدی بادشاہی میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 069 Verse 001 Chapter 069 Verse 002 Chapter 069 Verse 003 Chapter 069 Verse 004 Chapter 069 Verse 005 Chapter 069 Verse 006 Chapter 069 Verse 007 Chapter 069 Verse 008 Chapter 069 Verse 009 Chapter 069 Verse 010 Chapter 069 Verse 011 Chapter 069 Verse 012 Chapter 069 Verse 013 Chapter 069 Verse 014 Chapter 069 Verse 015 Chapter 069 Verse 016 Chapter 069 Verse 017 Chapter 069 Verse 018 Chapter 069 Verse 019 Chapter 069 Verse 020 Chapter 069 Verse 021 Chapter 069 Verse 022 Chapter 069 Verse 023 Chapter 069 Verse 024 Chapter 069 Verse 025 Chapter 069 Verse 026 Chapter 069 Verse 027 Chapter 069 Verse 028 Chapter 069 Verse 029 Chapter 069 Verse 030 Chapter 069 Verse 031 Chapter 069 Verse 032 Chapter 069 Verse 033 Chapter 069 Verse 034 Chapter 069 Verse 035 Chapter 069 Verse 036 Chapter 069 Verse 037 Chapter 069 Verse 038 Chapter 069 Verse 039 Chapter 069 Verse 040 Chapter 069 Verse 041 Chapter 069 Verse 042 Chapter 069 Verse 043 Chapter 069 Verse 044 Chapter 069 Verse 045 Chapter 069 Verse 046 Chapter 069 Verse 047 Chapter 069 Verse 048 Chapter 069 Verse 049 Chapter 069 Verse 050
    Click translation to show/hide Commentary
    شُدنی!
    ’اَلْحَاقَّۃُ‘ کا مفہوم: ’اَلْحَاقَّۃُ‘ کے معنی ہیں وہ بات جو شُدنی ہو، جس کا وقوع عقلاً و اخلاقاً لازم ہو، جو بالکل اٹل اور قطعی ہو۔ یہ ایک ہی لفظ جملہ کے قائم مقام ہے۔ جن لوگوں نے ’مَا الْحَاقَّۃُ‘ کو اس کی خبر قرار دیا ہے ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ یہ اسلوب بیان اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب، خاص طور پر غافل مخاطب کو ہڑبڑا دینا مقصود ہو۔ ایسی صورت میں صرف مبتدا کا ذکر کافی ہوتا ہے، خبر کی ضرورت نہیں ہوتی تاکہ مخاطب کی پوری توجہ مبتدا ہی پر مرکوز ہو جائے۔ اس طرح جملہ میں جو ابہام پیدا ہوتا ہے وہ مخاطب کی توجہ جذب کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ’اَلْحَاقَّۃُ‘ قیامت کے ناموں میں سے ہے۔ یہ نام اس کے شُدنی اور واقعی ہونے کو بھی ظاہر کرتا ہے اور عقلاً اور اخلاقاً اس کے واجب ہونے کو بھی۔ اس کے ان دونوں پہلوؤں کے دلائل کی تفصیل پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے، بعض اشارات اس سورہ میں بھی ہیں اور آگے کی سورتوں میں بھی اس کے نہایت اہم پہلو واضح ہوں گے۔ اصلاً تو اس سے مراد قیامت ہی ہے لیکن ضمناً اس میں وہ عذاب بھی شامل ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کی قوم پر آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عذاب قیامت کی تمہید بھی ہوتا ہے اور اس کی تصدیق بھی اور آتا بھی ہے درحقیقت قیامت کی تکذیب ہی کی پاداش میں۔ اللہ کے رسولوں نے بیک وقت دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک عذاب قیامت سے اور دوسرے اس عذاب سے جو تکذیب قیامت کا لازمی نتیجہ ہے۔ قوموں نے جب قیامت کو جھٹلایا اور رسول کی صداقت کی کسوٹی اس عذاب کو ٹھہرایا جس کی دھمکی انھیں تکذیب کے نتیجہ کے طور پر دی گئی تو اتمام حجت کے بعد یہ عذاب ان پر آ گیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی ہر بات اور رسول کی ہر وعید سچی ہے اس وجہ سے یہ عذاب بھی ’حَاقَّۃُ‘ یعنی شُدنی کی حیثیت رکھتا ہے۔
    کیا ہے شُدنی!
    ’مَا الْحَاقَّۃُ‘۔ یہ سوال اس کے ہول، اس کی دہشت اور اس کی بے پناہی کی تعبیر کے لیے ہے جس کی مزید وضاحت بعد کے الفاظ ’وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْحَاقَّۃُ‘ سے ہوتی ہے کہ کون جان سکتا اور کون بتا سکتا ہے کہ یہ شُدنی کیا ہے اور جب یہ ظہور میں آئے گی تو ان لوگوں پر کیا گزرے گی جو آج نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کو جھٹلا رہے ہیں!
    کیا جانو کہ کیا ہے شُدنی!
    ’مَا الْحَاقَّۃُ‘۔ یہ سوال اس کے ہول، اس کی دہشت اور اس کی بے پناہی کی تعبیر کے لیے ہے جس کی مزید وضاحت بعد کے الفاظ ’وَمَا اَدْرٰکَ مَا الْحَاقَّۃُ‘ سے ہوتی ہے کہ کون جان سکتا اور کون بتا سکتا ہے کہ یہ شُدنی کیا ہے اور جب یہ ظہور میں آئے گی تو ان لوگوں پر کیا گزرے گی جو آج نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کو جھٹلا رہے ہیں! یہی اسلوب کلام سورۂ قارعہ میں بھی ہے۔ وہاں ’ان شاء اللہ‘ اس کی مزید وضاحت ہو گی۔
    ثمود اور عاد نے اس کھٹکھٹانے والی کو جھٹلایا۔
    ’القارعۃ‘ کا مفہوم: اور جس شُدنی سے ڈرایا گیا ہے رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سے یہ اس کی شہادت پیش کی جا رہی ہے کہ جس طرح قریش عذاب اور قیامت کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح ثمود اور عاد نے بھی جھٹلایا تھا جس کا انجام ان کے سامنے آیا۔ یہاں عذاب اور قیامت کی تعبیر کے لیے لفظ ’قَارِعَۃٌ‘ آیا ہے جس کے معنی ٹھونکنے اور کھٹکھٹانے والی کے ہیں۔ قرآن میں عذاب الٰہی اور قیامت دونوں کی یہ خصوصیت بیان ہوئی ہے کہ ان کے آنے کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔ یہ اچانک آ دھمکیں گے اور جس طرح کوئی اچانک آ کر دروازے کو کھٹکھٹاتا اور نچنت سونے والوں کو ہڑبڑا دیتا ہے اس طرح یہ بھی ایک ہلچل برپا کر دیں گے۔
    تو ثمود ایک حد سے بڑھ جانے والی آفت سے ہلاک کر دیے گئے۔
    ’طاغیۃ‘ کا مفہوم: فرمایا کہ ان میں سے ثمود تو ’طَاغِیَۃٌ‘ سے ہلاک کر دیے گئے۔ ’طَاغِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں وہ شے جو اپنے حدود و قیود سے متجاوز ہو جائے۔ اس سورہ میں اس بارش کو جس نے قوم نوح کو غرق کیا ’طَغَا الْمَآءُ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ قوموں کو سزا ان کے رویہ کی مناسبت سے دیتا ہے، جب کوئی قوم طغیان کی روش اختیار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کی انہی چیزوں میں سے، جو انسان کی نفع رسانی کے لیے مسخر ہیں، کسی چیز کو اس کے خلاف طغیان پر ابھار دیتا ہے جو ’طَاغِیَۃٌ‘ بن کر اس کو ہلاک کر دیتی ہے۔ ثمود بھی، جیسا کہ ’کَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۱۱) سے واضح ہے اپنے رب کے خلاف طغیان میں مبتلا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک آفت (طاغیۃ) مسلط کر دی۔ یہ آفت کیا تھی؟ اس کی کوئی وضاحت یہاں نہیں ہے لیکن قرآن کے مختلف مقامات میں اس سے متعلق جو اشارات ہیں سورۂ ذاریات کی تفسیر میں ہم نے وہ بیان کر دیے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود کی تباہی صاعقہ کے ذریعہ سے ہوئی جو سرما کے دھاریوں والے بادلوں کے اندر سے نمودار ہوئی۔ اگرچہ سرما کے بادل اور ان کے ساتھ کڑک دمک کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کو قوموں کے لیے قیامت بنا دے۔ اس زمانے میں سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اور بظاہر انسان نیچر کی بہت سی قوتوں کو مسخر کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے لیکن آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ساری سائنس اور تمام سائنس دانوں کی بے بسی ظاہر کر دیتا ہے۔
    رہے عاد تو وہ ایک بے قابو باد تند سے برباد ہوئے۔
    ’عَاتِیَۃ‘ کا مفہوم: یہ عاد کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان پر سرما کی تیز و تند باد صر صر چلی اور اس نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ جس طرح اوپر ثمود کے بیان میں ’صاعقۃ‘ کو ’طاغیۃ‘ سے تعبیر کیا ہے اسی طرح یہاں باد صرصر کی صفت ’عاتیۃ‘ آئی ہے جس کے معنی ہیں وہ ہوا جو سرکش اور بے قابو ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے اور یہ اس کی زندگی اور بقا کے لیے ناگزیر ہے لیکن جب انسان سرکشی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسی مسخر ہوا کو جب چاہتا ہے ذرا سی ڈھیل دے کر اس کے لیے عذاب بنا دیتا ہے۔
    اس کو اللہ نے سات رات اور آٹھ دن ان کی بیخ کنی کے لیے ان پر مسلط رکھا۔ تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھاڑے پڑے ہیں گویا کہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔
    ہوا کو عذاب بنا دینے کی تصویر: یہ ہوا کو عذاب بنا دینے کی تصویر ہے کہ جو ہوا اللہ نے انسان کی خدمت کے لیے مسخر کی ہے اسی کو اس نے عاد کے اوپر عذاب بنا کر مسلط کر دیا اور وہ سات راتیں اور آٹھ دن ان کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ دینے کے لیے ان پر چلتی رہی۔ ’حسم‘ اور ’حسوم‘ کے معنی استیصال کر دینے کے ہیں۔ ’فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعَی کَأَنَّہُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ‘۔ ’تَرٰی‘ کا خطاب اس طرح کے مواقع میں عام ہوتا ہے اور ’اَلْقَوْمَ‘ یہاں حریف اور مدمقابل کے مفہوم میں ہے۔ عاد اپنے ’عُتو‘ (سرکشی) کے سبب سے گویا خدا کے حریف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے اس وجہ سے اس لفظ کا استعمال یہاں نہایت موزوں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے جو بھی ان کو دیکھتا تو وہ دیکھتا کہ اللہ کے عذاب نے ان کو اس طرح میدان میں پچھاڑ کے ڈال دیا ہے کہ گویا وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں جو ہوا کے زور سے ادھر ادھر لڑھکتے پھر رہے ہوں۔ ’فِیْہَا‘ کی ضمیر مجرور کا مرجع ہوا بھی ہو سکتی ہے اور سرزمین عاد بھی۔ عربیت کے قاعدے سے یہ دونوں صحیح ہیں اور یہاں یہ دونوں معنی بنتے ہیں۔
    تو کیا تم دیکھتے ہو ان میں سے کوئی بچ رہنے والا!
    عذاب الٰہی کی بے پناہی: اس کا عطف اوپر والے ’فَتَرٰی‘ پر ہے۔ گویا قوم عاد کی بستیوں کو مخاطب کی چشم تصور کے سامنے کر کے یہ سوال فرمایا ہے کہ ذرا دور دور تک نگاہ دوڑا کے دیکھو کوئی متنفس بھی پوری قوم میں سے زندہ بچا ہوا نظر آتا ہے؟ ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم پر اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس طرح اس کا ستھراؤ کر کے رکھ دیتا ہے! احمق ہیں وہ جو اس کے دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ چیز دیکھنے کی نہیں بلکہ پناہ مانگنے کی ہے۔
    اور فرعون اور اس سے پہلے والوں اور الٹی ہوئی بستیوں والوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا۔
    فرعون اور قوم لوط کا حوالہ: ’مُؤْتَفِکَۃٌ‘ کے معنی ہیں ’الٹی ہوئی‘۔ اس سے مراد یہاں قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ وہ زلزلہ سے الٹ دی گئی تھیں اور ’حاصب‘ یعنی کنکر برسانے والی ہوا نے ان کو ریت اور کنکروں سے ڈھانک دیا تھا۔ اوپر اقوام بائدہ میں سے دو قوموں کا ذکر ہوا تھا اب یہ فرعون اور قوم لوط وغیرہ کی بستیوں کی طرف اشارہ فرمایا جن کے آثار کے مشاہدہ کے مواقع قریش کو اکثر ملتے رہتے تھے۔ فرمایا کہ انھوں نے بھی اسی جرم کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب عاد و ثمود نے کیا اور ان کے سامنے بھی وہی انجام آیا جو ان کے سامنے آیا۔
    انھوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی تو اس نے ان کو اپنی سخت گرفت میں دبوچ لیا۔
    یہ ان کے جرم کی نوعیت کی طرف اشارہ ہے کہ انھوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو ایسی پکڑ پکڑا جس سے پھر وہ چھوٹ نہ سکے۔ رسول کی نافرمانی خدا سے بغاوت ہے: ’عَصَوْا رَسُولَ رَبِّہِمْ‘ کے الفاظ سے ان کے جرم کی سنگینی واضح ہوتی ہے کہ خدا کا رسول شاہ کائنات کا سفیر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جولوگ اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ گویا شاہ کائنات کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں جس کی پاداش میں وہ باغیوں کی سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ فیصلہ کن عذاب: ’اَخْذَۃً رَّابِیَۃً‘ سے مراد وہ پکڑ ہے جس کی مدافعت نہ ہو سکے اور جو انسان کی برداشت سے زیادہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک پکڑ تو وہ ہوتی ہے جس کا مقصود صرف تنبیہ اور یاددہانی ہوتا ہے۔ اس طرح کی پکڑ سے آدمی چھوٹ جاتا ہے لیکن جب کوئی قوم خدا کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی جسارت کرتی ہے تو وہ اس کو ایسی پکڑ پکڑتا ہے جس کی تاب لانا محال ہوتا ہے۔
    اور جب پانی حد سے گزر گیا تو ہم ہی نے تم کو کشتی میں سوار کرایا۔
    قوم نوح کی طرف اشارہ: یہ آخر میں قوم نوح کے واقعہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا جو مذکورہ واقعات سے بھی پہلے پیش آ چکا تھا۔ گویا اس طرح بالاجمال رسولوں کی پوری تاریخ مخاطب کے سامنے آ گئی۔ اس واقعہ کے ذکر کا انداز مخاطب (قریش) پر امتنان و اظہار احسان کا ہے۔ ان کو یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ تم جن اسلاف کے اخلاف ہو ان کو ہم ہی نے اپنے فضل سے نوح کی کشتی میں پناہ دی۔ اس پناہ کے مستحق وہ اس وجہ سے ٹھہرے کہ وہ اللہ کے رسول ۔۔۔ حضرت نوح علیہ السلام ۔۔۔ پر ایمان لائے۔ اگر وہ ایمان نہ لائے ہوتے تو وہ بھی اسی طرح غرق کر دیے گئے ہوتے جس طرح ان کی پوری قوم غرق کر دی گئی۔ جب تم انہی کے اخلاف ہو تو ہمارا یہ احسان بالواسطہ تمہارے اوپر بھی ہوا۔ آج تمہیں اپنی یہ تاریخ بھولنی نہیں چاہیے۔ اگر تم یہ بھول گئے اور رسول کی پیروی کی جگہ اس کی نافرمانی کی روش اختیار کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدا تمہارے ساتھ وہی معاملہ نہ کرے جو اس نے نوحؑ کی نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ کیا۔
    تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لیے ایک درس موعظت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اس کو سنیں اور محفوظ رکھیں۔
    سرگزشتیں سنانے کا مقصد: ضمیر مفعول کا مرجع صرف ’جَارِیَۃ‘ (کشتی) نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و نقمت کی یہ پوری سرگزشت ہے۔ اس طرح ضمیر لانے کی متعدد مثالیں اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ طوفان نوح سے بچ رہنے والوں کو ہم نے اپنی رحمت و نقمت کی یہ شان بھول جانے کے لیے نہیں بلکہ یاد رکھنے، نصیحت حاصل کرنے اور اسلاف کی طرف سے اس کو اخلاف کو منتقل کرنے کے لیے دکھائی تھی۔ لیکن افسوس ہے کہ تم اس کو بھول گئے اور آج اسی طرح اپنے رسول سے لڑنے کو اٹھ کھڑے ہوئے جس طرح قوم نوح اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
    پس یاد رکھو جب کہ صور میں ایک ہی بار پھونک ماری جائے گی۔
    دنیا کے عذاب آخرت کے عذاب کی شہادت ہیں: عذاب کے تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد یہ ظہور قیامت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح قوموں پر عذاب لانے کے لیے ہمیں کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا پڑا بلکہ جب چاہا چشم زدن میں عذاب آ گیا اسی طرح قیامت کے لانے کے لیے بھی ہمیں کوئی تیاری نہیں کرنی پڑے گی۔ بلکہ صُور میں صرف ایک پھونک ماری جائے گی جس سے قیامت کی ہلچل برپا ہو جائے گی۔
    اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی بار میں پاش پاش کر دیا جائے گا۔
    ’وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وَاحِدَۃً‘۔ اور اس زمین اور اس کے پہاڑوں کو بھی کوئی ایسی چیز نہ سمجھو جن کو درہم برہم کرنے میں ہمیں کوئی زحمت پیش آئے گی بلکہ ہم دونوں کو ایک ہی ساتھ اٹھائیں گے۔ ایک ہاتھ میں زمین ہو گی دوسرے میں اس کے پہاڑ اور ان کو ایک ہی بار میں ٹکرا کر پاش پاش کر دیں گے۔ گویا دو شیشے کے گلاس تھے جو ایک ہی مرتبہ میں چور چور ہو گئے ۔۔۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کا حوالہ قرآن نے جگہ جگہ دیا ہے کہ منکرین قیامت جب قیامت کا مذاق اڑاتے تو یہ بھی کہتے کہ کیا جب قیامت آئے گی تو ان پہاڑوں کو بھی پاش پاش کر دے گی۔ مطلب یہ کہ یہ انہونی ہے اس وجہ سے ان کے زعم میں قیامت بھی محض ایک خیالی ہوّا ہے۔
    تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی۔
    ’فَیَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ‘۔ فرمایا کہ اس دن وہ واقع ہونے والی واقع ہو جائے گی جس کو تم بہت بعید از امکان خیال کیے بیٹھے ہو۔ اوپر کی آیات میں قیامت کو ’حَآقَّۃ‘ اور ’قَارِعَۃ‘ وغیرہ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے یہاں اس کو لفظ ’وَاقِعَۃ‘ سے تعبیر کیا ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی اس کو بعید از امکان چیز سمجھتا ہے تو سمجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک امر واقعی ہے جو لازماً ایک دن پیش آ کے رہے گا۔
    اور آسمان پھٹ جائے گا اور اس دن وہ نہایت پھُس پھُسا ہو گا۔
    قیامت کے دن آسمان کا حال: زمین اور اس کے پہاڑوں کا حشر بیان کرنے کے بعد یہ آسمان کا حال بتایا کہ اس دن یہ بھی پھٹ جائے گا۔ ’فَہِیَ یَوْمَئِذٍ وَاہِیَۃٌ‘ یعنی آج تو یہ دیکھنے والوں کو نہایت ٹھوس اور محکم نظر آتا ہے، کہیں ڈھونڈے سے بھی اس میں کسی نقص یا شگاف کا کوئی نشان نہیں مل سکتا لیکن اس دن یہ بالکل بودا اور پھس پھسا ہو جائے گا اور روئی کے گالوں اور دھوئیں کی طرح اڑے گا۔
    اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کے عرش کو اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔
    قیامت کے دن فرشتوں کا حال: آسمان کے پھٹ جانے کے بعد آسمان کے فرشتوں کا جو حال ہو گا یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت وہ اس کے اطراف اور کناروں میں سمٹے ہوئے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس ہلچل سے ان پر بھی ایک سراسیمگی کی حالت طاری ہو گی۔ یہ ان مشرکین کی آگاہی کے لیے واضح فرمایا ہے جو فرشتوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کے مرجع بنیں گے اور ان کی سفارش کریں گے۔ ’وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَھُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ‘۔ یعنی اس انقلاب حال سے سارا عملہ تو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر ایک طرف ہو جائے گا، بس عرش الٰہی کے اٹھانے والے رہ جائیں گے سو اس کو آٹھ فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ قرآن مجید میں قیامت کے جو احوال بیان ہوئے ہیں ان کا تعلق متشابہات سے ہے۔ ہمارے فہم سے قریب لانے کے لیے ان کو ایسے لفظوں میں بیان کیا جاتا ہے جن سے فی الجملہ ان کا تصور ہمارے ذہن میں قائم ہو سکے۔ یہ احوال ایک نادیدہ عالم کے ہیں، ان کا تصور دینے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کی اصل حقیقت کا جاننا اس عالم میں ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ قرآن نے ان کے متعلق یہ ہدایت دی ہے کہ وہ جس طرح بیان ہوئے ہیں اسی طرح ان پر اجمالی ایمان رکھا جائے۔ ان کی اصل حقیقت کے درپے نہ ہوا جائے ورنہ اندیشہ ہے کہ آدمی کسی فتنہ میں پڑ جائے۔
    اس دن تمہاری پیشی ہو گی۔ تمہاری کوئی بات بھی ڈھکی چھپی نہیں رہے گی۔
    جزا و سزا کی تفصیل: فرمایا کہ اس دن تم سب پیش کیے جاؤ گے اور تمہاری کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔ پیش کیے جانے سے مراد ظاہر ہے کہ خدا کے حضور پیش کیا جانا ہے۔ اس دن آسمانوں اور زمینوں کی ساری بساط لپیٹ کر رکھ دی جائے گی اس وجہ سے نہ تو کسی کے لیے کوئی جگہ چھپنے کی ہو گی اور نہ کوئی چیز چھپانے کی۔
    پس جس کو دیا جائے گا اس کا اعمال نامہ اس کے دہنے ہاتھ میں تو وہ کہے گا، پڑھو میرا اعمال نامہ!
    اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیشی کے بعد اب یہ اس جزا و سزا کی تفصیل آ رہی ہے جس سے ہر ایک کو سابقہ پیش آنا ہے۔ پہلے اہل ایمان کا حال بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ جس کو اس کا اعمال نامہ دہنے ہاتھ میں پکڑایا جائے گا وہ تو دیکھتے ہی خوشی سے اچھل پڑے گا۔ دوسروں سے کہے گا، یہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو! ’ھا‘ کی حیثیت ہے تو مجرد ایک آواز کی جیسے ’ارے‘ یا ’اُف‘ وغیرہ لیکن یہ اس موقع پر بولتے ہیں جب کہنا ہو ’یہ لو‘۔ یہاں ’ھا‘ اور ’اِقْرَؤُوْا‘ کے بیچ میں ’ؤُمْ‘ محض اس خلا کو بھرنے کے لیے آ گیا ہے جو دونوں کے بیچ میں ہے۔ اس طرح کے زوائد کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ ’کِتَابِیْہْ‘ میں ’ہ‘ سکتہ کی ہے جو محض قافیہ کی رعایت سے آ گئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آ رہی ہیں۔
    میں نے گمان رکھا کہ مجھے اپنے حساب سے دوچار ہونا ہے۔
    ساتھ ہی وہ اپنی اس عظیم کامیابی کا سبب بھی بتائے گا کہ میں نے ہمیشہ اپنے دل میں یہ گمان رکھا کہ مجھے ایک دن اپنے زندگی کے حساب کتاب سے دوچار ہونا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسی گمان نے میری حفاظت کی اور میں ایک ایسا اعمال نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جس کو دوسروں کے سامنے نہایت خوشی کے ساتھ پیش کر سکوں۔ جزا اور سزا کو ماننے کے لیے ظن غالب کافی ہے: ’ظَنٌّ‘ یہاں ظن غالب کے مفہوم میں ہے۔ آفاق و انفس اور انبیاء و حکماء کی تعلیم میں جزا و سزا کے ایسے دلائل موجود ہیں کہ آدمی بالکل ہی بلید اور لاابالی نہ ہو تو اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ زندگی یوں ہی نہیں تمام ہو جائے گی بلکہ ایک دن جزا اور سزا سے سابقہ پیش آنا بھی لازمی ہے۔ اگرچہ اس بات پر اس کو اس طرح کا یقین تو نہیں ہوتا جو آنکھوں دیکھی چیز پر ہوا کرتا ہے لیکن ایسا ظن غالب ضرور ہوتا ہے جس کے بعد وہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ اس کو نظر انداز کر کے زندگی گزارے اور عاقبت کی کوئی پروا نہ کرے۔ اس ظن غالب سے آخرت پر جو ایمان پیدا ہوتا ہے وہ بالتدریج ایمانی تجربات سے مضبوط ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ درجہ بدرجہ یقین کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اگر آدمی اس ظن غالب کو نظر انداز کر کے اس انتظار میں رہے کہ جب اس کو آخرت کا یقین ہو جائے گا تب اس کو مانے گا تو یہ انتظار اسی دن ختم ہو گا جس دن وہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس دن کا ایمان اس کے لیے بالکل بے سود ہو گا۔
    پس وہ تو ایک دل پسند عیش میں ہو گا۔
    فرمایا کہ یہ لوگ اپنے پسندیدہ عیش میں ہوں گے۔ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہو گا جو وہ چاہیں گے وہ بلند باغوں میں ہوں گے جن کے خوشے بالکل ان کے سروں پر لٹک رہے ہوں گے۔
    ایک بلند و بالا باغ میں۔
    باغ بلند اور خوشے قریب: ’عَالِیَۃ‘ اور ’دَانِیَۃ‘ کے تقابل پر نظر رہے کہ باغ تو بلند ہوں گے لیکن ان کے پھل اور خوشے، جو اصل مطلوب ہیں، وہ نہایت قریب ہوں گے۔ اہل عرب کے باغوں میں کنارے کنارے کھجوروں کی قطاریں اور بیچ بیچ میں اناروں کے درخت اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں۔ ان کے لیے اس ’عَالِیَۃ‘ اور ’دَانِیَۃ‘ کے سمجھنے میں کوئی زحمت نہیں تھی۔ یوں بھی باغ کا نمایاں حسن یہی ہے کہ وہ بلندی پر ہو اور اس کے خوشے سروں پر لٹک رہے اور دسترس کے اندر ہوں۔
    اس کے پھل قریب لٹک رہے ہوں گے۔
    باغ بلند اور خوشے قریب: ’عَالِیَۃ‘ اور ’دَانِیَۃ‘ کے تقابل پر نظر رہے کہ باغ تو بلند ہوں گے لیکن ان کے پھل اور خوشے، جو اصل مطلوب ہیں، وہ نہایت قریب ہوں گے۔ اہل عرب کے باغوں میں کنارے کنارے کھجوروں کی قطاریں اور بیچ بیچ میں اناروں کے درخت اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں۔ ان کے لیے اس ’عَالِیَۃ‘ اور ’دَانِیَۃ‘ کے سمجھنے میں کوئی زحمت نہیں تھی۔ یوں بھی باغ کا نمایاں حسن یہی ہے کہ وہ بلندی پر ہو اور اس کے خوشے سروں پر لٹک رہے اور دسترس کے اندر ہوں۔
    کھاؤ اور پیو، بے غل و غش، اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم نے گزرے دنوں میں کیے۔
    یعنی اس طرح کے باغوں میں انھیں اتار کر یہ کہا جائے گا کہ لو اب آرام سے کھاؤ پیو۔ یہ کھانا پینا تمہارے لیے رچتا پچتا اور راس آنے والا ہو گا۔ دنیا کی نعمتیں تو وبال بن سکتی ہیں اگر ان میں اعتدال ملحوظ نہ رہ سکے یا ان کا صحیح شکر نہ ادا ہو سکے لیکن ان نعمتوں میں اس طرح کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ لفظ ’ہَنِیْئًا‘ کی لغوی تحقیق اور نحوی حیثیت سورۂ طور کی تفسیر میں واضح کی جا چکی ہے۔ ’بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِی الْأَیَّامِ الْخَالِیَۃِ‘۔ یعنی یہ تمہیں جو کچھ ملا ہے یہ تمہارے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا صلہ ہے۔ یہاں تمہیں اب کچھ بھی نہیں کرنا ہے۔ تم اس کے پورے حق دار ہو اور یہ تمہارے لیے ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہے۔ اس میں اضافے تو دم بدم ہوتے رہیں گے لیکن کمی کا کوئی اندیشہ نہیں۔ جو محنت اس کے لیے تمہیں کرنی تھی وہ تم اٹھا چکے۔ اب صرف اس سے بہرہ مند ہونا ہے۔
    رہا وہ جس کو اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا، کاش میرا اعمال نامہ مجھے دیا ہی نہ گیا ہوتا۔
    اصحاب الشمال کا حال: یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ وہ دیکھتے ہی اپنے سر پیٹیں گے، کہیں گے کاش! ہمارا اعمال نامہ ہمیں دیا ہی نہ گیا ہوتا اور ہمیں یہ معلوم ہی نہ ہوا ہوتا کہ ہمارا حساب کیا ہے؛ کاش! وہی موت، جو دنیا میں آئی تھی، فیصلہ کن ہو گئی ہوتی! ضمیر کا مرجع موت ہے۔ قرینہ موجود ہو تو مرجع کے بغیر اس طرح ضمیر لانے میں کوئی عیب نہیں ہے اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
    اور میں جانتا ہی نہ کہ میرا حساب کیا ہے!
    اصحاب الشمال کا حال: یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ وہ دیکھتے ہی اپنے سر پیٹیں گے، کہیں گے کاش! ہمارا اعمال نامہ ہمیں دیا ہی نہ گیا ہوتا اور ہمیں یہ معلوم ہی نہ ہوا ہوتا کہ ہمارا حساب کیا ہے؛ کاش! وہی موت، جو دنیا میں آئی تھی، فیصلہ کن ہو گئی ہوتی! ضمیر کا مرجع موت ہے۔ قرینہ موجود ہو تو مرجع کے بغیر اس طرح ضمیر لانے میں کوئی عیب نہیں ہے اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
    اے کاش کہ وہی موت فیصلہ کن ہوئی ہوتی!
    اصحاب الشمال کا حال: یہ ان لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ وہ دیکھتے ہی اپنے سر پیٹیں گے، کہیں گے کاش! ہمارا اعمال نامہ ہمیں دیا ہی نہ گیا ہوتا اور ہمیں یہ معلوم ہی نہ ہوا ہوتا کہ ہمارا حساب کیا ہے؛ کاش! وہی موت، جو دنیا میں آئی تھی، فیصلہ کن ہو گئی ہوتی! ضمیر کا مرجع موت ہے۔ قرینہ موجود ہو تو مرجع کے بغیر اس طرح ضمیر لانے میں کوئی عیب نہیں ہے اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
    میرا مال میرے کیا کام آیا!
    یعنی وہ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ جو مال اس اہتمام سے جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا، بھلا کس کام آیا! ’مَا‘ یہاں نافیہ بھی ہو سکتا ہے لیکن اظہار حسرت کے پہلو سے اس کا استفہامیہ ہونا میرے نزدیک زیادہ موزوں ہے۔
    میرا اقتدار مجھ سے چھن گیا!
    ’ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطَانِیْہْ‘۔ ’ہَلَکَ‘ کے بعد ’عَنِّیْ‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ ’ہَلَکَ‘ یہاں ’ذَھَبَ‘ یا ’بَعُدَ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ ’سُلْطَانٌ‘ کے معنی اقتدار کے ہیں یعنی وہ نہایت حسرت سے کہیں گے کہ وہ اقتدار بھی چھن گیا جس پر ہمیں ناز تھا اور جس کے گھمنڈ نے آج کے دن سے ہمیں اندھا بنائے رکھا۔
    اس کو پکڑو، پھر اس کی گردن میں طوق ڈالو۔
    یعنی یہ نالہ و شیون وہ کرتے ہی ہوں گے کہ حکم ہو گا کہ اس کو پکڑو، اس کی گردن میں طوق ڈالو، پھر اس کو جہنم میں جھونک دو، پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر ہاتھ ہو گا، اس کو جکڑ دو ۔۔۔ قرآن مجید کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت کو گن گن کر جمع رکھنے والے سرمایہ دار دوزخ میں ڈال کر بھاری زنجیروں میں ستونوں کے ساتھ باندھ دیے جائیں گے تاکہ جس دولت پر مارگنج بن کر بیٹھے رہے اس کی تپش کا مزا اچھی طرح چکھیں۔ سورۂ ہمزہ میں اس کی تفصیل، ان شاء اللہ، آئے گی۔
    پھر اس کو جہنم میں جھونک دو۔
    یعنی یہ نالہ و شیون وہ کرتے ہی ہوں گے کہ حکم ہو گا کہ اس کو پکڑو، اس کی گردن میں طوق ڈالو، پھر اس کو جہنم میں جھونک دو، پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر ہاتھ ہو گا، اس کو جکڑ دو ۔۔۔ قرآن مجید کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت کو گن گن کر جمع رکھنے والے سرمایہ دار دوزخ میں ڈال کر بھاری زنجیروں میں ستونوں کے ساتھ باندھ دیے جائیں گے تاکہ جس دولت پر مارگنج بن کر بیٹھے رہے اس کی تپش کا مزا اچھی طرح چکھیں۔ سورۂ ہمزہ میں اس کی تفصیل، ان شاء اللہ، آئے گی۔
    پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، اس کو جکڑ دو۔
    یعنی یہ نالہ و شیون وہ کرتے ہی ہوں گے کہ حکم ہو گا کہ اس کو پکڑو، اس کی گردن میں طوق ڈالو، پھر اس کو جہنم میں جھونک دو، پھر ایک زنجیر میں جس کا طول ستر ہاتھ ہو گا، اس کو جکڑ دو ۔۔۔ قرآن مجید کے بعض مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ دولت کو گن گن کر جمع رکھنے والے سرمایہ دار دوزخ میں ڈال کر بھاری زنجیروں میں ستونوں کے ساتھ باندھ دیے جائیں گے تاکہ جس دولت پر مارگنج بن کر بیٹھے رہے اس کی تپش کا مزا اچھی طرح چکھیں۔ سورۂ ہمزہ میں اس کی تفصیل، ان شاء اللہ، آئے گی۔
    یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔
    فرد جرم: یہ اس کے اس جرم کا بیان ہے جس کے سبب سے وہ اس غضب اور اس سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ فرمایا کہ یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ اس کا یہ رویہ کہ یہ دولت کا پجاری بن کر بیٹھا رہا اور آج حسرت کر رہا ہے کہ ’مَآ أَغْنٰی عَنِّیْ مَالِیَہْ‘ (میری دولت میرے کیا کام آئی!) اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ خدا پر اس کا ایمان نہیں تھا۔ اگر خدائے عظیم پر اس کا ایمان ہوتا تو اس کو اس کی عظمت سے ڈرنا تھا کہ ایک دن اس کے حضور میں پیش ہونا اور اس کے بخشے ہوئے مال کا حساب دینا ہے اور وہ ایسی عظیم ہستی ہے کہ اس کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔
    اور نہ مسکینوں کو کھلانے پر لوگوں کو ابھارتا تھا۔
    ’وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘۔ یعنی نہ خود مسکینوں پر خرچ کرتا تھا اور نہ دوسروں کو اس نیکی کی راہ پر ابھارتا تھا۔ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ صرف یہی نہیں کہ خود اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے بلکہ ان کی خواہش اور کوشش یہ بھی ہوتی ہے کہ دوسرے بھی خرچ نہ کریں تاکہ ان کی بخالت کا راز افشاء نہ ہو۔ سورۂ ماعون میں یہی بات یوں فرمائی گئی ہے:’فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ ۵ وَلَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (۲-۳) (پس وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے پر لوگوں کو نہیں ابھارتا)۔ البتہ آیت زیربحث میں یہ حقیقت بھی واضح فرما دی گئی ہے کہ جو لوگ دولت رکھتے ہوئے غریبوں اور مسکینوں کو دھکے دیتے ہیں وہ درحقیقت خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتے اگرچہ ایمان کا دعویٰ وہ کتنی ہی بلند آہنگی سے کرتے ہوں۔ اسی طرح سورۂ ماعون میں ان لوگوں کی نماز کو بالکل بے حقیقت ٹھہرایا ہے جن کی خست کا یہ حال ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے معاملے میں بھی تنگ دلی برتتے ہیں اور ضرورت مندوں کو نہیں دیتے۔ فرمایا ہے:’فَوَیْْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ ۵ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۵ الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَاؤُوۡنَ ۵ وَیَمْنَعُوۡنَ الْمَاعُوۡنَ‘ (۴-۷) (پس ان نماز پڑھنے والوں کے لیے ہلاکی ہے جو اپنی نمازوں کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ جو دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں اور ضرورت کی معمولی چیزیں بھی مانگے نہیں دیتے)۔ ان دونوں مقامات پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو شخص مال رکھتے ہوئے یتیموں اور مسکینوں کی مدد نہیں کرتا نہ اس کا ایمان معتبر ہے اور نہ اس کی نماز کا کوئی وزن ہے اگرچہ وہ ایمان کا بھی مدعی ہو اور نماز کی بھی نمائش کرتا ہو۔  
    پس آج اس کا یہاں کوئی ہمدرد نہیں۔
    یعنی اس کی اس خست و بخالت کی سزا اس کو یہ ملی کہ یہاں کوئی اس کا ہمدرد و مددگار نہیں۔ جس نے نہ خدا کا حق پہچانا اور نہ اس کی مخلوق کا، قیامت کے دن بھلا کون اس کے ساتھ ہمدردی کرنے والا ہو گا؟ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جو لوگ مال رکھتے ہوئے بخیل ہوتے ہیں ان کے ساتھ اس دنیا میں بھی کسی کو ہمدردی نہیں ہوتی تو جزائے اعمال کی دنیا میں ان کے ساتھ بھلا کون ہمدردی کرنے والا اٹھے گا۔
    اور غُسالہ کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا نہیں ہے۔
    ’غسلین‘ ناپاک اور گندی چیزوں کے غسالہ کو کہتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے اپنی دولت کا مصرف صرف اپنی تن پروری اور اپنے کام و دہن کی لذت ہی کو سمجھا اور اس حرص میں غرباء مساکین کے حقوق ہڑپ کر کے اپنے سارے مال کو نجس بنایا اس وجہ سے قیامت کے دن ان کو ناپاک چیزوں کا دھوون ہی کھانے پینے کو ملے گا۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ آدمی کا مال اللہ کی راہ میں انفاق سے پاک ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص انفاق نہیں کرتا تو اس کا سارا مال نجاست کا ڈھیر بن جاتا ہے جس کی اصل حقیقت قیامت میں اس کے سامنے اس شکل میں ظاہر ہو گی جو بیان ہوئی۔
    یہ کھانا صرف گنہگار ہی کھائیں گے۔
    یعنی یہ غذا ان مجرموں ہی کے لیے خاص ہو گی دوسرے اس کو نہیں کھا سکیں گے۔ اس کی وجہ غالباً وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ ان کا جرم چونکہ خاص نوعیت کا ہے اس وجہ سے ان کی غذا بھی خاص ہو گی۔ جرم اور سزا میں مشابہت کے پہلو پر پیچھے بھی اس کتاب میں اشارات گزر چکے ہیں۔
    پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو۔
    قَسم سے پہلے ’لا‘ کا موقع استعمال: قسم سے پہلے جو اس طرح ’لَا‘ آیا کرتا ہے اس پر اس کے محل میں ہم بحث کر چکے ہیں کہ یہ نہ تو زائد ہوتا ہے اور نہ قَسم کی نفی کے لیے بلکہ یہ قَسم سے پہلے مخاطب کے اس خیال کی تردید کے لیے آتا ہے جس کی تردید کے لیے قَسم کھائی گئی ہے۔ جس طرح عام بول چال میں کہتے ہیں: ’نہیں، خدا کی قسم، یہ بات نہیں ہے بلکہ یہ بات ہے‘ اسی طرح یہاں بھی ’نہیں‘ سے کلام کا آغاز کیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ مخاطب کا خیال اتنا غلط ہے کہ متکلم اس کی تردید میں ایک لمحہ کا توقف بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مکذبین کے ایک بے ہودہ خیال کی تردید: قسم سے متعلق ہم یہ حقیقت بھی واضح کر چکے ہیں کہ قرآن میں جہاں کوئی قسم کھائی گئی ہے بالعموم دعوے کی شہادت اور اس کی دلیل کے طور پر کھائی گئی ہے۔ یہاں اصل دعویٰ جس کو سورہ کے عمود کی حیثیت حاصل ہے، اثبات جزا و سزا ہے۔ منکرین اس دعوے کی تکذیب کر رہے تھے اور اس کی تکذیب کے لیے انھوں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ آفاق و انفس اور عقل و نقل کے جو دلائل قرآن پیش کرتا ان کا جواب دینے کے بجائے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مطعون کرنے کی کوشش کرتے کہ (العیاذ باللہ) آپ ایک شاعر یا کاہن ہیں اور جس طرح کاہنوں اور شاعروں پر جنات و شیاطین کلام القاء کرتے ہیں اسی طرح ان پر بھی کوئی جن اور شیطان کلام القاء کرتا ہے اور یہ اس کو اس دعوے کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ یہ کلام ایک فرشتہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے لاتا ہے۔ یہاں ان کے اسی بے ہودہ الزام کی تردید فرمائی ہے اور اس کے لیے اس عالم حاضر اور عالم غیب دونوں کی قسم کھائی ہے۔ قیامت کے حق میں عالم مشہود اور عالم غیر مشہود کی شہادت: قیامت اور جزا و سزا پر قرآن نے جو دلائل دیے ہیں وہ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکے ہیں اور اس سورہ میں بھی زیربحث آئے ہیں، ان پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کا تعلق آفاق و انفس کے ان شواہد سے بھی ہے جو آنکھوں سے دیکھے جا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات اور آخرت کے ان احوال سے بھی جو آنکھوں سے تو نہیں دیکھے جا سکتے لیکن عقل سے سمجھے جا سکتے ہیں۔ اسی سورہ میں جزا و سزا پر جو دلیل قائم کی گئی ہے وہ پہلے قوموں کی تاریخ اور ان کی تباہی کے آثار سے قائم کی گئی ہے پھر عالم غیب کے وہ احوال سنائے گئے ہیں جن سے اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کو سابقہ پیش آنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق اس عالم سے ہے جس کی گواہی تاریخ کے صفحات اور زمین کے آثار میں موجود ہے اور دوسرے کا تعلق اس نادیدہ عالم سے ہے جس کو ہر چند یہاں آنکھوں سے تو نہیں دیکھا جا سکتا لیکن عقل اس کو تسلیم کرتی ہے اس لیے کہ خالق کی صفات اور اس جہان میں پیش آنے والے مکافات عمل کے واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ انہی دونوں قسموں کی دلیلوں کو گواہی میں پیش کر کے یہاں جزا و سزا کے منکروں کو آگاہ فرمایا ہے کہ قرآن جس جزا و سزا سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ اس عالم مشہود اور عالم غیر مشہود کے دلائل اس کی تائید میں ہیں۔ اس کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام قرار دے کر جھٹلانے کی کوشش نہ کرو۔ یہ کسی شیطان یا جن کا القاء نہیں ہے بلکہ یہ ایک باعزت رسول کی لائی ہوئی وحی ہے۔
    اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے۔
    قَسم سے پہلے ’لا‘ کا موقع استعمال: قسم سے پہلے جو اس طرح ’لَا‘ آیا کرتا ہے اس پر اس کے محل میں ہم بحث کر چکے ہیں کہ یہ نہ تو زائد ہوتا ہے اور نہ قَسم کی نفی کے لیے بلکہ یہ قَسم سے پہلے مخاطب کے اس خیال کی تردید کے لیے آتا ہے جس کی تردید کے لیے قَسم کھائی گئی ہے۔ جس طرح عام بول چال میں کہتے ہیں: ’نہیں، خدا کی قسم، یہ بات نہیں ہے بلکہ یہ بات ہے‘ اسی طرح یہاں بھی ’نہیں‘ سے کلام کا آغاز کیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ مخاطب کا خیال اتنا غلط ہے کہ متکلم اس کی تردید میں ایک لمحہ کا توقف بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مکذبین کے ایک بے ہودہ خیال کی تردید: قسم سے متعلق ہم یہ حقیقت بھی واضح کر چکے ہیں کہ قرآن میں جہاں کوئی قسم کھائی گئی ہے بالعموم دعوے کی شہادت اور اس کی دلیل کے طور پر کھائی گئی ہے۔ یہاں اصل دعویٰ جس کو سورہ کے عمود کی حیثیت حاصل ہے، اثبات جزا و سزا ہے۔ منکرین اس دعوے کی تکذیب کر رہے تھے اور اس کی تکذیب کے لیے انھوں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ آفاق و انفس اور عقل و نقل کے جو دلائل قرآن پیش کرتا ان کا جواب دینے کے بجائے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مطعون کرنے کی کوشش کرتے کہ (العیاذ باللہ) آپ ایک شاعر یا کاہن ہیں اور جس طرح کاہنوں اور شاعروں پر جنات و شیاطین کلام القاء کرتے ہیں اسی طرح ان پر بھی کوئی جن اور شیطان کلام القاء کرتا ہے اور یہ اس کو اس دعوے کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ یہ کلام ایک فرشتہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے لاتا ہے۔ یہاں ان کے اسی بے ہودہ الزام کی تردید فرمائی ہے اور اس کے لیے اس عالم حاضر اور عالم غیب دونوں کی قسم کھائی ہے۔ قیامت کے حق میں عالم مشہود اور عالم غیر مشہود کی شہادت: قیامت اور جزا و سزا پر قرآن نے جو دلائل دیے ہیں وہ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکے ہیں اور اس سورہ میں بھی زیربحث آئے ہیں، ان پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کا تعلق آفاق و انفس کے ان شواہد سے بھی ہے جو آنکھوں سے دیکھے جا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات اور آخرت کے ان احوال سے بھی جو آنکھوں سے تو نہیں دیکھے جا سکتے لیکن عقل سے سمجھے جا سکتے ہیں۔ اسی سورہ میں جزا و سزا پر جو دلیل قائم کی گئی ہے وہ پہلے قوموں کی تاریخ اور ان کی تباہی کے آثار سے قائم کی گئی ہے پھر عالم غیب کے وہ احوال سنائے گئے ہیں جن سے اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کو سابقہ پیش آنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق اس عالم سے ہے جس کی گواہی تاریخ کے صفحات اور زمین کے آثار میں موجود ہے اور دوسرے کا تعلق اس نادیدہ عالم سے ہے جس کو ہر چند یہاں آنکھوں سے تو نہیں دیکھا جا سکتا لیکن عقل اس کو تسلیم کرتی ہے اس لیے کہ خالق کی صفات اور اس جہان میں پیش آنے والے مکافات عمل کے واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ انہی دونوں قسموں کی دلیلوں کو گواہی میں پیش کر کے یہاں جزا و سزا کے منکروں کو آگاہ فرمایا ہے کہ قرآن جس جزا و سزا سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ اس عالم مشہود اور عالم غیر مشہود کے دلائل اس کی تائید میں ہیں۔ اس کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام قرار دے کر جھٹلانے کی کوشش نہ کرو۔ یہ کسی شیطان یا جن کا القاء نہیں ہے بلکہ یہ ایک باعزت رسول کی لائی ہوئی وحی ہے۔
    کہ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔
    قرآن کے لانے والے کی صفات: ’اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیْمٍ‘ سے جبریل امینؑ مراد ہیں۔ صفت ’کریم‘ کے لانے سے یہاں مقصود مخالفوں کے اس وہم کی تردید ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ فرمایا کہ جو یہ کلام لاتا ہے وہ کوئی جن یا شیطان نہیں ہے، جیسا کہ تم کہتے ہو، بلکہ اللہ کا باعزت رسول ہے۔ بعینہٖ اسی طرح کے سیاق و سباق میں یہی بات سورۂ تکویر میں بھی فرمائی گئی جس سے اس رائے کی تائید ہوتی ہے: إِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۵ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنۡدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۵ مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِیْنٍ (التکویر ۸۱: ۱۹-۲۱) ’’بے شک یہ ایک رسول گرامی کا لایا ہوا کلام ہے۔ وہ قوت والا اور عرش والے کے نزدیک معتمد ہے۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے۔ مزید برآں وہ نہایت امانت دار ہے۔‘‘ سورۂ شعراء میں بھی منکرین کے اس الزام کی ہر پہلو سے تردید ہوئی ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔  
    اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں، تم بہت ہی کم ایمان لاتے ہو!
    یہ وہی اوپر والی بات منفی اسلوب سے فرمائی ہے کہ نہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے اور نہ کسی کاہن کا۔ اگر تم لوگ ایمان لانے والے اور یاددہانی کی قدر کرنے والے ہوتے تو تم پر ازخود یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہو سکتا۔ لیکن خرابی یہ ہے کہ تمہارے اندر ایمان کی خواہش اور بات کو سننے سمجھنے کی طلب ہی بہت کم پیدا ہوتی ہے اور جن کے اندر یہ طلب ہی نہ ہو وہ اسی طرح فرار کے بہانے تلاش کر لیتے ہیں۔ قرآن کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟ اس کا مفصل جواب سورۂ شعراء میں دیا گیا ہے اور ہم نے اس کے تمام پہلوؤں کی وہاں وضاحت کی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ مکذبین کے باطن کی تعبیر: ’قَلِیْلاً مَا تُؤْمِنُوۡنَ‘ اور ’قَلِیْلاً مَا تَذَکَّرُوۡنَ‘ میں دونوں فعل میرے نزدیک ارادۂ فعل کے معنی میں ہیں اور فعل کا ارادۂ فعل کے معنی میں آنا ایک معروف چیز ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہ ان کے اصل سبب اعراض پر روشنی ڈالی ہے کہ اگر تمہارے اندر ایمان لانے کا ارادہ پایا جاتا یا یاددہانی سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ہوتی تب تو تم آسانی سے گہر اور پشیز میں امتیاز کر لیتے لیکن یہ ارادہ شاذ و نادر ہی تمہارے اندر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بالکل ٹھیک ٹھیک ان مکذبین کے باطن کی تعبیر ہے۔ آخر قریش کے یہ لیڈر اتنے بدذوق اور غبی تو نہیں تھے کہ وہ اللہ کے کلام اور اپنے شاعروں اور کاہنوں کے کلام کے فرق کو نہ سمجھ سکیں۔ وہ اس فرق کو سمجھتے تھے اور گاہ گاہ ان کے اندر سچائی کے اعتراف کا جذبہ بھی ابھرتا رہا ہو گا لیکن نفس کی خواہشوں کے بوجھ تلے یہ جذبہ اس طرح دبا ہوا تھا کہ اول اول تو یہ ابھرتا ہی بہت کم تھا اور اگر کبھی ابھرتا بھی تو اتنا ضعیف ہوتا کہ وہ زندگی میں کوئی مؤثر تبدیلی نہ لا سکتا۔ بس کوئی ایسا ہی خوش قسمت ہوتا تو وہ اپنے نفس کے حجابات سے نکلنے میں کامیاب ہوتا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ حال قریش کے لیڈروں کا بیان ہو رہا ہے ان کے عوام کا حال نہیں بیان ہو رہا ہے۔ ان کی قیادت کے کردار کی تصویر پچھلی سورہ میں بھی سامنے آ چکی ہے۔
    اور یہ کسی کاہن کا بھی کلام نہیں، تم بہت ہی کم سمجھتے ہو۔
    یہ وہی اوپر والی بات منفی اسلوب سے فرمائی ہے کہ نہ یہ کسی شاعر کا کلام ہے اور نہ کسی کاہن کا۔ اگر تم لوگ ایمان لانے والے اور یاددہانی کی قدر کرنے والے ہوتے تو تم پر ازخود یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہو سکتا۔ لیکن خرابی یہ ہے کہ تمہارے اندر ایمان کی خواہش اور بات کو سننے سمجھنے کی طلب ہی بہت کم پیدا ہوتی ہے اور جن کے اندر یہ طلب ہی نہ ہو وہ اسی طرح فرار کے بہانے تلاش کر لیتے ہیں۔ قرآن کو کسی شاعر یا کاہن کا کلام کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟ اس کا مفصل جواب سورۂ شعراء میں دیا گیا ہے اور ہم نے اس کے تمام پہلوؤں کی وہاں وضاحت کی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ مکذبین کے باطن کی تعبیر: ’قَلِیْلاً مَا تُؤْمِنُوۡنَ‘ اور ’قَلِیْلاً مَا تَذَکَّرُوۡنَ‘ میں دونوں فعل میرے نزدیک ارادۂ فعل کے معنی میں ہیں اور فعل کا ارادۂ فعل کے معنی میں آنا ایک معروف چیز ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہ ان کے اصل سبب اعراض پر روشنی ڈالی ہے کہ اگر تمہارے اندر ایمان لانے کا ارادہ پایا جاتا یا یاددہانی سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ہوتی تب تو تم آسانی سے گہر اور پشیز میں امتیاز کر لیتے لیکن یہ ارادہ شاذ و نادر ہی تمہارے اندر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بالکل ٹھیک ٹھیک ان مکذبین کے باطن کی تعبیر ہے۔ آخر قریش کے یہ لیڈر اتنے بدذوق اور غبی تو نہیں تھے کہ وہ اللہ کے کلام اور اپنے شاعروں اور کاہنوں کے کلام کے فرق کو نہ سمجھ سکیں۔ وہ اس فرق کو سمجھتے تھے اور گاہ گاہ ان کے اندر سچائی کے اعتراف کا جذبہ بھی ابھرتا رہا ہو گا لیکن نفس کی خواہشوں کے بوجھ تلے یہ جذبہ اس طرح دبا ہوا تھا کہ اول اول تو یہ ابھرتا ہی بہت کم تھا اور اگر کبھی ابھرتا بھی تو اتنا ضعیف ہوتا کہ وہ زندگی میں کوئی مؤثر تبدیلی نہ لا سکتا۔ بس کوئی ایسا ہی خوش قسمت ہوتا تو وہ اپنے نفس کے حجابات سے نکلنے میں کامیاب ہوتا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ حال قریش کے لیڈروں کا بیان ہو رہا ہے ان کے عوام کا حال نہیں بیان ہو رہا ہے۔ ان کی قیادت کے کردار کی تصویر پچھلی سورہ میں بھی سامنے آ چکی ہے۔
    یہ خداوند عالم کی طرف سے اتارا ہوا ہے۔
    قرآن کا اصل منبع: یہ وہی اوپر والی بات پھر مثبت پہلو سے فرمائی جا رہی ہے کہ یہ اللہ رب العٰلمین کی طرف سے اتارا ہوا کلام ہے۔ لفظ ’تنزیل‘ کے صحیح مفہوم کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں کہ ان کے اندر اہتمام اور تدریج کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر شیاطین جن و انس کی دسترس سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو اہتمام فرمایا وہ جگہ جگہ قرآن میں بیان ہوا ہے اور ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ ان شاء اللہ، اس کی مزید وضاحت سورۂ جن میں آئے گی۔ ’مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ سے اس کی عظمت و شان بھی ظاہر ہو رہی ہے اور اس کی تکذیب کی بدانجامی بھی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بادشاہ کائنات کا اتارا ہوا کلام ہے۔ اگر تم نے اس کی ناقدری کی تو تمہاری محرومی اور بدانجامی پر افسوس ہے۔
    اور اگر یہ ہم پر کوئی بات گھڑ کر لگاتا۔
    کفار کے الزام کا جواب: یہ جواب ہے کفار کے اس الزام کا جو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے کہ یہ سب کچھ گھڑتے تو ہیں اپنے جی سے لیکن ہم پر دھونس یہ جماتے ہیں کہ یہ کلام ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنا رسول بناتا ہے وہ اس کا سفیر اور وحی کی عظیم امانت کا حامل ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی نگرانی بھی نہایت کڑی ہوتی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ وہ اپنے جی سے اس میں کوئی رد و بدل کر سکے۔ اگر وہ سرمو بھی کوئی بات ہم سے غلط منسوب کرے تو ہم اس کو اپنے قوی بازو سے پکڑیں اور اس کی شہ رگ ہی کاٹ دیں پھر کوئی بھی اس کو ہم سے بچانے والا نہیں بن سکتا۔ یہ بات ایسے اسلوب میں فرمائی گئی ہے جس سے اس کڑی نگرانی کی بھی وضاحت ہو رہی ہے جو رسول کی، اس کی منصبی ذمہ داریوں کے سبب سے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور کفار کے اس مطالبہ کا جواب بھی اس میں آ گیا ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے تھے کہ اس قرآن کو اگر ہم سے منوانا ہے تو یا تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم یہ کہ اس میں ایسی ترمیم کرو کہ یہ ہمارے لیے لائق قبول ہو سکے۔ سورۂ یونس میں ان کے اس مطالبہ اور اس کے جواب کا یوں حوالہ آیا ہے: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ آیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا ائۡتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِ ہٰذَآ أَوْ بَدِّلْہُ قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْ أَنْ أُبَدِّلَہُ مِنۡ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ اِنْ أَتَّبِعُ اِلاَّ مَا یُوحٰٓی اِلَیَّ اِنِّیْ أَخَافُ اِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (یونس ۱۰: ۱۵) ’’اور جب ان کو ہماری نہایت واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یا تو اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں تبدیلی کرو۔ ان کو جواب دے دو کہ مجھے کیا حق ہے کہ میں اپنی چاہت سے اس میں کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو بس اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘  
    تو ہم اس کو قوی بازو سے پکڑتے۔
    ’لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے ’ہم اس کا (پیغمبر کا) دہنا پکڑتے‘ کیا ہے لیکن مجھے یہ ترجمہ صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ عربیت کے قاعدہ سے اس کا ترجمہ ’ہم اس کو اپنے قوی بازو سے پکڑتے‘ ہونا چاہیے۔ میں نے یہی ترجمہ کیا ہے اور تفسیر ابن جریر دیکھی تو اس سے بھی اسی کی تائید ہوئی۔
    پھر ہم اس کی شہ رگ ہی کاٹ دیتے۔
    ’ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ‘۔ ’وَتِیْن‘ کے معنی شہ رگ، رگ جاں یا رگ دل کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم اس سے کچھ دور نہیں ہیں۔ ہماری چٹکیوں میں تو اس کی شہ رگ ہے۔ ہم اسی کو مسل دیتے اور وہ چشم زدن میں ختم ہو جاتا۔
    پس تم میں سے کوئی بھی اس سے ہم کو روکنے والا نہ بن سکتا۔
    ’فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنَ‘۔ یہ قریش سے خطاب ہے کہ قرآن میں اپنے حسب منشا ترمیم کا مطالبہ تو کر رہے ہو لیکن خدا کی گرفت سے اس کو تم میں سے بچانے والا کون بنے گا! لفظ ’اَحَد‘ چونکہ جمع کے مفہوم میں آتا ہے جیسے ’لَسْتُنَّ کَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ‘ (الاحزاب ۳۳: ۳۲) میں ہے۔ اس وجہ سے ’حَاجِزِیْنَ‘ کا جمع آنا عربیت کے بالکل مطابق ہے۔ رسولوں کی حفاظت ان کی ذمہ داری کے اعتبار سے ہوتی ہے: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس طرح کی کڑی نگرانی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کرتا ہے جن کو وہ منصب رسالت پر مامور فرماتا ہے اس لیے کہ ان کی تحویل میں وحی کا خزانہ ہوتا ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔ اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ جو شخص بھی خدا پر جھوٹ بولے اس کی گردن توڑ دی جائے۔ جھوٹ بولنا تو درکنار کتنے ہیں جو خدا کو گالی دیتے ہیں لیکن اس دنیا میں ان کو بھی مہلت ملی ہوئی ہے۔ وہ اپنا انجام آخرت میں بھگتیں گے۔ البتہ خدا کا کوئی سچا رسول نہ خدا پر کوئی افترا کر سکتا اور نہ کسی کے دباؤ سے اس کے پیغام میں کوئی کمی بیشی کر سکتا۔ رسولوں کو جو عصمت حاصل ہوتی ہے اس کی حکمت بھی یہی ہے کہ ان کی امانت میں خدا کی شریعت ہوتی ہے۔ ان کی معمولی بھول چوک اور غلطی پوری خلق کے لیے موجب فتنہ بن سکتی ہے اس وجہ سے ان سے کوئی معمولی فروگزاشت بھی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فوراً درست فرما دیتا ہے۔ دوسروں کو یہ حفاظت حاصل نہیں ہوتی کیونکہ وہ اس ذمہ داری پر مامور نہیں ہوتے جس پر حضرات انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں۔
    اور یہ تو ایک یاددہانی ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیے۔
    رسول کو تسلی: یعنی لا خیرے اور محروم القسمت قسم کے لوگ اگر اس عظیم رحمت کی قدر نہیں کر رہے تو یہ ان کی اپنی محرومی ہے۔ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اس سے یاددہانی حاصل کرتے ہیں اور کریں گے اور وہی مقصود ہیں۔ یہ نعمت درحقیقت اللہ نے اتاری ہی انہی کے لیے ہے۔ اس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ اگر ناقدرے اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس سے دل برداشتہ نہ ہو۔ آخر اس کی قدر کرنے والے بھی تو ہیں!
    اور ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں اس کے جھٹلانے والے بھی ہیں۔
    مخالفین کو وعید: یہ مخالفین کو تہدید و وعید ہے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ تمہارے اندر اس کو جھٹلانے والے ہیں اور وہ کون ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ جو تکذیب کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ہم سے وہ مخفی نہیں ہیں۔ اور جب وہ مخفی نہیں ہیں تو وہ اپنا انجام دیکھیں گے!
    اور یہ کافروں کے لیے موجب حسرت ہو گا۔
    یعنی آج تو اس کی تکذیب کر رہے ہیں اور اپنے اس کارنامے پر بہت مگن ہیں لیکن عنقریب وہ دن بھی آنے والا ہے جب یہ کافروں کے لیے سبب حسرت بنے گا اور وہ اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ انھوں نے اس کی تکذیب کر کے کیوں اپنی یہ شامت بلائی!


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List