Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القلم (The Pen)

    52 آیات | مکی
    سورہ کا عمود، سابق سورہ سے تعلق اور مطالب کا تجزیہ

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الملک ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود اور موضوع میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ صرف طرز بیان، نہج استدلال اور لب و لہجہ میں فرق ہے۔ جس طرح سابق سورہ میں قریش کو عذاب اور قیامت سے ڈرایا گیا ہے اسی طرح اس سورہ میں بھی ان کو عذاب و قیامت سے ڈرایا گیا ہے لیکن اس سورہ کا لب و لہجہ سابق سورہ کے مقابل میں تیز ہے۔

    سابق سورہ کے آخر میں قریش کو مخاطب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلوایا گیا ہے کہ ’إِنْ أَہْلَکَنِیَ اللَّہُ وَمَن مَّعِیَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن یُجِیْرُ الْکَافِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍ‘ کہ اس خبط میں نہ رہو کہ میں کوئی شاعر اور دیوانہ ہوں جس کو گردش روزگار بہت جلد فنا کر دے گی۔ تمہاری یہ توقع بالفرض پوری بھی ہو جائے جب بھی تمہارے لیے اس میں اطمینان کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ تمہیں خدا کے عذاب سے بچانے والا کون بنے گا؟ اس سورہ میں اسی مضمون کی تائید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت، آپ کی پیش کردہ کتاب اور آپ کے اعلیٰ کردار کا موازنہ قریش کی فاسقانہ قیادت کے کردار سے کر کے یہ دکھایا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب موافق و مخالف دونوں پر واضح ہو جائے گا کہ کن کی باگ فتنہ میں پڑے ہوئے لیڈروں کے ہاتھ میں ہے جو ان کو تباہی کی راہ پر لے جا رہے ہیں اور کون لوگ ہدایت کی راہ پر ہیں اور وہ فلاح پانے والے بنیں گے۔

    اس کے بعد باغ والوں کی تمثیل کے ذریعہ سے قریش کو متنبہ فرمایا ہے کہ آج جو امن و اطمینان تمہیں حاصل ہے اس سے اس دھوکے میں نہ رہو کہ اب تمہارے اس عیش میں کوئی رخنہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ جس خدا نے تمہیں یہ سب کچھ بخشا ہے اس کے اختیار میں اس کو چھین لینا بھی ہے۔ اگر تم اس سے نچنت ہو بیٹھے ہو تو یاد رکھو کہ وہ چشم زدن میں تم کو اس سے محروم بھی کر سکتا ہے۔ پھر تم کف افسوس ملتے ہی رہ جاؤ گے۔

    آخر میں مکذبین قیامت کی اس فاسد ذہنیت پر ضرب لگائی ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو عیش و آرام انھیں یہاں حاصل ہے اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی انھیں یہی کچھ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حاصل ہو گا۔ ان سے سوال کیا ہے کہ آخر انھوں نے خدا کو اتنا نامنصف کس طرح سمجھ رکھا ہے کہ وہ نیکوں اور بدووں میں کوئی امتیاز نہیں کرے گا؟ ساتھ ہی ان کو چیلنج کیا ہے کہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح کا کوئی عہد کرا لیا ہے یا کوئی ان کے لیے اس کا ضامن بنا ہے تو اس کو پیش کریں۔ اسی ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آج جو سخن سازیاں یہ لوگ کر رہے ہیں اس کا غم نہ کرو، جب قیامت کی ہلچل برپا ہو گی تب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ جو خواب وہ دیکھتے رہے تھے وہ حقیقت سے کتنے دور تھے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے استدراج کے پھندے میں پھنس چکے ہیں اور اس کی تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے۔ اس سے بچ نکلنے کا ان کے لیے کوئی امکان نہیں ہے تو صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور اس طرح کی عجلت سے بچو جس میں یونس علیہ السلام مبتلا ہوئے اور جس کے سبب سے ان کو ایک سخت امتحان سے دوچار ہونا پڑا۔

  • القلم (The Pen)

    52 آیات | مکی
    الملک - القلم

    ۶۷ - ۶۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قیامت اور دوسری میں اُس عذاب سے خبردار کیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کے نتیجے میں اُس کی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دونوں میں خطاب اگرچہ جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش کے سرداروں کی طرف ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔ پہلی سورہ—- الملک—- کا موضوع قریش پر یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا جس طرح اور جس غایت کے لیے وجود میں آئی ہے، قیامت اُس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ لہٰذا اُس سے بے خوف ہو کر اپنے آپ کو اُس انجام تک نہ پہنچاؤ، جہاں اعتراف جرم کے سوا کوئی چارہ اوراِس اعتراف کے نتائج کو بھگتنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ اُس پروردگار سے ڈرو جو آج بھی، جس وقت اور جس طرح چاہے، تمھیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

    سورہ میں استدلال خدا کی رحمت، قدرت اور ربوبیت کی اُن نشانیوں سے ہے جو انسان ہر لحظہ اپنے گردوپیش دیکھتا ہے۔

    دوسری سورہ—- القلم—- کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ کتاب اور آپ کی سیرت سے قریش کے سرداروں کی سیرت و کردار اور اُن کے مزعومات کا موازنہ کرکے اُنھیں اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ خداکی کتاب اور اُس کے پیغمبر کے مقابلے میں وہ سرکشی اور تمردکارویہ اختیار نہ کریں۔ اُن کے سب باغ و بہار اور اُن کا تمام سرمایۂ فخر و مباہات عذاب کی زد میں
    ہے۔ وہ عقل سے کام لیں، اُن کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ صرف اِس لیے باتیں بنا رہے ہیں کہ اُنھیں ڈھیل دی جا رہی ہے۔ خدا کا فیصلہ عنقریب اُن کے بارے میں صادر ہوجائے گا۔

    سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کے ساتھ اِس فیصلے کا انتظار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 068 Verse 001 Chapter 068 Verse 002 Chapter 068 Verse 003 Chapter 068 Verse 004 Chapter 068 Verse 005 Chapter 068 Verse 006 Chapter 068 Verse 007 Chapter 068 Verse 008 Chapter 068 Verse 009 Chapter 068 Verse 010 Chapter 068 Verse 011 Chapter 068 Verse 012 Chapter 068 Verse 013 Chapter 068 Verse 014 Chapter 068 Verse 015 Chapter 068 Verse 016 Chapter 068 Verse 017 Chapter 068 Verse 018 Chapter 068 Verse 019 Chapter 068 Verse 020 Chapter 068 Verse 021 Chapter 068 Verse 022 Chapter 068 Verse 023 Chapter 068 Verse 024 Chapter 068 Verse 025 Chapter 068 Verse 026 Chapter 068 Verse 027 Chapter 068 Verse 028 Chapter 068 Verse 029 Chapter 068 Verse 030 Chapter 068 Verse 031 Chapter 068 Verse 032 Chapter 068 Verse 033 Chapter 068 Verse 034 Chapter 068 Verse 035 Chapter 068 Verse 036 Chapter 068 Verse 037 Chapter 068 Verse 038 Chapter 068 Verse 039 Chapter 068 Verse 040 Chapter 068 Verse 041 Chapter 068 Verse 042 Chapter 068 Verse 043 Chapter 068 Verse 044 Chapter 068 Verse 045 Chapter 068 Verse 046 Chapter 068 Verse 047 Chapter 068 Verse 048 Chapter 068 Verse 049 Chapter 068 Verse 050
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ نٓ ہے۔ قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جو وہ لکھتے ہیں۔
    حرف ’نٓ‘ کے معنی: جس طرح ’قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ‘ (قٓ ۵۰: ۱) میں ’قٓ‘ سورہ کا نام ہے اسی طرح یہاں ’نٓ‘ اس سورہ کا نام ہے۔ عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق مبتدا یہاں حذف ہو گیا ہے جس کو ہم نے ترجمہ میں کھول دیا ہے۔ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں امام فراہی رحمۃ اللہ علیہ کے اس نظریہ کا حوالہ ہم دے چکے ہیں کہ ابتداءً یہ حروف معانی پر دلیل ہوتے تھے، اب ان کے معانی کا علم اگرچہ باقی نہیں رہا تاہم بعض حروف اب بھی معنی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس دعوے کے ثبوت میں استاذ امامؒ نے جن حروف کا حوالہ دیا ہے ان میں یہ حرف بھی شامل ہے۔ جو اب بھی اپنے قدیم معنی (مچھلی) میں مستعمل ہے۔ اس سورہ کو اس نام سے موسوم کرنے میں اشارہ ہے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ کی طرف جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا، چنانچہ سورہ کے آخر میں ’صَاحِبُ الْحُوْتِ‘ (مچھلی والے) کے لقب سے آنجنابؑ کا ذکر آیا بھی ہے۔ سورۂ انبیاء کی آیت ۸۷ میں ’ذُوا النُّوْنِ‘ کے لقب سے بھی آپ کو ملقب فرمایا گیا ہے جس کے معنی بعینہٖ وہی ہیں جو ’صاحب الحوت‘ کے ہیں۔ قلم کی شہادت تین دعاوی پر: ’وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوۡنَ‘ یہ ’وَ‘ قسم کے لیے ہے اور یہ بات ہم بار بار ظاہر کر چکے ہیں کہ قرآن میں قسمیں کسی دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں۔ یہاں دعوے کے طور پر، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی، تین باتیں مذکور ہیں جن کو ثابت کرنے کے لیے یہ قسم کھائی گئی ہے۔ ایک یہ کہ مخالفین آپ کو (پیغمبر صلعم) جو دیوانہ کہتے ہیں یہ ان کی خرد باختگی ہے۔ آپ دیوانے نہیں بلکہ اللہ کے فضل سے تمام فرزانوں سے بڑھ کر فرزانے ہیں۔ دوسری یہ کہ مخالفین جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ آپ کی یہ ساری سرگرمیاں چند روزہ ہیں جو بہت جلد ہوا میں اڑ جائیں گی، یہ بالکل غلط فہمی ہے۔ آپ کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں ایک غیر منقطع اجر مقدر ہے۔ تیسری یہ کہ آپ ایک اعلیٰ کردار کے مالک ہیں اس وجہ سے جو لوگ آپ کو شاعر، کاہن یا دیوانہ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں وہ اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔ ان دعاوی پر قرآن میں جگہ جگہ خود قرآن ہی کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے اس وجہ سے قرینہ اسی بات کا ہے کہ یہاں بھی ’وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ سے قرآن ہی مراد ہو۔ چنانچہ مجاہدؒ سے روایت بھی ہے کہ ’القلم‘ سے مراد وہ قلم ہے جس سے قرآن مجید لکھا جا رہا تھا اور ’وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قلم کی اہمیت کے چند پہلو: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ ’تعلیم بالقلم‘ اللہ تعالیٰ کے عظیم احسانات میں سے ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: ’اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ ۵ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۵ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ‘ (العلق ۹۶: ۳-۵) (پڑھو اور تمہارا رب نہایت ہی بافیض رب ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے تعلیم دی، انسان کو سکھایا وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا) سابق انبیاء علیہم السلام نے جو تعلیم دی وہ زبانی تعلیم کی شکل میں تھی جس کو محفوظ رکھنا نہایت مشکل تھا۔ وہ بہت جلد یا تو محرف ہو کر مسخ ہو جاتی یا اس پر نسیان کا پردہ پڑ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو اس آفت سے محفوظ رکھنے کے لیے انسان کو قلم اور تحریر کے استعمال کا طریقہ سکھایا جس سے وہ اس قابل ہوا کہ زبانی تعلیم کی جگہ اس کو تحریر کے ذریعہ سے تعلیم دی جائے۔ چنانچہ سب سے پہلے اس کو تورات کے احکام عشرہ الواح میں لکھ کر دیے گئے۔ پھر دوسرے نبیوں کی تعلیمات بھی قلم بند ہوئی اور سب کے آخر میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اس طرح محفوظ کی گئی کہ قیامت تک اس میں کسی تحریف و تغیر کا کوئی ادنیٰ احتمال بھی باقی نہ رہا۔ قلم سے مراد: ’قلم‘ کی اسی اہمیت کے سبب سے یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کھائی ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے یہاں کوئی خاص قلم مراد نہیں ہے بلکہ یہ لفظ تعبیر ہے تعلیمات الٰہیہ کے اس پورے مدوّن سرمایہ (WRITTEN RECORD) کی جو قلم کے ذریعہ سے محفوظ ہوا۔ یعنی تورات، زبور، انجیل وغیرہ۔ ان مقدس صحیفوں کی تعلیمات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتی ہیں اور ان کے اندر آپ کے ظہور کی ناقابل تردید شہادتیں بھی ہیں۔ ان ساری چیزوں کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ ’وَمَا یَسْطُرُوۡن‘ کا مفہوم: ’وَمَا یَسْطُرُون‘ سے مراد، قرینہ دلیل ہے کہ، قرآن مجید ہے جو اس وقت نازل بھی ہو رہا تھا اور صحابہؓ کے ہاتھوں لکھا بھی جا رہا تھا۔ پچھلے صحیفوں کی قسم کے بعد یہ خود قرآن مجید کی قسم ہے۔ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، رزانت اور رسالت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ جو شخص ایسا اعلیٰ اور برتر کلام پیش کر رہا ہے اس کا یہ کلام ہی دلیل ہے کہ یہ کوئی کاہن یا شاعر یا دیوانہ نہیں ہے بلکہ اللہ کا رسول ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کفار کے اس قسم کے طعنوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بالعموم قرآن مجید ہی کو ان کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کو دیکھیں اور انصاف سے فیصلہ کریں کہ یہ کسی دیوانے یا کاہن یا شاعر کا کلام ہو سکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا؟  
    کہ تم اپنے رب کے فضل سے کوئی دیوانے نہیں ہو۔
    قسم کا مقسم علیہ: یہ مقسم علیہ ہے۔ یعنی تمام پچھلے آسمانی صحیفے اور یہ قرآن، جو لکھا جا رہا ہے، سب اس بات پر شاہد ہیں کہ تم اللہ کے فضل سے کوئی دیوانے نہیں ہو۔ بلکہ تم انہی باتوں سے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو جن سے آدم علیہ السلام سے لے کر مسیح علیہ السلام تک ہر نبی نے آگاہ کیا اور جن کی صداقت پر تاریخ گواہ ہے۔ اگر یہ مدعیان دانش اس جرم میں تمہیں دیوانہ کہہ رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو، تم دیوانے نہیں بلکہ اپنے رب کے سب سے بڑے فضل سے بہرہ مند ہو البتہ ان دانش فروشوں کی عقل ماری گئی ہے کہ یہ دیوانے اور فرزانے میں امتیاز سے قاصر ہیں۔ آنحضرت صلعم کو مجنون کہنے کی وجہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون کہنے کی وجہ ہم اس کے محل میں ظاہر کر چکے ہیں کہ قریش کے لیڈروں کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی تھی کہ آپؐ جس عذاب سے ان کو اس شد و مد اور اس جزم و یقین کے ساتھ ڈرا رہے ہیں کہ گویا اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں آخر وہ کدھر سے آ جائے گا؟ ان کو یہ پریشانی لاحق تھی کہ آپ کے لب و لہجہ میں جو غیر معمولی جزم و یقین، آپ کے انداز دعوت میں جو مافوق العادت بے چینی و بے قراری اور آپ کی تذکیر میں دلوں کو ہلا دینے والی جو درد مندی و شفقت ہے اس سے ان کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر کو زائل کرنے کے لیے انھوں نے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہا کہ اس شخص کی یہ ساری بے چینی و بے قراری اس وجہ سے نہیں ہے کہ فی الواقع کوئی عذاب آنے والا ہے جس سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے بلکہ بعض اشخاص کو جس طرح کسی چیز کا مالیخولیا ہو جاتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے اسی کی رٹ لگائے رکھتے ہیں اسی طرح اس شخص کو بھی عذاب کا مالیخولیا ہو گیا ہے جو اس کو ہر طرف سے آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس بات کو تقویت دینے کے لیے اس پر وہ یہ اضافہ بھی کر دیتے کہ کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کے سبب سے اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں رہی ہے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
    اور تمہارے لیے یقیناً ایک کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
    رسول کے لیے ابدی فیروز مندی کی بشارت: یہ اسی بات کی وضاحت مثبت پہلو سے ہے کہ احمق ہیں وہ جو تمہیں دیوانہ سمجھ کر تمہارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں جو ان کے خیال میں تمہیں تباہ کر دے گی۔ تباہی تمہارے لیے نہیں بلکہ خود ان کے لیے مقدر ہے۔ تمہارے لیے تو کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے اور مغروروں کو جو دنیا ملی ہے اور جس پر یہ نازاں ہیں یہ اب عذاب کی زد میں ہے اور بہت جلد یہ اس کا انجام دیکھ لیں گے لیکن تمہیں تمہاری حق پرستی کا جو صلہ ملنے والا ہے وہ ابدی ہے جس کے لیے کبھی زوال نہیں ہے۔ ’غَیْْرَ مَمْنُوۡنٍ‘ کے معنی غیر منقطع کے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی اس سے مختلف بھی لیے ہیں لیکن وہ عربیت اور نظائر قرآن کے خلاف ہے۔
    اور تم ایک اعلیٰ کردار پر ہو۔
    رسول کا کردار اس کے دعوے پر عظیم حجت ہے: یعنی حضرات انبیاء علیہم کی تاریخ نے اعلیٰ کردار کے جو نمونے پیش کیے ہیں تم اسی کی ایک نہایت شان دار مثال ہو اور تمہارا یہ کردار ان لوگوں کے خلاف سب سے بڑی حجت ہے جو تمہیں دیوانہ یا کاہن یا شاعر کہہ کر اپنے کو اور اپنے عوام کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ تمہاری یہ باتیں ہوا میں اڑ جائیں گی۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ کردار کو آپ کے دعوے کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سورۂ شعراء میں نہایت تفصیل سے کاہنوں اور شاعروں کے اخلاق کی پستی، ان کی فکری ہرزہ گردی اور ان کے قول و عمل کی بے ربطی کا حوالہ دے کر ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناپاک زمرے میں شامل کرتے تھے۔ ان سے سوال کیا گیا ہے کہ نبی کے اعلیٰ کردار کو ان کاہنوں اور شاعروں کے کردار سے کیا تعلق جن کا ظاہر و باطن دونوں ہی یکساں تاریک ہے!
    پس تم بھی عنقریب دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔
    اہل ایمان کے لیے بشارت اور مخالفوں کے لیے وعید: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور مخالفین کے لیے دھمکی ہے کہ اگر یہ تمہیں دیوانہ کہہ کر تمہاری باتوں کو بے وزن بنانا چاہتے ہیں تو کچھ دن صبر کرو۔ عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ دونوں میں سے کس پارٹی کی باگ فتنہ میں پڑے ہوئے لیڈر کے ہاتھ میں ہے؟ اہل ایمان کی باگ، جن کی قیادت تم کر رہے یا قریش کی باگ جن کی قیادت ابولہب اور ابوجہل کر رہے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ اب فیصلہ کا وقت قریب ہے اور حقیقت کے ظاہر ہونے میں زیادہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔ بہت جلد سب دیکھ لیں گے کہ کون لوگ شیطان کے فتنہ میں پڑے ہوئے تھے اور انھوں نے اپنی قوم کو تباہی کے کھڈ میں گرایا اور کون شیطان کے فتنوں سے امان میں رہا اور اس نے اپنے پیروؤں کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی راہ دکھائی! یہاں وہ حقیقت پیش نظر رکھیے جس کی بار بار یاددہانی کی جا چکی ہے کہ رسولوں کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے کہ جب وہ آتے ہیں تو اسی دنیا میں اپنی جماعت اور اپنے مخالفوں کے انجام کا فیصلہ کر کے جاتے ہیں۔ آیت میں اہل ایمان کے لیے جو تسلی اور اہل کفر کے لیے جو وعید ہے وہ جس طرح آخرت سے متعلق ہے اسی طرح اس دنیا سے بھی متعلق ہے۔ سابق سورہ کے آخر میں جو فرمایا ہے کہ ’فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ہُوَ فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ‘ یہ اسی کا اعادہ دوسرے الفاظ میں ہے۔
    کہ فتنہ میں پڑا ہوا تم میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔
    ’بِأَیْیِّکُمُ الْمَفْتُوْنُ‘ میں ’ب‘ بظاہر ’تُبْصِرُ‘ اور ’یُبْصِرُوْنَ‘ کے ساتھ بے جوڑ سی معلوم ہوتی ہے لیکن یہاں تضمین ہے یعنی ’یُبْصِرُوْنَ‘ متضمن ہے ’یَعْلَمُوْنَ‘ کے معنی پر۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ زمخشری کی رائے یہی ہے اور میرے نزدیک یہ رائے اصول عربیت کے مطابق ہے۔ ’بِأَیْیِّکُمُ‘ کے معنی ’بِاَیِّ الْحِزْبَیْنَ‘ کے ہیں۔ ’مَفْتُوْنٌ‘ کے معنی ’مَجْنُوْنٌ‘ کے نہیں ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ ’مَفْتُوْنٌ‘ ہی کے ہیں۔ یعنی وہ شخص جو دنیا اور شیطان کے جال میں پھنسا ہوا ہو۔ یہاں ’مجنون‘ کے بجائے ’مفتون‘ کا لفظ استعمال کر کے قرآن نے یہ رہنمائی دی ہے کہ جو لوگ دنیا اور شیطان کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اصلی مجنون وہی ہوتے ہیں اور جس پارٹی کی باگ ایسے مفتونوں کے ہاتھ میں ہو وہ بالآخر جہنم میں گر کے رہتی ہے۔
    تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ انھیں بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یاب ہیں۔
    یہ اسی اوپر والے مضمون کی تائید و توثیق ہے کہ تمہارا رب نہ تو ان لوگوں سے بے خبر ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور نہ ان لوگوں سے ناواقف ہے جو ہدایت پر ہیں بلکہ وہ دونوں ہی سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہو گا۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو ذلت کے مستحق ہیں وہ ہمیشہ عزت سے سرفراز رہیں اور نہ یہ ہو سکتا کہ جو سرفرازی کے حق دار ہیں وہ برابر ظالموں کے ظلم کے ہدف بنے رہیں۔ یہ دنیا اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم و خبیر خالق کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کے لیے ایک روز انصاف آئے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے اس رب پر بھروسہ رکھو۔ وہ نیکوکاروں اور شریروں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا۔
    پس ان جھٹلانے والوں کی باتوں پر کان نہ دھرو۔
    یعنی جب اصل حقیقت یہ ہے جو بیان ہوئی تو عذاب اور قیامت کی تکذیب کرنے والوں کی باتوں کا دھیان نہ کرو اور ان کی ہفوات پر کان نہ دھرو۔ یہ لوگ اگر نچنت ہیں کہ نہ عذاب ہے نہ قیامت تو انھیں نچنت رہنے دو۔ اگر یہ مطمئن ہیں کہ قیامت ہوئی تو وہاں بھی ان کو وہی کچھ حاصل ہو گا جو یہاں حاصل ہے تو انھیں یہ خواب خوش دیکھ لینے دو۔ یہ دنیا ان کی خواہشوں کے محور پر نہیں گھوم رہی ہے کہ جو کچھ یہ چاہیں گے انھیں مل جائے گا بلکہ یہ ایک حکیم و عزیز کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے اور یہ لازم ہے کہ ایک دن اس کی حکمت اور اس کا عدل اپنی کامل صورت میں ظاہر ہو۔ لفظ ’اِطَاعَۃٌ‘ یہاں کسی کی بات کا اثر لینے کے مفہوم میں ہے۔ اس مفہوم میں یہ لفظ کلام عرب میں بھی استعمال ہوا ہے اور قرآن میں بھی۔
    یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا تم نرم پڑو تو یہ بھی نرم پڑ جائیں گے۔
    مخالفین کی اصل پالیسی: یہ ان مکذبین کی مخالفت کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان کی یہ ساری تگ و دو اس مقصد سے ہے کہ تم کچھ اپنے رویہ میں لچک پیدا کرو تو یہ بھی نرم پڑ جائیں۔ یعنی تمہاری باتوں کی صداقت میں انھیں شبہ نہیں ہے لیکن ان کو ماننا ان کی خواہشوں کے خلاف ہے اس وجہ سے انھوں نے یہ طوفان اٹھایا ہے کہ تم پر دباؤ ڈال کر تمہیں کچھ نرم کریں تاکہ تم کچھ باتیں ان کی مان لو اور وہ کچھ باتیں تمہاری مان لیں اور اس طرح ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر باہم سمجھوتہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ مخالفت اپنے دین جاہلی کے ساتھ کسی اخلاص پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک قسم کی (BARGAINING) کی کوشش ہے۔ جب تک انھیں توقع ہے کہ وہ تمہیں دبانے میں کچھ کامیاب ہو جائیں گے ان کی یہ کوشش جاری رہے گی۔ جب یہ توقع ختم ہو جائے گی ان کا حوصلہ پست ہو جائے گا۔ زبان سے متعلق ایک سوال کا جواب: یہاں ایک سوال زبان سے متعلق پیدا ہوتا ہے کہ عربیت کے قاعدے سے تو یہاں ’وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْا‘ ہونا تھا لیکن ہے ’فَیُدْہِنُوْنَ‘۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اسلوب مختلف اختیار کیا گیا ہے۔ یہاں دراصل مبتدا محذوف کر دیا گیا ہے۔ یعنی اصل میں ’فَھُمْ یُدْہِنُوْنَ‘ ہے۔ مطلب یہ ہو گا کہ ان کی خواہش یہ ہے کہ جب تم کچھ نرم پڑ جاؤ گے تو وہ بھی اپنے رویہ میں نرمی پیدا کر لیں گے۔ اس اسلوب کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔
    اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے، (ذلیل، اشارہ باز، لُترے، خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے، سنگدل، مزید برآں بے نسب) کی۔
    قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی تصویر: یہ اسی ’فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ‘ پر عطف کر کے تاکید کے ساتھ پھر تنبیہ فرمائی کہ تم ہر لپاٹیے ذلیل کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ یہ اشارہ کسی خاص شخص کی طرف نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ قریش کی پوری قیادت کی اخلاقی پستی کی تصویر آگے کی چند آیتوں میں کھینچ دی گئی ہے اور مقصود اس سے یہ دکھانا ہے کہ ایک طرف پیغمبر کا وہ بے مثال ’خلق عظیم‘ ہے جس کا آیت ۴ میں حوالہ ہے اور دوسری طرف قریش کے لیڈروں ۔۔۔ ابولہب، ولید بن مغیرہ، ابوجہل، اخنس بن شریق ۔۔۔ وغیرہ کا یہ کردار ہے جو بیان ہو رہا ہے۔ ان دونوں کو سامنے رکھ کر ہر منصف فیصلہ کر سکتا ہے کہ کون کس انجام سے دوچار ہونے والا ہے! یہ بات کہ یہ کسی خاص شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا کردار بیان ہو رہا ہے مختلف پہلوؤں سے واضح ہے۔ اول یہ کہ اس کا عطف ’فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ‘ پر ہے اور مکذبین سے مراد ظاہر ہے کہ کوئی معین شخص نہیں بلکہ موقع و محل دلیل ہے کہ قریش کی پوری قیادت ہے۔ دوسرا یہ کہ لفظ ’کُلّ‘ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں زیربحث کسی معین شخص کا کردار نہیں بلکہ جماعت کا کردار ہے۔ تیسرا یہ کہ آگے ’اِنَّا بَلَوْنٰہُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں جس میں جمع کی ضمیر ’ہُمْ‘ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا مرجع کوئی فرد نہیں بلکہ جماعت ہے۔ چوتھا یہ کہ یہاں جو کردار بیان ہوا ہے وہ قریش کی پوری قیادت پر تو ٹھیک ٹھیک منطبق ہو جاتا ہے لیکن ہر بات کسی ایک معین شخص پر اگر منطبق کرنے کی کوشش کی جائے تو تکلف کرنا پڑے گا۔ اس اصولی بحث کو ذہن نشین کر لینے کے بعد اب الفاظ پر غور فرمائیے۔ ’حَلَّافٌ‘ کے معنی بہت زیادہ قسم کھانے والے کے ہیں۔ لفظ ’حلف‘ جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہو چکی ہے، اول تو اچھے معنی میں آتا نہیں پھر اس کے ساتھ ’مَّھِیْنٌ‘ کی صفت بھی لگی ہوئی ہے جس کے معنی ذلیل کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زیادہ قسم وہی شخص کھائے گا جس کو اپنی عزت نفس کا خیال نہیں ہو گا۔ جو لوگ کردار کے اعتبار سے پست یا مطعون ہوتے ہیں وہ ہمیشہ احساس کہتری کے سبب سے شک میں مبتلا رہتے ہیں کہ مخاطب ان کی بات اس وقت تک باور نہیں کرے گا جب تک وہ قسم کھا کے اطمینان نہیں دلائیں گے اس وجہ سے وہ بات بات پر قسم کھاتے ہیں۔ چنانچہ منافقین کے متعلق قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے کردار پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔ قریش کے لیڈروں کے پاس نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر حرف رکھنے کی گنجائش تھی اور نہ اسلام کے خلاف کوئی مبنی بر دلیل بات کہنے کی۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے واحد سہارا ان کے پاس یہی تھا کہ قسمیں کھا کھا کے لوگوں کو اطمینان دلائیں کہ العیاذ باللہ آپ شاعر، کاہن، مجنون اور مفتری ہیں۔
    (اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے)، ذلیل، اشارہ باز، لُترے، (خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، حق مارنے والے، سنگدل، مزید برآں بے نسب) کی۔
    ’ھَمَّازٌ‘ ’ھمز‘ سے مبالغہ ہے جس کے معنی اشارہ باز کے ہیں۔ اشارہ بازی اور پھبتی اس قسم کے لوگوں کا خاص شیوہ ہوتا ہے جو کسی کو دوسروں کی نگاہوں سے گرانے کے درپے ہوں۔ یہ اشارہ بازی حرکات اور چشم و ابرو سے بھی ہوتی ہے، الفاظ اور فقروں سے بھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور غریب مسلمانوں کو قریش کے مستکبرین جس قسم کے اشاروں اور فقروں کا ہدف بناتے تھے اس کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں اوران کی وضاحت ان کے محل میں ہو چکی ہے۔ ’وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ‘ (اللھمزۃ ۱۰۴: ۱) میں اسی کردار کی طرف اشارہ ہے۔ مستکبرین کے پاس دلیل کی قوت نہیں ہوتی اس وجہ سے وہ اسی اوچھے ہتھیار سے حق کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس قسم کے تیر تُکے حقیقت کی شمشیر بُرّاں کے مقابل میں کیا کام آ سکتے ہیں! ’مَّشَّآءٍم بِنَمِیْمٍ‘۔ ’نمیمۃ‘ اور ’نمیم‘ کے معنی چغلی اور لگانے بجھانے کے ہیں۔ یہ اشارہ ان مفسرین کے جوڑ توڑ کی خصلت کی طرف ہے کہ یہ رات دن جوڑ توڑ میں سرگرم رہتے ہیں اور اس کے ذریعے چغلی کو ذریعہ بناتے ہیں۔ جس کو بھی دوسرے سے کاٹنا اور اپنے سے ملانا چاہا تو اس کے لیے سب سے بڑا حربہ ان کے پاس یہی ہوتا ہے۔ اسی نسخہ سے وہ اسلام کی مخالفت کا کام بھی لے رہے تھے۔ ان کی رات دن یہی کوشش تھی کہ مختلف قسم کی بے بنیاد غلط فہمیاں مسلمانوں میں پھیلا کر ان کے درمیان پھوٹ ڈلوائیں تاکہ اسلام نے ان کے اندر جو اخوت و مودت پیدا کی ہے وہ مستحکم نہ ہونے پائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہو۔
    (اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے، ذلیل، اشارہ باز، لُترے)، خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، (حق مارنے والے، سنگدل، مزید برآں بے نسب) کی۔
    مناع، معتدی اور اثیم: اوپر کی آیات سے واضح ہوا کہ ان کی قیادت کی پوری عمارت جھوٹ، دوسروں کی تحقیر و توہین اور چغلی و نمامی پر قائم ہے۔ اب یہ واضح فرمایا جا رہا ہے کہ یہ نیکی کے کٹر دشمن، اللہ کے حدود کو توڑنے والے، بندوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور ان کو دبا بیٹھنے والے ہیں۔ ’مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ‘ یوں تو عام ہے کہ وہ ہر نیکی اور بھلائی کی راہ میں ایک بھاری پتھر ہیں لیکن یہاں خاص اشارہ ان کی بخالت کی طرف ہے کہ وہ غرباء و مساکین کی امداد میں نہ خود کوڑی خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتے اور نہ دوسروں کو خرچ کرتے دیکھ سکتے بلکہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی انہی کی طرح مارگنج بنے بیٹھے رہیں تاکہ ان کی بخالت پر پردہ پڑا رہے۔ قرآن مجید میں مختلف اسلوبوں سے بخیلوں کے کردار کا یہ پہلو واضح فرمایا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بخالت کی راہ سجھاتے ہیں تاکہ خود ان کی بخالت کا راز فاش نہ ہو۔ ’مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ‘ یعنی صرف یہی نہیں کہ نہ خود خرچ کرتے نہ خرچ کرنے دیتے بلکہ وہ دوسروں کے حقوق پر تعدی کرنے والے بھی ہیں اور جو حقوق ان پر عائد ہوتے ہیں ان کو دبا بیٹھنے والے بھی۔ ان دونوں لفظوں کی تحقیق اس کے محل میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ ’اعتداء‘ میں دوسروں کے حقوق پر دست درازی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ’اِثم‘ میں حق تلفی کا۔
    (اور تم بات نہ سنو ہر جھوٹی قسمیں کھانے والے، ذلیل، اشارہ باز، لُترے، خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے)، حق مارنے والے، سنگدل، مزید برآں بے نسب کی۔
    ’عُتُلٍّ‘ کے معنی سخت دل اور بے مروت کے ہیں۔ جو شخص بخیل ہو گا وہ لازماً سنگ دل بھی ہو گا۔ یہ گویا اوپر کے بیان کردہ کردار کا باطنی پہلو ہے۔ انہی لوگوں کے باب میں ارشاد ہوا ہے: ’اَرَءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ‘ (الماعون ۱۰۷: ۱-۲) (ذرا دیکھو تو اس کو جو جزاء کو جھٹلاتا ہے۔ وہی ہے جو یتیموں کو دھکے دیتا ہے)۔ ’زنیم‘: ’بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ‘۔ ’زنیم‘ کی وضاحت اہل لغت نے یوں کی ہے:’الملحق یقوم لیس منھم ولا یحتاجون الیہ‘ (وہ شخص جو کسی قوم کے نسب میں شریک بن بیٹھے درآنحالیکہ نہ وہ ان میں سے ہو اور نہ اہل قوم اس کی کوئی ضرورت محسوس کرتے ہوں) یہ لفظ ’زنمۃ‘ سے نکلا ہے۔ ’زنمۃ‘ اس غدود کو کہتے ہیں جو بعض بکریوں کی گردن میں لٹک آتا ہے اور جس کی حیثیت جسم میں ایک بالکل فالتو عضو کی ہوتی ہے۔ روایات میں اخنس بن شریق کے متعلق آیا ہے کہ اصلاً وہ ثقیف میں سے تھا لیکن مدعی تھا کہ وہ زہرہ میں سے ہے۔ اسی طرح ولید بن مغیرہ کے متعلق بھی مشہور ہے کہ وہ قریشی ہونے کا مدعی تھا حالانکہ وہ قریش میں سے نہ تھا۔ جو لوگ اپنے نسب کو حقیر سمجھ کر دوسروں کے نسب میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں وہ شیخی باز قسم کے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کا زیادہ اعتماد تملق، چاپلوسی اور قومی حمیت و حمایت کی جھوٹی نمائش پر ہوتا ہے تاکہ قوم کے اندر ان کا بھرم قائم رہے۔ چنانچہ اس طرح کے کھوٹے قرشی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں خاص طور پر پیش پیش تھے۔ وہ اپنی قوم پرستی کا مظاہرہ کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو اکساتے کہ آپ کی دعوت سے قریش کی وحدت و جمعیت میں انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ انہی شیخی بازوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ اور رذالتیں ان کے اندر جو تھیں وہ تو تھیں ہی مزید برآں یہ بھی ہے کہ ان میں کچھ طفیلی بھی ہیں جو اہل قوم سے بھی زیادہ قوم کے وفادار ہونے کے مدعی اور اس کی جاہلی روایات کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کڑوے کریلے تو تھے ہی ستم بالائے ستم یہ ہوا ہے کہ یہ نیم چڑھے بھی ہیں۔ قرآن نے یہ ضرب اس کردار پر لگائی ہے جو اس قسم کے لوگوں کے اندر لازماً پیدا ہو جاتا ہے جو احساس کہتری کے مریض اور خود اعتمادی سے محروم ہوتے ہیں۔
    یہ کردار اس وجہ سے ہوا کہ وہ مال و اولاد والا ہے۔
    فاسد کردار کا سبب: یہ سبب بیان ہوا ہے اس بات کا کہ ان کے اندر یہ کردار کیوں پیدا ہوا۔ فرمایا کہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ یہ مال و اولاد والے ہوئے۔ یہ فقرہ نہایت بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے ان کو مال و اولاد والا بنایا تو ہونا تو یہ تھا کہ یہ اپنے رب کے شکرگزار، فرماں برداراور اس کے نازل کیے ہوئے حق کے علم بردار بن کر اٹھتے لیکن یہ اس کے برعکس بالکل ناشکرے اور ناہنجار بن کر اٹھے۔ قرآن میں یہ حقیقت جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جن کو اپی نعمتوں سے بہرہ مند فرماتا ہے وہ ان کا امتحان کرتا ہے کہ دیکھے اس کی نعمتیں پا کر وہ اس کے شکرگزار بنتے ہیں یا غرور میں مبتلا ہو کر شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ اسی امتحان میں اللہ نے ان لوگوں کو ڈالا لیکن یہ بالکل فیل ہو کر رہ گئے اور اللہ کی نعمت ان کے لیے نقمت کا سبب بن گئی۔
    جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے، یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔
    غرور و استکبار کی تصویر: یہ اس غرور و استکبار کی تصویر ہے جس میں یہ لوگ مبتلا ہوئے۔ فرمایا کہ جب ان قوموں کی سرگزشتیں سنائی جاتی ہیں جو انہی کی طرح غرور و استکبار میں مبتلا ہوئیں اور اس کے نتیجہ میں تباہ کر دی گئیں تو ان سے سبق لینے کے بجائے ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ تو پچھلی قوموں کے فسانے ہیں، ان کو حاضر سے کیا تعلق! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے قصے سنانے والوں کو نہ ہم نبی ماننے کے لیے تیار ہیں اور نہ ان افسانوں سے ہم مرعوب ہی ہونے والے ہیں۔ اس امر کو کسی کی تصدیق یا تکذیب سے کیا تعلق!
    ہم عنقریب اس کے ناکڑے پر داغیں گے۔
    استکبار کی سزا: یہ ان مستکبرین کے غرور و استکبار کی سزا بیان ہوئی ہے جو آخرت میں ان کو ملنے والی ہے۔ فرمایا کہ جلد وہ وقت آ رہا ہے جب ہم ان کے ناکڑے پر داغ لگائیں گے۔ ’خرطوم‘ اصل میں سونڈ کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ مستکبرین کی ناکوں کے لیے بطریق استعارہ استعمال ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت درحقیقت اپنی ناک ہی اونچی رکھنے کے لیے کر رہے تھے۔ اگر کسی کے اندر ناک اونچی رکھنے کا ایسا جنون پیدا ہو جائے کہ وہ اس کی خاطر بڑے سے بڑے اور واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمربستہ ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی ناک صرف ناک نہیں ہے بلکہ اس نے اس کو بڑھا کر اور پھلا کر سونڈ بنا لیا ہے۔ فرمایا کہ اگر انھوں نے اپنی ناک کو ناکڑا بنا لیا ہے تو بنا لیں، ہم عنقریب ان کے ناکڑے پر ذلت کا داغ لگائیں گے جو سب دیکھیں گے۔ یہ استکبار اور اس کی سزا کی بہترین تعبیر ہے جس کی بلاغت احاطۂ بیان میں نہیں آ سکتی۔
    ہم نے ان کو اس طرح امتحان میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو امتحان میں ڈالا جب کہ انھوں نے قسم کھائی کہ وہ صبح سویرے ضروری اس کے پھل توڑ لیں گے۔
    قریش کے لیڈروں کے لیے ایک تمثیل: اوپر قریش کے قائدین کا جو کردار بیان ہوا ہے اس کا کھوکھلا بن واضح کرنے کے لیے یہ ان کے سامنے ایک تمثیل بیان فرمائی ہے جس میں ان کو یہ دکھایا ہے کہ اپنے جس اقتدار پر ان کو یہ ناز و اعتماد ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کی بنیاد بالکل ریت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا چشم زدن میں اس کو خاک میں ملا دے گا۔ اس وقت وہ اپنی بدبختی پر سر پیٹیں گے اور توبہ و استغفار بھی کریں گے لیکن ان کا سارا نالہ و شیون بالکل بے سود ہو گا۔ ’بَلَوْنَاہُمْ‘ میں ضمیر ’ہُمْ‘ کا مرجع ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہوں گے جن کا کردار اوپر زیر بحث آیا ہے۔ یہ اس بات کا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نہایت واضح قرینہ ہے کہ یہ کردار کسی معین شخص کا نہیں بلکہ قریش کی پوری قیادت کا ہے۔ اگر کسی ایک شخص کا کردار بیان ہوا ہوتا تو ضمیر جمع کی جگہ واحد کی آتی۔ اسی طرح یہاں زبان کا ایک دوسرا نکتہ بھی قابل لحاظ ہے۔ وہ یہ کہ ’اَصْحَابَ الْجَنَّۃِ‘ میں لفظ ’اَلْجَنَّۃِ‘ پر الف لام داخل ہے جس سے گمان ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص باغ والوں کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ تمثیلات میں لام تعریف یا ’اَلَّذِیْ‘ اور ’اَلَّتِیْ‘ وغیرہ جو آتے ہیں تو اس سے مقصود، جیسا کہ ہم ایک سے زیادہ مواقع میں وضاحت کر چکے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ کوئی معین ذات مدنظر ہے بلکہ اس سے مقصود صرف صورت حال کو مشخص و مصور کرنا ہوتا ہے تاکہ قاری کے سامنے واقعے کی پوری تصویر آ جائے۔ اس وجہ سے یہاں یمن یا صنعاء کے کسی خاص باغ کے مالکوں کے واقعہ کی جستجو کی زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ ہمارے مفسرین نے اٹھائی ہے، بلکہ یہ ایک خاکہ ہے جس میں قریش کے لیڈروں کے ذہن اور ان کے انجام کی تصویر اس طرح کھینچ دی گئی ہے کہ اس کا کوئی گوشہ مخفی نہیں رہ گیا۔ ’اِذْ أَقْسَمُوۡا لَیَصْرِمُنَّہَا مُصْبِحِیْنَ‘۔ یہ اس اعتماد کی طرف اشارہ ہے جو باغ والوں کو اپنی کامیابی پر تھا۔ وہ نہایت مطمئن اور پر امید تھے کہ ان کا باغ موسموں کے تمام تغیرات سے گزر کر اب اس مرحلہ میں داخل ہو گیا جس میں اس پر کسی آفت کا کوئی اندیشہ نہیں رہا۔ ان کے خیال میں بس اتنا کام باقی رہ گیا تھا کہ کل صبح وہ جائیں اور پھل توڑ کر اپنے گھروں کو لائیں۔ چنانچہ انھوں نے قسم کھا کر یہ ارادہ کیا کہ صبح ہم اس کے پھل ضرور ہی توڑ لیں گے۔
    اور کچھ بھی نہ چھوڑیں گے۔
    ایک عام غلط فہمی: عام طور پر لوگوں نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ قسم کھاتے ہوئے انھوں نے ’اِنْ شَآءَ اللّٰہ‘ نہیں کہا۔ ان کو اپنی کامیابی اتنی متیقّن نظر آئی کہ یہ وہم بھی نہ گزرا کہ اس میں کوئی رخنہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس مطلب پر اگرچہ تمام مفسرین کا اتفاق ہے لیکن میرا دل اس پر نہیں جمتا۔ لفظ ’اِسْتِثْنَاءٌ‘ کے اندر اگرچہ اس مفہوم کی گنجائش ہے لیکن جس اسلوب میں یہاں بات فرمائی گئی ہے وہ اس کے لیے کچھ موزوں نہیں ہے۔ اگر یہ بات کہنی تھی تو ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ کی جگہ ’وَلَمْ یَسْتَثْنُوْا‘ یا اس سے ملتا جلتا کوئی اور اسلوب ہونا تھا۔ خود لفظ ’اِسْتِثْنَاءٌ‘ بھی ’اِنْ شَآءَ اللّٰہ‘ کہنے کے مفہوم کے لیے کوئی واضح لفظ نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب جہاں بھی لیا جائے گا قرینہ ہی کی مدد سے لیا جائے گا۔ اور یہاں اس کا قرینہ ایسا واضح نہیں ہے کہ اس پر ذہن پوری طرح مطمئن ہو سکے۔ میرے نزدیک یہاں ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ اپنے اصل لغوی مفہوم ہی میں ہے یعنی انھوں نے قسم کھائی کہ کل ہم اپنے باغ کے پھل ضرور ہی توڑ لیں گے اور اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں گے نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کا طریقہ نہیں اختیار کریں گے جو باغ کے پھل توڑتے ہیں تو کچھ غریبوں مسکینوں کے نام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ باغوں سے متعلق دین دار اور فیاض لوگوں کے اندر یہ طریقہ قدیم زمانہ سے معروف چلا آ رہا ہے کہ جب باغ کے پھل توڑتے تو کچھ حصہ مسکینوں کے حق کے طور پر چھوڑ دیتے۔ انجیلوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ تعلیم مذکور ہے کہ ’جب تو اپنے باغ کے پھل توڑے تو کُل نہ توڑے بلکہ اس کا کچھ حصہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے بھی چھوڑ۔‘ اسی معروف طریقہ کو پیش نظر رکھ کر ان لئیموں نے قسم کھائی کہ ہم ایسا ہرگز کرنے والے نہیں ہیں۔ ان کو اپنی اسی بات کو مؤکد کرنے کے لیے قسم کھانے کی ضرورت پڑی ورنہ جملہ میں قسم کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس تمثیل میں چونکہ قریش کے ان لیڈروں کا کردار نمایاں کیا جا رہا ہے جن کو اوپر ’مَنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ‘، ’عُتُلٍّ‘ اور ’اَثِیْمٍ‘ کہا گیا ہے اس وجہ سے باغ والوں کی مذکورہ بالا قَسم کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا تاکہ دونوں کے کردار کی مشابہت پوری طرح واضح ہو جائے۔ قرآن میں ابولہب اور اس کے ہم مشربوں کی بخالت کی جو تصویر جگہ جگہ کھینچی گئی ہے اس کو بھی یہاں ذہن میں تازہ کر لیجیے۔
    تو ابھی وہ سوئے پڑے ہی تھے کہ اس پر تیرے رب کی طرف سے گردش کا ایک جھونکا آیا۔
    یعنی مذکورہ فیصلہ بڑے عزم و جزم اور بڑی تاکید و قسم کے ساتھ کر کے وہ رات میں سوئے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر کوئی خدائی گردش ایسی آئی جس نے باغ کا ستھراؤ کر دیا اور وہ بالکل کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔ ’طَائِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں گردش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایک اس حقیقت کی طرف کہ یہ بالکل بے سان و گمان نمودار ہوئی، دوسری اس کی بے پناہی کی طرف کہ اس نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ہرا بھرا باغ بے نشان ہو کر رہ گیا۔ ’مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تسلی کے لیے ہے۔ ابتدائی آیات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ آج تم ان کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو تو وہ اپنے ظاہری حالات کو بالکل ہموار و سازگار دیکھ کر تمہیں دیوانہ کہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ بھلا ان پر عذاب کدھر سے آ جائے گا؟ اس تمثیل میں دکھا دیا کہ تیرے رب کا عذاب جب آتا ہے تو یوں آتا ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والے سارے منصوبے، عہد و قسم کے ساتھ بنا کے سوتے ہیں لیکن جب صبح کو اٹھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ع خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا  
    تو وہ کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔
    یعنی مذکورہ فیصلہ بڑے عزم و جزم اور بڑی تاکید و قسم کے ساتھ کر کے وہ رات میں سوئے لیکن ابھی سوئے ہی پڑے تھے کہ ان کے باغ پر کوئی خدائی گردش ایسی آئی جس نے باغ کا ستھراؤ کر دیا اور وہ بالکل کٹی ہوئی فصل کے مانند ہو کر رہ گیا۔ ’طَائِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں گردش کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف دو حقیقتوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ایک اس حقیقت کی طرف کہ یہ بالکل بے سان و گمان نمودار ہوئی، دوسری اس کی بے پناہی کی طرف کہ اس نے چشم زدن میں وہ کرشمہ کر دکھایا کہ ہرا بھرا باغ بے نشان ہو کر رہ گیا۔ ’مِّنۡ رَّبِّکَ‘ میں خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تسلی کے لیے ہے۔ ابتدائی آیات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ آج تم ان کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو تو وہ اپنے ظاہری حالات کو بالکل ہموار و سازگار دیکھ کر تمہیں دیوانہ کہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ بھلا ان پر عذاب کدھر سے آ جائے گا؟ اس تمثیل میں دکھا دیا کہ تیرے رب کا عذاب جب آتا ہے تو یوں آتا ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والے سارے منصوبے، عہد و قسم کے ساتھ بنا کے سوتے ہیں لیکن جب صبح کو اٹھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ع خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا  
    صبح کو انھوں نے پکارا کہ پھل توڑنے ہیں۔
    یہ لوگ ساری اسکیم بنا کے رات میں سوئے اور صبح اٹھتے ہی تمام شرکاء نے ہانک پکار مچائی کہ پھل توڑنے اور فصل اٹھانی ہے تو سویرے سویرے اپنے کھیتوں پر پہنچو۔ ’حَرْثٌ‘ اگرچہ کھیتی کے معنی میں آتا ہے لیکن اس سے مراد وہ باغ ہی ہے جس کا ذکر اوپر سے آ رہا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ عرب میں باغوں ہی کے اندر مختلف چیزوں کی کاشت کے لیے قطعات بھی ہوتے تھے اس وجہ سے ان کو باغ (جنت) بھی کہہ سکتے تھے اور کھیتی (حرث) بھی۔ ’اِنْ کُنْتُمْ صَارِمِیْنَ‘ کے الفاظ شرکاء کو للکارنے اور آمادہ کرنے کے لیے ہیں۔ یعنی یہ کام کرنا ہے تو وقت ضائع نہ کرو۔ فوراً چلو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔
    تو سویرے اپنے کھیت پر پہنچو۔
    یہ لوگ ساری اسکیم بنا کے رات میں سوئے اور صبح اٹھتے ہی تمام شرکاء نے ہانک پکار مچائی کہ پھل توڑنے اور فصل اٹھانی ہے تو سویرے سویرے اپنے کھیتوں پر پہنچو۔ ’حَرْثٌ‘ اگرچہ کھیتی کے معنی میں آتا ہے لیکن اس سے مراد وہ باغ ہی ہے جس کا ذکر اوپر سے آ رہا ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ عرب میں باغوں ہی کے اندر مختلف چیزوں کی کاشت کے لیے قطعات بھی ہوتے تھے اس وجہ سے ان کو باغ (جنت) بھی کہہ سکتے تھے اور کھیتی (حرث) بھی۔ ’اِنْ کُنْتُمْ صَارِمِیْنَ‘ کے الفاظ شرکاء کو للکارنے اور آمادہ کرنے کے لیے ہیں۔ یعنی یہ کام کرنا ہے تو وقت ضائع نہ کرو۔ فوراً چلو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔
    پس وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے۔
    یعنی گھر سے نکلے تو چپکے چپکے ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے ہوئے نکلے کہ خیال رکھنا، آج کے دن کوئی فقیر نہ باغ میں گھسنے پائے۔ یہ ان کی اسی خست کی تعبیر دوسرے الفاظ میں ہے جو اوپر ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔
    کہ دیکھنا آج باغ میں کوئی مسکین نہ گھسنے پائے۔
    یعنی گھر سے نکلے تو چپکے چپکے ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے ہوئے نکلے کہ خیال رکھنا، آج کے دن کوئی فقیر نہ باغ میں گھسنے پائے۔ یہ ان کی اسی خست کی تعبیر دوسرے الفاظ میں ہے جو اوپر ’وَلَا یَسْتَثْنُوْنَ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے۔
    اور وہ بڑے عزم و حوصلہ سے نکلے۔
    لفظ ’حَرْدٌ‘ کے اندر تیز گامی، جوش، امنگ اور نشاط کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غریبوں اور مسکینوں کے تعاقب سے بچنے کا پورا سامان کر کے وہ بڑے حوصلہ اور پورے اعتماد کے ساتھ باغ کی طرف چلے۔ ’قَادِرِیْنَ‘ یعنی ان کے دل اعتماد و حوصلہ سے معمور تھے کہ اب کیا اندیشہ ہے، باغ اپنا ہے اور پھل تیار ہے، اب ہمارے ارمانوں میں کون خلل انداز ہو سکتا ہے! غریبوں، مسکینوں کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا سو اس کا بھی سدباب کر لیا ہے۔
    پس جب اس کو دیکھا تو بولے کہ ہم تو راستہ بھول گئے!
    یعنی جب باغ پر نظر پڑی تو گردش آسمانی نے اس کا حلیہ اس طرح بگاڑ دیا تھا کہ پہلے وہلہ میں اس کو پہچان نہ سکے۔ خیال ہوا کہ شاید اندھیرے میں کسی اور سمت میں نکل آئے۔ بولے کہ ارے! ہم تو راستہ بھول گئے۔ لیکن پھر اصل حقیقت سامنے آئی کہ راستہ نہیں بھولے ہیں بلکہ باغ ہی اجڑ گیا ہے تب نہایت حسرت کے ساتھ بولے کہ یہ تو ہم بالکل ہی محروم ہو کے رہ گئے! ہم کن ارمانوں اور حوصلوں کے ساتھ گھر سے نکلے لیکن یہاں تو خاک نہیں!
    نہیں، بلکہ ہم تو محروم ہو کے رہ گئے!
    یعنی جب باغ پر نظر پڑی تو گردش آسمانی نے اس کا حلیہ اس طرح بگاڑ دیا تھا کہ پہلے وہلہ میں اس کو پہچان نہ سکے۔ خیال ہوا کہ شاید اندھیرے میں کسی اور سمت میں نکل آئے۔ بولے کہ ارے! ہم تو راستہ بھول گئے۔ لیکن پھر اصل حقیقت سامنے آئی کہ راستہ نہیں بھولے ہیں بلکہ باغ ہی اجڑ گیا ہے تب نہایت حسرت کے ساتھ بولے کہ یہ تو ہم بالکل ہی محروم ہو کے رہ گئے! ہم کن ارمانوں اور حوصلوں کے ساتھ گھر سے نکلے لیکن یہاں تو خاک نہیں!
    ان میں جو شخص کچھ متمول تھا اس نے کہا، میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے!
    ’اَوْسَطُہُمْ‘ سے مراد ان کے اندر کا سب سے زیادہ میانہ رو اور معقول آدمی۔ برے سے برے معاشرے کے اندر بھی بعض سعید روحیں ہوتی ہیں جو لوگوں کو ان کی بے راہ روی پر ٹوکتی رہتی ہیں خواہ غفلت کے متوالے سنیں یا نہ سنیں۔ اسی طرح کا کوئی اللہ کا بندہ ان کے اندر بھی تھا جو وقتاً وفوقتاً ان کو یاددہانی کرتا رہتا تھا کہ اپنے رب سے غافل نہ رہو بلکہ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ لفظ ’تَسْبِیْح‘ ایک جامع کلمہ ہے جو اللہ کی یاد اور اس کی بندگی کے پورے مفہوم پر حاوی ہے۔ پہلے تو اس کا وعظ ان سرمستوں پر کارگر نہ ہوا لیکن جب ان کی غفلت کا انجام ان کے سامنے آ گیا تب ان کو اندازہ ہوا کہ خدا بھی کوئی چیز ہے اور یہ اللہ کا بندہ غلط نہیں کہتا تھا!
    تب وہ پکارے، ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے!
    فوراً بولے کہ لاریب ہمارا رب پاک ہے، یہ اس نے ہمارے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بنے کہ اپنی کامیابیوں کے نشہ میں اس کی شانوں کو بھول گئے اور اگر کسی نے ہمیں یاد دلانے کی کوشش کی تو سنی ان سنی کر دی ۔۔۔ یہ اسی طرح کا اعتراف ہے جس طرح کا اعتراف فرعون نے اس وقت کیا جب وہ اپنی فوجوں سمیت موجوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس طرح کی توبہ بعد ازوقت ہونے کے سبب سے بالکل بے سود ہوتی ہے۔
    پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔
    جب انجام سامنے آ گیا تو سب ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ کسی نے کسی پر الزام لگایا کہ اس نے صحیح راہ اختیار کرنے نہ دی، کسی نے دوسرے کو مجرم ٹھہرایا کہ اس نے ناصح کی بات سننے نہ دی۔ جو لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے وہ اپنی بے عقلی کا انجام دیکھ لینے کے بعد اسی طرح ایک دوسرے کو مطعون کرتے ہیں حالانکہ مجرم سب ہی ہوتے ہیں۔ بس یہ فرق ہوتا ہے کہ کچھ فساد کی راہ کھولتے ہیں اور کچھ آنکھ بند کر کے ان کی پیروی کرتے ہیں۔ بالآخر ان سب کو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ جرم میں شریک سب ہی ہیں۔
    انھوں نے کہا، ہائے بدبختی! ہم ہی سرکشی میں مبتلا رہے!
    جب انجام سامنے آ گیا تو سب ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ کسی نے کسی پر الزام لگایا کہ اس نے صحیح راہ اختیار کرنے نہ دی، کسی نے دوسرے کو مجرم ٹھہرایا کہ اس نے ناصح کی بات سننے نہ دی۔ جو لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے وہ اپنی بے عقلی کا انجام دیکھ لینے کے بعد اسی طرح ایک دوسرے کو مطعون کرتے ہیں حالانکہ مجرم سب ہی ہوتے ہیں۔ بس یہ فرق ہوتا ہے کہ کچھ فساد کی راہ کھولتے ہیں اور کچھ آنکھ بند کر کے ان کی پیروی کرتے ہیں۔ بالآخر ان سب کو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ جرم میں شریک سب ہی ہیں۔
    توقع ہے کہ ہمارا رب اس کی جگہ اس سے بہتر باغ ہمیں دے۔ اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔
    یعنی ایک دوسرے پر لعن طعن اور اپنی نالائقی کا اعتراف کرنے کے بعد انھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ اب ہم اپنے رب کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس باغ کی جگہ اس سے بہتر باغ ہمیں عطا فرمائے گا۔ یہاں قرآن نے ان کی اس توقع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن سنت الٰہی یہ ہے کہ وقت گزر جانے کے بعد جو لوگ توبہ کرتے ہیں ان کی توبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں درخور اعتناء نہیں ٹھہرتی۔ جس مقصد سے قریش کو یہ تمثیل سنائی گئی ہے بعینہٖ اسی مقصد سے اسی طرح کی ایک تمثیل سورۂ کہف آیات ۳۲-۴۳ میں سنائی گئی ہے۔ بہتر ہو گا کہ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس سے اس کی مزید وضاحت ہو جائے گی۔
    اسی طرح عذاب آ جائے گا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ کاش! یہ لوگ اس کو جانتے!
    تمثیل کے بعد قریش کو تنبیہ: تمثیل سنانے کے بعد یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ اللہ کا رسول ان کو جس عذاب سے ڈرا رہا ہے وہ اسی طرح ان پر آ دھمکے گا۔ آج وہ اپنے عیش میں مگن اور خدا کی پکڑ سے بالکل نچنت ہیں۔ رسولؐ ان کو خطرہ سے آگاہ کر رہا ہے تو اس کو خبطی کہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ ان پر عذاب کدھر سے آ جائے گا۔ وہ ادھر سے آئے گا جدھر سے اس کے آنے کا گمان بھی نہ ہو گا اور اس وقت ان کا وہی حال ہو گا جو باغ والوں کا ہوا لیکن اس وقت ان کا نالہ و شیون بالکل بے سود ہو گا۔ ’کَذٰلِکَ الْعَذَابُ‘ میں ’عَذَاب‘ سے اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو سنت الٰہی کے مطابق کسی قوم پر اس وقت آیا ہے جب اس نے اپنے رسول کی تکذیب کر دی اور رسول اپنا فرض بلاغ ادا کر چکا ہے۔ یہ عذاب، جیسا کہ ہم جگہ جگہ وضاحت کر چکے ہیں اس قوم کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد اس کو عذاب آخرت سے سابقہ پیش آئے گا جو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوگا۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو ان دونوں ہی عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ’لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ‘ اظہار حسرت و افسوس کا جملہ ہے کہ عقل کے ان اندھوں کو آخرت بہت بعید از قیاس چیز معلوم ہوتی ہے حالانکہ وہ ایک حقیقت اور اس کا عذاب بڑا ہی ہولناک ہے۔ بشرطیکہ یہ جانیں اور سمجھیں۔
    بے شک متقیوں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔
    نیکو کاروں کا انجام: مستکبرین کا انجام بیان کر چکنے کے بعد یہ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کا انعام بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں آخرت کے حساب کتاب سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری ان کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت کے باغ ہیں۔ یہ ’مُتَّقِیْن‘ کا ذکر ان مستکبرین کے مقابل میں ہوا ہے جو اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں خدا کی پکڑ اور آخرت کے عذاب سے بالکل نچنت تھے۔ اس تقابل سے اس لفظ کے اصل مفہوم پر روشنی پڑتی ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کی ظاہر فریبیوں میں گم نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس کے پس پردہ جو حقیقت ہے اس پر بھی ان کی نظر ہے۔
    کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کے برابر کر دیں گے!
    نیک اور بد میں امتیاز عدل الٰہی کا لازمی تقاضا ہے: یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں خدا سے ڈرنے والوں کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے۔ فرمایا کہ ایسا ہونا خدا کے عدل اور اس کی رحمت کا لازمی تقاضا ہے۔ ایسا نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس دنیا کے خالق کے نزدیک نیکو کار اور بدکار، وفادار اور غدار، بے ایمان اور ایمان دار دونوں یکساں ہیں۔ یہ بات بالبداہت اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ صفات کے منافی ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کی نظر میں نیک اور بد دونوں برابر ہوں۔
    تمہیں کیا ہوا ہے، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو!
    جزا اور سزا کا انکار انسان کی فطرت اور عقل کے خلاف ہے: یہ ان مستکبرین سے بانداز تعجب سوال ہے کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تمہاری عقل کہاں کھوئی گئی ہے کہ تم اس قسم کے فیصلے کرنے لگے ہو! مطلب یہ ہے کہ اگر تم آخرت اور جزا و سزا نہیں مانتے، تمہارے نزدیک زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے، یہ یونہی چلتی رہے گی یا یونہی ایک دن تمام ہو جائے گی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم اس کے خالق کو عدل اور رحم کی صفات سے عاری سمجھتے ہو جس کو اس امر سے کوئی بحث نہیں کہ کس نے نیکی کی زندگی گزاری اور کس نے بدی کی۔ اگر تمہارا فیصلہ یہ ہے تو سوچو کہ یہ فیصلہ عقل اور فطرت سے کتنا بعید ہے! یہ کتنی بڑی تہمت ہے جو اس کائنات کے خالق پر، جس کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور رحمت کی شہادت اس کائنات کے گوشے گوشے سے مل رہی ہے، تم لگا رہے ہو! قرآن کے اس انداز سوال سے یہ بات صاف نمایاں ہے کہ انسان کی عام عقل اور اس کی عام فطرت اس فیصلہ کو قبول کرنے سے ابا کرتی ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ فیصلہ کرتے ہیں تو یہ چیز دو شکلوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ محض اپنی خواہشوں سے بے بس ہو کر اپنی عقل کی آنکھوں میں دھول جھونکتے اور اپنی فطرت کو جھٹلاتے ہیں یا یہ کہ انھوں نے اپنی یہ دونوں صلاحیتیں بالکل برباد کر لی ہیں۔
    کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو۔
    مستکبرین کے ایک مغالطہ پر ضرب: یہ قریش کے ان مستکبرین کی ایک اور آرزوئے باطل پر ضرب لگائی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آخرت واخرت اول تو کوئی چیز ہے نہیں اور ہے تو ہمیں جو کچھ یہاں حاصل ہے اس سے بہتر وہاں حاصل ہو گا۔ ان کے اس مغالطہ کی بنیاد اس واہمہ پر تھی کہ اگر وہ خدا کے منظور نظر نہ ہوتے تو یہ عزت و سیادت انھیں اس دنیا میں کس طرح حاصل ہوتی! تو جب خدا کے منظور نظر ہوئے تو جو کچھ انھیں یہاں حاصل ہے اس سے بڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ تم کو اس مغالطہ میں کس چیز نے ڈالا؟ کیا تمہارے پاس خدا کا اتارا ہوا کوئی صحیفہ ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ تمہاری ساری آرزوئیں پوری ہوں گی؟ مطلب یہ ہے کہ جس کی آرزوئیں تم نے اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں عقل و فطرت کے اندر تو ان کی کوئی بنیاد ہے نہیں، ہاں اگر کوئی آسمانی صحیفہ تمہارے پاس ہے جس میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں تو اس کو پیش کرو۔
    اس میں تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو تم پسند کرو گے!
    مستکبرین کے ایک مغالطہ پر ضرب: یہ قریش کے ان مستکبرین کی ایک اور آرزوئے باطل پر ضرب لگائی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آخرت واخرت اول تو کوئی چیز ہے نہیں اور ہے تو ہمیں جو کچھ یہاں حاصل ہے اس سے بہتر وہاں حاصل ہو گا۔ ان کے اس مغالطہ کی بنیاد اس واہمہ پر تھی کہ اگر وہ خدا کے منظور نظر نہ ہوتے تو یہ عزت و سیادت انھیں اس دنیا میں کس طرح حاصل ہوتی! تو جب خدا کے منظور نظر ہوئے تو جو کچھ انھیں یہاں حاصل ہے اس سے بڑھ کر وہاں حاصل ہو گا۔ فرمایا کہ تم کو اس مغالطہ میں کس چیز نے ڈالا؟ کیا تمہارے پاس خدا کا اتارا ہوا کوئی صحیفہ ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ تمہاری ساری آرزوئیں پوری ہوں گی؟ مطلب یہ ہے کہ جس کی آرزوئیں تم نے اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں عقل و فطرت کے اندر تو ان کی کوئی بنیاد ہے نہیں، ہاں اگر کوئی آسمانی صحیفہ تمہارے پاس ہے جس میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں تو اس کو پیش کرو۔
    کیا تمہارے لیے ہمارے اوپر قسمیں ہیں قیامت تک باقی رہنے والی کہ تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو تم فیصلہ کرو گے!
    فرمایا کہ کیا خدا نے تم سے قیامت تک کے لیے عہد کر رکھا ہے کہ جو تم چاہو گے تمہارے ساتھ وہی معاملہ ہو گا؟ ظاہر ہے کہ اس قسم کے کسی عہد کی نشان دہی تم نہیں کر سکتے تو آخر وہ کیا چیز ہے جس کے بل پر تمہیں ناز ہے کہ نہ دنیا میں تمہیں کوئی ہلا سکتا اور نہ آخرت میں تم پر کوئی مسؤلیت ہے! یہ امر یہاں واضح رہے کہ قوموں سے اللہ تعالیٰ نے آخرت کی فوز و فلاح کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ ایمان اور عمل صالح اور اس عہد کی پابندی کے ساتھ مشروط ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے واسطہ سے لوگوں سے لیے ہیں۔ کسی قوم سے بھی اس نے کوئی ایسا عہد نہیں کیا ہے جو بالکل غیر مشروط طور پر قیامت تک کے لیے ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کی دونوں شاخوں سے اللہ تعالیٰ نے امامت و پیشوائی کا جو عہد کیا وہ تورات میں بھی مذکور ہوا ہے اور قرآن میں بھی۔ اس میں بالکل واضح طور پر تشریح ہے کہ یہ عہد ان لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو خدا کے عہد کو توڑ کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بن جائیں گے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قوموں کی امامت پر سرفراز فرمانے کی بشارت دی کہ’اِنِّیْ جَائِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا‘ (البقرہ ۲: ۱۲۴) (میں تم کو لوگوں کا ایک عظیم امام بنانے والا ہوں) تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوال کیا کہ’وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ‘ (کیا یہ وعدہ میری ذریت سے متعلق بھی ہے؟) اللہ تعالیٰ نے اس کا فوراً جواب دیا کہ’لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ‘ (میرا یہ عہد ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جو تمہاری ذریت میں سے میرے عہد کو توڑ کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بن جائیں گے) اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ظاہر ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل سے متعلق ہے اسی طرح بنی اسماعیل سے بھی متعلق ہے۔ لیکن قریش نے بھی اولاد ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) ہونے کے زعم میں عند اللہ ہر مسؤلیت سے اپنے کو بری سمجھ لیا اور بنی اسرائیل نے بھی ’نَحْنُ أَبْنآؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ‘ (المائدہ ۵: ۱۸) کے غرور میں مبتلا ہو کر یہ گمان کر لیا کہ وہ آخرت کی ہر مسؤلیت سے بالاتر ہیں۔
    ان سے پوچھو، ان میں سے کون اس کا ضامن بنتا ہے؟
    فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن بنتا ہے کہ ان کے لیے خدا نے نجات و فلاح کا غیر مشروط ابدی پروانہ جاری کر رکھا ہے؟ اگر ان کے کچھ شرکاء ہیں جن کی نسبت ان کا گمان ہے کہ وہ ان کے اوپر خدا کو ہاتھ ڈالنے نہ دیں گے تو ان کو پیش کریں اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں۔ یعنی ان کو دکھائیں ورنہ کم از کم ان کے نام ہی لیں تاکہ دوسروں کو بھی ان کی حیثیت و حقیقت کا کچھ اندازہ ہو ۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین کو اپنے جن معبودوں پر ناز تھا کہ وہ خدا کے بڑے چہیتے ہیں وہ ان کو اس کی پکڑ سے بچا لیں گے ان کی بے حقیقتی قرآن نے ہر پہلو سے اس طرح واضح کر دی ہے کہ اس چیلنج کے جواب میں وہ ان میں سے کسی کا نام لینے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے۔
    کیا ان کے کچھ شرکاء ہیں؟ تو وہ لائیں اپنے شریکوں کو اگر وہ سچے ہوں!
    فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن بنتا ہے کہ ان کے لیے خدا نے نجات و فلاح کا غیر مشروط ابدی پروانہ جاری کر رکھا ہے؟ اگر ان کے کچھ شرکاء ہیں جن کی نسبت ان کا گمان ہے کہ وہ ان کے اوپر خدا کو ہاتھ ڈالنے نہ دیں گے تو ان کو پیش کریں اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں۔ یعنی ان کو دکھائیں ورنہ کم از کم ان کے نام ہی لیں تاکہ دوسروں کو بھی ان کی حیثیت و حقیقت کا کچھ اندازہ ہو ۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین کو اپنے جن معبودوں پر ناز تھا کہ وہ خدا کے بڑے چہیتے ہیں وہ ان کو اس کی پکڑ سے بچا لیں گے ان کی بے حقیقتی قرآن نے ہر پہلو سے اس طرح واضح کر دی ہے کہ اس چیلنج کے جواب میں وہ ان میں سے کسی کا نام لینے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے۔
    اس دن کو یاد رکھو جس دن ہلچل پڑے گی اور یہ لوگ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو یہ نہ کر سکیں گے۔
    ’کَشْف ساق‘ کا مفہوم: ’کَشْف ساق‘ شدت امر کی تعبیر کے لیے عربی زبان کا معروف محاورہ ہے۔ شعرائے جاہلیت نے مختلف طریقوں سے اس کو استعمال کیا ہے۔ حاتم کا مشہور شعر ہے: اخوا لحرب ان عضّت بہ الحرب عضّھا وان شمرت عن ساقہا الحرب شمرا (ممدوح جنگ کا مرد میدان ہے۔ اگر جنگ اس پر حملہ آور ہوتی ہے تو وہ بھی اس سے نبر آزما ہوتا ہے۔ اور اگر گھمسان کا رن پڑتا ہے تو وہ بھی اس میں بے خطر کود پڑتا ہے)۔ اس شعر میں گھمسان کے رن کے لیے ’شمرت عن ساقھا الحرب‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔ شدت امر کی تعبیر کے لیے اس محاورے کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب کوئی بری ہلچل برپا ہوتی ہے تو اس وقت کنواریاں اور شریف زادیاں بھی اپنے پائنچے اٹھا کر بھاگنے پر مجبور ہوتی ہیں جس سے ان کی پنڈلیاں اور ان کے پاؤں کے زیورات کھل جاتے ہیں ۔ چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے: تذھل الشیخ عن بنیہ وتبدی عن خدام العقیلۃ العذراء (ایسی ہلچل جو بوڑھوں کو ان کی اولاد سے غافل کر دے گی اور کنواریوں کی پنڈلیوں اور ان کی پازیبوں کو بے نقاب کر دے گی)۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ تو یہ لذیذ خواب دیکھ رہے ہیں کہ جس عیش میں یہ یہاں ہیں اسی عیش میں وہاں بھی رہیں گے لیکن وہ دن بڑی ہلچل کا ہو گا۔ آج تو ان کو خدا کے آگے سربسجود ہونے کی دعوت دی جاتی ہے تو اکڑتے ہیں لیکن اس دن سجدے کو کہا جائے گا تو سجدہ کے لیے جھکنا چاہیں گے لیکن ان کی کمریں اس طرح تختہ بن جائیں گی کہ کوشش کے باوجود نہیں جھک سکیں گے۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے اوپر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔ ان کا پورا سراپا ان کی ذلت اور بے بسی کی گواہی دے رہا ہو گا۔ سجدہ کا یہ حکم ظاہر ہے کہ محض اتمام حجت اور رسوا کرنے کے لیے دیا جائے گا کہ ان کی سرکشی اور ان کی محرومی پر خود ان کا وجود ایسی گواہی ثبت کر دے جس کا وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ بعینہٖ یہی مضمون سورۂ معارج میں بدیں الفاظ میں بیان ہوا ہے: یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُہُمْ ذِلَّۃٌ ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ.(المعارج ۷۰: ۴۳-۴۴) (جس دن کہ وہ قبروں سے نکلیں گے تیزی سے، گویا کہ وہ نشانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔ یہ وہ دن ہو گا جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے)۔ وہی مضمون جو سورۂ قلم میں ’یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے اس آیت میں ’یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے، اس طرح لغت اور نظیر قرآن دونوں سے اسی مطلب کی تائید ہوتی ہے۔ جو ہم نے لیا ہے۔ بعض لوگوں نے ایک روایت کی بنا پر اس کے معنی یہ بھی لیے ہیں کہ ’جس دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا‘ لیکن متعدد ائمۂ تفسیر سے وہی تاویل منقول ہوئی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ عکرمہؓ اور ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ’ھُوَ یَوْمُ القیٰمۃ یوم کرب وشدۃ‘ (اس سے مراد قیامت کا دن ہے جو کرب و شدت کا دن ہو گا)۔ ابن جریرؒ نے ابن مسعودؓ یا ابن عباسؓ کے حوالہ سے کسی شاعر کا قول بھی مذکورہ معنی کی تائید میں نقل کیا ہے جس نے ’شالت الحرب عن ساق‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔ مشہور امام تفسیر مجاہدؒ نے بھی اس کو شدت امر ہی کے مفہوم میں لیا ہے۔  
    ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔ ان پر ذلت طاری ہو گی اور یہ سجدے کے لیے اس وقت بھی بلائے جاتے تھے جب وہ صحیح سالم تھے۔
    ’کَشْف ساق‘ کا مفہوم: ’کَشْف ساق‘ شدت امر کی تعبیر کے لیے عربی زبان کا معروف محاورہ ہے۔ شعرائے جاہلیت نے مختلف طریقوں سے اس کو استعمال کیا ہے۔ حاتم کا مشہور شعر ہے: اخوا لحرب ان عضّت بہ الحرب عضّھا وان شمرت عن ساقہا الحرب شمرا (ممدوح جنگ کا مرد میدان ہے۔ اگر جنگ اس پر حملہ آور ہوتی ہے تو وہ بھی اس سے نبر آزما ہوتا ہے۔ اور اگر گھمسان کا رن پڑتا ہے تو وہ بھی اس میں بے خطر کود پڑتا ہے)۔ اس شعر میں گھمسان کے رن کے لیے ’شمرت عن ساقھا الحرب‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔ شدت امر کی تعبیر کے لیے اس محاورے کے وجود میں آنے کی وجہ یہ ہوئی کہ جب کوئی بری ہلچل برپا ہوتی ہے تو اس وقت کنواریاں اور شریف زادیاں بھی اپنے پائنچے اٹھا کر بھاگنے پر مجبور ہوتی ہیں جس سے ان کی پنڈلیاں اور ان کے پاؤں کے زیورات کھل جاتے ہیں ۔ چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے: تذھل الشیخ عن بنیہ وتبدی عن خدام العقیلۃ العذراء (ایسی ہلچل جو بوڑھوں کو ان کی اولاد سے غافل کر دے گی اور کنواریوں کی پنڈلیوں اور ان کی پازیبوں کو بے نقاب کر دے گی)۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ تو یہ لذیذ خواب دیکھ رہے ہیں کہ جس عیش میں یہ یہاں ہیں اسی عیش میں وہاں بھی رہیں گے لیکن وہ دن بڑی ہلچل کا ہو گا۔ آج تو ان کو خدا کے آگے سربسجود ہونے کی دعوت دی جاتی ہے تو اکڑتے ہیں لیکن اس دن سجدے کو کہا جائے گا تو سجدہ کے لیے جھکنا چاہیں گے لیکن ان کی کمریں اس طرح تختہ بن جائیں گی کہ کوشش کے باوجود نہیں جھک سکیں گے۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے اوپر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔ ان کا پورا سراپا ان کی ذلت اور بے بسی کی گواہی دے رہا ہو گا۔ سجدہ کا یہ حکم ظاہر ہے کہ محض اتمام حجت اور رسوا کرنے کے لیے دیا جائے گا کہ ان کی سرکشی اور ان کی محرومی پر خود ان کا وجود ایسی گواہی ثبت کر دے جس کا وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ بعینہٖ یہی مضمون سورۂ معارج میں بدیں الفاظ میں بیان ہوا ہے: یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُہُمْ ذِلَّۃٌ ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ.(المعارج ۷۰: ۴۳-۴۴) (جس دن کہ وہ قبروں سے نکلیں گے تیزی سے، گویا کہ وہ نشانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔ یہ وہ دن ہو گا جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے)۔ وہی مضمون جو سورۂ قلم میں ’یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے اس آیت میں ’یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا‘ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے، اس طرح لغت اور نظیر قرآن دونوں سے اسی مطلب کی تائید ہوتی ہے۔ جو ہم نے لیا ہے۔ بعض لوگوں نے ایک روایت کی بنا پر اس کے معنی یہ بھی لیے ہیں کہ ’جس دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا‘ لیکن متعدد ائمۂ تفسیر سے وہی تاویل منقول ہوئی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ عکرمہؓ اور ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ’ھُوَ یَوْمُ القیٰمۃ یوم کرب وشدۃ‘ (اس سے مراد قیامت کا دن ہے جو کرب و شدت کا دن ہو گا)۔ ابن جریرؒ نے ابن مسعودؓ یا ابن عباسؓ کے حوالہ سے کسی شاعر کا قول بھی مذکورہ معنی کی تائید میں نقل کیا ہے جس نے ’شالت الحرب عن ساق‘ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔ مشہور امام تفسیر مجاہدؒ نے بھی اس کو شدت امر ہی کے مفہوم میں لیا ہے۔  
    پس چھوڑو مجھ کو اور ان کو جو اس کلام کو جھٹلا رہے ہیں۔ ہم ان کو آہستہ آہستہ لا رہے ہیں وہاں سے جہاں سے وہ نہیں جانتے۔
    مکذبین کو دھمکی: یہ ان مکذبین قرآن کو دھمکی ہے۔ جن کا ذکر آیت ۱۵ میں گزر چکا ہے کہ’إِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ آیَاتُنَا قَالَ أَسَاطِیْرُ الْأَوَّلِیْنَ‘ (جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں کہتے ہیں یہ اگلوں کے فسانے ہیں) ان کو دھمکی کے ساتھ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس میں بہت بڑی تسلی بھی ہے۔ آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اب ان مکذبین قرآن کا معاملہ مجھ پر چھوڑو۔ تمہارے اوپر بلاغ کی جو ذمہ داری تھی وہ تم ادا کر چکے۔ اب تم بیچ سے ہٹو اور مجھے تنہا ان سے نمٹ لینے دو۔ میں درجہ بدرجہ ان کو وہاں سے ہلاکت کے کھڈ میں لے جاؤں گا جہاں سے ان کو علم بھی نہ ہو گا۔ اس وقت ان کو جو ڈھیل دے رہا ہوں اس کو وہ اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں حالانکہ وہ موت کے پھندے میں آئے ہوئے ہیں۔
    اور میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں۔ بے شک میری تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے۔
    یعنی میں اس استدراج کے دوران ان کو اس لیے ڈھیل دے رہا ہوں کہ یہ اپنی جولانیاں دکھا لیں اور اپنا زور صرف کر لیں۔ ان کی رسی دراز کرنے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ یہ میرے قابو سے باہر نکل جائیں گے۔ میری تدبیر نہایت ہی محکم ہوتی ہے۔
    کیا تم ان سے کوئی معاوضہ طلب کر رہے ہو کہ وہ اس کے تاوان سے دبے جا رہے ہوں!
    مکذبین کو ان کی محرومی پر ملامت: یہ قرآن سے ان لوگوں کے فرار پر تعجب کا اظہار بھی ہے اور ان کو ملامت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ آخر یہ لوگ تمہاری بات سنتے کیوں نہیں؟ سننے میں ان کا کیا حرج ہوتا ہے؟ تم ان سے سنانے کا کوئی معاوضہ تو مانگ نہیں رہے ہو کہ یہ اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟ ان میں ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی بھی ہے کہ اگر یہ نہیں سن رہے ہیں تو اس کا غم نہ کرو۔ اگر یہ اس نعمت سے بھاگ رہے ہیں تو اس میں انہی کی محرومی ہے۔ تم اپنے رب کے ہاں سرخ رو ہو کر یہ دولت آسمانی مفت لٹا رہے ہو۔
    یا ان کے پاس غیب کا علم ہے پس وہ اس کو لکھ رہے ہیں۔
    یہ بھی ان لوگوں کی اس بے پروائی اور بے نیازی پر اظہار تعجب ہے کہ آخر یہ کس بل بوتے پر اس انذار کو اس بے نیازی سے نظرانداز کر رہے ہیں! کیا ان کے پاس علم غیب ہے جو وہ لکھ رہے ہیں کہ آخرت میں (اگر وہ ہوئی) ان کے لیے نہایت اعلیٰ مدارج ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی دلیل اور سند کے محض خواہشوں کی مدد سے اپنے لیے خیالی جنت آراستہ کر لینا اور زندگی کے حقائق سے آنکھیں موند لینا دانش مندی نہیں بلکہ اپنے لیے ابدی ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔ یہ آیت سورۂ طور میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے سیاق و سباق کی روشنی میں ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ سورۂ نجم میں یہ جس سیاق و سباق کے ساتھ آئی ہے اس سے اس کا پورا مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ ارشاد ہے: أَعِندَہُ عِلْمُ الْغَیْْبِ فَہُوَ یَرَی ۵ أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسَی ۵ وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی ۵ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی(النجم ۵۳: ۳۵-۳۸) ’’کیا اس کے پاس علم غیب ہے پس وہ دیکھ رہا ہے (آخرت میں اپنے مدارج کو)؟ کیا موسیٰ کے صحیفوں میں جو بات بتائی گئی ہے اس کی خبر اس کو نہیں ملی؟ اور اس ابراہیم کی تعلیمات میں بھی جس نے اپنے رب کے ہر حکم کو پورا کیا؟ کہ کوئی جان بھی کسی بھی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔‘‘  
    تو اپنے رب کے فیصلہ تک صبر کرو اور مچھلی والے کی طرح نہ بن جائیو! جب اس نے اپنے رب کو پکارا اور وہ غم سے گھٹا ہوا تھا۔
    نبی صلعم کو اپنی دعوت پر جمے رہنے کی تلقین: ’فَاصْبِرْ‘ یہاں ’اِنْتَظِرْ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے اس وجہ سے اس کے بعد ’ل‘ کا صلہ آیا ہے۔ یہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر و ثبات کی تلقین کے ساتھ تسلی دی جا رہی ہے کہ تم ثابت قدم رہو اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور اس طرح کی جلد بازی سے بچو جو مچھلی والے (حضرت یونسؑ ) سے صادر ہو گئی۔ ’مچھلی والے‘ سے اشارہ ظاہر ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی طرف ہے۔ اس لقب سے ان کو ملقب کرنے میں ایک قسم کا پیار بھی ہے اور اس آزمائش کی طرف اشارہ بھی جو آنجنابؑ کو پیش آئی۔ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ کی پوری تفصیل اس کے محل میں ہم پیش کر چکے ہیں کہ ان کی قوم نے ان کی دعوت کی جو ناقدری کی تو حق کی اس توہین سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس پر ان کو عتاب ہوا جس کے نتیجہ میں ان کو مچھلی والا امتحان پیش آیا۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین فرمائی گئی ہے کہ ہر چند تمہاری قوم بھی دعوت کی ناقدری اور تمہاری تکذیب پر مصر ہے لیکن تم میدان میں ڈٹے رہو اور اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ جب تک تمہارے رب کا حکم نہ ہو اپنی جگہ چھوڑنے کی غلطی نہ کرنا۔ مبادا تمہیں بھی اسی طرح کا کوئی امتحان پیش آ جائے جس طرح کا امتحان حضرت یونس علیہ السلام کو پیش آ گیا۔ ’إِذْ نَادٰی وَہُوَ مَکْظُوْمٌ‘۔ یہ اجمالاً اس رویہ کی طرف اشارہ ہے جو امتحان کے بعد حضرت یونسؑ نے اختیار فرمایا۔ وہ فوراً ہی اپنی غلطی پر متنبہ ہوئے اور نہایت شدید قسم کے غم سے گھٹے ہوئے انھوں نے مچھلی کے پیٹ کے اندر اپنے رب سے فریاد کی۔ یہ فریاد جن زندۂ جاوید الفاظ؂۱ میں انھوں نے کی وہ دوسرے مقام میں نقل ہوئے ہیں اور ان کی بلاغت ہم واضح کر چکے ہیں۔ یہاں یہ بات بطور بدرقہ ارشاد ہوئی ہے۔ تاکہ ’لَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوۡتِ‘ کے الفاظ سے حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ ہو بلکہ یہ واضح ہو جائے کہ اگرچہ شدت تاثر سے مغلوب ہو کر ان سے ایک غلطی صادر تو ہو گئی لیکن فوراً ہی توبہ سے انھوں نے اس کی اصلاح کر لی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر برگزیدگی سے نوازا، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے۔ _____ ؂۱ لَّا اِلٰہَ إِلَّا أَنۡتَ سُبْحَانَکَ إِنِّیْ کُنۡتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (الانبیاء ۲۱: ۸۷)۔
    اگر اس کے رب کا فضل اس کی دست گیری نہ کرتا تو وہ مذمت کیا ہوا چٹیل میدان ہی میں پڑا رہ جاتا۔
    ’نِعْمَۃٌ‘ سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل ہے جو توبہ کے بعد ان کو قبولیت توبہ اور ازسرنو فریضۂ رسالت پر ماموریت کی شکل میں حاصل ہوا۔ فرمایا کہ اگر ان پر اللہ کا یہ فضل نہ ہوا ہوتا تو جس ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا اسی پر نہایت مذموم حالت میں وہ پڑے ہی رہ جاتے لیکن اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کو اپنی رحمت سے نوازا، ان کو ان کے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے ازسرنو برگزیدہ کیا اور زمرۂ صالحین میں شامل فرمایا۔ یعنی اس دنیا سے وہ ناکام و نامراد نہیں گئے بلکہ بامرادوں کے زمرہ ۔۔۔ صالحین ۔۔۔ میں وہ شامل ہوئے۔
    پس اس کے رب نے اس کو برگزیدہ کیا اور اس کو نیکوکاروں میں سے بنایا۔
    ’نِعْمَۃٌ‘ سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل ہے جو توبہ کے بعد ان کو قبولیت توبہ اور ازسرنو فریضۂ رسالت پر ماموریت کی شکل میں حاصل ہوا۔ فرمایا کہ اگر ان پر اللہ کا یہ فضل نہ ہوا ہوتا تو جس ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا اسی پر نہایت مذموم حالت میں وہ پڑے ہی رہ جاتے لیکن اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کو اپنی رحمت سے نوازا، ان کو ان کے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے ازسرنو برگزیدہ کیا اور زمرۂ صالحین میں شامل فرمایا۔ یعنی اس دنیا سے وہ ناکام و نامراد نہیں گئے بلکہ بامرادوں کے زمرہ ۔۔۔ صالحین ۔۔۔ میں وہ شامل ہوئے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List