Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الملک (The Dominion, Sovereignty, Control)

    30 آیات | مکی
    سورتوں کے ساتویں گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ ملک سے سورتوں کا ساتواں یعنی آخری گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس گروپ میں بھی سورتوں کی ترتیب اسی طرح ہے جس طرح پچھلے گروپوں میں آپ نے دیکھی۔ پہلے مکی سورتیں ہیں آخر میں چند سورتیں مدنی ہیں اور یہ مدنی سورتیں مکی سورتوں کے ساتھ اسی طرح مربوط ہیں جس طرح فرع اپنی اصل سے مربوط ہوتی ہے۔

    اس گروپ کی چند سورتوں کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے اس وجہ سے یہاں یہ بتانا مشکل ہے کہ کہاں سے کہاں تک اس کی سورتیں مکی ہیں اور کہاں سے کہاں تک مدنی۔ جب تمام مختلف فیہ سورتوں پر بحث ہو کر بات منقح ہو جائے گی تب ہی یہ قطعی فیصلہ ہو سکے گا کہ کتنی مکی ہیں اور کتنی مدنی تاہم میری اجمالی رائے یہ ہے کہ سورۂ ملک سے سورۂ کافرون تک ۴۳ سورتیں مکی ہیں اور سورۂ نصر سے سورۂ ناس تک پانچ سورتیں مدنی۔

    اس گروپ میں بھی دوسرے گروپوں کی طرح قرآنی دعوت کی تمام اساسات ۔۔۔ توحید، رسالت اور معاد ۔۔۔ زیربحث آئی ہیں اور دعوت کے تمام مراحل کی جھلک بھی اس میں موجود ہے۔ لیکن اس پورے گروپ کا اصل مضمون انذار ہے۔ اس کی بیشتر سورتیں مکی زندگی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں انذار کا انداز وہی ہے جس انداز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کر انذار فرمایا تھا۔ اس انذار کے تقاضے سے اس میں قیامت اور احوال قیامت کی بھی پوری تصویر ہے اور اس عذاب کو بھی گویا قریش کی نگاہوں کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کر دینے والوں پر لازماً آیا کرتا ہے۔ استدلال میں بیشتر آفاق کے مشاہدات، تاریخ کے مسلمات اور انفس کی بینات سے کام لیا گیا ہے اور کلام کے زور کا بالکل وہی حال ہے جس کی تصویر مولانا حالیؒ نے اپنے اس شعر میں کھینچی ہے۔ع

    وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی

    عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی

    ان سورتوں نے سارے عرب میں ایسی ہلچل برپا کر دی کہ ایک شخص بھی قرآن کی دعوت کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں رہ گیا بلکہ وہ یا تو اس کا جانی دشمن بن کر اٹھ کھڑا ہوا یا سچا فدائی اور ان دونوں کی کشمکش کا نتیجہ بالآخر اس غلبۂ حق کی شکل میں نمودار ہوا جس کا ذکر ہر گروپ کی آخری سورتوں میں ہوا ہے اور اس کے آخر میں بھی آئے گا۔

    ساتویں گروپ کی تفسیر کا آغاز کرتے ہوئے میں سورۂ حجر کی آیت ۸۷: ’اٰتَیْنَاکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ‘۔ کا پھر حوالہ دیتا ہوں جس کا ذکر میں نے مقدمۂ کتاب میں، ساتوں گروپوں کے تعارف کے بعد، اس حقیقت کی طرف توجہ دلانے کے لیے کیا ہے کہ یہ تقسیم ازروئے قرآن منصوص ہے۔ پھر سورۂ حجر کی تفسیر میں آیت کی وضاحت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتیں میں نے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ۔۔۔ ایک یہ کہ قرآن نے کسی خاص سورہ کو سبع مثانی نہیں کہا ہے بلکہ ’کِتَابًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِیَ‘ کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا قرآن ’سبع مثانی‘ ہے۔

    ۔۔۔ دوسری یہ کہ مثانی کسی بار بار دہرائی ہوئی چیز کو نہیں بلکہ اس چیز کو کہتے ہیں جو جوڑا جوڑا ہو۔

    ۔۔۔ تیسری یہ کہ قرآن کی سورتوں کی ترتیب سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہ سات گروپوں میں تقسیم ہیں اور ہر سورہ اپنے ساتھ ایک جوڑا بھی رکھتی ہے جس کی طرف میں برابر اشارہ کرتا آ رہا ہوں۔ یہاں اس بات کی یاددہانی سے مقصود یہ ہے کہ قرآن کے آخری گروپ میں پہنچنے کے بعد آپ بہتر طریقہ سے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ رائے کچھ وزن رکھتی ہے یا نہیں اور قرآن کی اس ترتیب کے سامنے آنے سے فکر و نظر کے نئے دروازے کھلتے ہیں یا نہیں؟

    میرے نزدیک قرآن کی اسی حقیقت کی طرف وہ حدیث بھی اشارہ کر رہی ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ’انزل القراٰن علی سبعۃ احرف‘ (قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے) سات حرفوں کے معنی اگر یہ لیے جائیں کہ قرآن کے تمام الفاظ سات طریقوں پر پڑھے جا سکتے ہیں تو یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس صورت میں قرآن ایک معمہ بن کے رہ جائے گا درآنحالیکہ قرآن خود اپنے بیان کے مطابق کتاب مبین ہے اور قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے۔ جو لوگ قراء توں کے اختلاف کو بڑی اہمیت دیتے ہیں وہ بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ قرآن کے کسی لفظ کی قراء ت سات طریقے پر کی گئی ہو۔ ابن جریرؒ قراء توں کے اختلاف نقل کرنے میں بڑے فیاض ہیں لیکن مجھے یاد نہیں کہ کسی لفظ کی انھوں نے دو تین سے زیادہ قراء تیں نقل کی ہوں۔

    غور کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ قراء توں کا اختلاف دراصل قراء توں کا اختلاف نہیں بلکہ بیشتر تاویل کا اختلاف ہے۔ کسی صاحب تاویل نے ایک لفظ کی تاویل کسی دوسرے لفظ سے کی اور اس کو قراء ت کا اختلاف سمجھ لیا گیا حالانکہ و ہ قراء ت کا اختلاف نہیں بلکہ تاویل کا اختلاف ہے۔ ابھی سورۂ تحریم کی تفسیر میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ بعض لوگوں نے ’فَقَدْ صَغَتْ‘ کو ’فَقَدْ زَاغَتْ‘ بھی پڑھا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس نے بھی یہ پڑھا ہے اس نے یہ قراء ت نہیں بتائی ہے بلکہ اپنے نزدیک اس نے ’فَقَدْ صَغَتْ‘ کے معنی بتائے ہیں جس کی غلطی، کلام عرب کے دلائل کی روشنی میں، اچھی طرح ہم واضح کر چکے ہیں۔

    پھر یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ اگر قراء توں کا اختلاف ہے بھی تو متواتر قراء ت کا درجہ تو صرف اسی قراء ت کو حاصل ہے جس پر مصحف، جو تمام امت کے ہاتھوں میں ہے، ضبط ہوا ہے۔ اس قراء ت کے سوا دوسری قراء تیں ظاہر ہے کہ غیر متواتر اور شاذ کے درجہ میں ہوں گی جن کو متواتر قراء ت کی موجودگی میں کوئی اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ چنانچہ میں نے اس تفسیر میں اختلاف قراء ت سے مطلق تعرض نہیں کیا بلکہ صرف مصحف کی قراء ت کو اختیار کیا ہے اور مجھے تاویل میں کہیں تکلف نہیں کرنا پڑا بلکہ ہر جگہ نہایت صاف، دل نشین، سیاق و سباق اور نظائر قرآن سے قرین تاویل سامنے آ گئی ہے جو اصل مطلوب و مقصود ہے۔ قراء توں کے اختلاف میں پڑنے کے معنی تو یہ ہیں کہ آپ ان الجھنوں میں پڑنے کے خود خواہاں ہیں جن سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امت کو محفوظ کرنے کی کوشش فرمائی۔ بہرحال اس حدیث میں ’سبعۃ احرف‘ سے سات قراء تیں مراد لینے کا تو کوئی قرینہ نہیں ہے البتہ اگر ’حرف‘ کو عبارت، بیان اور اسلوب کے معنی میں لیں، جس کی زبان اور لغت کے اعتبار سے پوری گنجائش ہے، تو اس کی تاویل یہ ہو گی کہ قرآن سات اسلوبوں یا عبارتوں میں نازل ہوا ہے اور اس سے اشارہ انہی سات گروپوں کی طرف ہو گا جو قرآن میں ہر تلاوت کرنے والے کو نظر آتے ہیں۔

    ان گروپوں کی نوعیت، جیسا کہ ہم وضاحت کر چکے ہیں، یہ ہے کہ ہر گروپ میں ایک جامع عمود کے تحت قرآنی دعوت کے تمام بنیادی مطالب مختلف اسلوبوں سے اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ ہر بات باربار سامنے آنے کے باوجود پڑھنے والا ان سے کبھی تکان محسوس نہیں کرتا بلکہ طرز بیان اور نہج استدلال کے تنوع، پیش و عقب کی تبدیلی، اطراف و جوانب کے فرق اور لواحق و تضمنات کی گوناگونی کے سبب سے ہر بار وہ ایک نیا لطف و حظ حاصل کرتا ہے۔ قرآن کی اسی خصوصیت کا ذکر بعض حدیثوں میں یوں آیا ہے کہ اہل علم اس سے کبھی آسودہ نہیں ہوتے اور اس کی تازگی پر کبھی خزاں کا گزر نہیں ہوتا۔ یہی ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ سورۂ حجر کی مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا ہے کہ ’وَالْقُرْآنَ الْعَظِیْمَ‘ میں ’و‘ تفسیر کے لیے ہے۔

    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا عمود انذار ہے اور اس انذار میں دونوں ہی عذاب شامل ہیں۔ وہ عذاب بھی جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً اس دنیا میں سابقہ پیش آیا ہے اور وہ عذاب بھی جس سے آخرت میں دوچار ہونا پڑے گا۔ استدلال اس میں آفاق کی نشانیوں سے ہے۔ یعنی اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کے مشاہدہ سے اس کے خالق کی جو صفات سامنے آتی ہیں وہ اس بات کو مستلزم ہیں کہ یہ دنیا ایک دن اپنی انتہا کو پہنچے گی۔ جن لوگوں نے اس کے اندر بالکل اندھے بہرے بن کر زندگی گزاری وہ جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اور جنھوں نے اپنی عقل و فہم سے کام لیا اور غیب میں ہوتے خدا سے ڈرتے رہے وہ اجر عظیم کے مستحق ٹھہریں گے۔

  • الملک (The Dominion, Sovereignty, Control)

    30 آیات | مکی

    الملک - القلم ۶۷ - ۶۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں قیامت اور دوسری میں اُس عذاب سے خبردار کیا گیا ہے جو رسول کی تکذیب کے نتیجے میں اُس کی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دونوں میں خطاب اگرچہ جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہے، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش کے سرداروں کی طرف ہے۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الملک — کا موضوع قریش پر یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا جس طرح اور جس غایت کے لیے وجود میں آئی ہے، قیامت اُس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ لہٰذا اُس سے بے خوف ہو کر اپنے آپ کو اُس انجام تک نہ پہنچاؤ، جہاں اعتراف جرم کے سوا کوئی چارہ اوراِس اعتراف کے نتائج کو بھگتنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ اُس پروردگار سے ڈرو جو آج بھی، جس وقت اور جس طرح چاہے، تمھیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔

    سورہ میں استدلال خدا کی رحمت، قدرت اور ربوبیت کی اُن نشانیوں سے ہے جو انسان ہر لحظہ اپنے گردوپیش دیکھتا ہے۔

    دوسری سورہ — القلم — کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ کتاب اور آپ کی سیرت سے قریش کے سرداروں کی سیرت و کردار اور اُن کے مزعومات کا موازنہ کرکے اُنھیں اِس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ خداکی کتاب اور اُس کے پیغمبر کے مقابلے میں وہ سرکشی اور تمردکارویہ اختیار نہ کریں۔ اُن کے سب باغ و بہار اور اُن کا تمام سرمایۂ فخر و مباہات عذاب کی زد میں ہے۔ وہ عقل سے کام لیں، اُن کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ صرف اِس لیے باتیں بنا رہے ہیں کہ اُنھیں ڈھیل دی جا رہی ہے۔ خدا کا فیصلہ عنقریب اُن کے بارے میں صادر ہوجائے گا۔

    سورہ کے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کے ساتھ اِس فیصلے کا انتظار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 067 Verse 001 Chapter 067 Verse 002 Chapter 067 Verse 003 Chapter 067 Verse 004 Chapter 067 Verse 005 Chapter 067 Verse 006 Chapter 067 Verse 007 Chapter 067 Verse 008 Chapter 067 Verse 009 Chapter 067 Verse 010 Chapter 067 Verse 011 Chapter 067 Verse 012 Chapter 067 Verse 013 Chapter 067 Verse 014 Chapter 067 Verse 015 Chapter 067 Verse 016 Chapter 067 Verse 017 Chapter 067 Verse 018 Chapter 067 Verse 019 Chapter 067 Verse 020 Chapter 067 Verse 021 Chapter 067 Verse 022 Chapter 067 Verse 023 Chapter 067 Verse 024 Chapter 067 Verse 025 Chapter 067 Verse 026 Chapter 067 Verse 027 Chapter 067 Verse 028 Chapter 067 Verse 029 Chapter 067 Verse 030
    Click translation to show/hide Commentary
    بڑی ہی عظیم اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    اس کائنات کے خالق سے متعلق صحیح تصور کی راہ: ’تَبَارَکَ‘ کے اندر عظمت اور برکت دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ صیغہ مبالغہ کا بھی ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ بڑی ہی باعظمت اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں اس کائنات کی باگ ہے۔ ’وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘ اور باعظمت و بافیض ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ہر چیز پر قادر بھی ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام بھی ایسا تصور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے حیطۂ امکان سے خارج ہو۔؂۱ یہ حال بیان ہوا ہے اس مشاہدے کا جو ایک عاقل اور صاحب فکر کے سامنے آتا ہے یا آنا چاہیے جب وہ اس کائنات کی نشانیوں پر غور کرتا ہے۔ اس کی دلیل آگے آ رہی ہے۔ یہاں خلاصۂ فکر پہلے بیان کر دیا ہے تاکہ ہر شخص کے سامنے یہ حقیقت آ جائے کہ اس کائنات پر غور کرنے والا کبھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اس کا خالق کوئی کھلنڈرا ہے یا وہ کوئی لاابالی اور غیر ذمہ دار ہے جس نے یہ دنیا پیدا تو کر ڈالی لیکن اس کو اس کے خیر و شر سے کوئی دلچسپی نہیں، یا وہ محض ایک محرک اول ہے جس سے ایک حرکت تو صادر ہو گئی لیکن اس حرکت کے نتائج سے اسے کچھ بحث نہیں، یا وہ صرف ایک خاموش علۃ العلل ہے جس کو اپنی معلولات سے علت ہونے کے سوا کوئی اور واسطہ نہیں ہے۔ اس کائنات کے خالق سے متعلق اس قسم کے تصورات میں جو لوگ مبتلا ہوئے یا تو اس وجہ سے ہوئے کہ انھوں نے اس کا صحیح تصور کرنا ہی نہیں چاہا تاکہ ان کی ہوا پرستی میں یہ تصور خلل انداز نہ ہو سکے یا کرنا تو چاہا لیکن اس کی صفات کا عکس اس کی پیدا کی ہوئی وسیع و عظیم کائنات کے آئینہ میں دیکھنے کے بجائے انھوں نے اپنی ان چھوٹی چھوٹی عینکوں سے دیکھنے کی کوشش کی جو ان کے اپنے ہاتھوں کی ایجاد تھیں۔ حالانکہ اس کا صحیح طریقہ صرف ایک ہی تھا کہ بالکل بے لوث اور غیر جانبدار ہو کر اس کی پیدا کی ہوئی کائنات کا مشاہدہ کرتے اور اس کے اندر اس کی صفات کا جلوہ دیکھتے۔ اگر ایسا کرتے تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوتی کہ اس کا خالق بڑا ہی عظیم بھی ہے اور بڑا ہی بافیض اور حکیم بھی اور ساتھ ہی اس کی قدرت بھی بے پناہ ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے، کوئی کام بھی اس کے لیے مشکل یا ناممکن نہیں۔ اس تصور سے ظاہر ہے کہ ان تمام باطل تصورات کی جڑ بھی کٹ جاتی ہے جن میں مشرک قومیں مبتلا ہوئیں اور ان اوہام کے لیے بھی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے جن میں فلاسفہ اور سائنس دان مبتلا ہوئے۔ _____ ؂۱ لفظ ’تَبَارَکَ‘ کے تضمنات پر سورۂ فرقان کی آیات ۱ ، ۱۰ اور ۶۱ کے تحت بحث ہو چکی ہے۔
    جس نے پیدا کیا ہے موت اور زندگی کو تاکہ تمہارا امتحان کرے کہ تم میں کون سب سے اچھے عمل والا بنتا ہے۔ اور وہ غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔
    صحیح تصورکے لازمی نتائج: یہ اوپر والی ہی بات دوسرے اسلوب میں فرمائی گئی ہے جس سے اس کی قدرت، حکمت اور فیض بخشی کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے کسی پر بھی کسی دوسرے کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ پھر موت زندگی پرمقدم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اسی کے فیض سے پردۂ عدم سے عالم وجود میں آئی ہے، وہ نہ چاہتے تو کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔ عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد پھر موت اس بات کی شہادت ہے کہ اس دنیا کا کارخانہ بے غایت و بے مقصد نہیں ہے یہ یوں ہی چلتا رہے یا یوں ہی ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک کارعبث ہو گا جو ایک حکیم و قدیر اور بافیض ہستی کی شان کے خلاف ہے بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں جس کو زندگی بخشتا ہے اس امتحان کے لیے بخشتا ہے کہ دیکھے کون اس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور کون اپنی من مانی کرتا ہے۔ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں لوگوں کو ازسرنو زندہ کرے، ہر شخص کی نیکی اور بدی کا حساب ہو اور وہ اپنے عمل کے مطابق جزا یا سزا پائے۔ علاوہ بریں وہ ’عزیز‘ ہے اس وجہ سے جو سزا کے مستحق ہوں گے ان کو اس کی پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکتا اور وہ ’غفور‘ بھی ہے اس وجہ سے جو اس کی مغفرت کے مستحق ہوں گے ان کو وہ اس سے محروم نہیں فرمائے گا بلکہ وہ کسی کی سعی و سفارش کے بغیر اس کے حق دار ٹھہریں گے۔
    جس نے بنائے سات آسمان تہ بہ تہ۔ تم خدائے رحمان کی صنعت میں کوئی خلل نہیں پاؤ گے۔ نگاہ دوڑاؤ، کیا تمہیں کوئی نقص نظر آتا ہے۔
    مشاہدۂ کائنات کی دعوت: پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اور جس فیض بخشی و ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس آیت میں اس کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی ہے کہ آؤ، دیکھو اس کائنات کے خالق کی عظمت و شان، اس کی بے مثال صنعت گری اور اس کا کمال فن کہ اس نے تہ بہ تہ سات آسمان بنا ڈالے اور تم اس میں کہیں ڈھونڈھے سے بھی کوئی ناہمواری یا کوئی نقص و خلل نہیں پا سکتے۔ کیا کوئی چیز آسمانوں سے بھی بڑی ہو سکتی ہے لیکن اس وسیع و عریض اور ناپیدا کنار چیز کے اندر بھی اس کے خالق کے کمال فن کا حال یہ ہے کہ مجال نہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا ماہر فن بھی کہیں انگلی رکھ سکے کہ اس جگہ کسی جوڑ بند کو ہموار کرنے میں کوئی کسر رہ گئی۔ لفظ ’تَفٰوُتٌ‘ کے معنی فرق و اختلاف اور ناہمواری کے ہیں۔ اسی مضمون کو آگے لفظ ’فُطُوْرٌ‘ سے بھی تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی نقص و خلل کے ہیں۔ اسی مضمون کی تعبیر کے لیے سورۂ قٓ آیت ۶ میں لفظ ’فُرُوْجٌ‘ استعمال فرمایا ہے:’أَفَلَمْ یَنظُرُوْا إِلَی السَّمَآءِ فَوْقَہُمْ کَیْفَ بَنَیْنَاہَا وَزَیَّنَّاہَا وَمَا لَہَا مِن فُرُوْجٍ‘ (کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا، ہم نے کیسا اس کو بنایا اور سنوارا اور کہیں اس میں کوئی دراڑ اور شگاف نہیں)۔  
    پھر بار بار نگاہ دوڑاؤ، تمہاری نگاہ ناکام تھک کر واپس آ جائے گی۔
    ’ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنۡقَلِبْ إِلَیْْکَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَہُوَ حَسِیْرٌ‘۔ اتمام حجت کے لیے پھر دعوت دی کہ ایک ہی بار نہیں بلکہ باربار ناقدانہ نگاہ دوڑاؤ، تمہاری نگاہ تھک کر واپس آ جائے گی لیکن کہیں کوئی نقص یا خلل نہیں پا سکے گی۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا کی یہ بے مثال قدرت و حکمت اپنے سروں پر اس طرح پھیلی ہوئی دیکھتے ہو کہ نہ تم اس کا احاطہ کر سکتے اور نہ اس میں کوئی معمولی سے معمولی نقص ڈھونڈھ سکتے اس کے لیے وہ کون سا کام ہے جو دشوار ہو سکتا ہے؟ کیا مرکھپ جانے کے بعد تم کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اور جزا اور سزا دینا یا تم کو کسی آفت ارضی و سماوی سے چشم زدن میں یہیں تباہ کر دینا اس آسمان کے پیدا کر دینے سے زیادہ مشکل کام ہے؟
    اور ہم نے آسمان زیریں کو چراغوں سے سجایا اور ان کو شیاطین کو سنگ سار کرنے کا ٹھکانا بھی بنایا اور ان شیاطین کے لیے دوزخ کا عذاب بھی ہم نے تیار کر رکھا ہے۔
    قدرت کے پہلو بہ پہلو رحمت کے جلوے: سات آسمانوں کا حوالہ دینے کے بعد آسمان زیریں کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جس کے عجائب کا نسبۃً آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ فرمایا کہ اس کو دیکھو کس طرح ہم نے اس کو قمقموں سے آراستہ کیا ہے! مطلب یہ ہے کہ ان قمقموں کو دیکھو گے تو تمہارے سامنے یہ پہلو بھی آئے گا کہ اس جہان کا خالق صرف قدرت والا ہی نہیں بلکہ عظیم رحمت والا بھی ہے، جس نے اس چھت کو ایسے قمقموں سے جگمگایا ہے جن کی حسن افروزی اور فیض بخشی کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اوپر ’مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ‘ میں صفت رحمان کا حوالہ آیا ہے۔ یہ اسی ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے گویا یہ دنیا اپنے وجود سے صرف اس بات کی شہادت نہیں دیتی کہ یہ ایک عظیم قدرت والے کی پیدا کی ہوئی دنیا ہے، ساتھ ہی یہ اس بات کی بھی شہادت دیتی ہے کہ وہ نہایت رحمان، نہایت کریم اور نہایت ہی بندہ نواز بھی ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے ایسے لاجواب قمقموں سے آراستہ چھت بنائی ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کا حوالہ بار بار آئے گا۔ ہر جگہ اس کے اس خاص پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ کلام کا اصلی حسن نگاہوں سے اوجھل رہے گا۔ ستاروں کے ایک ضمنی فائدہ کی طرف اشارہ: ’وَجَعَلْنَاہَا رُجُوۡمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ‘ کے الفاظ سے ان ستاروں کے ایک اور ضمنی فائدہ کی طرف اشارہ فرما دیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ شیاطین کو سنگ سار کرنے کے لیے ٹھکانوں کا کام بھی لیتا ہے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی گئی ہے۔ اس کی تفصیل قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں آئی ہے کہ ان ستاروں کے اندر اللہ تعالیٰ نے دید بان (بُرُوْجٌ) بنائے ہیں جن میں اس کے کروبی ہر وقت پہرہ دیتے ہیں۔ اگر شیاطین عالم بالا کی سن گن لینے کے لیے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان پر شہابوں کے راکٹ پھینک کر ان کو کھدیڑتے ہیں۔ ان شہابوں کی نوعیت پر سورۂ رحمان کی تفسیر میں ہم بحث کر چکے ہیں، تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ اس ضمنی اشارہ سے یہاں مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اس شان و اہتمام کے ساتھ پیدا کرنے کے بعد اس کو چھوڑ نہیں دیا ہے کہ شیاطین اس کو اپنی بازی گاہ بنا لیں بلکہ اس نے اس کی نگرانی کا بھی سامان کیا ہے اور جب وہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو ان کی سرکوبی بھی ہوتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خلق بے راعی کا گلہ نہیں ہے بلکہ جس نے اس کو خلق کیا ہے وہ پوری بیداری کے ساتھ اس کی نگرانی فرما رہا ہے اور ایک دن وہ تمام جن و بشر اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے جو اس میں دھاندلی مچائیں گے۔ ان کے لیے دوزخ کا عذاب تیار ہے، ’وَأَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ‘۔
    اور جنھوں نے اپنے رب کا کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے!
    قیامت کا انکار خدا کے انکار کے ہم معنی ہے: اوپر شیاطین کے ساتھ جو معاملہ مذکور ہوا ہے اس سے یہ ان انسانوں کے انجام کے ذکر کی طرف گریز ہے جو اپنے رب کا کفر کریں گے۔ ’رب کے کفر‘ سے یہاں مراد قیامت اور جزاء و سزا کا انکار ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ اس کتاب میں تفصیل سے واضح کرتے آ رہے ہیں، یہ ہے کہ قیامت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کی تمام بنیادی صفات ۔۔۔ قدرت، عدل، رحمت اور ربوبیت ۔۔۔ کی نفی ہو جاتی ہے۔ ان صفات کی نفی کر کے خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہے۔ چنانچہ قرآن نے اسی بنیاد پر مشرکین کو جگہ جگہ کفار سے تعبیر کیا ہے حالانکہ وہ خدا کے منکر نہیں تھے۔ ’وَبِئۡسَ الْمَصِیْرُ‘۔ فرمایا کہ یہ نہایت برا ٹھکانا اور مرجع ہے جو انھوں نے اپنے لیے انتخاب کیا۔ اس کے برے ہونے کے بعض پہلوؤں کی وضاحت آ گے آ رہی ہے۔
    جب وہ اس میں جھونکے جائیں گے اس کا دھاڑنا سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہو گی۔
    فرمایا کہ جب یہ منکرین دوزخ میں جھونکے جائیں گے تو ان کو دیکھ کر جہنم اس طرح دھاڑے گی جس طرح بھوکا شیر شکار کو دیکھ کر دھاڑتا ہے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔ یعنی اس کا بھڑکنا اپنے پورے شباب پر ہو گا۔
    معلوم ہو گا کہ غصہ سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ جب جب ان کی کوئی بھیڑ اس میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمہارے پاس اس دن سے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا!
    جہنم کے جوش غضب کی تصویر: یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی! اس وقت یہ لوگ اعتراف کریں گے کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ اس سے آگاہ کرنے کے لیے نذیر ہمارے پاس آئے لیکن ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم محض ہم پر دھونس جمانے کے لیے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے کہ ہمیں اس دن سے آگاہ کرو اور خدا کی خوشنودی کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہمیں تعلیم دو۔
    وہ جواب دیں گے کہ ایک خبردار کرنے والا آیا تو سہی لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم لوگ بس ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو!
    جہنم کے جوش غضب کی تصویر: یہ جہنم کے غصہ کی تعبیر ہے کہ معلوم ہو گا کہ وہ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اس کے اس غیظ و غضب کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو گی کہ اس کے نزدیک اس ہولناک دن سے جن لوگوں نے بے پروا ہو کر زندگی گزاری انھوں نے بالکل آنکھیں اور کان بند کر کے زندگی گزاری۔ ورنہ اس دنیا میں نہ قیامت اور جزا و سزا کی نشانیوں کی کمی تھی اور نہ کبھی یہ منذروں سے خالی رہی۔ پس جن لوگوں نے آنکھیں اور کان رکھتے ہوئے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ ہرگز کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ جہنم کے داروغے ان کو ملامت کریں گے کہ بدبختو! کیا تمہارے پاس اس دن سے آگاہ کرنے کے لیے کوئی نذیر نہیں آیا کہ تم نے اپنی یہ شامت بلائی! اس وقت یہ لوگ اعتراف کریں گے کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ اس سے آگاہ کرنے کے لیے نذیر ہمارے پاس آئے لیکن ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے، تم محض ہم پر دھونس جمانے کے لیے یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے کہ ہمیں اس دن سے آگاہ کرو اور خدا کی خوشنودی کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہمیں تعلیم دو۔ ’إِنْ اَنتُمْ إِلَّا فِیْ ضَلَالٍ کَبِیْرٍ‘۔ یعنی یہی نہیں کہ ہم نے ان کی کوئی بات مانی نہیں اور اپنی گمراہی پر متنبہ نہیں ہوئے بلکہ الٹے ان کو گمراہ ٹھہرایا کہ ہم نہیں بلکہ تم ایک بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو کر ہمیں یہ ڈراوے سنا رہے ہو کہ مرکھپ جانے کے بعد ہم ازسرنو زندہ کیے جائیں گے، ہمارے ایک ایک قول و فعل کا حساب ہو گا اور ہم اور ہمارے آباء و اجداد جہنم میں پڑیں گے۔ ’اَنتُمْ‘ کی ضمیر جمع ہے حالانکہ اوپر لفظ ’نَذِیْرٌ‘ واحد ہے اس سے یہ اشارہ نکل رہا ہے کہ یہ لوگ یہ اعتراف بھی کریں گے کہ یہی جواب ہم نے ہر اس شخص کو دیا جس نے ہمیں اس دن سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ خواہ وہ اللہ کا رسول رہا ہو یا اس کے ساتھی رہے ہوں۔
    اور وہ کہیں گے کہ ہم سننے والے یا سمجھنے والے ہوتے تو ہم دوزخ والوں میں سے نہ بنتے۔
    جہنمیوں کا اعتراف کہ انھوں نے اپنی عقل سے کام نہیں لیا: اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر وہ یہ اعتراف بھی کریں گے کہ اگر وہ بات کے سننے والے اور اپنی عقل سے کام لینے والے ہوتے تو حقیقت اتنی واضح تھی کہ وہ بھی ہدایت پر اور جنت کے حق دار ہوتے، جہنم والوں کے ساتھی نہ بنتے۔ لیکن نہ ہم نے ناصحوں کی بات سننے کے لیے اپنے کان کھولے اور نہ خود اپنی عقل سے کام لیا اس وجہ سے اس انجام بد کو پہنچے۔
    تو وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے۔ پس لعنت ہو دوزخ والوں پر!!
    فرمایا کہ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے اور خود اپنے اعتراف کی رو سے جہنم کے مستحق بن جائیں گے تو ان بدبختوں پر خدا کی پھٹکار ہو جنھوں نے جانتے بوجھتے اپنے لیے جہنم کا سامان کیا۔
    بے شک جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں غیب میں رہتے، ان کے لیے مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے۔
    منکرین قیامت کے انجام کے بعد یہ ان لوگوں کا صلہ بیان فرمایا ہے جو قیامت کو آنکھوں سے دیکھے بغیر، اس دنیا میں اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے بے شک ایک عظیم رحمت و مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے۔ عقل سے کام لینے والوں کا صلہ: ’یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالْغَیْْبِ‘ کے الفاظ سے ان لوگوں کا صاحب عقل و بصیرت ہونا واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے کان اور آنکھیں بند کر کے زندگی گزاری اور نہ اس بات کے منتظر رہے کہ جب سب کچھ سامنے آ جائے گا تب مانیں گے بلکہ اس کائنات کی نشانیوں پر انھوں نے غور کیا، جن لوگوں نے ان کو ہوشیار کیا ان کی باتیں انھوں نے توجہ سے سنیں اور ان پر غور کیا اس وجہ سے یہ مستحق ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل عظیم سے نوازے۔ اس دنیا میں انسان کا اصلی امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ان حقائق پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے۔ جس نے یہ امتحان پاس کر لیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہر انعام کا حق دار ہے اور جو اس میں ناکام رہا وہ جانور بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہے اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا فلسفی اور سائنس دان مانا گیا ہو۔
    اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا علانیہ کہو وہ اس کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔
    منکروں کو تہدید مومنوں کو تسلی: یہ آیتیں تہدید کے محل میں بھی ہو سکتی ہیں اور تسلی کے محل میں بھی۔ یہاں یہ دونوں ہی کے محل میں ہیں۔ اوپر جن منکرین قیامت کا ذکر ہوا ہے ان کے لیے ان میں تہدید و وعید ہے کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب تمہارے کسی جلی یا خفی سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ تم پوشیدہ طور پر اپنی بات کہو یا علانیہ طور پر، وہ سب کو جانتا ہے۔ وہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تو اس کے سامنے سرّ و علانیہ کا کیا سوال! منکرین قیامت کے بعد غیب میں رہتے خدا سے ڈرنے والوں کا بیان ہوا ہے۔ ان کے لیے اس میں تسلی ہے کہ تمہارے کسی قول و فعل کا غیب یا شہادت میں ہونا خدا کے لیے بالکل یکساں ہے۔ رات کی خلوتوں میں تم اپنے رب سے راز و نیاز کی جو باتیں کرتے ہو وہ بھی اس کے علم میں ہیں اور دن کی جلوتوں میں جو کچھ تم کرتے ہو اور کرو گے وہ بھی اس کے سامنے ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں تو جب اس سے کوئی چیز مخفی نہیں تو اطمینان رکھو کہ تمہاری رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی نیکی رائگاں جانے والی نہیں بلکہ تم انے ہر عمل کا بھرپور صلہ پاؤ گے۔
    کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے وہ تو بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔
    ’اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ تمہارے ہر ظاہر و باطن سے آگاہ ہے یا اسے آگاہ ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ جب وہ تمہارا خالق ہے اور اس کے خالق ہونے سے کسی کے لیے مجال انکار نہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے ناواقف ہو۔ جس نے تمام قابلیتوں اور صلاحیتوں کو وجود بخشا اور جس کے حکم سے ساری مشینری حرکت کر رہی ہو وہ اپنی مخلوق کی کسی نقل و حرکت سے کس طرح بے خبر رہ سکتا ہے! ’وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ‘۔ ’لَطِیْفٌ‘ کے معنی، جیسا کہ جگہ جگہ اس کی وضاحت ہو چکی ہے، باریک بین اور دقیقہ رس کے ہیں۔ فرمایا کہ حقیقی باریک بین اور باخبر تو وہی ہے۔ دوسرا اگر کسی کی زندگی کے کسی پہلو سے واقف ہوتا ہے تو اس کی واقفیت جزوی اور ناتمام ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ سب کو وجود میں لانے والا اور سب کو رزق و زندگی بخشنے والا ہے اس وجہ سے اس کا علم ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل وہ گمراہی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم کے باب میں قوموں کو لاحق ہوئی۔ جب تک خدا کے علیم و خبیر ہونے کا صحیح تصور دل میں راسخ نہ ہو اس وقت تک انسان کے اندر نہ اس کی خشیت پیدا ہو سکتی اور نہ وہ خدا کے اعتماد و توکل کی حقیقی لذت سے آشنا ہو سکتا۔
    وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرماں بردار ناقہ کے مانند بنایا تو تم اس کے مونڈھوں میں چلو پھرو اور اپنے رب کے بخشے ہوئے رزق میں سے برتو اور اس کی طرف پھر اکٹھے ہونا ہے۔
    زمین کے آثار ربوبیت کی طرف اشارہ: اوپر آسمان کے عجائب قدرت و حکمت سے استشہاد کیا تھا یہ زمین کے آثار ربوبیت سے قیامت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نہایت مطیع و فرماں بردار بنایا ہے کہ تم اس کی بلندیوں اور پستیوں، اس کی وادیوں اور کوہساروں میں چلو پھرو اور اس میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو رزق پھیلا رکھا ہے اس سے بہرہ مند ہو اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ ایک دن اسی کے حضور میں سب کو اکٹھے ہونا ہے۔ لفظ ’ذَلُوْلٌ‘ اور ’مَنَاکِبُ‘ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت میں ایک تمثیل مضمر ہے۔ یعنی اس زمین کی مثال ایک فرماں بردار ناقہ سے دی گئی ہے۔ اس کے اندر جو درے اور راستے اور جو وادی و کہسار ہیں ان کو ناقہ کے ’مناکب‘ یعنی مونڈھوں اور کندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور انسانوں کو اس ناقہ کے جسم پر اس طرح فرض کیا گیا ہے گویا وہ اس کے مونڈھوں اور کندھوں میں جوئیں ہوں ان کی پرورش کا سارا سامان ناقہ کے مونڈھوں اور شانوں ہی میں موجود ہوتا ہے۔ وہ انہی کے اندر چلتی پھرتی بھی ہیں اور وہیں سے اپنی غذا بھی حاصل کر لیتی ہیں۔ ربوبیت کا لازمی تقاضا: ’کُلُوْا مِنۡ رِّزْقِہٖ وَإِلَیْْہِ النُّشُوْرُ‘۔ یہ وہ اشارہ ہے جو ربوبیت کا یہ اہتمام و انتظام زبان حال سے انسان کو کر رہا ہے کہ اس رزق و امن سے فائدہ اٹھاؤ اور اس حقیقت کو یاد رکھو کہ جس خدا نے تمہارے لیے بلا استحقاق یہ اہتمام کیا ہے وہ تمہیں شتر بے مہار اور غیر مسؤل بنا کے چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ ایک دن تمہیں مرنا ہے اور مرنے کے بعد پھر اٹھنا اور اپنے رب کی طرف لازماً جانا ہے۔ اس لیے کہ یہ بات عقل اور فطرت کے بالکل خلاف ہے کہ انسان کو نعمتیں اور حقوق تو حاصل ہوں لیکن وہ مسؤلیت سے بری رہے۔
    کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہو گئے کہ وہ تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے اور وہ دفعتاً بگٹٹ چل پڑے!
    ایک مور ناتواں کے لیے اپنی ہستی پر غرور جائز نہیں: اوپر کی آیت میں انسان کی ناتوانی اور بے حقیقتی کا جو ذکر ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ تنبیہ ہے کہ جو انسان اس زمین کے وسیع و عریض اطراف و اکناف میں جوؤں کی طرح رینگ رہا ہے اس کو اپنی طاقت اور اپنے وسائل پر اتنا غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے خدا کے عذاب سے ڈرایا جائے تو وہ اس کا مذاق اڑائے کہ اس پر کدھر سے عذاب آئے گا اور کون عذاب لائے گا! فرمایا کہ کیا تم اس عظیم ہستی سے جو آسمانوں میں ہے بالکل بے خوف اور نچنت ہو گئے کہ وہ زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دے اور وہ بالکل بَگ ٹُٹ ہو کر کسی سمت کو چل پڑے! ’مُوْرٌ‘ کے معنی تیزی سے حرکت کرنے کے ہیں، جیسا کہ ’یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا‘ (الطور ۵۲: ۹) سے واضح ہے۔ اس کے مختلف ترجمے لوگوں نے کیے ہیں لیکن میرا ذہن بار بار اس طرف جاتا ہے کہ یہاں یہ بَگ ٹُٹ چل پڑنے کے معنی میں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ’مور‘ کے اصل معنی حرکت سریع ہی کے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اوپر اس زمین کو ناقۂ ذلول (فرماں بردار اونٹنی) سے تشبیہ دی ہے۔ اس تعلق سے دیکھیے تو یہ معنی یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو خدا کی عنایت ہے کہ اس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے اور وہ تمہاری خدمت کے لیے ایک فرماں بردار اونٹنی بنی ہوئی ہے لیکن خدا اس کی باگ ذرا ڈھیلی کر دے تو پھر دیکھو وہ کس طرح بھاگ کھڑی ہوتی ہے کہ کسی کے سنبھالے نہ سنبھلے۔
    کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نچنت ہو گئے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا مسلط کر دے تو تم جان لو گے کہ میرا انذار کیسا ہوتا ہے۔
    فضائی عذاب کی دھمکی: اوپر کی آیت میں قدموں کے نیچے سے کسی عذاب کے نمودار ہو جانے کا اشارہ تھا یہ سر کے اوپر سے کسی عذاب کے آ دھمکنے کی دھمکی ہے کہ کیا تم اپنے اس خداوند سے، جو آسمان میں ہے نچنت ہو کہ وہ تم پر کنکر پتھر برسا دینے والی ہوا مسلط کر دے۔ ’حَاصِبٌ‘ کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا کو کہتے ہیں۔ اس کی وضاحت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ کر چکے ہیں۔ سورۂ ذاریات کی تفسیر میں ہم نے اس کے متعلق استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق بھی نقل کی ہے۔ پچھلی قوموں کی ہلاکت میں اس کو ایک اہم عامل کی حیثیت حاصل رہی ہے، خاص طور پر قوم لوط تو اسی عذاب سے ہلاک ہوئی۔ قریش کو قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں پر سے گزرنے کے مواقع اکثر حاصل ہوتے رہتے تھے اس وجہ سے قوم لوط کی تمثیل ان کے لیے موثر ہو سکتی تھی۔ ’نَذِیْرِ‘ یہاں مصدر کے معنی میں ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ یعنی آج تو تمہیں میرا انذار مذاق معلوم ہوتا ہے لیکن جب وہ سامنے آ جائے گا تب تمہیں پتہ چلے گا کہ جس چیز کا تم مذاق اڑا رہے ہو وہ کس طرح حقیقت بنتی ہے اور کیسی ہولناک شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔
    اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے تو دیکھو کیسی ہوئی ان پر میری پھٹکار۔
    تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت: یہ قریش کو تاریخ سے سبق لینے کی ہدایت ہے کہ یہ عذاب اگر ان کے اوپر ابھی نہیں آیا ہے تو اس کے سبب سے اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ یہ کوئی دانش مندی کی بات نہیں ہے کہ جو کچھ آدمی کے اپنے سر پر گزر جائے اسی کو مانے بلکہ دوسری قوموں کی سرگزشت سے انھیں سبق لینا چاہیے جن کو انہی کی طرح انذار کیا گیا لیکن انھوں نے اس کا مذاق اڑایا بالآخر وہ عذاب ان پر مسلط ہو کر رہا جس کا انھوں نے مذاق اڑایا۔ ’فَکَیْْفَ کَانَ نَکِیْرِ‘ تو دیکھیں کس طرح ان پر میری پھٹکار ہوئی! یعنی میں نے کس نفرت و بیزاری کے ساتھ ان کو اپنے عذاب کا ہدف بننے کے لیے چھوڑ دیا اور کوئی ان کو بچانے والا نہ بن سکا۔
    کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا، وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان کو خدائے رحمان ہی سنبھالتا ہے۔ بے شک وہی ہر چیز کی نگرانی رکھنے والا ہے۔
    ہر چیز خدا ہی کے تھامے تھمی ہوئی ہے: یعنی اس دنیا میں کوئی چیز بھی، خواہ اوپر ہو یا نیچے، نہ خود کار ہے نہ اپنے بل بوتے پر ٹکی ہوئی ہے بلکہ اللہ ہی اس کو حرکت دیتا ہے اور وہی اس کو تھامتا ہے۔ زمین ہمارے قدموں کے نیچے ٹکی ہوئی ہے تو اس وجہ سے ٹکی ہوئی ہے کہ خدا نے اس کو ٹکا رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو نہ تھامے رکھے تو، جیسا کہ اوپر اشارہ ہے، وہ سب کے سمیت کہیں سے کہیں جا نکلے۔ اسی طرح آسمان اگر ہمارے سروں پر تھما ہوا ہے تو خود نہیں تھما ہوا ہے بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ نے تھام رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو چھوڑ دے تو کیا عجب وہ ہمارے اوپر ہی گر پڑے۔ اسی حقیقت کو یہاں مثال سے سمجھایا ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے سروں پر پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ پروں کو پھیلائے ہوئے بھی اڑتے ہیں اور پروں کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ ان دونوں ہی حالتوں میں خدائے رحمان ہی ہے جو ان کو فضا میں تھامے رہتا ہے۔ وہ نہ تھامے تو وہ فوراً گر پڑیں۔ مطلب یہ ہے کہ انہی پر قیاس کرو اس فضائے لامتناہی کے کواکب و نجوم اور اس کے ثوابت اور سیاروں کو۔ وہ اگر ٹکے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے کہ خدا نے ان کو سنبھال رکھا ہے ورنہ ان میں سے کوئی ایک بھی گر کر پورے کرۂ زمین کو تہ و بالا کر دے۔ ’اِنَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ بَصِیْرٌ‘۔ یعنی یہ خدائے رحمان ہی کی رحمت ہے کہ وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور اس کو سنبھالے ہوئے ہے ورنہ کسی چیز کا کوئی ایک پیچ بھی ذرا سا ڈھیلا ہو جائے تو یہ سارا عالم چشم زدن میں تباہ ہو جائے۔
    بتاؤ، تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کر سکے گا! یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں!
    کوئی فوج خدائی حملہ کا دفاع نہیں کر سکتی: یعنی اگر تم عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو کہ تمہیں دکھا دیا جائے تو تمہارے پاس کون سا لشکر ہے جو خدائے رحمان کے مقابل میں تمہاری مدد کرے گا؟ ’اِنِ الْکَافِرُوْنَ إِلَّا فِیْ غُرُورٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی بدبختی پر اظہار افسوس ہے کہ ان کے طنطنہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا ہی ناقابل تسخیر دفاعی حصار ان لوگوں نے تعمیر کر رکھا ہے جس کو کوئی طاقت بھی توڑ نہیں سکتی لیکن یہ لوگ سخت دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عذاب الٰہی کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی آ گیا تو ان کے سارے قلعے اور حصار خس و خاشاک کی طرح اڑ جائیں گے۔
    بتاؤ، وہ کون ہے جو تمہیں روزی دے گا اگر وہ اپنی روزی روک لے! بلکہ یہ لوگ سرکشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں!
    قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’رِزُق‘ یہاں بارش کی تعبیر ہے جو رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ تعبیر قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوئی ہے۔ فرمایا کہ فرض کرو اللہ تعالیٰ اس بارش ہی کو روک لیتا ہے جو تمہارے لیے رزق رسانی کا ذریعہ ہے تو کیا تمہارے پاس ہے کوئی ایسا زور آور جو اس بند دروازے کو ازسر نو کھول دے؟ ’بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَنُفُوْرٍ‘۔ یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی پر اظہار افسوس ہے کہ اگرچہ ان میں سے کسی سوال کا جواب بھی یہ اثبات میں دینے کی جرأت نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود یہ اپنی سرکشی اور حق بیزاری پر بضد ہیں ۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ سوچنے سمجھنے والے ہوں تو ان کو بات سمجھائی جا سکتی ہے لیکن ضد اور ہٹ دھرمی کا کیا علاج!
    کیا وہ جو اوندھے منہ چل رہا ہے راہ یاب ہونے والا بنے گا یا وہ جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے؟
    گمراہی کی اصل علت: اب یہ وضاحت فرمائی ہے اس بات کی کہ کیوں ان لوگوں پر ہدایت کی راہ نہیں کھل رہی ہے اور سمجھانے کے باوجود یہ گمراہی میں بھٹک رہے ہیں؟ فرمایا کہ یہ لوگ کتے کے مانند اپنی خواہشوں کے غلام ہیں جس طرح کتا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شائد کوئی چیز کھانے کی مل جائے اسی طرح ان لوگوں کی رہنما بھی عقل کی جگہ ان کی خواہش ہے اور یہ سرجھکائے، آنکھ بند کیے، اپنی خواہش کے پیچھے چل رہے ہیں۔ خواہش کے پیچھے چلنے والا کبھی ہدایت کی راہ نہیں پا سکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر، سر اٹھا کر، دہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے انسان کو مستوی القامت پیدا کیا، جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا نہیں پیدا کیا، لیکن بہت سے انسان جانوروں ہی کی روش کی تقلید کرتے ہیں اور اس طرح وہ اس اعلیٰ خصوصیت کو کھو بیٹھتے ہیں جو انسان کا اصلی شرف اور تمغۂ امتیاز ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خواہشوں کے پیچھے چلنے والوں کی مثال قرآن میں جگہ جگہ جانوروں بالخصوص کتوں سے دی گئی ہے۔
    کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ پر تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو!
    یہ ان لوگوں کی محرومی اور ناقدرشناسی پر اظہار افسوس ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے تو تمہیں نہایت بلند مقصد کے لیے سمع و بصر اور دل و دماغ کی نہایت اعلیٰ صلاحیتوں سے آراستہ کر کے پیدا کیا لیکن تم نہایت ناقدرے اور ناشکرے نکلے کہ ان صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے بجائے تم نے کتوں اور چوپایوں کی تقلید کی اور عقل و دل کی جگہ اپنی خواہشوں کو اپنا امام بنایا۔
    کہہ دو کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ہے اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے۔
    اصل حقیقت کی یاددہانی نئے اسلوب میں: اب یہ اس اصل حقیقت کی پھر یاددہانی کر دی کہ اگر تم عقل سے کام لو تو یہ واضح حقیقت نہایت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جس خدا نے تم کو زمین میں بویا اور تمہاری پرورش کر رہا ہے وہ تم کو یونہی چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ کر اپنے کھلیان میں جمع کرے گا۔ پھر اس کے دانے کو بھس سے الگ کرے گا اور اس کو کھتے میں جمع کر کے بھس کو جلا دے گا۔ ایک کسان جب اپنے کھیت میں کوئی فصل بوتا ہے، اس کو کھاد اور پانی دیتا ہے، چرند و پرند سے اس کی حفاظت کرتا ہے تو ہر شخص بن بتائے یہ جانتا ہے کہ ایک دن وہ اس کو کاٹے گا، اور اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا۔ آخر یہی واضح حقیقت خدا کے متعلق تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟ کیا تم کو خدا نے بالکل عبث پیدا کیا ہے اور تمہاری ربوبیت کا یہ سارا سامان بالکل بے مقصد ہے؟ یہ امر واضح رہے کہ قرآن نے یہاں جو حقیقت نہایت سادہ لفظوں میں بیان کر دی ہے قدیم صحیفوں، خصوصاً انجیل میں، مختلف اسلوبوں سے، بیان ہوئی ہے۔ یہ آیت سورۂ مومنون میں بھی گزر چکی ہے اور ہم وہاں بھی اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو آیت ۷۹ پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
    اور وہ کہتے ہیں کہ یہ دھمکی کب پوری ہو گی، اگر تم لوگ سچے ہو!
    منکرین کا ایک سفیہانہ معارضہ: یعنی یہ سب کچھ سننے کے بعد اگر وہ کہتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ اچھا یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ ان کے پاس قیامت کو جھٹلانے کی واحد دلیل یہی ہے کہ اس کا آنا ضروری ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی اور اس سے ڈرانے والے ٹھیک ٹھیک اس کا وقت کیوں نہیں بتاتے؟ ان کے خیال میں چونکہ وہ اس کا وقت نہیں بتاتے یا بتا سکتے اس وجہ سے جھوٹے ہیں۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو یہ جواب دے دو کہ میں تو بس صرف ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اس کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب آئے گی پر وہ آئے گی ضرور۔ یہ معارضہ چونکہ ایک بالکل ہی لغو معارضہ ہے اس وجہ سے یہاں اس کے جواب کی زیادہ تفصیل نہیں کی ہے لیکن دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل بھی فرمائی ہے کہ کسی حقیقت کو مجرد اس بنیاد پر جھٹلانا کہ اس کے ظہور کا صحیح وقت نہیں بتایا جا سکتا، کھلی ہوئی سفاہت ہے۔ اس دنیا کے کتنے واقعات کا تجربہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں جن کے ظہور کا صحیح وقت اگرچہ کوئی نہیں بتا سکتا لیکن ان کے وقوع کو سب مانتے ہیں۔
    کہہ دو، یہ علم اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔
    منکرین کا ایک سفیہانہ معارضہ: یعنی یہ سب کچھ سننے کے بعد اگر وہ کہتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ اچھا یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ ان کے پاس قیامت کو جھٹلانے کی واحد دلیل یہی ہے کہ اس کا آنا ضروری ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی اور اس سے ڈرانے والے ٹھیک ٹھیک اس کا وقت کیوں نہیں بتاتے؟ ان کے خیال میں چونکہ وہ اس کا وقت نہیں بتاتے یا بتا سکتے اس وجہ سے جھوٹے ہیں۔ فرمایا کہ ان نادانوں کو یہ جواب دے دو کہ میں تو بس صرف ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ اس کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کب آئے گی پر وہ آئے گی ضرور۔ یہ معارضہ چونکہ ایک بالکل ہی لغو معارضہ ہے اس وجہ سے یہاں اس کے جواب کی زیادہ تفصیل نہیں کی ہے لیکن دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل بھی فرمائی ہے کہ کسی حقیقت کو مجرد اس بنیاد پر جھٹلانا کہ اس کے ظہور کا صحیح وقت نہیں بتایا جا سکتا، کھلی ہوئی سفاہت ہے۔ اس دنیا کے کتنے واقعات کا تجربہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں جن کے ظہور کا صحیح وقت اگرچہ کوئی نہیں بتا سکتا لیکن ان کے وقوع کو سب مانتے ہیں۔
    پس جب وہ اس کو دیکھیں گے قریب آتے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے کفر کیا۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم مطالبہ کر رہے تھے۔
    منکرین کے غرور کی بے ثباتی: یعنی ابھی تو بڑے طنطنہ اور غرور سے یہ عذاب کو دکھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن یہ ساری شیخی اسی وقت تک ہے جب تک وہ سامنے نہیں آ جاتا۔ جب اس کو قریب آتا دیکھیں گے تو ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور سب کی سٹی بھول جائے گی۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ تو وہی چیز ہے جس کا مطالبہ کر رہے تھے تو اب اس کو دیکھتے ہی بدحواسی کیوں طاری ہو رہی ہے! یہ تو تمہاری مانگی ہوئی مراد ہے تو اب اس کا مزہ چکھو!
    ان سے پوچھو، بتاؤ اگر اللہ مجھ کو اور ان لوگوں کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے تو کافروں کو ایک دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا!
    طفل تسلیوں کے بجائے حقیقت کو مواجہہ کرنے کی دعوت: جب کفار کو عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ اپنے عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے یہ بھی کہتے کہ اس شخص کی دھونس میں نہ آؤ۔ یہ عذاب وغیرہ کی دھمکی محض اس کی خطابت اور شاعری ہے۔ بہت جلد دیکھو گے کہ یہ بھی ختم ہو جائے گا اور اس کی یہ ساری باتیں بھی ہوا میں اڑ جائیں گی۔ یہ ہمیں عذاب سے ڈراتا ہے حالانکہ ہم اس کے اور اس کے ساتھیوں ہی کے لیے گردش روزگار کے منتظر ہیں۔ قرآن میں یہ مضمون جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ ہم سورۂ طور سے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے: أَمْ یَقُولُوۡنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوۡنِ ۵ قُلْ تَرَبَّصُوۡا فَإِنِّیْ مَعَکُمۡ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ (الطور ۵۲: ۳۰-۳۱) ’’کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے اور ہم اس کے لیے گردش روزگار کا انتظار کر رہے ہیں۔ کہہ دو، تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے گمان کے مطابق ہمارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہو اور ہم تمہارے لیے اس عذاب کے منتظر ہیں جس سے ڈرانے کے لیے خدا نے ہمیں ہدایت فرمائی ہے۔ ہم تمہارے گمان کے باب میں تم سے جھگڑنا نہیں چاہتے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ ہمیں ہلاک کرے گا یا ہم پر رحم فرمائے گا۔ ہم نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اس وجہ سے امید یہی ہے کہ وہ ہم پر رحم فرمائے گا لیکن فرض کیا کہ تمہارا ہی گمان سچا ثابت ہوتا ہے اور ہم گردش روزگار کے شکار ہو جاتے ہیں تو اس میں تمہارے لیے تسلی کا کیا پہلو ہے؟ آخر تم کو خدا کے قہر و غضب سے بچانے والا کون بنے گا؟ قیامت بہرحال شدنی ہے۔ اس کے شدنی ہونے کے دلائل اٹل ہیں۔ جزا اور سزا یقینی ہے جس کے انکار یا جس سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کافر اور مومن، نیکوکار اور بدکار دونوں یکساں نہیں ہو سکتے، یہ ایک مسلم حقیقت ہے تو تھوڑی دیر کے لیے مان لو کہ ہم فنا ہو گئے تو اس سے تمہارا کیا بھلا ہو گا، تمہیں تو پھر بھی ان حقائق کا مواجہہ کرنا پڑے گا جن سے ہم تمہیں آگاہ کر رہے ہیں! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی طفل تسلیوں سے اپنی شامت کو دعوت نہ دو بلکہ ع ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا  
    کہہ دو، وہ رحمان ہے۔ ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے تو تم عنقریب جان لو گے کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے!
    یعنی ان لوگوں کو بتا دو کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اس پر بھروسہ کیا ہے اس کی وجہ سے ہمیں امید یہی ہے کہ ہمارے حال پر وہ رحم فرمائے گا۔ اس معاملے میں اگر تم جھگڑتے ہو تو انتظار کرو جلد تم جان لو گے کہ کھلی ہوئی گمراہی میں کون ہے؟ ہم کہ تم؟
    ان سے پوچھو کہ بتاؤ اگر تمہارا یہ پانی نیچے اتر جائے تو تمہارے لیے صاف و شفاف پانی کون لائے گا؟
    ’مَآءٌ مَّعِیْنٌ‘ صاف شفاف، خالص اور بے آمیز پانی۔ ایک قریب الفہم استدلال: پانی کے نیچے اتر جانے کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ پانی کی سطح ہی اتنی نیچی ہو جائے کہ زمین سے پانی حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے ہم معنی بن جائے۔ کتنے علاقے ہیں جہاں پانی کی سطح اتنی نیچی ہے کہ وہاں کنوئیں تو درکنار ٹیوب ویل سے بھی پانی حاصل کرنا ایک کار عظیم ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بارش نہ ہونے یا کم ہونے کے سبب سے نہروں، چشموں اور ندیوں کا پانی کم ہو کر گدلا ہو جائے۔ یہاں یہ دونوں مفہوم لینے کی گنجائش ہے۔ ’مَآءٌ مَّعِیْنٌ‘ کے لفظ کی وجہ سے میرا ذہن اس دوسرے مفہوم کی طرف جاتا ہے۔ عذاب الٰہی کا مذاق اڑانے والے متمردین کو اوپر متعدد قریب الوقوع چیزوں سے ڈرایا گیا ہے کہ اس کو بعید از امکان نہ خیال کرو۔ خدا جہاں سے چاہے تمہیں پکڑ سکتا ہے۔ اسی سلسلہ کی یہ آخری بات فرمائی کہ دور کیوں جاتے ہو اپنے اس پانی ہی کو دیکھو کہ اگر اس کی سطح نیچی ہو جانے کے سبب سے یہ گدلا ہو جائے تو تمہیں صاف شفاف، تازہ و شیریں پانی کون فراہم کر سکتا ہے؟ تو جس خدا کے قبضہ میں تمہاری زندگی کی رگ رگ ہے اس سے نچنت اور بے خوف ہونے کے کیا معنی!


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List