Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • التحریم (The Prohibition)

    12 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ کی تفسیر میں ہم یہ اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ دونوں سورتیں ۔۔۔ الطلاق اور التحریم ۔۔۔ علی الترتیب یہ تعلیم دے رہی ہیں کہ نفرت اور محبت دونوں طرح کے حالات کے اندر اللہ تعالیٰ کے حدود کی پابندی واجب ہے۔ چنانچہ سابق سورہ میں بتایا کہ نفرت کے اندر کس طرح حدود الٰہی کا احترام قائم رکھا جائے۔ اب اس سورہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ محبت کے اندر کس طرح اللہ کے حدود کی حفاظت کی جائے۔ نفرت کی طرح محبت کا جذبہ بھی انسان پر غالب ہو جائے تو اس کو بالکل یک رخا بنا کے رکھ دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کے ساتھ، حدود الٰہی کے معاملے میں، نہایت بے حس اور مداہنت کرنے والا بن جاتا ہے جن سے اس کو محبت ہوتی ہے۔ بیوی بچوں کو وہ علانیہ دیکھتا ہے کہ ان کا رویہ شریعت سے ہٹا ہوا ہے لیکن یا تو اس کو ان کے انحراف کا احساس ہی نہیں ہوتا یا ہوتا ہے تو وہ یہ فرض کر کے نظر انداز کر جاتا ہے کہ آہستہ آہستہ خود بخود ان کی اصلاح ہو جائے گی۔ حد یہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنے متعلقین کی کھلی ہوئی زیادتیوں پر بھی، ان کو ٹوکنے یا روکنے کے بجائے یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے کوئی عذر تلاش کریں۔ یہ کمزوری صرف عام لوگوں ہی کے اندر نہیں بلکہ ان لوگوں کے اندر بھی پائی جاتی ہے جو دوسروں کی اصلاح کے لیے خدائی فوج دار بنے پھرتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں پر یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ کسی کے ساتھ محبت کا صحیح تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو اپنی مداہنت سے خدا کے غضب کے حوالہ کیا جائے بلکہ اس کا صحیح تقاضا یہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس کو خدا کی پکڑ سے بچایا جائے اگرچہ اس مقصد کی خاطر کچھ ناگواریاں بھی گوارا کرنی پڑیں۔ وہ شخص جو اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کی خلاف شریعت باتوں سے چشم پوشی کرتا ہے وہ درحقیقت ان سے محبت نہیں کرتا ہے بلکہ ان کو نہایت بے دردی کے ساتھ خدا کے غضب کے حوالے کر رہا ہے لیکن اس کو اپنے اس فعل کے نتائج کا شعور نہیں ہے۔

  • التحریم (The Prohibition)

    12 آیات | مدنی
    الطلاق - التحریم

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں بیویوں سے مفارقت اور دوسری میں اُن سے محبت کے موقعوں پر جو حدود وقیود ایک بندۂ مومن کو ملحوظ رکھنے چاہییں، اُن کی وضاحت فرمائی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الطلاق—- کا موضوع مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ اگر بیوی سے مفارقت کی نوبت آجائے تو اُس کے معاملے میں کس طرح اور کس درجے میں حدود الٰہی کی پابندی کا اہتمام ہونا چاہیے۔

    دوسری سورہ—- التحریم—- کا موضوع اُنھیں یہ بتانا ہے کہ التفات و محبت کے موقعوں پر اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو کس طرح حدودالٰہی کا پابند رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نیزہر شخص کوکس درجہ متنبہ رہنا چاہیے کہ اللہ کے ہاں کام آنے والی چیز آدمی کا اپنا عمل ہے۔ یہ نہ ہو تو کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی نسبت بھی اُسے کچھ نفع پہنچانے والی نہیں بن سکتی۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 066 Verse 001 Chapter 066 Verse 002 Chapter 066 Verse 003 Chapter 066 Verse 004 Chapter 066 Verse 005 Chapter 066 Verse 006 Chapter 066 Verse 007 Chapter 066 Verse 008 Chapter 066 Verse 009 Chapter 066 Verse 010 Chapter 066 Verse 011 Chapter 066 Verse 012
    Click translation to show/hide Commentary
    اے نبی، تم اپنی بیویوں کی دل داری میں وہ چیز کیوں حرام ٹھہراتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے جائز کی ہے! اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
    پیغمبر صلعم کے ایک فعل پر احتساب: اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جن کے ساتھ محبت و مروت کے تعلقات ہوں خدا کے حدود و حقوق کے معاملات میں ان کے ساتھ بھی کوئی مداہنت و رعایت جائز نہیں ہے بلکہ اس محبت ہی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا احتساب زیادہ احتیاط کے ساتھ ہوتا رہے تاکہ خدا کے چھاج میں پھٹکے جانے سے پہلے ہی ممکن ہو تو ان کی اصلاح ہو جائے اور اگر اصلاح نہ ہو تو بدرجۂ ادنیٰ آدمی اپنے حق نصیحت سے عند اللہ بری الذمہ ہو جائے۔ اس حقیقت کو مبرہن کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں سب سے پہلے اپنے پیغمبرؐ ہی پر گرفت فرمائی کہ آپ نے اپنی ازواج مطہراتؓ کی دل داری کے خیال سے اپنے اوپر ایک ایسی چیز حرام کیوں کر لی جو اللہ نے آپ کے لیے جائز کی؟ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیغمبرؐ اور ان کی ازواجؓ سے زیادہ کون محبوب ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود آپ کی ایک معمولی سی فروگذاشت پر، جو خود قرآن کے بیان کے مطابق، ایک نہایت نیک محرک سے صادر ہوئی، آپ کو تنبیہ فرمائی گئی تاکہ ہر شخص کے سامنے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جائے کہ خدا کے حدود و قیود کی پابندی سے جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہراتؓ بھی بالا نہیں ہیں توتابہ دیگراں چہ رسد! واقعہ کی نوعیت: رہا یہ سوال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کی دل داری کے خیال سے اپنے اوپر کیا چیز حرام کر لی تھی تو اس کے جواب میں راویوں سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ ازواج مطہراتؓ میں سے کسی کے پاس شہد نوش فرمایا جس کی بو پر آپ کی بعض ازواج نے ناگواری کا اظہار فرمایا۔ شہد کی بعض قسمیں ناگوار بو کی ہوتی بھی ہیں اور نہ بھی ہوں تو جو لوگ زیادہ ذکی الحس ہوتے ہیں وہ ہر بو کو پسند نہیں کرتے۔ خاص طور پر خواتین اس معاملے میں زیادہ شدید الاحساس ہوتی ہیں۔ وہ بسا اوقات اچھی بھلی اور اچھے خاصے ذائقہ کی چیزوں کو بھی پسند نہیں کرتیں۔ لوگوں کے مزاج مختلف ہوتے ہیں۔ امہات المومنینؓ میں سے بھی بعض کو وہ شہد پسند نہیں تھا جس میں مغافیر؂۱ کی بو ہو۔ چنانچہ انھوں نے اپنی اس ناگواری کا اظہار حضورؐ کے سامنے فرمایا۔ حضورؐ چونکہ خود نہایت لطیف المذاق اور دوسروں، بالخصوص جنس ضعیف، کے جذبات و احساسات کا بڑا پاس و لحاظ رکھنے والے تھے، اس وجہ سے آپؐ نے عہد کر لیا کہ اب کبھی شہد نوش نہیں فرمائیں گے۔ عام حالات میں تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی بلکہ ایک نیک محرک سے صادر ہونے کے سبب سے نہایت پسندیدہ بات تھی لیکن پیغمبر کا ہر قول و فعل دین میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا ہر عمل پوری امت کے لیے مثال و نمونہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ذاتی ذوق و رجحان اور اپنے محبوب سے محبوب لوگوں کی خاطر سے بھی کوئی ایسی بات کہے یا کرے جو بال برابر بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے حدود سے متجاوز ہو، ورنہ پوری امت کے لیے ایک غلط مثال قائم ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ یہود کے متعلق معلوم ہے کہ انھوں نے اپنے اوپر اونٹ کو صرف اس بنا پر حرام کر لیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کسی سبب سے اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ اسی طرح اگر مسلمانوں کے علم میں یہ بات آتی کہ حضورؐ نے شہد نہ کھانے کا عہد کر لیا تو کوئی متقی مسلمان مشکل ہی سے شہد کو ہاتھ لگاتا۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر گرفت فرمائی اور فوراً اس کی اصلاح کے لیے ہدایت فرمائی۔ حضور کے فعل کا محرک: ’تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ أَزْوَاجِکَ‘ سے اس محرک کی طرف اشارہ ہے جو آپ کے اس اقدام کا باعث ہوا۔ اس محرک کا پتا دینا اس لیے ضروری ہوا کہ اس سورہ کا مقصد ہی، جیسا کہ ہم نے تمہید میں بیان کیا، یہ تعلیم دینا ہے کہ جن کے ساتھ محبت کے تعلقات ہوں ان کے احتساب میں بھی آدمی کو مداہن نہیں ہونا چاہیے۔ نفرت کی طرح محبت بھی حدود الٰہی کے احترام سے آدمی کو غافل کر دیتی ہیں۔ اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرؐ اور آپ کی ازواج پر گرفت فرمائی، جن سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں کوئی دوسرا محبوب نہیں ہو سکتا، تاکہ مسلمانوں کو اس سے یہ سبق حاصل ہو کہ دین کے معاملے میں کسی محبوب سے محبوب کے ساتھ بھی کوئی رعایت جائز نہیں ہے۔ غلطی پر گرفت کے ساتھ ہی معافی کا اعلان: ’وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ حضورؐ کے اس فعل کا محرک چونکہ نہایت نیک تھا، آپ نے محض جذبۂ رافت و محبت کے تحت، خاص اپنی ذات کے لیے ایک فیصلہ فرمایا تھا، امت کے لیے کسی چیز کو حرام کرنا مقصود نہیں تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے گرفت کے ساتھ ہی اس فروگزاشت کی معافی کا اعلان بھی فرما دیا۔ یہاں اسی امر پر نگاہ رہے کہ معافی کے اعلان میں نہایت مبادرت پائی جاتی ہے۔ یعنی اس طرح کے کسی اقدام کا شرعی حکم بیان کرنے سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرما دیا گیا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتی ہے کہ حضورؐ کے سامنے اپنے اس فعل کا وہ پہلو بالکل نہیں تھا جس پر گرفت فرمائی گئی بلکہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، آپ نے محض جذبۂ رافت کے تحت، جنس ضعیف کی دل داری کے لیے، اپنی ذات پر ایک پابندی عائد فرما لی تھی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر گرفت تو فرمائی تاکہ اس سے وہ مضرتیں نہ پیدا ہوں جن کے پیدا ہونے کا امکان تھا لیکن ساتھ ہی اس کی معافی کا اعلان بھی فرما دیا تاکہ یہ گرفت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر گراں نہ گزرے۔ حضرات انبیاء علیہم السلام سے صادر ہونے والی لغزشوں کی نوعیت: یہاں وہ بات یاد رکھیے جو اس کتاب میں ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ حضرات ابنیاء علیہم السلام سے کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ نفس کی پاس داری میں نہیں ہوتی بلکہ کسی خیر کی پاس داری میں وہ حد مطلوب سے متجاوز ہو جاتے ہیں۔ بیویوں کی دل داری کوئی بری بات نہیں ہے بلکہ یہ شرافت، مروت، فتوت کا تقاضا اور فطرت و شریعت کا مطالبہ ہے جس کی قرآن نے تاکید فرمائی ہے بشرطیکہ یہ شریعت کے حدود کے اندر رہے۔ اگر یہ اس سے متجاوز ہونے لگے تو یہ فتنہ بن جاتی ہے جس سے بچنا اور بچانا ضروری ہے لیکن جب کسی فروگزاشت کا محرک نیک ہو تو اس پر گرفت اس طرح ہونی چاہیے کہ عفو و درگزر اس کے ہم رکاب رہے۔ _____ ؂۱ یہ ایک خاص بوٹی کا نام ہے جس سے شہد کی مکھیاں شہد لیتی ہیں لیکن بعض لوگوں کو اس کی بو ناگوار ہوتی ہے۔
    اور اللہ نے تمہاری خلاف شرع قسموں کا توڑ دینا تم پر فرض کر دیا ہے اور اللہ ہی تمہارا مولیٰ و مرجع ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔
    ناجائز قَسم کے بارے میں شریعت کا حکم: یہ حکم بیان فرمایا ہے اس صورت کے لیے جب کوئی شخص اپنے اوپر کسی جائز چیز کو حرام کر لینے کی قسم کھا بیٹھے۔ اوپر کی آیت میں خطاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا اس آیت میں عام مسلمانوں سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لغزش پر ٹوکنے سے اصل مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہی تھا کہ اس کے سبب سے امت کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔ چنانچہ اس آیت میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر کسی جائز چیز کو حرام کر لینے کی قَسم کھا بیٹھے تو اللہ نے اس کے لیے یہ ضروری ٹھہرایا کہ وہ اس قسم کو توڑ ڈالے اور حرام کردہ چیز کو جائز کرے۔ ’وَاللہُ مَوْلَاکُمْ‘ یہ وجہ بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کیوں ضروری ٹھہرائی ہے؟ فرمایا کہ اللہ ہی تمہارا آقا و مولیٰ ہے اس وجہ سے اسی کو حق حاصل ہے کہ وہ تمہیں بتائے کہ تمہارے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ نہ کسی کو خود یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے جی سے کسی چیز کو حرام یا حلال ٹھہرائے اور نہ یہ جائز ہے کہ کسی دوسرے کے لیے وہ تحریم و تحلیل کا حق تسلیم کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے حق میں مداخلت کرے گا جو شرک ہے۔ ’وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ اسی حقیقت کی مزید وضاحت ہے کہ حقیقی علیم و حکیم اللہ تعالیٰ ہی ہے اس وجہ سے اس نے بندوں کو جو حکم دیا ہے یا جس چیز سے روکا ہے وہ تمام تر علم و حکمت پر مبنی ہے۔ کسی دوسرے کو خدا سے زیادہ علیم و حکیم ہونے کے خبط میں نہیں مبتلا ہونا چاہیے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قسم توڑ دینے کا حکم تو دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ کسی کفارہ کا ذکر نہیں ہے تو کیا اس صورت میں کوئی کفارہ عائد نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قسم توڑنے پر کفارہ کا حکم المائدہ کی آیت ۸۹ میں بیان ہو چکا ہے اس وجہ سے اس کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں تھی البتہ یہاں ’تَحِلَّۃَ أَیْمَانِکُمْ‘ کے الفاظ سے یہ بات واضح طور پر نکلتی ہے کہ اگر کسی نے قسم کھا کر کوئی چیز حرام ٹھہرائی ہو تب تو کفارہ ضروری ہو گا۔ لیکن قسم نہ کھائی ہو تو کفارہ ضروری نہیں ہے۔
    اور جب کہ نبی نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو جب انھوں نے اس کی خبر کر دی اور اللہ نے اس سے پیغمبر کو آگاہ کر دیا تو پیغمبر نے کچھ بات جتا دی کچھ ٹال دی تو جب پیغمبر نے بیوی کو اس کی خبر کی تو وہ بولیں کہ آپ کو کس نے اس کی خبر دی؟ پیغمبر نے کہا، مجھے خدائے علم و خبیر نے خبر دی۔
    ازواج نبیؐ کے احتساب کی ایک مثال: اوپر کی آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احتساب تھا۔ اس آیت میں ازواج نبی میں سے ایک بیوی کی فروگزاشت پر گرفت فرمائی کہ انھوں نے حضورؐ کی کوئی بات، جو آپ نے بطور راز ان سے فرمائی، کسی دوسری بیوی پر ظاہر کر دی۔ پھر جب حضورؐ نے ان کی اس غلطی پر ٹوکا تو اس پر نادم ہونے کے بجائے انھوں نے اس ٹوکنے کو اپنی خودداری کے خلاف محسوس کیا اور جن بیوی پر راز ظاہر کیا گیا تھا انھوں نے بھی اس کو ناگوار جانا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں بیویوں کو تنبیہ فرمائی تاکہ ہر شخص پر یہ واضح ہو جائے کہ دین کے معاملے میں ازواج نبی (رضی اللہ عنہم) بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہیں۔ واقعہ کی نوعیت: ’وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِیُّ إِلٰی بَعْضِ أَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا‘۔ مفسرین نے عام طور پر اس واقعہ کو اوپر والے واقعہ ہی سے جوڑ کر ایک ناگوار داستان کی شکل دے دی ہے لیکن عربیت کے لحاظ سے یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ واقعہ اوپر کے واقعہ ہی کا ایک حصہ ہو بلکہ اقرب یہ ہے کہ یہ ایک دوسری بات کا حوالہ ہو جس کا صدور ازواج نبی (رضی اللہ عنہم) میں سے کسی سے ہوا جس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی۔ زبان کا یہ نکتہ یاد رکھیے کہ ’وَإِذْ‘ سے بالعموم کسی دوسرے مستقل واقعہ ہی کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہاں قرآن نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے کہ حضورؐ نے کیا راز کی بات کہی اور کس بیوی سے کہی بلکہ اس کو پردے ہی میں رکھا ہے اس وجہ سے ہم اس راز کے درپے ہونا جائز نہیں سمجھتے۔ حضورؐ کی ازواجؓ ہمارے لیے ماؤں کی منزلت میں ہیں۔ بیٹوں کے لیے یہ بات کسی طرح پسندیدہ نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنی ماؤں اور باپوں کے درمیان کے رازوں کے کھوج میں لگیں۔ بالخصوص جب کہ اس راز کے انکشاف سے اس آیت کے فہم میں کوئی مدد بھی نہ مل رہی ہو۔ یہاں راز کے افشا ہی پر تنبیہ فرمائی گئی ہے تو اگر ہم اس کے درپے ہوں گے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جس چیز سے روکا گیا ہے ہم نے اس کا ارتکاب کیا البتہ اتنی بات اس آیت سے صاف واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کو اپنا محرم راز بناتے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو ان کی رازداری اور ان کی فہم و بصیرت پر پورا اعتماد تھا۔ میاں بیوی کے تعلقات کا سارا حسن و جمال اسی اعتماد میں ہے۔ اگر باہم یہ اعتماد نہ ہو کہ ایک دوسرے کو محرم راز بنا سکیں تو یہ اعلیٰ انسانی اقدار سے بالکل خالی زندگی ہو گی۔ ازواج مطہرات کے باہمی تعلقات کی خوش گواری کی دلیل: ’فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِہٖ وَأَظْہَرَہُ اللہُ عَلَیْْہِ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَأَعْرَضَ عَنۡ بَعْضٍ‘۔ یہاں اتنی بات بربنائے قرینہ محذوف ہے کہ حضورؐ نے جن بیوی کو محرم راز بنایا انھوں نے یہ راز کسی دوسری بیوی پر ظاہر کر دیا۔ اگرچہ آیت میں جس طرح اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ کن بیوی سے یہ غلطی صادر ہوئی اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ یہ افشائے راز کن بیوی پر ہوا لیکن اتنی بات واضح ہے کہ معاملہ ازواج مطہراتؓ کے درمیان ہی کا ہے، کسی غیر کے سامنے کوئی افشائے راز نہیں ہوا۔ مفسرین نے عام طور پر حضرت عائشہؓ صدیقہ اور حضرت حفصہؓ کے نام لیے ہیں۔ اگر اس قول پر اعتماد کیجیے تو اس سے یہ بات نہایت واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ ان سیدات کے باہمی تعلقات ایسے خوش گوار تھے کہ آپس میں اہم رازوں کے معاملے میں بھی کوئی پردہ نہ تھا۔ اس سے ان روایات کی تردید ہوتی ہے جن میں غیر محتاط راویوں نے ان کی باہمی چشمک و رقابت کے واقعات بیان کیے ہیں۔ حدود الٰہی کے معاملہ میں کوئی بھی احتساب سے بالا نہیں ہے: اس افشائے راز سے اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو باخبر کر دیا جس کے بعد حضورؐ نے ان بیوی کو اس کی طرف توجہ دلائی جن سے یہ غلطی صادر ہوئی۔ یہ توجہ دلانا اس لیے ضروری تھا کہ میاں بیوی کے تعلقات میں رازداری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ بیویوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے رازوں کی حفاظت کرنے والی بنیں۔ قرآن میں ان کی خاص صفت ’حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ‘ (رازوں کی حفاظت کرنے والیاں) بیان ہوئی ہے۔ بیوی، شوہر کے رازوں کی قدرتی امین ہوتی ہے۔ اگر وہ اس میں خیانت کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے گھر میں اسی نے نقب لگائی جس کو اس نے گھر کا پاسبان بنایا۔ امانت کی یہ صفت یوں تو ہر بیوی میں ہونی ضروری ہے لیکن ذمہ داریاں علیٰ فرق مراتب ہوتی ہیں۔ ازواج نبی (رضی اللہ عنہم) پر یہ ذمہ داری دوسروں کی نسبت بدرجہا زیادہ تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ایماء پر حضورؐ نے ان کو متنبہ فرمایا تاکہ یہ حقیقت کھل کر ہر شخص کے سامنے آ جائے کہ حدود الٰہی کے معاملے میں کوئی بھی احتساب سے بالا نہیں ہے۔ ایک نہایت لطیف حقیقت: ’عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَأَعْرَضَ عَنۡ بَعْضٍ‘ کے الفاظ ایک نہایت ہی لطیف حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہ حضورؐ نے بیوی صاحبہ کا احتساب تو فرمایا کہ یہ دین کا تقاضا تھا لیکن اس طرح نہیں کہ ان کے لتے لے ڈالے ہوں بلکہ کچھ بات ظاہر فرمائی اور کچھ نظر انداز فرما دی۔ یہ طریقہ حضورؐ نے اس وجہ سے اختیار فرمایا کہ بیوی صاحبہ کو تنبیہ تو ہو جائے لیکن یہ تنبیہ ان کے دل پر زیادہ شاق نہ گزرے۔ حضورؐ کے اندر اول تو رافت تھی ہی بہت، منافقین و مخالفین کی غلطیوں پر بھی آپ کبھی درشت الفاظ میں نہیں ٹوکتے تھے۔ ثانیاً یہ معاملہ ازواج مطہراتؓ کا تھا جن کی نسبت یہ گمان نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ان کی کوئی غلطی ارادی بدنیتی پر مبنی ہو گی۔ چنانچہ یہ غلطی بھی، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، کسی بدنیتی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ محض اس وجہ سے صادر ہو گئی کہ بی بی صاحبہ نے خیال فرمایا کہ دوسری بیوی صاحبہ بھی جب شوہر کی محبوب و معتمد ہیں تو یہ نج کی بات ان کے سامنے ظاہر کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ یہ ازیاد محبت و اعتماد کا سبب ہو گی۔ یہ خیال نیک نیتی پر مبنی تھا۔ اس میں کسی قسم کے فساد نیت کو دخل نہیں تھا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک اہم پہلو اس میں نظر انداز ہو گیا کہ یہ افشائے راز اس کردار کے منافی ہے جو بیویوں کے لیے اللہ اور رسول نے پسند فرمایا ہے اور جس کا ازواج نبی (رضی اللہ عنہم) کے اندر کمال درجہ پایا جانا اس وجہ سے ضروری تھا کہ وہ تمام امت کی خواتین کے لیے نمونہ ہیں۔ پھر معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا جو صرف ایک شوہر ہی نہیں بلکہ اللہ کے رسول بھی تھے۔ معاملہ کی اس اہمیت کے سبب سے اس پر گرفت ہوئی لیکن اس طرح نہیں کہ کسی کا فضیحتا ہو بلکہ اشاروں کے انداز میں ہوئی اور یہی انداز ان حالات میں بابرکت ہے جب کہ غلطی کا صدور کسی برے ارادے سے نہ ہوا ہو۔ مفسرین کی بے احتیاطی: ہمارے مفسرین نے اس راز سے پردہ اٹھانے کی جو کاوش کی ہے ہم اس سے تعرض نہیں کرنا چاہتے۔ اس کی بنیاد اول تو ایسی روایات پر ہے جن میں نہایت واضح تضاد ہے۔ پھر یہ کاوش اس تعلیم کے بھی خلاف ہے جو اس آیت میں دی گئی ہے۔ جب خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زیادہ کھولنے کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ بات پسند فرمائی تو کسی دوسرے کے لیے یہ کس طرح جائز ہے کہ وہ اس کے بخیے ادھیڑنے بیٹھے بالخصوص جب کہ معاملہ اللہ کے رسول اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کا ہو۔ ’فَلَمَّا نَبَّأَہَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَکَ ہٰذَا قَالَ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ‘۔ جب حضورؐ نے یہ بات اشارۃً بیوی صاحبہ کو بتائی تو وہ فوراً بولیں کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی؟ یعنی اس کی صحت سے تو انھوں نے انکار نہیں کیا لیکن اپنی فروگزاشت کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے انھیں فکر یہ ہوئی کہ یہ بات حضورؐ کو بتائی کس نے؟ ان کا ذہن اسی طرف گیا ہو گا کہ جن بیوی کو انھوں نے رازدار بنایا تھا انہی نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی۔ اس طرف ذہن جانے کے لیے قرینہ موجود تھا کیونکہ ان کے سوا انھوں نے کسی اور پر یہ بات ظاہر نہیں کی تھی۔ ہو سکتا ہے انھیں کچھ غصہ بھی آیا ہو جیسا کہ ان کے انداز سوال ’مَنْ أَنبَأَکَ‘ سے اشارہ ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوا ہو تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ کسی سے اپنے اعتماد کو ٹھیس پہنچے تو اس سے رنج ہونا ایک قدرتی بات ہے۔ لیکن حضورؐ نے ان کی یہ غلط فہمی فوراً رفع فرما دی کہ یہ بات مجھے خدائے علیم و خبیر نے بتائی ہے، کسی دوسرے نے نہیں بتائی ہے۔ حضورؐ کی اس وضاحت سے بیوی صاحبہ کا سوء ظن دور ہو گیا ہو گا جس کا دور ہونا ضروری تھا۔ اس مقصد سے حضورؐ نے یہ وضاحت بلا تاخیر ضروری سمجھی۔
    اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی تمہارے لیے زیبا ہے، تمہارے دل تو خدا کی طرف مائل ہی ہیں اور اگر تم اس کے خلاف ایکا کرو گی تو اس کا حامی اللہ ہے اور جبریل اور تمام نیکو کار مسلمان اور مزید برآں فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں۔
    یہ ان دونوں بیویوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی بات تمہارے شایان شان ہے اس لیے کہ تمہارے دل تو اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ہی۔ اور اگر تم نے رسول کے خلاف ایکا کیا تو یاد رکھو کہ رسول اپنی دل جمعی کے لیے تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ اس کی طمانیت کے لیے اللہ، جبریل اور مومنین صالحین کی معیت و رفاقت کافی ہے، مزید براں فرشتے بھی اس کے ساتھی اور مددگار ہیں۔ ایک سوال اور اس کا جواب: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فروگزاشت تو ایک بیوی صاحبہ سے ہوئی تھی تو یہاں خطاب دو سے کیوں ہوا اور دوسری بیوی صاحبہ سے کون سی غلطی صادر ہوئی تھی جس پر ان کو بھی توبہ کی ہدایت ہوئی، بظاہر تو وہ بالکل بے قصور نظر آتی ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیوی صاحبہ پر ان کے افشائے راز کے سبب سے ناخوشی کا اظہار فرمایا تو دوسری بیوی صاحبہ کو یہ گمان گزرا ہو گا کہ شاید اس ناخوشی کا سبب یہ ہے کہ یہ افشائے راز ان کے سامنے کیوں ہوا؟ انھوں نے خیال فرمایا ہو گا کہ بات میرے ہی سامنے ظاہر کی گئی تھی، کسی غیر کے سامنے نہیں، تو آخر اس پر عتاب کی کیا وجہ ہوئی، اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ مجھے غیر خیال کیا گیا، اگرچہ ان کا یہ احساس بالکل غلط فہمی پر مبنی تھا لیکن جہاں محبت و اعتماد کے معاملے میں تنافس ہو وہاں اس طرح کی غلط فہمی کا پیدا ہو جانا کچھ بعید نہیں۔ بے جا خودداری کے اظہار پر گرفت: بہرحال ان دونوں ہی سیدات نے اس گرفت کو اپنی خود داری کے خلاف محسوس کیا اور یہ چیز اس شکل میں ظاہر ہوئی کہ یہ دونوں ہی بیویاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ روٹھ سی گئیں۔ عام حالات میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ میاں بیوی میں اس طرح کی باتیں آئے دن ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہراتؓ کا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر سختی سے گرفت فرمائی تاکہ ازواج نبی پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے کہ دین کے معاملے میں کسی کو بھی بے جا خودداری کے اظہار کا حق نہیں ہے۔ ان سے فروگزاشت ہوئی ہے تو دوسروں سے زیادہ وہ سزاوار ہیں کہ اپنے رویے کی اصلاح کریں۔ یہی بات ان کے شایان شان اور ان کے ایمان و انابت کا مقتضیٰ ہے۔ اور اگر انھوں نے ضد سے کام لیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف ایکا کیا تو یاد رکھیں کہ اللہ کا رسول اپنی دل جمعی و طمانیت کے لیے ان کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہی اس کی محتاج ہیں۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ ان بیویوں کی طرف سے جس رویے کا مظاہرہ ہوا اس کا محرک کوئی نفرت یا غصہ کا جذبہ نہیں بلکہ، جیسا کہ واضح ہوا، محض اعتماد و محبت یا بالفاظ دیگر تدلل کا جذبہ تھا لیکن قرآن نے اس پر گرفت سخت الفاظ میں کی۔ اس کہ وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم تمہیدی مباحث میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں دراصل تعلیم دی ہی اس بات کی گئی ہے کہ محبت کے جذبات کے اندر بھی اللہ کے حدود اور اس کے احکام و اوامر کی پوری پوری پابندی کی جائے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ازواج نبی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اپنا شوہر ہی نہیں بلکہ ہر حال میں آپؐ کو اللہ کا رسول سمجھیں اور ہر طرح کے حالات کے اندر اس خاص پہلو کو سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ مستحضر رکھیں۔ اس لیے کہ آپ کی یہ حیثیت دوسری تمام حیثیتوں پر بالا ہے۔ ’إِنْ تَتُوۡبَا إِلَی اللہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا‘۔ اس ٹکڑے کی تاویل میں ہمارے مفسرین سے سخت لغزش ہوئی ہے۔ انھوں نے ’صَغَتْ‘ کے معنی کج ہونے کے لیے اور تاویل یہ کی کہ اگر تم دونوں توبہ کرو تو یہی تمہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ تمہارے دل تو کج ہو چکے ہیں۔ اس تاویل میں کئی غلطیاں ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم توجہ دلائیں گے۔ لفظ ’صغو‘ کی تحقیق: ۱۔ اس میں پہلی غلطی تو یہ ہے کہ یہ تاویل عربیت کے بالکل خلاف ہے۔ لفظ ’صغو‘ عربی میں کسی شے سے انحراف کے معنی میں نہیں بلکہ کسی شے کی طرف جھکنے اور مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر سورۂ تحریم میں اس لفظ کی لغوی تحقیق بیان فرمائی ہے۔ اس کا ضروری حصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں: ’’دنیا کی تمام زبانوں میں عموماً اور عربی زبان میں خصوصاً خاص خاص الفاظ ایک کلی معنی کے تحت ہوتے ہوئے بھی خاص خاص معانی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ جو لوگ زبان کی ان خصوصیات سے ناواقف ہوتے ہیں وہ اس کے فہم سے بالکل محروم رہتے ہیں۔‘‘ یہ کلیہ بیان کرنے کے بعد مولانا رحمۃ اللہ علیہ اس کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’مثلاً ’میل‘ جس کے معنی جھکنے اور ہٹنے کے ہیں، ایک کلی مفہوم ہے جس کے تحت عربی میں بہت سے الفاظ ہیں، مثلاً زیغ، جور، ارعواء، حیادۃ، انحراف وغیرہ لیکن یہ سب میل عن الشئی یعنی کسی چیز سے ہٹ جانے یا برگشتہ ہو جانے کے لیے آتے ہیں۔ پھر اسی کلی مفہوم کے تحت فَی، توبۃ، التفات اور صِغو وغیرہ الفاظ بھی ہیں جو سب کے سب میل الی الشئی یعنی کسی چیز کی طرف مائل ہونے اور جھکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں.....‘‘ ’’لفظ کی اس حقیقت کے واضح ہو جانے کے بعد عربی زبان کے ایک عالم سے یہ حقیقت مخفی نہیں رہ سکتی کہ ’صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا‘ کے معنی ’انابت قلوبکما ومالت الی اللہ ورسولہ‘ (یعنی تم دونوں کے دل اللہ اور رسول کی طرف جھک چکے ہیں) کے ہوں گے کیونکہ لفظ ’صغو‘ کسی شے کی طرف جھکنے کے لیے آتا ہے، اس سے مڑنے اور ہٹنے کے لیے نہیں آتا۔‘‘ ’’اس لفظ کی یہ حقیقت اس کے تمام مشتقات میں بھی موجود ہے۔ مثلاً ’صاغیۃ الرجل‘ کسی شخص کے اتباع کو کہتے ہیں۔ ’صغوہ معک‘ کے معنی ہیں اس کا میلان تمہاری طرف ہے۔ ’اصغیت الی فلان‘ کے معنی ہیں اس کی طرف تم نے کان لگایا۔ حدیث شریف میں ہے: ’ینفخ فی الصور فلا یسمعہ احد الا اصغی الیہ‘ (صور پھونکا جائے گا تو ہر شخص اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا) اسی طرح محاورہ ہے ’الصبی اعلم بمصغی خدہ‘ (بچہ اپنی آغوش محبت کو خوب پہچانتا ہے) ’ھرّۃ‘ (بلی) والی حدیث میں ہے: ’کان یصغی لہا الاناء‘ (اس کے لیے برتن جھکا دیتے کہ وہ آسانی سے پانی پی لے)۔ برتن کے جوف کو ’صغو‘ کہتے ہیں کیونکہ چیز اس میں جمع ہو جاتی ہے۔‘‘ ابن بری نے ’اصغاء سمع‘ (کسی کی طرف کان لگانا) کے ثبوت میں کسی شاعر کا مندرجہ ذیل شعر پیش کیا ہے: تری السفیہ بہ عن کل مکرمۃ زیغ وفیہ للتسفیہ اصغاء (بے وقوف عزت و شرف کی باتوں سے منہ موڑتا ہے اور سفاہت کی باتوں کی طرف کان لگاتا ہے) ’’شاعر اونٹنی کی تعریف میں کہتا ہے: تصغی اذا شدّھا بالکور جانحۃ حتی اذا ما استوی فی غرزھا تثب (جب وہ اس پر کجاوہ کستا ہے وہ گردن موڑ کر کان لگاتی ہے اور جب وہ رکاب میں پاؤں رکھ دیتا ہے وہ جھپٹ پڑتی ہے)‘‘ ’’اعشیٰ اپنی کتیا کی آنکھ کا ذکر کرتا ہے: تری عینھا صغواء فی جنب مؤقھا تراقب کفی والقطیع المعد ما (اس کی آنکھ گوشۂ چشم کی طرف جھکی ہوئی ہوتی ہے اور وہ میرے ہاتھ اور سخت کوڑے کو دیکھتی ہوتی ہے) ’’نمر بن تولب نے ’اصغاء اناء‘ کا محاورہ ایک خاص معنی میں استعمال کیا ہے لیکن لفظ کے اصل مفہوم کی روح اس کے اندر بھی موجود ہے: وان ابن اخت القوم مصغی اناؤہ اذا لم یزاحم خالہ باب جلد (اور قوم کے بھانجے کی حق تلفی کی جاتی ہے اگر وہ اپنے ماموؤں کی مزاحمت ایک بہادر باپ سے نہ کرے)‘‘ مولانا رحمۃ اللہ علیہ یہ محاورات و اشعار لسان العرب سے نقل کرنے کے بعد، نہایت گہرے تاثر کے ساتھ فرماتے ہیں: ’’جن لوگوں کو حق کی تلاش ہے ان کے لیے یہ شواہد بس ہیں۔ وہ ان سے مطمئن ہو جائیں گے اور گھڑنے والوں نے روایات و آثار میں جو زہر ملایا ہے اس سے وہ متاثر نہ ہوں گے۔ انھوں نے جب کتاب الٰہی میں کسی لفظی تحریف کی راہ مسدود دیکھی تو معنوی تحریف ہی کی کچھ راہیں کھول لیں اور ’صغو‘ کے معنی ’زیغ‘ کے کر دیے حالانکہ دونوں کے درمیان آسمان و زمین کا فرق ہے۔ بعض روایات میں ’زاغت‘ کی جو قراء ت آئی ہے وہ بالکل ہی ناقابل التفات ہے۔‘‘ عربیت کے ایک اسلوب کی وضاحت: ۲۔ دوسری غلطی اس میں یہ ہے کہ اگر بات یہ کہنی ہوتی کہ تم دونوں توبہ کرو اس لیے کہ تمہارے دل کج ہو چکے ہیں، تو اس کے لیے یہ اسلوب بیان، جو قرآن نے یہاں اختیار کیا ہے، بالکل ہی ناموزوں ہے۔ ’اِنْ‘ شرطیہ کے بعد ’قد‘ جو آتا ہے، جس طرح یہاں آیا ہے، اس کی متعدد مثالیں قرآن اور کلام عرب سے مولانا رحمۃ اللہ علیہ پیش کرنے کے بعد اس اسلوب کی وضاحت یوں فرماتے ہیں: ’’ان مثالوں پر غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ اس اسلوب میں ’قَد‘ کے بعد جو جملہ آتا ہے وہ اس امر کی آسانی و سہولت کو بیان کرتا ہے جو ’اِنْ‘ کے بعد کہی جاتی ہے۔ یعنی اسلوب کے اجمال کو کھول دیا جائے تو تقدیر کلام یوں ہو گی کہ اگر ایسا ایسا ہوا تو کچھ حرج نہیں، یا کوئی تعجب نہیں یا یہ معمولی بات ہے کیونکہ ایسا ایسا ہو چکا ہے۔ اس روشنی میں آیت کی تاویل یہ ہو گی کہ اگر تم پیغمبر کی رضا جوئی کے لیے خدا سے توبہ کرو تو یہی تم سے متوقع ہے اس لیے کہ تمہارے دل تو پہلے ہی سے اس کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔‘‘ نفسیات انسانی کی ایک حقیقت: ۳۔ اس میں تیسری غلطی یہ ہے کہ ازواج مطہرات کو بالکل بلاسبب دل کے زیغ و انحراف کو گنہگار بنا دیا گیا ہے حالانکہ اوپر ہم نے الفاظ قرآن کی روشنی میں واقعہ کی جو نوعیت بیان کی ہے اس سے صاف واضح ہے کہ اس میں کسی پہلو سے کسی فساد نیت کا کوئی شائبہ نہین ہے بلکہ جو کچھ بھی ہوا باہمی اعتماد و محبت اور اخلاص کی بنا پر ہوا۔ حضورؐ نے ایک بات راز کے طور پر ایک بیوی سے کہی انھوں نے وہ بات بربنائے محبت دوسری بیوی پر ظاہر کر دی۔ حضورؐ کو اللہ تعالیٰ نے اس افشائے راز سے آگاہ فرما دیا تو آپ نے ان بیوی صاحبہ کو ٹوکا جن سے یہ کوتاہی صادر ہوئی لیکن انھوں نے اس ٹوکنے کو قرار واقعی اہمیت نہ دی بلکہ یہ خیال کیا کہ شوہر کی بات انھوں نے شوہر ہی کی دوسری معتمد و محبوب بیوی پر اگر ظاہر کی تو یہ ایسی غلطی نہیں ہے جس پر گرفت کی جائے۔ پھر ان کے اس رویے پر حضورؐ کچھ کھنچے کھنچے ظاہر ہوئے تو اس اعتماد کی بنا پر جو شوہر کی محبت پر تھا وہ بھی ازراہ تدلل روٹھ گئیں اور اس میں ان بیوی صاحبہ نے بھی ان کا ساتھ دیا جن پر راز ظاہر کیا گیا تھا۔ انھوں نے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس بات میں اپنی کچھ توہین سی محسوس فرمائی ہو گی کہ ایک ایسی بات پر عتاب ہوا جو ان پر ظاہر کی گئی۔ اس طرح کے احساس خودداری کا معزز گھرانوں کی سیدات کے اندر ابھرنا ذرا بھی عجیب نہیں ہے۔ یہاں نفسیات انسانی کی یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ جب روٹھنے کا سبب محبت و اعتماد ہو تو خفگی محض ظاہر کا پردہ ہوتی ہے جس کے پیچھے نہایت گہری خواہش ملاپ کی موجود ہوتی ہے۔ یہاں بھی یہی صورت تھی۔ دونوں بیویاں بظاہر روٹھ گئیں لیکن دل کے ہر گوشے میں یہ بے قراری موجود تھی کہ حضورؐ کی طرف سے ذرا ملاطفت کا اظہار ہو تو وہ خفگی کا یہ مصنوعی پردہ اٹھا دیں لیکن حضورؐ اپنے رویہ میں کوئی نرمی اس وجہ سے پیدا نہیں کر سکتے تھے کہ آپؐ کو، جیسا کہ واضح ہوا، گھر والوں کو یہ تعلیم دینی تھی کہ محبت کے اندر بھی وہ اللہ و رسول کے احکام کو مقدم رکھیں۔ ناچار بیویوں ہی کو اپنی بے جا خودداری سے دست بردار ہونا تھا لیکن اعتماد محبت کی زنجیر سخت ہوتی ہے۔ دل سے یہ چاہنے کے باوجود کہ کوئی ایسی بات ہو جائے کہ یہ بیگانگی دور ہو، وہ پہل کرنے سے ہچکچاتی رہیں۔ قرآن نے ’إِنْ تَتُوۡبَا إِلَی اللہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا‘ کے الفاظ سے ان کی اسی باطنی کشمکش کی طرف نہایت خوبی سے اشارہ کیا ہے لیکن افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین اس کو سمجھ نہ سکے۔ اور دل کے اس پرمحبت جھکاؤ کو العیاذ باللہ وہ دل کی کجی گمان کر بیٹھے۔ سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ میں گہری محبت تھی: ’وَإِنْ تَظَاہَرَا عَلَیْْہِ فَإِنَّ اللہَ ہُوَ مَوْلَاہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمَلَائِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ‘۔ ’تظاھر‘ کے معنی ہیں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار بننا۔ اس کے بعد ’علٰی‘ کے صلہ سے اس کے اندر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایکا یا اتحاد کر لینے کا مفہوم پیدا ہو گیا۔ اوپر ہم اس اتحاد کی نوعیت اور اس کے سبب کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ کسی جنگ و پیکار کا مظاہرہ نہیں بلکہ اعتماد و تدلل کا مظاہرہ تھا۔ انھوں نے یہ خیال کیا کہ اس معاملے میں انھیں اپنی خودداری کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ یہ حقیقت ان کی نگاہوں سے اس وقت اوجھل ہو گئی کہ دین کے معاملے میں احتساب سے کوئی بھی بالا نہیں ہے یہاں تک کہ اللہ کا رسول بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس امر پر نگاہ رہے کہ یہاں جن سیدات کے اتحاد کی طرف اشارہ ہے مشہور روایت کے مطابق وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں جن کی نسبت تفسیری روایات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کے درمیان سوکنوں کے قسم کی چشمک و رقابت برابر رہتی تھی لیکن قرآن کے اس مقام میں ان کا جو کردار بیان ہوا ہے وہ اس امر کی ناقابل تردید شہادت ہے کہ ان میں ایسی گہری محبت تھی کہ وہ شوہر کے راز میں بھی ایک دوسری کو شریک کر لیتی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ایک دوسری کی ہمدردی میں شوہر سے روٹھ بھی جاتی تھیں۔ پیغمبر صلعم کی دلچسپی کا اصل مرکز: آیت میں خطاب اگرچہ دو ہی بیویوں سے ہے لیکن اس میں جو تنبیہ ہے وہ تمام ازواج مطہراتؓ سے متعلق ہے۔ ان کو یہ آگاہی دی گئی ہے کہ اگر وہ روٹھ جائیں گی تو یہ نہ سمجھیں کہ اسے سے ہمارے پیغمبر کی بزم سونی ہو جائے گی۔ پیغمبر کو جو دلچسپی ان کے ساتھ ہے اس کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس کی اصل وابستگی اللہ سے ہے جو اس کا مولیٰ و مرجع ہے، پھر جبریل اس کے ساتھی ہیں جو وحی لاتے ہیں، پھر مومنین صالحین ہیں جو اس کی توجہ و تربیت کے اصل حق دار ہیں۔ مزید برآں اللہ کے فرشتے ہیں جن کی رفاقت و معیت اس کو ہر مشکل میں حاصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ازواج نبی (رضی اللہ عنہم) کو اپنے شوہر کے ساتھ معاملہ کرنے میں اس فرق عظیم کو ملحوظ رکھنا چاہیے جو ایک عام شوہر اور ایک پیغمبرؐ میں ہوتا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عظیم مصروفیات میں سے جو لمحے بچا کر انھیں بخش دیں اس کی قدر کریں۔ اس گمان میں نہ رہیں کہ پیغمبرؐ ان کی محبت و رفاقت کے محتاج ہیں اس وجہ سے ہر معاملے میں لازماً ان کی دلداری ملحوظ رکھیں گے۔ وہ دلداری وہیں تک کریں گے جہاں تک اللہ تعالیٰ کے حدود کے اندر گنجائش ہو گی۔ اگر کسی معاملے میں ذرا بھی حدود سے تجاوز ہو گا تو اس پر احتساب بھی ان کے فرائض میں داخل ہے جس میں کوتاہی ان کے لیے روا نہیں ہے۔  
    بہت ممکن ہے کہ وہ تمہیں طلاق دے چھوڑے تو اس کا پروردگار تمہارے بدلے میں تم سے بہتر بیویاں اس کو دے دے۔ اطاعت شعار، مومنہ، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، ریاض کرنے والیاں، شوہر آشنا اور کنواریاں۔
    ازواج نبی کے سامنے اعلیٰ صفات کا ایک آئینہ: یہ وہی اوپر والا مضمون، احتساب کے تقاضے سے کس قدر تیز ہو گیا ہے۔ ازواج مطہراتؓ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہیں یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ اگر تم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روٹھ گئیں تو پھر اس کی دلبستگی کا کوئی سہارا باقی نہیں رہے گا۔ آج اللہ نے اس کی رفاقت کے لیے جس طرح تمہارا انتخاب فرمایا ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے چھوڑے تو اللہ تم سے بہتر بیویاں اس کے لیے منتخب فرما دے گا جن کے اندر وہ تمام اوصاف ہوں گے جو ہونے چاہییں۔ یہاں ان بیویوں کے جو اوصاف گنائے ہیں وہ سب دوسرے مقامات میں زیربحث آ چکے ہیں۔ خاص طور پر سورۂ احزاب آیت ۳۵ کے تحت جو بحث گزر چکی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہاں اعادے میں طوالت ہو گی۔ کنواریوں کے ساتھ ’ثَیِّبَاتٌ‘ کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصلی قدر و قیمت اعلیٰ اوصاف کی ہے، ثیبۃ اور کنواری ہونا ثانوی چیزیں ہیں۔ اگر اوصاف حمیدہ موجود ہوں تو ثیبۃ کو کنواری پر تقدم حاصل ہے چنانچہ یہاں ’ثَیِّبَاتٌ‘ کا ذکر پہلے ہے۔ ’سٰٓئِحٰتٌ‘ کا ترجمہ مترجمین نے ’روزہ رکھنے والیاں‘ کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک لفظ کی یہ تعبیر ناقص ہے۔ یہ ’سیاحت‘ سے ہے جو ایک دینی اصطلاح ہے اور جس کا مفہوم وسیع ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت ۱۱۲ کے تحت اس کی تحقیق ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس کی روح زُہد اور ترک دنیا ہے اس وجہ سے اس سے وہ عبادات اور ریاضتیں مراد ہیں جو اسلام نے ترک دنیا اور زہد کے لیے پسند فرمائی ہیں، مثلاً روزہ، اعتکاف اور حج وغیرہ۔ یہ درحقیقت رہبانیت کے زمرہ کی عبادت ہے۔ جس طرح رہبانیت اسلام میں ایک خاص حد ہی تک جائز ہے اسی طرح سیاحت بھی ایک خاص حد ہی تک مطلوب ہے۔ روزہ اس ریاضت کے اہم ارکان میں سے ضرور ہے لیکن اس کا ترجمہ روزہ کے لفظ سے صحیح نہیں ہے۔ میں نے اس کا ترجمہ ریاض کرنے والیاں کیا ہے جو نسبۃً جامع ہے اور ان تمام عبادتوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے جو اس کے تحت آتی ہیں۔ ان میں روزہ بھی شامل ہے۔ دین میں احتساب کی اہمیت: یہ آیات پڑھتے ہوئے یہ حقیقت مستحضر رہے کہ یہ احتساب ازواج نبی (رضی اللہ عنہم) کا ہو رہا ہے جن کی پاکی و طہارت میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور جن کو تمام عالم کی عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ ان سیدات کو محض اس بنا پر طلاق تک کی دھمکی دے دی گئی کہ ان سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک تربیت قبول کرنے کے معاملے میں ذرا سی بے پروائی ہو گئی اور وہ بھی بربنائے مخالفت و مکابرت نہیں بلکہ محض بربنائے محبت و اعتماد اس سے اندازہ کیجیے کہ دین میں احتساب و تربیت کا کیا درجہ ہے۔ گویا اسلامی معاشرہ میں وصل و فصل کی اصل بنیاد ہی یہی ہے۔ جو محبت اس احتساب و تربیت سے خالی ہو وہ محبت نہیں بلکہ شیطان کا پھندا ہے۔ اہل ایمان کی محبت کا اصلی جمال یہی ہے کہ وہ اللہ کے حدود کے تابع ہوتی ہے۔ اس معاملے میں وہ ایک دوسرے سے کبھی غافل نہیں ہوتے بلکہ جن سے جتنی ہی زیادہ محبت ہوتی ہے ان کے احتساب میں وہ اتنے ہی زیادہ بیدار ہوتے ہیں اس لیے کہ حقیقی محبت کا تقاضا یہی ہے۔ پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے خیر خواہانہ کلمات کے لیے دلوں میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے تو وہ عزیز رشتوں کے کاٹ دینے میں بھی کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے اس لیے کہ روحانی تعلق کے ختم ہو جانے کے بعد مجرد جسمانی تعلق کی ان کی نگاہوں میں کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔
    اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے۔ جس پر درشت مزاج اور سخت گیر ملائکہ مامور ہوں گے۔ اللہ ان کو جو حکم دے گا اس کی تعمیل میں وہ اس کی نافرمانی نہیں کریں گے اور وہ وہی کریں گے جس کا ان کو حکم ملے گا۔
    احتساب کی عام منادی: پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہراتؓ کے احتساب کے بعد یہ عام مسلمانوں کو جھنجھوڑا ہے کہ تم بھی اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی اس آگ سے بچانے کی کوشش کرو جس کے ایندھن لوگ اور پتھر بنیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم نے دیکھ لیا کہ پیغمبرؐ اور ان کی ازوارجؓ بھی اللہ تعالیٰ کے احتساب سے بالا نہیں ہیں تو دوسروں کا کیا ذکر! ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے وہ اٹھا نہ رکھے۔ جب بھی دیکھے کہ ان کے اندر اللہ کی شریعت سے بے پروائی راہ پا رہی ہے فوراً اس کے سد باب کی فکر کرے۔ یہ پروا نہ کرے کہ یہ چیز اس کی طبیعت پر شاق گزرے گی اور اس کے نتیجہ میں ان کی ناراضی و بے زاری مول لینی پڑے گی۔ یہ ناگواری و بے زاری اس امر کے مقابل میں آسان ہے کہ آدمی ان کو جہنم میں جانے کے لیے چھوڑ دے اور آخرت میں اس کی مسؤلیت، جیسا کہ ’کلکم راعٍ وکلّکم مسؤل عن رعیّتہٖ‘؂۱ والی حدیث میں وارد ہے، اپنے سر لے۔ آتش دوزخ کی اصلی غذا: ’وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ‘ کے الفاظ اس آگ کے مزاج کو ظاہر کر رہے ہیں کہ اس کی اصل غذا لوگ اور پتھر بنیں گے۔ اسی ایندھن سے وہ اپنے اصلی رنگ میں بھڑکے گی۔ ’لوگ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس دنیا میں اپنے آپ کو پاک نہیں کیا بلکہ انہی گندگیوں میں لتھڑے رہے جن سے پاک کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت نازل فرمائی۔ ’حِجَارَۃُ‘ سے ہمارے نزدیک، جیسا کہ البقرہ کی آیت ۲۳ کے تحت وضاحت ہو چکی ہے، وہ پتھر مراد ہیں جو اس دنیا میں شرک و کفر اور عبادت غیراللہ کی علامت کی حیثیت سے پوجے گئے۔ انہی چیزوں کو جلانے کے لیے یہ آگ پیدا کی گئی ہے تو جب یہ ایندھن اس کے ملے گا تو اس کو گویا اس کا من بھاتا کھاجا ملے گا اور وہ ’ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ‘ کہتے ہوئے ایک ایک چیز کو نگلے گی اور جیسا کہ فرمایا ہے ’لَا تُبْقِیْ وَلَا تَذَر‘ نہ کسی چیز پر ذرا ترس کھائے گی اور نہ کسی چیز کو چھوڑے گی۔ دوزخ پر مامور فرشتوں کا مزاج: ’عَلَیْھَا مَآٰئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘۔ یعنی اس دوزخ پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ نہایت درشت مزاج اور سخت گیر ہوں گے۔ ذرا کسی کے ساتھ نرمی اور مداہنت نہیں برتیں گے۔ ان کو جو حکم ملے گا سرمو اس کی خلاف ورزی نہیں کریں گے بلکہ وہی کریں گے جس کا ان کو حکم ملے گا۔ اس ٹکڑے میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو اپنے اہل و عیال کی کسی بڑی سے بڑی غلطی پر بھی ان کو ٹوکنا محبت کے منافی سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ آج اگر ان کی محبت ان کے احتساب سے تم کو روکے ہوئے ہے تو یاد رکھو کہ دوزخ پر جو فرشتے مامور ہیں وہ محبت کرنے والے نہیں بلکہ بڑے ہی درشت مزاج اور سخت گیر ہوں گے، بہتر ہے کہ ان سے سابقہ پڑنے سے پہلے پہلے تم ہی اپنے احتساب سے اپنے آپ کو بھی اور ان کو بھی جس حد تک عذاب کی گرفت سے بچانے کی کوشش کر سکتے ہو۔ کر لو۔ ’لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘۔ یعنی آج تمہیں احتساب کی جو ہدایت دی جا رہی ہے اگر تمہارے دلوں پر شاق گزر رہی ہے تو شاق گزرے دوزخ کے داروغوں پر یہ ذرا بھی شاق نہیں گزرے گی۔ وہ اللہ کے کسی حکم کی ذرا بھی خلاف ورزی نہیں کریں گے بلکہ ہر حکم کی پوری پوری تعمیل کریں گے۔ _____ ؂۱ تم میں سے ہر ایک چرواہا بنایا گیا اور ہر ایک سے اس کے گلے کے بارے میں پرسش ہونی ہے۔
    اے لوگو، جنھوں نے کفر کیا، آج عذر نہ پیش کرو، تم وہی بدلے میں پار ہے ہو جو تم کرتے رہے ہو۔
    یعنی اس دن کسی کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہ ہو گی۔ جو لوگ کوئی عذر پیش کرنا چاہیں گے ان کو جواب ملے گا کہ آج کوئی عذر پیش نہ کرو۔ تمہارے سامنے جو کچھ آ رہا ہے تمہاری اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کا حاصل ہے۔ دنیا میں تم نے جو کمائی کی ہے اب اس کے نتائج بھگتو۔ یہ کسی غیر کے کیے ہوئے جرائم نہیں ہیں جو تمہارے کھاتے میں ڈال دیے گئے ہوں بلکہ تمہارے ہی جرائم کی مکافات تمہارے سامنے آ رہی ہے تو اس پر تمہارا واویلا اب بے سود ہے۔ اس سے بچنے کے لیے تم جو کچھ کر سکتے تھے دنیا میں کر سکتے تھے۔ اب اس کا وقت گزر گیا۔
    اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اللہ کی طرف مخلصانہ رجوع کرو۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے اوپر سے تمہارے گناہ جھاڑ دے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جس دن کہ اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، رسوا نہیں کرے گا۔ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دہنے چل رہی ہو گی۔ وہ دعا کر رہے ہوں گے: اے ہمارے پروردگار، ہمارے لیے روشنی کو کامل کر اور ہماری مغفرت فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
    توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت عام: اوپر والی تنبیہ کے بعد اب یہ تمام مسلمانوں کو توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت دی ہے کہ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اپنے غفلت کے بستر چھوڑو اور اپنے رب کی طرف مخلصانہ رجوع کرو۔ ’توبۃ نصوح‘ سے مراد وہ توبہ ہے جو دل کے پورے انقیاد اور سچے عزم کے ساتھ ہو۔ جس کے بعد گناہ کی طرف مڑنے کی کوئی خواہش باقی نہ رہے بلکہ گناہ کو آخری طلاق دے کر آدمی اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دے۔ فرمایا کہ جو لوگ اس طرح توبہ کریں گے وہ توقع رکھیں کہ اللہ ان کے گناہوں کے اثرات ان کے اوپر سے دور کر دے گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ’عسٰی‘ کے متعلق اس کے محل میں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو خطاب کر کے آئے تو اس کی نوعیت بندوں کے لیے وعدے اور بشارت کی ہوتی ہے بشرطیکہ بندے اپنے کو اس کا اہل ثابت کریں۔ ’یَوْمَ لَا یُخْزِی اللہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا مَعَہٗ‘۔ اس ’یَوْمَ‘ کو فعل ’یُدْخِلَ‘ کا ظرف بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس سے پہلے کوئی فعل محذوف بھی مان سکتے ہیں۔ فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کے با ایمان ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا اس لیے کہ وہ اس دنیا ہی میں اپنے احتساب کے چھاج میں پھٹک کر صرف ان لوگوں کو اپنی معیت کے لیے انتخاب کریں گے جو کفر و نفاق کی آلائش سے بالکل پاک اور صد فی صد کھرے ہوں گے۔ یہ ان لوگوں کے مانند نہیں ہوں گے جنھوں نے خود بھی منافقانہ زندگی گزاری اور اپنی مداہنت سے اپنے اہل و عیال اور دوسرے متعلقین کو بھی نفاق کی راہ دکھائی۔ یہ لوگ قیامت کے دن رسوا ہوں گے اس لیے کہ اس دن ان کو ان کے نفاق کی تاریکی گھیرے گی۔ جب کہ پیغمبرؐ اور ان کے اصحابؓ اپنے ایمان و اخلاص کی روشنی میں اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔ قیامت کے دن پیغمبرؐ ان کے صحابہؓ اور اہل ایمان کی سرفرازی: ’نُوْرُہُمْ یَسْعٰی بَیْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَبِأَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سرخروئی اور سرفرازی کا بیان ہے کہ اس دن سب اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں گے لیکن پیغمبرؐ اور ان کے ساتھیوں کے آگے اور داہنے ان کی روشنی ہو گی جو ان کی رہنمائی کر رہی ہو گی اور وہ دعا کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہماری روشنی کو کامل کر، ہماری مغفرت فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اور روشنی کا ذکر سورۂ حدید میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ان لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جو اس دن رسوا ہوں گے۔ فرمایا ہے: یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ یَسْعٰی نُورُہُم بَیْْنَ أَیْْدِیْہِمْ وَبِأَیْْمَانِہِم بُشْرَاکُمُ الْیَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنۡ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۵ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا انظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنۡ نُّوْرِکُمْ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا فَضُرِبَ بَیْْنَہُمۡ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ بَاطِنُہُ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاہِرُہٗ مِنۡ قِبَلِہِ الْعَذَابُ ۵ یُنَادُوْنَہُمْ أَلَمْ نَکُنۡ مَّعَکُمْ قَالُوْا بَلٰی وَلَکِنَّکُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَکُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْکُمُ الْأَمَانِیُّ حَتَٰی جَآءَ أَمْرُ اللہِ وَغَرَّکُم بِاللہِ الْغَرُوْرُ (الحدید ۵۷: ۱۲-۱۴) ’’جس دن مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دہنے چل رہی ہو گی۔ ان کو خوش خبری دی جا رہی ہو گی کہ آج تمہارے لیے ایسے باغوں کی بشارت ہے جن میں نہریں جاری ہیں۔ ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ جس دن منافق مرد اور عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے کہ ذرا ہمیں بھی موقع دیجیے کہ ہم بھی آپ لوگوں کی روشنی سے فائدہ اٹھا لیں۔ ان کو جواب ملے گا کہ پیچھے پلٹو اور وہاں سے روشنی تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا۔ اس کے اندر کی جانب رحمت ہو گی اور اس کے باہر کی طرف سے عذاب۔ یہ منافقین ان کو پکاریں گے کہ کیا ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہ تھے؟ وہ جواب دیں گے ساتھ تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے کو فتنوں میں ڈالا، انتظار میں رہے، شک کیا اور آرزوؤں نے تمہیں دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہر ہو گیا اور اللہ کے بارے میں شیطان نے تمہیں دھوکے ہی میں رکھا۔ ‘‘ ’رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ یہ روشنی ان لوگوں کو جنت میں داخل ہونے سے پہلے جنت کے راستے کو طے کرنے کے لیے دکھائی جائے گی جب کہ ان کے دہنے اور آگے کے سوا ہر طرف اندھیرا گھپ ہو گا اس وجہ سے یہ لوگ گہرے جذبۂ شکر کے ساتھ یہ دعا کریں گے کہ اے رب، تو اس روشنی کو کامل کر اور ہماری مغفرت فرما۔ ظاہر ہے کہ جب راستہ طے کرنے کے لیے یہ روشنی عطا ہو گی تو اس سے قدرتی طور پر یہ توقع بھی پیدا ہو گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مغفرت سے نوازنے والا ہے اور وہ وقت لازماً اس روشنی کے کامل ظہور کا ہو گا۔ چنانچہ وہ اپنی اسی توقع کے پورے کیے جانے کے لیے دعا کریں گے۔ ’إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ یہ ان لوگوں کی زبان سے اس حقیقت کا اظہار ہو گا کہ ہم ایک عقیدہ کے طور پر مانتے تو رہے ہیں کہ تو ہر چیز پر قادر ہے لیکن اب ہم نے اپنی آنکھوں سے بھی اس حقیقت کا مشاہدہ کر لیا۔ لاریب تو ہر چیز پر قادر ہے۔  
    اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سخت ہو جا۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے!
    پیغمبر صلعم کو عام احتساب کی تاکید: مومنین و متعلقین کے احتساب کے بعد یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عام فریضۂ احتساب کی تاکید ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ مامور تھے۔ آیت میں جس جہاد کا حکم ہے وہ تلوار اور زبان دونوں ہی کا جہاد ہے، البتہ دونوں کے محل الگ الگ ہیں۔ جن لوگوں پر حجت تمام ہو چکی تھی اور وہ علانیہ حق دشمنی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان سے تو جہاد تلوار کے ذریعہ سے تھا جس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے اور جو لوگ بظاہر تو ایمان کے مدعی تھے لیکن ایمان کے تقاضوں سے گریزاں تھے ان کے بارے میں خاص طور پر ہدایت ہوئی کہ ان کا احتساب کیا جائے اور اب یہ احتساب نرم انداز میں نہیں بلکہ سخت انداز (وَاغْلُظْ عَلَیْْہِمْ) میں کیا جائے۔ منافقین کے احتساب میں درشت رویہ اختیار کرنے کی ہدایت: یہ سخت انداز میں منافقین کے احتساب کی تاکید اس وجہ سے ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کریم النفسی کے سبب سے ان کی غلطیوں پر جب بھی گرفت فرماتے نرم ہی انداز میں فرماتے تاکہ ان کی رسوائی نہ ہو۔ اس کریمانہ انداز کی انھیں قدر کرنی تھی لیکن منافقین اس کے اہل نہ تھے۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے دلیر ہوتے جا رہے تھے کہ ان کا فریب کامیاب ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ انداز بدل دینے کا حکم دیا اور سختی کے ساتھ ان کے احتساب کی تاکید فرمائی تاکہ ان کے کان کھلیں اور اگر وہ اپنی اصلاح کرنی چاہیں تو کر لیں ورنہ ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ سورۂ توبہ کی آیت ۷۳ کے تحت اس مضمون کی وضاحت ہو چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ ’وَمَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئۡسَ الْمَصِیْرُ‘۔ یعنی تم اب ان کو اچھی طرح جھنجھوڑ کر سنا دو کہ اگر انھوں نے اپنی روش نہ بدلی تو یاد رکھیں کہ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔
    اللہ کافروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی۔ دونوں ہمارے بندوں میں سے نیک بندوں کے نکاح میں تھیں تو انھوں نے ان کے ساتھ بے وفائی کی تو وہ اللہ سے ان کے کچھ کام آنے والے نہ بن سکے اور دونوں عورتوں کو حکم ہوا کہ جاؤ تم بھی دوزخ میں پڑنے والوں کے ساتھ دوزخ میں پڑو۔
    آدمی کے کام آنے والی چیز اس کا عمل ہے نہ کہ بڑوں سے نسبت: یہ آخر میں مثال پیش کی ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کام آنے والی چیز آدمی کا اپنا عمل ہے۔ جس کے پاس حسن عمل کی پونجی نہیں ہو گی اس کو کسی بڑے سے بڑے کی نسبت بھی کچھ نفع پہنچانے والی نہیں بن سکے گی۔ فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویاں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں لیکن انھوں نے ان کا اسوۂ حسنہ اختیار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بے وفائی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولوں کی بیویاں ہونے کے باوجود ان کو حکم ہوا کہ دوسرے جہنم میں پڑنے والوں کے ساتھ جاؤ تم دونوں بھی جہنم میں پڑو۔ اس مثال کا حوالہ کفار کی عام سبق آموزی کے لیے دیا گیا ہے چنانچہ فرمایا بھی ہے: ’ضَرَبَ اللہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ (اللہ نے یہ مثال کفار کی سبق آموزی کے لیے بیان کی ہے) اس کو ابتدائے سورہ میں بیان کیے ہوئے امہات المومنینؓ کے واقعات سے ربط ہے تو محض ایک کلی نوعیت کا ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ خاص اسی تعلق سے یہ بیان ہوئی ہے۔ آخرت کی مسؤلیت سے سب سے زیادہ بے پروائی، خاص طور پر اہل مذاہب کے اندر، اس غلط وہم نے پیدا کی کہ انھوں نے خیال کیا کہ وہ اللہ کے محبوبوں اور برگزیدوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے ان کو دوزخ کی آگ کبھی نہیں چھوئے گی۔ یہود اور نصاریٰ اسی فتنہ میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے اور اب مسلمان بھی اسی فتنہ میں مبتلا ہیں۔ آیت میں ان دونوں عورتوں کے بارے میں لفظ ’خَانَتَا‘ آیا ہے جس سے یہ بات تو واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ یہ اپنے شوہروں کی رازدار و وفادار نہیں تھیں لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ ان کے اندر ’فحشاء‘ کے قسم کی کوئی برائی رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو اس قسم کی گندگی کے ہر شائبہ سے پاک رکھتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ لوط علیہ السلام کی بیوی ان کے پا س آنے والے مہمانوں کی خبر قوم کے گنڈوں کو کر دیتی تھی۔ ان کی اس قسم کی بے وفائیوں کو خیانت سے تعبیر فرمایا ہے۔  
    اور اللہ ایمان والوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی۔ جب کہ اس نے دعا کی: اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھ کو نجات دے فرعون سے اور اس کے عمل سے اور مجھے نجات دے ظالموں کی قوم سے۔
    برے سے برے ماحول کے اندر بھی اپنے ایمان کی حفاظت واجب ہے: یہ مثال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی سبق آموزی کے لیے بیان فرمائی ہے کہ برے سے برے ماحول کے اندر بھی آدمی پر اپنے ایمان کی حفاظت واجب ہے۔ اگر اس ماحول کے اندر اسے عیش حاصل ہو جب بھی اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ محسوس کرے کہ گویا وہ اسے کاٹے کھا رہا ہے اور اگر وہ اس کے لیے دارالعذاب ہو جب بھی وہ ہر قسم کے مصائب جھیل کر اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔ فرمایا کہ فرعون کی بیوی ملکہ تھیں اور محل میں رہتی تھیں لیکن ان کی دعا یہ تھی کہ اے میرے رب! تو خاص اپنے پاس جنت میں میرے لیے ایک گھر بنا اور فرعون اور اس کے عمل اور ظالموں کی قوم سے مجھے نجات دے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس ماحول کے اندر وہ اپنے آپ کو ایک دارالعذاب کے اندر محسوس کر رہی تھیں اس لیے کہ پورا ماحول ظلم اور معصیت کا ماحول تھا۔ ایک مومن اور ایک مومنہ کو کفر و معصیت اور ظلم و عدوان کے ماحول میں کبھی اطمینان کا سانس نہیں لینا چاہیے اگرچہ اس کے اندر ذاتی طور پر انھیں شاہی محل ہی حاصل ہو۔ ’نَجِّنِیْ مِنۡ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ‘ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ وہ اس رمز سے اچھی طرح آگاہ تھیں کہ آدمی ایک برے ماحول کے اندر بھی راضی و مطمئن ہو تو گو اس کے اندر ہونے والی برائیوں اور تعدیوں میں وہ براہ راست ملوث نہ ہو لیکن ان کے وبال سے وہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ان کے وبال سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سے بیزار و نفور رہے اور جب بھی امکان دیکھے اس سے بھاگ کھڑا ہو۔
    اور مریم بنت عمران کی مثال بیان کرتا ہے جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرماں برداروں میں سے تھی۔
    برے ماحول کے اندر اپنی اعلیٰ تربیت کی عظیم مثال: یہ آخر میں حضرت مریم علیہما السلام کی مثال پیش کی ہے جو اگرچہ پیدا تو ہوئیں ایک برے ماحول میں لیکن انھوں نے اپنی ذاتی توجہ، محنت، ریاضت، انابت اور عبادت سے وہ مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل کیا جو انہی کا حاص حصہ ہے۔ وہ جس دور میں پیدا ہوئیں بنی اسرائیل رومیوں کے غلام تھے اور اخلاقی و مذہبی اعتبار سے ان کا زوال جس حد تک پہنچ چکا تھا اس کا اندازہ ان ملامتوں سے ہو سکتا ہے جو ان کو حضرت یحییٰؑ اور ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کی ہیں۔ اس کے علاوہ بنی اسرائیل کے کردار کا اندازہ ان کے اس رویہ سے بھی ہوتا ہے جو انھوں نے حضرت یحییٰؑ و حضرت عیسیٰ ؑ اور وقت کے دوسرے صالحین و ابرار کے ساتھ اختیار کیا اور جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ہمیشہ کے لیے لعنت کر دی۔ اسی تاریک ترین دور میں حضرت مریمؑ پیدا ہوتی ہیں جن کو ماضی کا کوئی قابل ذکر سہارا حاصل نہ ہوا لیکن بچپن ہی سے ان کا حال یہ تھا کہ جس زمانے میں وہ بیت المقدس کے اندر معتکف تھیں حضرت زکریاؑ (جو ان کے خالو تھے) کبھی کبھی ان کے پاس جاتے تو ان کے روحانی کمالات کو محسوس کر کے عش عش کر اٹھتے۔ یہاں تک کہ ان کے انہی کمالات سے متاثر ہو کر انھوں نے اپنے لیے بھی ایک ایسے ہی باکمال فرزند کی دعا کی اور ان کی اس دعا کی قبولیت ان کے لیے حضرت یحییٰؑ کی ولادت کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ یہ حضرت مریمؑ اس حقیقت کی زندہ جاوید مثال ہیں کہ انسان کے اندر اگر سچی انابت ہو تو وہ بدتر سے بدتر ماحول کے اندر بھی اپنے کو ملائکہ کے لیے قابل رشک بنا سکتا ہے چنانچہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس قابل پایا کہ ان کو اپنی ایک عظیم امانت کا حامل بنایا اور ان کے ناموس کو بدگویوں کی زبان درازیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی وہ شان ظاہر فرمائی جو اس آسمان کے نیچے کسی کے لیے بھی نہیں ظاہر فرمائی۔ ’اَلَّتِیْ أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِن رُّوۡحِنَا‘۔ یہ ان کے اس اصل کمال کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کی بدولت وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم امانت کی حامل ہونے کی اہل ٹھہریں۔ لفظ فرج عربی میں محدود معنی میں نہیں آتا۔ اس کے اصل معنی موضع مخافۃ (اندیشہ کی جگہ) کے ہیں۔ جن راستوں سے بھی انسان کے اندر کوئی برائی راہ پا سکتی ہے وہ سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ عورتوں اور مردوں دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ’أَحْصَنَتْ فَرْجَہَا‘ کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے اپنے وجود کے ان تمام حصوں پر پورا پہرہ قائم رکھا جہاں سے کوئی بدی راہ پا سکتی تھی، اس کا انعام اللہ نے ان کو یہ دیا کہ ان کے اندر اپنی روح پھونکی اور حضرت مسیح علیہ السلام کی شکل میں ان کے بطن سے اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی ظاہر ہوئی۔ ’وَصَدَّقَتْ بِکَلِمَاتِ رَبِّہَا وَکُتُبِہِ وَکَانَتْ مِنَ الْقَانِتِیْنَ‘۔ یہ ان کی مذکورہ خاص فضیلت کے بعد ان کے عام ایمانی فضائل کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو ان کے رب کی جانب سے جو حکم بھی ملا انھوں نے بے چون و چرا تصدیق و تعمیل کی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے صحیفوں کی ہر تعلیم پر بھی وہ قائم و دائم رہیں۔ وہ ہر لمحہ اپنے رب کی طرف دھیان رکھنے والی تھیں اس وجہ سے سخت سے سخت آزمائشوں کے اندر بھی انھیں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کی توفیق ملی اور ان کے اوسان بجا رہے۔ ایک نکتہ خاص توجہ کے لائق: یہاں یہ امر خاص توجہ کے لائق ہے کہ برائی کی مثال کے لیے بھی عورتوں ہی کا انتخاب کیا ہے اور بھلائی کی مثال کے لیے بھی انہی کے نام لیے ہیں۔ اس سے مقصود اس عام غلط فہمی کو رفع کرنا ہے کہ تمام برائی کا سرچشمہ عورت ہی ہے۔ اپنی خلقت کے اعتبار سے عورت بھی خیر و شر دونوں صلاحیتوں کی حامل ہے۔ اگر وہ اپنے اختیار و ارادہ کو صحیح طور پر استعمال نہ کرے تو بہتر سے بہتر رفیق کی بدترین ساتھی بن سکتی ہے اور اگر وہ ایمان و قنوت کی حلاوت سے آشنا ہو جائے تو بدتر سے بدتر ماحول کے اندر بھی وہ حور جنت ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List