Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • التغابن (The Cheating, The Mutual Loss and Gain, The Mutual Disillusion, Haggling)

    18 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ المنافقون ۔۔۔ اس تنبیہ پر ختم ہوئی ہے کہ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر اللہ کی یاد اور اس کے حقوق سے غافل نہ ہونا بلکہ جو رزق و فضل اس نے بخشا ہے اس میں آخرت کے لیے کمائی کر لو۔ ورنہ جب موت کی گھڑی آ جائے گی تو غفلت کرنے والے حسرت سے کہیں گے کہ کاش اللہ تعالیٰ ان کو تھوڑی سی مہلت دیتا تو وہ اپنا مال اس کی راہ میں خرچ کر کے کچھ نیکی کی کمائی کر لیتے لیکن ان کی یہ حسرت، حسرت ہی رہے گی۔ گزرا ہوا وقت پھر واپس نہیں آتا۔ اس سورہ میں اسی مضمون کو عمود کی حیثیت سے لیا ہے اور یہ واضح فرمایا ہے کہ اس دنیا کی زندگی ہی کل زندگی نہیں ہے بلکہ اصل زندگی آخرت کی ہے جو شدنی ہے اور یہ فیصلہ وہیں ہونا ہے کہ اس دنیا میں آ کر کون ہارا اور کون جیتا تو جو آخرت کی فوز عظیم حاصل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو اس پر واجب ہے کہ وہ اللہ و رسول کی رضا جوئی کی راہ میں ہر قربانی کے لیے تیار رہے اور اس معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت اور کسی ناصح کی نصیحت کی پروا نہ کرے۔ بسا اوقات آدمی کے بیوی بچے اس راہ میں مزاحم ہوتے ہیں اور ان کی محبت بہتوں کو پست حوصلہ کر دیتی ہے۔ جو شخص اپنے ایمان کو سلامت رکھنا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس راہ میں رکاوٹ بننے والے بیوی بچوں کو بھی اپنے لیے فتنہ سمجھے اور ان سے بچ کے رہے۔ اگرچہ ان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ رکھے۔

  • التغابن (The Cheating, The Mutual Loss and Gain, The Mutual Disillusion, Haggling)

    18 آیات | مدنی
    المنافقون - التغابن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں اہل ایمان کو منافقین سے، جو اب سرکش ہو رہے تھے اور دوسری میں اپنے اہل و عیال سے جو راہ حق میں مزاحم ہو سکتے تھے، بچ کر رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پھر دونوں میں نصیحت کی گئی ہے کہ لوگ آخرت ہی کو اصل حقیقت سمجھ کر اللہ کی راہ میں انفاق کریں اور اللہ و رسول کی رضا جوئی کے راستے میں ہر قربانی کے لیے تیار رہیں۔

    دونوں میں خطاب اصلاً مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- المنافقون—- کا موضوع مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ وہ اُن کی باتوں اور بات بات پر قسمیں کھانے سے متاثر نہ ہوں، اِس لیے کہ وہ اُنھیں انفاق سے روکنا اور اِس طرح اللہ و رسول سے برگشتہ کر دینا چاہتے ہیں۔

    دوسری سورہ—- التغابن—- کا موضوع اُنھیں یہ بتانا ہے کہ تمھارے دشمن تمھارے گھر میں بھی ہو سکتے ہیں، اِس لیے متنبہ رہو کہ اصلی چیز یہ بیوی بچے اور اہل و عیال نہیں ہیں۔ دنیا کی مصیبتوں سے ڈرا کر یہ آخرت کے بارے میں تمھیں شبہات میں مبتلا کر رہے ہیں، دراں حالیکہ اصلی چیز آخرت ہے، ہار جیت کا دن درحقیقت وہی ہے، اُس میں کامیابی چاہتے ہو تو اللہ و رسول
    کی رضا طلبی کے راستے میں ایثار و قربانی کے لیے تیار رہو اور اِس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور کسی ناصح کی نصیحت کی پروا نہ کرو۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 064 Verse 001 Chapter 064 Verse 002 Chapter 064 Verse 003 Chapter 064 Verse 004 Chapter 064 Verse 005 Chapter 064 Verse 006 Chapter 064 Verse 007 Chapter 064 Verse 008 Chapter 064 Verse 009 Chapter 064 Verse 010 Chapter 064 Verse 011 Chapter 064 Verse 012 Chapter 064 Verse 013 Chapter 064 Verse 014 Chapter 064 Verse 015 Chapter 064 Verse 016 Chapter 064 Verse 017 Chapter 064 Verse 018
    Click translation to show/hide Commentary
    اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور وہی سزاوار شکر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    یہ پوری کائنات خدا ہی کی بندگی کی دعوت دے رہی ہے: یہ آیت الفاظ کے معمولی رد و بدل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ یہاں یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی تسبیح کرتی اور اپنے عمل سے انسانوں کو یہ درس دے رہی ہے کہ اس کائنات کی بادشاہی تنہا اللہ ہی کی ہے اور شکر کا سزاوار وہی ہے، نہ اس کی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک و سہیم ہے اور نہ بندوں کے شکر کا اس کے سوا کوئی دوسرا حق دار ہے۔ خدا کا کوئی شریک نہیں: ’وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘۔ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے؛ اپنے کسی کام میں، خواہ کتنا ہی بڑا ہو، کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے اس وجہ سے کسی کو اس کا شریک ٹھہرانا ایک بالکل بے معنی بات ہے۔ اس نے نہ دنیا کے پیدا کرنے میں کسی کی مدد حاصل کی اور نہ اس کے انتظام و انصرام میں وہ کسی کا محتاج ہوا بلکہ اس نے سب کچھ تنہا اپنے بل بوتے پر کیا ہے اور جس طرح پہلے کیا ہے اسی طرح آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ اس وجہ سے بندوں کے اعتماد کے لیے وہ تنہا کافی ہے۔ ان کو چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں اور اس کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک نہ کریں۔
    وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا تو کوئی تم میں کافر ہے اور کوئی مومن۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اللہ کی نظر میں ہے۔
    ان کے لیے اپنے اختیار کے سوء استعمال کی سزا بھگتنا لازمی ہے: یعنی اسی خدا نے، جس کی تسبیح تمام کائنات کر رہی ہے، تم کو بھی پیدا کیا ہے اس وجہ سے حق تو یہ تھا کہ تم بھی اسی کی تسبیح کرتے جس کی تسبیح آسمان کے تمام ستارے، فضا کے تمام پرندے اور زمین کے تمام شجر و حجر کر رہے ہیں لیکن تم کو خدا نے اختیار بخشا ہے اس وجہ سے تم میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور وہ ہر ایک کے ساتھ اس کے عمل کے مطابق ہی معاملہ کرے گا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی نگاہوں میں کفر اور ایمان دونوں یکساں ہیں۔ یہ بات بالبداہت خدا کے عدل اور اس کی حکمت کے خلاف ہے۔
    اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور اس نے تمہاری صورت گری کی تو اس نے تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہو گا۔
    جزاء و سزا اہتمام ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے: یہ اوپر والی بات کی دلیل بیان ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا ایک مقصد حق کے ساتھ پیدا کی ہے۔ اس مقصد حق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے بعد لازماً ایک ایسا دن آئے جس میں حق پسندوں کو ان کی حق پسندی کا صلہ ملے اور جن کی زندگی اس مقصد حق کے خلاف گزری ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔ ’وَصَوَّرَکُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَکُمْ‘۔ یہ اس اہتمام کی طرف توجہ دلائی ہے جو ان کی خلقت میں خالق نے ملحوظ رکھا ہے۔ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ انسان کی تخلیق بہترین سانچہ پر ہوئی ہے۔ چنانچہ سورۂ تین میں فرمایا ہے:’لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ‘ (۴) (اور ہم نے انسان کو بہترین سانچہ پر بنایا ہے)۔ انسان کے ظاہر و باطن کی تشکیل جس طرح ہوئی ہے اور اس میں جو قوتیں اور قابلیتیں ودیعت کی گئی ہیں وہ صاف اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ اس دنیا کی تمام مخلوقات میں مقصود کی حیثیت اسی کو حاصل ہے۔ وہی سرتاج اور گل سرسبد کی حیثیت رکھتا ہے باقی دوسری ساری چیزیں بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی کی خدمت اور نفع رسانی کے لیے ہیں۔ انسان کے لیے یہ اہتمام و انتظام اور اس کا نہایت اعلیٰ ظاہری و باطنی صلاحیتوں سے مسلح ہونا اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کو خالق نے بے مقصد و عبث نہیں پیدا کیا ہے کہ بس وہ کھائے پیے اور ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو وہ سارا اہتمام بالکل بے معنی ہو کے رہ جاتا ہے جو قدرت نے اس کی تخلیق اوراس کے قیام و بقا پر صرف کیا ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر قرآن نے جگہ جگہ انسان کو یہ یاددہانی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ربوبیت کے لیے جو اہتمام فرمایا، تمہارے لیے جو پاکیزہ خوان کرم بچھایا اور شکل و صورت کے اعتبار سے اپنی تمام مخلوقات میں جو امتیاز تم کو بخشا اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک دن تم اس کے سامنے حاضر کیے جاؤ اور تم سے تمہارے رب کی بخشی ہوئی نعمتوں سے متعلق سوال ہو۔ اَللہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَآءَ بِنَاءً وَصَوَّرَکُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَرَزَقَکُم مِّنَ الطَّیِّبَاتِ (المومن ۴۰: ۶۴) ’’اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مستقر اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورت گری کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے اچھی صورتوں کے ساتھ پاکیزہ رزق اور عالی شان مکان کا یہ اہتمام اس بات کی بدیہی دلیل ہے کہ تم اپنے رب کے آگے مسؤل ہو۔ اسی دلیل کی بنیاد پر ان لوگوں کو دھمکی دی گئی ہے جو آخرت اور جزاء و سزا کے قائل نہیں تھے۔ فرمایا ہے: یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۵ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَ ۵ فِیْ أَیِّ صُوۡرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ (الانفطار ۸۲: ۶-۸) ’’اے انسان، تجھ کو تیرے اس رب کریم کے باب میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے جس نے تیرا نقشہ بنایا، پھر تیرے جوڑ بند ٹھیک کیے پس تجھے متوازن کیا اور جس صورت پر چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ اس آیت میں اس اہتمام کی وضاحت بھی ہو گئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے میں فرمایا ہے اور ساتھ ہی اس سے جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اس کی طرف بھی نہایت تہدید آمیز انداز میں اشارہ ہو گیا ہے۔ ’وَإِلَیْہِ الْمَصِیْرُ‘۔ یعنی جس خدا نے ایک عظیم غایت کو پیش نظر رکھ کر یہ دنیا پیدا کی ہے اور اس اہتمام کے ساتھ تمہیں اس میں وجود بخشا ہے لازم ہے کہ تم ایک دن اسی کی طرف جزاء و سزا کے لیے لوٹائے جاؤ۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ سارا اہتمام بالکل بے معنی ہو کے رہ جائے گا۔  
    وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ باخبر ہے سینوں کے بھیدوں سے بھی۔
    کوئی بات اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے: یعنی اس مغالطہ میں نہ رہو کہ بھلا اللہ تعالیٰ کو ساری دنیا کے تمام خفیہ و اعلانیہ اعمال کی خبر کہاں ہو گی کہ وہ سب کا حساب کرنے بیٹھے گا اور سب کو جزا یا سزا دے گا! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب سے واقف ہے اور تم کوئی کام خواہ پوشیدہ طور پر کرو یا علانیہ وہ تمہارے ہر قول و فعل کو جانتا ہے بلکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں چھپا ہوا ہوتا ہے وہ اس سے بھی باخبر رہتا ہے۔
    کیا تمہیں ان لوگوں کا احوال نہیں پہنچا جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا! تو انھوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔
    مکافات عمل کی شہادت تاریخ سے: فرمایا کہ کیا اس ملک کی پچھلی قوموں کی تاریخ تمہارے علم میں نہیں آئی کہ انھوں نے کفر کیا تو اس کفر کا وبال انھیں اس دنیا میں بھی چکھنا پڑا اور آخرت میں بھی ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے؟ یہ اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں تفصیل سے، پچھلی سورتوں میں سنائی بھی گئی ہیں اور قریش ان سے فی الجملہ واقف بھی ہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض قوموں کی بستیوں کے کھنڈروں پر سے ان کو گزرنے کے مواقع بھی ملتے رہتے تھے۔ ان کی تاریخ کی طرف اشارہ کر کے متنبہ فرمایا کہ یہ واقعات دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے خیر و شر سے غیر متعلق نہیں ہے بلکہ اس کی اصلاح کے لیے اس نے برابر اپنے رسول بھیجے ہیں اور جب قوموں نے رسولوں کی تکذیب کی ہے تو اس نے ان کو سزا بھی نہایت عبرت انگیز دی۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے قانون مجازات کی یہ مثالیں اپنی آنکھوں سے اس زمین میں دیکھتے ہو تو اس بات کو کیوں بعید سمجھتے ہو کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ساری دنیا کا انصاف کرے اور اس دن اس کے کامل عدل اور اس کی کامل رحمت کا ظہور ہو!
    یہ اس سبب سے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیوں کے ساتھ آتے رہے تو انھوں نے کہا کہ کیا بشر ہماری رہنمائی کریں گے! پس انھوں نے کفر کیا اور منہ موڑا اور اللہ ان سے بے پروا ہو گیا اور اللہ بے نیاز و ستودہ صفات ہے۔
    رسولوں کی تکذیب کے لیے منکرین کا بہانہ: یہ سبب بتایا ہے کہ یہ قومیں کیوں خدا کے عذاب کی گرفت میں آئیں؟ فرمایا کہ اللہ کے رسول ان کی ہدایت کے لیے نہایت واضح نشانیوں اور دلائل کے ساتھ آئے لیکن یہ اپنی سرکشی کے سبب سے ان کو خاطر میں نہ لائیں۔ انھوں نے یہ بہانہ تراشا کہ اگر اللہ کو ہماری ہدایت کے لیے کوئی رسول بھیجنا ہی ہوتا تو وہ کسی برتر مخلوق کو رسول بنا کر بھیجتا۔ ہمارے ہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجنے کے کیا معنی؟ کیا ہم ایسے حقیر ہیں کہ ہمارے ہی جیسے انسان ہمیں ہدایت دینے والے بنیں گے! مطلب یہ ہے کہ اگر انسان ہی ہمیں ہدایت دے سکتے ہیں تو ہم کیا برے ہیں! ہم خود ہی اپنے کو ہدایت دے لیں گے، دوسروں کا باراحسان ہم کیوں اٹھائیں۔ منکرین کے باب میں سنت الٰہی: ’فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَی اللہُ‘۔ یعنی اس طرح کے اعتراضات اور بہانے پیدا کر کے انھوں نے رسول کا انکار اور دعوت حق سے اعراض کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت سے بہرہ یاب کرنے کے لیے اہتمام کرتا ہے لیکن جب لوگ اس کی ناقدری کرتے ہیں تو وہ ان سے بے پروا ہو کر ان کو چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اس ناقدری کا انجام دیکھیں۔ ’وَاللہُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ‘۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی ہدایت مطلوب ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ اس میں اس کا کوئی نفع ہے۔ وہ لوگوں کی ہدایت و ضلالت سے بالکل بے نیاز اور خود اپنی ذات میں ستودہ صفات اور کامل ہے۔ وہ ہدایت کا انتظام کرتا ہے تو محض اس وجہ سے کرتا ہے کہ لوگوں کی فلاح اسی میں ہے لیکن جب وہ اس کی قدر نہیں کرتے تو وہ اس کو زبردستی لوگوں کے اوپر نہیں لادتا۔
    جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ہرگز مرنے کے بعد اٹھائے نہیں جانے کے۔ کہہ دو، ہاں میرے رب کی قسم! تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تم کو بتایا جائے گا جو کچھ تم نے کیا ہو گا۔ اور یہ کام اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔
    منہ توڑ جواب: یعنی ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے اس وجہ سے وہ نبیوں کی دعوت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ’قُلْ بَلَی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ‘۔ فرمایا کہ جس زور و تاکید کے ساتھ یہ لوگ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کر رہے ہیں اسی زور و تاکید کے ساتھ، بقید قسم، تم ان کو جواب دو کہ ہاں میرے رب کی قسم، تم ضرور اٹھائے جاؤ گے! قسم کے اندر دلیل کا پہلو: اگرچہ اس فقرے میں دلیل کا پہلو نمایاں نہیں ہے، بلکہ دعوے کا جواب بظاہر دعوے ہی سے دے دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہ بات منکرین کے بے دلیل دعوے کے جواب میں کہلائی گئی ہے لیکن ’وَرَبِّیْ‘ کی قسم میں دلیل کا بھی ایک لطیف پہلو مضمر ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، جس کی شانیں اس کائنات کے ہر گوشہ میں نمایاں ہیں، اس بات کو واجب کرتی ہے کہ وہ نیکو کار اور بدکار دونوں کے ساتھ ایک ہی طرح کا معاملہ نہیں کرے گا بلکہ لازماً وہ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلہ دے گا اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا۔ اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ وہ مرنے کے بعد لوگوں کو اٹھائے، ان کا حساب کرے اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔ ’وَذٰلِکَ عَلَی اللہِ یَسِیْرٌ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر قیاس کر کے اس کام کو ناممکن یا مشکل نہ سمجھو۔ دوسروں کے لیے تو یہ کام بے شک ناممکن ہے۔ ان کا علم بھی نہایت محدود ہے اور ان کی قدرت بھی نہایت محدود ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے یہ نہایت آسان ہے۔ وہ غیر محدود علم اور غیر محدود قدرت کا مالک ہے۔
    تو اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے باخبر ہے۔
    دعوت ایمان بانداز تنبیہ: یہ بانداز تنبیہ دعوت ایمان ہے۔ یعنی اس قسم کے بہانے پیدا کر کے رسول کی تکذیب نہ کرو بلکہ اللہ اور اس کے رسول پر اور اس روشنی پر ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل فرمائی ہے۔ ’’روشنی‘‘ سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے کے لیے نازل فرمایا۔ یہ امر واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو روشنی اہل کتاب کو ہدایت و ضلالت میں امتیاز کے لیے عطا فرمائی تھی وہ انھوں نے، جیسا کہ پچھلی سورتوں میں تفصیل گزر چکی ہے، ضائع کر دی تھی، جس کے سبب سے ان کے لیے حق و باطل میں امتیاز ناممکن ہو گیا تھا لیکن جب اس نے ازسرنو خلق کی رہنمائی کے لیے اپنی روشنی، اپنی کامل صورت میں، اتاری تو اس کی قدر کرنے کے بجائے انھوں نے پورا زور لگایا کہ اس کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں، نہ خود اس سے فائدہ اٹھائیں نہ دوسروں کو فائدہ اٹھانے کا موقع دیں: ’یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِؤُۡا نُوْرَ اللہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ‘ (الصف ۶۱: ۸) (یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھا دیں اور اس کا فیصلہ یہ ہے کہ ان کافروں کے علی الرغم وہ اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا)۔ ’وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ‘۔ یعنی اس مغالطے میں نہ رہو کہ اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ سب اس کے علم میں ہے اور ایک دن وہ سب تمہارے سامنے آ کے رہے گا۔  
    اس دن کو یاد رکھو جب اللہ اکٹھے کیے جانے کے دن کے لیے تم کو اکٹھا کرے گا۔ وہی دن درحقیقت ہار جیت کا دن ہو گا۔ اور جو ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے ہوں گے اللہ ان کے گناہوں کو جھاڑ دے گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ بڑی کامیابی درحقیقت یہ ہے!
    سلامتی کی راہ: یعنی بجائے اس کے کہ اپنے کو اس مغالطے میں مبتلا رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مرنے کے بعد زندہ نہیں کر سکتا، سلامتی اس بات میں ہے کہ اس دن کو برابر یاد رکھو جس دن اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا کیے جانے کے دن کے لیے اکٹھا کرے گا یعنی اس دن کے لیے اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں طے شدہ ہے، جس کے دلائل آفاق و انفس میں موجود ہیں، جس کی شہادت تمام نبیوں اور رسولوں اور تمام آسمانی صحیفوں نے دی ہے، جس کا واقع ہونا اس دنیا کے بامقصد و باغایت ہونے کے لیے ضروری ہے اور جو واقع نہ ہو تو یہ دنیا بالکل عبث، بے حکمت ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے:’ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوْدٌ‘ (ہود ۱۱: ۱۰۳) (وہ دن ہے جس کے لیے لوگ جمع کیے جائیں گے اور وہ حاضری کا دن ہو گا)۔ دوسری جگہ فرمایا ہے:’قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ ۵ لَمَجْمُوْعُونَ إِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ‘ (الواقعہ ۵۶: ۴۹-۵۰) (کہہ دو، تمام اگلے اور پچھلے ایک معین دن کے وقت مقرر پر حاضر کیے جائیں گے)۔ ان آیات میں ایک مقررہ وقت پر تمام اگلوں پچھلوں کے جمع کیے جانے پر جو زور ہے وہ ان نادانوں کے استبعاد کو رفع کرنے کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ بھلا اتنی بے شمار مخلوقات کو خشکی و تری، دریاؤں اور پہاڑوں کے کونے کونے سے کون جمع کر سکتا ہے؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن اس جمع کے لیے مقرر کر رکھا ہے اور یہ بات لازماً ہو کے رہے گی۔ شکوک میں رہنے کے بجائے اس کے لیے تیاری کرو اور اس کو برابر یاد رکھو۔ ہار جیت کا دن: ’ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ‘۔ ’یَوْمُ التَّغَابُنِ‘ کا ترجمہ شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے ’ہار جیت کا دن‘ کیا ہے۔ یہ ترجمہ ہمارے نزدیک لفظ کی صحیح روح کے مطابق ہے۔ اس ہار جیت کی وضاحت آگے قرآن نے خود کر دی ہے۔ فرمایا ہے کہ جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو لغزشوں کے اثرات سے پاک کر کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور جن کو یہ چیز حاصل ہوئی ان کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے بالکل برعکس ان لوگوں کا حال ہو گا جنھوں نے اللہ کا کفر اور اس کی آیتوں کی تکذیب کی ہو گی۔ یہ لوگ دوزخ میں پڑیں گے اور اسی میں ہمیشہ رہیں گے اور نہایت ہی برا ٹھکانا ہو گا۔
    اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخ والے ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہو گا۔
    فرمایا ہے کہ جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو لغزشوں کے اثرات سے پاک کر کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور جن کو یہ چیز حاصل ہوئی ان کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے بالکل برعکس ان لوگوں کا حال ہو گا جنھوں نے اللہ کا کفر اور اس کی آیتوں کی تکذیب کی ہو گی۔ یہ لوگ دوزخ میں پڑیں گے اور اسی میں ہمیشہ رہیں گے اور نہایت ہی برا ٹھکانا ہو گا۔ مطلب یہ ہے جو لوگ آخرت کے منکر ہیں انھوں نے تو اسی دنیا کو ہار جیت کا میدان سمجھ رکھا ہے۔ جن کو دنیا کی رفاہیتیں حاصل ہو گئیں وہ سمجھ بیٹھے کہ انھوں نے بازی جیت لی اور جن کو نہیں حاصل ہوئیں ان کو ناکام و نامراد سمجھ لیا۔ حالانکہ یہ دنیا دارالانعام نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ دارالانعام آخرت ہے جس میں بازی وہ لوگ جیتیں گے جو اس دنیا میں ایمان و عمل صالح کی زندگی گزاریں گے اگرچہ اس دنیا کی متاع میں سے انھیں کوئی چیز بھی حاصل نہ ہوئی ہو اور وہ لوگ وہاں بالکل محروم و نامراد ہوں گے جو ایمان و عمل صالح سے محروم اٹھیں گے اگرچہ دنیا میں انھیں قارون کے خزانے حاصل رہے ہوں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ جو لوگ اسی دنیا کو ہار جیت کا میدان سمجھ بیٹھیں گے ان کے لیے یہ بالکل ناممکن ہے کہ وہ اپنے عیش و آرام کو قربان کر کے دوسروں کی خدمت و اعانت کی راہ میں اپنے مال صرف کریں۔ اگر کبھی وہ حوصلہ کرنا بھی چاہیں تو فوراً یہ اندیشہ ان کا حوصلہ پست کر دے گا کہ اگر کل کو کوئی ناگہانی آفت یا مشکل پیش آ گئی تو کیا بنے گا! البتہ جو شخص ہار جیت کا اصل میدان آخرت کو سمجھے گا اس کو اس طرح کا کوئی اندیشہ پست حوصلہ نہیں کر سکتا۔ اگر کبھی کوئی دغدغہ دل میں پیدا ہو گا بھی تو وہ اس کو شیطانی دغدغہ سمجھے گا اور بے دھڑک اپنی آخرت کی کامیابی کے لیے اپنے رب کے بھروسہ پر بازی کھیل جائے گا۔
    جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے۔ اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کی رہنمائی کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
    ایک وسوسہ کا علاج: یہ اس دغدغہ کو دور فرمایا ہے جو آخرت کی بازی کھیلنے کی راہ میں مزاحم ہو سکتا ہے، فرمایا کہ اللہ و رسول کی اطاعت اور ان کی رضا طلبی کی راہ میں قدم اٹھاتے ہوئے اس وسوسہ کو کوئی اہمیت نہ دو کہ کل کو کوئی مشکل پیش آ گئی تو کیا ہو گا! کوئی مصیبت بھی بندوں پر اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں آتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کسی ایسے شخص کے لیے ممکن نہیں ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو۔ تو بندے کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ جو کام وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں کرے گا وہ اس کے لیے کسی ایسی آزمائش کا سبب نہیں بن سکتا جو اس کی قوت برداشت سے زیادہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی قوتوں اور صلاحیتوں سے سب سے زیادہ واقف ہے۔ وہ کسی پر اس کی قوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالے گا۔ ’وَمَنْ یُؤْمِنْ بِاللہِ یَہْدِ قَلْبَہٗ وَاللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ‘۔ یہ اللہ کی راہ میں آزمائشوں کا مقابلہ کرنے والوں کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر تم اپنے ایمان میں مضبوط رہو گے تو کوئی آزمائش تمہیں پست حوصلہ نہیں کر سکے گی بلکہ اللہ تعالیٰ عین وقت پر روح القدس کے ذریعہ سے تمہارے دل کی رہنمائی فرمائے گا۔ تمہارا رب ہر چیز سے باخبر ہے۔ وہ اپنے بندوں کے احوال کو جانتا ہے اور ٹھیک وقت پر ان کی مدد کے لیے غیب سے سامان کرتا ہے۔ یہی بات سیدنا مسیح علیہ السلام نے بھی اپنے شاگردوں کو خطاب کر کے فرمائی ہے کہ جب لوگ تم کو میرے کام پر عدالتوں میں پکڑوائیں تو یہ فکر نہ کرنا کہ کیا کہو گے، میرا خداوند عین وقت پر روح القدس سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ سورۂ حدید کی آیت ۲۲ میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
    اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پس اگر تم اعراض کرو گے تو ہمارے رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔
    یعنی غلط قسم کے اندیشوں اور اوہام میں مبتلا ہو کر اللہ و رسول کی اطاعت سے جی نہ چراؤ ورنہ یاد رکھو کہ رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات تم کو واضح طور پر پہنچا دے۔ یہ فرض اس نے ادا کر دیا تو وہ اللہ کے ہاں بری الذمہ ہوا۔ تمہارے ایمان کی بابت اس سے پرسش نہیں ہو گی بلکہ تم سے پرسش ہو گی کہ تم نے اس کی دعوت کیوں قبول نہیں کی۔
    اللہ ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں اہل ایمان۔
    فرمایا کہ آسمان و زمین میں کوئی اور الٰہ نہیں ہے جس سے کسی ضرر کا اندیشہ یا کسی نفع کی توقع ہو۔ صرف اللہ ہی ہے جو نفع یا ضرر پہنچا سکتا ہے۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔ یہی ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
    اے ایمان والو! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے لیے دشمن ہیں تو ان سے بچ کے رہو اور اگر تم معاف کرو گے، درگزر کرو گے اور بخشو گے تو اللہ غفور رّحیم ہے۔
    ایک بہت بڑی آزمائش سے آگاہی: یہ ان آزمائشوں میں سے ایک بہت بڑی آزمائش سے متنبہ فرمایا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے حقوق و فرائض اور اس کی راہ میں انفاق جان و مال سے روکنے والی بنتی ہیں، یعنی بیوی بچوں کی محبت۔ یہ محبت ہے تو ایک فطری چیز لیکن ساتھ ہی یہ انسان کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ اس محبت میں اور خدائی محبت میں بسا اوقات تصادم ہوتا ہے۔ اگر آدمی کا علم و ایمان پختہ نہ ہو تو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس پر بیوی بچوں کا مفاد اور ان کی محبت اس قدر غالب آ جائے کہ وہ خدا کی محبت کو نظرانداز کر بیٹھے درآنحالیکہ یہ چیز اس کے ایمان کو غارت کر دینے والی ہے۔ عرب شعراء جاں بازی اور فیاضی پر ملامت کرنے والیوں کی ملامت کا ذکر بہت کرتے ہیں اور ایک حدیث شریف میں بھی ہے کہ آدمی کے بیوی بچے اس کو سب سے زیادہ بخل و بزدلی پر مجبور کرنے والے ہیں۔ اسی چیز کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ آدمی کے اہل و عیال میں سے بعض اس کے دشمن ہوتے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے حقوق سے روکنے والے بن جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ کام بظاہر خیر خواہانہ انداز میں کرتے ہیں لیکن یہ چیز انجام کار کے اعتبار سے باعث ہلاکت ہے اس وجہ سے وہ درحقیقت وہ کام کرتے ہیں جو دشمن کرتا ہے۔ ’إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ‘ میں حرف ’مِنْ‘ تبعیض کے لیے ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص کے بیوی بچے لازماً ایسے ہی ہوں۔ بہتوں کے بیوی بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو راہ حق میں مزاحم ہونے کے بجائے معاون ہوتے ہیں لیکن اگر کسی کے اہل و عیال ایسے نہیں ہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ ان سے بچ کے رہے کہ وہ اس کے لیے پھندا نہ بننے پائیں۔ ’وَإِنْ تَعْفُوۡا وَتَصْفَحُوۡا وَتَغْفِرُوۡا فَإِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یہ بچ کے رہنے کی وضاحت ہے کہ تمہارے لیے یہ دیکھنا تو ضروری ہے کہ وہ تم کو اللہ کی راہ سے روکنے والے نہ بنیں لیکن ساتھ ہی یہ لحاط رکھنا بھی ضروری ہے کہ حتی الامکان یہ چیز قطع تعلق اور مفارقت پر منتہی نہ ہو بلکہ جس حد تک گنجائش ہو عفو و درگزر اور چشم پوشی سے کام لو اور یہ امید رکھو کہ اللہ غفور رحیم ہے۔ وہ تمہاری کوتاہیوں سے بھی درگزر فرمائے گا اور ان کی کمزوریوں کو بھی معاف کرے گا۔ معلوم ہوا کہ جس کو اس طرح کی آزمائش سے سابقہ پیش آئے اس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی فتنہ میں پڑنے سے بچائے اوراپنے قول و عمل سے اپنے اہل و عیال کی کمزوری کی اصلاح کی کوشش کرے لیکن جب تک کفر و ایمان کا کوئی سوال پیدا نہ ہو اس وقت تک ان سے قطع تعلق نہ اختیار کرے بلکہ عفو و درگزر سے کام لے۔ گویا ان کے ساتھ زندگی تو گزارے لیکن گھل مل کر نہیں بلکہ بچ بچا کر اس طرح کہ خود بھی محفوظ رہے اور ان کی بھی اصلاح ہو۔
    تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے امتحان ہیں اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔
    یہ اس مضمون کی مزید وضاحت ہے۔ ’فِتْنَۃٌ‘ کے معنی امتحان و آزمائش کے ہیں۔ فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہاری آزمائش کے لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے ذریعہ سے تمہارا امتحان کیا ہے کہ تم ان کی محبت میں پھنس کر خدا اور اس کے حقوق کو بھول جاتے ہو یا ان کو خدا کی محبت اور اس کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ بناتے ہو۔ اگر پہلی راہ اختیار کرو گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کے امتحان میں تم ناکام رہے۔ اللہ کی محبت پر تم نے مال و اولاد کی محبت کو ترجیح دی حالانکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی ہر چیز سے زیادہ اللہ کو محبوب رکھے۔’وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوۡا أَشَدُّ حُبّاً لِّلّٰہِ‘ (البقرہ ۲: ۱۶۵) (اہل ایمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں) اور اگر دوسری راہ اختیار کرو گے تو یہی راہ فوز و فلاح کی راہ ہے۔ یہ راہ اختیار کر کے اس دنیا میں کوئی نقصان بھی اٹھاؤ گے تو اطمینان رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر نقصان کی تلافی آخرت میں اجر عظیم سے فرمائے گا۔
    تو اللہ سے ڈرتے رہو جہاں تک ہو سکے اور سنو اور مانو اور خرچ کرو اپنی بھلائی کے لیے۔ اور جو حرص نفس کی بیماری سے محفوظ رکھے گئے وہی فلاح پانے والے ہوں گے۔
    فلاح کی راہ: یہ اس سلسلہ کی آخری نصیحت ہے کہ اللہ سے برابر ڈرتے رہو کہ شیطان تمہیں کسی فتنہ میں نہ ڈالنے پائے۔ یہ ڈرنا تاحد امکان ہو۔ تمہارے امکان میں جس حد تک ہے اگر اس حد تک تم اللہ سے ڈرنے کی کوشش کرو گے تو اللہ تعالیٰ شیطان کو تم پر قابو پانے نہیں دے گا ورنہ مال و اولاد کے کسی فتنہ میں پڑ کر تم اللہ کی راہ سے اتنے دور ہو جاؤ گے کہ تمہارے لیے بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہے گا۔ ’وَاسْمَعُوْا وَأَطِیْعُوْا وَأَنفِقُوْا خَیْرًا لِّأَنۡفُسِکُمْ‘۔ یہ وہی اوپر والی بات مثبت انداز میں فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو اور مانو اور خدا کی راہ میں جس انفاق کی دعوت دی جا رہی ہے اس پر لبیک کہو۔ اس انفاق کا اصلی نفع اللہ و رسول کو نہیں حاصل ہو گا بلکہ تمہی کو حاصل ہو گا اگر تم خلوص اور فیاضی سے خرچ کرو گے۔ ’وَمَنْ یُوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَأُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘۔ ’شُحٌّ‘ کے معنی بخل و حرص کے ہیں۔ فرمایا کہ انسان کے نفس کے اندر جو بخل ہے اگر وہ نفس پر غالب آ جائے تو وہ اس کے لیے تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ مبارک ہیں اللہ کے وہ بندے جو اس کے غلبہ سے محفوظ رکھے گئے۔ آخرت میں فلاح پانے والے وہی بنیں گے۔ ’شُحَّ‘ کی اضافت ’نفس‘ کی طرف اس بات کی دلیل ہے کہ نفس انسانی جن داعیات سے مرکب ہے ان میں اس کا بھی ایک مقام ہے لیکن یہ ان دعاوی میں سے ہے جن سے اگر ہوشیار نہ رہا جائے تو یہ شہوت یا غضب کی طرح انسان کو ہلاکت میں ڈال سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ اس کو اتنی ڈھیل نہ دی جائے کہ یہ نفس پر غالب آ کر ایثار و قربانی کے جذبات کو دبا لے۔ اس کا طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ جب یہ جذبہ غالب ہونے لگے تو انسان اس کے علی الرغم انفاق کر کے اس کو دباتا رہے یہاں تک کہ یہ اتنا کمزور ہو جائے کہ نیکی کے اقدامات میں مزاحم نہ ہو سکے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے اس جذبہ کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کوشش میں وہ کامیاب ہوتے ہیں اور جو اس کوشش میں کامیاب ہوئے آخرت کی فلاح کے حق دار وہی ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کی رضا جوئی کے اعمال میں انفاق کا درجہ سب سے اونچا ہے بالخصوص وہ انفاق جو آدمی اپنی ذاتی ضروریات کو نظر انداز کر کے کرتا ہے۔ ’یُؤْثِرُوْنَ عَلٰی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ‘ (الحشر ۵۹: ۹) (وہ اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوں)۔  
    اگر تم اللہ کو قرض حسن دو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے مضاعف کرے گا اور تمہیں بخشے گا اور اللہ قدردان اور بردبار ہے۔
    قرض حسن کا موقع و محل اور اس کی حقیقت: یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ اوپر جس انفاق کا حکم ہے وہ اللہ کی راہ میں ہر قسم کے انفاق کے لیے ہے خواہ اس کا تعلق صدقات و زکوٰۃ سے ہو یا جہاد سے۔ اس آیت میں خاص طور پر جہاد کے لیے انفاق کی تاکید ہے۔ قرآن میں لفظ ’قرض‘ عام طور پر جہاد ہی کے انفاق کے لیے آیا ہے اور اس لفظ کے استعمال میں جو اپیل اور بلاغت ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ سورۂ مزمل میں فرمایا ہے: وَأَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَأَقْرِضُوا اللہَ قَرْضًا حَسَنًا (المزمل ۷۳: ۲۰) ’’اور نماز کا اہتمام کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض دو اچھا قرض۔‘‘ اس آیت میں ’وَآتُوا الزَّکَاۃَ‘ کے بعد ’وَأَقْرِضُوا اللہَ‘ سے مراد وہ انفاق ہے جو خاص حالات کے اندر اللہ کی راہ میں مطلوب ہوتا ہے۔ ’یُضَاعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ‘۔ ’مُضَاعَفَۃٌ‘ کے معنی صرف دونا کرنے کے نہیں آتے ہیں بلکہ یہ مجرد بڑھانے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ خواہ یہ بڑھانا دوگنا کرنے کی نوعیت کا ہو یا ’اَضْعَافًا مُضَاعَفَۃ‘ کی نوعیت کا۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم سے جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے خزانے میں کوئی کمی ہو گئی ہے جس کے سبب سے قرض مانگنے کی نوبت آ گئی ہے۔ اس کا خزانہ بدستور بھرپور ہے۔ یہ قرض وہ اس لیے مانگ رہا ہے کہ تمہارے لیے نفع کمانے کی راہ کھولے کہ تم اس کی راہ میں ایک خرچ کر کے آخرت میں دس گنا بلکہ ستر گنا وصول کرو۔ اس کے لیے شرط صرف یہ ہے کہ یہ ’قرض حسن‘ ہو۔ ’قرض حسن‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہم کر چکے ہیں کہ یہ قرض اچھے مال میں سے دیا جائے، خوش دلی اور فیاضی سے دیا جائے اور خود ضرورت مند ہونے کے باوجود دیا جائے۔ جس قرض کے اندر یہ خوبیاں ہوں گی اللہ اس کو کئی گنا بڑھا کر قرض دینے والوں کو واپس بھی کرے گا اور ان کو اپنی مغفرت سے بھی نوازے گا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا حوالہ: ’وَاللہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ‘۔ ’شَکُوْرٌ‘ کے معنی قدردانی کے ساتھ قبول کرنے والے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی نیکیوں کا بڑا ہی قدردان اور ان کی بڑی پذیرائی فرمانے والا ہے۔ اگرچہ وہ غنی و حمید ہے؛ اس کے بندے اس کے حضور میں جو نذرانے پیش کرتے ہیں اسی کے دیے ہوئے مال میں سے پیش کرتے ہیں لیکن وہ ان کو حقیر نہیں خیال کرتا بلکہ وہ ان کو قدر کے ساتھ قبول کرتا اور ان کو پروان چڑھاتا ہے۔ ساتھ ہی وہ ’حَلِیْمٌ‘ ہے اس وجہ سے اپنے بندوں کے ساتھ نہایت فیاضانہ معاملہ کرتا ہے۔ اگر وہ بڑی برائیوں سے بچنے والے ہوتے ہیں تو ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے وہ چشم پوشی فرماتا ہے۔  
    جاننے والا ہے غائب و حاضر کا۔ عزیز و حکیم ہے۔
    یعنی اللہ تعالیٰ تمام غائب و حاضر کا جاننے والا بھی ہے اور ساتھ ہی عزیز و حکیم بھی ہے۔ اس کی رضا جوئی کے لیے تم جو قربانی بھی کرو گے وہ اس سے مخفی نہیں رہے گی اور یہ بھی اطمینان رکھو کہ اگر تم اس کا ساتھ دو گے تو وہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے بلکہ وہ ہر چیز پر غالب اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ اس پر بھروسہ کرنے والے کبھی نامراد نہیں ہوتے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے والے کبھی ٹھوکر نہیں کھاتے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List