Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المنافقون (The Hypocrites)

    11 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ الجمعۃ ۔۔۔ کے تکملہ اور تتمہّ کی حیثیت رکھتی ہے۔ سورۂ جمعہ کے آخر میں ان لوگوں کی کمزوری سے پردہ اٹھایا ہے جو مدعی تو تھے ایمان کے لیکن اپنے دنیوی منافع اور کاروباری مصالح کے پھندوں میں اس طرح گرفتار تھے کہ کوئی تجارتی قافلہ آ جاتا تو اس کی خبر پاتے ہی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خطبہ دیتے چھوڑ کر اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے۔ اس سورہ میں منافقین کے کردار سے بحث کی ہے کہ یہ ایمان کا کوئی مطالبہ پورا کرنے کا حوصلہ تو رکھتے نہیں لیکن یہ خواہش رکھتے ہیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نظر میں ان کا بھرم قائم رہے۔ اس کے لیے انھوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ قسمیں کھا کھا کر پیغمبرؐ کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ آپ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں لیکن اللہ بھی قسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔ ان کے اعمال گواہ ہیں کہ یہ نہ اللہ پر ایمان رکھتے نہ رسول پر۔ یہ اپنی قسموں کو بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں اور ان کی آڑ میں اپنے نفاق کو چھپاتے ہیں۔ انھوں نے ایمان کی راہ میں جو قدم اٹھایا وہ مال و جان کی محبت میں پھنس کر واپس لے لیا اس وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور اب وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔

  • المنافقون (The Hypocrites)

    11 آیات | مدنی
    المنافقون - التغابن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں اہل ایمان کو منافقین سے، جو اب سرکش ہو رہے تھے اور دوسری میں اپنے اہل و عیال سے جو راہ حق میں مزاحم ہو سکتے تھے، بچ کر رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پھر دونوں میں نصیحت کی گئی ہے کہ لوگ آخرت ہی کو اصل حقیقت سمجھ کر اللہ کی راہ میں انفاق کریں اور اللہ و رسول کی رضا جوئی کے راستے میں ہر قربانی کے لیے تیار رہیں۔

    دونوں میں خطاب اصلاً مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- المنافقون—- کا موضوع مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ وہ اُن کی باتوں اور بات بات پر قسمیں کھانے سے متاثر نہ ہوں، اِس لیے کہ وہ اُنھیں انفاق سے روکنا اور اِس طرح اللہ و رسول سے برگشتہ کر دینا چاہتے ہیں۔

    دوسری سورہ—- التغابن—- کا موضوع اُنھیں یہ بتانا ہے کہ تمھارے دشمن تمھارے گھر میں بھی ہو سکتے ہیں، اِس لیے متنبہ رہو کہ اصلی چیز یہ بیوی بچے اور اہل و عیال نہیں ہیں۔ دنیا کی مصیبتوں سے ڈرا کر یہ آخرت کے بارے میں تمھیں شبہات میں مبتلا کر رہے ہیں، دراں حالیکہ اصلی چیز آخرت ہے، ہار جیت کا دن درحقیقت وہی ہے، اُس میں کامیابی چاہتے ہو تو اللہ و رسول کی رضا طلبی کے راستے میں ایثار و قربانی کے لیے تیار رہو اور اِس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور کسی ناصح کی نصیحت کی پروا نہ کرو۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 063 Verse 001 Chapter 063 Verse 002 Chapter 063 Verse 003 Chapter 063 Verse 004 Chapter 063 Verse 005 Chapter 063 Verse 006 Chapter 063 Verse 007 Chapter 063 Verse 008 Chapter 063 Verse 009 Chapter 063 Verse 010 Chapter 063 Verse 011
    Click translation to show/hide Commentary
    جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں، کہتے ہیں، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ بے شک تم اس کے رسول ہو اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔
    پختہ کار منافقین کا کردار: ایک گروہ کے منافقانہ طرز عمل کی طرف اشارہ پچھلی سورہ میں بھی ہوا ہے لیکن بات عام صیغہ سے درپردہ فرمائی گئی تھی، اس سورہ میں پردہ بالکل اٹھا دیا گیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس میں ان منافقین کا کردار زیربحث ہے جو نفاق میں اتنے پختہ ہو چکے تھے کہ ان سے کسی اصلاح کی توقع باقی نہیں رہی تھی چنانچہ ان کے بارے میں آگے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا بھی ہے کہ ان کے لیے تم مغفرت مانگو بھی تو اللہ ان کی مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ بلکہ دوسرے مقام میں یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر تم ستر بار بھی ان کے لیے مغفرت مانگو جب بھی اللہ ان کی مغفرت فرمانے والا نہیں ہے۔ فرمایا کہ یہ منافقین جب تمہارے پاس (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آتے ہیں تو قَسم کھا کر اقرار کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اللہ بھی قَسم کھا کر کہتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ عربی میں ’نَشْہَدُ‘ اور ’وَاللہُ یَشْہَدُ‘ کے الفاظ قَسم کے مفہوم کے حامل ہوتے ہیں۔ یعنی منافقین قسمیں کھا کھا کر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مومن و مسلم ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ ان کو قسمیں کھانے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آتی کہ ان کی پیہم غلطیوں نے ان کو اس قدر ساقط الاعتبار بنا دیا تھا کہ وہ خود بھی محسوس کرنے لگے تھے کہ جب تک قسم کھا کے وہ بات نہیں کہیں گے کوئی اس کو باور نہیں کرے گا۔ جس آدمی کو اپنے عمل پر اعتماد ہوتا ہے وہ بے ضرورت قسم نہیں کھاتا لیکن جس کو اپنے عمل پر بھروسہ نہ ہو اس کا واحد سہارا قسم ہی ہوتی ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ زیادہ قسم کھانے والے کی صفت قرآن میں ’مَھین‘ آئی ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ’وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ‘ (القلم ۶۸: ۱۰) (اور تم زیادہ قسمیں کھانے والے ذلیل کی بات پر کان نہ دھرو)۔ ’وَاللہُ یَعْلَمُ إِنَّکَ لَرَسُوۡلُہُ وَاللہُ یَشْہَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَکَاذِبُوۡنَ‘۔ یہ فقرہ غایت درجہ بلیغ اور برمحل ہے۔ فرمایا کہ جہاں تک تمہارے رسول ہونے کا تعلق ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ان کی شہادت کی محتاج نہیں ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ تم اس کے رسول ہو۔ لیکن اللہ یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنی اس شہادت میں جھوٹے ہیں۔  
    انھوں نے اپنی قَسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں۔ بے شک نہایت ہی برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔
    قَسم کو سپر بنانے والوں کا انجام: لیکن انھوں نے تمہاری گرفت سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی قسموں کوڈھال بنایا ہے کہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کے سبب سے، جو وہ اسلام کے خلاف برابر کر رہے ہیں، تمہیں ان کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو، وہ اسلام کے برابر مخلص سمجھے جاتے رہیں۔ سورۂ مجادلہ آیت ۱۴ میں ان منافقین ہی کی یہ سازش بیان ہوئی ہے کہ انھوں نے خدا کی مغضوب قوم یہود سے دوستی گانٹھ رکھی ہے۔ ایک طرف اپنی قسموں کے ذریعہ سے انھیں اطمینان دلا رکھا ہے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں؛ دوسری طرف مسلمانوں کو بھی قسم کھا کر اطمینان دلاتے ہیں کہ ہم تو آپ لوگوں کے ساتھی ہیں۔ اس کے بعد معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ یہی آیت وہاں بھی آئی ہے۔ فرمایا ہے: اِتَّخَذُوْا أَیْْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنۡ سَبِیْلِ اللہِ فَلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ (المجادلہ ۵۸: ۱۶) ’’انھوں نے اپنی قَسموں کو سپر بنا رکھا ہے پس وہ اللہ کی راہ سے رک گئے اور ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔‘‘ یعنی اس سپر کی آڑ میں وہ بزعم خود اپنے کو یہود سے بھی محفوظ کیے ہوئے ہیں اور مسلمانوں سے بھی اور اس طرح انھوں نے اللہ کی راہ میں جو قدم اٹھایا تھا وہ روک لیا ہے لیکن یہ پناہ گاہ زیادہ عرصہ تک ان کی حفاظت نہ کر سکے گی بلکہ بہت جلد ان کو ایک ذلیل کرنے والے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ’فَصَدُّوْا عَنۡ سَبِیْلِ اللہِ‘۔ لفظ ’صَدٌّ‘ لازم اور متعدی دونوں آتا ہے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ لازم کے مفہوم میں ہے۔ یعنی پہلے اسلام کی طرف انھوں نے قدم بڑھایا لیکن قَسموں کی آڑ میں اب رک گئے۔ ان کا گمان یہ ہے کہ جب مجرد قسموں کے بل پر بھی اپنی اسلامیت کی دھونس جمائی جا سکتی ہے اور مسلمانوں کو دھوکا دیا جا سکتا ہے تو اس سے آگے بڑھ کر اپنے لیے خطرات کو کیوں دعوت دی جائے۔ فرمایا کہ ’إِنَّہُمْ سَآءَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘ وہ اس کو بڑی دانش مندانہ سیاست سمجھ رہے ہیں لیکن یہ دانش مندانہ سیاست نہیں بلکہ نہایت ہی احمقانہ چال ہے جس کے نہایت مہلک نتائج ان کے آگے آئیں گے۔  
    یہ اس سبب سے ہے کہ یہ پہلے ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی پس یہ سمجھنے سے عاری ہو گئے۔
    فرمایا کہ یہ راہ انھوں نے اس وجہ سے اختیار کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے جس کے سبب سے وہ فکر سلیم کی نعمت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس مہر کے لگنے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کی راہ اختیار کر لی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جن کو وہ ایک مرتبہ اسلام کی روشنی دکھا دیتا ہے اگر وہ اس کی قدر کرتے ہیں تو ان کی روشنی میں اضافہ کرتا ہے اور اگر قدر نہیں کرتے بلکہ مڑ مڑ کر پیچھے ہی کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کی وہ روشنی بھی سلب ہو جاتی ہے اور ان کے دل پر مہر بھی کر دی جاتی ہے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ پھر وہ صحیح سونچنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔ یہود کے دلوں پر جو مہر لگی اس کے وجوہ اور اثرات کی تفصیل سورۂ بقرہ میں بیان ہوئی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ انہی لوگوں کے بارے میں حضرت مسیحؑ نے فرمایا کہ ان سے وہ بھی لے لیا جاتا ہے جو ان کے پاس ہوتا ہے۔
    اور جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کے جسم تمہیں اچھے لگتے ہیں اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو تم ان کی بات سنتے ہو لیکن ان کی مثال ایسی ہے گویا وہ لکڑی کے کندے ہوں جنھیں دیوار سے ٹیک لگا دی گئی ہو۔ وہ ہر خطرہ اپنے ہی اوپر سمجھتے ہیں۔ اصلی دشمن وہی ہیں، پس ان سے بچ کے رہو۔ اللہ ان کو غارت کرے! کس طرح ان کی عقل الٹ گئی ہے!
    منافقین کے ظاہر اور باطن کی تصویر: یہ ان منافقین کی تصویر ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں ان کے ظاہر اور باطن دونوں کی اس طرح تصویر کھینچ دی گئی ہے کہ کوئی پہلو بھی مخفی نہیں رہ گیا ہے۔ اوپر کے دو فقروں میں ان کے ظاہر کی تصویر ہے۔ بعد کے دو فقروں میں ان کے باطن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے ہوشیار رہنے کی تاکید اور ساتھ ہی ان کی حالت پر اظہار افسوس ہے۔ ’وَإِذَا رَأَیْْتَہُمْ تُعْجِبُکَ أَجْسَامُہُمْ‘۔ فرمایا کہ جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کے پلے ہوئے جسم اور ان کی پالش کی ہوئی شکلیں تمہیں دل کش معلوم ہوتی ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ ان منافقین کے مالی حالات اچھے تھے۔ اول تو انھوں نے حرام و حلال، ہر راستہ سے، دولت اکٹھی کر رکھی تھی۔ دوسرے یہ انتہا درجہ کے بخیل تھے، اپنے ذاتی آرام و عیش کے سوا کسی دوسرے دینی و اجتماعی کام پر کوڑی بھی خرچ کرنے کے روادار نہ تھے۔ ان کی اس رفاہیت کا اثر ان کے جسموں اور ان کی شکلوں میں نمایاں تھا۔ ان کا سردار مشہور منافق عبداللہ بن اُبّی بڑا دولت مند تھا۔ اس کے جتھے کے دوسرے آدمی بھی خوش حال تھے۔ ’وَإِنْ یَقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ‘۔ یعنی یہ بڑے چرب زبان بھی ہیں۔ جب باتیں کرتے ہیں تو اسلام کی حمیت و حمایت میں اس طرح تقریر کرتے ہیں کہ مخاطب کا دل موہ لیتے ہیں اور وہ ان کی باتیں سننے لگتا ہے۔ اوپر ذکر آیا ہے کہ یہ لوگ اللہ و رسول کو اپنی وفاداری کا یقین اپنی قسموں اور جادو بیانی سے دلاتے ہیں۔ سورۂ محمد میں ان کی یہ خصوصیت بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ زبان سے جوش جہاد کا اظہار بہت کرتے ہیں لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو چھپنے لگے۔ ان منافقین کو چونکہ اندازہ تھا کہ ان کی بزدلی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ظاہر ہے اور عام مسلمانوں پر بھی اس وجہ سے بھی یہ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو کوشش کرتے کہ اپنے زور خطابت سے حضورؐ کو یہ باور کرا دیں کہ وہ اسلام کے فدائی اور اس کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے والے ہیں۔ حضورؐ اگرچہ زبان کے ان غازیوں سے اچھی طرح واقف تھے لیکن کریم النفسی کے سبب سے آپؐ ان کی باتیں سن لیتے جن سے ان کو اطمینان ہو جاتا کہ ان کی جادوبیانی کارگر ہو گئی۔ ’کَأَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ‘۔ یہ ان کے باطن پر عکس ڈالا گیا ہے کہ ہر چند ان کے جسم اور ان کی شکلیں دل کش ہیں لیکن ان کے جسموں کے اندر جو دل ہیں وہ مردہ ہیں۔ ان پر، جیسا کہ اوپر والی آیت میں فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ہے۔ اس روحانی اور قلبی موت کے سبب سے تمہاری مجلس میں ان کی مثال بالکل ایسی ہوتی ہے کہ گویا لکڑی کے کھوکھلے کندے ہوں جنھیں لباس پہنا کر دیواروں سے ٹیک لگا دی گئی ہو۔ ’یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْْحَۃٍ عَلَیْْہِمْ‘۔ ’صَیْْحَۃٌ‘ کے لغوی معنی تو چیخ کے ہیں لیکن یہ خطرہ کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ اپنی طلاقت لسانی سے تمہیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ بڑے بہادر اور اسلام کی راہ میں ہر قربانی کے لیے تیار ہیں لیکن یہ پرلے سرے کے بزدل ہیں۔ کہیں بھی کوئی خطرہ نمودار ہو یہ اپنی بزدلی کے سبب سے خیال کرتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ بجلی انہی پر گرنے والی ہے۔ جن کی بزدلی کا یہ حال ہے ان سے اس وقت کیا توقع کی جا سکتی ہے جب فی الواقع انھیں کسی حقیقی خطرے کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ ’ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ‘۔ یعنی یہ تو اپنے کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے تمہاری نظروں میں دوسروں کو مشکوک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسلام کے اصلی دشمن درحقیقت یہی ہیں۔ ان سے ہر وقت چوکنے رہو۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ ان منافقین کی ایک چال یہ بھی تھی کہ یہ جن جرائم کا ارتکاب خود کرتے ان کا الزام دوسرے بے گناہ مسلمانوں کے سر تھوپتے تاکہ حضورؐ کے سامنے یہ بے گناہ بنے رہیں۔ ’قَاتَلَہُمُ اللہُ أَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ‘۔ یہ ان کو زجر و ملامت بھی ہے اور ان کے حال پر اظہار افسوس بھی۔ فرمایا کہ اللہ ان کو غارت کرے! یہ کس طرح اوندھے کر دیے گئے ہیں کہ ان کا ہر قدم الٹا ہی پڑ رہا ہے! ان منافقین کے اس کردار کی تصویر قرآن میں جگہ جگہ کھینچی گئی ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک مثال سورۂ بقرہ سے پیش کرتے ہیں: وَمِنَ النَّاسِ مَن یُعْجِبُکَ قَوْلُہُ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہٖ وَہُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ۵ وَإِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَ ۵ وَإِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ أَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالإِثْمِ فَحَسْبُہُ جَہَنَّمُ وَلَبِئۡسَ الْمِہَادُ (البقرہ ۲: ۲۰۴-۲۰۶) ’’اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جن کی بات دنیا کی زندگی کے باب میں تمہیں دل کش لگتی ہے اور وہ اپنے دل کے حال پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ہیں اور جب وہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ زمین میں اس لیے ہوتی ہے کہ اس میں فساد برپا کریں اور مال و جان کو تباہ کریں۔ اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا اور جب ان کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو عزت کا خیال ان کو گناہ میں گرفتار کر لیتا ہے تو ان کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔‘‘  
    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ، اللہ کا رسول تمہارے لیے استغفار کرے تو وہ اپنے سر مٹکاتے ہیں اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ غرور کے ساتھ اعراض کرتے ہیں۔
    جھوٹی عزت نفس: یہ وہی بات ذرا مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے جو سورۂ بقرہ کی مندرجہ بالا آیت میں ’وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی سازشوں اور شرارتوں کے نوٹس میں آنے کے بعد جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر توبہ کرو تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے استغفار کریں اور آپؐ کا استغفار اللہ کے ہاں تمہارے لیے سفارش بنے تو اکڑتے اور اپنے سر مٹکاتے ہیں اور نہایت غرور کے ساتھ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ ان کے مغرورانہ اعراض کا اظہار ان کے جوارح سے جس طرح ہوتا ہے اس کی تعبیر ’لَوَّوْا رُءُ وْسَھُمْ‘ کے الفاظ سے کی گئی ہے اور یہ بلیغ ترین تعبیر ہے۔ باطن میں اس کا جو اثر مترتب ہوتا ہے اس کو ’یَصُدُّوْنَ وَھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ‘ کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ گویا ان کا ظاہر و باطن دونوں سامنے کر دیا گیا ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ جن لوگوں کے اندر اخلاقی جرأت نہیں ہوتی وہ اپنے گناہوں کے ظاہر ہو جانے کے بعد بھی ان کا اعتراف یا ان پر اظہار ندامت نہیں کرتے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر ایک بار اعتراف جرم کر لیا تو ہمیشہ کے لیے بھرم ختم ہو جائے گا۔ ان کی یہ کمزوری ان کو ان کے گناہوں کے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔ اسی چیز کو سورۂ بقرہ والی آیت میں ’اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ‘ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔
    ان کے لیے یکساں ہے، تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو، اللہ ان کو ہرگز معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔
    گناہوں پر اصرار کرنے والوں کو اللہ مغفرت سے محروم کر دیتا ہے: ان کے اس غرور و اعراض کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے ان کے بارے میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ تم ان کے لیے مغفرت مانگو یا نہ مانگو، اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اپنی ہدایت سے نہیں نوازتا جو نافرمانی پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ ہدایت صرف انہی کو دیا کرتا ہے جو اپنے گناہوں پر شرمسار ہو کر اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ سورۂ نساء میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے: وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذۡ ظَّلَمُوْا أَنفُسَہُمْ جَآءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (النساء ۴: ۶۴) ’’اور اگر وہ، جب کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تمہارے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت مانگتا تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پاتے۔‘‘ جو لوگ اللہ اور رسول سے اکڑتے ہیں سورۂ توبہ میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا: اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ إِنۡ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَغْفِرَ اللہُ لَہُمْ (التوبہ ۹: ۸۰) ’’ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو۔ اگر تم ستر بار بھی ان کے لیے مغفرت چاہو گے تو بھی اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے۔‘‘  
    یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر تم لوگ اپنے مال خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے ساتھ ہیں تاکہ وہ منتشر ہو جائیں۔ اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے لیکن منافقین نہیں سمجھتے۔
    اللہ تعالیٰ کے غضب کا سبب: یہ سبب بتایا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے اس غضب کے مستحق کیوں ٹھہرے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے لیے ستر بار مغفرت مانگیں جب بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمانے والا نہیں ہے۔ ارشاد ہوا کہ یہی لوگ ہیں جو لوگوں کو روکتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ یہ منتشر ہو جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ ۶ھ میں غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چشمہ پر پڑاؤ ڈالا وہاں پانی کے بارے میں ایک غریب مہاجر اور ایک انصاری میں جھگڑا ہو گیا۔ مہاجر نے انصاری کے تھپڑ مار دی۔ انصاری نے انصار کی دہائی دی اور مہاجر نے مہاجرین کی۔ دونوں طرف کے آدمی تلواریں سونت سونت کر اکٹھے ہو گئے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے بات زیادہ بڑھنے نہ پائی۔ لیکن عبداللہ بن اُبیّ نے، جو اس طرح کے مواقع کی ہمیشہ گھات میں رہتا، موقع سے فائدہ اٹھا کر مہاجرین کے خلاف انصار کے جذبات بھڑکانے کے لیے نہایت زہر آلود فقرے کہے۔ اس نے کہا کہ ’’یہ ہمارے گھر میں پناہ پا کر اب ہمیں پر غرانے لگے ہیں۔ سچ کہا ہے جس نے کہا ہے کہ کتے کو موٹا کرو بالآخر تمہی کو کاٹے گا۔ خدا کی قسم! اب ہم پلٹے تو جو باعزت ہیں وہ رذیلوں کو وہاں سے نکال کے رہیں گے۔‘‘ انصار کے جو آدمی اس دوران میں اس کے ارد گرد جمع ہو گئے تھے ان کو مخاطب کر کے اس نے کہا۔ ’’یہ تمہاری اپنی غلطی کا خمیازہ ہے جو تمہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ تم نے اپنے گھر میں ان کو اتارا اور اپنے مال میں ان کو حصہ دار بنایا۔ خدا کی قسم! اگر تم ان کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیتے تو یہ کب کے یہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ہوتے۔‘‘ آیت میں اس کے انہی فقروں میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جن کے دلوں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ بغض و حسد بھرا ہوا ہے اللہ تعالیٰ ان کو کیسے معاف کر سکتا ہے۔ عبداللہ بن ابیّ کے طعنوں کا جواب: ’وَلِلّٰہِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَا یَفْقَہُوۡنَ‘۔ یہ عبداللہ بن ابی کی بات کا جواب ہے کہ یہ منافق سمجھتا ہے کہ اگر وہ اور اس کے ساتھی مہاجرین کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیں گے تو ان کا کوئی سہارا باقی نہیں رہ جائے گا حالانکہ آسمانوں اور زمین کے سارے خزانے اللہ ہی کے قبضہ میں ہیں۔ وہی جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور جن سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے لیکن ان منافقوں کے دلوں پر چونکہ مہر لگ چکی ہے اس وجہ سے یہ اس حقیقت کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔
    کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹے مدینہ کو تو جو غالب ہیں وہ وہاں سے ان کو نکال چھوڑیں گے جو بالکل بے حیثیت ہیں۔ حالانکہ غلبہ اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے لیکن یہ منافقین نہیں جانتے۔
    یہ عبداللہ بن ابی کے اس دوسرے زہرآلود فقرے کی طرف اشارہ ہے جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے۔ اس نے انصار کو مہاجرین کے خلاف اکسانے کے لیے یہ بھی کہا کہ اب مدینہ واپس ہوتے ہی پہلا کام یہ کرنا ہے کہ جو عزت و اقتدار والے ہیں (یعنی انصار) وہ ان لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کریں گے جو ذلیل ہیں۔ یہ اشارہ اس کا مہاجرین کی طرف تھا۔ یعنی اس نے وہی جاہلی نعرہ لگایا جو اہل عرب کا شعار تھا کہ اس سرزمین پر ہم ہمیشہ عزت و اقتدار والے رہے ہیں اور یہ ہمارا ہی حق ہے۔ ہم یہ کس طرح گوارا کر سکتے ہیں کہ جو ہمارے ہاں پناہ لینے آئے وہ ہمارے آدمیوں کو طمانچے لگائیں! ’وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوۡلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ‘۔ یہ اس نعرۂ جاہلی کا جواب ہے کہ عزت تو اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے ہے اور سنت الٰہی کے مطابق اب اس کے ظہور کا وقت آ گیا ہے لیکن یہ منافقین اس کو نہیں جانتے۔ اس سنت کا حوالہ سورۂ مجادلہ میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ إِنَّ الَّذِیْنَ یُحَادُّوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ أُولٰٓئِکَ فِی الأَذَلِّیْنَ ۵ کَتَبَ اللہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ إِنَّ اللہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ (المجادلہ ۵۸: ۲۰-۲۱) ’’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں ذلیل ہونے والے وہی بنیں گے۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، بے شک اللہ قوی اور غالب ہے۔‘‘  
    اے ایمان والو، اللہ کی یاد سے تمہیں غافل نہ کرنے پاویں تمہارے مال اور نہ تمہاری اولاد اور جو ایسا کریں گے تو یاد رکھیں کہ وہی لوگ گھاٹے میں پڑے۔
    مسلمانوں کو تنبیہ: یہ آخر میں مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ تم ان منافقوں کی روش کی تقلید نہ کرنا۔ ان کو مال و اولاد کی محبت نے خدا سے غافل کر دیا ہے۔ اب ان کے اندر آخرت کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ باقی نہیں رہا۔ اگر تم بھی انہی کی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر خدا اور آخرت کو بھول بیٹھے تو یاد رکھو کہ اصل نامرادی و محرومی یہی ہے۔ جو لوگ اللہ کو بھلا بیٹھتے ہیں وہ خود اپنے انجام کو بھلا بیٹھتے ہیں اور شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ سورۂ مجادلہ میں منافقین کے بارے میں فرمایا ہے: ’اسْتَحْوَذَ عَلَیْْہِمُ الشَّیْْطَانُ فَأَنسَاہُمْ ذِکْرَ اللہِ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّیْْطَانِ ہُمُ الْخَاسِرُوْنَ‘ (المجادلہ ۵۸: ۱۹) (ان پر شیطان نے قابو پا لیا ہے پس ان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔ یہی لوگ شیطان کی پارٹی ہیں اور سن لو کہ شیطان کی پارٹی ہی بالآخر نامراد ہونے والی ہے)۔  
    اور ہم نے جو کچھ تمہیں بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو اس سے پہلے کہ آ دھمکے تم میں سے کسی کی موت، پھر وہ حسرت سے کہے کہ اے رب، تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور یوں نیکو کاروں میں سے بنتا!
    یہ اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ رکھنے، مال و اولاد کے فتنہ سے بچنے اور نفاق کے حملے سے محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمہیں بخشا ہے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی موت سے پہلے پہلے اس میں آخرت کے لیے جو کمائی کرنی ہے کر لے۔ ایسا نہ ہو کہ موت آ دھمکے تب وہ حسرت کے ساتھ کہے کہ اے رب! تو نے مجھے کچھ اور مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا۔ اگر ایسا کرسکتا تو میں بھی صالحین کے زمرہ میں ہوتا۔ سورۂ توبہ میں منافقین کے کردار کا یہ پہلو خاص طور پر نمایاں ہوا ہے کہ وہ بخل کے سبب سے اپنی مٹھیاں بھینچے رہتے ہیں۔ جب یہ غریب تھے تو ہر جگہ یہ اپنے شوق اور اس تمنا کا اظہار کرتے تھے کہ اگر اللہ نے ہمارے حالات بھی سدھار دیے تو ہم اللہ کی راہ میں خوب خرچ کریں گے اور دین کی بڑی بڑی خدمتیں کر کے صالحین میں اپنا نام روشن کریں گے لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کی تمنا پوری کر دی تو منہ پھیر کر چل دیے۔ اس بخل کی پاداش میں خدا نے ان کے دلوں کے اندر نفاق کی جڑ جما دی اور صدقہ کر کے صالحین میں سے بننے کا جو موقع خدا نے انھیں عطا کیا تھا وہ اس سے محروم ہو گئے۔ فرمایا ہے: وَمِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَ اللّٰہَ لَئِنْ اٰتٰنَا مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ہ فَلَمَّآ اٰتٰھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَتَوَلَّوْا وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ہ فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِھِمْ. (التوبہ ۹: ۷۵-۷۷ ’’اور ان میں سے وہ بھی ہیں جنھوں نے عہد کیا کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے نوازا تو ہم خوب صدقہ کریں گے اور صالحین میں سے ہوں گے۔ تو جب اللہ نے ان کو اپنے فضل میں سے عطا فرمایا وہ اس میں بخیل بن بیٹھے اور برگشتہ ہو کر منہ پھیر لیا تو اس کی پاداش میں خدا نے ان کے دلوں میں نفاق جما دیا۔‘‘ سورۂ حدید کی تفسیر سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ انفاق سے پہلو تہی کرنے والے اس دنیا ہی میں نفاق سے آلودہ ہو کر مومنین صالحین سے ممیز نہیں ہو جاتے بلکہ آخرت میں بھی وہ اس کے نتائج سے اس طرح دوچار ہوں گے کہ صورت حال ان کے لیے حسرت کا باعث ہو گی۔ دنیا میں صدقہ کرنے والے مردوں اور عورتوں کو اللہ تعالیٰ وہاں صالحین کے اس زمرہ کے ساتھ اٹھائے گا جس میں صدیقین اور شہدا ہوں گے اور نور جن کا ہم رکاب ہو کر جنت کی طرف رہنمائی کرے گا۔ منافق مرد اور عورتیں اس نور سے حصہ نہ پا سکیں گے۔ ان کے اور صالحین کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی۔ وہاں ان پر واضح کر دیا جائے گا کہ صالحین کے زمرہ میں شامل ہونے کی شرط انفاق اور صدقہ تھا جس سے دنیا میں انھوں نے گریز کیا۔ اس آیت میں ’اَکُنْ‘ جو مضارع کی ساکن شکل ہے، کا عطف بظاہر ’فَاَصَّدَّقَ‘ پر ہے جو منصوب ہے لیکن ہمارے نزدیک اصل میں ’اَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ‘ شرط محذوف کا جواب ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہو گا کہ اگر میں یہ صدقہ کر سکتا تو نیکوکاروں میں سے بنتا۔ ’فَاَصَّدَّقَ‘ کی صورت میں چونکہ اس شرط کا قرینہ واضح تھا اس وجہ سے اسے حذف کر دیا گیا۔  
    اور اللہ ہرگز کسی جان کو ڈھیل دینے والا نہیں جب کہ اس کی مقررہ مدت آ پہنچے گی اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔
    یعنی جب موت کی گھڑی سر پر آجائے گی تو اس قسم کی حسرت، حسرت ہی رہے گی۔ اس کا کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ زندگی کی فرصت گزر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو مہلت نہیں دیا کرتا اور اللہ تعالیٰ کو یہ بھی پتا ہے کہ آج انفاق اور نیکی کی زندگی بسر کرنے کا جو عہد تم کر رہے ہو یہ بالکل بے حقیقت ہے۔ اگر تمہیں مزید مہلت بھی ملی تو تم وہی کرو گے جو اب تک کرتے رہے ہو۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized to tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List